کالم لسٹ "دالیں"

اگر آپ سبزیوں کی ٹنل فارمنگ کے کاروبار سے وابسطہ ہیں تو پھر آپ نے کریلے کی ہائبرڈ ورائٹی کہسار اور اسی طرح کھیرے کی ہائبرڈ ورائٹی یالا کا نام تو ضرور سنا ہو گا.
کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں ہائبرڈ ورائٹیاں فیصل آباد سے جنوب کی طرف کوئی 80 کلو میٹر دور ماموں کانجن میں واقع وسیع و عریض گرین ہاؤسز میں تیار کی جاتی ہیں. بنیادی طور پر یہ گرین ہاؤسز میاں شوکت علی کے رقبے پر واقع ہیں جنہیں اعلی سائنسی اصولوں کو مد نظر رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے.

چند روز قبل، راقم کو مذکورہ گرین ہاؤسز دیکھنے کا اتفاق ہوا جہاں میاں شوکت علی سے کوئی ایک گھنٹے کی ملاقات رہی.
پاکستان میں سبزیوں کی ٹنل فارمنگ اور ہائبرڈ بیج کی تیاری کے آغاز کا سہرا میاں شوکت علی کے سر جاتا ہے.
میاں شوکت علی ماموں کانجن سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 80 کی دہائی میں بی ایس سی آنرز ایگری انجینئرنگ اور بعد ازاں اسی ادارے سے ایم ایس سی آنرز ایگری انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی.
نوے کی دہائی میں جب انہیں یورپ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں انہوں نے کسانوں کو ٹنل کے اندر سبزیاں اگاتے ہوئے دیکھا. پاکستان میں واپس آ کر انہوں نے ایک چھوٹی سی ٹنل بنا کر تجرباتی طور پر ٹنل فارمنگ کا آغاز کیا. ایک آدھ ناکامی کے بعد میاں شوکت علی اپنے تجربات میں کامیاب ہو گئے اور وسیع پیمانے پر ٹنل فارمنگ کا آغاز کر دیا جس کی دیکھا دیکھی پورے پنجاب اور پاکستان میں ٹنل فارمنگ کا رواج پڑتا گیا. آج ٹنل فارمنگ کا شعبہ، پاکستان کی زراعت میں ایک اہم شعبے کی شکل اختیار کر چکا ہے.
ابتدا میں میاں شوکت علی سبزیوں کی پیداوار سے ہی وابسطہ رہے جس کے لئے انہیں ہائبرڈ بیج بیرونی ممالک خاص طور پر ہالینڈ سے درآمد کرنا پڑتا تھا.جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ اگر پاکستان میں ٹنل فارمنگ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہائبرڈ بیج باہر سے درآمد کرنے کی بجائے پاکستان کی سر زمین پر ہی تیار کیا جائے.
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی دلچسپی بریڈنگ کے شعبے میں پیدا ہونا شروع ہوئی اور انہوں نے اپنے طور پر بریڈنگ کے اسرارو رموز کو سیکھنا اور سمجھنا شروع کر دیا.
چند سالوں بعد انہوں نے ترکی کی ایک معتبر سیڈ کمپنی یکسل سیڈ سے معاہدہ کر کے ماموں کانجن میں گرین ہاؤسز قائم کر دئیے.اس معاہدے کی رو سے پاکستان میں ہائبرڈ بیج کی پیداوار شروع کر دی گئی. اس وقت ان گرین ہاؤسز میں 500 کے قریب کارکن کام کر رہے ہیں جو ہائبرڈ بیجوں کے مختلف پیداواری مراحل کو سر انجام دینے میں مصروف رہتے ہیں.
یکسل سیڈ ایشیا ماموں کانجن پاکستان نے کھیرے اور کریلے کی کئی ہائبرڈ ورائٹیاں مارکیٹ میں پیش کیں جن میں کہسار اور یالا دونوں ورائٹیاں کسانوں کے بہترین اعتماد کو چھو رہی ہیں. کسانوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ دونوں ورائٹیاں معیار اور قیمت کے لحاظ سے ملٹی نیشنل کمپنوں کو بھی پیچھے چھوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں.

میاں شوکت علی زراعت کے ساتھ ایک ایسی لگن رکھتے ہیں جو کاروباری لگاؤ سے بالاتر ہے. ان کی اسی لگن نے انہیں دنیا بھر کی سیر کروائی ہے جہاں وہ محض زراعت دیکھنے اور سمجھنے کے لئے جاتے رہے ہیں. وہ نہ صرف پاکستان میں حکومتی سطح پر اپنے تجربات شیئر کرتے رہتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر دنیا کی کئی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں زراعت پر لیکچر دینے کے لئے وقت نکالتے رہتے ہیں.

حال ہی میں میاں شوکت علی نے کم و بیش 5 کروڑ کی لاگت سے ہائی ٹیک لیبارٹری بنائی ہے جو نجی شعبے میں اپنی مثال آپ ہے. اس لیبارٹری میں پاکستان کے نہائیت محنتی اور ہنرمند پروفیشنل کام کر رہے ہیں. اس لیبارٹری کے قیام سے پاکستان میں ہائبرڈ بیج کی تیاری کو ایک نیا رخ ملے گا.
راقم کے لئے یہ بات نہائیت خوشی کا باعث ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کے کام کو میاں شوکت علی بڑھاوا دے رہے ہیں. مجھے ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک محب وطن اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے کاروباری مفاد سے بالا تر ہو کر حکومتی اور نجی سطح پر ہائبرڈ بیجوں کی تیاری اور خاص طور پر پیرنٹ لائنز کی تیاری کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں. مجھے قوی امید ہے کہ بہت جلد پاکستان ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کے سلسلے میں مکمل طور پر خود مختار اور خود کفیل ہو جائے گا انشاء اللہ.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

بنیادی طور پر اروی کا شمار "جڑوں" میں کیا جاتا ہے اور زیرِ زمین ہونے کی وجہ سے اس میں بھی نشاستے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، لہٰذا مزا مٹھاس پر مبنی ہوتا ہے۔اروی کا تعلق آلو کی طرح جڑدار ترکاریوں میں کیا جاتا ہے۔نباتاتی طور پر اروی کا گروہ Araceae تسلیم کیا گیا ہے جس میں نشاستہ دار زیرِ زمین ترکاریاں شامل ہوتی ہیں۔مونگ پھلی ان کی سب سے چھوٹی نوع ہے جبکہ آلو ، شکرقندی،اروی،رتالو وغیرہ ان کی جسامت کے لحاظ سے نسبتاً بڑی انواع ہیں۔ اروی کی کاشت دنیا بھر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جن میں شمالی مشرقی ایشیاء ، شمال مغربی ایشیاء،برّاعظم افریقہ، یورپ اور آسٹریلیا کے علاقے شامل ہیں۔ منطقۂ حارہ کے کچ خطّوں میں اروی سدابہار ترکاری کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اروی بنیادی طور پر جڑ تسلیم کی جاتی ہے جو انتہائی خوش ذائقہ رنگت کے اعتبار سے سیاہی مائل یا سلیٹی چھلکا کُھرچنے کے بعد انتہائی دیدہ زیب اور سالن میں پکنے کے بعد سفیدی مائل بہترین ذائقہ کی حامل ہوجاتی ہے۔اروی زیرِ زمین ہوتی ہے جبکہ اس کے پتّے زمین کے اوپر ہوتے ہیں جو سبز اور چوڑے ہوتے ہیں اور یہ بھی غذا کا ایک جُزو شمار کیے جاتے ہیں۔تاریخی طور پر اروی کی کاشت قبلِ مسیح سے کی جارہی ہے، جنوبی ایشیاء کے علاقوں میں اروی سکندرِ اعظم کے زمانے میں کاشت کی گئی جسے آلو کے بیجوں سے بھی نیم پُختہ شکل میں حاصل کیا جاتا تھا اور اسی کی پکی ہوئی شکل کو رتالو کا نام دیا جاتا ہے۔

اروی کی کاشت 15 اگست سے شروع ہوکر 15 نومبر تک کی جاتی ہے ۔ اروی کی کاشت کیلیئے زمین کا انتخاب بیحد ضروری ہے ۔ اروی کی کاشت کیلیئے نرم زمین کا ہونا ضروری ہے سندھ میں اروی کی کاشت پیاز کے ساتھ کرنے کا رواج بھی عام جام ہے یعنی پیاز کی کھیلیوں پر کاشت کرنے کے بعد اس کی کاشت کی لائن کے بلک دو انچ نیچے اروی کاشت کی جاتی ہے ۔ ویسے یہ اور بھی فصلوں کے ساتھ کامیابی سے کاشت ہوسکتی ہے زمین کو بھتر طریقے سے ہل وغیرہ دے کر اس میں 10 سے 15 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر اچھی طرح ہل کی مدد سے زمین میں ملادیں اسکے بعد 4 بوری ایس ایس پی اور ایک بوری امونیم نائٹریٹ یا تین بوری نائٹروفاس زمین میں ڈال کر کھیلیاں بنالیں یاد رہے کہ کھاد کی یہ مقدار صرف اروی کی کاشت کیلیئے ہیں یعنی اس میں کوئی اور مخلوط کاشت نہ ہو اگر پیاز کے ساتھ کاشت کرنی ہے تو کھاد کو پیاز کی کھاد کی سفارشات پر دینا ہوگا بیج کی مقدار تقریبن 750 کلوگرام سے 850 کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے اچھی نتائج دیتی ہے ۔ کھیلیوں پر 15 سے 20 سینٹی میٹر کے فاصلے پر 5 سے 8 سینٹی میٹر گھرا بیج لگادیں یہ کھیلیوں کی ایک طرف لگتی ہے ۔ ہر 7 ویں دن پانی کا دینا لازمی ہوتا ہے اور جب فصل 30 سینٹی میٹر تک ہوجائے تو 2 سے 3 قسطوں میں 5 سے 7 بوریاں امونیم نائٹریٹ کی فی ایکڑ ضرور ڈالیں ۔ ویسے اس فصل کو کسی پیسٹی سائیڈ کی ضرورت نہیں پر 
موسم گرما کی شدت میں بتدریج اضافہ کے ساتھ ہی اروی کی فصل پر دیمک کے حملہ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ گوڈی کے دوران شگوفےتوڑتے سمیت کلور پائریفاس کا سپرے بھی کریں تا کہ اروی کی پیداوار کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ تقریبن 9 مھینے کی فصل ہے ۔ اروی کی فی ایکڑ پیداوار اندازن 2000 سے 2500 کلوگرام ہوتی ہے ۔ اروی کی فی ایکڑ آمدن اندازن 140000 روپے سے لیکر 350000 روپے ہوسکتی ہے ۔

پھول گوبھی غذائیت سے بھرپور ریشہ دار سبزی ہے۔ پھول گوبھی وٹامن سی، مینگانیز، بیٹاکیروٹین اور فولک ایڈ کا اچھا ذریعہ ہونے کی وجہ سے دل اور کینسر جیسی بیماریوں کے خطرہ کو کم کرتی ہے۔ اس میں وٹامن کے اور اومیگا تھری، فیٹی ایسڈز کی موجودگی معدے کے کینسر، جوڑوں کی سوزش، موٹاپا اور ذیابیطس کی بیماریوں کے خطرہ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ابلی ہوئی گوبھی کا ایک کپ معدے سے غیر ضروری اشیاء کی صفائی کا سبب بنتا ہے۔
آب و ہو:۔ پھول گوبھی سرد مرطوب آب و ہوا میں اچھی پیداوار دیتی ہے۔ پھول گوبھی کیلئے مناسب درجہ حرارت 17 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ لیکن پکنے کے وقت اگر درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے تو اس کی نشوونما پر برا اثر پڑتا ہے۔ اگر درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے تو سبز پتیاں نکل آتی ہیں جس سے پھول کی کوالتی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اقسام اور وقت کاشت:۔ موسمی حالات پھول گوبھی پر بہت جلد اثر انداز ہوتے ہیں لہٰذا مختلف موسموں میں مختلف اقسام ہی کاشت کرنی چاہئیں ورنہ اچھی پیداوار حاصل نہیں ہو گی۔ پھول گوبھی کی قسم اگیتی نمبر 2 کی 15 جولائی تک کاشتہ پنیری کو اگست کے آخری ہفتہ میں کھیت میں منتقل کریں۔ درمیانی اقسام کی پنیری ماہ اگست میں کاشت کی جاتی ہے اور کھیت میں منتقلی ستمبر کے مہینے میں ہوتی ہے جبکہ پچھیتی اقسام کی پنیری ماہ اکتوبر میں لگائی جاتی ہے جسے ماہ نومبر میں کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
شرح بیج:۔ شرح بیج کا دارومدار بیج کے اگاؤ کی صلاحیت اور پود لگانے کے طریقے پر منحصر ہے۔ موسم گرما میں اگیتی اقسام کی پنیری کی کاشت کے وقت زیادہ درجہ حرارت پودوں کی شر اموات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اگر شرح اموات کنٹرول کر لی جائے تو بیج کی تھوڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگیتی اقسام کیلئے ۱یک کلو بیج جبکہ درمیانی اور پچھیتی اقسام کیلئے آدھا کلو بیج فی ایکر کافی ہوتا ہے۔
پنیری اگانے کا طریقہ:۔ صحتمند اور بیماریوں سے پاک پنیری اگانے کیلئے زرخیز اور نامیاتی مادوں سے بھرپور زمین کا انتخاب کریں۔ آبپاشی کیلئے پانی ہر لحاظ سے موزوں ہو، زمین پھپھوند والی بیماریوں سے پاک ہو۔ موزوں اقسام کا انتخاب کریں اور بوائی وقت پر کریں۔ کیاریوں کی زمین بالکل ہموار اور بھربھری ہو۔ کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک ہو۔ ایک ایکڑ اگیتی فصل کی پنیری اگانے کے لئے 5-4 مرلہ زمین میں بجائی سے ایک ماہ قبل ایک ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ملا کر آبپاشی کریں۔ داب کے ذریعے جڑی بوٹیاں تلف کر کے زمین اچھی طرح تیار کر لی جائے۔ 120×100 میٹر رقبہ پر 10 سینٹی میٹر بلند بالکل ہموار کیاریاں بنا لیں تاکہ بارش ہونے کی صورت میں پانی پنیری والی جگہ پر ٹھہر نہ سکے۔ بیج کو پھپھوند کی بیماریوں سے بچانے کے لئے تھائیوفینیٹ میتھائل زہر بحساب 2 گرام فی کلوگرام بیج لگا کر کاشت کریں۔ تیار شدہ کیاری میں 6 تا 7 سینٹی میٹر کے فاصلے پر ایک سینٹی میٹر گہری لکیروں میں مناسب کیرا کریں اور بیج کے اوپر مٹی کی ہلکی سی تہہ چڑھا دیں۔ پنیری کو شام کے وقت کاشت کر کے سرکنڈے کی سرکی سے ڈھانپ دیں اور صبح شام فوارے سے اس طرح آبپاشی کریں کہ زمین وتر حالت میں رہے۔ اس طرح تین چار دن میں پنیری اگ آئے گی۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ بیج کے اگاؤ کے بعد سرکندے کی سرکی شام کے وقت اتار دیں ورنہ پودے کمزور ہو جائیں گے۔ اگیتی اور درمیانی اقسام کی پنیری 35 سے 40 دنوں میں جبکہ پچھیتی اقسام کی 35 دنوں میں منتقلی کے قابل ہو جاتی ہیں۔ کھیت میں منتقلی والے دن پنیری والی کیاریوں کو پانی دے دیں تاکہ زمین نرم ہو جائے اور نرسری اکھاڑتے وقت پودوں کے ساتھ کافی جڑیں رہ جائیں۔
زمین کی تیاری، کھادیں اور طریقہ کاشت:۔ پھول گوبھی کی کامیاب کاشت کے لئے اچھی ساخت والی زرخیز میرا زمین جس میں نامیاتی مادہ کافی ہو اور پانی کا نکاس بہتر ہومنتخب کرنی چاہیے۔ کاشت سے تقریباً ایک ماہ پہلے15 تا 20 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں اچھی طرح ملا کر آبپاشی کر دی جائے اور داب کے طریقہ سے جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کیا جائے۔ بوائی کے وقت دو بوری امونیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر زمین تیار کر کے کنال سائز کے کیارے بنا لیں۔ 75 سینٹی میٹر کے فاصلے پر کھیلیاں بنا کر ان میں پانی چھوڑ دیں اور شام کے وقت پنیری وتر والی جگہ پر کاشت کریں۔ پہلی اگیتی کے پودے 30 سینٹی میٹر کے فاصلے پر کھیلی کے ایک طرف لگائیں جبکہ دوسری اگیتی اور درمیانی گوبھی کے پودے 45 سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگائیں۔ پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ بعد پودوں کو مٹی چڑھا کر 3/4 بوری یوریا ڈال دیں۔
آبپاشی:۔ پھول گوبھی کے اچھے پھول حاصل کرنے کیلئے زمین میں مناسب نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا پانی نرسری کی منتقلی کے فوراً بعد دے دیں۔ اگیتی اقسام کی پہلی تین آبپاشیاں 4 دن کے وقفہ سے کریں پھر حسب ضرورت آبپاشی کریں۔ پچھیتی اقسام کو پہلے دو پانی ہفتہ وار اور پھر حسب ضرورت آبپاشی کریں۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی:۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ گوڈی یا جڑی بوٹی کش ادویات کا استعمال کریں۔ زیادہ گہری گوڈی نہ کریں۔ پنیری کی منتقلی کے 30 دن بعد گوڈی کر کے مٹی چڑھا دیں۔
بیماریاں اور کیڑے:۔ پھول کا اگاؤ، روئیں دار پھپھوند، اگیتا جھلساؤ اور پچھیتا جھلساؤ اہم بیماریاں ہیں۔ جبکہ نقصان رساں کیڑوں میں امریکن سنڈی، گوبھی کی تتلی، لشکری سنڈی اور مولی بگ فصل پر حملہ آور ہونے والے کیڑے ہیں۔ کاشتکار ان ضرر رساں کیڑوں و بیماریوں کے کیمیائی تدارک کیلئے زہروں کا استعمال محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے فیلڈ عملہ کے مشورہ سے کریں۔
برداشت:۔ جب پھول مناسب سائز کے ہو جائیں تو انہیں برداشت کر لیں اور ہر تیسرے روز فصل کا معائنہ کرتے رہیں تاکہ تیار شدہ پھول برداشت ہو سکیں۔ پھول زیادہ دیر تک کھیت میں رکھنے سے پھول کا سفید رنگ اور ٹھوس حالت برقرار نہیں رہتی اور اس قسم کے پھول کو گاہک پسند نہیں کرتا اور مارکیٹ میں اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔

سبزیاں اپنی غذائی و طبی اہمیت کی وجہ سے ’’حفاظتی خوراک ‘‘کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں اور انسانی خوراک کا بنیادی جزو ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کے لیے تمام ضروری غذائی اجزاء مثلا نشاستہ ،لحمیات ،حیاتین، نمکیات، لوہا، چونا، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں میسر ہیں۔طبی لحاظ سے بھی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔ سبزیاں جسم سے نہ صرف فاضل مادوں کے خراج میں مدد دیتی ہیں بلکہ آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی اور دماغ کی بڑھوتری کے لیے بھی یکساں مفید ہیں۔سبزیوں کامتوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب بھی ہمیں اپنی خوراک کے متعلق رہنمائی کرتا ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کی مختلف احادیث میں سبزیوں کی اہمیت کے بارے میں ارشادات موجود ہیں جیسا کہ’’اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے زینت بخشا کرو کیونکہ جس دستر خوان پر سبز ترکاری ہو وہاں فرشتے آتے ہیں‘‘ ایک اور جکہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’اے لوگو:لہسن کھایا کرو اور اس سے علاج کیا کرو‘‘ اسی طرح ایک بار نبی ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے عائشہؓ جب تم ہانڈی پکایا کرو تو اس میں کدو ڈال لیا کرو کیونکہ یہ غمگین دلوں کے لیے تقویت ہے‘‘۔

ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما اور بڑھوتری کے لیے غذا میںسبزیوں کا استعمال 300سے 350گرام فی کس روزانہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں یہ شرح 120گرام فی کس روزانہ سے بھی کم ہے یعنی ہم بنیادی ضرورت کا صرف تیسرا حصہ ہی استعمال کررہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پیداوار کا کم اور مہنگا ہونا بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں ۔تاکہ وطن عزیز میں سبزیات کی بدولت غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر نہ صرف کم آمدنی والے بلکہ تمام طبقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت یعنی کچن گارڈننگ کو فروغ دیں۔

کچن گارڈننگ سے مراد گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے۔تاہم خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان،گملوں ،ٹوکریوں ،پلاسٹک بیگ ،لکڑی و پلاسٹک کے ڈبوں وغیرہ یا چھت پر اگا کر ہروقت تازہ سبزی کے حصول کوممکن بنا کر گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔کچن گارڈننگ کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسا کہ گھر کے اندر فراغت کا وقت اچھا گذرسکتا ہے اور کچن کے لیے ہر وقت تازہ سبزیاں حاصل ہوتی ہیںاور کچن کے ماہانہ اخراجات میں بھی کمی ہوتی ہے۔زہریلی ادویات سے پاک سبزی پیدا ہوتی ہے۔کچن گارڈننگ کے لیے اگر غور کیا جائے تو ہر چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی جگہ مل جاتی ہے ۔کچن گارڈننگ کے لیے گھرکا لان،مٹی ،پتھر یا پلاسٹک سے بنے مختلف ڈیزائنوں کے گملے،نئے یا پرانے لکڑی کے کریٹ یاڈبے،پلاسٹک کے ڈبے، پلاسٹک سے بنے ہوئے تھیلے، گھریلواستعمال کے فالتو ڈبے،بالٹیاں ،ٹوکریاں، پرانے ٹائر ،لان نہ ہونے کی صورت میں گھر کی چھت بہترین جگہیں ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے سردیوں اور موسم بہار کی مختلف سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں ان میں سے کچھ سبزیوں کے لیے نرسری جبکہ کچھ سبزیاں براہ راست بیچ سے پیدا ہوتی ہیں۔ نرسری کے ذریعے تیار ہونے والی سبزیوں میں ٹماٹر،پیاز،بند گوبھی،پھول گوبھی ،بروکلی اورسلاد شامل ہیں جبکہ براہ راست بیج سے کاشت ہونے والی سبزیوں میں مولی،گاجر،مٹر،شلغم،پالک،دھنیا،تھوم،میتھی اور سرسوں وغیرہ شامل ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ زمین ہموار اور آبپاشی کے لیے پانی بھی نزدیک او روافر مقدار میں موجود ہو اور فالتوپانی کی نکاسی کا راستہ بھی ہو۔اس کے علاوہ کھلی جگہ کا انتخاب کریں تا کہ تازہ ہوا کے سبب بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو او رپودے سورج کی روشنی سے بھی کم از کم 6گھنٹے تک مستفید ہوسکیں۔جس جگہ پر زیادہ سایہ رہتا ہو وہاں پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسا کہ دھنیا ،پودینہ،پالک، سلاد اور میتھی کاشت کریں۔بیلوں والی سبزیوںکو گھر کی باڑ کے ساتھ کاشت کریں۔او رسبزیوں کی قطاروں کا رخ شمالا جنوبا رکھیں تا کہ پودوں کو زیادہ دھوپ مل سکے۔کچن گارڈننگ کے لیے گھر میں موجود اشیاء سے کام لیا جاسکتا ہے جن میں کسی، کدال،کھرپہ،درانتی،کسولہ،ڈوری،فوارہ،کٹر،ریک،سپرئے مشین،فیتہ اور پانی لگانے کے لیے پلاسٹک پائپ ضروری ہے۔

کچن گارڈننگ میں ضروری ہے کہ کیڑوں ، مکوڑوں ،بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے زرعی زہروں کا استعمال نہ ہی کیا جائے تاکہ زرعی زہروں کے مضر اثرات سے بچا جا سکے کیونکہ کسی بھی زہر کا اثر دو روز سے کئی روز تک رہتا ہے جبکہ گھر میں اگائی گئی سبزیوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سبزی استعمال میں رہتی ہے اور پھر بچوں والے گھروں میں اس معاملہ میں تحفظات رہتے ہیں۔بہرحال اگرکچھ حالات میں کیمیائی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوتو پھرلازمی طور پر محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کے مشورہ سے محفوظ اور تھوڑا سا عرصہ اثر رکھنے والی زہریں ہی استعمال کریں اور کوشش کریں کہ زرعی طریقہ انسداد پرہی عمل کریں جیسا کہ باغیچہ کو صاف ستھرا رکھیںاور فالتو گھاس اور جڑی بوٹیوں کو تلف کردیں۔

اس کے علاوہ زمین کی تیاری کے وقت گوڈی کرکے اچھی دھوپ لگنے دیں تا کہ روشنی کی شدت سے کیڑوں کے انڈے اور بیماریوں کے جراثیم ختم ہو جائیں۔ پودوںکو سفارش کردہ فاصلہ پر ہی لگائیں تا کہ ہوا کی بہتر آمدورفت اور روشنی کابندوبست رہے۔ گوبر کی کچی کھاد ہرگز استعمال نہ کریں کونکہ اس میں دیمک اور دیگر کیڑوں کے انڈے اور بچے پائے جاتے ہیں۔ایک ہی جگہ پر ایک ہی خاندان کی سبزیاں بار بار کاشت نہ کریں۔جڑی بوٹیوں کو گوڈی کر کے یا ہاتھ سے تلف کریں یا چند سنڈیاں اور کیڑے نظرآئیں تو ہاتھ سے پکڑ کر ماردیں یا پھر کیڑوں کاحملہ کرنے کے لیے پودوں پر چولھے سے حاصل شدہ باریک راکھ کا دھوڑا کریں۔ سردیوں کی کاشت کے لیے اکتوبر تا نومبر مولی ، شلجم، سرسوں، سلاد، پالک، پیاز، بندگوبھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

دالیں انسانی خوراک میں لحمیات (Proteins) کا ایک بہترین ذریعہ ہیں ۔دالوں میں 20 سے 25 فی صد لحمیات ہوتی ہیں۔ مونگ کی دال غذائیت کے اعتبار سے بڑی اہم ہے۔مندرجہ ذیل عوامل پر توجہ دینے سے اس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

آب و ہوا
مونگ کی کاشت کے لئے گرم مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں عام طور پر مونگ کی فصل موسمِ خریف میں جولائی سے اکتوبر تک کاشت و برداشت کی جاتی ہے، مگر آبپاش علاقوں میں مونگ کی بہاریہ فصل بھی کامیابی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ صوبہ سندھ میں بہاریہ فصل نسبتاً زیادہ کامیاب ہے۔

کاشت کے علاقے
پنجاب میں مونگ کی کاشت کے بڑے علاقے بھکر، میانوالی اور لیہ کے اضلاع ہیں۔ اس کے علاوہ مونگ کی فصل سرگودھا، خوشاب اور جھنگ میں بھی کاشت ہوتی ہے۔ سندھ میں سانگھڑ، خیرپور، حیدرآباد۔ سرحد میں ہری پور، دیر، کرم ایجنسی اور بلوچستان میں بولان اور گوادر کے اضلاع میں بھی خاصے رقبے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔

وقتِ کاشت اور موزوں اقسام
مونگ کی منظور شدہ اقسام 6601 ‘ -28 نےاب ‘ این ایم 13-1‘ این ایم 20-21 ‘ این ایم 121-25 ‘ این ایم 19-19 ‘ این ایم 51 ‘ این ایم 54‘ این ایم 92 ‘ اے ای ایم 96 ‘ چکوال مونگ 97 اور این ایم 98 ہیں۔

آخری چاروں اقسام (این ایم 92 ‘ اے ای ایم 96 ‘ چکوال مونگ 97 اور این ایم 98 ، باقی منظور شدہ اقسام کی نسبت بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں۔ یہ اقسام بیماریوں کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہیں اور تقریباً ایک ہی وقت میں پَک کر برداشت کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔ ان چار اقسام کے علاوہ باقی اقسام بیج کے دستیاب نہ ہونے اور پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے متروک ہو چکی ہیں۔پاکستان میں مونگ کی بڑی فصل موسمِ خریف میں اگائی جاتی ہے جب کہ آبپاش علاقوں میں مونگ کی بہاریہ فصل بھی کامیابی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

بہاریہ فصل
بہار کے موسم میں مونگ کی فصل کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔ موسمِ بہار میں فصل پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ بہت کم ہوتا ہے اور فصل کی بے ہنگم بڑھوتری نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار متاثر نہیں ہوتی۔ تمام زمیندار بھائی جن کے پاس موسمِ بہار میں خالی رقبہ موجود ہو اور آبپاشی کے لئے پانی بھی میّسر ہو، بہاریہ فصل بہت کامیابی سے کاشت کر سکتے ہیں۔ بہاریہ فصل کے لئے مختلف علاقوں میں وقت کاشت اور سفارش کردہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

صوبہ علاقہ وقت کاشت سفارش کردہ اقسام
پنجاب کے جنوبی علاقے آخر فروری تا وسط مارچ این ایم 92 ، این ایم 98
پنجاب کے وسطی علاقے شروع مارچ تا آخر مارچ این ایم 92 ، این ایم 98
شمالی علاقے وصوبہ سرحد وسط مارچ تا شروع اپریل چکوال مونگ 97 ،این ایم 92
سندھ وسط فروری تا وسط مارچ اے ای ایم 96 ، این ایم 92 ، این ایم 98
فصلِ خریف
ہمارے ملک میں مونگ کی تقریباً 80 فی صد فصل موسمِ خریف میں کاشت کی جاتی ہے۔ فصلِ خریف بارانی اور آبپاش علاقوں میں یکساں کامیابی کے ساتھ کاشت ہوتی ہے۔ اس فصل کے لئے مختلف علاقوں میں وقت کاشت اور موزوں اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

صوبہ علاقے وقت کاشت سفارش کردہ اقسام
پنجاب وسطی و جنوبی علاقے وسط جون تا وسط جولائی این ایم 92 ، این ایم 98
شمالی علاقے آخر جون تا وسط جولائی چکوال مونگ 97 ، این ایم 92
خیبر پختونخواہ جنوبی علاقے (ڈی آئی خان اور بنوں) شروع جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، این ایم 98 ، چکوال مونگ 97
شمالی علاقے شروع جولائی تا آخر جولائی چکوال مونگ 97 ، این ایم 92
بلوچستان اوتھل، سبّی وسط جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
ڈاڈل، لورالائی وسط جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
کوئٹہ شروع جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
زمین کا انتخاب اور تیاری
مونگ کی فصل آبپاش اور بارانی دونوں علاقوں میں کامیابی سے اُگائی جا سکتی ہے۔ ریتلی میرا سے بھاری میرا زمین مونگ کی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ جب کہ سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اس کی کاشت کے لئے نامناسب ہے۔ مونگ کی کاشت کے لئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ آبپاشی یا بارش کا پانی کھیت میں یکساں طور پر تقسیم ہو سکے۔ آبپاش علاقوںمیںراﺅنی کے بعد وتر آنے پر دو دفعہ ہل چلا کر زمین کو تیار کریں جب کہ بارانی علاقوں میں بارش سے پہلے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور بارش کے بعد وتر آنے پر دو دفعہ دیسی ہل چلا کر زمین کو اچھی طرح تیار کرنا چاہئیے۔ ہل چلانے کے بعد سہاگہ چلانا ضروری ہے تا کہ زمین اچھی طرح ہموار اور بُھر بُھری ہو جائے۔

شرحِ بیج و طریقہ ءکاشت
چھوٹے بیجوں والی اقسام کے لئے 8 کلو گرام اور موٹے بیجوں والی اقسام کے لئے 10 کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے بیج استعمال کیا جانا چاہئیے۔ بیج صاف سُتھرا، صحت مند اور محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام کا ہونا چاہئیے۔ بہاریہ مونگ سے حاصل شدہ بیج اگر خریف میں اور خریف کا بیج آئندہ بہار میں استعمال کیا جائے تو بہتر روئیدگی حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ پُرانے بیج سے پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کاشت قطاروں میں کیرا یا پور سے کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 10 سینٹی میٹر ہونا چاہئیے۔ اگر کاشت چھّٹے سے کی جائے تو بیج کی مقدار 2 کلوگرام فی ایکڑبڑھا دینی چاہئیے۔

آبپاشی
مونگ کی فصل کو آبپاش اور بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ وہ علاقے جہاں بارش کم ہوتی ہے وہا ں تین مرتبہ آبپاشی ضروری ہے۔ پہلا پانی کاشت سے تین ہفتے بعد، دوسرا پھول آنے پر اور تیسرا پھلیوں میں دانے بننے کے وقت۔ اگر خریف میں ان اوقات میں بارش ہو جائے تو پانی دینے کی ضرورت نہیں۔

جڑی ُبوٹیوں کی تلفی
جڑی بُوٹیاں فصل کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں اور پیداوار کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ جڑی بُوٹیوںکومندرجہ ذیل طریقوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

۱۔

بجائی سے پہلے گہرا ہل چلانے سے کافی حد تک جڑی بُوٹیوںکا تدارک کیا جا سکتا ہے۔خصوصی طور پر بارانی علاقوں میں ایسا کرنا زیادہ سُود مند ثابت ہوتا ہے۔

۲۔

فصل پر پھول آنے سے پہلے ایک گوڈی کر کے جڑی بُوٹیوں کوضرور تلف کر دینا چاہئیے۔

کھادوں کا استعمال
مونگ کی فصل کے لئے نائٹروجنی کھاد کی نسبتاً کم ضرورت ہوتی ہے۔ پھلی دار فصل ہونے کے باعث یہ ہَوا میں نائٹروجن سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ تاہم شروع میں فصل کو مطلوب نائٹروجن کی ضرورت پُوری کرنے کے لئے بوقتِ بجائی 8 سے 10 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کرنا چاہئیے۔ فاسفورس کھاد کا استعمال پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ فصل کے جَلد پکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔لہٰذا 20 سے 25 کلوگرام فاسفورس فی ایکڑ کا استعمال ضروری ہے۔ اس حساب سے نائٹروجن اور فاسفورس دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ کافی ہو گی۔

بائیو کھاد کا استعمال
بائیو کھاد ایسے جرثوموں پر مشتمل ہے جن کی زمین میں موجودگی اس کی قدرتی زرخیزی کو نہ صرف برقرار رکھتی ہے بلکہ موافق حالات میں اسے بڑھاتی بھی ہے۔ پھلی دار اجناس (دالوں) میں یہ جرثومے Rhizobium bacteria) ) اُن کی جڑوں پر مخصوص قسم کے گھر (Nodules) بنا کر رہتے ہیںجو فضا میں وافر مقدار میں موجود ( 80 فی صد) پودوں کے لئے ناقابل استعمال نائٹروجن کو قابل استعمال بنا کر ان کی نائٹروجنی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بعض حالات میں بچ جانے والی نائٹروجن اگلی فصل کے کام آ جاتی ہے۔ اگر یہ جرثومے کھیت میں مناسب تعداد میں موجود ہوں تو دالوں کے لئے کیمیائی نائٹروجن کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اکثر کھیتوں میں مثلاًدالوں کے زیر کاشت آنے والی نئی زمینوں اور ایسی زمینوں جن پر پچھلے تین چار سال سے دالیں کاشت نہ کی گئی ہوں اِن جرثوموں کی تعداد مطلوبہ حد سے بُہت کم ہوتی ہے۔ تجربات سے ایسے اِشارے ملے ہیں کہ دالوں کے مختلف پیداواری علاقوں میں حیاتیاتی کھاد کے استعمال سے ان کی پیداوار میں 15 سے 25 فی صد تک اضافہ ممکن ہے۔ملک میں زرعی تحقیق کے کئی ادارے تجارتی بُنیادوں پر مختلف دالوں اور دیگر پھلی دار اجناس کے لئے حیاتیاتی کھاد فروخت کر رہے ہیں اور اس کے متعلق دیگر معلومات بھی شائع کر رہے ہیں۔

بیماریا ںاور اُن کا انسداد
سرکو سپورا برگی دھبے
یہ مونگ کا انتہائی مہلک مرض ہے۔ جو سرکوسپورا (کینے سنس) نامی پھپھوند کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ اس بیماری کی علامات پتوں پر چھوٹے چھوٹے نیم گول اور بے ہنگم گہرے بھورے رنگ کے دھبوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان دھبوں کے کنارے گلابی مائل بھورے ہوتے ہیں۔ اس مرض کے تدارک کے لئے متاثرہ پودوں کے خس و خاشاک تلف کر دیئے جائیں اور قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں۔

کوڑھ
اس مرض کی علامات پودے کے تمام بالائی حصوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن زیادہ تر حملہ پتوں اور پھلیوں پر ظاہر ہوتا ہے پھلیوں پر دائرہ نما گہرے سفیدی مائل دھبے بن جاتے ہیں۔ اس مرض کا سبب ایک پھپھوند ہے جسے کال ٹاٹری کم لینڈی میوتھیم کہتے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لئے تندرست اور بیماری سے پاک بیج کاشت کیا جائے۔

 پیلا چتکبری وائرس
مونگ بین ییلو موزیک ایک وائرسی بیماری ہے جو رس چوسنے والے کیڑے سفید مکھی سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے نوزائیدہ پتوں پر چھوٹے چھوٹے پیلے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔سبز اور پیلے دھبے آھستہ آھستہ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ چتری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں تمام کھیت پیلانظر آتا ہے۔چونکہ یہ مرض سفید مکھی کی وجہ سے پھیلتا ہے اس لئے اس مرض کے تدارک کے لئے سفید مکھی کا خاتمہ ضروری ہے جس کے لئے ڈائی میکران یا میٹا سسٹاکس بحساب 1/4 لیٹر اصل زہر فی ایکڑ پندرہ دن کے وقفے کے بعد کم از کم دو سپرے کریں۔ نیز مونگ کی اس مرض کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام مثلاً این ایم 98 ، این ایم 92 ، چکوال مونگ 97 کاشت کریں۔

 ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد
پنجاب میں بہاریہ مونگ میں اکثر کیڑوں کا حملہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تیلا کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے۔موسم گرما میں مونگ کی فصل پر اکثر رس چوسنے والی سفید مکھی کا حملہ ہوتا ہے جس سے پودوں پر زرد رنگ کی چتری (Yellow Mosaic) نمودار ہوتی ہے۔ اس کیڑے کا حملہ عموماً اگست میں ہوتا ہے۔ صوبہ سندھ میں اکثر فصل اگنے کے فوراً بعد رس چوسنے والے کیڑوں (تیلا، سفید مکھی اور سست تیلا) کا حملہ ہوتا ہے۔اگرچہ بالدار سنڈی کا حملہ ہر سال باقاعدگی سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔ اس کیڑے کے حملے کی صورت میں فصل کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کیڑے کا حملہ اگست میں شروع ہوتا ہے اور ستمبر، اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ مونگ کی فصل کو کیڑوں کے حملے اور نقصانات سے بچانے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

(i)        فصل کی بوائی سفارش کردہ وقت پر کرنی چاہیے۔

 (ii)      جو اقسام زرد رنگ کی چتری کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہوں ان کی بجائی کی جائے۔ مثلاً این۔ایم 98 ‘ این۔ایم 92 اور چکوال مونگ 97

(iii)      فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جائے۔

ان تدابیر کے باوجود فصل پر کیڑوں کا حملہ ہو تو مندرجہ ذیل زرعی کیمیائی ادویات میں سے کوئی ایک دوا علاقہ کے ماہرینِ زراعت کے مشورے سے استعمال کریں۔

زرعی کیڑے مار ادویات اور ان کا استعمال
نام دوا مقدارفی ایکڑ وقت اور طریقہء استعمال
۱۔ کراٹے Karata 2.5 EC۲۔ Fenuelerate 250 ملی ِلٹر250 ملی ِلٹر کیڑوں کے حملے کی صورت میں ان زرعی ادویات میں سے کوئی ایک دوا 80 لیٹر پانی میں ملا کر چھڑکاﺅ (Spray) کیا جائے۔ اور کیڑوں کے حملے کی نوعیت کے لحاظ سے دوا کے چھڑکاﺅ کے عمل کو دس سے پندرہ دن کے بعد دوھرایا جا ئے۔
پولیٹرین سی Polytrin-C 440 EC 500 ملی لٹِر
تھائیوڈان Thiodan 35 EC 1000 ملی ِلٹر
برداشت
جب فصل کی 80 سے 90 فی صد پھلیاں پک جائیں تو فصل کو کاٹ لینا چاہئیے۔ کٹائی صبح کے وقت کی جائے۔ فصل کو کھیت میں چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں کی شکل میں 4 سے 5 دن پڑا رہنے دیں۔ جب پودے پوری طرح خشک ہو جائیںتو بیلوں یا تھریشر کی مدد سے گہائی کریں۔ دانوں کو چند روز تک دھوپ میں خشک کر کے سٹور کریں اور گودام کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget