کالم لسٹ "کاشتکاری"

مرچ عام طور پر دو اقسام کی ہوتی ہے۔ ایک میٹھی مرچ جس کو شملہ مرچ بھی کہا جاتا ہے اور دوسری تم  کڑوی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس کی کاشت چاروں صوبوں میں کی جاتی ہے۔ آب و ہوا  مرچ معتدل آب و ہوا کو پسند کرتی ہے اس کے پودے سردی کے مہلک اثرات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ 

وقت کاشت 

میدانی علاقوں میں جہاں کورا پڑنے کا خطرہ ہے مرچ کی پنیری اکتوبر اور نومبر میں کاشت کی جاتی ہے جبکہ پودوں کو کھیت میں وسط فروری یا پھر مارچ کے شروع میں جب کورے کا خطرہ جاتا ہے تقل کیا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں پنیری کی کاشت دمبر، جنوری اور فروری کے مہینے میں کی جاتی ہے اور پھر کھیت میں منتقلی اپریل، مئی میں کی جاتی ہے۔ 
250 گرام سے 300 گرام تک صحت مند نے ایک ایکڑ کی پنیری تیار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 
الوگی ، کیلا مرچ، تلہار، دولی اقسام پی۔ اور پی ۔ ۲۱۰ قابل ذکر ہیں۔ 

زمین اور زمین کی تیاری 

مرچ ہو تم کی زمین پر کاشت کی جاسکتی ہے۔ مرچ کی کامیاب کاشت کے لیے زمین کا نرم اور ہموار ہونا ضروری ہے۔ ایک دفعہ زمین پلنے والا ہل چلائیں گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب 8 سے 10 ٹن فی ایکڑ اور ڈی اے پی کھاد ایک بوری ڈال کر تین دفعہ ہل چلائیں اور سہاگہ پھیر کر زمین کو چھوڑ دیں۔ 

طریقہ کاشت 

پہلے سے تیار کھیت میں 60 سے 75 سینٹی میٹر کے فاصلے پراٹھیاں بنائیں۔ ان ٹھوں پر دونوں اطراف میں 30 سینٹی میٹر سے 45 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پیری کھیت میں منتقل کریں۔ پنیری اگر شام کے وقت لگائی جائے تو ان کی نشوونما بہتر طور پر ہوگی ۔ پیری منتقل کرنے کے بعد کھیت کو پانی دیں۔ مرچ کے پودے کھڑے پانی میں لگانے سے پودوں کو جڑ کی پیاری لگنے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے پانی میں پودے لگائیں۔ 

کھاد کا استعمال 

پودوں کو کھیت میں منتقل کرنے کے تقریبا 45 دن بعد جب پودے اچھی طرح جڑ پکڑ لیں اور پھول آنے شروع ہو جائیں تو اس وقت مٹی چڑھانے کے ساتھ آ دھی بوری یوریا کھیت میں ڈالی جائے۔ بعد میں تقریبا ہر چنائی کے بعد یمل دہرایا جائے۔ 

آبپاشی 

پودوں کے اچھی طرح جڑ پکڑنے تک ہفتہ وار پانی دینا چاہیئے بعد میں موسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے 6 سے 8 دن یا پھر بہت ہی زیادہ گرم موسم میں 4 سے 5 دن وقفہ کر دیا جائے۔ گوڑی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ پودوں پر گوڈی کر کے اتنی مٹی چڑھادینی چاہئے کہ پانی پودوں تک براہ راست نہ سکے بلکہ صرف وتریانم پہنچے۔ وقت برداشت جب پھل کا سائز مناسب ہو جائے تو چنائی کریں۔ پھل توڑ کر اس کو کسی سایہ دار جگہ پر رکھ کر کسی گیلے کپڑے یا کی بوری سے ڈھانپ دیں تا کہ اس کی تازگی برقرار رہے۔ سرخ مرچوں کے لیے گہرے سرخ رنگ کی مرچیں توڑ کر سائے میں خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔ 

قرضہ فنی مشاورت: 

زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کسان بھائیوں کو مری کی کاشت کے لئے قرضہ فراہم کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے حلقہ کے موبائل کریڈٹ آفیسر سے رابط قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ شعبہ زری نگین و بی زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ ہیڈ آفس اسلام آباد کسانوں کوفی و نیکی ہواست بھی فراہم کرتا ہے۔ مرچ کی کاشت کیلئے ہمارے زرعی ماہرین سے بذریہ خط درج ذیل پتہ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پسند کاشتکار جو اپنے تجربات سے دوسرے کسان بھائیوں کو مستفید کرنا چاہتے ہوں ۔ میں اپنے تجربات سے تحریری طور پر آگاہ کریں تا کہ ان کے تجربات سے دوسرے کسان بھائیوں کو بھی آگاہ کیا جا سکے۔

ساگوان کیا ہے؟
ساگ (ٹیکٹونا گرینڈیز) ایک ایسا درخت ہے جس کی سخت لکڑی دنیا کی نمبر لڑکی مان جاتی ہے۔ ساگوان جو کے درختوں کی وہ نسل ہے جو پھولوں والے پودوں کے خاندان لامیسی سے تعلق رکھتی ہے۔  ساگوان کی لکڑ ی مشرق و مغرب میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے. ساگوان کی کچھ شکلیں برمی ساقی ، وسطی صوبہ ساگ (سی پی ساگ) ، نیز ناگپور ٹیک کے نام سے مشہور ہیں۔ گرینڈس ایک بہت بڑا ، تیز دار درخت ہے جو مخلوط لکڑی کے جنگلات میں ہوتا ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ، خوشبودار سفید پھول ہیں جو شاخوں کے آخر میں گھنے جھنٹوں (پینلز) میں ترتیب دیئے گئے ہیں۔ یہ پھول دونوں طرح کے تولیدی اعضاء (کامل پھول) پر مشتمل ہیں۔ ساگون کے درختوں کے بڑے ، کاغذی پتے اکثر نچلی سطح پر بالوں والے ہوتے ہیں۔ ساگون کی لکڑی میں چمڑے کی طرح کی بو ہوتی ہے جب اس کی تازہ گھسائی ہوتی ہے اور اس کی استحکام اور پانی کی مزاحمت کے لیے خاص طور پر اس کی قدر ہوتی ہے۔ لکڑی کا استعمال کشتیوں کی عمارت ، بیرونی تعمیر ، پوشاک ، فرنیچر ، نقش و نگار ، موڑ اور لکڑی کے دوسرے چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس لکڑ سے فرنیچر، دروازے، فرش، خاص طور پر کشتیاں اور جہاز وغیرہ بنائے جاتے ہیں. پانی، دھوپ، دیمک، گُھن، گویا کسی بھی طرخ کے حالات میں یہ لکڑ خراب نہیں ہوتی. بعض محققین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس کی لکڑ دو ہزار سال تک اپنی اصل حالت برقرار رکھتی ہے.

ساگوان کا پودا کتنے سالوں میں فروخت کے قابل ہو سکتا ہے؟

بتایا جا رہا ہے کہ ساگوان کی ہائبرڈ قسم دس سال کی عمر میں بیچنے کے قابل ہو جاتی ہے. دس سال سے پہلے اگر آپ یہ درخت کاٹیں گے تو آپ کو خاطر خواہ منافع نہیں ملے گا. کیونکہ ایک تو آپ کو لکڑ کم حاصل ہو گی اور دوسرے لکڑ کی کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں ہوگی.
اس سے پہلے ساگوان کا درخت 25 سال میں جوان ہوتا تھا. لیکن ساگوان میں عملی تجربہ رکھنے والے حضرات کا دعوی ہے کہ بھارت کے سائنس دانوں نے مختلف تجربات کر کے ساگوان کی ایک ایسی نسل (نیلمبر ساگوان ہائبرڈ) تیار کر لی جو محض 10 سال میں ہی جوان ہو جاتی ہے. اور ساگوان کی یہی قسم ان کے پاس ہے جو بھارت سے منگوائی گئی ہے.

ساگوان کا درخت کہاں کہاں لگایا جا سکتا ہے؟

ساگوان کی حمائیت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ساگوان کی نیلمبر قسم اسلام آباد ،کراچی، گوادر، ٹھٹہ، بدین، پسنی، خیر پور، کشمور، بھمبر، کوٹلی سمیت پنجاب کے تمام اضلاع، سندھ کے تمام اضلاع، خیبر پختونخواہ کےتمام اضلاع حتی کے بلوچستان کے کم گرم اضلاع میں کامیابی سے لگائی جا سکتی ہے. ساگوان میرا زمین میں زیادہ کامیاب ہے. خاص طور پر ایسی میرا زمین جو قدرے ریتلی ساخت کی طرف مائل ہو وہاں یہ درخت زیادہ خوش رہتا ہے کیونکہ یہ درخت اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ پانی اس کی جڑوں کے آس پاس زیادہ دیر کھڑا رہے. یہی وجہ ہے کہ کلر والی زمینیں جہاں پانی کا نکاس کم ہو تا ہے وہاں یہ پودا نہیں لگایا جا سکتا.

پودے سے کتنی لکڑی حاصل ہوتی ہے؟

دس سال کے پودے سے 15سے 25 مکعب فٹ لکڑی حاصل ہو سکتی ہے.

ساگوان کے پودے کہاں سے ملیں گے اور قیمت کیا ہو گی؟

میری معلومات کے مطابق آپ کو ساگوان کے پودے اسلام آباد سے مل سکتے ہیں. فی پودا قیمت 500 روپے بتائی جا رہی ہے.

ایک ایکڑ میں کتنے درخت لگائے جا سکتے ہیں اور خرچ کتنا ہو گا؟

عام طور پر ایک ایکڑ میں 500 درخت لگائے جاتے ہیں. ہر پودا دوسرے پودے سے تقریباََ 9 تا 10 فٹ کے فاصلے پر ہونا چاہیئے. ایک ایکڑ میں 500 سے زیادہ درخت لگانے کی صورت میں درختوں کی موٹائی مناسب نہیں ہوگی.
500 درخت لگانے کے لئے نرسری پر آپ کا خرچہ تقریباََ اڑھائی لاکھ روپے آئے گا

500 درختوں سے کتنی آمدن ہو گی؟

آمدن کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ساگوان کی لکڑ بازار میں کس قیمت پر فروخت ہوتی ہے.
راقم نے شہر فیصل آباد میں ساگوان کا ریٹ معلوم کرنے کے لئے خود مارکیٹ کا دورہ کیا اور لکڑ کے بڑے بڑے سٹوروں سے معلومات حاصل کیں۔ ساگوان کی قیمت کے متعلق جو معلومات حاصل ہوئیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں۔
فیصل آباد کی مارکیٹ میں چار قسم کی ساگوان لکڑی فرووخت ہو رہی ہے۔ اور اس کے ریٹ درج ذیل ہیں۔
نمبر 1. برما کی ساگوان قیمت 15 ہزار فی مکعب فٹ
نمبر 2. برونائی کی ساگوان . . . قیمت 9 ہزار 5 سو روپے فی مکعب فٹ
نمبر 3. افریقہ کی ساگوان . . . قیمت 4 ہزار روپے فی مکعب فٹ
نمبر 4. برازیل کی ساگوان . . . قیمت 3 ہزار روپے فی مکعب فٹ
واضح رہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام ساگوان لکڑ باہر کے ممالک سے آتی ہے. ساگوان کی پہچان رکھنے والے بتاتے ہیں کہ برازیل، افریقہ اور برونائی کی ساگوان میں ساگوان کی خوبیاں نہیں پائی جاتیں یہ محض نام کی ہی ساگوان ہیں. اصل ساگوان کی پہچان یہ ہے کہ جب آپ لکڑی پر ہاتھ پھیریں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس لکڑی کو سرسوں کے تیل میں بھگو کر خشک کیا گیا ہو.

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں سے آنے والی ساگوان کا ریٹ اتنا مختلف کیوں ہے؟

اس کی وجہ ظاہر ہے کہ لکڑ کی کوالٹی ہے. اور لکڑ کی کوالٹی کا دارومدار ساگوان کی نسل اور ہر ملک کی اپنی آب و ہوا پر ہے. پاکستان میں پیدا ہونے والی لکڑ کی کوالٹی کیا ہو گی اور یہ کتنے میں بکے گی؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از قت ہے. زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں لگنے والے پودوں کا برما ساگوان سے قریبی تعلق ہے لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی ساگوان لکڑ، افریقہ اور برازیل کی ساگوان سے بہتر ہو گی. اور اس کا کم از کم ریٹ چھ سات ہزار سے اوپر جائے گا.
ساگوان کے درختوں سے آمدن کا حساب لگانے کے لئے ہم پاکستانی ساگوان کی تھوک قیمت اگر 5 ہزار روپے فی مکعب فٹ فرض کر لیں تو تو پھر بھی ایک درخت کی 15 مکعب فٹ لکڑی سے 75ہزار کی آمدن ہو گی.
بعض لوگ یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ 10 سال بعد ساگوان کا درخت دو لاکھ میں بکے گا.
اس حساب سے اگر آپ کا ایک درخت 75 ہزار میں بھی بکے تو آپ کے 500 درخت پونے چار کروڑ میں بکیں گے.
پونے چار کروڑ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر حساب لگایا جائے تو آپ کی ماہانہ آمدن 3 لاکھ ساڑھے 12 ہزار روپے ہو گی.
واضح رہے کہ ہم نے احتیاطاََ کم سے کم لکڑ اور کم سے کم قیمت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ حساب لگایا ہے. آپ کی آمدن اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے.

یہ درخت کس موسم میں لگایا جا سکتا ہے؟

ساگوان کا درخت موسمِ بہار یعنی فروری مارچ اور اگست ستمبر کے مہینوں میں لگائے جا سکتے ہیں. لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے موسم بہار میں لگایا جائے.

پاکستان میں ساگوان کے درخت لگانے سے متعلق ماہرِ جنگلات کیا کہتے ہیں؟ 

راقم نے جنگلات کے شعبہ میں تحقیق کرنے والے ماہرین سے بھی ساگوان کی کاشت کے متعلق رائے لینے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں دو الگ الگ ماہرین سے رابطہ کیا گیا.
ماہرین نے بتایا کہ چھانگا مانگا اور فیصل آباد کے گٹ والا پارک میں ساگوان کے درخت لگے ہوئے ہیں جو کہ جوان ہو چکے ہیں. لیکن یہ کتنے سالوں میں جوان ہوئے ہیں اور ان سے کتنی لکڑ حاصل ہو گی اور حاصل ہونے والی لکڑ کی کوالٹی کیا ہوگی؟ اس بارے میں کوئی تحقیق ان کے علم میں نہیں ہے.
دونوں ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں ساگوان کی کاشت پر کوئی بھی تحقیق غالباََ نہیں ہوئی.ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں ساگوان کی کاشت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں سکتے کیونکہ ساگوان کے درخت کو بڑھنے کے لئے ہوا میں جس قدر نمی چاہئے وہ پاکستان کے ماحول میں نہیں ہے. اس لئے بقول ان کے ساگوان پاکستان میں کاروباری مقاصد کے لئے کامیابی سے اگا نا مشکل ہے. البتہ ماہرین نے ساگوان کی نئی ورائٹی سے متعلق کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کیا.

ماہرین کی رائے پر ساگوان کے پودے فراہم کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

ساگوان کے پودے فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ روائتی طور پر ساگوان کا درخت پاکستان میں نہیں لگایا جا سکتا تھا لیکن یہ باتیں اب پرانی ہو چکی ہیں.
وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ساگوان کی ایک جدید اور ہائبرڈ قسم ہے جسے نیلمبر ساگوان کہتے ہیں. اور یہ نئی قسم پاکستان کے گرم اور کم نمی والے علاقوں میں کامیابی کے ساتھ اگائی جا سکتی ہے.

کسان بھائیوں کے لئے کیا مشورہ ہے؟

کسان بھائیوں کے لئے مشورہ یہ ہے کہ اگر وہ اس کاروبار میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پہلے پندرہ بیس پودے تجرباتی طور پر لگا لیں. اور دو سال ان پودوں کا مشاہدہ کریں. اگر تو ساگوان کے پودے کا قد دو سالوں میں آٹھ دس فٹ تک پہنچ جاتا ہے تو مزید درخت لگانی کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے.
راقم کاشتکار حضرات کے لئے نیک تمنائیں رکھتا ہے.

ساگوان اور پودوں کے حصول کے متعلق معلومات میں اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو نیچے دئیے گئے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں.
موبائل نمبر 03336195522
ساگوان کے پودے بیچنے والوں کا راقم یا ایگری اخبار سے کوئی کاروباری تعلق نہیں ہے.موبائل نمبر محض کاشتکاروں کی دلچسپی اور معلومات کے لئے دیا جا رہا ہے.

وارننگ
اس مضمون کے کسی بھی حصے کو مصنف کی اجازت کے بغیر:
1. کاپی کر کے کسی ویب سائٹ پر لگانا
2. مصنف کا نام ہٹا کر اسے اپنا ظاہر کرنا
3. ویڈیو بنانے کے لئے استعمال کرنا
اخلاقاََ و قانوناََ جرم ہے اور علمی چوری کے زمرے میں آتا ہے.
البتہ ایگری اخبار اس مضمون کا لنک شئیر کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے.
اس تحریر کے جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں.

تحریر:
ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

یہ مضمون لکھنے کے لئے جن حضرات سے معلومات اور آراء لی گئیں، راقم ان کا از حد مشکور ہے.
1. رانا توسیف اقبال، ساگوان کی عملی کاشت میں دلچسپی رکھتے ہیں
2. ڈاکٹر عرفان احمد، ماہرِ جنگلات ہیں
3. حافظ مسعود احمد، ماہرِ جنگلات ہیں

بشکریہ: ایگری اخبار

sagwan teak tree plantation in pakistan

sagwan teak tree plantation in pakistan

sagwan teak tree plantation in pakistan

sagwan teak tree plantation in pakistan

sagwan teak tree plantation in pakistan


پھلدار پودوں کو موسمی اثرات سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ سخت سردی اور کورے سے پھلدار پودے خاص طور پر نرسریوں میں موجود چھوٹے پودے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ پھلدار پودوں میں ناشپاتی، خوبانی، لوکاٹ، سٹرس، آڑو، لیچی، پپیتا، کیلا، سیب اور دیگر پودے شدید سردی اور کورے سے متاثر ہوتے ہیں جس سے باغات کی مجموعی پیداوار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے جو کہ باغات سے حاصل ہونے والی فی ایکڑ آمدن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پھلدار پودوں کو درجہ حرارت کی کمی یا زیادتی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔

پھلدار پودوں کے باغبانوں اور نرسری مالکان کو دسمبر جنوری اور فروری کے مہینوں میں محتاط رہنا چاہئے۔ کم سے کم درجہ حرارت معلوم کرنے کے لئے مخصوص جگہ پر جو پانچ فٹ تک بلند ہو‘ تھرما میٹر لگایا جائے۔ یہ تھرمامیٹر چار ہیکٹر رقبہ کے لئے کافی ہے اگر درجہ حرارت 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے تو کورا پڑنے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ باغبان ایک چوڑے برتن میں آدھا انچ گہرائی تک پانی ڈال کر اسے کھلے کھیت یا باغ میں رکھ دیں اور اگر یہ پانی شام کے وقت جمنے لگے تو کورا پڑنے کا احتمال ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں باغبانوں کو رات کو کورے سے بچاؤ کے اقدامات کرنا چاہئیں۔

دن کے وقت سورج کی دھوپ پڑنے سے زمین اور پودے گرم ہو جاتے ہیں اور گردوپیش کی ہوا گرم ہو جاتی ہے۔ اس طرح باغات کے اوپر ایک گرم ہوا کی تہہ بن جاتی ہے اور رات کو یہ سلسلہ الٹ ہو جاتا ہے۔ زمین اپنی حرارت بیرونی شعاع کے ذریعے صاف اور ٹھنڈے آسمان کی طرف خارج کرتی ہے جس سے زمین کے قریب کی ہوا ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور چونکہ ٹھنڈی ہوا گرم ہوا کی نسبت بھاری ہوتی ہے اس لئے وہ زمین کی سطح کے قریب رہتی ہے اور رات کو یہ ہوا کورے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور چھوٹے پودوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ جب رات کو کورا پودوں پر پڑتا ہے تو ٹھنڈک کی وجہ سے پتوں کا پانی جم جاتا ہے۔ چونکہ پانی کی یہ خاصیت ہے کہ جب پانی جم جاتا ہے تو یہ حجم کے لحاظ سے پھیلتا ہے۔ اس پھیلنے کے عمل سے پتوں کے خلیے (Cells)ٹوٹ جاتے ہیں اور بعد میں پتے خشک ہو جاتے ہیں۔ کورے کی شدت اگر زیادہ ہو تو بعض اوقات پودوں کی ٹہنیاں بھی خشک ہو جاتی ہیں۔

سخت سردی اور کورے سے بچاؤ کیلئے زمین کو اچھی طرح مزروعہ حالت میں رکھنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ حرارت جذب کرسکے۔ پودوں کے نچلے حصوں پر مٹی چڑھا کر رکھنی چاہئے تاکہ پانی تنے کو نہ لگ سکے اور رات کے وقت اخراج کیلئے پودے زیادہ سے زیادہ حرارت جذب کر سکیں۔ اگردر میانی فصل کی کاشت (Intercropping)ضروری ہو تو جوان پودوں کے پھیلاؤ کے لئے معقول جگہ چھوڑ دی جائے اور اس میں اچھی طرح ہل چلایا جائے۔ پودوں کے تنوں کو سفیدی کی جائے۔ جوان پودوں کی صورت میں جن پر ابھی پتوں کی چھتری نہ بنی ہو ان کے تنوں کے گرد بوری ، کھوری یا پرالی یا پھر پولی تھین سے لپیٹ دیا جائے۔ اگر شدید سردی کی وجہ سے کورا پڑنے کا احتمال ہو تو پودوں کو کورے کے اثرات سے بچانے کیلئے گندم کے بھوسے ،گھاس پھوس یا کسی ایسی چیز پر بھٹی میں استعمال شدہ فرنس آئل کو جلا کر مختلف جگہوں پر دھواں پیدا کریں۔ ہوا توڑ باڑیں نہ صرف پودوں کو سرد ہواؤں سے بچاتی ہیں بلکہ گرم اور خشک ہواؤں سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔

ترشاوہ پھلدار درختوں کے لئے دھوئیں یا دوسرے حرارتی انتظام کی ضرورت نہیں تاہم صاف ستھری کاشت اور آبپاشی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ البتہ زیادہ ٹھنڈک والے علاقوں یعنی پوٹھوار یا راولپنڈی ڈویژن میں ترشاوہ پھلوں کے پودوں کو پہلے ایک دو سال کورے سے بچانے کے لئے ڈھانپنا ضروری ہے۔ باغبان حضرات کے پاس کم سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ تھرما میٹر زمین سے چار پانچ فٹ بلند ہونا چاہئے اور اوپر سے ڈھکا نہ ہو تو ٹھیک درجہ حرارت بتا سکے گا۔ باغبانوں کو چاہیے کہ ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے موسمی حالات کے بارے میں باخبر رہیں تاکہ قبل از وقت سردی اور کورے سے بچاؤ کے لئے اقدامات کئے جا سکیں۔ ثمر آور باغات میں درمیانی فصل بالکل کاشت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ دن کے وقت ایک تو زمین کو حرارت جذب نہیں کرنے دیتیں اور دوسرے کہر یا کورے کی راتوں میں فضائی رطوبت میں اضافہ کرتی ہیں۔ نشوونما کی مستعد حالت میں درخت نیم خوابیدہ حالت کے درختوں کی نسبت سردی سے زیادہ مجروح ہوتے ہیں۔ باغ میں آبپاشی جاری رکھنی چاہیے۔ پانی کے جمنے سے حرارت خارج ہوتی ہے جو درجہ حرارت کو صفر درجے سے نیچے نہیں گرنے دیتی۔ پھول نکلنے سے پہلے موسمِ بہار میں پودوں پر سردی سے متاثرہ شاخوں کو کاٹ دینا چاہیے اور زخموں پر بورڈوپیسٹ لگانا چاہیے۔


تحریر: ہارون احمد خان( اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات، راولپنڈی)

یہ پودا زمین سے پانی ، نائٹروجن ، فاسفور س ، پوٹاشیم ، میگنیشیم ، سلفر، لوہا، زنک سمیت کم از کم سترہ غذائی اجزاء نمکیات کی شکل میں زمین سے حاصل کرتا ہے ۔ جن کے بغیر پودا اپنی زندگی کو پورا نہیں کر سکتا۔ ان کے علاوہ پودے میں بہت سارے مرکبات ضرورت کے مطابق بنتے توٹتے رہتے ہیں۔ جن میں وٹامن، گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام کو بہتر کرنے کے مرکبات شامل ہیں۔ یہ مرکبات اگرچہ قلیل مقدار میں ہوتے ہیں مگر یہ دیگر غذائی اجزاء کو بنانے اور پودے کی بڑھوتری میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مرکبات اگر پودے پر سپرے کر دیے جائیں تو پودا اپنے اندر یہ گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام میں معاون مرکبات کو خود بھی تیزی سے بنانا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں پودے کی بڑھوتری میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ موسم کی سختیوں مثلاََ شدید سردی ، شدید گرمی ، کلراٹھی زمینوں اور پانی کی کمی کا بہتر انداز میں مقابلہ کرتا ہے ۔ یہ مرکبات کیمیائی طور پر بھی بنائے جاتے ہیں اور فصلوں کے اوپر ان کا سپرے نہایت موثر پایا گیا ہے مگر عمومی طور پر یہ نہات مہنگے ہوتے ہیں اور کسان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ سائنسدان ایک عرصے سے ایسے مرکبات کو بنا کر پودوں کے اوپر استعمال کر رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ کم قیمت والے مارکیٹ میں گروتھ پر موٹر کے نام سے دستیاب بھی ہیں ۔سائنسدان ایک عرصہ سے ان مرکبات کا کوئی آسان ، سستا اور قدرتی ذریعہ ڈھونڈرہے تھے ۔ اس ضمن میں ایک ایسا پودا سامنے آیا ہے جس میں قدرتی گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام کو بہتر بنانے والے مرکبات دوسرے پودوں کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس پودے سے یہ مرکبات حاصل کر کے مختلف فصلوں پر استعمال کیے گئے جس کے نتیجہ میں اسے 16سے 40فیصد تک پیداوار میں اضافہ ، موسمی سختیوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مدافعت میں نہایت موثر پایا۔ اس پودے کے ایک کلو تازہ پتے کوٹ کر یا پیس کر ایک صاف ململ کے کپڑے میں پوٹلی بنائیں اور 20لیٹر والی سپرے کی ٹینکی میں صاف پانی بھر کر چائے کے ٹی بیگ کی طرح نچوڑ دیں۔ ایسی 3ٹینکیاں فی ایکڑ فصل کے اوپر سپرے کردیں۔ یعنی ایک ایکڑ کے لیے تین کلو پتے 60لیٹر پانی میں۔ یہ سپرے دو سے تین دفعہ فصل کے اہم مرحلے پر سپرے کریں مثلاََ گندم پر پہلا سپرے شگوفے نکلنے ، دوسرا گوب اور تیسرا سٹے نکلنے پر کریں۔ اس طرح باقی فصلوں پر بھی سپرے کریں ۔جبکہ سبزیوں پر ہر 15دن بعد سپرے کی جاسکتی ہے ۔ اگر فصل پر کسی زہر کا سپرے کرنا ہو تو وہ اس محلول میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ قدرت کے اس انمول خزانے کو بے پناہ غذائی ، طبعی ، صنعتی خصوصیات کی وجہ سے ’’زندگی کا پودا‘‘کہا جاتا ہے ۔ یہ پودا ہے سوہانجنا جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے ۔دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے مختلف استعمال صدیوں سے جاری ہیں جن میں زیادہ تر طبی استعمال ہیں۔ یہ پودا جنوبی پنجاب میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ جبکہ وسطی پنجاب میں اس کی جڑوں کااچار نہایت شوق سے کھایا جاتا ہے ۔ یہ پودا برصغیر کا مقامی پودا ہے اور یہاں سے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ اس پودے کو با آسانی بیج یا قلم سے کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ یہ پودا ایک سال میں 10سے 15فٹ کا درخت بن جاتا ہے۔اس پر سال میں ایک دفعہ پھول آتے ہیں جو کہ بعد میں پک کر پھلیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ایک درخت کی پھلیوں سے آٹھ سے دس ہزار بیج حاصل ہوسکتے ہیں۔ جن سے سوہانجنا کو فصل کے طور پر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ بیج کو کپاس اور مکئی کی بجائی کی طرح 1فٹ کے فاصلے پر لگایا جاتا ہے ۔ جب یہ پودے تین فٹ پر پہنچ جائیں تو ان کو اوپر سے کاٹ دیا جاتا ہے پھر بار بار 10سے 20دن کے وقفہ سے اس کے پتے بطور چارہ یا فصلوں پر سپرے کے لیے کاٹ کر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دسمبر سے لے کر مارچ تک اس کے پتوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے ۔ باقی سارا سال اس سے پتے مہیا ہوتے رہتے ہیں۔ جب سوہانجنا کا درخت پھول دینا بند کردے تو اس وقت اس کی ایک انچ قطر والی شاخیں اور چار سے چھ فٹ لمبائی رکھ کے کاٹ لی جائیں۔ زمین میں ایک فٹ چوڑا اور 3فٹ گہر ا گڑھا بنا ئیں اس کے درمیان میں قلم رکھیں۔ پھر ریت، بھل اور پتوں کی کھاد کے آمیزے سے بھر دیں۔ سوہانجنا کی قلم کے اردگرد مٹی چڑھا دیں اور اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ پانی براہ راست قلم کو نہ لگے بلکہ صرف نمی پہنچے ۔ اس طریقے سے سخت سردی کے علاوہ سارا سال پودا اگایا جاسکتا ہے ۔ جس جگہسوہانجنا کے درخت اگانا چاہیں وہاں 5x5فٹ کے فاصلے پر نشان لگائیں اور ہر نشان پر ایک فٹ گہرااور ایک فٹ چوڑا گڑھا بنا کر اسے ریت، بھل اور قدرتی کھاد سے بھر دیں پھر اس میں ایک انچ سوراخ بنائیں اور اس میں سوہانجنا کے دو عدد بیج ڈال دیں اور پانی لگا دیں ۔ دو ہفتے کے اندر پودے اگ آئیں گے جب یہ پودے چھ انچ کے ہو جائیں تو ہر سوراخ میں ایک صحت مند پودا چھوڑ کر باقی نکال دیں۔ اگر براہ راست فیلڈ میں بیج کاشت کرنا ممکن نہ ہو تو پہلے نرسری پلاسٹک کی تھیلیوں میں مٹی، ریت ، بھل اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے بھر لیں اور نرسری تیار کر لیں۔ایک سے دو ماہ تک ان پودوں کو نرسری میں رہنے دیں اور پھر کھیت میں منتقل کر دیں۔ چارہ حاصل کرنے کے لیے دو سے تین فٹ کے فاصلے پر کھییلیاں بنا کر ’’وٹ‘‘ کے اوپر 1فٹ کے فاصلہ پر 2سینٹٰ میٹر گہر بیج لگائیں اور فوراََ پانی لگائیں ۔

جبکہ مولیاں حاصل کرنے کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ جتنا کم ہو گا مولیاں اتنی ہی اچھی بنے گی ۔ شروع شروع میں ہر ہفتہ وار پانی دیں اور پھر تقریباََ دو ماہ بعد حسب ضرورت پانی لگائیں۔ ایک ایکڑ میں دو بوری یوریا کھاد ڈالنے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بجائی کے 24گھنٹے کے اندر اندر Round Upبوٹی مار سپرے کریں۔ فروری ، مارچ اور جولائی اگست میں اس طریقے سے کاشت کرنا بہتر ہے ۔ سوہانجنا کے تمام حصوں کو غذا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے پھل کوسوہانجنا کی پھلیاں کہتے ہیں ۔ جو سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں اور اچار ڈالنے کے کام بھی آتی ہیں۔ اسی طرح اس کے پھول اور کونپلیں بھی سبزی کے طور پر پکانے کے کام آتی ہیں۔ مورنگا کے نوعمر پودوں کی جڑیں سوہانجنے کی مولیاں کہلاتی ہیں۔ جو عام مولیوں کی جگہ پکانے کے لیے اور اچار ڈالنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس کی مولیوں اور پھلیوں سے بننے والا اچار انتہائی لذیز اور توانائی بخش ہوتا ہے۔ اس کے پتوں کی چٹنی اور سوپ بھی انتہائی مزیدار اور توانائی بخش ہے ۔ اس کے استعمال سے چہرے پر جھریاں نہیں ابھرتی اور بڑھاپا بھی دور بھاگتا ہے ۔ مورنگا کی سب سے زیادہ غذائیت اس کے تازہ پتوں میں ہے جو دیگر پتوں والی سبزیات میں شامل کر کے پکائے جاتے ہیں۔ تاہم اس کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے پتوں کو ابال کر پانی نکال دیا جاتا ہے تو بہتر ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ غذائی استعمال سوہانجنے کے خشک پتوں کا بطور سفوف استعمال ہے ۔ پتوں کو چھاوں میں خشک کر لیا جاتا ہے جسے بعدازاں پیس کر ہوا بند مرتبان میں محفوظ کر لیا جتا ہے ۔ بالغ افارد کے لیے 50گرام جبکہ بچوں کے لیے 25گرام روزانہ استعمال بیشتر غذائی ضروریات پوری کر دیتا ہے اور صحت میں نمایاں بہتری لاتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک چمچ روزانہ کا استعمال بلڈ پریشر، شوگر، جسمانی کمزوری اور دیگر امراض میں مفید ہے ۔ خشک پتے انتہائی مفید گرین چائے ہے جو دماغی اور جسمانی قوت کی بحالی اور کم خوابی کے لیے دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہیں۔ سوہانجنا کے تازہ پتوں کا نچوڑ فصلوں کے لیے ایک عمدہ قسم کا گروتھ ہارمون ہے ۔ نچوڑ نکالنے کے لیے پتوں کوبرقی شیکر یا اوکھلی میں پیس کر ململ کے کپڑے سے نچوڑ لیں اس مقصد کے لیے بازار میں دستیاب انا رکا رس نکالنے والی مشین بھی کامیابی سے استعمال کی جاسکتی ہے ۔ سوہانجنا کے رس میں 30حصے پانی ملا کر فصل بونے سے پہلے بیج کو آٹھ گھنٹے بھگو لیں۔ بعدازاں سائے میں بیج خشک کر کے بوائی کر دیں۔ یہی محلول فصلوں کو سپرے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سے تقریباََ تمام فصلوں اور سبزیات میں 10 سے 40 فیصد تک پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ مورنگا کے پتے نہ صرف انسان بلکہ جانوروں کے لیے بھی بہترین خوراک ہیں۔ شروع میں جانور اس کے قدرے کڑوے ذائقہ کو پسند نہیں کرتے مگر چند روز میں عادی ہوجاتے ہیں۔ مورنگا مکمل چارے کی بجائے دن میں چند بار دیگر چارہ جات کے ساتھ ملا کر دینے سے نہ صرف جانوروں کا دودھ اور وزن بڑھ جاتا ہے بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہوجاتی ہے ۔ اس کا مناسب استعمال ونڈے کی ضرورت کو کم یا مکمل ختم بھی کرسکتا ہے ۔ اس کے استعمال میں نہ صرف جانوروں کے دودھ اور گوشت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیار بھی بہتر ہوتا ہے ۔ 2گرام بیج کا پاؤڈر 10 لٹر پانی میں اچھی طرح مکس کر کے رکھ دیں ۔ دو گھنٹے بعد پانی نتھار لیں ۔ 99%جراثیم مر جاتے ہیں اور زہریلے نمکیات ، مٹی اور دیگر کثافتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں۔ اوپر سے نتھار کے بہترین پینے کا پانی تیار ہوجاتا ہے ۔ مورنگا کا درخت دو سے تین سالوں میں بیج دینے شروع کر دیتا ہے ۔ اس کے بیجوں سے عمدہ قسم کا شفاف تیل عام کوہلو سے نکالا جاسکتا ہے ۔ یہ تیل کوالٹی میں بہت عمدہ اور زیتوں کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ تیل دیگر استعمال میک اپ کے سامان کی تیاری اور مہنگی گھڑیوں میں بطور لبریکنٹ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک درخت سے تقریباََ 3-4کلو بیج حاصل ہوتے ہیں اور ایک کلو بیج سے تقریباََ ایک پاؤ تیل نکلتا ہے ۔ جو کہ بے پناہ فوائد کا حامل ہے ۔ پکانے کے دوران یہ تیل دوسرے تیل کی نسبت زیادہ دیر تک قابل استعمال رہتا ہے اور نہ صرف کھانے کو لذیز بناتا ہے بلکہ جسم میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے ۔ اس کو برآمد کر کے کثیرزر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے ۔ جبکہ بیج کا باقی حصہ مرغیوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال میں لا یا جاسکتا ہے ۔ جو توانائی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ مورنگا بے شمار بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور یہ ایک بہترین غذائی ٹانک ہے ۔ اس کے پتے ،جڑیں،پھول ، بیج ، گوند اور چھال میں موجود انٹی بیکٹریل اجزاء کئی بیماریوں کے علاج میں انتہائی مدد گار ہیں ۔ کینسر ، ایڈز اور یرقان وغیرہ جیسی متعدی بیماریوں کے خلاف بہترین قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ اسی لیے اس کی خوبیوں کی بدولت امریکہ کے خلاف ادارے NASA نے اسے 21ویں صدی کا اہم ترین پودا قرار دیا ہے ۔

محکمہ زراعت نے مورنگا کی کاشت میں اضافہ کے لئے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے پتوکی میں سمینارز کا انعقاد کیا گیا جسں میں محمد محمود، سیکرٹری زراعت پنجاب نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ماہرین نے بتایا کہ مورنگا (سوہانجنا) دنیا میں ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے ۔اسکا استعمال بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے اور اس کے تیل زیتون کے تیل جیسی افادیت رکھتا ہے۔کاشتکار سوہانجنا کی کاشت کر کے بھرپور منافع کما سکتے ہیں ۔مورنگا نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ جانوروں کے چارہ کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے۔، بلڈپریشر، کولیسٹرل، جوڑوں اورہڈیوں کے درد میں مورنگا کا استعمال مفید ہے، مورنگاکے حصہ میں غذائی اور طبعی اجزاء پائے جاتے ہیں،مورنگا ( سوہانجنا) پتوں میں ددوھ سے زیادہ دوگنا پروٹین پایا جاتا ہے ، مورنگا انسان کو کئی قسم کے وٹامن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے، مورنگا کے پتوں کا نچوڑ فصلوں کے لئے ایک عمدہ قسم گروتھ ریگولیٹر ہے، مورنگا کا درخت اگر فروری اور مارچ میں کاشت کیا ہوتو ایک سال بعد ہی بیج دینے لگتا ہے اس کے بیجوں سے عمدہ قسم کا شفاف تیل حاصل ہوتا ہے،یہ تیل معیار میں بہت عمدہ اور زیتون کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ دے رہا ہے اور کاشتکاروں کی فلاح کیلئے ہر اس اقدام کی تائید کرتا ہے جس سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔مورنگا کی کاشت سے کاشتکار کم وقت میں زیادہ نفع کما سکتے ہیں اور یہ خوردنی تیل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے سمینار میں شریک ماہرین کو ہدایت کی کہ مورنگا کے فروغ کیلئے کسانوں میںشعوری مہم شروع کی جائے اور اس حوالے سے کسانوں کو اس کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے سوہانجنا کا پودا لگا کر دعابھی کی اور بعد ازاں بفیلو ریسرچ انسٹیورٹ پتوکی کا دورہ بھی کیا۔

کاشتکاروں کو موسمِ سرما کے دوران درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے ماہ دسمبر سے ماہ فروری تک سبزیوں کی کاشت میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔انہی مسائل کو دیکھتے ہوئے سال 1985ء میں ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ٹنل فارمنگ کا طریقہ کار متعارف کروایا گیا تھا جس سے انتہائی کم درجہ حرارت میں بھی سبزیوں کی کاشت ہو سکتی ہے۔ تاہم مناسب رہنمائی اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کسان روائتی طریقوں کو ہی ترجیح دیتے رہے لیکن اب بڑے اور درمیانے درجے کے ترقی پسند کاشتکاروں میں ٹنل فارمنگ مقبول ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ ٹنل فارمنگ کو اقسام کے لحاظ سے تین اقسام اونچی، درمیانی یا واک ان اور چھوٹی ٹنل میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
جڑانوالہ کے رہائشی میاں عبدالطیف نے جڑانوالہ ستیانہ روڈ پر جسوآنہ بنگلہ کے علاقے میں زرعی ماڈل فارم بنایا ہے۔اٹھارہ ایکڑ رقبے پر محیط اس زرعی ماڈل کو تینوں اقسام کی ٹنلز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں مختلف اقسام کی غیر موسمی سبزیاں کاشت کی گئی ہیں۔سجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے میاں عبدالطیف کا کہنا تھا کہ انہوں نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اس طریقہ کاشت کاری کو اختیار کیا ہے۔ان کے بقول 'لوگ غیر موسمی سبزیاں کھانا پسند کرتے ہیں جبکہ ٹنل سے حاصل کی گئی سبزیاں دوسرے ممالک بھیج کر بھی اچھا منافع کمایا جا سکتا ہے۔'انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال انہوں نے تین ایکڑ رقبے پر کھیرا اور ٹماٹر کی فصل کاشت کی تھی جس پر ان کے تقریباً پندرہ لاکھ روپے خرچ ہوئے اور انہیں فی ایکڑ زمین سے پانچ لاکھ روپے منافع ہوا۔ان کے مطابق ٹنل فارمنگ کے دوران سبزیوں کو نگہداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن اس میں نفع کا تناسب بھی کافی زیادہ ہے۔
زرعی ماڈل فارم کے مینیجر محمد رمضان نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹنل کا رُخ ہمیشہ مشرق سے مغرب کی جانب رکھا جاتا ہے تاکہ سورج کی روشنی زیادہ سے زیادہ ٹنل پر پڑے اور اندر گرمی پیدا ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ اونچی ٹنل چار سے پانچ میٹر بلند ہوتی ہے اور ایک ایکڑ پر بارہ لاکھ روپے کے قریب رقم خرچ ہوتی ہے۔ درمیانی ٹنل کی بلندی دو میٹر تک ہوتی ہے اور اس پر چار لاکھ روپے فی ایکڑ خرچ آتا ہے۔ان کے بقول 'دونوں ٹنلز کی تیاری میں لوہا یا پھر سفیدہ، بانس اور شہتوت کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے جبکہ ہر ٹنل میں سبزیوں کی بیلوں کو چڑھانے کے لیے نائیلون کے جال استعمال ہوتے ہیں جن پر اضافی خرچہ آتا ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں اقسام کی ٹنلز میں زمیندار کھیرا، ٹینڈے، کریلا، ٹماٹر، شملہ مرچ، سبز مرچ، بینگن اور تربوز وغیرہ باآسانی کاشت ہو سکتے ہیں اور چھوٹی ٹنل کی نسبت فصل بھی زیادہ پہلے حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹنلز کو بارش یا تیز ہوا سے ہونے والے نقصان سے بچانے کے لئے انگریزی زبان کے حروف یو یا اُلٹے وی کی شکل میں بنایا جاتا ہے اور انہیں پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھکا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک شیٹ کی قیمت تین سے ساڑھے تین سو روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ان کے بقول 'درمیانی ٹنل پر تقریباً 170 کلو جبکہ بڑی ٹنل پر تین سو کلو پلاسٹک شیٹ استعمال ہوتی ہے جس پر بالترتیب پچپن ہزار اور ایک لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔' رمضان کا خیال ہے کہ زیادہ لاگت کی وجہ سے مقامی کاشتکاروں کے لیے چھوٹی ٹنل زیادہ موزوں اور فائدہ مند ہے۔انہوں نے بتایا کہ چھوٹی ٹنل زمین سے بمشکل آدھا میٹر بلند ہوتی ہے۔ اس پر بڑی ٹنل کی نسبت ہوا کا دباؤ قدرے کم ہوتا ہے اور اسے لگانے کے لیے زیادہ رقم کی بھی ضرورت نہیں۔ان کے مطابق 'ٹنل سے عام فصل کی نسبت تین سے چار گنا زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ کھاد اور پانی کا بھی مناسب استعمال ہوتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک طرح سے کسان کے لیے انتہائی نفع بخش طریقہ ہے۔'انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ ایک مہنگا طریقہ دکھائی دیتا ہے اور اسی لیے کسان ہچکچاہٹ کا شکار رہے ہیں لیکن اس طریقہ کاشتکاری کے ذریعے ایک بار پیسے لگا کر تین سے چار سال تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اگر آپ سبزیوں کی ٹنل فارمنگ کے کاروبار سے وابسطہ ہیں تو پھر آپ نے کریلے کی ہائبرڈ ورائٹی کہسار اور اسی طرح کھیرے کی ہائبرڈ ورائٹی یالا کا نام تو ضرور سنا ہو گا.
کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں ہائبرڈ ورائٹیاں فیصل آباد سے جنوب کی طرف کوئی 80 کلو میٹر دور ماموں کانجن میں واقع وسیع و عریض گرین ہاؤسز میں تیار کی جاتی ہیں. بنیادی طور پر یہ گرین ہاؤسز میاں شوکت علی کے رقبے پر واقع ہیں جنہیں اعلی سائنسی اصولوں کو مد نظر رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے.

چند روز قبل، راقم کو مذکورہ گرین ہاؤسز دیکھنے کا اتفاق ہوا جہاں میاں شوکت علی سے کوئی ایک گھنٹے کی ملاقات رہی.
پاکستان میں سبزیوں کی ٹنل فارمنگ اور ہائبرڈ بیج کی تیاری کے آغاز کا سہرا میاں شوکت علی کے سر جاتا ہے.
میاں شوکت علی ماموں کانجن سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 80 کی دہائی میں بی ایس سی آنرز ایگری انجینئرنگ اور بعد ازاں اسی ادارے سے ایم ایس سی آنرز ایگری انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی.
نوے کی دہائی میں جب انہیں یورپ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں انہوں نے کسانوں کو ٹنل کے اندر سبزیاں اگاتے ہوئے دیکھا. پاکستان میں واپس آ کر انہوں نے ایک چھوٹی سی ٹنل بنا کر تجرباتی طور پر ٹنل فارمنگ کا آغاز کیا. ایک آدھ ناکامی کے بعد میاں شوکت علی اپنے تجربات میں کامیاب ہو گئے اور وسیع پیمانے پر ٹنل فارمنگ کا آغاز کر دیا جس کی دیکھا دیکھی پورے پنجاب اور پاکستان میں ٹنل فارمنگ کا رواج پڑتا گیا. آج ٹنل فارمنگ کا شعبہ، پاکستان کی زراعت میں ایک اہم شعبے کی شکل اختیار کر چکا ہے.
ابتدا میں میاں شوکت علی سبزیوں کی پیداوار سے ہی وابسطہ رہے جس کے لئے انہیں ہائبرڈ بیج بیرونی ممالک خاص طور پر ہالینڈ سے درآمد کرنا پڑتا تھا.جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ اگر پاکستان میں ٹنل فارمنگ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہائبرڈ بیج باہر سے درآمد کرنے کی بجائے پاکستان کی سر زمین پر ہی تیار کیا جائے.
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی دلچسپی بریڈنگ کے شعبے میں پیدا ہونا شروع ہوئی اور انہوں نے اپنے طور پر بریڈنگ کے اسرارو رموز کو سیکھنا اور سمجھنا شروع کر دیا.
چند سالوں بعد انہوں نے ترکی کی ایک معتبر سیڈ کمپنی یکسل سیڈ سے معاہدہ کر کے ماموں کانجن میں گرین ہاؤسز قائم کر دئیے.اس معاہدے کی رو سے پاکستان میں ہائبرڈ بیج کی پیداوار شروع کر دی گئی. اس وقت ان گرین ہاؤسز میں 500 کے قریب کارکن کام کر رہے ہیں جو ہائبرڈ بیجوں کے مختلف پیداواری مراحل کو سر انجام دینے میں مصروف رہتے ہیں.
یکسل سیڈ ایشیا ماموں کانجن پاکستان نے کھیرے اور کریلے کی کئی ہائبرڈ ورائٹیاں مارکیٹ میں پیش کیں جن میں کہسار اور یالا دونوں ورائٹیاں کسانوں کے بہترین اعتماد کو چھو رہی ہیں. کسانوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ دونوں ورائٹیاں معیار اور قیمت کے لحاظ سے ملٹی نیشنل کمپنوں کو بھی پیچھے چھوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں.

میاں شوکت علی زراعت کے ساتھ ایک ایسی لگن رکھتے ہیں جو کاروباری لگاؤ سے بالاتر ہے. ان کی اسی لگن نے انہیں دنیا بھر کی سیر کروائی ہے جہاں وہ محض زراعت دیکھنے اور سمجھنے کے لئے جاتے رہے ہیں. وہ نہ صرف پاکستان میں حکومتی سطح پر اپنے تجربات شیئر کرتے رہتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر دنیا کی کئی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں زراعت پر لیکچر دینے کے لئے وقت نکالتے رہتے ہیں.

حال ہی میں میاں شوکت علی نے کم و بیش 5 کروڑ کی لاگت سے ہائی ٹیک لیبارٹری بنائی ہے جو نجی شعبے میں اپنی مثال آپ ہے. اس لیبارٹری میں پاکستان کے نہائیت محنتی اور ہنرمند پروفیشنل کام کر رہے ہیں. اس لیبارٹری کے قیام سے پاکستان میں ہائبرڈ بیج کی تیاری کو ایک نیا رخ ملے گا.
راقم کے لئے یہ بات نہائیت خوشی کا باعث ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کے کام کو میاں شوکت علی بڑھاوا دے رہے ہیں. مجھے ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک محب وطن اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے کاروباری مفاد سے بالا تر ہو کر حکومتی اور نجی سطح پر ہائبرڈ بیجوں کی تیاری اور خاص طور پر پیرنٹ لائنز کی تیاری کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں. مجھے قوی امید ہے کہ بہت جلد پاکستان ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کے سلسلے میں مکمل طور پر خود مختار اور خود کفیل ہو جائے گا انشاء اللہ.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

آپ اپنے لئے خوراک کیسے حاصل کرتے ہیں؟‏ کیا آپ اِسے خود اُگاتے ہیں یا بازار سے خریدتے ہیں؟‏ چند سال پہلے تک انسان گزربسر کرنے کیلئے کھیتی‌باڑی کِیا کرتے تھے۔‏ اِسکا مطلب ہے کہ وہ اپنے لئے خود خوراک اُگاتے تھے۔‏ لی
کن اب بعض صنعتی ممالک میں ۵۰ میں سے صرف ایک شخص کاشت‌کاری کرتا ہے۔‏ یہ تبدیلی کیسے واقع ہوئی؟‏

زراعت کے میدان میں پہلے آہستہ‌آہستہ مگر پھر بڑی تیزی سے بہتری آنا شروع ہو گئی۔‏ ہر تبدیلی کیساتھ لاکھوں خاندانوں کو بہت سا ردوبدل کرنا پڑا اور آج تک پوری دُنیا میں ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔‏ کاشت‌کاری کے سلسلے میں ہونے والی ترقی نے لوگوں کو جسطرح متاثر کِیا ہے اُس پر غور کرنا آپکو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ دُنیا کس طرف جا رہی ہے۔‏

کاشت‌کاری کے طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی

بارھویں صدی میں جب یورپ میں ہارس کالر کی ایجاد ہوئی تو کاشت‌کاری محض گزربسر کا ذریعہ نہ رہی۔‏ ہارس کالر گھوڑے کو جوتنے کیلئے درکار سازوسامان کا ایک اہم حصہ ہے جسے لوگ عام طور پر گھوڑے کی اصلی یا حلقی کہتے ہیں۔‏ اِسکی مدد سے ہل میں جوتے جانے والے گھوڑے کا گلا نہیں گھونٹتا تھا۔‏ پس اِسطرح گھوڑے بیلوں کی نسبت زیادہ زور سے،‏ تیزی کیساتھ اور زیادہ دیر تک ہل کو کھینچ سکتے تھے۔‏ کاشت‌کاری میں گھوڑوں کے استعمال سے کسان اپنی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل ہوئے۔‏ وہ لوہے کے ہل کی مدد سے سخت زمین کو کاشت کر سکتے تھے۔‏ ایک اَور قدم جو کاشت‌کاری میں بہتری لانے کا سبب بنا وہ مٹی کو زیادہ زرخیز بنانے والی فصلوں کی کاشت تھی۔‏ اِن میں دالیں،‏ مٹر،‏ ترفل اور برسیم یا لوسن جیسی فصلوں کی کاشت شامل تھی جنکی وجہ سے نائٹروجن مٹی کیساتھ شامل ہو کر (‏تثبیت کا عمل)‏ زمین کو زرخیز رکھتی ہے۔‏ یوں زرخیز زمین کی بدولت فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں۔‏

اِن ابتدائی تبدیلیوں کی بدولت بعض کسان وافر مقدار میں اناج اُگانے اور اِسے بازار میں فروخت کرنے کے قابل ہو گئے۔‏ یوں ایسے شہر وجود میں آ گئے جہاں لوگ اپنے لئے خوراک خریدنے کے علاوہ صنعتکاروں اور تاجروں کے طور پر کام کر سکتے تھے۔‏ اِن امیر صنعتکاروں،‏ تاجروں اور کسانوں کی بدولت کاشت‌کاری کیلئے استعمال ہونے والی مشینوں کی ایجاد کا آغاز ہوا۔‏

سن ۱۷۰۰ میں جیتھرو ٹل نامی ایک کسان نے بیج بکھیرنے کیلئے گھوڑوں کی مدد سے چلنے والی ایک مشین ایجاد کی۔‏ اِس سے قبل بیج بکھیرنے کا کام ہاتھوں سے کِیا جاتا تھا جس سے کافی بیج ضائع ہو جاتے تھے۔‏ سن ۱۸۳۱ میں،‏ امریکہ میں سائرس میک‌کورمک نے گھوڑوں کی مدد سے چلنے والی ایک ایسی مشین ایجاد کی جسے فصل کو کاٹنے اور جمع کرنے کیلئے استعمال کِیا جاتا تھا۔‏ یہ مشین ہاتھ سے چلنے والی درانتی کی نسبت پانچ گُنا تیز چلتی تھی۔‏ اُسی دوران تاجروں نے جنوبی امریکہ کے اینڈین ساحل سے یورپ میں کھاد لانا شروع کر دی۔‏ مشینوں اور کھاد کے استعمال سے کاشت‌کاری کی صنعت میں بہت ترقی ہوئی۔‏ مگر اِس سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوا؟‏

کاشت‌کاری میں ترقی ایک صنعتی انقلاب کا باعث بنی جس سے شہروں میں رہنے والے لوگوں کیلئے سستی اور وافر مقدار میں خوراک حاصل کرنا ممکن ہو گیا۔‏ سب سے پہلے یہ انقلاب برطانیہ میں تقریباً ۱۷۵۰-‏۱۸۵۰ میں رُونما ہوا۔‏ ہزاروں خاندانوں کو لوہے اور کپڑے کے کارخانوں،‏ کوئلے کی کانوں اور بحری جہاز بنانے اور مرمت کرنے کی جگہوں میں کام کرنے کیلئے صنعتی شہروں کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ اُنکے پاس اِسکے علاوہ اَور کوئی چارہ نہ تھا۔‏ غریب کسان جو کاشت‌کاری کیلئے جدید آلات خریدنے کے قابل نہیں تھے کم پیداوار کی وجہ سے زیادہ پیسہ نہیں کما سکتے تھے حتیٰ‌کہ اُنکے لئے اپنا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل تھا۔‏ پس اُنہیں اپنی زمینیں چھوڑ کر گنجان آباد شہروں کی کچی آبادیوں میں رہنا پڑا جہاں بیماریاں بڑی تیزی سے پھیلتی ہیں۔‏ پہلے سارا خاندان ملکر کھیتی‌باڑی کا کام کرتا تھا مگر اب صرف مرد کارخانوں میں کام کرنے کیلئے جاتے تھے۔‏ یہاں تک کہ بچے بھی کارخانوں میں کئی‌کئی گھنٹے کام کرتے تھے۔‏ جلد ہی دیگر ممالک کو بھی ایسی ہی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔‏

سائنسی طریقوں سے کاشت‌کاری میں مزید تبدیلیاں

سن ۱۸۵۰ میں بعض ممالک کے پاس اتنے مالی وسائل تھے کہ وہ زرعی تحقیق سے فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔‏ زراعت کے متعلق سائنسی تحقیق آج ہمارے زمانے تک متواتر تبدیلیاں لانے کا باعث بنی ہے۔‏ مثال کے طور پر،‏ بعض اشخاص نے پودوں کی مختلف اقسام پر تحقیق کرنے کے بعد ایسے پودے تیار کئے ہیں جو زیادہ پھل دیتے اور مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔‏ تحقیق‌دانوں نے نمکیات کے ایسے مرکبات بھی دریافت کئے ہیں جو مختلف قسم کی فصلوں اور زمین کیلئے اشد ضروری ہیں۔‏ کھیتوں میں مزدوری کرنے والے لوگ بھی سارا سال فصلوں میں اُگنے والی جڑی بوٹیوں کو نکالنے میں مصروف رہتے تھے۔‏ مگر جب سے سائنس‌دانوں نے کیڑےمار ادویات تیار کی ہیں اُس وقت سے جڑی بوٹیوں کی پیداوار قدرے کم ہو گئی ہے جسکی وجہ سے بہت سے مزدور اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‏ مختلف طرح کی سنڈیاں،‏ کیڑے اور گھن بھی کاشت‌کاروں کے پُرانے دُشمن ہیں۔‏ تاہم،‏ اب کیڑےمار ادویات کی اتنی مختلف اقسام ہیں کہ کسان ہر طرح کے کیڑوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے کسی کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔‏*

جانور پالنے والے کسانوں کی زندگیوں میں بھی بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔‏ دودھ نکالنے اور جانوروں کو چارا ڈالنے کیلئے دستیاب خودکار مشینوں کی بدولت مویشیوں کی نگرانی پر مامور ایک شخص اپنے ساتھی کی مدد سے تقریباً ۲۰۰ گایوں کی دیکھ‌بھال کر سکتا ہے۔‏ کسان اپنے گائےبیل اور سوأروں کو جلدی بڑا کرنے کیلئے اُنہیں کھلے میدانوں میں رکھنے کی بجائے باڑوں میں رکھتے ہیں۔‏ اِسطرح اُنکے لئے جانوروں کے جسم کے درجۂ‌حرارت اور خوراک پر کنٹرول رکھنا ممکن ہوتا ہے۔‏

سائنسی طریقوں کے مطابق کی جانے والی کاشت‌کاری کے اکثر شاندار نتائج نکلے ہیں۔‏ ایسا کرنے سے بعض کسانوں کی پیداوار میں ۱۰۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔‏ اِسکا مطلب ہے کہ جدید طریقوں کو استعمال کرنے سے ہر مزدور نے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کِیا ہے۔‏ لیکن اِن سائنسی کامیابیوں نے لوگوں کی زندگیوں کو کیسے متاثر کِیا ہے؟‏

کسانوں کا طرزِزندگی بدل گیا

مشینوں نے مختلف ممالک میں رہنے والے کسانوں کے طرزِزندگی کو بدل ڈالا ہے۔‏ زیادہ‌تر کسانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو اب جدید مشینوں کو چلانے اور اِنکی دیکھ‌بھال کرنے کیلئے مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔‏ عام طور پر اُنہیں اکیلے ہی کام کرنا پڑتا ہے۔‏ کیونکہ اب لوگوں کو بیج بونے،‏ کھتیوں کی دیکھ‌بھال کرنے اور کٹائی کرنے کیلئے پہلے کی طرح گروہوں کی شکل میں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‏

بہت سے ممالک میں اب کسانوں کا ایک نیا طبقہ سامنے آیا ہے۔‏ ایک اعلیٰ تعلیم‌یافتہ کاروباری شخص چند زرعی اشیا یا شاید کسی ایک چیز کی پیدوار کے بارے میں خاص مہارت حاصل کرتا ہے۔‏ وہ زمین خریدنے،‏ عمارت کھڑی کرنے اور مشینیں خریدنے کیلئے بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے۔‏ تاہم،‏ وہ تنہا یہ سب کچھ نہیں کر تا۔‏ کھانے پینے کی اشیا تیار کرنے والی مختلف کمپنیاں اور سپر مارکیٹیں نہ صرف اُسکی تیارکردہ اشیا کی قیمتیں طے کرتی ہیں بلکہ اُنکی قسم،‏ سائز اور رنگ کا بھی تعیّن کرتی ہیں۔‏ نیز،‏ یہ اشیا کیسے تیار کی جائینگی اِسکا تعیّن زرعی انجینئر کرتے ہیں۔‏ ماہر کمپنیاں اُسکے کھیت کی زمین کے مطابق اُسے خاص قسم کی کھاد،‏ کیڑےمار ادویات اور مختلف بیج فراہم کرتی ہیں۔‏ یہ اعلیٰ تعلیم‌یافتہ کسان کاشت‌کاری کے اُن طریقوں کو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے جو اُسکے باپ‌دادا استعمال کرتے تھے۔‏ اگرچہ وہ اِس کام میں سخت محنت کر رہا ہے توبھی کئی لوگ کھیتی‌باڑی کے بعض جدید طریقوں کے نقصاندہ اثرات کے بارے میں پریشان ہیں۔‏

کسان آج بھی مسائل سے دوچار ہیں

ترقی‌یافتہ ممالک میں آج بھی بہت سے کسانوں کو اپنی زمینوں سے ہاتھ دھونے پڑ رہے ہیں کیونکہ وہ بڑی‌بڑی زرعی کارپوریشنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‏ اِسلئے بعض کسان اپنے گزربسر کی خاطر سیاحوں کیلئے رہائش گاہیں بناتے اور ہاتھ سے بنی ہوئی چیزیں تیار کرتے ہیں۔‏ نیز،‏ وہ اُنکے لئے سیروتفریح کے کیمپ لگانے کیلئے جگہ اور گالف کھیلنے کے وسیع میدان مہیا کرتے ہیں۔‏ بعض کسان خاص قسم کی چیزیں تیار کرتے،‏ کیمیاوی کھاد کے بغیر خوراک اور مختلف قسم کے پھول کاشت کرتے اور شترمُرغوں اور جنوبی امریکی بھیڑوں کے اپنے گلّوں کو بڑھاتے ہیں۔‏

غریب ممالک میں آبادی کا ۸۰ فیصد حصہ جو گزربسر کرنے کیلئے کاشت‌کاری کر سکتا ہے وہ بھی ایسی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔‏ عالمی کمپنیاں زمین کو زرخیز بنانے کیلئے کاشت‌کاری کے جدید طریقے استعمال کرتی ہیں تاکہ پیداوار کو دُوردراز علاقوں میں فروخت کر سکیں۔‏ بعض کسانوں کے پاس چند مشینیں ہیں جبکہ بعض کے پاس ایک بھی مشین نہیں ہے۔‏ اِسکے باوجود وہ سب اپنے خاندانوں کو خوراک فراہم کرنے کیلئے بنجر زمین یاپھر زمین کے ایک چھوٹے سے حصے میں کاشت‌کاری کرتے ہیں۔‏

اِس وقت بیشتر ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد کا گاؤں سے شہروں میں منتقل ہونا اُس تبدیلی کا نتیجہ ہے جو صدیوں پہلے واقع ہوئی تھی۔‏ اگرچہ کاشت‌کاری کے میدان میں ہونے والی اِس تبدیلی کی وجہ سے شہروں میں رہنے والے بعض لوگ فائدہ اُٹھا رہے ہیں توبھی دیگر ابھی تک غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔‏ اگرچہ کچھ حکومتیں متاثرہ لوگوں کو ضروری مدد فراہم کر رہی ہیں توبھی انسانوں کو خدا کی بادشاہت کی ضرورت ہے۔‏ کیونکہ خدا کی بادشاہت ایک ایسی تبدیلی لائیگی جو اُنکے لئے بہتر زندگی بسر کرنا ممکن بنا دیگی!‏—‏‏

کاشت‌کاری کے دو طریقے

رچرڈ کینیڈا کا رہنے والا ہے اور اُسکے پاس کھیتی‌باڑی کرنے کیلئے ۵۰۰ ایکڑ زرخیز زمین ہے۔‏ عام طور پر وہ اکیلا ہی کھتیوں میں کام کرتا ہے لیکن بویائی اور کٹائی کے موسم میں وہ اپنے ساتھ ایک مزدور رکھ لیتا ہے۔‏

رچرڈ کہتا ہے کہ ”‏آجکل کاشت‌کاری کے کام میں بھی جسمانی دباؤ کی نسبت ذہنی دباؤ زیادہ ہو تا ہے۔‏ میری فصل کاٹنے کی مشین اور میرے ٹریکٹر دونوں کے کیبن میں اےسی لگا ہوا ہے۔‏ جسکی مدد سے مَیں گرد اور کیڑےمکوڑوں سے محفوظ رہتا ہوں۔‏ میرے پاس ۳۰ فٹ چوڑی مشینیں ہیں جن سے مَیں ایک دن میں آدھی ایکڑ زمین میں بیج بو سکتا یا پھر کٹائی کر سکتا ہوں۔‏ کیونکہ مَیں اپنے کام کیلئے زیادہ تر مشینوں پر انحصار کرتا ہوں اِسلئے مَیں زیادہ دباؤ محسوس کرتا ہوں۔‏ بعض اوقات،‏ مشینوں میں کسی طرح کی تبدیلی کیلئے مجھے قرض لینا پڑتا ہے۔‏ مَیں یہ نہیں جانتا کہ سود پر لی گئی یہ رقم کب اور کیسے ادا کرونگا کیونکہ میری فصل کو متاثر کرنے والی قدرتی آفات اور مارکیٹ میں چیزوں کی قیمتوں میں اُتارچڑھاؤ پر میرا اختیار نہیں ہے۔‏ کاشت‌کاری میں درپیش دباؤ کی وجہ سے یہاں بھی لوگوں کی شادی‌شُدہ زندگی میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جوکہ بعض اوقات کسانوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔‏“‏

یوسیبیو اینڈیز میں رہتا ہے اور کاشت‌کاری کا کام کرتا ہے۔‏ اُسکے پاس ۱۴ مویشی بھی ہیں جنکی وہ دیکھ بھال کرتا ہے۔‏ وہ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں نے اُن سب کے نام رکھے ہوئے ہیں۔‏ مجھے کھیتی‌باڑی کرنا بہت پسند ہے۔‏ ہم اپنے لئے خود سبزیاں اُگاتے ہیں۔‏ مَیں اور میری بیوی ہل چلانے اور فصل کاٹنے میں اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتے ہیں اور وہ ہماری مدد کرتے ہیں۔‏ ہم میں سے کسی کے پاس مشینیں نہیں ہیں۔‏ ہم سب بیلوں کی مدد سے ہل چلاتے اور بیلچوں سے زمین کھودتے ہیں۔‏

ایک مرتبہ وبا نے ہمارے بہت سے مویشیوں کو مار ڈالا۔‏ اِسکے بعد مَیں نے جانوروں کا علاج کرنے کے سلسلے میں کچھ تربیت حاصل کی۔‏ اُس وقت سے لے کر ہمارا ایک بھی جانور بیماری کی وجہ سے نہیں مرا۔‏ اب مَیں پڑوسیوں کے جانوروں کا بھی علاج کرتا ہوں۔‏ ہم گاؤں کی دُکانوں پر پنیر بیچتے ہیں مگر اِس سے کچھ خاص آمدنی نہیں ہوتی۔‏ اِسکے باوجود ہمارے پاس اپنے چھ بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے بہت کچھ ہے۔‏“‏


سن ۱۸۳۱ میں ایجاد ہونے والی میک‌کورمک ریپر مشین جس نے کسانوں کیلئے پہلے کی نسبت ۵ گُنا تیزی کیساتھ فصل کاٹنا ممکن بنا دیا۔


روشنی میں کھیرے کی پلاسٹک ٹنل میں کاشت کا جو مشاہدہ کیا وہ مندرجہ ذیل ہے :

 1. جہاں کھیرا لگانا ہو وہ زمین لیزر لیول کروا لیں . 
2. زمین کی تیاری کے وقت دو سے تین بوری ڈی اے پی ، ایک سے ڈیڑھ بوری ایس او پی اور 8 کلوگرام فیوراڈان زہر اچھی طرح زمین میں ملائیں .
3. بیڈ سائز 2 فٹ چوڑا رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ پونے فٹ سے ایک فٹ تک ہونا چاہیے .
 4. چوپہ کاشت کی صورت میں 48 گھنٹے کے اندر اندر پچاس فیصد اگاؤ آ جاتا ہے 50 فیصد اگاؤ آتے ہی ٹنل کے گیٹ سورج کی روشنی میں کھول دیں .
 5. روزانہ صبح سورج نکلتے ہی تمام ٹنلز کے گیٹ اوپن کریں اور 3 سے 4 بجے کے درمیان بند کر دیں .
6. دھند یا بارش کی صورت میں گیٹ بند رکھیں . 
7 .جب تک پودے کے 4 پتے نہ بن جائیں کسی بھی قسم کا سپرے مت کریں . 
8. جس کمپنی کا بیج ہو اس کمپنی سے سپرے پروگرام مرتب کروائیں اور ہر کسی کے مشورے پر عمل کرنے سے اجتناب کریں . 
9. وتر آنے پر واٹر چینلز میں ایک یا دو دفعہ گوڈی لازمی کریں . 
10. سپرے پروگرام میں امائنو ایسڈ اور این پی کے کا استعمال لازمی کریں . 
11. ٹنلز میں نمی کا تناسب دیکھتے ہوۓ پانی لگائیں جو عمومن پہلی چنائ کے بعد لگایا جاتا ہے .
12. پہلے پانی پہ ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی یا لیکوئڈ پوٹاش ایک گیلن فلڈ کریں جس سے لگاتار چنائیاں شروع ہو جائیں گی .
13. ایک پانی چھوڑ کے اور پھر پلاسٹک اترنے کے بعد ہر پانی پر کھاد لازمی فلڈ کریں .
14. گرمی کے دنوں میں روزانہ شام کو پانی دیں . نوٹ : ٹنلز میں نمی نہ بڑھنے دیں روزانہ گیٹ کھولیں ورنہ ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے .


چونکہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لیے تیل دار اجناس کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ سامنے آیا ہے ۔ جبکہ
ہمارے ملک میں اس کی طرف خاصہ رجحان نہیں اس لیے اجناس کی قلت مہنگائی کو جنم دیتی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو بلی کا بکرا بننا پڑتا ہے ۔ ہمارے ملک میں  ضرورت کا صرف 20سے30فیصد خوردنی تیل پیدا کیا جاتا ہے جبکہ باقی کی ضروریات دوسرے ممالک کی بدولت پوری کی جاتی ہیں ۔ ہماری روایتی تیل دار فصلیں کپاس ، رایا اور سر سوں وغیرہ ہے ۔ جبکہ غیر روایتی فصلیں کینولا ، سورج مکھی اور سویا بین وغیرہ ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان غیر روایتی فصلوں کی کاشت روایتی فصلوں  سے خاصی آسان ہے کیونکہ یہ کم عرصے میں تیار ہو جاتی ہیں ۔ اور اس کے علاوہ ان میں تیل کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے اس لیے کسانوں کو چاہیے کہ اپنا رجحان ان فصلات کی طرف بھی لائیں تاکہ پاکستان کو تیل کے حوالے سے دوسرے ممالک کا محتاج نہ ہونا پڑے ۔ چونکہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اس لیے اس کو مکمل طور پر استعمال میں لانا چاہیے ۔ اب میں آپ سے چند غیر روایتی روغنی اجناس کی کاشت کے حوالے دوچار ہوں گا ۔ سب سے پہلے کینولا کی کاشت کے بارے بتاؤں گا ۔ ویسے تو کینولا سر سوں کی ایک ترقی یافتہ قسم ہے اور اس کے علاوہ یہ منافع بخش فصل بھی ہے اس لیے اس کی طرف رجحان ملکی معیشیت کے لیے موزوں ہے ۔ اس فصل کی کاشت کے لیے ہر قسم کی زمین موزوں ہے مگر سیم تھور اور ریتلی زمین میں فصلکامیاب نہیں بلکہ پیسے کا ضیاع ہے ۔ اچھی پیداوار کے حصول کے لیے آبپاشی کا نظام بہتر ہونا لازم ہے ۔ زمین کی تیاری کی بات کی جائے تو بارانی علاقوں میں سہاگہ اور ہل کی مدد سے وتر کو محفوظ کرنا لازمی ہے جبکہ نہری علاقوں میں کاشت کے لیے کاشت سے قبل تین مرتبہ ہل لازمی چلائیں اور اس کے بعد زمین کی ہمواری کے لیے سہاگہ دے دیں ۔ پنجاب کے تمام علاقوں میں  کینولا کو 20ستمبر تا 31اکتوبر تک کاشت کیا جاسکتا ہے اور کاشت میں تا خیر سے پر ہیز کریں اس وجہ سے فصل کی بہت کم پیداوار حاصل ہو گی اور یہ کاشتکار کے لیے نہایت نقصان دہ ہے ۔کینولا کی کاشت کے لیے گندم کاشت کرنے والی ڈرل کا استعمال کریں ۔ شرح بیج کی بات کی جائے تو یہ دو کلو کافی ہے جبکہ اہم بات یہ کہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 14سے18انچ مناسب ہے ۔ ڈرل نہ ہونے کی صورت میں اسے چھٹہ دے کے بھی کاشت کیا جا سکتا ہے ۔ کاشت سے قبل بیجوں کو کم از کم 12سے 14گھنٹے بھگوائیں اور اچھی پیداوار  کے حصول  کے لیے بیج کا معیار ہونا لازمی ہے ۔ کھادوں کی بات کی جائے تو  ایک بوری یوریا ، ایک بوری ڈی ،اے ، پی  اور ایک بوری ایس ، او ، پی کافی ہے ۔ فصل کی کامیابی کے لیے تین سے چار آبپاشی ضروری ہے جبکہ نہ اس سے کم نہ زیادہ مگر موسم کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ۔ کینولا کی فصل پر کیڑوں کے حملے کی بات کریں تو اس سنڈیاں اور تیلہ حملہ کرتا ہے ۔ اور یہ حملہ پھول یا پھیلیاں بنتے وقت ہوتا ہے اس لیے اسے محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق کنٹرول کریں ورنہ پیداوار میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے اس کے علاوہ فصل کو جڑی بوٹیوں سے بھی محفوظ رکھیں تاکہ یہ کیڑوں کے لیے آماج گاہ نہ بنیں ۔ اب آپ کو سویا بین کی کاشت کے حوالے سے بتا ات چلوں کہ یہ بھی ایک نہایت منافع بخش فصل ہے اس میں 40فیصد تک پروٹین پائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں بیس فیصد تک بہترین قسم کا تیل  پایا جاتا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے سویا بین کا تیل موزوں سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کا آٹا شوگر کے مریضوں کے لیے نہایت مفید ہے ۔ کاشت کے لحاظ سے سویا بین کے لیے میرا زمین کا  انتخاب موزوں ہے ۔ جبکہ کلراٹھی زمینوں میں اسے کاشت کرنے سے پر ہیز کریں ۔ کاشت ہمیشہ صبح یا شام کے وقت وتر  مین کریں اچھی پیداوار حاصل  ہوگی ۔ صوبہ پنجاب میں بہار یہ فصل کے لیے سویا بین کا وقت کاشت فروری ہے ۔ جبکہ خزاں کی فصل کے لیے کاشت کا وقت جون تا اگست ہے ۔ شرح بیج 35کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں اور بیج اچھی کوالٹی کا ہو ۔ اس کے علاوہ کھادوں کا استعمال صرف ایک بوری ، ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا بوقت کاشت اور آدھی بوری یوریا یا دوسرے پانی پر استعمال کریں ۔ ویسے تو سویا بین کو عموماً 6سے7آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بہاریہ فصل کو پہلاپانی اُگاؤ کے تین سے چار ہفتے بعد دینا چاہیے ۔ اور خزاں کی فصل کو پہلا پانی اُگنے کے ایک سے دو ہفتے بعد دے دینا چاہیے ۔ سویا بین پر تیلہ سفید مکھی اور لشکری سنڈی حملہ آور ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ جوؤں کا حملہ بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔ خصوصاً  جڑی بوٹیوں سے فصل کو پاک رکھیں اور کیڑے مار ادویات کا درست انتخاب کریں ۔ آخر میں سورج مکھی کی کاشت کی بات کریں تو اصل فصل کو بہتر بڑھوتری کے لیے میرا زمین درکار ہے ویسے تو یہ ہر قسم کی زمین میں ہو جاتی ہے مگر چونکہ ہمارا مقصد زیادہ پیداوار ہے اس لیے میرا زمین کا انتخاب کریں ۔ موسم خزاں میں اس کو یکم جولائی سے 10 اگست تک زیرِ کاشت لایا جا سکتا ہے جبکہ موسم بہار میں اس فصل کا وقت کاشت فروری کا مہینہ ہے ۔ سورج مکھی  کی کاشت کے لیے دو سے تین کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہے مگر بیج صاف ستھرا ہونا چاہئے ۔ کھادوں کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ نہری علاقوں میں ایک بوری ، ڈی اے پی، ایک بوری ،ایس او پی ، بوائی کے وقت جبکہ آدھی بوری یوریا پہلے پانی پر اور آدھی بوری دوسرے پانی پر استعمال کریں اس کے علاوہ ایک بوری یوریا ڈوڈیاں بنتے وقت استعمال کریں ۔ اس فصل کو چار سے پانچ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے سبز تیلہ ، سست تیلہ ، چور کیڑا اور دیگر سنڈیوں سمیت مختلف کیڑوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لیے وقت ِ مدافعت والی اقسام کاشت کریں اور فصل کو جڑی بوٹیوں سے ہمیشہ پاک رکھیں ۔ حکومت پنجاب  محکمہ زراعت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو تیل دار اجناس کی کاشت پر مائل کریں تاکہ ہمارا ملک معاشی طور پر مزید ترقی کر سکے ۔


1۔۔
ایک ڈرم پلاسٹک 200 لٹر ۔۔۔۔ حوص،پکا کھاڈا ۔۔ٹیوب ویل کے جیسا۔۔15/10 فٹ گول ۔۔۔اور 4 فٹ اونچا۔
2۔۔

اس میں مندرجہ زیل چیزیں ڈال دیں۔۔۔۔
1۔۔۔
گوبر ۔۔۔نرم ،۔گیلی ۔۔۔۔۔۔15۔کلو فی ایکڑ۔
2۔۔۔
پیشاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔15 لٹر فی ایکڑ ۔۔پا زپادہ ۔۔۔دوگنا ۔۔تین گنا ۔۔3۔۔۔
گڑ ۔۔۔۔5۔1 کلو فی ایکڑ ۔۔۔
4۔۔
دال کا آٹا 5۔1 کلو فی ایکڑ۔
5۔۔۔
مٹی ۔۔بوہڑ ۔ پیپل کے درخت کے نیچے سے۔۔
6۔۔۔
اس کو گول لیں۔ اچھی طرح ۔۔روزانہ۔۔۔
7۔۔
اپ کی ارگینک کھاد تیار ہے ۔۔۔
8۔۔
نوٹ۔۔۔۔حوض کو زمین کے اوپر بنایں۔۔۔
9۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔فائدے۔ ۔

10۔
زمین نرم ، زرخیز، بھربھری ہو گی۔۔۔
وتر ۔نمی ۔زیادہ دیر رکھےگی۔۔۔۔۔۔
پانی کم لے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
نامیاتی مادہ میں اضافہ ہو گا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ Earth worm پیدا کرے گی ۔۔۔۔


گلاب دنیا میں سب سے زیادہ اُگایا جانے والا کٹ فلاور ہے۔ تمام کٹ فلاور کی برآمدات میں تقریباً 50 فیصد حصہ کٹ گلاب کا ہے۔
گلاب کا تعلق روزیسی فیملی سے ہے۔ اس کی 200 سے زاٸد پرجاتیاں ہیں۔ جن پر الگ الگ اور گوچھے کی صورت میں پھول لگتے ہیں۔ گلاب کو اس کی خصوصیات کی وجہ سے مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کا ذکر الگ ایک تحریر کی صورت میں کیا جاٸے گا۔
پاکستان کے گلاب اُگانے والے علاقے:
پتوکی (قصور)، اسلام آباد، راولپینڈی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان (میلسی) میں زیادہ تر کٹ گلاب کاشت کیا جاتا ہے۔
جبکہ پتیوں (تولواں گلاب) کے لیے قصور، ساہیوال، لاہور، راولپینڈی، پاکپتن اور حیدرآباد میں کاشت کیا جاتا ہے۔
زمین:
گلاب کو بہت سی اقسام کی مٹی میں اُگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اچھی نکاسی والی، زرخیز، ہلکی میرا زمین جس کی پی ایچ (Ph) 6 سے 7 ہو۔ اس کی کاشت کے لیے بہت موزؤں ہے۔ گرین ہاؤس میں سوٸل لیس میڈیا کا استعمال، اس کی پانی کو زیادہ دیر تک جزب رکھنے کی صلاحیت، ہوا کی دستیابی اور جلد اجزا (nutrients) کی فراہمی جیسی خصوصیات کو وجہ سے کیا جاتا ہے۔


موسم گرما کی سبزیوں کدو، کریلا، بھنڈی ، ٹماٹر، بینگن، بیل توری ،سبز مرچ وغیرہ کی کاشت کا وقت قریب ہے جن دوستوں نے
موسم گرما کی سبزیاں لگانے کا پلان کیا ہے جلد از جلد مرچ اور ٹماٹر کی پنیریاں کاشت کر لیں یا مطلوبہ پنیریوں کا انتظام کر لیں اور زمین کی تیاری جلد از جلد مکمل کر لیں .
زمین کی تیاری اور کھادیں :
سب سے پہلے زمین کو لیزر لیول کروائیں .ایک سال پرانا گلا سڑا گوبر یا کمپوسٹ 4 تا 5 ٹرالی فی ایکڑ زمین میں ڈالیں اور اچھی طرح سے روٹاویٹ کر کے ہل چلائیں . ہر تیسرے یا چوتھے دن سہاگہ دے کے ہل چلاتے رہیں کہ 15 فروری تک زمین کی مٹی پاؤڈر نما ہو جاۓ .جن کی زمینیں کمزور ہیں سوائل لیبارٹری سے مٹی کا ٹیسٹ کروا لیں اور جن بھائیوں کی زمینیں فصلیں اگاتی ہیں بوقت کاشت دو بوری ڈی اے پی ،ایک بوری ایس او پی ،ایک بوری ایمونیم سلفیٹ ،اور 8 کلوگرام فیوراڈان فی ایکڑ ڈالیں اور آخری دفعہ روٹاویٹر چلا کر فصلوں کے مطابق بیڈ شیپر یا لیبر کی مدد سے مطلوبہ بیڈز تیار کر لیں .
بیج کو زھر لگا کے کاشت کریں :
بیج کو عام طور پر صرف تھائرم سے ٹریٹ کر کے پیک کیا جاتا ہے جو قطن بھی فنگس اور پیسٹس سے محفوظ نہیں کر پاتا.اس لئیے بیج کو خشک کپڑے پر بچھا دیں اور ٹاپسن ایم 2.5 گرام ، امیڈا کلوپرڈ 2.5 گرام اور 10ملی لیٹر پانی کا مکسچر بنا کے بیج پر چھڑکاؤ کریں اور دوسرے ہاتھ سے بیج کو لگاتے جائیں یہاں تک کے مکسچر ہر ایک بیج کے ساتھ چپک جاۓ . پھر 2 سے 4 گھنٹے بیج کو چھاؤں میں پڑا رہنے دیں کہ اچھی طرح خشک ہو جاۓ
مختلف سبزیوں کے لئیے بیڈز کے سائز اور پودے سے پودے کا فاصلہ :
بھنڈی،بینگن اور سبزمرچ کے بیڈز کا سائز 2 فٹ چوڑا رکھیں .مرچ اور بینگن کے پودے سے پودے کا فاصلہ 2 فٹ اور بھنڈی کے بیج کا چوپہ 2 سے 3 انچ کے فاصلے سے بیڈ کی دونوں اطراف میں کریں . کدو،ٹماٹر،کریلا،بیل توری کے بیڈز کا سائز چار فٹ رکھیں . ٹماٹر کے پودے سے پودے کا فاصلہ دوفٹ اور کدو،کریلا ،بیل توری کے بیج کا چوپہ ڈیڑھ سے دو فٹ کے فاصلے پر کریں لیکن چار فٹ بیڈ سائز پہ کدو،کریلا اور بیل توری کو بانس لگا کر جال پر چڑھانا ہوگا جو ان فصلوں کی بھرپور پیداوار لینے کا بہترین طریقہ ہے .اگر جال نہ لگانا ہو تو بیل توری،کدو اور کریلے کی فصل کے لئیے بیڈز کا سائز 8 فٹ رکھیں .
کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ :
جب پودے چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں تو ان کو نگہداشت اور دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.روزانہ کی بنیاد پر دن میں دو دفعہ فصل کا بغور معائنہ کرتے رہیں . تیلہ،ٹوکہ ،سرخ ب . عام طور پر آپ کے سٹاک میں امائینو ایسڈ، این پی کے ، بائ فینتھرین ، امیڈا،پائری،مینکوزیب وغیرہ کے پراڈکٹس کا ہونا ضروری ہے
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ :
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ بذریعہ گوڈی لگاتار جاری رکھیں .

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget