کالم لسٹ "سبزیوں کی کاشت"

مشروم (کھمبی) اگانے کا طریقہ اور افادیت

مشروم کو اردو میں کھمبی کہتے ہیں یہ ایک پھپھوند ہے جو راتوں رات اُگتی ہے۔ اس کی تعریف عظیم ماہر نباتات تھیوفراسیٹین نے کچھ اس طرح سے کی ہے۔” کھمبی ایک عجیب پودا ہے جس کی جڑ تنا شاخیں ، پتے اور پھول نظر نہیں آتے مگر پھل پھر بھی دیتاہے” ۔

اس کا بیج بالکل باریک ہوتاہے جو پک کر گر جاتاہے۔ اور یوں سازگار موسم اور نمی میں پھوٹتاہے اور یوں کھمبی راتوں رات نکل آتی ہے۔ ہمارے علاقوں میں اس کی جنگلی اقسام خاص کر مارچ، اپریل میں نکلتے ہیں اور اس جنگلی قسم کو Morels کہتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کے روزگار اور ملک کیلئے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں ایک قسم بغیر کسی بیرونی مدد کے صف انسانی آنکھ سے نظر آتی ہے ۔اور ان کو میکروفجی کہتے ہیں اور دوسری جو خوردبین سے نظر آتی ہے اس کو مائیکروفجی کہتے ہیں۔ اس کی خوردہ اقسام ایک لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ ان میں سے صرف 150 کھانے کے قابل ہیں ان میں 50 کے قریب بے حد لذیز اور ذائقہ داراور 50 کم لذت والی ہیں۔

کھمبی کی ابتداء۔

مشروم کی کاشت ازمنہ قدیم سے ہورہی ہے۔ جس کے بارے میں آج سے 13000 سال قبل بھی بتایا گیا ہے۔ مشروم کے آثار قدیم زمانے میں چلی کے کھنڈرات سے بھی ملے ہیں۔ چینی سب سے پہلے لوگ ہیں جو مشروم کو بطور غذا استعمال کرتے تھے اور اس کو لمبی عمر کا راز کہتے تھے۔ زمانہ قدیم میں ایک اعلی ڈش کے طور پر بادشاہوں اور جرنیلوں کے دربار کی زینت رہی ہے۔ پرانے زمانے میں یونانی اور رومی اس کو اچھی خوراک سمجھتے تھے۔ رومی بادشاہ سیزیر اس کا دل دادہ تھا۔

مشروم کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسانی کی اپنی تاریخ ہے۔ کہ مشروم کی ابتداء آغاز کائنات سے منسلک ہے اور انسانی قدموں نے مشروم کے ظہور کے بعد ہی زمین کو چھوا ور ہر سہولت سے محروم آتش شکم کی پیاس سے مجبور یہ انسان سیرابی شکم کیلئے کوشاں تھا۔ انسان نے جب پہلی بار اس کو چکھا تو اس کے ذائقہ اور خوشبو پر دل دادہ ہوگیا۔ مشروم پہلی مرتبہ اتفاقیہ غذائی استعمال میں شامل ہوئی اور انسان کوایسی نعمت غیر متروقیہ ملی کہ اسے مستقل غذا میں شامل کرلیا گیا۔ اُس وقت انسان اس کے فوائد اور خواص سے لاعلم تھا۔ مگر اس کے لذیذ خوش ذائقہ اور لطیف خوشبو سے مجبور ہوکر ہر قسم کی مشرومز کو آزماتا گیا۔

مشرومز اور انسان کا گٹھ جوڑ ازمانہ قدیم سے ہی نظر آتا ہے اور یہ ساتھ اتنا پرانہ ہے کہ تاریخ بھی اس مسئلے میں مہر بلب ہے اور قدیم دور میں جب پتھروں کے اوزار استعمال ہوتے تھے۔ شکار پر گزارہ تھا اور فصلوں کی کاشت کا تصور بھی نہیں تھا۔ اس وقت بھی یہی مشروم کسی نہ کسی حیثیت میں ضرورت انسانی کی تکمیل کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی رومی، چینی، اسلامی اور سنسکرت لٹریچر میں اس کے استعمال کا تذکرہ ملتاہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مشرومز کی اہمیت مزید واضع ہوگئی۔ مشروم کبھی خوراک کے طور پر کبھی ادویات کے طور پر کہیں رومانی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی تھی۔ لیکن نئے سائنسی تجربات، تحقیقی حقائق کے بعد اس کی قدرتی بالیدگی اور دیگر اسرار جو سربستہ تھے۔ منظر عام پر آگئے جس کا نتیجہ یہ ہواکہ اب اس کی مقبولیت کی انتہا ہوچکی ہے اور تمام دنیا میں اس کی دھوم ہے۔ مشروم دنیا کے کئی ممالک میں بہت بڑا کاروبار اور لاکھوں لوگوں کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ گھریلو صنعت کے طور پر اُبھررہی ہے۔

مصر کا فرعون اس کو درازی عمر کیلئے راز سمجھتاتھا اور اس کو شاہی دسترخواں تک محدود کررکھا تھا اور اس زمانے میں عام لوگ اس کے استعمال کی جسارت بھی نہ کرسکتے تھے۔ اہل روم نے بھی اس کو اعلیٰ شخصیات اور صرف رومی شہنشاہوں اور افواج کیلئے مخصوص کردیا۔ کیونکہ اس وقت بھی ان کا خیال تھا کہ یہ غیر معمولی قوت عطا کرتی ہے۔ امریکہ میں 18 ویں صدی عیسوی میں مشروم کی کاشت شروع ہوں اور اس کے لئے بیج میکسیکو سے لیا تھا۔

مشروم بلحاظ مذھب ۔

مشروم کوجنتی سبزی یا جنتی غذا بھی کہا جاتاہے کیونکہ من و سلویٰ نامی غذا جو ر ب کریم کی طرف سے بنی اسرائیل کیلئے اتاری گئی تھی۔ اس میں مشروم کی شمولیت مشکواۃ شریف سے واضع ہے اس لحاظ سے ایک منفرد غذا ہے۔ جو جدید تحقیقی حقائق ثابت کرتے ہیں وہ انمول مشروم جو من و سلویٰ کا ایک جزو تھی آج بھی کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں قدرتی طور پر اگتی ہے۔ بہت سے ملکوں جیسا کہ وسطی امریکہ، میکسیکو، چین، سائبریا، یونان ، روس اور ہندوستان وغیرہ کی تہذیبوں میں بھی کھمبی کو مذہبی رسومات میں اہم مقام دیا گیا ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مشرومز کے استعمال سے ایسی عجیب اعجازی قوت عطا ہوتی ہے۔ جس سے گمشدہ اشیاء دستیاب ہونے کے علاوہ انسان عالم بالا تک سیر کرلیتاہے۔

یورپین لوگ خود مشرومز کو زمانہ قدیم سے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سولہویں صدی کے انگریز شاعرہرمن نے بھی شاعری میں مشروم کی تعریف کی ہے اور آج بھی اہل یورپ چھٹی کے روز ٹوکریاں تھامے جنگلوں اور کھیتوں میں سارا سارا اون مشروم کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں جسے وہ مشروم ہنٹنگ کا نام دیتے ہیں۔

پاکستان میں مشروم کی تاریخ۔

زیر زمین۔ ہمارے ملک میں خودرو مشرومز ہر فلز نامی ایک انمول مشروم زیر زمین پائی جاتی ہے۔ اگر اسے پہاڑی علاقوں کا انمول و فینہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ پیشہ ور متلاشی بڑی کاوش کے بعد اسے حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ زیر زمین خزانوں کی طرح ہی مدفون نہیں یہ مشروم دنیا میں مختلف جگہوں میں پائی جاتی ہے۔ مگر اب پاکستان میں بازیاب نہ ہوسکی مگر تحقیق سے اس کے ملنے کے امکانات قوی ہیں۔
زمین کے اوپر۔ زمین کے اوپر پائے جانے والی مشرومز میں گچھی نامی قیمتی و کمیاب مشروم دستیاب ہے لوگ اس کو بڑی لگن سے جمع کرتے ہیں اور باقاہدہ تجارت کے ذریعے کثیر زرمبادلہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کو مختلف علاقوں میں مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں خمیری یا گھبا، بلتستان میں شمو، پنجاب اورسندھ میں کھمبی پشتو میں خریزی ہند کو میں گچھی۔

پاکستان میں موجودگی۔ ہمارے ہاں پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے کے بعد اور مون سون کی بارشوں اور جنگلوں، چراگاہوں اور جڑی بوٹیوں میں قدرتی طور پر اگتی ہیں۔ یہ ہمارے ہاں پہاڑی علاقوں میں 1000 سے 2000 میٹر کی بلندی پر مخصوص قسم کی سخت لکڑی والے درختوں، کانیفرز کے جنگلات میں اگتی ہیں اور آزاد کشمیر میں بھی اس کی کافی اقسام پائی جاتی ہیں۔

مشروم کو کیسے سکھایا جاتاہے؟

علاقائی لوگ اس کو جم کرکے دھاگے میں پروکردھوپ میں خشک کرنے کے بعد خاصے مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ کس طرح مل سکتی ہے ان علاقوں میں اس کے شائقین اور متلاشی اس کے اگنے کے موسم میں اس کی تلاش میں سرگردان نظر آتے ہیں۔ علاقائی لوگ اس مشروم کو سکھا لیتے ہیں جیسے اور سبزیوں کو سکھایا جاتاہے اور دیگر اشیاء کی مانند چھوٹے چھوٹے دکانداروں کے ہاتھ مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔ آڑھتی لوگ اس قیمتی کھمبی کو چھوٹے چھوٹے دکانداروں سے خرید کر بڑے بڑے برآمد کنندگان کے ہاتھوں معقول رقم کے عوض فروخت کرتے ہیں جو بالاآخر اسے دنیا کے مختلف ممالک میں برآمد کرتے ہیں ہمارے ہاں اس کی قیمت 3000 روپے سے لیکر 4000 روپے تک فی کلو ملتی ہے جبکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت مزید دگنی ہوجاتی ہے۔

قدرتی کھمبی کی پہچان۔

یہ شکل و شباہت میں چھو ہارے سے ملتی جلتی ہے اس کا رنگ ہلکا اور گہرا خاکستری یاہلکا بھورا ہوتاہے۔ ان کی بعض اقسام ہلکے رنگ کی بھی ہوتی ہیں۔ بعض گہرے رنگ کی جنگلی علاقوں وہ حصہ جہاں پریہ اگتی ہے وہ بھی اسی رنگ کا ہوتاہے۔لہٰذا اس کی تلاش مشکل ہوتی ہے اس مقصد کیلئے بعض علاقوں میں مخصوص قسم کا کاجل بنایا جاتاہے۔ تاکہ بینائی تیز ہو اور اس کی پہچان آسانی سے ہوجائے یہ کوئی سائنسی طریقہ نہیں بلکہ ایک روایت ہے ان علاقوں میں اس کی تلاش کیلئے بعض مخصوص لوگوں کی خدمات بھی حاصل ہوجاتی ہیں مخصوص لوگ وہ ہیں جن کی بینائی اس مخصوص رنگ کیلئے زیادہ حساس ہوتی ہے اور اس طرح ان کی خدمات سے کم وقت میں زیادہ مشروم اکٹھی ہوسکتی ہے۔

زہریلی مشروم اور دنیا۔

برطانیہ میں وزارت زراعت نے مشروم کی 19 اقسام کو زہریلا گردانا ہے لیکن برطانیہ کے قدرتی عجائب گھر کی جان ریمس نامی اہم رہبر شخصیت نے 25 اقسام کی لسٹ دی ہے جوکہ فنجائی کا ایک یا دو فیصد ہے۔ بک نے مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی 53 زہریلی اقسا م کے بارے میں بتایا ہے جن میں زیادہ تر برطانیہ میں پائی جاتی ہیں لیکن اگر تمام دنیا کی زہریلی مشرومز کو مدنظر رکھا جائے تو اس زمرے میں تقریباً 300 اقسام آتی ہیں۔

زہریلی مشروم کیا ہے؟

زہریلی مشروم انسانی صحت کیلئے غیر موزوں ہے اردو ادب میں زہریلی مشروم کی اقسام کو ” سانپ کی چھتری” اور انگریزی ادب میں ” مینڈک کا فضلا” کہا جاتاہے۔ اس میں زیادہ زہریلی اقسام کو تباہی کا فرشتہ، موت کی ٹوپی اور موت کا فرشتہ جیسے ناموں سے موسوم کیا جاتاہے۔

زہریلی مشروم کی خوبصورتی۔

یہ عموماً خوبصورت اور دلکش رنگوں میں ہوتی ہے بعض تو اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ دیکھنے والے کی نظر اٹک جاتی ہے اور قدرت کی اس اضافی خوبصورتی کو بے اختیار داد دینے کو جی چاہتاہے۔ یہ قدرتی امر ہے کہ زہریلی مشرومز زیادہ خوبصورت اور جاذب نظر وہتی ہیں کہ لوگ ان کی طرف لپٹ پڑتے ہیں اور بغیر کسی حیل وجحت کے ان کو نوش کر جاتے ہیں۔ ایک زہریلی مشروم Fly Agaric جس پر اگر مکھیا ں بیٹھ جائیں تو مر جاتی ہیں اس طرح انسان بھی کھمبیوں کا شکار ہوجاتاہے۔

زہریلی مشروم کی پہچان۔

زہریلی مشروم میں چھتری کا نچلا حصہ اس کے نوزائیدہ حالت اور نشوونما مکمل ہونے کے بعد سفید رہتاہے۔ اس کے تنے پر ایک چھلا ہمیشہ موجود رہتاہے اور تنے کے اختتام پر ایک تھیلا نما چیز ہوتی ہے جسے تھیلا ہی کہتے ہیں۔ تمام زہریلی مشرومز مہلک نہیں ہوتی ہیں اور نہ ہی ان میں موجود انتہائی زہریلی مشرومز کے AMANITA گروپ میں موجود انتہائی زہریلی مشرومز کھانے سے مہلک نتائج سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا ان کے بارے میں جاننا ضروری ہے ان میں موجود مشرومز کی چھتری کا تنا کافی بڑا ہوتاہے۔ اگر تنے کا کچھ حصہ زمین میں رہ جائے تو تھیلا نظر نہیں آتا لہٰذا اس بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

زہریلی مشروم کی اقسام۔

موت کا فرشتہ۔

اس کو انگریزی میں AMANITA MUSCARIA کہتے ہیں۔ فلائی مشروم اور سائنسی اصطلاح میں اس کو ڈیتھ اینجل کہتے ہیں۔ اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں اور مر جاتی ہیں۔ اس کو مختلف اقسام میں چھتری مختلف رنگوں میں کی ہوتی ہے۔ بعض میں یہ چھتری سفید ہوتی ہے بعض کھمبیوں میں پیلی بعض میں مالٹے رنگ اور بعض میں بلڈریڈ کی ہوتی ہیں سفید تنے پر رنگیں اور حسین چھتری جو عموماً سفید نشانات سے سجی ہوتی ہیں بہت ہی بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ قسم موسم گرما اور خزاں کے دنوں میں امریکہ میں پائی جاتی ہیں۔ دنیا کے مختلف مقامات پر بھی ملتی ہیں اور نشوونما کے مکمل ہوجانے کے بعد بڑ ی آسانی سے پہچانی جاتی ہیں۔ اس میں قدرت نے جزام کا علاج رکھا ہے اس کے الکلد بڈ سے مرگی کے علاج کیلئے دوا تیار کی جاتی ہے۔ جو شفا کا درجہ رکھتی ہے۔ اعصابی امراض میں علاج کے طورپر استعمال ہوتی ہے۔

دیگر زہریلی مشرومز۔

مختلف زہریلی مشرومز سے مختلف امراض کیلئے ادویات تیار کی جاتی ہیں۔ جو اکثر امراض میں تیر بعدف نہیں یوں زہریلی مشرومز بے شمار ادویات میں شامل ہو کر تریاق کا اثر رکھتی ہیں اور فرشتہ اجل کی سچائی کو ثابت بھی کرتی ہیں۔ دیگرزہریلی مشرومز میں اردوں میں نام (1) انکی کیپ (2) انٹی لو مالویڈیم (3) فالز موریل (4) لیپوٹیاکارگوتی۔

تاریخ کے اوراق سے فرشتہ اجل کی ستم ظریفی۔

ماضی کی اہم شخصیات بھی زہریلی مشرومز کی بنا پر موت کا شکار ہوچکی ہیں۔ ابتدائی ادوار کی پہلی تحریروں میں EURIPIVES480-406BC اور ہوکریٹس HIPOCRATES 406-337BC سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی کے کئی لوگ اس کی وجہ سے لقمہ اجل ہوگئے۔ روسی شہنشاہ EMPIRORCLAHUS CAESAR فرانسیسی شہنشاہ چارلس ششم اور یورپ کمنٹ ہفتم کی زہریلی مشرومز کی بنا پر اموات کی تاریخی حوالے موجود ہیں۔ زہریلی مشرومز کو ماضی میں بطور ہتھیار مثل بھی استعمال کیا جاتاہے ایک مثال AGRIPPINA نامی ایک خاتون کی ہے جس نے اس کی ابتداء کی اس نے اپنے شوہر RONANCLADIUS NOBCHSH کو کھانے میں زہریلی مشروم دے کر اس کی موت کی گھاٹ اتارا رومن بادشاہ مشروم کا شائق تھا اور امیر ترین آدمی تھا ایگرلینا اس کی چوتھی بیوی تھی جس نے تباہی کا فرشتہ نامی زہریلی مشرومز کی ڈش بطور ہتھیار استعمال کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتارا۔ مشرومز کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اٹلی کی حکومت نے 1937 میں قوانین نافذ کئے اور سختی سے عمل کردیا اسی طرح فرانس کی حکومت نے 1876 ء میں قانون فانذ کئے مگر جو انسپکٹر اس ڈیوٹی پر معمور تھا وہ خود غلطی سے زہریلی مشرومز کا شکار ہوگیا ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال ایک دو حادثات ہوتے ہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 50 اور 1984ء میں جرمن میں 1200 اموات ہوئیں۔

مشروم کی غذائی اہمیت۔

کھمبی کی دیگر اقسام کی طرح یہ بھی بہت سی غذائی اہمیت کی حامل ہے۔ پروٹین35-30 فیصد کے علاوہ وٹامن بی دو تھائیامیں، نائیسن، رائیبو فلوین، وٹامن جی اور وٹامن ای پائی جاتی ہے۔یہ وٹامن پکانے، جمانے یا کین کرنے سے ضائع ہوجاتی ہے۔ کیلشیم، فافسفورس اور دیگر نمکیات کی موجودگی کی وجہ سے یہ جسمانی ساخت کیلئے مفید ہے۔ اس میں نشاستہ اور روغنیات بہت کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جس بنا پر شوگر اور دل کے امراض اور غریب لوگوں کیئے مثالی غذا ہے اور وہ خواتین جو اپنے آپ کو سمارٹ رکھنا چاہتی ہیں بغیر ڈائٹنگ کئے مشروم استعمال کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتی ہیں۔ ان گوناگوں خاصیتوں کے علاوہ یہ ذائقہ اور خوشبو کی بنا پر شمار کی جاتی ہے اور یوں یورپین ہر سالن میں مشروم ڈال کر پکاتے ہیں اور میزبان اپنی مہمان نوازی سے مرغوب کرنے کیلئے مشروم کا سالن کھانے کی میز پر ضرور چنتے ہیں۔

مشروم کی اہمیت۔

کھمبی ایک انتہائی نفع بخش فصل ہے جیسے سورج کی روشنی کی غیر موجودگی میں مخصوص درجہ حرارت اور نمی کی موجودگی میں تیار کیا جاتاہے۔ یوں تو پاکستان میں مصنوعی طریقہ کاشت کیلئے یورپی کھمبی، صدف نما کھمبی پرائی کی کھمبی اور شاہ بلوط کی کھمبی اہم کھمبی جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اپنے ملک میں کھمبی کا استعمال پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی کیلئے مصنوعی طریقہ سے پوری کھمبی اور شاہ بلوط کی کھمبی تیز قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی کھمبی مشروم کی پیداوار میں استعداد بڑھائی کی جائے تاکہ وطن عزیز کیلئے اس فصل سے زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہوسکے۔

مشروم کی معاشی اہمیت۔

کھمبی کی غذائی افادیت جاننے کے بعد آپ بخوبی یہ اجذ کرسکتے ہیں۔ کہ اس کی معاشی اہمیت ڈھکی چھپی نہیں ہے ہمارے ہاں پروٹین کی کمی ہے اور ان حالات میں کھمبی پر ہی ہماری نظر جاتی ہیں اور اگر کھمبی کی کاشت ہماری خواتین گھروں میں کریں تو نہ صرف وہ تازہ کھمبی حاصل کرسکتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کو سکھا کر فروخت بھی کرسکتی ہیں یوں اپنے بچت کرسکتی ہیں۔ اس کیلئے بہت بڑ جگہ کی ضرورت بھی نہیں اس ضمن میں زرعی ریسرچ ڈھوڈیال نے خواتین کو تربیت بھی دی ہے اور بیج بھی فراہم کیا اور اس طرح خواتین مشروم کی کاشت گھریلو پیمانے پر رواج دے رہی ہیں۔ زرعی ماہرین نے یہ بات ثابت کردی ہے۔ کہ ایک قیمتی فصل کے طور پر کھمبی ہمارے ہاں جانی پہچانی جاتی ہیں۔ ایک مربع میٹر کی جگہ سے تقریباً آٹھ کلو تازہ مشروم میسر آتی ہے اور اگر نئی ٹیکنالوجی اپنائی جائے تو سال میں اس کی پانچ فصلیں میسر آتی ہیں اور سب سے بڑ ی بات یہ ہے کہ کچرے کا استعمال ہوتاہے اور یوں ماحولیاتی آلودگی پر بھی اس کا اثر پڑتاہے معاشی ترقی کیلئے ہمیں چائیے کہ مشروم کی کاشت کریں اور منافع کائیں اپنے لیے بھی استعمال کریں اور باہر کے ممالک کو بھی بھیجوائیں اس ضمن میں ایکسپورٹ پروموشن بیورو تعاون کئے ہوا ہے۔

مشروم کے ادویاتی فوائد۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کھمبی میں روغنیات اور نشائستہ بہت کم مقدار میں موجود ہوتاہے جس کی وجہ سے امراض قلب، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور فربہ پن کا بہترین علاج ہے۔
مشروم کیوں اُگائیں۔
٭یہ ایک اعلیٰ غذا ہے جو بہت اعلیٰ خواص کی حامل ہے۔
٭یہ کاشت کیلئے زمین سے بے نیاز ہے بلکہ بیکار اشیاء کو بطور ذریعہ کاشت کاری استعمال کرتے ہیں۔
ؐؐؔ٭اچھی پیداوار دینے کی خاصیت کی حامل ہے لہٰذا چند کمروں میں کئی ایکڑ پیداوار کے برابر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔
ؐ٭یہ ایک جلد اگنے والی فصل ہے جو بیج ڈالنے کے بیس تا ستر دن میں برداشت کے قابل ہوجاتی ہے جبکہ اور کوئی فصل اتنی جلدی تیار نہیں ہوتی ہے۔
٭یہ گھر کے اندر کاشت ہونے والی فصل ہے موسمی تغیر و تبدل کا شکار نہیں ہوتی۔
٭پروٹین اور وٹامن نمکیات کی حاصل ہے لہٰذا ایک اچھی قدرتی غذا ہے۔
٭اس کے استعمال سے کئی بیماریوں قابل علاج ہوتی ہے مثلاً کینسر، بلڈ پریشر، ذیابیطس وغیرہ ۔
٭اس کی مارکیٹنگ تازہ خشک یا ڈبوں میں بند کرکے ممکن ہے لہٰذا کسان اور کاشتکار کیلئے اس کا استعمال اور فروخت آسان ہے۔
٭گھر میں کاشت کی وجہ سے گھریلو خواتین کیلئے ایک معقول آمدنی کا ذریعہ ہے۔

مشروم کی کاشت کے مروجہ اندازہ۔

مشروم کی کاشت اب دنیا میں صنعت کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور مختلف ممالک میں مختلف پیمانہ پر کاشت کی جارہی ہے اس کو گھریلو پیمانے Kitchen Gardening پر بطور گھریلو صنعت اور تجارتی پیمانے پر کمرشل کاشت کیا جاسکتاہے۔

کھمبی کی قابل کاشت اقسام۔

یوں تو قابل خوراک مشروم کی 100 سے زائدہ اقسام خوردہ ہیں جن میں سے تقریباً دو درجن کے قریب قابل کاشت ہیں جو مختلف ملکوں میں مختلف موسموں میں کاشت شدہ اقسام پیداواری صلاحیت کیلئے اور کھیت کے لحاظ سے زیادہ نفع بخش ہیں۔ چند مشہور اقسام درج ذیل ہیں۔

سردیوں کے موسم میں اُگنے والی اقسام۔
۱۔ صدف نما کھمبی یا سیپ نما کھمبی۔
۲۔ بٹن مشروم یا یورپی کھمبی۔
۳۔ شیٹاقی مشروم یا شاہ بلوط کی کھمبی۔
گرمیوں کے موسم میں اُگنے والی اقسام۔
۱۔ چینی مشروم۔
۲۔ لکڑی کے کان نما مشروم
۱۔ صدف مشروم Oyster
نباتاتی نام Pleurotus Yterilatus
آرڈ رAgaricales
خاندان Agaricaceae

کمرے کے اندر اگانا۔

یہ فصل ایسی جگہوں پر کاشت ہوتی ہے جہاں سورج کی روشنی نہ پڑھتی ہو ۔امریکہ اور یورپ میں اس کی کاشت گرین ہاؤس میں ہوتی ہے فرانس میں غاروں میں تائیوان میں بانس اور چاول کی پرالی سے بنی ہوئی جگہوں پر استعما ہوتی ہیں اور چھوٹے پیمانے پر یہ کسی بھی شیڈ یا خالی کمروں میں اُگائی جتی ہے دیہاتوں میں سرکنڈے کی بنی ہوئی جگہوں میں اس کی کاشت ہوسکتی ہے۔ درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کی جھگیوں کے اندر پولی تھین لگائی جاتی ہے۔

موزوں مصنوعی کھیت کا انتخاب۔

۱۔چاول کی پرالی پر کاشت۔

ایک کلو گرام تازہ پرالی اور ایک کلو گرام خشک پرالی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پہلے پرالی کو باریک کاٹ لیا جائے اور پھر اس کو پندرہ سے بیس منٹ تک گرم ابلتے پانی میں رکھنے سے جراثیم کو ختم کریں اور اس کے بعد پرالی نکال کر کسی ڈھلوان جگہ پر پھر ہموار جگہ پر ہی کچھ دیر کیلئے چھوڑ دیا جائے تاکہ زاید پانی بہہ جائے جب نمی کا تناسب ۶۵ سے ۰۷ فیصد ہوجائے تو پھر ہر ایک کلو گرام پرالی کیلئے ۱۰۰ گرام سپان ملا دیں پھر اس آمیزے کو ٹرے یا پلاسٹک کے ٹرے میں بچھادیں۔

۲۔گندم کا بھوسہ۔

تھریشر سے نکلا ہوا بھوسہ استعمال ہوسکتاہے ایک کلو گرام بھوسے سے ¾ کلو گرام تازہ کھمبی حاصل کی جاسکتی ہے۔بھوسے کو پندرہ منٹ سے بیس منٹ تک گرم پانی میں رہنے دیا جائے اور پھر نکال کر ۶۵ سے ۷۰ فیصد نمی تک خشک کرلیں اور ہر ایک کلو گرام بھوسے کیلئے ۱۰۰ گرام سیان یا بیج ڈالیں اور ٹرے میں لگا کر کمرے کے اندر لگائیں۔

۳۔لکڑی کا برادہ مصنوعی کھیت۔

ایک کلو گرام برادے سے ¾ کلو گرام تازہ کھمبی حاصل کی جاسکتی ہے اور برادہ میں گرم پانی ڈالیں تاکہ نمی 65 سے 70 فیصد ہوجائے پھر بیج ڈالیں اور ٹرے میں رکھ دیں۔

۴۔لکڑی کا براد ہ اور چھان بورہ۔

1:9 نسبت سے ملا کر استعمال ہوسکتاہے اس آمیزہ کو لیں اور اس میں گرم پانی ملا دیں تاکہ نمی نقریباً 25 فیصد ہو اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے اگر آمیزہ کو مٹھی میں دبائیں تو پانی ٹپکنا شروع ہوجائے۔

۵۔روئی کا کاشت کھیت۔

ایک کلو گرام بے کا رکپاس کی روئی سے ڈیڑھ کلو گرام تازہ مشروک حاصل ہوتی ہے روئی کو گیلا کیا جائے تاکہ نمی 65 سے 70فیصد رہے اور پھر اس میں بیج ڈال دیں اور ٹرے میں رکھیں۔

۶۔روئی کا کچرا۔

یہ بھی مشروم اُگائے جانے کیلئے بہترین ہے ایک کلو کچرے سے دو کلو سے زیادہ فصل حاصل کی جاسکتی ہے۔ کچرے کو کسی ڈرم یا ٹب میں اچھی طرح بھگودیں پھر باہر نکال کر صاف کردیں تاکہ 70 فیصد نمی رہ جائے۔

۷۔مکئی کے تکو پر کاشت۔

مکئی کی فصل پیدا کرنے والے علاقوں میں تکے کافی تعداد میں میسر آتے ہیں۔ ان تکو کو جمع کرکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتاہے اس کے بعد تکوں کو دو دن تک ٹب میں پانی میں بھگوکر رکھا جاتاہے۔ تاکہ پانی اچھی طرح جذب ہوجائے اس کے بعد پانی سے نکال دیں اور تکون کو پندرہ منٹ تک گرم پانی میں رکھیں تاکہ جراثیم کا خاتمہ ہوجائے اس کے بعد فرش پر پھیلا دیں سپاں ملائیں اور پھر تھیلیوں میں بھر دیں۔

صدف مشروم کی گھریلو طور پر کاشت کا طریقہ۔

صدف نما مشروم کی کاشت اگر چہ آسان ہے لیکن فی الوقت اس کی مارکیٹنگ دووجوہات کی بناء پر مشکلہے۔
۱۔یہ ایک نئی چیز ہے اس لئے ا س کی مارکیٹ مستحکم نہیں۔
۲۔فریج میں نہ رکھنے کی صورت میں یہ کاٹنے کے بعد چند دنوں میں خراب ہوجاتی ہے اس لئے اس کی جلد فروخت ضروری ہے۔لہٰذا مشروم کی کاشت میں دلچسپی رکھنے والوں کو مارکیٹنگ کا مسئلہ مدنظر رکھنا پڑیگا۔کھمبی کی کاشت کیلئے ضروری اشیاء۔
٭12X18 انچ سائز کے شفاف پولی تھی کے تھیلے بمع ربڑ رنگ۔پولی تھین کے ہر تھیلے سے تقریباً نصف کلو گرام مشروم حاصل کی جاسکتی ہے۔
٭گندم کا بھوسہ یا دیگر فصلات کا کچرا۔ہر تھیلے کیلئے تقریباً نصف کلو گرام خشک مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭بیج Spawn ۔ بیج کا تھیلا مواد کی 20 تھیلیاں بھرنے کیلئے کافی ہوتاہے۔
٭صاف پانی۔
٭پانی ابالنے کیلئے بڑے برتن۔
٭جلانے کی لکڑی۔
٭پلاسٹک شیٹ۔
٭تھیلیاں رکھنے کیلئے صاف ستھری جگہ اور اگر مٹی سے بنا ہوا کمرہ ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

صدف نما کھمبی کی کاشت کے مختلف مراحل۔

مرحلہ نمبر1 ۔مواد کا انتخاب اور تیاری۔

اس کی کاشت عام سبزیوں کی طرح زمین پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی کاشت کیلئے مختلف فصلات کے کچرے سے تھیلیاں بھر کر مصنوعی کھیت تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کیلئے گندم کا بھوسہ ، چاول کی پرالی، کپاس کے فالتو اجزاء، سویابین اور سرسوں کے تنکے وغیرہ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں گندم کے فالتو اجزء آسانی سپھوسے کی شکل میں دستیاب ہے لیکن چاول کی پرالی کو پہلے بھوسے کی شکل میں کاٹنا پڑے گا۔

مرحلہ نمبر2۔مواد کو ابلنے پانی میں سے گزارنا اور تھیلیاں بھرنا۔

مواد کی تھیلیوں میں بھرنے سے پہلے جراثیم اور گندگی سے پاک کرنے کیلئے ابلتے پانی میں گزارا جاتاہے۔
٭ایک کھلے برتن میں پانی ابالیں۔
٭چھوٹے او ر باریک کاٹے گئے بھوسے کو ابلتے پانی میں ڈالیں اور 15-10 منٹ تک اس میں رکھیں ۔
٭کسی ترچھی جگہ پر پلاسٹک بچھا دیں تاکہ پانی اچھی طرح بہہ جائے۔
٭پھر ان مواد سے پولی تھین کے تھیلیاں بھر دیں ایک تھیل میں ڈیڑھ کلو گرام کے حساب سے پانی سے ترمواد ڈال دیں۔
٭تھیلیاں بند کردیں اور ٹھنڈا ہونے کیلئے تقریباً آدھا دن رہنے دیں۔
مرحلہ نمبر3 ۔تھیلے میں بیج ڈالنا۔
٭ٹھنڈا ہونے کے بعد تھیلیاں کھول دیں۔
٭ہر تھیلے میں بیج کے دو بڑے چمچ تھیلا کھولنے کے بعد تین اطراف سے دبائیں۔
٭تھیلیاں دوبارہ اچھی طرح سے بند کردیں۔

مرحلہ نمبر4 ۔بیج کی نشوونما۔

ان تھیلوں کو تاریک سرد اور ہوادار کمرے میں چار سے چھ ہفتوں کیلئے رکھیں۔ اس دوران بھوسے سے سفید دھاگے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں آہستہ آہستہ پھلتے جاتے ہیں یہاں تک کہ سارا مواد سفید نظر آنے لگتاہے۔ اس کیلئے درکار وقت کا دارومدار درجہ حرارت پر ہوتاہے۔ مناسب درجہ حرارت یعنی 20 سنٹی گریڈ پر یہ تقریباً ہفتے لیتاہے۔ جب موسم زیادہ سرد ہو تو پھر تقریباً دس ہفتے لیتاہے۔ لیکن زیادہ گرم موسم کی صورت میں مشروم کے دھاگے نہیں بڑھتے اور خراب ہوجاتے ہیں۔

مرحلہ نمبر5 ۔تھیلیاں کھولنا۔

٭جب سارا مواد ہوجائے تو یہ تھیلیاں کھول دی جاتی ہیں تاکہ مشروم کو بڑھنے میں آسانی ہو۔
٭تھیلے کا سامنے والا حصہ کاٹ دیں۔
٭سارا تھیلا نہ ہٹائیں کیونکہ اس سے سارا مواد خشک اور خراب ہوجاتاہے۔

مرحلہ نمبر6 ۔مشروم کی نشوونما۔

بڑھتے ہوئے مشروم اور مواد پر صبح وشام پانی کا چھڑکاؤ کریں خیال رکھیں کہ مواد اور مشروم کسی وقت بھی خشک نہ ہو جائے لیکن ساتھ ہی بہت زیادہ پانی بھی نہ دیں۔ مشروم کیلئے مطلوبہ پانی کی صحیح مقدار معلوم کرنے کیلئے تھوڑے بہت تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود ہوجاتاہے۔
فصل کی تیاری میں دس پندرہ دن لگ سکتے ہیں جس کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتاہے۔ مشروم کی کاشت کیلئے عموماً20-14 ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت معیاری ہوتی ہے۔

مرحلہ نمبر7 ۔مشروم کی کٹائی۔

جب مشروم 4-3 انچ کے برابر ہوجائے تو یہ کاٹنے کیلئے تیار ہوتی ہے۔مشروم کی آخری حصے کے قریب کسی تیز دھارا قویا انگلیوں کی مدد سے مروڑ کر کاٹ دیں مشروم کاٹتے وقت احتیاط کرنی چائیے تاکہ مواد سے چیک ہوجائے بعض اوقات کٹائی کا دورانیہ چند ہفتوں پر محیط ہوتاہے لیکن بعض حالات میں دوہفتے کے وقفے سے تین باریک کٹائی کی جاسکتی ہے۔
مشروم کی کٹائی کاٹنے کے بعد مشروم کو تھیلیوں میں ڈالنا۔

مرحلہ نمبر8۔ پیکیجنگ (Packaging) ۔

مشروم کی مارکیٹنگ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اگر مشروم مناسب اور دیرپا مواد میں پیک نہ کئے جائیں تو مارکیٹ تک پہنچتے پہنچتے اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ جس سے نہ صرف مشروم کی کوالٹی پر اثر پڑتاہے بلکہ اچھی قیمت نہ ملنے پر زمیندار کی ساری محنت بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لئے مشروم کی پیکنگ ایسی ہونی چائیے جو تمام موسمی حالات کا اچھے طریقہ سے مقابلہ کرسکے اور مشروم کی تازگی کو تین چار دن تک برقرار رکھے۔

ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے مشروم کی مختلف پیکنگ کی تیاری کیلئے پولی تھین پیکنگ گتے کی پیکنگ اور تھرمولو پور پیکنگ پر تجربات کئے گئے تقریباً تین سال کی جدوجہد کے بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ پوتھین اور گتے کی پیکنگ مشروم کیلئے مناسب نہیں ہیں جس کی بڑ وجہ ان مواد کا نمی کے مقابلے میں ناپائیداری ہے جب مشروم کو پولی تھین یا گتے کی پیکجنگ میں پیک کیا جاتاہے تو مشروم کی سانس لینے کے دوران نمی پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کا ان پیکجنگ مواد میں پڑے رہنے سے نہ صرف مال کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے بلکہ پیکجنگ میٹریل پر بھی اثر پڑتاہے۔

تھرموپور پیکجنگ۔

اس پیکجنگ کی سب سے بڑ ی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مشروم کے درجہ حرارت کو اسی درجے پر برقرار رکھتاہے جس پر اسے پیک کیا گیا ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ تو مشروم کے د رجہ کو بڑھاتا ہے اور نہ ہی گھٹاتاہے چائیے باہر کے موسمی حالات جیسے بھی ہو اس پیکجنگ کی دوسری خصوصیت مشروم کی تازگی کو برقرار رکھنا ہے سردیوں میں مشروم کی تازگی چھ سے سات اور گرمیوں میں تین سے چار روز تک برقرار رہتی ہے۔

تھرموپور پیکجنگ میں مال رکھنے کی گنجائش۔

اس پیکجنگ کو عام طور پر اسمبلی تھر موپور پیکنجگ کہا جاتاہے جس میں تقریباً تین کلو گرام مال با آسانی پیک کرکے مارکیٹ کیا جاسکتاہے۔ چونکہ ابھی تک پرچون ابھی تک پرچون پیکجنگ پر کام شروع نہیں ہوا اس لئے فی الحال اسی اسمبلی پیکجنگ پر انحصار کیا جاتاہے۔

.2 یورپی کھمبی یا بٹن نما مشروم

نباتاتی نام Agaricus Bisporus ۔
یہ کھمبی گھر کے اندر ہی کاشت ہوتی ہے یورپ کے بیشتر ممالک میں اور امریکہ میں اس کو گرین ہاؤسز میں کاشت کیا جاتاہے رفانس میں اس کی کاشت غاروں میں اور خالی کانوں میں ہوتی ہے۔ تائیوان میں اس کی کاشت انتہائی سستے طریقے سے کی جاتی ہے ۔ وہاں کے کاشت کار بانس کے ڈنڈے کے ڈھانچے بنا کر اس کے اوپر پرالی وغیرہ سے کمرہ نما جگہ بنا کر کاشت کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں سرکنڈے کی جھونپڑیاں بناکر اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اس کی کامیاب کاشت کیلئے درجہ حرارت دس سے بارہ سنٹی گریڈ ہے اس بنا پر یہ میدانی علاقوں میں اکتوبر تا مارچ او پہاڑی علاقوں میں سارا سال کاشت ہوسکتی ہے یہ کمپوسٹ پر کاشت ہوتی ہے۔

کمپوسٹ کی اقسام۔

فارمولاکمپوسٹ نمبر1- ۔

گھوڑے کی لید۔ 350 کلو گرام
پرالی یا بھوسہ۔ 75 کلو گرام
ایمونیم سلفیٹ۔ 1.7 کلو گرام
چونا۔ 6.5 کلو گرام
سپرفاسفیٹ۔ 1.7 کلو گرام
جپسم۔ 6.5 کلو گرام

فارمولاکمپوسٹ نمبر2- ۔

چاول کی پرالی اور بھوسہ۔ 300 کلو گرام۔
ایمونیم سلفیٹ۔ 9 کلو گرام۔
یوریا۔ 3.6 کلو گرام۔
پوٹاشیم سلفیٹ۔ 3 کلو گرام۔
سپرفاسفیٹ۔ 3 کلو گرام۔
چھان بورا 30 کلو گرام۔
جپسم۔ 30 کلو گرام۔
فارمولا کمپوسٹ نمبر3-
پرالی یا بھوسہ۔ 300 کلو گرام۔
پوٹاشیم سلفیٹ۔ 7.5 کلو گرام۔
جپسم۔ 15 کلو گرام۔
یوریا۔ 4.5 کلو گرام۔

کمپوسٹ کی تیاری۔

اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کۃ جس جگہ کمپوسٹ تیار کرنا ہو وہ جگہ اور فرش پختہ ہوتاکہ کمپوسٹ کے مختلف اجزا زمین میں جزب نہ ہوں یہ جگہ بارش وغیرہ سے محفوظ ہو اس مقصد کو حل کرنے کیلئے شیڈ یا صرف مومی کاغڈ کا کور بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ اگر چاول کی پرالی استعمال کرنی ہو تو خیال رکھیں کہ یہ خشک او ر پرالی نہ ہو اسے کسی چیز سے کاش کر بھوسہ بنایا جاسکتاہے۔ اگر چاول کی حالت میں استعمال کیا جاتاہے پہلے بھوسے کو فرش پر بیچھا کر فوارے سے پانی چھڑک کر خوب گیلا کیا جاتاہے تاکہ تمام مذکورہ اجزاء اچھی طرح مل سکیں تھوڑے کمپوسٹ کیلئے لکڑی کا فریم استعمال کیا جاتاہے۔ مکپوسٹ کا مکمل تیار کرنا مندرجہ ذیل مراحل سے ہوگا۔
پہلا دن ڈھیر بنانا۔
دوسرے دن پہلا پرت۔
چوتھے دن۔ دوسرا پرٹ۔
چھٹے دن۔ تیسری پرٹ۔
آٹھواں دن۔ ڈبے یا لفافہ میں بھرنا۔

پاسچرائزیشن۔

اس عمل کے ذریعے کمپوسٹ میں موجود کیڑوں قطروں اور فرمنٹیشن کو ختم کرتاہے۔ یہ عمل ہیٹر۔ گیس یا لکڑی جلا کر کیا جاتاہے۔ یا پھر کسی زہریلی گیس کے استعمال سے یہ مقصد پورا ہوتاہے۔ اس مقصد کیلئے کمرے کا ہوا بند ہونا ضروری ہے۔ اگر مومی لفافے استعمال کرنے ہوں تو انہیں پاسپجچرائزیشن کے بعد بھر نا ہوگا ساتھ فیصد نمی ضروری ہے ۔اس کیلئے کمپوسٹ کو گرم پانی سیتر کیا جاتاہے اس عمل کیلئے کمرے کی درجہ حرارت کو تقریباً ساٹھ سنٹی گریڈ تک آہستہ آہستہ لے جایا جاتاہے۔ اس کے بعد کمپوسٹ تیار ہوجاتاہے پھر اس پر بیج کی جائے۔

سپان ڈالنا اور سپان پھیلانا۔

بیج لفافے یا ٹرے میں اوپری تہہ پر تقریباً چار سم گہرے اور تقریباً پندہ سم کے فاصلے پر برابر لگائے جاتے ہیں بیج کے پھیلنے کیلئے کمرہ کا درجہ حرارت پچیس سنٹی گریڈ رہنا چائیے تو دو یا تین ہفتے میں مشروم کے دھاگے سارے کمپوسٹ میں پھیل جائیں گے اور پھر یہ عمل مکمل ہوجائے تو مٹی کی تہہ بچھانے کا عمل کریں۔

مٹی کی تہہ بچھانی۔

اس مقصد کیلئے یورپی ممالک میں Peat استعمال کی جاتی ہے مگر ہم چکنی مٹی 1:4 کی نسبت سے ریت ملا کر گوبر کی گلی وہئی کھاد میں برابر مٹی ملا کر استعمال کرسکتے ہیں۔ مشروم اگانے کے بعد کمپوسٹ بیج رہے 3:1 کی نسبت مٹی میں ملا کر بھی اس مقصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ تہہ جمانے والی مٹی کو بھی پاسچرائز کرنا ہوگا۔

جیسے بھاپ گرمی یا ھر کے بخارات سے بھی یہ عمل کیا جاسکتاہے Casing کیلئے دائے یا لفافے پر مٹی کی 2.5 سنٹی میٹر موٹی تہہ چڑھائی جائیگی اور اس کی pH سات سے ساڑھے سات ہونی چائیے اگر پی ایچ زیادہ ہو تو مٹی میں مزید ریت ملا ئیں اور پی ایچ کو مزید بجھاہوا چونا ڈالنا پڑے گا۔

فصل لینا۔

مٹی کی تہہ بچھانے کیلئے بعد ٹرے یا لفافے اگانے کے کمرے میں منتقل کریں ٹرے کمرہ میں ایک دوسرے کے اوپر یا تہوں میں رکھ سکتے ہیں۔ ٹرے یا لفافے پر ایک دو دفعہ پانی چھڑکاؤ سے دیں اور فرش پر تین چار بار پانی گرانے سے مطلوبہ 90 فیصد نمی برقرار رہے گی مٹی کی تہہ بچھانے کے دس پندرہ دن کے بعد ٹرے یا لفافہ مشروم کی فصل سے بھر چائیں گے اور ہفتہ ہفتہ کے وقفہ سے دو ماہ تک فصل نکلتی ہے ایک اچھی فصل پندرہ کلو فی مربع میٹر کے حساب سے حاصل ہوگی۔

اس طرح اگر ہم سال میں پانچ فصلیں لیں تو 75 کلو فی مربع میٹر پیداوار حاصل کرسکتے ہیں اتنی زیادہ پیداوار کا کسی اور فصل سے سوچ بھی نہیں سکتے۔

فصل کا کاٹنا۔

ہر روز صبح سویرے کاٹیں کاٹنے کیلئے ہم صرف ہاتھ سے مروڑ کر اسے ہیڈ سے علیْحدہ کرسکتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ کاٹنے سے وقت کے ساتھ اُگنے والی چھوٹی مشروم کو نقصان نہ پہنچنے اور ساتھ ٹوٹا وہا کوئی حصہ بھی ہیڈ پر نہ رہ جائے ورنہ یہ کیڑے اور بیماریوں کا ذخیرہ ہوگا۔ اگر تازہ فروخت کرنے وہ تو سوراخ والے پولی تھین کے لفافے یا گتے کے بنے ہوئے ڈبے میں 250 گرام اور 500 گرام کے پیکٹ میں بند کرکے مطلوبہ جگہ بھیج دیں۔

فصل کی حفاظت۔

فصل کاٹتے وقت ہیڈ پر جو گڑھے بنیں وہ مٹی سے بند کردے جائیں اور اگانے کے کمرے اور فرش صاف رہنے چائیے یا کیڑے اور بیماریاں نہ پھیلیں کیڑے او ر بیماریوں کیلئے محکمہ زراعت کے عملہ سے رجوع کریں۔

.3 شاہ بلوط کی کھمبی۔

شاہ بلوط کی کھمبی جسے جاپانی شیٹا فی مشروم اور چینی کو کہتے ہیں کھانے کے قابل کھمبیوں کی تمام اقسام سے مختلف اورذائقہ کے لحاظ سے عمدہ ہے پاکستان میں اسے میزبان درخت شاہ بلوط کی وجہ سے ہم شاہ بلوط کی کھمبی کہتے ہیں۔ یہ چین او جاپان کو ریا جیسے مشرق بعید کے ممالک میں ایک اعلی قسم خوراک شمار کی جاتی ہے اس کی کاشت کا سہرا چینی کسانوں کے سر ہے۔

تاریخ میں شاہ بلوط کی کھمبی کا ذکر آج سے تقریباً 300 سال قبل تک ملتاہے۔ مگر اس کی مصنوعی کاشت 1844 میں جاپان میں اور 1905 میں کوریا میں شروع ہوئی جوکہ اس وقت جاپان کی زراعت اور جنگئلات سے حاصل ہونے والی پیداوار کی برآمدات میں سرفہرست ہے۔ ہمارے ہاں شاہ بلوط کی کھمبی پہاڑی جنگلات میں کاشت ہوسکتی ہے۔

کاشت کا طریقہ۔

یہ کھمبی شاہ بلوط کے درختوں کے کٹے ہوئے ٹکڑوں میں بیج بھرنے اُگائی جاتی ہے جوکہ پانچ سے سات سال تک فصل دیتے رہتے ہیں ۔

بیڈ کیلئے لکڑی کا انتخاب۔

شاہ بلوط کے درختوں کو موسم خزاں میں کاٹ لینا چائیے کیونکہ اس وقت درخت میں کاروبوہاڈریٹ کافی مقدار میں ہوتی ہے جوکہ کھمبی کی خوراک ہے۔

لکڑی کے ٹکڑوں کے بیڈبنانا۔

شاہ بلوط کے ٹکڑے فروری یا مارچ یا ستمبر اکتوبر میں کاٹ لیے جاتے ہیں۔ ہر ٹکڑے کی لمبائی 3.5 فٹ اور موٹائی پانچ سے پندرہ سم ہونی چائیے یہ ٹکڑے دو تین ہفتے تک پڑے رہنے دیں تاکہ نمی گھٹ کر چالیس پچاس فیصد رہ جائے۔

ٹکڑوں میں بیچ بھرنا۔

دو تین ہفتوں تک لکڑی کے ان ٹکڑوں کے درمیان میں دراڑ پیدا ہوجائیں ی جب ان دراڑوں کی پیمائش ایک یا دو سم ہوجائے تو یہ ٹکڑے بیج بھرنے کے قابل ہیں۔ اب ان ٹکڑوں میں ہاٹت یا بجلی کی ڈرل سے تین سے پنچ سم گہرے سوراخ کئے جاتے ہیں۔ پھر ان سوراخوں میں سپان بھر دیں اس مقصد کیلئے موزوں ترین موسم بہار ہے۔ مگر خزاں کے دنوں میں بھی کیا جاسکتاہے۔ ایک میٹر لمبائی کے ٹکڑے میں پندرہ بیس سوراخ ہونے چائیں۔

ٹکڑوں کے ڈھیر لگانا۔

بیج بھرنے کے بعد ٹکڑے تہہ در تہہ ترتیب وار سایہ دار درختوں کے نیچے رکھ دئیے جاتے ہیں او ر ان پر گھاس پھوس یا پولی تھین کی چادر پھیلا دی جاتی ہے تاکہ نمی برقرار رہ سکے۔ درختوں کے نیچے زیادہ نمی بھی نہیں ہونی چائیے کیونکہ اس سے مقابلے میں دوسرے فطرات بھی اگنا شروع ہوجائیں گے اگر موسم خشک ہو تو ان ٹکڑوں پر ہفتے میں دو تین مرتبہ ہلکا سا پانی بھی چھڑک دینا چائیے۔

ٹکڑوں کا کھڑا کرنا۔

لکڑی کے ان بیج بھرے ٹکڑوں کے اندر کھمبی کے سفید ریشوں کو پھیلنے میں نویا اٹارہ ماہ لگ جاتے ہیں ان کو کھڑا کرنے کا عمل فروری مارچ اور ستمبر اکتوبر میں کیا جاسکتاہے۔ تمام ٹکڑوں میں جب سفید ریشے نظر آنا شروع ہو جائیں تو انہیں لکڑی کے بنے ہوئے فریم یا درختوں کے تنوں کے ساتھ کھڑا کردیا جاتاہے کھمبی نکلنے کیلئے 20-12 سینٹی گریڈ اور 80 فیصد نمی کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ فروری مارچ اور ستمبر اکتوبر میں قدرتی طور پر میسر ہے۔

فصل کی تیاری۔

شاہ بلوط کی کھمبیاں موسم بہار اور موسم خزاں کے قدرتی موسمی حالات میں نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ پس جن ٹکڑوں میں بیج مارچ کے مہینے میں بھرا گیا ہو تھا وہ ستمبر اکتوبر یا اگلے موسم بہار میں تھوڑی سی فصل دیں گے اور جب کھمبیاں لگنا شروع ہوجائیں تو پھر پانچ سات سال تک فصل دیتے رہتے ہیں۔

کمرے کے اندر۔

یہ کھمبی کمرے کے اندر بھی اگائی جاسکتی ہے۔
مارکیٹنگ۔
تازہ کھمبیاں کاٹ کر گھر میں پکائی جاسکتی ہیں۔ جو بہت لذیز بنتی ہیں ضرورت سے زاہد فصل کو دھوپ میں سکھالیں اور پھر لفافوں میں بند کرکے فروخت کریں۔
.3چینی مشروم Chinese Mushroom
نباتاتی نام Valvarella Vuleacea
خاندان Putin Ceae
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ گرم مرطوب علاقے میں کاشت ہونے والی کھمبی ہے اس کی باقاعدہ کاشت کا سہرا چینی کسانوں کے سر ہے انہوں نے اسے تمام دنیا میں متعارف کروایا اس لئے چینی کھمبی کہتے ہیں ایشیا کے بیشتر ممالک میں اس کی کاشت ہوتی ہے جہاں پر برسات کا موسم چار ماہ تک ہو وہاں پر یہ کھمبی باہر کاشت ہوسکتی ہے۔ اور ہمارے ہاں اس کی کاشت درختوں کے سائے میں ممکن ہے اس میں تیس سے چالیس فیصد تک پروتین پائی جاتی ہیں اس میں وٹامنز اور نمکیات خاص کر وٹامنز سی اور نیا سین کافی مقدار میں ہوتی ہے کھمبی کو اکیلا پکا کریاپھر سبزی یا چاول کے ساتھ ملا کر کھایا جاتاہے۔ ہوٹلوں میں اس کا سوپ بھی استعمال کیا جاتاہے۔

چینی کھمبی کی کاشت کا مروجہ طریقہ۔

اس کی کاشت کیلئے کیاریوں میں بنائی جاتی ہیں۔ جو تین فٹ چوڑی آدھا فٹ اونچی اور بارہ فٹ لمبی ہوتی ہیں اس کی لمبائی میں کمی و بیشی حالات کے مطابق کی جاتی ہے۔ یا د رکھیں کہ روشنی کی شعائیں کیاری میں صبح طلوع آفتاب کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت ضرور پڑیں۔

چاول کے بنڈل کی تیاری۔

چاول کی پرالی کے بنڈل کی تیاری اس طرح کریں کہ تنے والے تمام حصے ایک طرف ہوں اور موٹائی تقریباً آٹھ انچ ہو اب بنڈلوں کو گیلی کی ہوئی پرالی سے ہی بانڈھیں۔

کمرے کے اندر کاشت۔

جس میں اس کی کاشت جھونپڑیاں بنا کر کی جاتی ہے۔ کمروں میں درج حرارت کو قابو میں رکھا جاتاہے۔
چاول کی پرالی کے علاوہ، مکئی کے تکے‘ مکئی کے ٹانڈے‘ گندم ‘ جو چنے کے تنے اورکپاس بھی اس مصنوعی کھیت کیلئے موزوں ہیں۔ اس کے لئے ایک قسم کا کمپوسٹ جس کا بتایا گیا ہے اس کے اجزاء ملاحظہ کریں۔

کمپوسٹ برائے چینی کھمبی۔

بے کارکپاس۔ 40 کلو گرام۔
گندم کا بھوسہ۔ 100 کلو گرام۔
گندم کا چاول کا بورا۔ 4 کلو گرام۔
چونا۔ 2 کلو گرام۔

ان چیزوں کا استعمال اس طرح کریں کہ ان کو پانی سے خوب تر کیا جائے پھر ڈھیر لئایں تقریباً سات دن تک اس کو گلنے سڑنے دیں پھر مکس کر بیڈ بنائیں۔

فصل کی تیاری۔

بیج ڈالنے کے دو ہفتے بعد کھمبی نکلنا شروع ہوجاتی ہے جو ایک دو دن میں انڈے کی شکل اختیار کرتی ہیں اس کے بعد تقریباً تیسرے دن کھل جاتی ہے۔ اگر کھمبی کو سکھانا ہو تو جب چھتری کل جائے تو اس کی کٹائی کریں اور ان کو دھوپ میں سکھائیں دو تین دن میں دھوپ میں سکھائیں دو تین دن میں دھوپ میں خشک ہوجائی گی۔ چینی کھمبی کو خشک کرنے کے بعد پیسا بھی ہوئی کھمبی کا پوڈر بڑے بڑے ہوٹلوں میں سوپ بنانے میں استعمال ہوتاہے اور جب پکائی ہو تو خشک کھمبی کو آدھا گھنٹہ پانی میں بھگوئیں۔پیداوار اگر چینی کھمبی کی کاشت کے دوران مطلوبہ درجہ حرارت مہیا کیا جائے تو اس کی پیداوار خشک پرالی کے وزن کا تیس فیصد ہوتی ہے۔

.6 لکڑی کی کان نما مشروم۔

یہ بھی قدرتی طور پر اگتی ہے اور انسانی کان سے مشابہ شکل کی ہوتی لکڑی لکڑی کابر ادہ اور کئی بیکار اشیاء مثلاً پکار کپاس بھوسہ مکئیکے تنکے وغیرہ پر کامیابی سے اگائی جاسکتی ہے یہ موسم گرما کی کھمبی ہے اس لئے گرمی کے موسم میں کاشت کریں۔

مشروم کی ناکامی کی وجوہات۔

اس ضمن میں احتیاط ملحوظ خاطر رکھیں اور مندرجہ باتوں کا خیال رکھیں۔
۱۔مشروم اگنے کی جگہ کو صاف ستھرا اور جراثیم سے پاک ہونے چائیں۔
۲۔آلات استعمال اور ہاتھ بھی جراثیم سے پاک ہونے چائیے۔
۳۔اشیاء نمو جراثیم سے بالکل پاک ہونا چائیے۔
۴۔تھیلوں میں اشیاء نمو میں پانی کی صحیح مقدار ضروری ہے کمی اورزیادہ فصل کی ناکامی ہے۔
۵۔مشروم کی جائے کاشت کے آس پاس مویشیوں کی موجودگی نقصان دہ ہوتی ہے۔۶۔سورج کی بلاواسطہ روشن بھی ناکامی کا باعث ہوتی ہے۔
۷۔فصل کاٹتے وقت کھمبی کا سبب ہوتے ہیں لہْذا احتیاط سے کھمبی کر مروڑ کا نکالیں۔
کھمبی کا بیج۔
صدف نما کھمبی کا بیج زرعی تحقیقاتی مرکز ڈھوڈیال اور دوسری کھمبیوں کا بیج ایچ آر سی اسلام آباد اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے مل سکتاہے۔

گرمیوں میں ہر کوئی درختوں کی چھاؤں میں بیٹھنا اور سبزہ زار میں وقت گزارنا پسند کرتا ہےکیونکہ ہرے بھرے پودے گرمی کی شدت کو کم کرتے ہیں۔ آپ کے گھر میں اگر درخت یا سبزہ زار ہے تو آپ کی شامیں ٹھنڈی گزر سکتی ہیں اور اگر آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو گرمیوں کے موسم میں آپ نہ صرف سبزیاں ، پھول اور پودے لگا سکتی ہیں بلکہ باغبانی سے حاصل ہونے والی سبزیاں بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ ان کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ سے اُگائی ہوئی سبزیوں کی خوشی سے مزہ دوبالا ہو جاتاہے۔
garmion mai thandak k liay bagbani

موسم گرما کی سبزیاں

موسم گرمامیں ٹماٹر، بینگن، کریلا، شملہ مرچ، ہری مرچ، توری، اروی، بھنڈی، ہلدی، کدو، آلو وغیرہ اُگائی جاتی ہیں۔ ان کی کاشت فروری مارچ سے شروع ہوتی ہے اور ستمبر اکتوبر تک جاری رہتی ہے۔

بیج سے کاشت

موسم گرما میں کھیرا، بھنڈی، خربوزہ اور تربوز براہ راست بیج سے کاشت کیے جاتے ہیں۔

پنیری سے اُگنے والی سبزیاں

اس موسم میں شملہ مرچ، ہری مرچ ، بینگن ، ٹماٹر اور بیلوں والی سبزیاں پنیری کے ذریعے ٹرے یا پلاسٹک کی تھیلیوں میں اُگائی جاسکتی ہیں۔

پودوں سے اُگنے والی سبزیاں

پودینہ ، اروی، شکر قندی، آلو، ادرک اور ہلدی ایسی سبزیاں ہیں ، جن کے کسی بھی حصے کو آپ کاشت کرسکتی ہیں۔

گھر میں باغبانی کیسے کی جائے ؟

گھر میں باغبانی کیلئے ذیل میں درج باتوں کا دھیان رکھیں۔
٭ ایسے مقام کا انتخاب کریں، جہاں کم سے کم 5گھنٹے دھوپ آتی ہو۔
٭ وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو۔
٭زمین اچھی ہو ورنہ کھاد استعمال کرکے زمین کو زرخیز بنایا جاسکتاہے ۔
٭ موسم کی مناسبت سے بیج اور پنیری دستیاب ہو ۔
٭ پودوں کیلئے حفاظتی اقدامات ہو ں۔

باغبانی کیلئے درکار اوزار

کچن گارڈننگ کیلئے آپ کے پاس درانتی، کدال، ریک، کھرپی اور پانی دینے کیلئے پائپ یا ڈول ہونا چاہئے۔

زمین کی تیاری

زمین کا بالائی حصہ اہم ہوتا ہے کیونکہ اسی حصے سے پودا پانی اورخوراک حاصل کرتاہے۔ اس لیے تقریباً ایک فٹ گہرائی تک زمین کو نرم اور بھربھرا کرلیں ۔ پتھر، پلاسٹک ،کنکر وغیرہ نکال کر اچھی طرح صفائی کرلیں اور اس میں اچھی طرح کھاد ملا دیں۔

اہم مشورے

٭سب سے پہلے خاکہ بنا کر نشاندہی کرلیں کہ کس جگہ کونسی سبزی لگانی ہے ۔
٭باغیچے کے گرد حفاظتی باڑ لگائیںتاکہ پرندے وغیرہ پودوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔
٭بیج یا پنیری ہمیشہ معیاری استعمال کریں۔
٭پودے لگانے سے پہلے ان کے فاصلے کا خیال رکھیں۔
٭سبزی چنتے وقت ہاتھ کے بجائے قینچی سے کاٹیں تاکہ پودا خراب نہ ہو ۔
٭چنی ہوئی سبزی فوراً پکالیں تاکہ تازہ سبزی کا ذائقہ برقرار رہے۔
٭کیڑوںسے بچانے کیلے اسپرے بوتل میں پانی لے کر اس میں ایک چمچ کوکنگ آئل اور ایک چمچ سرف ملالیں۔ پودوں پر چھڑکائو کرنے سے پودے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہیں گے۔

گرمیوں کے پھول

گرمیوں کے پھولوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے، لیکن ہم ان پھولوںکی بات کریں گے جوبآسانی اُگائے جاسکتےہیں۔

فوٹولاکا

گملوں اور کیاریوں کے کناروں کیلئے سب سے سستا پھول فوٹولاکاہے، جسے گلِ دوپہری بھی کہا جاتاہے ۔ اسے جتنی زیادہ دھوپ لگتی ہے، اتنا زیادہ یہ کھِلتا ہے۔ بہت سارے رنگوں میں کھلنے والے پھو ل پنیری سے لگائے جاتے ہیں لیکن انھیں بہت زیادہ پانی دینے سے گریز کریں ۔

عمودی باغبانی

کچن گارڈننگ کے علاوہ آپ پھول اور پودے چھت پر بھی لگا سکتےہیں، تاہم اگر چھت پر بھی جگہ نہ ہوتو اس کاحل عمودی باغبانی یعنی ورٹیکل گارڈننگ میں ہے۔ عمودی باغبانی میں زمین کے بجائے دیواروں پرمختلف فاصلوں پر سہاروں کے ذریعے پودے لگائے جاتے ہیں، جو نشوونما پاتے ہیں تو پوری دیوار کو ڈھک دیتے ہیں۔

کنیر

موریطانیہ یا پرتگال سے آیا گہرے سبز پتوںاور ٹہنیوں کے سروں پر گلابی سرخ یا سفید خوشنما یہ پھول کنیر کہلاتاہے۔ کم پانی اور تیز دھوپ میں کنیر کا پودا ساری گرمیاں پھول دیتا ہے۔

رات کی رانی

رات کی رانی مسحور کن خوشبو سے بھرپور پودا ہے، جو پورے گھر کو مہکا سکتا ہے۔ جھاڑی نما اسے پودے کو گملے میں بھی اُگایا جاسکتا ہے لیکن زمین پر اُگانےسے آپ کو زیادہ پھول ملیں گے۔

مرچ عام طور پر دو اقسام کی ہوتی ہے۔ ایک میٹھی مرچ جس کو شملہ مرچ بھی کہا جاتا ہے اور دوسری تم  کڑوی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس کی کاشت چاروں صوبوں میں کی جاتی ہے۔ آب و ہوا  مرچ معتدل آب و ہوا کو پسند کرتی ہے اس کے پودے سردی کے مہلک اثرات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ 

وقت کاشت 

میدانی علاقوں میں جہاں کورا پڑنے کا خطرہ ہے مرچ کی پنیری اکتوبر اور نومبر میں کاشت کی جاتی ہے جبکہ پودوں کو کھیت میں وسط فروری یا پھر مارچ کے شروع میں جب کورے کا خطرہ جاتا ہے تقل کیا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں پنیری کی کاشت دمبر، جنوری اور فروری کے مہینے میں کی جاتی ہے اور پھر کھیت میں منتقلی اپریل، مئی میں کی جاتی ہے۔ 
250 گرام سے 300 گرام تک صحت مند نے ایک ایکڑ کی پنیری تیار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 
الوگی ، کیلا مرچ، تلہار، دولی اقسام پی۔ اور پی ۔ ۲۱۰ قابل ذکر ہیں۔ 

زمین اور زمین کی تیاری 

مرچ ہو تم کی زمین پر کاشت کی جاسکتی ہے۔ مرچ کی کامیاب کاشت کے لیے زمین کا نرم اور ہموار ہونا ضروری ہے۔ ایک دفعہ زمین پلنے والا ہل چلائیں گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب 8 سے 10 ٹن فی ایکڑ اور ڈی اے پی کھاد ایک بوری ڈال کر تین دفعہ ہل چلائیں اور سہاگہ پھیر کر زمین کو چھوڑ دیں۔ 

طریقہ کاشت 

پہلے سے تیار کھیت میں 60 سے 75 سینٹی میٹر کے فاصلے پراٹھیاں بنائیں۔ ان ٹھوں پر دونوں اطراف میں 30 سینٹی میٹر سے 45 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پیری کھیت میں منتقل کریں۔ پنیری اگر شام کے وقت لگائی جائے تو ان کی نشوونما بہتر طور پر ہوگی ۔ پیری منتقل کرنے کے بعد کھیت کو پانی دیں۔ مرچ کے پودے کھڑے پانی میں لگانے سے پودوں کو جڑ کی پیاری لگنے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے پانی میں پودے لگائیں۔ 

کھاد کا استعمال 

پودوں کو کھیت میں منتقل کرنے کے تقریبا 45 دن بعد جب پودے اچھی طرح جڑ پکڑ لیں اور پھول آنے شروع ہو جائیں تو اس وقت مٹی چڑھانے کے ساتھ آ دھی بوری یوریا کھیت میں ڈالی جائے۔ بعد میں تقریبا ہر چنائی کے بعد یمل دہرایا جائے۔ 

آبپاشی 

پودوں کے اچھی طرح جڑ پکڑنے تک ہفتہ وار پانی دینا چاہیئے بعد میں موسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے 6 سے 8 دن یا پھر بہت ہی زیادہ گرم موسم میں 4 سے 5 دن وقفہ کر دیا جائے۔ گوڑی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ پودوں پر گوڈی کر کے اتنی مٹی چڑھادینی چاہئے کہ پانی پودوں تک براہ راست نہ سکے بلکہ صرف وتریانم پہنچے۔ وقت برداشت جب پھل کا سائز مناسب ہو جائے تو چنائی کریں۔ پھل توڑ کر اس کو کسی سایہ دار جگہ پر رکھ کر کسی گیلے کپڑے یا کی بوری سے ڈھانپ دیں تا کہ اس کی تازگی برقرار رہے۔ سرخ مرچوں کے لیے گہرے سرخ رنگ کی مرچیں توڑ کر سائے میں خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔ 

قرضہ فنی مشاورت: 

زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کسان بھائیوں کو مری کی کاشت کے لئے قرضہ فراہم کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے حلقہ کے موبائل کریڈٹ آفیسر سے رابط قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ شعبہ زری نگین و بی زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ ہیڈ آفس اسلام آباد کسانوں کوفی و نیکی ہواست بھی فراہم کرتا ہے۔ مرچ کی کاشت کیلئے ہمارے زرعی ماہرین سے بذریہ خط درج ذیل پتہ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پسند کاشتکار جو اپنے تجربات سے دوسرے کسان بھائیوں کو مستفید کرنا چاہتے ہوں ۔ میں اپنے تجربات سے تحریری طور پر آگاہ کریں تا کہ ان کے تجربات سے دوسرے کسان بھائیوں کو بھی آگاہ کیا جا سکے۔

سبزیاں انسانی غذا کا اہم جزو ہیں۔ ان میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو بہت سی دوسری خوردنی اجناس میں موجود نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ انسانی جسم کو ضروری اجزاء مثلاً حیاتین، نمکیات اور طاقت کے ضروری حرارے مہیا کرتی ہیں۔ پیاز کا شمار قدیم ترین سبزیوں میں ہوتا ہے۔ پیاز خون کی شریانوں میں جمع ہونے والی چربی کو تحلیل کرتا ہے اور انسانوں کو دل کے مہلک امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ پیاز میں معدنی نمکیات وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں اس کا استعمال انسان کو گرمی کے نقصان دہ اثرات سے بچائے رکھتا ہے۔ پاکستان میں یہ سارا سال ملتا رہتا ہے۔ معتدل اور خشک موسم پیاز کی زیادہ پیداوار کیلئے موزوں ہے۔ پیاز کی نرسری پر کورے کا بہت کم اثر ہوتا ہے لہٰذا پودوں کی کھیت میں منتقلی دسمبر جنوری میں کردی جاتی ہے۔ پھُلکارہ قسم پنجاب اور سندھ میں اُ گائی جاتی ہے۔ اس کی پیداوار 200 تا 250 من فی ایکڑ ہے۔ اس کا رنگ قدرے گلابی، چھلکا موٹا اور پانی کی مقدار 90 فیصد سے زیادہ ہے اس لئے لمبے عرصہ تک سٹوریج کے لئے بہتر ہے۔ پنجاب میں اس کی کاشت کا دورانیہ کافی طویل ہے۔
پیاز کی کامیاب کاشت Payaz ki kamyab kasht

یہ موسم بہار اور خزاں کی فصل کے لئے نہایت موزوں قسم ہے۔ ڈارک ریڈ (Dark Red) قسم پنجاب میں کافی رقبہ پر اُگائی جاتی ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت درمیانی، رنگ گلابی، چھلکا درمیانہ اور سٹوریج کوالٹی بہتر ہے۔ یہ موسم بہار اور خزاں کی فصل کے لئے نہایت موزوں قسم ہے۔ پیاز کی کاشت سے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور بعد میں دو مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں۔ وتر آنے پر زمین کو ہل چلاکر سہاگہ سے نرم اور ہموار کرکے چھوڑ دیا جائے تاکہ جڑی بوٹیاں اُگ آئیں۔ جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد دوبارہ ہل چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک تو جڑی بوٹیوں کی تلفی ہوجائے گی اور دوسرا دھوپ لگنے سے زمین سے کئی بیماریوں کے جراثیم بھی ختم ہوجائیں گے۔ کیمیائی کھادوں کی مقدار کا تعین کرنے سے پہلے زمین کا تجزیہ کروانا چاہیے۔ اگر زمین کا تجزیہ نہ کروایا جا سکے تو اوسط زرخیز زمین کیلئے کھادوں میں نائٹروجن 35، فاسفورس 35، پوٹاش 25کلوگرام بوقت بوائی یا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا چار بوری ایس ایس پی + آدھی بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا دو بوری نائٹروجن + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ، پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ بعد آدھی بوری یوریا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ، آدھی بوری یوریا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ، پونی بوری نائٹروفاس اور پیاز بنتے وقت ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا، ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا، پونی بوری نائٹروفاس مقدار فی ایکڑ ڈالیں۔ پنیری کو کھیت سے وتر حالت میں اس طرح اکھاڑا جائے کہ اس کی جڑیں بالکل نہ ٹوٹیں۔ پودے کھیلیوں کے دونوں طرف 10 سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگائیں۔ بعد میں کھیت کو پانی لگا دیا جائے

پیاز کی خزاں اور بہار کی فصلوں میں انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ پیاز کی اچھی فصل حاصل کرنے کے لئے جڑی بوٹیوں کی تلفی بہت ضروری ہے۔ پودوں کی منتقلی کے بعد 45 دن کے اندر 2 تا 3 بار گوڈی اور نلائی کرنے سے جڑی بوٹیوں کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ پہلے تین پانی 7 یا 8 دن کے وقفے سے لگائیں۔ اس کے بعد آبپاشی کا وقفہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ ارغوانی جھلساؤ بیماری سے پتوں پر ہلکے جامنی رنگ کے لمبوترے کناروں والے دھبے پڑجاتے ہیں۔ بیج پیدا کرنے والی ڈنڈی گل سڑ جاتی ہے اور پیاز پر سیاہ دھبے بن جاتے ہیں۔ ارغوانی جھلساؤ کی بیماری کے انسداد کیلئے فصلات کا ادل بدل کریں، محکمہ کی سفارش کردہ پھپھوندکش زہر کا 7 سے 10 دن کے وقفہ سے سپرے کریں۔ جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ روئیں دار پھپھوندی پتوں اور بیج والے تنوں پر سیاہی مائل روئیں دار دھبوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر موسم سرد، ابر آلود اور ساتھ ساتھ ہلکی بارش ہوتو یہ بیماری شدت اختیار کرجاتی ہے۔ پورے کا پورا کھیت آلو کے پچھیتے جھلساؤ کی طرح جھلساؤ مرجاؤ کا منظر پیش کرتا ہے اور پیداوار میں 60 سے 75 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔ روئیں دار پھپھوندی کے انسداد کیلئے فصلات کا ہیر پھیر کریں اور محکمہ کی سفارش کردہ پھپھوند کش زہر کا سپرے کریں۔ منہ سڑی کے حملہ کی وجہ سے ابتدائی طور پر پتوں کے نوکدار کناروں پر بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں

جو بعد میں سیاہی مائل ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ بیماری کناروں سے نچلی طرف بڑھتی ہے۔ منہ سڑی کے انسداد کیلئے جڑی بوٹیوں کو تلف کریں اور محکمہ کی سفارش کردہ پھپھوندکش زہر کا سپرے کریں۔ پیاز کی کنگی بیماری پتوں پر ابھرے ہوئے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دھبے پہلے سفید بعد میں زرد رنگ کے ہوجاتے ہیں۔ یہ دھبے بے ترتیب اور منتشر اور پتے کی دونوں طرف ہوتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں پتے مُرجھا جاتے ہیں جس سے پیداوار پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ پیاز کی کنگی بیماری کے انسداد کیلئے فصلات کا ادل بدل کریں اور محکمہ کی سفارش کردہ پھپھوند کش زہر کا سپرے کریں۔ پیاز کا تھرپس کیڑا جسامت چھوٹی، شکل زیرہ نما اور رنگ میں بھورا ہوتا ہے۔ بالغ لمبوترے پیلے یا بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ بالغ نر بے پر ہوتے ہیں لیکن مادہ کے پر لمبے نوکیلے ہوتے ہیں جس کے پچھلے کناروں پر جھالر نمبر بال ہوتے ہوتے ہیں

۔ تھرپس پودے کے پتوں کی درمیانی کونپلوں میں موجود ہوتا ہے اس کے بالغ اور بچے دونوں وہاں سے رس چوس کر نقصان کرتے ہیں اور حملہ شدہ پودوں کے پتے چڑ مڑ ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ کالے ہوجاتے ہیں۔ پیاز کے تھرپس کے انسداد کیلئے پودوں کو سوکا نہ آنے دیں کیونکہ خشک موسمی حالات میں اس کا حملہ شدت اختیار کرجاتا ہے۔ فصل کو گوڈی کریں۔ پیاز کی سنڈی یا امریکن سنڈی کی شناخت،پروانہ زردی مائل بھورا جبکہ سنڈی سبزی مائل اور جسم پر لمبے رخ دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ کیڑا پیاز کے علاوہ ٹماٹر، مٹر، مرچوں اور کئی دوسری سبزیوں اور فصلوں پر بھی حملہ کرتا ہے۔ اس کی سنڈی پیاز کی بیج والی فصل میں پھولوں کے گچھوں کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے بیج کی فصل کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے انسداد کیلئے روشنی کے پھندے لگا کر پروانوں کو تلف کریں۔

(تحریر: نوید عصمت کاہلوں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات) 

پیاز کی خوراکی و ادویاتی اہمیت :

پیاز کی تاثیر گرم درجہ اول اور خشک درجہ دوم میں ہے۔ یہ خون کی شریانوں میں فالتو کولیسٹرول کو تحلیل کرکے دل ے امراض سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔ یہ نظامِ ہضم کی رطوبتوں میں اضافہ کر کے بھوگ بڑھاتاہے۔  یض و پیشاب آور ہونے کے ساتھ ساتھ جراثیم کش خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ ہاضم طعام ہونے کے ساتھ ساتھ دافع، بلغم بھی کھتاہے۔ نیز قوت باہ میں تحریک پید اکرتاہے ۔ نزلہ زکام ، ہیضہ کے امراض میں مفید ثابت ہوتاہے۔ خون کی کمی کا علاج ہے۔ کثیر استعمال سے ریاح غیلظ پیدا کرتاہے۔ہوا سو گرام پیاز میں 60 حرارے توانائی 10 گرام نشاستہ ، کیلشیم و فاسفورس تیس تیس ملی گرام، اس میں وٹامن بی اور سی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ فصل کس حد تک منافع بخش ہے؟ اس کا شمار درمیانی اور کم منافع بخش فصلوں پرہوتاہے۔ اگر جدید دوغلی اقسام کاشت کرکے بھر پور پیداوار حاصل کی جائے تو پیاز ایک منا فع بخش فصل ہے۔ جیسا کہ حالیہ سالوں کے دوران بھارت کو ترجیحی ملک قرار دیاجا چکاہے اور ہماری مارکیٹ میں بھارتی پیاز کی مسلسل یلغان ہوتی رہتی ہے۔ ان حالات میں پیاز کی فصل زیادہ منا فع بخش نہیں رہی۔
payaz ki kasht in pakistan پاکستان میں پیاز کی کاشت

فصلی ترتیب:

وسطی پنجاب میں یہ فصل مندرجہ ذیل فصلی ترتیب کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہے۔

پیاز ( دسمبر جنوری)۔ چاول (جون)۔ گندم ( نومبر)
پیاز ( فروری)۔ کدو کریلا (جون)۔ مٹر ( اکتوبر)
پیاز ( فروری) ۔ بھنڈی (جون) ۔ گوبھی ( اگتوبر)
پیاز + مرچ ( فروری)۔ چاول (جولائی) ۔ گندم ( نومبر)
پیاز + کپاس( فروری)۔ پیاز + مرچ(اگلے سال فروری)
پیاز گڈی( اگست)۔ گندم(نومبر دسمبر) ۔ چاول ( جون)
پیاز اگیتا( اکتوبر) ۔ ٹماٹر (جنوری فروری)۔ مولی جولائی)
کیسی زمین میں کاشت کی جائے؟
پیاز میرا و ہلکی میرا زمین میں بہتر پیداوار دیتاہے۔ کلراٹھی اور ریتلی زمین میں اس کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ یہ کم گہری جڑوں والی فصل ہے۔ اس لئے زمین زیادہ گہرائی تک تیار نہ کی جائے۔ لیزر لیولر کی مدد سے ہموار شدہ زمین میں روٹا ویٹر چلانے کے بعد رجر کی مدد سے کھیلیاں بنائی جائیں۔ یکساں سائز کی کھیلیوں میں نہ صرف آبی استعمال کی کفا۔ یت ہوتی ہے۔ بلکہ ساری فصل (Uniform) پیداہوتی ہے

کاشت کے علاقے:

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پیاز چین میں سب سے زیادہ اگایا جاتاہے۔ پیاز کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان اگرچہ دنیا میں پانچویں نمبر پرہے۔ لیکن فی ایکڑ پیداوار کے لحاظ سے جنوبی کوریا پہلے اور پاکستان 75 ویں نمبر پر ہے جس سے ظاہر ہے کہ فی ایکڑ پیدا وار کے لحاط سے بہت پیچھے ہے۔ حالیہ سالوں کے دوان پاکستان میں پیاز تین لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کاشت کیا جارہاہے۔ جس سے کم و پیش تین لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ کم و پیش پورے پنجاب میں اگایا جاتاہے۔ لیکن ملتان، بہاولپور اور لیہ میں زیادہ کاشت ہوتا ہے۔

آب و ہوا اور اگاؤ:

معتدل اور خشک آب و ہوا میں بہتر پیداوار دیتاہے۔ یہ سردی اور کورابرداشت کرسکتاہے لیکن گرم موسم میں متاثر ہوتا ہے۔ پیا زکوا گاؤ کے لئے کم از کم 3 تا 5 اوسطاً 10 تا 15 اور زیادہ 32 تا 35 درجہ سینٹی گریڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا عمومی اگاؤ 70 تا 90 فیصد ہوتاہے۔ معتدل خشک آب و ہوا میں اسے بیماری نہیں لگتی ۔ اگر مارچ میں فضائی نمی زیاد ہ ہوجائے تو بیماری (روئیں دار پھپوندی) کا شدید حملہ ہوسکتاہے۔

اقسام اور بیج کی دستیابی:

پنجاب میں عام طوپر چھوٹے (10 تا 12 گھنٹوں والے) دنوں میں پیاز بنا نے والی کھلے عام اختلاط کرنے والی (Open polinated) اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔ چھوٹے دنوں والی دوغلی اقسام بھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔ پنجاب میں لمبے (14 تا 15 گھنٹوں والے) دنوں میں پیاز بنانے والی اقسام کاشت نہیں کی جاسکتیں ۔ کھلے عام اختلاط کرنے والی مقامی اقسام میں پھلکارہ ، ڈارک ریڈ، سوات۔1 دیسی سُر خ وغیرہ شامل ہیں۔ مقامی طور پر تیار شدہ بیج نا کافی ہوتاہے۔ اس لئے پنجاب میں دیسی اقسام کا بیشتر بیج انڈیا سے اور دوغلی اقسام کا امریکہ اور دیگر مما لک سے درآمد کیا جاتاہے۔

ان میں سے اہم اقسام کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

پھلکارہ:

یہ قسم پنجاب اور سندھ میں اگائی جاتی ہے۔اس کی پیداوار ی صلاحیت کافی زیادہ (200 تا 250 من) فی ایکڑ تک ہوتی ہے ۔رنگ قدرے گلابی، چھلکا موٹا، سٹوریج کولٹی بہترہے۔ یہ قسم اس لحاظ سے منفرد ہے کہ ہو چھوٹے اور بڑ۔ ے دنوں میں پیاز بنا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے پنجاب میں اسکی کا شت کا دورانیہ کافی طویل ہے۔

دیسی سرخ اور دیسی سفید:

دیسی سرخ قسم پنجاب میں بکثرت اگائی جاتی ہے۔اس کی پیداواری صلاحیت درمیانی، رنگ گلابی، چھلکا د درمیانہ۔ سٹوریج کوالٹی بہترین ، Short day ، لیکن دیسی سفیدسفید کی سٹوریج کوالٹی کم ، پنجاب میں اس کی پیداوار دیسی سرخ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ دیسی سفید کی مانگ بھی کم ہے۔ فیصل آباد اگیتی یہ قسم پنجاب میں اگائی جاتی ہے۔ اس کی پیداوار زیادہ ( 200 تا 250 من، رنگ گلابی ، چھلکا درمیانہ ، سٹوریج کوالٹی بہترین ،Short day پودا ہے۔

سوات:

یہ قسم زیادہ تر سرحد (پختونخواہ) میں اگائی جاتی ہے۔ لیکن پنجاب میں کامیاب ہے ۔ اس کی پیداوار زیادہ، رنگ ہلکا۔ گلابی، چھلکا موٹا، اس کی سٹوریج کوالٹی بھی کافی بہتر ہے۔

دوغلی اقسام:

جدید کاشتکاری میں دوغلی اقسام زیادہ اہمیت حاصل کر چکی ہیں۔ پیاز کی مقامی اقسام میں سٹور کیے جانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے لیکن ان کی پیداوار ی صلاحیت کم ہوتی ہے۔کم پیداوار کی وجہ سے دیسی اقسام ملکی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں ۔ پیاز کے پیشہ ور کا شتکار صرف دوغلی اقسام ہی کاشت کرتے ہیں۔ پیاز کی کاشت کا تجربہ نہ رکھنے والے کاشتکاروں کو چاہئے کہ دوغلی اقسام کا شت کرنے سے پہلے قسم کی پوری پوری چھان بین کرلیں ۔ صرف اپنے علاقے اور ماحول سے مناسبت رکھنے والی اقسام ہی کاشت کریں۔ حالیہ دوغلی اقسام میں ایس پی ریڈ، ریڈ بیوٹی، سیلون، ریڈ کمانڈر، ریڈ پرنس، ریڈڈائمنڈ، روزیٹا، ریڈبون، رائل ریڈ اور تکی وغیرہ شامل ہیں۔ ان اقسام کا بیج کافی مہنگا ہوتاہے۔ حالیہ سالوں کے دوران ایک کلوگرام ہائی برڈ بیج 10 تا 25 ہزار روپے میں فرورخت ہو رہاہے۔ پنجاب کی مارکیٹ میں ہلکے سرخ رنگ والے پیاز کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے ریڈ بیوٹی اور روز یٹا جیسے جامنی سرخ رنگت والے پیاز کی ڈیمانڈ کم ہوتی ہے۔ سفید رنگت والے پیاز کی ڈیمانڈ کراچی کی مارکیٹ میں زیادہ ہوتی ہے۔ایسی دوغلی اقسام جن کے پیاز نصف کلو گرام یا اس سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں وہ بلوچستان کی وادیوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ یہ لمبے دنوں والی اقسام ہیں۔ یہ اقسام پنجاب کے بیشتر علاقوں میں پیاز نہیں بناتیں۔ اس اقسام کو زیادہ عرصہ کے لئے سٹور نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے درمیانے سائز کے پیاز پیدا کرنے والی اقسام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چند اہم حالیہ دوغلی اقسام کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ریڈ کمانڈ:

ریڈ کمانڈ کی پیداواری صلاحیت 500 تا 600 من فی ایکڑ تک ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اس کا سائز درمیانہ و بڑا و رنگت پر کشش گلابی ، پھولداری (Peduncle) نکالے بغیر پیاز بناتاہے۔ اسی وجہ سے ان اقسام کو پیداواری صلاحیت دیسی اقسام کے مقابلے میں زیادہ وہوتی ہے۔

روزیٹا:

اس کی پیداواری صلاحیت بھی 500 من فی ایکڑ تک ہے۔ لیکن اس کا سائزدرمیانہ رنگت ہلکی گلابی ، پھولداری نکا۔ لے بغیرپیاز بناتاہے۔

ریڈبیوٹی:

اس قسم کی پیداواری صلاحیت ریڈ کمانڈر اور روزیٹا سے کم نہیں ہے لیکن گہرے سرخ اور جامنی رنگت کی وجہ سے مار۔ کیٹ میں یہ پیاز درمیانی قیمت پر فروخت ہوتاہے۔ پیاز بننے کے دوران ہلکی سی پھولداری بھی نکال لینا ہے۔ مثالی کاشتکاری کے لئے صرف دوغلی اقسام کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

شرح بیج:

اقسام کی نوعیت اور اوقاتِ کاشت کی مناسبت سے اس کی شرح بیج میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ بیج کی روئیدگی عموماً ایک سال تک ہی بہتر رہتی ہے۔ ایک سال بعد اس کی روئیدگی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس لئے صرف تازہ بیج کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ایک گرام میں پیاز کے تقریباً تین سو بیج آتے ہیں۔ پیاز کے ایک ہزار بیجوں کا وزن عموماً 4 تا 5 گرام ہوسکتا ہے۔ بہتر ٹیکنالوجی کی بدولت اگر سارے بیج اگ کر منتقلی کے لئے تیار ہوجائیں تو اڑھائی لاکھ پیازوں کے لئے صرف ایک تا سوا کلو گرام بیج کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف حالات میں مندرجہ ذیل شرح بیج استعمال کی جاسکتی ہے۔

موسمی کاشت:

اکتو بر کاشتہ موسمی فصل کے لئے 99 فیصد اگاؤ والا ایک کلو گرام ہائبر دیج دو تا تین مرلے جگہ پرکاشت کیا جاسکتا ہے۔ دیسی اقسام پھلکارہ یا نصرپوری کا (60 تا 70 فیصد اگاؤ) 2کلو گرام تین تا چار مرلے رقبہ پر کیاریاں بنا کر کاشت کیا جائے۔

نرسری کی اگیتی کاشت:

پھلکارہ یا دیسی اقسام کی جولائی کا شتہ فصل کیلئے تین کلوگرام بیج استعمال کیاجائے۔ دیسی اقسام کا بیج تین مرلے رقبہ پر کیاریاں بنا کر کاشت کیا جائے تو ایک ایکڑ کی صحت مند نرسری حاصل ہوتی ہے۔

چھوٹے پیاز کی اگیتی کاشت:

پیاز کی سائز کی مناسبت سے ایک ایکڑ میں سات تا دس من چھوٹے پیاز (Sets) استعما ل ہوتے ہیں۔

بیج والی فصل:

بیج والی فصل کاشت کرنے کے لئے درمانہ سائز (40 تا 50 گرام) کے 18 تا 20 من پیاز کی ضرورت ہوتی ہے

نرسری کی تیاری:

باریک تیاری کردہ پوری طرح خشک اور ہموار شدہ چار مرلے زمین میں چھوٹی چھوٹی (ایک میٹر چوڑی اور دو میٹر لمبی) کیاریوں میں چھٹہ کرکے کاشت کیا جاتا ہے چھٹے کی صورت میں اگر زیادہ گھنی نرسری اگ آئے تو نہ صرف اس پر بیماری کا حملہ زیادہ ہوت اہے بلکہ کمزور نرسری سے چلنے والی فصل میں بہت سے پودے مر جاتے ہیں اور پیاز کی بھر پور پیداوار نہیں ملتی۔ اس لئے پیاز کی نرسری زیادہ گھنی کاشت نہ کی جائے۔ چھٹے سے کاشتہ فصل کا کافی زیادہ بیج کیڑے چراکر لے جاسکتے ہیں۔ اس لئے چھٹہ کی بجائے 3تا4 انچ کے فاصلے پر قطاروں میں نرسری کاشت کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً چھوٹے پیمانے پر کاشت یا زیادہ اگیتی کاشت کی صورت میں قطاروں میں نر سری کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

پیاز کو اگاؤ کے لئے زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے اگاؤ مکمل ہونے تک روزانہ فوارے کی مدد سے آبپاشی کریں۔ اگاؤ کے بعد نرسری کو ہلکی آبپاشی کی جائے۔ اگیتی کاشت کی صورت میں نمی برقرار رکھنے کے لئے اس پر پرالی یا سر کنڈ ا وغیرہ ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگر زمین ہلکی میرا ہوتو فورے سے پانی ڈالنے کے بجائے ہلکی آبپاشی بھی کی جاسکتی ہے۔ بیج اٹھانے والے کیڑے کے خاتمہ کیلئے نرسر ی کے گرد اگرد کو نفیڈار کے 2 فیصد آبی محلول کی سپرے کو پیکس پاوڈر کا دھوڑا کیا جاسکتاہے۔ نرسری کا اگاؤ مکمل ہونے کے بعد اس پر بیماری کے خلاف دو تا تین مرتبہ خطرہ کش زہریں مثلاً ایمی سٹار، کیبریو ٹاپ ، ریڈومل گولڈ یا سکسس سپرے کی جائیں۔ اکتوبر میں کاشتہ 35تا 45 دن میں منتقلی کے قابل ہوجاتی ہے۔ لیٹ (نومبر) کاشتہ نرسری دو ماہ میں تیار ہوجاتی ہے۔ زیادہ اگیتی نرسری کو منتقل کرنے سے ایک ہفتہ قبل پانی بند کردیا جائے تاکہ سخت جان ہو جائے۔ اکھاڑنے کے دوران زمین میں وتر موجود ہونا چاہئے تاکہ اکھاڑنے میں سہولت رہے۔ اگر نرسری پھپھوندکش زہر ٹاپسن ایم کے دو فیصد آبی محلول میں ڈبو کر منتقل کی جائے تو ابتدائی بیماری سے محفوظ رہتی ہے۔ بہتر یہی ہے نرسری اکھاڑنے کے بعد اسی دن منتقل کردیا جائے۔ اگرچہ بلوچستان اور جنوبی مغربی پنجاب کے کچھ علاقوں میں براہ راست بیج سے بھی پیاز اگایا جاتا ہے۔ لیکن پنجاب میں زیادہ تر پیاز نرسر ی منتقل کرکے کاشت کیا جاتاہے۔ لیہ اور تھل ایریا کی آبپاش زمینوں میں کھیلیوں کے کناروں پر چوکے کی مدد سے وسیع پیمانے پر پیاز کی کامیاب کاشت کے امکانا ت موجود ہیں ۔ پیاز کی نرسری منتقل کرنے کا طریقہ ہائے کاشت کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

کیاریوں میں کاشت:

میرا اور ہلکی میرا زمینوں میں اور جہاں پانی کے نکاس کا اچھا انتظام ہو وہاں پیاز کیاریوں میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ کیاریوں میں نرسری منتقل کرتے وقت اقسام کی مناسبت سے قطاروں کا باہمی فاصلہ 6 تا 9 انچ اور پودوں تین تا چار انچ ہونا چاہئے۔ گویا ہموار زمین میں 6x4 یا 8x3 انچ کے حساب سے ایک ایکڑ میں کم از کم دو لاکھ پیاز لگائے جا۔ ئیں توبھر پور پید ا وار حاصل ہوسکتی ہے۔

کھیلیوں پر کاشت:

بھاری میرا اور سخت زمینوں میں پیاز کی کاشت کیاریوں پر نہ کی جائے۔ بلکہ کھیلیاں بنا کر ان کے کناروں پر منتقل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ نرسری کو زیادہ گہرانہیں دبایا جائے تو پیاز کا سائز چھوٹا رہ جاتاہے۔چھے سے آٹھ ہفتے کی نرسری کھیلیوں کے کناروں پر منتقل کی جاتی ہے۔ سوا دو دو فٹ کی کھیلیوں کے دونوں کناروں پر منتقل کرتے وقت پودوں کا فاصلہ دو تین انچ رکھاجائے ۔

چھوٹے پیازوں (Sets) کی کاشت:

نئی ٹیکنالوجی کی بدولت پیاز سے نفع کمانے کے لئے دوسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں پھلکارہ یا نصر پوری کا 3 کلو بیج چھ تا آٹھ مرلے پر نرسری کاشت کریں۔ اتنی سردی میں پیاز کا اگاؤ متاثر ہوتاہے۔ چنانچہ بہتر اگاؤ کے لئے اس پر پلاسٹک شیٹ استعمال کریں۔ پانچ ملی میٹر موٹائی کے قدرے گول کئے گئے سریے کیاریو ں پر گاڑنے کے بعد اس پر سفید ( شفاف) پلاسٹک شیٹ ڈالی جائے۔ اگاؤ مکمل ہونے پر شیٹ اتار دی جائے۔ اگر نرسری مارچ میں کا۔ شت کی جائے تو شیٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مئی کے آخر تک اس جگہ کھڑی نرسری سے چھوٹے چھوٹے پیاز تیار ہوجاتے ہیں۔ مئی میں اس سے بننے والے چھوٹے چھوٹے (مٹر کے دانے جتنے موٹے یا صرف اتنے موٹے کہ ایک کلو میں 600 عدد آجائیں) پیاز کھاڑ لئے جائیں۔ ایک ایکڑ میں سات آٹھ من چھوٹے پیاز (Sets) استعمال ہوتے ہیں۔ ہوادار بوریوں یا ٹوکریوں میں ڈال کر ان کو تین ماہ تک ٹھنڈی جگہ پر سٹور کر لیں۔ مون سون کے دوران یعنی جولائی کے آخر یا اگست کے شروع ان کو 75 سینٹی میٹر کی کھالیوں کے دونوں طرف دو تین انچ کے فاصلہ پر کاشت کردیں اور ایک ایکڑ میں ڈیڑھ تا دو لاکھ پیاز کاشت کیے جاسکتے ہیں۔ واضح رہے کے کھالیوں میں منتقلی کی بجائے کھالیوں کو پانی لگانے کے فوراً بعد پیاز کی گنڈیاں منتقل کی جائیں۔ لہذا منتقلی کے ایک دن بعد اس پر ڈو آل گولڈ کا اعتشاریہ آٹھ فیصد آبی محلول سپرے کیا جائے۔ یہ فصل پیاز کی قلت کے دوران یعنی نومبر میں بطور سبز پیاز او ر دسمبر میں بطور خشک تیار ہوجاتی ہے۔ اس فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا اور پوٹاش ڈالنا بے حد ضروری امور میں سے ہے۔

بہت اگیتی کاشت کرنے کا طریقہ:

دوسراطریقہ یہ ہے کہ پھلکارہ جو لائی کے آخر میں چھ انچ اونچی ، تین مربع فٹ کی پٹٹریوں پر تین تین انچ کے فاصلے پر لکیریں لگا کر کاشت کیاجائے۔ کاشت کے فوراً بعد اسے پرالی یا سر کنڈا وغیرہ سے ڈھانپ دیا جائے۔ فوارے سے روزانہ ہلکی آبپاشی کرتے ہوئے اس کا اگاؤ مکمل کیا جائے۔ جب اگنا شروع ہوجائے تو دن کے وقت شدید دھوپ سے بچانے کے لئے کیاریوں پر پرالی یا سر کنڈا کی سر کی ڈال دی جائے اور روزانہ شام کو اتار دیاجائے۔ نرسری کے بہتر اگاؤ کے لئے کم و بیش دس دن تک یہ عمل بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دس دن بعد سایہ ہٹا دیاجائے۔ اگر مسلسل زیادہ دنوں تک پرالی یا سرکنڈا اگے ہوئے پیاز پر پڑارہے تو اسے مرجھاؤ کی بیماری (Damping off) لگ جاتی ہے۔ اگاؤ کے بعد پہلے ایک ماہ کے دوران اس پر بیماری کے خلاف کم از کم دو مرتبہ ریڈومل گولڈ یا متبادل زہر کا سپر ے ضروری ہے۔ یہ نرسری ستمبر کے دوران کیاریوں میں یا کھالیوں کے کنارے منتقل کردی جائے۔ یہ پیاز قلت کے دنوں میں دسمبر میں مارکیٹ میں آتاہے اور او نچے ریٹ پر بکتا ہے۔

مخلوط کاشت کا طریقہ:

ستمبر اکتوبر یا فروری میں وسیع پیمانے پر مخلوط کاشت کی صورت میں کماد پٹس پیاز بہت نفع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ اڑ۔ ھائی فٹ کے فاصلہ پر کھینیاں بناکر سمبر کے آخر میں کھالیوں میں کماد اور کھالیوں کے کناروں پر پیاز کاشت کردیا جائے۔ فروری مارچ کاشتہ کماد میں پیاز کاشت کرنے کا طریقہ یہ ہے۔ کہ دسمبر میں اڑھائی تا تین فٹ کے فاصلے پر کھلیاں بناکر پیاز کاشت کردیا جائے ۔ اسے فروری تک جڑی بوٹیوں سے اچھی طرح صاف رکھا جائے۔ فروری کے دوران اس کی کھالیوں میں کماد کاشت کردیا جائے ۔ جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کے لئے 800 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے ڈوآل گولڈ سپر ے کی جاسکتی ہے۔ کماد کے علاوہ مرچ ، تمباکو ، ٹماٹر، بھنڈی توری، کپاس اور دیگر کئی فصلو۔ ں کے ساتھ اس کی مخلوط کاشت کی جاسکتی ہے۔

آبپاشی:

نرسری منتقل کرنے کے بعد دسمبر سے اپریل تک پیاز کو زمین اور آب و ہو کی مناسبت سے چھ سے آٹھ مرتبہ پانی لگانے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ منتقلی کے بعد پہلی دو آبپاشیاں ایک ہفتے کے وقفے سے کی جائیں۔ فصل اگر کھالیوں پر کاشت کی گئی ہوتو پانی کسی بھی سٹیج پر ان کے اوپر نہیں چڑھنا چاہئے۔ فصل کو کسی بھی مرحلے پر بھر پور آبپاشی سے نقصان ہوسکتاہے۔ دسمبر جنوری کے دوران منتقل شدہ پیاز کو اگر فروری کے دوران سوکا (Water Stress) لگ جائے تو کنارے نکال سکتاہے۔ اس لئے کسی بھی مرحلے پر پانی کا سوکا نہیں لگنا چاہئے۔ منتقلی سے چند یو م پہلے پانی روک کر نرسری کو سخت جان بنا لیا جائے۔ تو منتقلی کے بعد اچھی نشوونما کرتی ہے۔

وقتِ کاشت اور منتقلی:

وسطی پنجاب میں بیشتر فصل اکتوبر میں کاشت کی جاتی ہے۔ وسط اکتوبر سے وسط نومبر کے دوران کاشتہ نرسری کو دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں منتقل کیاجاتاہے۔ اکتوبر میں بوئی گئی نرسری منتقل کرنے کا بہترین وقت وسط دسمبر تا آخر دسمبر ہی ہے۔ لیکن ہمارے کاشتکاری اپنے اپنے کاشتی حالات کی مناسبت سے جنوری سے مارچ تک اس کی منتقلی کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ جو کہ دوست نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پیاز کو ماہ دسمبر کے دوران ہی منتقل کیاجائے۔ اگر اکاد کا پودوں پر گنارے توڑدیے جائیں تو پیداوار میں زیادہ کمی واقع نہیں ہوتی ۔ تاہم دسمبر میں منتقل کردہ پیاز کی پیدا وار فروری میں منتقل کردہ پیاز کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔

وقتِ کاشت کے نئے افق:

حالیہ سالوں کے دوران پنجاب میں پیاز کو مختلف طریقوں سے کاشت کیاجانے لگاہے۔ اس لئے اس کے اوقاتِ کاشت بھی مختلف ہوچکے ہیں۔

زیادہ اگیتی کاشت:

جدید ٹیکنالوجی کے مطابق پنجاب میں پھلکا رہ پیاز کی کاشت جولائی اگست میں کی جاسکتی ہے۔ اسے ستمبر کے شروع میں منتقل کیاجاتاہے۔ اس موسم کی نرسری بیماری (Damping off) سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ نرسری منتقل کرنے کے بعد اس فصل پر جڑی بوٹیوں کا حملہ بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہوتاہے۔

چھوٹے پیازوں کی کاشت:

چھوٹے پیاز (Sets) حاصل کرنے کے لئے پلاسٹک شیٹ ڈال کر دسمبر جنوری میں بھی نرسری کاشت کی جاسکتی ہے۔ مئی جون میں چھوٹے پیاز اکھاڑ لئے جاتے ہیں۔ دو ماہ تک ان کو ٹھنڈی اور ہو ادار جگہ پر سٹور کیاجاتاہے۔ یہ فصل وسط اگست کے دوران منتقل کی جاتی ہے۔ اور دسمبر جنوری میں تیار ہوجاتی ہے۔

پیاز کے گٹارے (Peduncle) نکلنا:

اگر نرسری دسمبر کے دوران اگائی جائے اور اس کی منتقلی فروری کے دوران کی جائے تو گٹارے نہیں نکلتے ۔ لیکن اتنی لیٹ نرسری منتقلی کرنے کی وجہ سے پیاز کی پیداوار کم ہوجاتی ہے۔ گٹارے نکلنے کا انحصار اقسام کی بجائے آب و ہو ا پر ہوتا ہے۔ اگر اگیتی منتقلی کی جائے تو گٹارے زیادہ نکلتے ہیں۔ اکتوبر کاشتہ نرسری کو دسمبر جنوری میں ( آٹھ ہفتے کی نرسری کو) منتقل کیا جائے تو پیاز نسارو نہیں ہوتا۔ منتقلی کے بعد بڑھوتری کے دوران کم و بیش ایک ماہ تک درجہ حرار۔ ت مسلسل 4 سینٹی گریڈ یا اس سے کم رہے تو آٹھ دس فیصد پودوں پر بھولداری یا گٹارے نکل سکتے ہیں۔ اگردسمبر جنوری میں بھی درجہ حرارت 6 سینٹی گریڈ سے زیادہ ہی بر قرار رہے تو گٹارے نہیں نکلیں گے۔ عام طور پر وسط جنوری کے بعد درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجاتاہے۔ چنانچہ وسط جنوری کے بعد کی جائے تو بھی گٹارے کم نکلتے ہیں۔

کھادیں اور خوراکی اجزا:

زمین کی قدرتی زرخیزی ، وقتِ کاشت ، اقسام کی نوعیت ، طریقہ کاشت ، ذریقہ آبپاشی کی نوعیت، گوڈیوں کی تعداد، نامیاتی مادے کی مقدار ااور زمینی ساخت جیسے امور کے تغیرات کی مناسبت سے کھادوں کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ نارمل موسم میں ایک ایکڑ سے دو سومن پیاز پیدا کرنے کے لئے فاسفورس کے مقابلے میں نائٹروجن اور اور پوٹاش کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بیج والی فصل کو نائٹروجن کو مقابلے میں فاسفورس اور پوٹاش والی کھادیں زیادہ ڈالی جائیں۔

کتنی کھاد ڈالی جائے؟

بیشتر حالات میں کم از کم 25-23-32 کلوگرام فی ایکڑ نائٹروجن ، فاسفورس اور پوٹاش ڈالنے کی سفارس کی جاتی ہے ۔ کھاد کی یہ مقدار ڈی اے پی ، ایک یوریا اور ایک ایس او پی سے پوری کی جاسکتی ہے۔ دوغلی اقسام کی خوارکی ضررویات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ درمیانی اور کمزور زمینوں میں دوغلی اقسام کو 50-50-54 کلوگرام فی ایکڑ نائٹرو۔ جن، فاسفورس اور پوٹاش ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ کھاد کی یہ مقدار دو بوری ڈی اے پی ،دوبوریا اور 5 بوریا ایس اوپی یا ان کے متبادل کھادوں سے پوری کی جاسکتی ہے۔

کھاد کب ڈالی جائے؟

ایک تہائی نائٹرجن، تمام فاسفورس اور نصف پوٹاش بوقتِ کاشت ڈالی جائے ۔ بقیہ نائٹروجن میں سے ایک تہائی منتقلی کے 25 تا 40 دن کے اند ر اندر آبپاشی کے ساتھ ڈالیں۔ بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش منتقلی کے 45تا60 دن کے اندر اندر آبپاشی کے ساتھ ڈالیں۔ منتقلی کے بعد ہر قسم کی کھاد ہمیشہ اوص خشک ہونے پر ڈالی جائے۔ اسکو کیلشئم کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یوریا استعمال کرنے کے بجائے کیلشیم امونیم نائٹریٹ کھاد اس کیلئے زیادہ مفیدثابت ہوئی ہے۔ پیاز کاشت کرنے والے کاشتکاروں کی رائے یہ ہے کہ اسے بیشتر کھاد منتقل کر تے وقت ہی ڈالی جائے اور منتقلی کے بعد کم سے کم کھاد ڈالی جائے تو بیماری سے پاک رہتی ہے۔

اضافی مرکبات:

جب پیاز کی فصل پچاس ساٹھ دن کی ہوجائے تو کیلشیم امونیم نائٹریٹ کھاد اور ہیو مک ایسڈ ملا کر فرٹیگیشن کے طریقے سے دیے جائیں۔ کلر اٹھی زمین میں نومبر دسمبر میں منتقل شدہ فصل سے بہتر پیدا وار لینے کرنے کے لئے فروری یا مار۔ چ کے دوران 5 کلوگرام ہیومک ایسڈ یا 15 کلو گرام فی ایکڑ US-20 ایک بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ کے ساتھ ملا کر آبپاشی کے ساتھ دیاجائے۔ اگر پھپھوند کش زہروں کے ساتھ ملا کر امائنو ایسڈ بھی استعمال کئے جائیں تو اس کی مثالی فصل پید ا کی جاسکتی ہے۔ جس علاقے میں بار بار پیاز کے بعد پیاز ہی کاشت کیا جاتاہو وہاں نرسری منتقل کرنے کے ڈیڑھ تا دوماہ بعد چھوٹے خوراکی اجزا کا مرکب (مائکرو پاور یا اس کے متبادل) سپرے کرنے سے نہ صرف چھو۔ ٹے خوراکی اجزا کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ بلکہ پیاز زیادہ عرصہ تک سبز حالت میں رہتاہے۔ اور اس کا سائز بڑا ہوجاتا ہے۔

پیاز کی بیماریاں اور ان کا انسداد :

نرسری کو پثر مردگی (Damping off) ،منتقل شدہ پیاز کو روئیں دار پھپھوندی اور بیج والی فصل کو گردن کی سڑاندیا پرپل بلاچ (Purpliblotch) اور جھلساؤ کی بیماریاں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ پیاز کو مختلف مراحل پر بیماریوں سے بچانے کے لئے مندر جہ ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔

رسری:

گرم موسم میں کاشتہ نرسری کو نوخیز پودوں کی پثر مردگی (Damping off) کی بیماری نقصان پہنچاتی ہے۔ اس بیماری میں پیاز کے پودے اگنے کے بعد جلدی (دو ہفتے کے اندر اندر) ہی مر جاتے ہیں۔اس سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ اگیتی نرسری کاشت کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ نرسری پر سبز شیٹ کی مدد سے سائے کا انتظام کیا جائے ۔ پھپھوند کش زہر ( ٹاپسن ایم ڈائناسٹی) بیج کو لگا کر کاشت کیا جائے تواس بیماری کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوتاہے۔ نرسری مکمل ہونے کے بعد روئیں دار پھپوندی کا حملہ بھی ہوسکتاہے اس سے بچاؤ کے لئے ایگرو۔ بیٹ یا ریڈومل گولڈ ، ڈائی تین بار بدل بدل کر سپرے کریں۔

نرسری سے منتقل شدہ فصل نرسری سے منتقل شدہ فصل پر روئیں دار پھپوندی کا حملہ زیادہ ہوتاہے۔ اس بیماری میں پیاز کے پرانے پتوں کی نوکیں پیلی ہونے کے بعد خشک ہونے لگتی ہیں۔ اس بیماری سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ منتقل کرنے کے ایک ماہ بعد انٹرا کال یا ریڈومل گولڈ دو مرتبہ سپرے کی جائے۔ بیماری کی کم شدد کی صورت میں کرزیٹ 300 گرم اور ٹاپسن ایم 100 گرام یا ان کے متبادل زہریں سو لٹر پانی میں ملا کر دو تاتین مرتبہ سپرے کی جاسکتی ہیں۔ جب یہ بیماری زیادہ شدد اختیارکرتی ہے تو سڑاند یا پرپل بلاچ کا حملہ بھی ہوجاتاہے۔ اس بیماری میں پیاز کے پتوں پر بڑے بڑے داغ پڑ جاتے ہیں اور پیاز کے پتے ٹوٹ کر گرجاتے ہیں۔ پیاز کو ڈائپنی اور سڑاند سے منتقل کرنے کے 50تا90 دنوں کے دوران ایزوکسی سڑوبن پلس ڈائی فینا کو نازول ( ایی سٹارٹاپ) یا ان کے متبادل زہر سپرے کی جاسکتی ہے۔

بیج والی فصل:

بیج والی فصل کو گردن والی سڑاندیا پرپل بلاچ زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

تھرپس:

تھرپس کا بالغ کیڑا بہت چھوٹا سا ، سیاہ یا بھورے رنگ کا سلنڈر نمایا زیرے کی طرح کا ہوتاہے۔ ستمبر سے لے کر نومبر تک منتقل کیے گئے اگیتے پیاز کو یہ کیڑا نقصان نہیں پہنچاتا۔ لیکن جنوری فروری میں منتقل کی جانے والی فصل کو فروری مارچ سے لے کر فصل کے پکنے (اپریل مئی) تک نقصان پہنچاتا ہے۔ وسط مارچ سے لے کر وسط اپریل کے درمیان اس کا شدید حملہ ہوتاہے۔ اتنا چھوٹا سا ہوتاہے کہ کھلی دھوپ یا زیادہ ورشنی میں بغور مشاہد ہ کرنے سے ہی نظر آتاہے۔ بچے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں،۔ بچے اور بالغ سب نئی کونپلوں میں چھپ کرپیاز کا رس چوستے ہیں۔ ان کے شدید حملہ کی صورت میں نئے پتوں کے کچھے سے بن جاتے ہیں۔ پتوں کی شکل خراب ہوجاتی ہے۔اور نیچے کی طرف جھک جاتے ہیں۔ حملے کی وجہ سے پیاز میں گٹھیاں اور بیج نہیں بنتا ۔ تھرپس کی حملہ شدہ فصل پر بیماری کا حملہ بھی زیادہ ہوسکتاہے ۔

تھرپس کا انسداد:

اس کے ابتد ائی حملے کی صورت میں امیڈا یا کونفیڈار اور فپرونل الگ الگ یا دونوں زہریں ملا کر سپرے کی جاسکتی ہیں شدید حملہ کی صورت میں بہتر نتائج کے لئے ایک ہفتے میں دو مرتبہ سپرے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں کلورفن پائر (ایسیفیٹ) 250 گرام یا ٹریسر 40 ملی لٹر یا لیسینٹا 25 گرام یا ان کے متبادل زہریں 100 لٹر پانی میں ملاکر سپرے کی جاسکتی ہیں۔

موثر زہر پاشی کی سفارش:

دسمبر جنوری میں کاشتہ پیاز کو فروری اور مارچ کے دوران جبکہ فروری مارچ کے دوران کاشتہ پیاز کو اپریل کے دوران تین سے چار مرتبہ زہر پاشی کی ضرورت درپیش ہو سکتی ہے۔ کیڑے مار زہر کے ساتھ پھپھوندکش زہریں بھی ملا ئی جا۔ سکتی ہیں۔ کونپلوں کے اندر تک زہر پہنچا نا کافی دشوار ااور محنت طلب عمل ہو سکتاہے۔ ہالوکون ٹوزل لگاکر تسلی بخش طر۔یقے سے پیاز کی کونپلوں میں سپرے کیے بغیر تھرپس کا پورا انسداد ممکن نہیں ہوتا۔

جڑی بوٹیاں او ر ان کا انسداد:

وقتِ کاشت اور علاقے کی مناسبت سے گرمی اور سردی والی جڑی بوٹیاں نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ دسمبر جنوری میں منتقل کیے گئے پیاز کو جنگلی ہالوں، جنگلی پالک، جنگلی چولائی، قلفہ، ہاتھو، دمبی سٹی اور کرنڈ وغیرہ زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ ستمبر اکتوبر میں منتقل شدہ پیاز کو اٹ سٹ، ڈیلا لمب گھاس، سوانکی، مدھانہ، بھوئیں اور کرنڈ وغیرہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کی تلفی کے لئے اگاؤ سے پہلے یا اور اگاؤ کے بعد مناسب جڑی بوٹی مار زہر سپرے کرنے کے ایک ماہ بعد کمازکم ایک مرتبہ گوڈی کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کے گوناں گوں مسائل کی مناسبت سے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔

اگاؤ سے قبل سپرے:

اگاؤ سے قبل پینڈی میتھالین یا ایس میٹو لا کوریا ڈوآل گولڈ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس دونوں میں سے کونسی زہر سپرے کی جائے؟ وقتِ کاشت اور جڑی بوٹیوں کی نوعیت کی مناسبت سے اس امرکی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

اگیتی فصل کو جڑی بوٹیوں سے کیسے بچایا جائے؟

جولائی سے لے کر اکتوبر کے درمیان منتقل کیے جانے والے اگیتے پیاز کو ڈیلا، سوانکی، تاندلہ اور اٹ سٹ جیسی جڑی بوٹیاں زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ ان سب کی تلفی کے لئے ڈوآل گولڈ 700 ملی لٹر فی ایکڑکے حساب سے سو لٹر پانی ملا کر نرسری منتقل کرنے کے ایک دن بعد (مناسب انتدائی تربیت لینے کے بعد) پیاز سمیت تمام کھیت میں سپرے کردی جائے۔ اگر ڈیلے اور تاندلے کا مسئلہ نہ ہو اور صرف اٹ سٹ اور سوانکی کا مسئلہ ہو تو اگیتی فصل میں بھی ڈوآل گولڈ کی بجائے پینڈی میتھالین (1000 ملی لٹر) استعمال کی جاسکتی ہے۔اگیتی فصل پر ڈوآل گولڈ کا منفی اثر زیادہ ہوتاہے۔ زہروں کی اثر سے بچ جانے والی اکاد کا جڑی بوٹیوں کی تلفی اور جڑوں کی ہواداری کیلئے سپرے کرنے کے ایک ماہ بعد گوڈی بھی کردی جائے۔ اگر زہر کا اثر ختم ہونے کے بعد کچھ جڑی بوٹیاں دوبارہ نکل آئیں تو حسب ضرو۔ رت دوسری گوڈی کا بھی بندبست کیا جائے۔

موسمی فصل کو جڑی بوٹیوں سے کیسے بچایا جائے؟

سردیوں کی فصل پر ڈوآل گولڈ کا منفی اثر کم ہوتاہے۔ اس لئے دسمبر یاجنوری میں منتقل کی جانے والی فصل کے لئے ڈو آل گولڈ یا پینڈی میتھالین میں سے کوئی ایک استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس موسم میں گرمیوں کے مقابلے میں دونوں زہروں کی زیادہ مقدار ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ چنانچہ ڈوآل گولڈ 800 ملی لٹر یا پینڈی میتھالین 1200 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سو لٹر پانی ملا کر نرسری منتقل کرنے کے ایک دن بعد سپرے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے ۔جڑوں کی ہواداری اور بچ جانے والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے ضروری ہے کہ سپرے کرنے کے ڈیڑھ ماہ بعد ایک مرتبہ گوڈی بھی کر دی جائے ۔

Sets والی فصل کو جڑی بوٹیوں سے کیسے بچایا جائے؟

اگست میں چھوٹے پیازوں (Sets) والی فصل منتقل کرنے سے پہلے آبپاشی کردی جائے اوت چھوٹے پیاش لگا۔ دیے جائیں۔ آبپاشی کے ایک دن بعد گیلے وتر میں زمینی ساخت کی مناسبت سے ڈوآل گولڈ 700 تا 800 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سو لٹر پانی ملا کر سپرے کر دی جائے۔ اگر کھیلیوں کی چونیوں پر چوڑے پتوں والی جری بوٹیا۔ ں بچ گئی ہو تو اس سرے کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر 300 ملی لٹر آکسی فلورفن ( آکسیجن یا ٹT کسی فن) سولٹر پانی ملاکر سپرے کی جاسکتی ہے۔ سپرے کرنے کے ایک تا ڈیڑھ ماہ بعد ایک مرتبہ گوڈی بھی کردی جائے تو یہ فصل ہر قسم کی جڑی بوٹیوں سے بچ جاتی ہے۔

اگاؤکے بعد سپرے:

اگاؤ کے بعدآکسیجن فلورفن (کسی فن)، فینوکساپراپ یا پیوکساڈین (ایگزیل) وغیرہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ان زہروں کے استعمال کرنے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ اگر منتقلی کے وقت کوئی بھی زہر سپرے نہ کی جاسکی ہو اور پیاز میں چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں اگ چکی ہوں تو آکسی فلورفن (آکسی فن) گرمیوں میں 300 ملی لٹر اور سردیوں میں 400 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے منتقل کرنے کے بعد تین تا چار ہفتے کے اند ر اندر سپرے کی جاسکتی ہے۔ اگر صرف گھاس خاندان کی جڑی بوٹیوں کا مسئلہ ہوتو پیوکساڈین (ایگزیل) 300 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سو لٹر پانی ملا کر سپرے کی جاسکتی ہے۔ اگر پیاز میں ہر قسم کی جڑی بوٹیاں اگ چکی ہوں تو مزکورہ دونوں اقسام کی زہریں ملاکر سپرے کرنے کے بجائے ہفتے بھر کا وقفہ کرکے الگ الگ سپرے کی جاسکتی ہیں۔

ڈیلا کیسے ختم کیا جائے؟

گرمیوں میں کاشتہ پیاز کوڈیلا شدید نقصان پہنچاتاہے۔ اگنے کے بعد زہروں کی مدد سے پیاز میں سے ڈیلے کو پوری طرح کنٹرول کرنا کافی مشکل ہے۔ڈیلا کنڑول کرنے کے لئے ہیلو سلفیوران یا گلائی فوسیٹ مندرجہ ذیل حالات میں استعما ل کی جاسکتی ہیں۔

ہیلو سلفیوران:

اگر پیاز کاشت کرنے سے پہلے سابقہ فصل مکئی کاشت کی گئی ہو اور اس مکئی میں ہیلو سلفیوران 15 تا 20 گرام فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی گئی ہو تو بیشتر ڈیلا گٹھیوں سمیت تلف ہوجاتاہے۔ مئی بعد اگست سے دسمبر تک کسی وقت پیاز کاشت کیا جائے تو ڈیلے سے بچا رہتاہے۔

گلائی فوسیٹ:

کھیت کو ڈیلے سے پاک کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کاشت سے 40 دن پہلے خالی کھیت میں ڈیلا اگاکر اس پر راونڈاپ یا گلائی گوسیٹ ڈیڑھ تا دولٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی جائے ۔ سپرے کاعمل تین ہفتے تک ڈیلا اگانے کے بعد وتر حالت میں کیا جائے ۔ سپرے شدہ کھیت دو سے تین ہفتے تک وتر قائم رکھا جائے ۔ ڈیلے کی زیرِ زمین گٹھیون تک بہتر سرایت پزیری کے لئے وتر قائم رکھنا ضروری ہے۔ سپرے کرنے کے ایک تا ڈیڑھ مہینہ بعد زمین تیار کرکے ڈیلے سے مبرا (Deela Free) کھیت میں پیاز کاشت کیے جاسکتے ہیں۔

پیاز پر زہریں کس حد تک محفوظ ہیں؟

گرمی کاشتہ پیاز پر زہریں کم محفوظ ہیں لیکن سردیوں کی فصل ان کے منفی اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہتی ہے۔

پینڈی میتھالین:

مجموعی طور پر پینڈی میتھالین زہر ڈوآ ل گولڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔ اٹ سٹ اور سوانکی ، مدھانہ جیسی موسمی جڑی بوٹیاں اگنے کا امکان ہوتو پینڈی میتھالین کو ترجیح دی جائے۔ یہ زہر گرمیوں اور سردیوں میں کاشتہ پیاز پر یکسا۔ ں محفوظ ہے۔ تاہم چھوٹی عمر کی یا دو دو پتوں والی نرسری سے کاشتہ فصل متاثر ہوتی ہے۔ یہ زہر پیاز کی نرسری کی بجائی کے وقت استعمال نہیں کی جاسکتی ۔

آکسی فلورفن:

پیاز میں اٹ سٹ اور سوانکی، مدھانہ جیسی موسمی جڑی بوٹیاں اگنے کا امکان ہو تو اکسی فلورفن (آکسی فن،T آکسیجن یا ہدف) گرمیوں میں 300 اور سردیوں میں 400 ملی لٹر پینڈی میتھالین کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے نرسری منتقل کرنے کے ایک دن بعد سپرے کی جائے تو محفوظ ثابت ہوتی ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ زہر نہ صر ف پینڈی میتھالین کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے بلکہ جڑی بوٹیوں کے گاؤ کے بعد بھی سپرے کی جاسکتی ہے۔ بیز بیج والی فصل اور چھوٹے پیازوں (Sets) والی فصل پر یہ زہر کافی حد تک محفوظ ثابت ہو تی ہے۔ لیکن گرم موسم میں منتقل شدہ پیاز پر نئی کونپلیں نکلنے کے بعد سپرے کی جائے۔ تو پتوں کو معمولی نقصا۔ ن پہنچاتی ہے۔ پیاز کی نرسری میں اس زہر کا محتاط استعمال ابتدائی تربیت کے بعد ہی کیا جاسکتاہے۔

ایس میٹولا کلور:

اگر پیاز میں ڈیلا یا تاندلہ اگنے کا قوی امکان ہو تو اضطرارا ڈوآل گولڈ یا ایس میٹو لا کلور سپرے کی جاسکتی ہے۔ یہ زہر پیاز کی ابتدائی نشوونما کوروکتی ہے۔ دسمبر جنوری میں منتقل شدہ فصل کے مقابلے میں گرمیوں والی فصل اس زہر سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔اسی طر ح چھوٹی عمرکی یا دودو پتوں والی نرسری کے مقابلے میں چار چار پتوں پر مشتمل زیادہ عمر کی نرسری کم متاثر ہوتی ہے۔

برداشت اور سنبھال :

وسطی پنجاب کی جنوری میں منتقل کی گئی فصل مئی میں برداشت کی جاتی ہے۔ جبکہ جولائی کاشتہ خزاں کی فصل نومبر دسمبر میں تیارہوجاتی ہے۔ جب پیاز کے تنے خشک ہو کر گرجائیں تو اسے اکھاڑ لیا جائے ۔ اگر تنے گرنے سے پہلے ہی اکھاڑ لیا جائے تو کٹائی کے بعد نئی پھوٹ نکل آتی ہے جو پیاز کا معیار خراب کرتی ہے۔ فصل کو اچھی طرح پکا کر اکھاڑ ا جائے تو پھوٹتانہیں اور پیاز کو زیادہ عرصہ کے لئے سٹور کیاجاسکتاہے۔ پیاز اکھاڑنے کے بعد ایک دو دن کے لئے سایہ دار جگہ میں خشک کیا جائے پھر اس کے پتوں کی کٹائی کی جائے ۔ اکھاڑ نے کے بعد اسی روز کٹائی نہ کی جائے۔سخت اور بھاری میرا زمین میں پیاز اکھاڑنے کا عمل درمیانے یا کم وتر میں کھرپے کی مدد سے کیا جائے۔ اسی طرح گیلے وتر میں اکھاڑ ا گیا پیاز جلدی خراب ہوسکتاہے۔ کٹائی کے بعد چار انچ یا اس سے چھوٹی تہہ کی صورت میں سایہ دار جگہ پر سٹور کیا جائے ۔

پیداوار:

مجموعی طور پر پاکستان کی اوسط پید اوار بہت کم ہے ۔ دیسی پیاز کی عمومی پیداوار ڈیڑھ تا دو من او ر بیج کی 3تا4 من فی ایکڑ تک ہوجاتی ہے۔ لیکن بہتر کاشت اور ساز گارموسمی حالات کی بدولت 300 من پیاز یا 5تا7 من بیج فی ایکڑ حاصل کیا جاتا سکتا ہے۔ پیشہ ورانہ طریقے سے کاشت کیا جائے تو دوغلی اقسام کا پیاز 500 تا 600 من فی ایکڑ پیداوار دے سکتاہے۔ حالیہ سالوں کے دوران دیسی اقسام کی کاشت بہت محدود ہوتی جارہی ہے ۔وسیع پیمانے پر کاشت کرنے کے لئے بیشتر کاشتکار صرف دوغلی اقسام ہی کاشت کرتے ہیں۔

مارکیٹنگ ، ترسیل اور قیمت کا اتار چڑھاؤ:

پاکستان کی پیداوار میں پنجاب کی فصل کا حصہ تقریباً25 فیصد ہے ۔ مارکیٹ میں وسیع پنجاب کے پیاز کی آمد اپریل مئی سے جون تک جاری رہتی ہے اور اکثر اس فصل کا ریٹ کم ہوتاہے اور کافی اچھے ریٹ پر بکتاہے ۔ بلو چستان کی فصل کی حصہ 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ بلو چستان میں فروری مارچ میں براہ راست پیاز ہوتے ہیں جو ستمبر سے لیکر نومبر تک مارکیٹ کو کنڑول کرتاہے۔سند ھ کی پیداوار کا حصہ تقریباً 40 فیصدہے۔ سندھ میں اگست میں منتقل کرتے ہیں جودسمبر میں تیار ہوجاتاہے۔ یہ فصل دسمبر سے لیکر مارچ تک مارکیٹ کو کنڑول کرتی ہے۔ وسط نومبر اور دسمبر کے درمیان پیاز کی قلت ہوجایا کر تی تھی لیکن بھارت سے درآمد کی وجہ سے حالیہ سالوں کے دوران اس عرصہ میں بھی پیاز کی قلت نہیں رہی۔ گویا پنجاب کے کاشتکار بہت اگیتی کاشت یا چھوٹے پیازوں والی کاشت سے بھی منافع نہیں کماسکیں گے۔

پیداواری مسائل:

اس کے اہم پیداواری مسائل میں جڑی بوٹیاں، بیماری (پرپل بلاچ) موسم وآب و ہو اکی ناسازگاری، غیر مستحکم مارکیٹ یا قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ، کھادوں کا غیر متناسب اور سٹوریج کی سہولتوں کا فقدان وغیرہ شامل ہیں۔

پیاز کا بیج بنانا:

وسطی پنجاب میں پیاز کا بیج بنانے میں بیماری ( پرپل بلاچ ) کافی بڑی روکاوٹ ہے۔ کسی سال موسم ساز گار رہے۔ تو پیاز کا بیج کافی مقدار (5 تا 7 من فی ایکڑ) میں پیدا ہوجاتاہے۔ بیج پیدا کرنے کیلئے شروع دسمبر میں پیاز لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ بجائی سے قبل تیز چاقویا چھری سے چوٹی سے پیاز کا ٹ کر بویا جائے تو اگاؤ بہتر ہوجاتاہے۔ نومبر کاشتہ اگیتی فصل پر بیماری (پرپل بلاچ) کا حملہ زیادہ شدت کے ساتھ ہوتاہے۔ لیکن دسمبر کاشتہ پیاز پر یہ بیماری کم آتی ہے۔ بیج والی فصل کاشت کرنے کے لئے علاقے کی مناسبت سے مقامی اقسام کی ضرورت ہوتی ہے۔ وسطی پنجاب می سوات۔1 کے مقابلے میں پھلکارہ اور دیسی سرخ زیادہ کامیابی کے ساتھ بیج پید ا کرسکتے ہیں۔ بیج کی بھر ۔ پور پیداوار حاصل کرنے کے لئے ایک ایکڑ میں درمیانہ سائز (40 تا 50 گرام) کے 18 تا 20 من یا 20 تا 22 ہزار پیاز ہونے ضروری ہیں۔بیج والے پیاز کاشت کرنے کے لئے لائنوں کا فاصلہ دو تا اڑھائی فٹ اور پودوں کا نو دس انچ رکھاجائے ۔ جب پیاز کی بیج والی ڈنڈیاں گنارے پوری طرح نکل آئیں تو پیاز کو مٹی چڑھادی جائے ۔ اگر مٹی نہ چڑھائی جائے تو پیاز کے گنارے پھولداری کے بوجھ سے گر سکتے ہیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے ڈوآل ۔ گولڈ 800 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سو لٹر پانی ملا کر کاشت کرنے کے ایک دن بعد پیاز سمیت تمام کھیت میں سپرے کی جاسکتی ہے۔ اگر منتقلی کے وقت کوئی بھی زہر سپرے نہ کی جاسکی ہو اور پیاز میں چوڑے پتو ں والی جڑی بو۔ ٹیاں اگ چکی ہوں تو آکسی فلورفن(آکسی فن) 400 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے منتقل کرنے کے بعد تین تا چار ہفتے کے اند ر اندر سپرے کی جاسکتی ہے۔ کیڑے (تھرپس) سے بچانے کے لئے موزوں زہروں کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ بیج والی فصل پر پرپل بلاچ کی بیماری شدید حملہ کرسکتی ہے۔ یہ بیماری بیج والی ڈنڈی ( Penduncle) پر ہلکے جامنی رنگ کے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور پیاز کی فصل بیج پیدا نہیں کرسکتی ۔ اس بیماری کے لئے انتیس درجے سینٹی گریڈ اور نمی کا تناسب پچاس فیصد انتہائی سازگارہے۔ایسا موسم اکثر مارچ کے مہینے میں ہوتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ کاشت کرتے وقت پیاز کو ٹاپسن ایم کے تین فیصد محلول میں ڈبو کر لگایا جائے۔ فروری اور مار چ کے دوران جب اس بیماری کے شدید حملے کی توقع ہوتی ہے۔ اس وقت کر زیٹ 300 گرام اور ٹاپسن ایم 100گرام دونوں زہریں سو لٹر پانی میں ملا کرہفتے ہفتے کے وقفہ سے تین سے پانچ مرتبہ سپرے کی جائے تو بیج والی فصل اس بیماری سے کافی حد تک بچھی رہتی ہے۔

معیاری پیاز کا حصول کیسے ممکن ہے؟

معیاری پیداوارحاصل کرنے کے لیے مناسب بیج کا انتخاب اولین شرط ہے۔ اگر بیج کا درست انتخاب نہ ہو تو بیشتر پیاز گنارے نکال کر ضائع ہوسکتاہے۔ مثلاً لمبے دنوں میں پیاز گنارے والی اقسام جو سوات، کوئٹہ اور مری سائیڈ میں لگائی جاتی ہیں وہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں لگائی جائے تو وہ پیاز نہیں بنائیں گی ۔ اسی طرح زیادہ عمر کی نرسری بھی مناسب سائز کے پیاز نہیں بناسکتی ۔ زیادہ عمر کی نرسری منتقل کی جائے تو پیاز نسارو ہو سکتاہے ۔ ڈیڑھ ماہ کی نرسری منتقل کردی جائے ۔ علاقے کی مناسبت سے اقسام منتخب کی جائیں۔ زیادہ اگیتا (دسمبر کے شروع میں) منتقل شدہ پھلکارہ پیاز تو یقینی اور پردس فیصد تک نسارو ہوتاہے۔

پیداوری عوامل کا حصہ:

اہم پیداواری عوامل کے اخراجات میں کھادوں و آبپاشی کا حصہ تقریباً 25 فیصد ، زمینی تیاری و بیج یا نرسری و کاشت کا 25 فیصد ،کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کا 25 فیصد ، فصل کی برداشت اور مارکیٹنگ کا 25 فیصد بنتاہے ان اخراجات میں زمین کا ٹھیکہ شامل نہیں ہے۔

پیداواری اخراجات اور آمدن:

موجودہ پیداواری حالات کے دوران ذاتی زمین کی صورت میں پیاز پیدا کرنے کا فی ایکڑ خرچ 66 ہزار (وسطی اور جنوبی پنجاب کے 1 تا 10 ایکڑ والے ایسے کاشتکار جن کو نصف مقدار نہری پانی بھی دستیاب ہو اور بعض ناگزیر اطلاقی اخراجات بھی شامل کریں تو زمینی تیاری و کاشت 10000، بیج ( ہائی برڈ) 10000، کھادیں 20000 ، پانی 3000، گوڈی و جڑی بوٹیوں کی تلفی 5000، کیڑے 1000، بیماری 1000 برداشت 7000، ٹرانسپورٹ 7000، متفرق 2000، کل 66,000) روپے بنتاہے ۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget