کالم لسٹ "فصلوں کی کاشتکاری"

جدید سائنسی تحقیق کی بنیاد پر جن پودوں نے بہت اہمیت حاصل کی ہے ’’مورنگا‘‘ ان میں سرفہرست ہے۔ مورنگا بے پناہ غذائی، طبی اور صنعتی اہمیت کا حامل پودا ہے۔Oleifera Moringa اس پودے کی وہ خاص قسم ہے جو دنیا بھر میں انسان اور جانور دونوں کیلئے بہت زیادہ غذائی اہمیت رکھتی ہے اور دنیا میں اسے کرشماتی پودے کا نام دیا گیا ہے۔خوش قسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر یہی قسم پائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں ’’سوہانجنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق مورنگا کے پتوں میں دودھ سے دو گنا زیادہ پروٹین، دہی سے دو گنا زیادہ کیلشیم، گاجر سے چار گنا زیادہ وٹامن اے، سنگترہ سے سات گنا زیادہ وٹامن سی اور کیلا سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔ مورنگا کا قدرتی مسکن بالخصوص جنوبی انڈیا اور بالعموم جنوبی پاکستان ہے۔ اب یہ استوائی اورنیم استوائی براعظم ایشیا، امریکہ اور لاطینی امریکہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ مورنگا کا پودا پاکستان میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں صدیوں سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں نیم پہاڑی علاقوں، ندی نالوں کی پرانی گزر گاہوں جو ریتلی یا کنکریلی زمینوں سے ملحق ہوں وہ بھی مورنگا کا مسکن ہیں۔مورنگا کی چھال بھورے رنگ کی، کارک کی طرح نرم، موٹی اور دراڑوں والی ہوتی ہے۔ نئی کونپلیں اور پھول سندھ اور جنوبی پنجاب میں نومبر اور دسمبر جبکہ وسطی پنجاب میں جنوری اور فروری میں کھلتے ہیں۔ اس پودے کا ہر حصہ اپنی خاص خوبیوں کی بدولت بیمثال ہے۔
مورنگا کو فروری سے ستمبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے۔ بطور فصل کاشت کرنے کیلئے 2 فٹ کے فاصلہ پر کھیلیاں بنا کر 1 فٹ کے فاصلہ پر مکئی کی طرح بیج کاشت کر دیں۔ کھیت کے شروع میں 7 دن بعد اور بعد ازاں حسب ضرورت پانی لگائیں۔ مورنگا سے زیادہ مقدار میں چارہ کے حصول کیلئے دو بوری یوریااور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں اور فوراً آبپاشی کریں۔ جب پودے 3 فٹ تک پہنچ جائیں تو اوپر سے کاٹ دیں اور جب پودے پتوں سے بھر جائیں تو تمام پتے کاٹ لیں۔ گرمیوں میں ہر 20 سے40 دن بعد پتوں کی فصل قابل برداشت ہو جاتی ہے جبکہ سردیوں میں بڑھوتری بہت کم ہوتی ہے اور نومبر سے مارچ تک تقریباً رک جاتی ہے۔

مورنگا کی مولیوں کیلئے کاشت:۔ مولیوں کی اچھی پیداوار کیلئے مورنگا کے صحتمند بیج کو کھیت کی تیاری کے بعد زمین میں قطاروں میں اس طرح لگائیں کہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 3 فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ کم سے کم ہو کیونکہ زیادہ فاصلہ مولیوں کی کوالٹی کو متاثر کرتا ہے۔ آبپاشی اور کھادوں کا استعمال زمین کی زرخیزی کے مطابق کریں۔ مورنگا کی کاشت بطور درخت پاکستان کے بیشتر علاقوں میں ممکن ہے جبکہ برفباری اور سیم والے علاقوں میں کاشت ممکن نہیں ہے۔

براہ راست زمین میں کاشت:۔ پھلی اور بیج کی اچھی پیداوار کے حصول کیلئے بیج کو زمین میں 2 انچ دبائیں۔ پودے سے پودے کا درمیانی فاصلہ 6 فٹ رکھیں۔ اگر بیج کو کھیلیوں پر کاشت کرنا ہو تو کھیلیوں کا درمیانی فاصلہ 10 فٹ رکھیں۔

نرسری کے ذریعے کاشت:۔ نرسری کے ذریعے کاشت دو مراحل پر مشتمل ہے۔

پودوں کا اگانا:۔ پودوں کوا گانے کیلئے مناسب سائز کی پلاسٹک کی تھیلیوں کو مٹی اور ریت کے 3:1 آمیزہ سے بھریں اور ہر تھیلی میں دو سے تین بیج لگا کر سایہ دار جگہ پر رکھیں اور اگر مٹی خشک ہونے لگے تو حسب ضرورت پانی دیں۔ بیج کا اگاؤ تقریباً 7 دن میں مکمل ہو جائے گا۔ جب پودوں کی لمبائی 4 انچ تک پہنچ جائے تو ایک صحتمند پودے کا انتخاب کریں اور باقی پودے احتیاط سے نکال دیں۔

پودوں کی منتقلی:۔ تھیلیوں میں بیج لگانے کے تقریباً دو ماہ بعد جب پودے کم از کم اڑھائی فٹ کے ہوں توپودوں کو نرسری سے کھیت میں منتقل کریں۔ منتقلی کیلئے بعد از دوپہر کے وقت کا انتخاب کریں۔ کھیت کی تیاری کیلئے 10×6 فٹ کے فاصلہ پر قطاروں میں گہرے گڑھے بنائیں۔ پودے کو احتیاط سے تھیلی سے اس طرح نکالیں کہ جڑیں متاثر نہ ہوں۔ ہر پودے کو گڑھے میں کھڑا کر کے برابر مقدار میں مٹی، ریت اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے بھر دیں اور پانی لگائیں۔

قلموں سے کاشت:۔ مورنگا کی قلموں سے کاشت کیلئے کم از کم ایک سال کے پودے کی 3 سے 4 فٹ لمبی اور صحتمند شاخوں کا انتخاب کریں۔ سبز شاخیں قلموں کے لئے ہر گز استعمال نہ کریں۔ قلموں کو لگانے کیلئے زرخیز اور بھربھری زمین کا انتخاب کریں۔ زمین میں قلموں کے سائز کے مطابق 10 سے 15 فٹ کے فاصلہ پر قطاروں میں گڑھے بنائیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ قلم کا 1/3 حصہ زمین کے اندر ہو۔ گڑھے کو مٹی، ریت اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے اچھی طرح بھریں اور پانی لگائیں۔ قلموں سے صرف چند پودے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگانا مقصود ہوں تو نرسری کے ذریعے ہی لگائیں۔

آبپاشی و کھادوں کا استعمال:۔ مورنگا کے نومولود پودے کو پہلے دو ماہ تک پانی کی اشدضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا پودے کو زمین خشک ہونے سے پہلے متواتر پانی لگائیں اور پودے کی نشوونما مکمل ہونے کے بعد پودے کو حسب ضرورت پانی دیں۔ کھادیں ڈالنے کیلئے پودے کے گرد نصف فٹ کے فاصلہ تک کیاری بنائیں اور 30 گرام نائٹروجنی کھاد فی درخت ڈالیں۔

بیماریوں اور ضرر رساں کیڑوں سے بچاؤ:۔ مورنگا کیڑوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتا ہے لیکن اس کی جڑوں پر دیمک کے حملہ آور ہونے سے پودے کے خشک یا مرجھانے کا خطرہ رہتا ہے۔ محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے دیمک اور جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے سفارش کردہ زہر کا سپرے کریں۔ جڑی بوٹیاں مولیوں کی نشوونما اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں لہٰذا بوائی کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران سفارش کردہ زہر کا سپرے یا گوڈی کریں۔

کٹائی:۔ جب مورنگا کے پودے کی لمبائی 6 سے 8 فٹ ہو جائے تو زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے پودے کی اوپر والی شاخوں کو کاٹ دیں۔ اس طرح پودے کی نچلی شاخیں تیزی سے نکلیں گی بصورت دیگر مورنگا بہت پتلا اور زیادہ لمبا ہو کر جھک جاتا ہے۔ اس عمل سے ہم درخت کی لمبائی کو کم رکھ کر زیادہ مقدار میں آسانی سے پتے، پھول اور پتیاں توڑ سکتے ہیں۔

مورنگا کی بطور سبزی برداشت:۔ کچی پھلیاں دسمبر اور جنوری میں جب مونگرے کے سائز کی ہو جاتی ہیں تو ان کو بطور سالن، اچار اور مربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جنوبی پنجاب کی مشہور سبزی ہے جسے کچنار کی مانند پکایا جاتا ہے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں ہری پھلیوں اور ان میں ہرے بیجوں کو مٹر کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ مارچ سے مئی تک دستیاب ہوتے ہیں جبکہ تازہ پتے تقریباً سال بھر مل جاتے ہیں جنہیں دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
مورنگا کی بطور مولی برداشت:۔ مورنگا کا پودا جب 4 سے 5 فٹ کا ہو جائے تو اس کو اکھاڑ کر اس کی جڑ کو مولی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ستمبر سے دسمبر تک برداشت کی جاتی ہیں۔

مورنگا کی بطور چارہ برداشت:۔ مورنگا بطور فصل بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے جس میں پودوں کو 3 فٹ کے قد سے نہیں بڑھنے دیا جاتا۔ سال میں 6 سے 8 دفعہ اس کو کاٹا جا سکتا ہے جبکہ گرمیوں میں سردیوں کی نسبت اس کی کٹائی زیادہ جلدی کی جا سکتی ہے۔ اپریل سے جون کے دوران جب چارہ کی کمی ہوتی ہے تازہ چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔مورنگا کے تازہ چارہ کو دوسرے چارہ جات کے ساتھ مکس کر کے استعمال کرنا چاہیے۔

مورنگا کی بطور بیج برداشت:۔ مورنگا کی پھلیوں سے خشک ہونے کے بعد اپریل سے جون تک بیج نکالے جاتے ہیں جن کو بعد میں کاشت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

تحریر: ہارون احمد خان ( اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات، راولپنڈی)

کماد کو زمینی ساخت ، زمینی نکاسی، زمینی زرخیزی، نہر یا دریا سے فاصلے کی وجہ سے زمین کی آبی حیثیت Water Stauts ،نہری پانی کی دستیابی اور طریقہ ہائے کاشت کے مناسبت سے پنجاب کے مختلف علاقوں میں کھادوں کی مختلف مقدار ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر گنے کا شمار چونکہ زیادہ کھادیں طلب کرنے والی فصلوں میں ہوتاہے۔ اس لئے اسے زیادہ کھادیں ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ہر قسم کے پیش نظر دو بوری ڈی اے پی ، تین بوری یوریا، دیڑھ بوری ایس او پی، زنک و بوران دودو کلو اور میگنیشیم سلفیٹ پانچ کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے ڈالنے سے بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کماد کے لئے خوراکی اجزا کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

کھاد کی اصل ضرورت کنتی ہوتی ہے:
ایک ایکڑ سے 1600 من گنا پیداکرنے کے لئے 188 کلو نائٹروجن ، 48 کلو فاسفورس اور 448 کلو پوٹاش اور چھوٹے
خوراکی اجزااستعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ خوراک کی کچھ مقدار پہلے سے موجود زمین سے بھی دستیاب ہوجاتی ہے۔ لیکن بھر پور پیداوار لینے کے لئے پھر بھی کافی مقدار اضافی طور پر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتاہے۔ کہ گنے کے لئے پوٹاش کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اگر کوئی کاشتکار 2000 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے خود ہی اندازہ کر لینا چاہئے کہ کتنی زیادہ خوراک ڈالنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

کماد زیادہ کھاد طلب فصل ہے:
یہ بات بھی تجربات سے ثابت ہوچکی ہے۔ کہ کماد صرف زیادہ خوراک ڈالنے سے ہی بھر پور پیداوار دیتاہے۔ کماد کی پیداوار میں کھادوں کا حصہ 57 فیصد تک ہے۔ ہمارے بیشتر کاشتکار ضرورت سے بھی کم کھاد استعمال کرتے ہیں۔ ایک سروے رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے 30 فیصد کاشتکار فاسفورس، 40 فیصد نائٹروجن اور90 فیصد پوٹاش ضرورت سے کم استعمال کرتے ہیں کماد کو اگر کھاد کم ڈالی جائے تو اس کی پیداوار بری طرح گر جاتی ہے۔ کماد کو کھاد پوری مقدار میں ڈالی جائے تب ہی اچھی پیداوار دیتاہے۔ اس لئے کاشتکاروں کو مشورہ دیاجاتاہے کہ دس ایکڑ کے بجائے سات ایکڑ کا شت کرلیں لیکن انکو پوری مقدار ڈالیں تو دس ایکڑ کے مقابلے میں زیادہ پیداوار حاصل ہوسکتی ہے۔


گنے کی فصل کے وقتِ کاشت کے تغیرات

مقامی حالات کی مناسبت سے گنے کے وقت ہائے کاشت میں فرق پایا جاتاہے ۔ حالیہ سالوں کے دوران شدید سردی کا ایک مہینہ چھوڑ کر کم وپیش سال بھر گنا کاشت کیاجانے لگاہے۔ اس لئے گنے وقت کاشت کو محدود نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم بہتر پیداوار کے لئے بہاریہ اور ستمبر کاشتہ کمادکے وقت ہائے کاشت کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔

الف - بہاریہ کاشت:

اگرچہ تجربات سے ثابت ہوچکاہے۔ کہ دو یا تین آنکھوں والے سمے وسط فروری سے وسط مارچ کے دوران کاشت کریں تو پچھیتی (اپریل یا اس کے بعد میں کاشتہ فصل ) کے مقابلے میں زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ لیکن جس سال فروری کے دوران موسم ٹھنڈا (25سیٹی گریڈ یا کم) رہے تو فروری کے بجائے مارچ میں کاشت کیاجائے۔ بہار یہ فصل کی کاشت وسط فروری سے لے کر مارچ کے آخر تک کی جاسکتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر جنوبی پنجاب میں وسط مارچ کے بعد کاشتہ کماد میں پیداوار دیتاہے۔ انٹرنیٹ کی مددسے موسمی رجحان کے پیش نظر وقتِ کاشت کا فیصلہ کرناچاہئے۔ اگر وسط فر وری کے بعد درجہ حرارت کی بالائی حدود ہفتہ بھر یا زیادہ دنوں کے لئے 28 سینٹی گریڈ یا زیادہ رہنے کا امکان ہو تو فروری میں ہی کماد کاشت کردینا چاہئے۔

نئے افق:

ٹھنڈے موسم میں کاشتہ کماد کا اگاؤ کم ہوتاہے۔ لیکن ایک تدبیر اختیار کر کے فروری کا شتہ کماد کا یقینی اگاؤ حاصل کیا جاسکتاہے۔ وہ تد بیر یہ ہے۔ کہ کماد کی سمو ں کو فرٹی گرین سٹارٹ کے 3 فیصد محلول میں دبونے کے بعد کاشت کیا جائے۔ فرٹی گرین سٹارٹ میں نہ صرف گروتھ ہارمون ہوتے ہیں بلکہ اس میں تھوڑی مقدار میں خوراک بھی ہوتی ہے۔

ب - ستمبر کاشت:

ستمبر کاشت اگرچہ ماہ ستمبر کے دوران مکمل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لیکن حالیہ سالوں کے دوران موسم پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم اور خشک رہنے لگے ہیں۔ اس لئے جس سال ستمبر میں درجہ حرارت 37 سیبٹی گریڈ یا زیادہ ہو اس سال اس موسم کے کماد کو اکتوبر میں ہونے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر مون سون کی بارشیں کم ہوں ۔ تو ایسی صورت میں بھی یہ فصل وسط اکتوبر تک بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ ستمبر کاشتہ کماد کے سموں کو جلدی اگاؤ دینے والے ٹانک یعنی فرٹی گرین سٹارٹ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

طریقہ کاشت کماد کاشت کرنے کے چار طریقے ہیں

الف - کھیلیوں میں کاشت:

ہمارے کاشتکار اڑھائی فٹ کے فاصلے پر بنائی گئی کھیلیوں میں ایک ایک سمہ جوڑ کر کماد کاشت کرتے ہیں۔ اس طریقے سے کاشتہ کماد زیادہ گرتاہے۔ اور اس بھر پور پیداوار حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کاشت کی صورت میں کماد بڑا ہونے پر بین الکاشتی (Intercultural) امور کی انجام دہی میں دشواری پیش آتی ہے۔

ب - پٹٹریو ں میں کاشت:

نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھیلیوں کی بجائے چار چار فٹ کے فاصلے پر بنائی گئی پٹٹریوں میں کاشتہ کماد زیادہ پید۔ اوار دیتاہے۔ اس طریقہ سے اڑھائی فٹ پر کاشت کئے جانے والے روایتی طریقہ کے مقابلے میں چار پانچ سومن فی ایکڑ تک زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایک ایکڑ میں دو دو آنکھوں والے تیس ہزار ٹکڑے چار چار فٹ کے فاصلہ پر بنائی گئی ایک فٹ پیندے والی کھالیوں میں کاشت کئے جائے ہیں۔ ایک ایکڑ سے ساتھ ہزار گنے حاصل ہوسکتے ہیں جن کی پیداوار آسانی کے ساتھ ایک ہزار من ہوسکتی ہے۔ زیادہ فاصلے پر کاشت ہونے کی وجہ سے کھالیوں کے درمیانی پٹٹریوں پر ٹریکٹر کی مدد سے تسلی بخش گوڈی کی جاسکتی ہے۔ اور کماد گرنے سے بھی کافی حد تک بچارہتاہے۔

ج - گڑھوں میں کاشت:

یہ بھی کماد کاشت کرنے کا جدید طریقہ ہے۔ اس کو پٹ پلا نئنگ (Pit planting) کا طریقہ کہاجاتاہے۔ اس طریقے میں اڑھائی مربع رقبے پر چھ انچ گہرے گڑھوں میں بھر پور کھاد اور بیج ڈال کر کماد کاشت کیا جاتاہے۔ دستی  طریقے سے گڑھے بنانے کی صور ت میں یہ کافی محنت طلب طریقہ ہے۔ لیکن حالیہ سالوں کے دوران کماد کے لئے  گڑھے بنانے والی مشین بھی آچکی ہے اور کام میں زیادہ دشواری باقی نہیں رہی۔ اس طریقے میں کماد کو بہتر طریقے سے مٹی چڑھائی جاتی ہے۔ اورنہ صرف کماد گرنے سے تک بچا رہتا ہے بلکہ ہر طرف سے بکثرت روشنی اور ہوا لگنے کی وجہ سے اس کی پیداوار سابقہ دونوں طریقوں کے مقابلے میں زیادہ حاصل ہوتی ہے۔

بہاریہ مکئی کے لیئے میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری گہرے ہل چلا کر کریں۔ زمین ہر صورت لیزر لیول ہونی چاہیئے۔ کھیلیاں شرقاً غرباً آلو والے پلانٹر سے بنائیں یا پھر اسی طرز پر بنا ہوا مکئی کے لیئے مخصوص ریجر استعمال کریں۔ 
بہاریہ مکئی کی اچھی پیداوار کے لیئے 2بوریDAP اور 2بوری SOP زمین کی تیاری کے دوران چھٹہ کرکے کھیلیاں نکال دیں۔ یاد رہے اگر زمین ہلکے وتر کی حالت میں ہو گی تو کھیلیاں زیادہ بہتر بنیں گی جو اچھے اگاؤ اور بہتر جڑی بوٹی کنٹرول میں معاون ثابت ہوں گی۔ 
ریجر والی کاشت کی صورت میں لائن سے لائن کا فاصلہ 27سے30انچ ہوگا لہٰذا پودے سے پودے کا فاصلہ 7سے8انچ رکھیں۔ بیڈ کاشت کی صورت میں لائن سے لائن کا فاصلہ 20سے22انچ ہوگا۔ لہٰذا پودے سے پودے کا فاصلہ 9انچ رکھیں۔
مکئی کے بیج کو ہومبرے(بائیر) اور زیادہ سردی کی صورت میں کوئی اچھا (Bio Stimulant) لگاکر کاشت کریں۔
ریجر والی کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں مکئی کے بیج کا چوپا جنوب کی طرف(دھوپ والی سائیڈ) لگائیں۔
بیج کی گہرائی زمین میں ڈیڑھ سے دو انچ ہونی چاہیئے۔
چوپا لگانے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ڈوال گولڈ بحساب 400ملی لٹر فی ایکڑ اور پینڈی میتھالین بحساب 600 ملی لٹر فی ایکڑ 100 لٹر پانی میں فلیٹ فین نوزل کے ساتھ سپرے کریں۔
اگیتی کاشت کی صورت میں ساتویں روز اور تھوڑا لیٹ کاشت کی صورت میں چوتھے روز دوسرا پانی لگا دیں تاکہ بہتر اگاؤ مکمل ہو سکے۔
اگاؤ مکمل ہونے کےبعد چھ سے دس روز کے اندر سنگل سوراخ والی ہالو کون نوزل سےبائی فینتھرین بحساب 250ملی لٹر فی ایکڑ اورلینوفیوران بحساب 200ملی لٹر فی ایکڑ ملا کر سپرے کر دیں۔ 
سپرے کے بعد آنے والے پانی کیساتھ آدھی بوری یوریا ہمراہ چار کلو گرام چیلیٹڈ زنک فلڈ ضرور کریں۔ 
جیسے ہی مکئی کی فصل تین سے چار پتے پر آجائے تو پہلی دانے دار زہر پاشی (فیوراڈان) کونپلوں میں ڈالیں۔ پہلی زہر پاشی کے 10سے15 روز کے بعد کوراجن بحساب 50ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کردیں۔ اس سے آپ کی فصل سٹہ تک لشکری سنڈی اور تنے کی سنڈی(بورر) سے محفوظ رہے گی۔
مکئی میں چوڑے پتے والی اور گھاس نما جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیئے(اگر موجود ہوں) ایک فٹ کی فصل پر گینگوی بحساب500سے600ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کر سکتے ہیں۔
سٹہ نکلنے تک آدھی آدھی بوری فی پانی کے حساب سے 4بوری یوریا مکمل کریں۔ 
بہت اچھے نتائج کے لیئے سٹہ نکلنے سے پہلے آخری پانی پر ایک بوری نائٹروفاس اور 10کلوگرام حل پذیر SOP فلڈ کر دیں۔
دورانِ پولینیشن اور سٹہ نکلنے سے مکئی تیار ہونے تک کسی صورت پانی کمی نہ آنے دیں۔
فصل تیار ہونے پر برداشت کریں۔
زبیر
پروفیسر سیڈز
03337733113.
03007733113.

السلامُ علیکم!

*کچھ اہم باتیں*

سوال:رایا،سرسوں اور کنولہ میں کیا فرق ہے؟ پیداوار کیس کی زیادہ ہے؟ ڈیمانڈ کس کی زیادہ ہے؟ پیداوار اور بیج کی اقسام وغیرہ

جواب:اس کے جواب میں ہمارے کسان گھر کے ایک کاشتکار نوید صاحب نے جو اپنے تجربے سے جواب دیا وہ کچھ یوں تھا

’’کینولا کے تیل میں سرسوں کے تیل کی طرح کرواہٹ نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ اس لئے یہ انسان کے کھانے کے تیل میں استعمال ھوتا ھے ۔۔۔۔ اس کا وقت کاشت اکتوبر اور وقت برداشت مارچ ھوتا ھے ۔۔۔۔۔ یہ 6 ماہ کی فصل ھے ۔۔۔۔ اس کی اقسام کی پیداواری صلاحیت 30 سے 35 من ۔۔۔۔ جبکہ کاشتکار کی پیداوار 25 من ھے ۔۔۔۔۔۔ اس کی قیمت فروخت 2000 سے 2300 روپے فی من ۔۔۔۔۔ شرح بیج ڈیڑھ سے دو کلو ۔۔۔۔ایوب ریسرچ کا فیصل کینولا ، آئی سی آئی کا ہائیولا ، کینزو کا کینولا ۔۔۔۔ مشہور اقسام ہیں ۔۔۔۔ کینولا کو کٹائی کے بعد بروقت کھیت سے نہ اٹھایا جائے تو پھلیوں سے دانا گر جاتا ھے‘‘ جلندھر سیڈ کا کنولہ کا بیج بھی سننے میں آیا ہے کہ اچھا ہے مگر میرا تجربہ نہیں میں

اگلے حصے میں ہم اس کی خوراک پر بات کریں گے کہ ہم اس سے کیسے بہتر سے بہتر پیداوار لے سکتے ہیں۔

آگے بڑھو کسان

*منجانب:کسان گھر*

*2.کنولہ/سرسوں کی کاشت اور کسان گھر کی جدید سفارشات*

بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم

السلامُ علیکم!

ہم جب کنولہ یا سرسوں کی کاشت کی بات کرتے ہیں تو زمین کیسی ہونی چاہیے اس پر بھی دوست سوال کرتے ہیں اور تیار کیسے کرنی ہے اس پر بھی سوالات کئے جاتے ہیں۔۔

*زمین کیسی ہونی چاہیے؟* 
اس فصل کیلئے ریتلی،ہلکی میرا،چکنی مٹی والی سخت زمینیں اور ہلکی کلراٹھی تمام زمینیں ہی ٹھیک رہ جاتی ہیں

بس زمین زیادہ شور زدہ یا زیارہ کلراٹھی نا ہو۔۔۔

*زمین کی تیاری:*
زمین کو پہلے پانی لگا ہوا ہو تو بہتر ہے اس طرح وتر کی حالت میں زمین بہتر تیار ہوتی ہے ایک بار ہل چلائیں پھر روٹر ویٹر پھر بیج کا چھٹا دے کر اس پر ہل سوہاگے کے ساتھ ایک دفع ہل چلا دیں تاکے بیج پر مٹی آجائے۔

اگر خوشک زمین ہے تو اس میں دو دفع حل چلائیں روٹر ویٹر چلائیں زمین بھربھری ہو جائے تو فصل کاشت کریں۔

کچھ دوست بیج کا چھٹا کر کے گنے یا کپاس والے ریجر سے یا گاجر والے ریجر سے کھالیاں نکال دیتے ہیں اور پانی کھالیوں کے ذرئعے سے ہی دیتے ہیں۔

اور کچھ جو زمین وتر حالت میں تیار کرتے ہیں وہ آخری دفع ہل سہاگے سے چلا کر بیج کو دبا دیتے ہیں اور اسی وتر میں بیج اگ جاتے ہیں کچھ عرصہ بعد پھر پانی لگا دیا جاتا ہے۔

نوٹ:ہر علاقے کا اپنا اپنا طریقہ کار ہو سکتا ہے اس لئے جو طریقہ آپ کے علاقے میں رائنج ہے اسے اپنائیں۔

*وقت کاشت:*
کاشت کا وقت اکتوبر یے جب پہلی پوسٹ لگی کسان گھر کی طرف سے تو ہمارے کسان گھر کے تجربہ کار کاشتکار مرزہ ایوب بیگ صاحب نے اپنا پیغام ریکارڈ کروایا کہ پہلے اکتوبر میں یہ فصل کاشت ہوتی تھی اب گرمی تھوڑی آگے چلی گئی ہے اس لئے بہتر ہے پچیس اکتوبر سے پندری نومبر تک اس فصل کی کاشت کریں یا جب درجہ حرارت 27ہو تک کاشت کریں۔

باقی باتیں اگلی پوسٹ میں اللہ نگہبان

آگے بڑھو کسان

*منجانب:کسان گھر*

*3.کنولہ/سرسوں کی کاشت اور کسان گھر کی جدید سفارشات*

بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم

السلامُ علیکم!

ہمارا موضوع چل رہا ہے کنولہ/سرسوں کی کاشت پر ہم اب اس پوسٹ سے باقائدہ اس فصل کی خوراک پر بات کرتے ہیں

*پہلا اصول:*
کنولہ یا سرسوں کی خوراک کے لحاض سے چار اجزاء

۱۔نائٹروجن (یوریا)
۲۔فاسفورس 
۳۔پوٹاش 
۴۔سلفر 
ان چاروں اجزاء کو پہلا قدم یا پہلا اصول بنا کر ڈالیں کیونکہ تیلدار اجناس کو باقی فصلوں کی نسبت زیادہ سلفر چاہیے ہوتا ہے۔

*دوسرا اصول:*
دوسرا اصول یہ ہے کہ ان چاروں اجزاء کی کیا کیا مقدار استعمال کرنی چاہیے؟

۱۔75کلو نائٹروجن
۲۔ایک بیگ ڈی اے پی فاسفورس کیلے 
۳۔دس کلو سلفیٹ آف پوٹاش
۴۔چھے کلو سلفر

*تیسرا اصول:*
کنولہ یا سرسوں کے کاشتکار دوسرا اصول یہ ہے کہ ہم نے ان اجزاء کو فصل میں کس کس فیصد سے ڈالنا ہے؟

نائٹروجن جو یوریا کی شکل میں دیں گے اس کا اسی فیصد سو دن کی فصل ہونے تک دینا ہے باقی بیس فیصد اس کے بعد

مثال کے طور پر ہم 75کلو یوریا ڈال رہے ہیں تو اس کو 80سے ضرب دیں اور پھر 100 پر تقسیم کر دیں یہ 60کلو جواب آئے گا جو آپ نے سو دن کی فصل کو دینی ہے۔۔ 
اسی طرح دی گئی مقدار کی فیصد نکا کر 80فیصد پوٹاش,60فیصد فاسفورس،اور70فیصد سلفر سو دن کی فصل کو ڈال لیں۔

باقی 20٪ یوریا،بیس فیصد پوٹاش,چالیس فیصد فاسفورس اور تیس فیصد سلفر جو بچ جائے سو دن کے بعد ڈالیں

*چوتھا اصول:*
جب فصل پچاس دن کی ہو جائے ایک سپرے مائیکرو نیوٹرینٹس کا کر دیں اور جب سو دن کی فصل ہو ایک بار پھر مائیکرو نیوٹرینٹس کا سپرے کر دیں۔

*پانچواں اصول:*
ڈی اے پی جو چالیس فیصد بچ جائے گی جو سو دن کے بعد فلڈ کرنی ہوگی وہ حل کرنے کیلئے ڈرم میں پہلے دو لیٹر سے چار لیٹر گندک کا تیزاب جیسے سلفیورک ایسڈ کہتے ہیں ڈرم میں تھوڑا تھوڑا ڈال کے حل کر لیں اور پھر ڈی اے پی ڈال کر ہلائیں تو پانچ دس منٹ میں ڈی اے پی حل ہو جائے گی اس میں پھر یوریا،سلفر،اور پوٹاش کی مقدار جو بچی ہو گی وہ بھی ڈال کے ہلا دیں اور فلڈ کر دیں ۔

یاد رکھیں اگر دو پانی لگا رہے ہیں تو دو پانیوں پر اس خوراک کو تقسیم کر کے دیں اگر تین پانی لگا رہے ہیں تو تین قسطیں بنا کر دیں زیادہ فائدہ مند ریے گی۔

اس پوسٹ کے بعد اگر کوئی مزید سوال پیدا ہوتے ہیں تو اگلی پوسٹ میں مکمل کر دئے جائیں گے۔

آگے بڑھو کسان

*منجانب:کسان گھر*

صوبہ میں زرعی ماڈل کی تبدیلی کیلئے روایتی زرعی طریقوں کو جدید فارمنگ کے امور میں تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے فارم میکنائزیشن اور آٹومیشن، لانگ ٹرم پلاننگ، دنیا میں رائج نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا، بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق زرعی اجناس پیدا کرنا، کم وسائل اور کم اخراجات سے زیادہ منافع کمانا، فارم لیبر میں کمی لانا، پانی کی بچت کیلئے نئے نظام ہائے آبپاشی متعارف کرانا، ہائی ویلیو ایگریکلچر کو فروغ دینا، کاشتکاروں کو جدید زرعی علوم سے آراستہ کرنا، اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل فصلوں کے ہائبرڈ بیج متعارف کرانا، اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے نتیجہ میں زیادہ منافع حاصل کرنا، گویا کہ پنجاب میں زرعی شعبہ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا عمل تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ہم زرعی شعبہ میں انقلابی اقدامات سے نہ صرف اپنی ملکی ضروریات بلکہ دوسرے ممالک کو بھی وافر مقدار میں زرعی اجناس برآمد کرکے کثیر زرمبادلہ کمانے کے قابل ہو جائیں گے۔

موجودہ سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمودجو حقیقی معنوں میں کاشتکاروں کے خیر خواہ ہیں۔ محکمہ زراعت کی کارکردگی میں بہتری اور کاشتکاروں کے فلاحی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے میں شب و روز کوشاں ہیں۔ زرعی شعبہ میں نت نئی ریفارمز متعارف کراکے زرعی

پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنا رہے ہیں۔ بعض ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں جو بظاہر ناممکن لگتے تھے لیکن انہیں بھی ممکن بنانے میں اہم عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ قصہ مختصر محمد محمود صوبہ میں زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے فیاضانہ وسائل کی فراہمی سمیت مستقبل کی پلاننگ میں قابل تحسین اور منفرد اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے۔ بڑے مسائل کے ساتھ وسائل کی بھی کمی کا سامنا

ہے۔ ان متعدد مسائل سے نبردآزما ہونے اور وسائل کا صحیح مصرف کرنے کیلئے شعبہ زراعت کو ایک ویژنری لیڈر کی ضرورت تھی جس کا سیکرٹری محمد محمود نے بہترین ثبوت دیا۔پنجاب کے کاشتکاروں کی خوش قسمتی ہے کہ ان حالات میں ان کے مسائل کے حل اور زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے محمد محمود سیکرٹری زراعت پنجاب اہم کردار ادا کررہے ہیں جو فارمر فرینڈلی منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کے ماہر مانے جاتے ہیں۔منصوبے متعارف کرانے کے سلسلہ میں خادم پنجاب کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ خادم پنجاب زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے فیاضانہ وسائل مہیا کررہے ہیں۔ اب روایتی زراعت جدید زراعت میں تبدیل ہونے جارہی ہے۔ زرعی شعبہ کی ترقی میں تحقیق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مانگ پر مبنی تحقیق کیلئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب میںزرعی شعبہ کی ترقی کیلئے زرعی اور وٹرنری یورنیورسٹیوں کا قیام، کاشتکاروں کیلئے بلاسود قرضوںکی فراہمی، چھوٹے کاشتکاروں کو اینڈرائیڈ فونز کی مفت فراہمی، کھادوں پر بھاری سبسڈی، گندم اور کپاس کے بیج کی شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے مفت فراہمی، 60 فیصد سبسڈی پر ہائی ایفیشنسی ایریگیشن سسٹم کی تنصیب، 80 فیصد سبسڈی پر سولر سسٹم کی تنصیب، زرعی شعبہ میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا استعمال، زرعی زمینوں کی زرخیزی معلوم کرنے کیلئے سوائل سیمپلنگ کا منصوبہ، ہائی ویلیو ایگریکلچر کے فروغ کیلئے اقدامات، پیسٹی سائیڈ اور سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کیلئے آئی ایس او سرٹیفیکیشن کا عمل، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن، زراعت سے متعلقہ نیشنل و انٹرنیشنل کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد، دیہی زندگی کو روایتی رنگ دینے کیلئے سپر کبڈی لیگ کا انعقاد، ڈویژنل سطح پر زرعی میلوں کا انعقاد، پاکستانی پھلوں اور سبزیوں کی دنیا میں پہچان اور مانگ بڑھانے کیلئے انٹرنیشنل ہارٹی ایکسپو کا انعقاد، انٹرنیشنل ہائی ٹیک ایکسپو 2018کا انعقاد، محکمہ زراعت کے افسروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے کے۔پی۔ آئی۔ (Key Performance Indicators) متعارف کرانا، اچھی پرفارمنس کے صلہ میں ایوارڈ اور ریوارڈ دینے کا سلسلہ، تیلدار اجناس کی کاشت کے فروغ کیلئے5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی کی فراہمی، اجوہ، مڈجول، خلاص، عنبر، اور برہی جیسی اعلیٰ نسل کے کھجور کے پودوں کی مفت فراہمی، زیتون کے 20 لاکھ پودوں کی مفت فراہمی، بغیر بیج کے کنو کے پودوں کی سبسڈی پر فراہمی، کاٹن کیلنڈر کی تیاری، سوشل میڈیا کیلئے کاٹن فیس بک پیج بنانا، ڈویژنل و ڈسٹرکٹ ایڈوائزری کمیٹیوں و ٹاسک فورس سب کمیٹیوں کی دوبارہ بحالی سمیت ان کی ماہانہ میٹنگز کو یقینی بنانا، دالوں کی کاشت کے فروغ کا منصوبہ، بے موسمی سبزیوں کی

کاشت اور پیداوار میں اضافہ کیلئے ٹنل ٹیکنالوجی کا منصوبہ، کاٹن زون میں سپرے مشینری کی سبسڈی پر فراہمی، زرعی آلات کی سبسڈی پر فراہمی، فارم میکانائزیشن کیلئے ہائی ٹیک سنٹرز کے قیام کیلئے اڑھائی کروڑ روپے فی سنٹر سبسڈی کی فراہمی، آم، کنو اور چاول کی بین الاقوامی منڈیوں میں مانگ بڑھانے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش و دیگر متعدد عملی اقدامات، سائنسدانوں اور فیلڈ عملہ کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ملکی اور غیر ملکی ٹریننگز (Trainings) کا اہتمام، ایگری و کاٹن پالیسی کی تیاری، راجن پور میں کاٹن ریسرچ اسٹیشن کا قیام، رحیم یار خان میں مینگو ریسرچ اسٹیشن کا قیام، بہاولپور میں تحقیقاتی ادارہ برائے کھجور کے قیام کیلئے

منصوبہ کی تیاری، ایگریکلچر ڈلیوری یونٹ کا قیام، یہ سب وہ حقائق ہیں جنہیں نہ صرف پنجاب کے کاشتکار بلکہ حکومت پنجاب کے ناقدین اور سیاسی مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف پنجاب بلکہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کیلئے اٹھائے گئے ہیں ایسے تمام اقدامات اٹھانے اور ان پر عملدرآمد کا سہرا محمد محمود سیکرٹری زراعت پنجاب کے سر ہے۔ جو صوبہ میں زراعت کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں عملی کردار کررہے ہیں۔ پنجاب کے کاشتکار خادم اعلیٰ اور سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود کی ان کاوشوں سے بھرپور استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ 

پنجاب میں تقریباً 6 ملین ایکڑ سے زائد رقبہ پر مختلف قسم کے چارہ جات کاشت ہونے کے باوجود بھی جانوروں کو ضرورت کے مطابق سبز چارہ دستیاب نہیں ہورہا جس سے اکثر جانوروں کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔ ان ضروریات کے پیش نظر مویشیوں کی تعداد میں بھی سالانہ خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔ جانوروں کی غذا ئی ضروریات پوری کرنے کیلئے چارہ جات سستے مگر اہم ترین جزو ہیں۔ غذائیت سے بھرپور چاروں سے نہ صرف دودھ کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ جانوروں میں پروٹین، نمکیات اور غذائیت کا تناسب بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔پنجاب کے آبپاش و بارانی علاقوں میں ان چاروں کی کاشت کے فروغ سے چارے کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے جس سے جانوروں کیلئے چارے کی قلت کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ جوار گرمیوں کا ایک اہم اور جانوروں کا پسندیدہ چارہ ہے کیونکہ اس میں اقسام کی مناسبت سے لحمیات تقریباً7 تا 12فیصد ہوتے ہیں۔ جوار چونکہ گرمی اور خشکی برداشت کر لیتی ہے اس لیے پنجاب کے اکثر علاقوں میںکامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے ۔ اس کا غلہ مرغیوں کی بہترین خوراک ہے ۔ جوار کی منظور شدہ اقسام میں جے ایس 2002 قسم شعبہ چارہ جات سرگودھا کی منظور شدہ قسم ہے جو سب مروجہ اقسام سے زیادہ سبزچارہ کی پیداوار دیتی ہے اور 700 من فی ایکڑ تک ہے۔ یہ قسم زیادہ دیر تک سبز رہتی ہے۔ جانور اسے رغبت سے کھاتے ہیں۔ہیگاری: لمبے قد، درمیانی ،کھلی د مبی والی جوار کی میٹھی قسم ہے۔ سبز چارے کی پیداوار 550من فی ایکڑ ہے چارے کے علاوہ اس کے بیج کی پیداوار بھی حوصلہ افزا ہے۔ جے ایس263: یہ چارے اور دانے دونوں مقاصد کیلئے موزوں قسم ہے ۔ اس کا قد لمبا اور دمبی نیچے کی طرف مڑی ہو ئی ہوتی ہے۔ سبزچارے کی پیداوار 500من فی ایکڑ ہے تاہم اس قسم پر ریڈ لیف سپاٹ بیماری کا حملہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کو کاشت کرنے سے پہلے بیج کو سفارش کردہ پھپھوند کش زہر لگانا ضروری ہے۔ چکوال جوار: یہ بارانی علاقہ جات کیلئے موزوں قسم ہے۔ میٹھی اور زیادہ دیر تک سبز رہتی ہے اور جانور اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ جوار2011: یہ قسم 2011میں منظور ہوئی۔ قد آور اور میٹھی ہے اورجانور اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کے سبز چارہ کی پیداوار 720من اوربیج کی پیداوار30 من فی ایکڑ ہے۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے۔

باجرہ موسم گرما کا ایک اہم چارہ ہے اور اس کے سبز چارے اور بیج دونوں میں بہت سے غذائی اجزاپائے جاتے ہیں۔یہ فصل دودھیل اور باربر داری والے جانوروں کیلئے یکساں مفید ہے ۔ باجرہ کے غلے کو خصوصاً مرغیوں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں پانی کی کمی کو دوسرے چارہ جات کے مقابلہ میں بہتر طور پر برداشت کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس لئے باجرہ کو بارانی علاقوں کی فصل بھی کہا جاتا ہے۔ ایم بی 87-(ملٹی کٹ باجرہ)شعبہ چارہ جات سرگودھا کی زیادہ کٹائیاں دینے والی منظور شدہ قسم ہے۔ اسے مارچ میں کاشت کرکے جولائی تک دو یا تین کٹائیاں لے کر بیج کیلئے چھوڑا جاسکتا ہے اور باآسانی 10 من بیج فی ایکڑ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے پودے چونکہ قد میں چھوٹے ہوتے ہیں لہٰذا اس فصل کے گرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔اس قسم کی سبز چارے کی پیداوار 500 من فی ایکڑ تک ہے۔ جوار و باجرہ موسم گرما کی چارہ کی اہم فصلیںہیںپنجاب کی آب وہوا ان فصلوں کیلئے نہایت موزوں ہے ۔ اس فصلوں میں چونکہ خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس لیے یہ فصلیں پنجاب کے آبپاش اور بارانی دونوں علاقوں میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔چارے والی فصلیں مارچ سے جولائی تک حسب ضرورت کاشت کی جا سکتی ہیں جبکہ بیج والی فصلوں کی کاشت شروع جولائی سے وسط جولائی تک مکمل کر لی جائیں۔چارے کی اگیتی فصل میں اگر رواں ملا کر کاشت کر لئے جائیں تو چارے کی غذائیت اورپیداوار بڑھ جاتی ہے۔کاشتکار چاروں کیلئے ان فصلوں کو عام طور پر بذریعہ چھٹہ کاشت کرتے ہیں لیکن چاروں کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول اور بیج والی فصلوں کو ایک فٹ کے فاصلے پر قطاروں میں بذریعہ ڈرل کاشت کیا جائے۔ان کا بیج زیادہ گہرائی میں نہ جائے کیونکہ ان کے بیج چھوٹے ہوتے ہیںاور اگائو متاثر ہوتا ہے۔ جوار ہلکی کلراٹھی زمین پر بھی کاشت کی جا سکتی ہے لیکن زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے بھاری میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو بہترین ہوتی ہے۔باجرہ کی فصل کلراٹھی اور سیم زدہ زمینو ںکے علاوہ ہر قسم کی زمین پر کاشت کی جاسکتی ہے تاہم ہلکی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو اس کی کاشت کیلئے موزوں ہے۔ زمین کا ہموار ہونا اچھی پیداوار کا ضامن ہے۔ اگر پچھلی فصل پر مٹی پلٹنے والا ہل نہ چلایا گیا ہو تو ایک بار مٹی پلٹنے والا ہل اور دو دفعہ کلٹیویٹر بمعہ سہاگہ چلا کر اسے نرم اور بھر بھرا کرلیا جائے۔ چارہ جوارکیلئے 32سے35کلو گرام او ر دانوںکیلئے 6سے 8کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہوتا ہے گو چھٹہ سے کاشت کا عام رواج ہے۔ لیکن اچھی پیداوار لینے کیلئے ایک فٹ کے فاصلے پر لائنوں میں بوائی کی جائے جبکہ بیج کیلئے فصل ڈیڑھ سے دو فٹ کے فاصلے پرلائنوں میں کاشت کی جائے۔ بارانی علاقوں میں کاشتکار وتر کی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بیج والی فصل کی کاشت کیلئے شرح بیج میں اضافہ کر لیں۔ باجرہ کی چارہ والی فصل کیلئے 4 سے 6 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعما ل کیا جائے اوربیج والی فصل کیلئے 2 سے 3 کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہوتا ہے۔ صاف ستھرا، صحت مند بیج اچھی پیداوار کا ضامن ہوتا ہے ا س لیے بوائی سے پہلے بیج کو اچھی طرح صاف کر لیا جائے اوراس کو مناسب پھپھوند کش زہر لگا کر کاشت کیا جائے۔ بوائی سے ایک ما ہ قبل 3یا4ٹرالی گوبر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ یکساں بکھیری اور ہل چلا کرزمین میں ملا یا جائے ۔ اگر فصل کی حالت اچھی ہو تودوسرے پانی کے وقت استعمال ہونے والی یوریا کھاد میںبچت کی جاسکتی ہے۔بارانی علاقوںمیں سفارش کردہ دو بوری نائٹروفاس کھاد بوائی سے پہلے زمین کی تیاری کے وقت ڈالی جائیں۔جوار و باجرہ کی فصلوں کو 2سے 3 پانی درکار ہوتے ہیں۔ پہلا پانی بوائی کے تین ہفتے بعد اور بعد میں حسب ضرورت 2 مزید پانی لگائے جائیں۔ بیج والی فصل کو دانے بنتے وقت پانی کی کمی ہر گز نہ آنے دی جائے ورنہ پیداوار اور دانے کا معیار متاثر ہو گا ۔ جوار و باجرہ کی چارہ والی فصلوں کو 50فیصد پھول نکلنے پر کاٹ لینا چاہیے۔اس وقت فصل کاٹنے پر زیادہ پیداوار اور مناسب غذائیت حاصل ہوتی ہے۔ اگرچارہ جواروالی فصل کا قدتین فٹ سے کم ہو اور فصل پانی کی کمی کا شکار ہو تو اسے جانوروں کو احتیاط سے کھلائیں کیونکہ اس حالت میں اس میں ایک زہریلا مادہ ہائیڈروسائینک ایسڈ(HCN) پیدا ہو جاتا ہے جو جانوروں کیلئے نہایت مضر ہے۔ اس لیے کوشش کی جائے کہ ایک پانی لگا کر چارہ جوار جانوروں کو کھلایا جائے ۔موڈھی فصل کا چارہ کھلانے میں بھی احتیاط برتنی ضروری ہے۔ اس صورت میں بھوسہ وغیرہ یا کوئی اور سبز چارہ اس کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ جوار و باجرہ کی بیج والی فصلیں جب نومبر میں پک کر تیار ہوجائیں تو ان کے سٹے کاٹ کر خشک جگہ پر اکٹھے کر لئے جائیں اور باقی فصل کے گٹھے باندھ کر رکھ دیا جائے اور اسے سردیوں میں جانوروں کو کھلایا جائے ۔ جوار و باجرہ کی چارے والی فصلوں پر عام طور پر کسی زہر کا استعمال نہیں کیا جاتا تاہم اگربیج والی جوار کی فصل پر تنے کی سنڈی ، کونپل کی مکھی اور مائٹس وغیرہ کا حملہ زیادہ ہو جائے تومحکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہریں استعمال کی جائیں اوران ضرررساں کیڑوں کا بروقت انسداد کیا جائے۔جوار کی فصل پر ریڈ لیف سپاٹ اور پھر بیج والی فصل پر کانگیاری کا حملہ ہوتا ہے ۔ ان بیماریوں کے تدارک کیلئے بیج صحت مند استعمال کیا جائے اوراس کو سفارش کردہ مناسب پھپھوند کش زہر لگا کر کاشت کیا جائے ۔ بیج والی فصل میں کانگیاری زدہ پودوں کے سٹے کاٹ کر جلا دئے جائیں یا زمین میں دبا دئیے جائیں۔



پاکستان میں گندم کی اوسط پیداوار بہت کم ، جو قریباً 29تا30من فی ایکڑ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ کہ قریباً 15سے 20 لاکھ ایکڑ کلر و تھور زدہ رقبوں پر گندم کی کاشت کی جاتی ہے لیکن اچھی زمینوں سے 80 فیصد اور 100 من فی ایکڑ پیداوار بھی حاصل ہو رہی ہے۔ گندم کی کاشت کے لئے موزوں طریقے اختیار نہیں کئے جاتے، نتیجتاً فی ایکڑ پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ 

ہماری تھوڑی سی توجہ اور محنت سے ان زمینوں کو مختلف کیمیائی یا حیاتیاتی طریقوں سے قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ان زمینوں کی اصلاح اور ان کی پیداواری صلاحیت بحال کر کے گندم اور دھان کی فصلوں کی کاشت کے لئے مختلف تجربات کیے ہیں۔ کاشتکار ان تجربات سے استفادہ کرکے کلراٹھے رقبوں کی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں اور گندم کی بہتر فصل حاصل کر سکتے ہیں۔

سفید کلر والی زمین
ایسی زمین میں حل پزیر نمکیات کی مقدار 3۔0فیصد یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔مٹی کا تعامل (پی ایچ) عموماً 5۔8 سے کم ہوتا ہے۔ ایسی زمینوں میں عموماً سوڈیم ،میگنیشم کلورائیڈ، سلفیٹ اور بوریٹ کے نمکیات پائے جاتے ہیں جو پودوں کی جڑو ں کے ارد گرد وافر مقدار میں جمع ہوجاتے ہیں جس سے پودوں کا اگائو متاثر ہوتا ہے۔ ایسی زمینوں میں ہل چلا کر پہلے زمین کو ہموار کیا جائے پھر دوہرا ہل چلا کر سہاگہ دیا جائے۔ 

وٹ بندی مضبوط کر کے نہری یا ٹیوب ویل کا پانی کھیت میں لگایاجائے۔ کھیت میں پانی کھڑا کرنے کا عمل کئی 2مرتبہ دوہرایا جائے تاکہ نمکیات پانی میں حل ہو کر زمین کی نچلی تہوں میں چلے جائیں۔ اگر زمین کے نیچے چکنی مٹی کی سخت تہہ ہوتو کھیتوں میں کراہ کے بعد دوہرا چیز ل ہل چلایا جائے۔

کالے اور سفید کلر والی زمین
ان زمینوں میں قابل تبادلہ سوڈیم اور حل پذیر نمکیات دونوں کی مقدار محفوظ حد تک تجاویز کر جاتی ہیں۔ صوبہ پنجاب میں کلر سے متاثرہ رقبہ کا 80فیصد اسی قسم کے کلر سے تعلق رکھتا ہے۔ اصلاحی عمل کے لئے ایسی زمینوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری سے تجزیہ کرایا جائے تاکہ اس کی اصلاح کے لئے جپسم کی صحیح مقدار کا اندازہ ہو سکے۔ ان زمینوں کی بھی جپسم ڈال کر اصلاح کی جا سکتی ہے۔

کالے کلر والی زمین
ایسی زمینوں میں حل پذیر نمکیات کی مقدار تو محفوظ حد کے اندر ہوتی ہے جب کے قابل تبادلہ سوڈیم کی مقدار متعین حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان زمینوں کا تعامل (پی ایچ ) 5۔8سے زائد ہوتا ہے۔ سوڈیم کی وجہ سے زمین زمین کے مسام بند ہوجاتے ہیں جس سے زمین میں ہوا اور پانی کا گزر مشکل ہوجاتا ہے ۔ اس طرح پودوں کی جڑیں آکسیجن حاصل نہیں کر سکتیں اور اجزائے خوراک کی دستیابی میں بھی کمی آجاتی ہے۔ 

کالے کلر والی زمینوں کی اصلاح کیلئے جپسم کا استعمال ضروری ہے۔ ہموار کیے گئے کھیتوں میں عام ہل دو مرتبہ چلایا جائے اور سہاگہ دیا جائے۔ اس کے بعد جپسم کی کل مقدار کا 3/2حصہ کھیت میں چھٹہ کے ذریعے یکساں مقدار میں بکھیر دیا جائے۔ دوہرے ہل کے ذریعے جپسم کو ملا کر سہاگہ دیا جائے اور پھر جپسم کا باقی 3/1حصہ زمین کے اوپر بکھیر دیا جائے۔ کھیت میں 20سے 25دن کے لئے اچھی کوالٹی کا پانی کھڑا کیا جائے۔ ہاں اگر کھیت کی مٹی چکنی ہو یا کہیں نیچے تہہ سخت موجود ہوتو کھیتوں میں گہرا ہل اور کراہ چلا کر زمین کو ہموار کیا جائے۔

سفارش کردہ اقسام
پاسبان 90 ، لاثانی 2008،آری 2011 اور گلیکسی 2013تھور زدہ زمینوں کے لئے گندم کی موزوں اقسام ہیں۔

شرح بیج اور بروقت کاشت
کلر والی زمینوں میں عام زمینوں کی نسبت بیج کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے کلر والی زمینوں میں شرح بیج 50سے60کلو گرام فی ایکڑ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ 20نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز تقریباً ایک فیصد کے حساب سے (15تا20کلو گرام فی ایکڑ)کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اچھی پیداوار کے لئے بیج کے اگائو کی شرح 85فیصد سے ہر گز کم نہ ہو اور بیج کا زہر لگا کر کاشت کیا جائے۔

گپ چھٹ
یہ طریقہ ایسی کلر والی زمینوں میں کاشت کے لئے موزوں ہے۔ جو کم چکنی ہو اور زمین کی ضرورت جپسم 2ٹن فی ایکڑ تک ہو۔ پانی کو اچھی طرح جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس طریقہ کاشت سے پہلے زمین کو خشک حالت میں ہل دو دفعہ چلا کر پھر 2 سے 3 دفعہ ہل بمعہ سہاگہ دیا جاتا ہے۔ زمین کو اچھی طرح بھر بھرا کرنے کے بعد کھیت کے اندر چھوٹی کیاریاں بنا لی جاتی ہیں۔ 

کھیت کو پہلے پانی لگاتے وقت 100کلو گرام فی ایکڑ گندھک کا تیزاب کھیت میں ڈال دیا جائے۔ کھیت میں پانی 3انچ کے قریب کھڑا کیا جائے اور پھر اس کھڑے پانی میں گندم کا بیج (کم از کم 24گھنٹے بھگو یا ہوا بیج ) اس طریقے سے چھٹہ کیا جائے کہ بیج زمین کے اند ر چلا جائے۔ کھیت میں گندھک کا تیزاب ڈالنے سے زمین کافی نرم ہو جاتی ہے اور بیج آسانی سے اس کے اندر دھنس جاتا ہے۔ اس طریقہ سے گندم کا اگائو بہت اچھا ہو جاتا ہے۔

چھوٹی کھیلیوں پر کاشت
چکنی باڑہ زمینیں میںبارش اور آبپاشی کا پانی سطح زمین پر کھڑا رہتا ہے جس سے گندم کی فصل بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ یہ صورت حال اکثر دھان کاشت کے مرکزی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ ایسی زمینوں کیلئے چھوٹی کھیلیوں پر گندم کاشت کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس طریقہ میں زمین کو خشک حالت میں 2 سے 3 دفعہ ہل بمعہ سہاگہ چلا کر اچھی طرح بھر بھرا کر لیا جاتا ہے۔ 

زمین تیار کرنے کے بعد 12گھنٹے پانی میں بھگو یا ہوا گندم کا بیج کھیت میں چھٹہ کر دیا جاتا ہے۔ اور کھیت میں "12/12 فاصلہ پر رجر ہل کی مدد سے چھٹی کھلیلیاں بنا کر فوراً کھیت کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ پانی لگاتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی کھلیوں میں "6اونچائی سے اوپر نہ جائے اور کھیلیوں کے سروں پر صرف ریج کے ذریعے وتر پہنچے ۔ اگر کھیلیوں کے سروں تک لگا دیا جائے تو گندم کا اگائو بہت بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہے کہ یہ طریقہ کاشت درمیانی کلر والی اور سخت بافت والی زمینوں کے لیے موزوں ہے۔

پٹڑیوں پر کاشت
پٹڑیوں پر گندم کی کاشت انتہائی آسان اور بہترین طریقہ ہے جس کے لئے کسی خاص مشین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طریقہ کاشت میں کھیت کو روایتی طریقے سے اچھی طرح تیار کرنے کے بعد بیج کا چھٹہ دے دیا جاتا ہے۔ اور پھر کماد ،مکئی اور کپاس والے عام رجر کے ذریعے کھیلیاں بنا دی جاتی ہیں پٹڑیوں پر کاشتہ گندم کی طرح آبپاشی کے لئے پانی صرف کھیلیوں میں دیا جاتا ہے۔ 
اس طرح تقریباً 30 فیصد پانی کی بچت ہوتی ہے۔ کھیلیوں پر کاشتہ فصل بھی انہی تمام خوبیوں کی حامل ہوتی ہے جو پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس طریقہ کاشت کی بدولت روایتی طور پر کاشت شدہ فصل کی نسبت پیداوار میں 3تا 5من فی ایکڑ کا اضافہ ممکن ہے۔

ڈرل کاشت
ایسی زمینیں جو کہ ریتلی ہوں اور پانی کو بہت جلد جذب کر لیتی ہوں وہاں خشک طریقہ کاشت زیادہ موزوں ہے۔ اس مقصد کیلئے زمین میں 2سے3دفعہ ہل بمعہ سہاگہ دے کر اس کو نرم اور ہموار کر لیا جاتاہے۔ پھر خشک زمین میں بیج کو ڈرل کے ذریعہ کاشت کر دیا جاتا ہے اور کھیت کو پانی دے دیا جاتا ہے۔

گندم ایک اہم غذائی فصل ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ گندم کی کاشت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس مضمون میں گندم کی کاشت کے اہم موضوعات وقت کاشت، زمین کی تیاری، بیج کی مقدار، طریقہ کاشت اور آبپاشی کے متعلق بتایا گیا ہے۔   

 وقت کاشت
 گندم کی فصل پہلی نومبر سے پندرہ دسمبر تک کاشت کی جاتی ہے۔ نومبر کے پہلے تین ہفتوں میں کاشت کی گئی فصل ذیادہ پیداوار دیتی ہے۔  گندم کی فصل کیلئے موزوں درجہ حرارت پچیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ 
 زمین کی تیاری 
گندم کیلئے اچھے نکاس والی زرخیز زمین موزوں ہوتی ہے۔ سخت جان فصل ہونے کی وجہ سے گندم ہلکی کلر زدہ اور چیکنی زمین میں بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اگر گندم خالی کھیت میں کاشت کی جارہی ہے تو کاشت سے دو تین ہفتے پہلے کھیت میں دو دفعہ گہرا ہل چلائیں۔ پھر سہاگہ چلانے کے بعد کھیت کو پانی لگا کرچھوڑ دیں تاکہ جڑی بوٹیاں نکل آئیں۔ اب بوائی سے پہلے کھیت میں ہل اور سہاگہ چلائیں۔ تاکہ جڑی بوٹیاں بھی ختم ہو جائیں اور کھیت بھی تیار ہو جائے۔ تیار کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ناہموار کھیت میں غیرمتوازن آبپاشی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔

 بیج کی مقدار
 گندم کی پہلی سے بیس نومبر تک کی کاشت کیلئے فی ایکڑ چالیس سے پچاس کلو بیج استعمال ہوتا ہے- جبکہ بیس نومبر سے پندرہ دسمبرتک کی کاشت کیلئے فی ایکڑ پچاس سے ساٹھ کلو بیج استعمال ہوتا ہے(1)- گندم کے بیج کو بوائی سے پہلے پھپھوندی کُش زہر ضرور لگائیں۔ بیج کو زہر لگانے کیلئے عام طور پر گھومنے والا ڈرم استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرم موجود نہ ہو تو بیج اور زہر کی وزن شدہ مقداریں ایک بوری میں ڈالیں۔ پھر بوری کو دونوں کناروں سے پکڑ کر اچھی طرح  ہلائیں ۔ تاکہ ہر بیج کو اچھی طرح زہر لگ جائے۔    
 طریقہ کاشت 
پٹڑیوں پر کاشتwheat raised bed sowing
گندم کی پٹڑیوں پر کاشت کا طریقہ کافی مقبول ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ فصل گرتی بھی نہیں ہے۔ اس طریقہ کاشت میں پٹڑیوں کی اُونچائی چھ انچ اور چوڑائی دو فٹ رکھی جاتی ہے۔ جبکہ پٹڑیوں کیساتھ پانی کی کھیلیاں ایک فٹ چوڑی بنائی جاتی ہیں۔ ہر پٹڑی پر گندم کے بیج کی چار قطاریں لگائی جاتی ہیں۔  پٹڑی کے دونوں کناروں سے پہلی پہلی قطار تین تین انچ کے فاصلے پر لگائی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری اور تیسری قطار کنارے والی قطاروں سے پانچ پانچ کے فاصلے پر لگائی جاتیں ہیں۔ درمیان والے آٹھ انچ خالی چھوڑے جاتے ہیں(2)۔  

بینڈ پلیسمنٹ ڈرل سے کاشت
بینڈ پلیسمنٹ ڈرل میں کھاد اور بیج اکھٹے کیرا ہوتے ہیں۔ بیج اور کھاد میں تقریباً دو انچ کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس طریقہ کاشت میں اگر فاسفورس کا استعمال کیا جائے تو ذیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ 

بذریعہ چھٹہ کاشت
اس طریقہ میں تیار کھیت میں گندم کا بیج بذریعہ چھٹہ کاشت کیا جاتا ہے۔ اگر چھٹہ کرنے کے بعد رجر سے کھیلیاں بنا لی جائیں تو نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافیہ ہوتا ہے۔  

 آبپاشی 
گندم کی فصل کو عام طور پر تین دفعہ پانی لگایا جاتا ہے۔  پہلا پانی بوائی کے بیس سے پچیس دن کے بعد لگایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا پانی بوائی کے اڑھائی سے تین ماہ کے بعد اور تیسرا پانی بوائی کے چار ماہ بعد لگایا جاتا ہے۔ موسمی حالات کے پیش نظر ایک یا دو اضافی پانی بھی لگائے جاسکتے ہیں۔  

زمین کی قدرتی زرخیزی و ساخت ، علاقہ و وقتِ کاشت، اقسام کی نوعیت، سابقہ فصل کی نوعیت ، طریقہ کاشت، تعداد و ذریعہ آبپاشی اور جڑی بوٹیوں کی نوعیت و مقدار جیسے امور کی تغیرات کی مناسبت سے کھادوں کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ کمزور ر یتلی میرازمین میںیا بہاریہ سورج مکھی کے بعد کاشتہ کپاس کو زیادہ کھاد ڈالی جائے لیکن ور۔ یال زمین ، آلو یا بہاریہ مکئی کے بعد کاشتہ فصل کو حسبِ ضرورت کم کھاد ڈالی جائے۔ اگر صحت مند زمین میں وافر مقدار میں موزوں پانی کا انتظام ہو توکھادوں کی مقدارقدرے کم استعمال کی جائے۔ کپاس کو نائٹروجن، پوٹاش، این پی کے زنک اور بوران ڈالنے سے بھر پور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بیشتر فاسفورس کھاد بجائی کے وقت زمین میں ڈال دی جائے ۔ اگر بجائی کے وقت نہ ڈالی جاسکی ہو تو پہلے ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر ڈالی جاسکتی ہے۔ کھادیں استعمال کرنے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

الف - پودے کے مزاج کے مطابق کھادڈالی جائے:
کھاد دڈالنے میں پودے کے مزاج اور نشوونما ئی رویے (Growth behavior) کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتاہے۔ اسی لئے نشوونما ئی مرائل کی مناسبت سے کھادیں ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ مئی جون میں کاشتہ کپاس کا اگاؤ عام طورپر 5تا7 دنوں میں مکمل ہوجاتاہے۔لیکن مارچ کاشتہ کپاس میں اگنے کا عمل دو ہفتے تک جاری رہتا ہے ۔کاشت کے بعد 25تا35 دنوں کے درمیان گڈی (Squiring) کا مرحلہ آتاہے۔ لیکن مارچ کاشتہ کپاس میں یہ عمل 6سے7 ہفتے بعد شروع ہوتاہے۔ انتدائی پھول 55 تا65 دنوں کے دوران کھل جاتے ہیں۔ لیکن مارچ کاشتہ کپاس میں ا بتد ائی پھل کاشت کے 80 تا90 دن بعد کھلتے ہیں۔ اقسام کی مناسبت سے 90 تا105 دنوں کے دوران پہلے ٹینڈے کھلنے لگتے ہیں۔ لیکن مارچ کاشتہ کپاس میں ابتدائی ٹینڈے کھلنے کا عمل 120 دن بعد شروع ہوتاہے۔ 135تا140 دنوں میں کپاس کی پہلی چنائی کی جاسکتی ہے۔ کپاس کی نشوونمائی مراحل کو مندرجہ ذیل تین مراحل میں تقسیم کیا جاسکتاہے:

1 ابتدائی مرحلہ:
کپاس کا پودا اپنی پیداواری صلاحیت کا فیصلہ اگنے کے بعد 3تا4 ہفتے کے دوران جبکہ مارچ کاشت کی صورت میں 5 تا 6 ہفتے میں کرلیتاہے۔ لہذا اس عرصہ کے دوران خوراک اور پانی کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ رس چوسنے والے کیڑوں کے حملے سے بچانا بھی ضروری ہے۔

2 درمیانی مر حلہ:
یہ مرحلہ پھول ظاہر ہونے سے لے کر ابتدائی ٹینڈے کھلنے سے پہلے تک ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ 55 سے 90 دنوں پر محیط ہو سکتاہے۔ مارچ کاشتہ کپاس میں یہ مر حلہ 100 دنوں کے بعد شروع ہوتاہے۔ اس عرصے کے دوران کھاد،پانی اور کیڑے مار زہروں کی کمی نہ آنے دی جائے۔

3 آخر ی مرحلہ:
یہ مرحلہ پہلے ٹینڈے کھلنے سے لے کر آخری چنائی تک محیط ہوتاہے۔ اس عرصہ کے دوران نائٹروجن کی آخری قسط پانی کے ساتھ ملا کر دی جائے۔ پانی کی قلت اور کیڑے کا شدید حملہ متاثر کرتاہے۔ اگر کسی بھی مرحلہ پر یکبارگی اکیلی نائٹروجنی کھاد زیادہ مقدار میں ڈال دی جائے تو کپاس کا پودا نباتاتی بڑھوتری کرنے لگتاہے۔ پھول اور ٹینڈے کی طرف اس کا رجحان کم ہوجاتاہے۔ اگر پھول آور ی کے ساتھ تھوڑی تھوڑی کر کے نائٹروجن ڈالی جائے تو درمیانی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ پھل آوری کا عمل بھی جاری رکھتاہے۔ اس لئے بجائی کے وقت ڈی اے پی یا اس کے متبادل صورت میں فاسفورسی کھاد ڈالی جائے۔ ابتدائی پھول ظاہر ہونے سے پہلے اسے کھبی بھی زیادہ مقدار میں نائٹروجن نہ ڈالی جائے۔ ا بتد ائی پھول ظاہر ہونے کے مرحلے سے لے کر ابتدائی ٹینڈے کھلنے تک نائٹروجن تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جائے ۔

ب - کپاس کی اصل خوراکی ضرورت کتنی ہے:
ایک اندازے کے مطابق ایک ٹن کپاس پیداکرنے کے لئے یہ فصل 36 کلو نائٹروجن ، 12 کلو فاسفورس اور 20 کلو پوٹاش حاصل کرتی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتاہے کہ کپاس کی بہتر پیداوار کے لئے دیگر کھادوں کے مقابلے میں نا۔ ئٹروجن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جتنی خوراک زمین میں موجود ہوتی ہے یا اضافی طور پر ڈالی جاتی ہے۔ زمینی مسائل اور دیگر وجوہات کی بنا پر وہ ساری فصل کو نہیں ملتی۔ اس لئے کھاد کی مقدار ہمیشہ مزکورہ مقدار کے مقابلے میں زیادہ میں ڈالی جاتی ہے۔

ج - کتنی کھاد ڈالی جائے:
معتدل حالات میں کپاس کے لئے مزکورہ بالا عوامل کی مناسبت سے نائٹروجن ، فاسفورس اور پوٹاش کو مقدار کم ازکم 25-23-46 اور زیادہ سے زیادہ 25-35-60 کلو گرام فی ایکڑ ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیا۔ دہ مقدار کی حد مقر ر نہیں کی جاسکتی۔ فر وری کاشتہ کپاس سے مثالی پیداوار حاصل کرنے کے لئے مزکورہ سفارشات کے مقابلے میں دو تا تین گنا زیادہ کھاد بھی ڈالی جاسکتی ہے ۔ کم دورایے والی اقسام کو اگر ایک تا دو بوری یو ریا ، ایک ڈی اے پی اور ایک ایس او پی جبکہ طویل دورایے والی اقسام کو دوتا تین بوری یوریا، ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک ایس او پی یاان کے متبادل کھادیں ڈالی جائیں۔ تو بھر پور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

کھاد کب ڈالی جائے؟
گندم کے بعد ڈرل سے کاشتہ کپاس کو ایک تہائی نائٹروجن ، نصف فاسفورس اور ایک تہائی پوٹا ش بوقتِ کاشت ( لا۔ ئنوں کے ساتھ) ڈالی جائے۔ کپاس خو اہ ڈرل سے کاشت کی گئی ہو یا پٹٹریوں پر دونوں صورتوں میں بقیہ ایک تہائی نائٹروجن ، نصف فاسفورس اور ایک تہائی پوٹاش کاشت کرنے کے بعد 40تا60 دن کے اندر اندر یعنی پھول گڈی ظاہر ہونے پر ڈالی جائے۔ بقیہ ایک تہائی نائٹروجن اور پوٹاش بھر پور ٹینڈے بننے کے دوران ڈالی جائے ۔ تو زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ گویا مئی کے آخر تک کاشتہ کپاس کو سارہ کھاد 15 اگست سے پہلے پہلے ڈال دی جائے ۔

س - نائٹروجن کی افادیت بڑھانا:
کپاس کو ایسی کھاد ڈالی جائے جس سے پودوں کو آہستہ آہستہ لیکن زیادہ عرصہ کے لئے نائٹروجن ملتی ہے۔ اس مقصد کے لئے کیلشیم امونیم نائٹریٹ کو ترجیح دی جائے۔ اس کھاد کو نائٹروجن ملے ترمیم شدہ سلفیورک ایسڈ ( مثلاً دی سی ۔ 10 یا یو لیس۔20) کے ساتھ ملا کر فر ٹیگیشن کے طریقے سے استعمال کیا جائے۔ اس طریقے سے کھاد ڈالی جائے تو کلر اٹھی زمین سے بھی بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

ص - چھوٹے خوراکی اجزا:
جد ید تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ عناصر صغیرہ میں سے بوران اور زنگ ڈالنے سے کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوتاہے زنگ جڑوں کی افزائش کرکے پانی کی کمی برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ بوران کپاس میں کچے ٹینڈے گرنے کا عمل کافی حدتک روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر کاشت کے وقت پانچ کلو20 فیصد طاقت والا زنک سلفیٹ اور ساڑھے تین کلوگرام تجارتی بورک ایسڈ دیگر کھادوں کے ساتھ ملاکر ڈال دیاجائے تو ان عناصر کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ زنک او ر بوران اگربجائی کے وقت نہ ڈالی جاسکی ہو تو کاشت کے 60,45 اور90 دن بعد 2 گرام زنک سلفیٹ اور ایک گرام بورک ایسڈ ا فی لٹر پانی میں ملاکر سپرے بھی کی جاسکتی ہیں۔

 ط - نیم گرم کھادوں کا استعمال :
تدریجاً دستیاب ہونے والی نیم گرم (Chillated) کھادیں استعمال کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ کلر اٹھی زمینوں میں عام کھادوں کی دستیابی کے مسائل ہوتے ہیں۔ نیم گرفتہ کھادوں کی کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں خوراکی عناصر کی بہتر دستیابی کے لیے EDTA یا EDTA یا نامیاتی مرکبات کو بطور نیم گرفتہ کار (Chillating agent) استعمال کیا جاتاہے۔

ع - جدید کھادوں کا استعمال:
پانی میں حل پذیر کھادیں (Water solube NPK) استعمال کی جائیں تو ڈی اے پی اور پوٹاش جیسی مہنگی کھادوں کے اخراجات میں پچاس فیصد تک کمی کی جاسکتی ہے اگر پھول آوری کے دوران فصل کا رنگ ہلکا سبز ہو تو اس پر NPK (45:15:05) ایک کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے 100 لٹر پانی میں ملاکر سپرے کی جاسکتی ہے ۔ کیڑے مار زہریں فولیر کھادوں کے ساتھ ملاکر استعمال کی جاسکتی ہیں۔

ق - تجزیہ اراضی اور کھاد کی مقدار:
اگر زمین میں نامیاتی مادہ0.86 سے1.29 کے درمیان ہو تو نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ فاسفورس کی مقدار 15 سے21 پی پی ایم کے درمیان ہوتو درمیانی مقدار ڈالی جا سکتی ہے۔ اس سے کم ہوتو زیادہ فاسفورس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح پوٹاش کی درمیانی حد 80 سے 180 پی پی ایم کے درمیان ہوتو درمیانی مقدار ڈالی جائے۔ اس سے زیادہ ہو تو نہ ڈالی جائے۔

کپاس کے لئے کیسی زمین بہتر ہے؟
کپاس میراو بھاری میرا زمین میں بہتر پیداوار دیتی ہے۔ چکنی اور سخت زمینوں میں کپاس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک نہیں جاسکتیں جس کے نتیجے میں کپاس کے پودے چوٹے رہ جاتے ہیں اور مجموعی طور پر کم پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ریتلی اور کمزور زمینوں میں کپاس ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کی بھر پور پیداوار حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ کلر اٹھی وسیم زدہ اور سخت اندورنی تہہ (Hard pan) والی زمین میں اس کی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سخت تہہ والی زمینوں میں ہر تین سال بعد گہراہل چلایا جائے تو کپاس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک جاسکتی ہیں۔

کس حد تک زمین تیار کی جائے؟
زمین کو ہموار اور باریک کر کے کپاس کاشت کی جائے تو بہتر اگاؤ دستیاب ہوتا ہے کپاس کی موٹی جڑ (Taproot) کے گہرائی تک جانے کے لئے گہرائی تک زمین کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ جہاں زمین کم گہرائی تک تیار کی جاتی ہے وہاں کپاس گرنے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔ یکساں اگاؤ کے لئے زمینی ہمواری اور باریک تیاری بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔چنا نچہ لیزسے ہموار کردہ زمینوں میں اگر دوہری رونی کرکے ڈرل سے کاشت کی جائے تو کپاس کا اگاؤ بہتر ہوتاہے۔ میرا ور ہلکی زمینوں میں سنگل رونی یا بارش کے وتر میں ڈرل کی جائے تو اس کا اگاؤ کم ہوتاہے۔ پٹٹریوں میں کاشت کی صورت میں بھی لیزر لیو لنگ کی سفارش کی جاتی ہے۔ اچھی طرح خشک کی گئی زمین میں پٹٹریوں یاکھیلیوں پرکاشت کی جائے تو ا س کا اگاؤ بہتر ہوتاہے۔

کلر اٹھی زمین پر کاشت:
اگرچہ کپاس صحت مند اور کلر تھور سے بچی ہوئی زمین میں بہتر پیداوار دیتی ہے۔ تھور سے متاثرہ زمین میں کپاس اچھی نہیں ہوتی لیکن پنجاب میں کپاس کے خطے (Cotton zone) میں لاکھوں ایکڑ زمین تھور سے متاثرہ ہے اور ہر سال مجبوراً ایسے علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہے۔ ایسی زمینوں میں کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں:

  1. ڈرل سے کاشت کے بجائے پٹٹریوں یا کھیلیوں پر کاشت کا طریقہ اختیار کیاجائے۔
  2. چوکے لگانے کے دوران ہر سوراخ میں تین چار بیج کاشت کرکے مناسب اگاؤ حاصل کیاجائے۔ پودے سنبھل جانے کے (کاشت کے تین ہفتے) ہر چگہ ایک یا دودو پودے چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیے جائیں۔
  3. ایسی ز مینوں میں زیادہ کھادیں استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ کھادوں کا استعمال تین یا زیادہ مرتبہ قسط وار (Split) کرکے کیاجائے۔
  4. خراب زمین میں تھور برداشت کرنے والی سخت جان قسم مثلاً ایم این ایچ 886 اور الیف ایچ 113 کاشت کی جاسکتی ہیں۔
  5. ایسی زمینوں کے سوراخ (Pore spaces) بند ہوتے ہیں اس لئے پانی جلدی جذب کرتیں۔ زمینی سورا۔ خوں کو کھولنے اور ہواداری (Aeration) کا انتظام بہتر کرنے کے لئے اصلاحی مرکبات استعمال کئے جائیں۔
  6. اس مقصد کے لئے یوایس 20 یا فونڈیشن پنس یا ان کے متنادل اصلاحی مرکبات کاشت کے وقت یا پھول آوری سے پہلے پہلے کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔
  7. کاشت سے تین ہفتے پہلے سبز کھاد والی فصل زمین میں دبائی جائے تو جڑوں کی ہواداری کا نظام بہتر ہوجاتا ہے۔
  8. کھالیوں میں جپسم اور گوبر کی کھاد ڈال کر تھور کے مضر اثرات سے بچ کر کپاس کی کامیاب کاشت کی جاسکتی ہے۔
  9. ٹیوب ویل کے کم موزوں یاناموزوں کے پانی کے ساتھ بہری پانی کابندوبست کیاجائے۔ کلر اٹھی زمینوں میں فالتو پانی سے شدید نقصان ہوسکتاہے۔ اس لئے فالتو پانی کے نکاس کا جلد از جلد انتظام کیاجائے۔


دو عشرے قبل بیشتر کپاس ڈرل سے کاشت کی جاتی تھی حالیہ سالوں کے دوران 60 فیصدسے زیادہ رقبے پر پٹٹریوں کے کناروں پر چوکے سے کاشت کی جانے لگی ہے۔ مختلف صورتحال میں کپاس مندرجہ ذیل طریقوں سے کاشت کر۔ نے کی سفارش کی جاتی ہے:

الف - ڈرل سے کاشت:
گندم کے بعد کاشت کی صورت میں کپاس کی زیادہ تر کاشت بذریعہ ڈرل ہی کی جاتی ہے اور فصل بڑی ہونے پر کھیلیاں بنادی جاتی ہیں۔ امریکن اقسام کے پودوں کا باہمی فاصلہ 9-6 انچ اور دیسی کا 12-9 انچ رکھا جائے۔ لائنوں کا فاصلہ دونوں میں 2.5 فٹ برقرار رکھا جائے ۔ کسی بھی طریقہ کاشت کا انتخاب اپنے مخصوص زمینی اور زرعی حالات کے تناظر میں کیا جائے۔ اگر ڈرل کے ساتھ پریس ویل (Press wheel) موجود نہ ہو تو سطح کو خشک ہونے سے بچانے کے لئے کو فوراً بعد ہلکا سہاگہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے بہر کیف چھدرائی کا عمل کاشت کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر مکمل کرلیاجائے۔ اگر ڈرل سے کاشتہ کپاس کے اگاؤ کے دوران بارش کے نتیجے میں کرنڈ ہونے سے زیادہ نقصان ہوجائے تو ناغے پُر کرنے کے بجائے دوبارہ کاشت کو ترجیح دی جائے ۔ کرنڈ کے سواکسی اور وجہ سے ناغے رہ جائیں تو جلد از جلد (ایک ہفتہ کے اندر اندر) پُر کئے جائیں۔ ہر ناغے میں 4تا5 بیج بوئے جائیں۔ اگاؤ مکمل ہونے کے بعد ان کی بھی چھدرائی کی جائے۔

ب - پٹٹریوں یا کھیلیوں پر کاشت:
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کپاس پٹٹریوں کے کناروں پر چوکے سے کاشت کی جائے۔ پودوں کی یکساں تعداد حاصل کرنے کے لئے پٹٹریوں یا کھیلیوں کے کناروں پر کاشت کا طریقہ اختیار کیاجاسکتا ہے۔ اگر زرعی مزدوروں کی دستیابی ہوتو پٹٹریوں یا کھیلیوں کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ اگر زمین لیزر سے ہموار شدہ ہوتو پٹٹریاں بنانے کے بعد لیکن پانی لگانے سے پہلے چوکے لگائے جائیں۔ اگر زمین نا ہموار ہو تو پانی لگانے کے فوراً بعد پانی سطح سے ایک انچ اوپر چوکے لگائے جائیں۔ پانی لگانے کے بعد چوکے لگانے میں تاخیر نہ کی جائے۔ اگر بیج کا اگاؤ معلوم نہ ہوتو پودوں کی پوری تعداد کو یقینی بنانے کے لئے کاشت کے دوران ہر جگہ دو تین بیج لگائے جائیں۔ اگاؤ مکمل ہونے کے بعد چھدرائی کرکے ہرجگہ ایک ایک پودا کردیا جائے۔ لیکن صحت مند زمین سو فیصد اگاؤ والا (Sinker) بیج ہر چوکے میں ایک ایک بیج لگانا جاہئے۔ اگر زہر کے اثر یا پانی چڑھ جانے کی وجہ سے ناغے رہ جائیں تو جلد از جلد (ایک ہفتے کے اندراندر ) پُر کئے جائیں۔ تاخیر سے لگائے گئے ناغے والے پودے غیر پیداواری رہ جاتے ہیں۔
پٹٹریوں پر کاشت کے فوائد اور نقصان
  • پٹٹریوں پر کاشت کی صورت میں بارش سے کرنڈ وغیرہ کاخطرہ 90 فیصد تک کم ہوجاتاہے۔ فصل دوبارہ کاشت کرنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی ۔ بھر پور اگاؤ کی وجہ سے فصل کی ابتدائی نشوونما بہتر ہوتی ہے فصل کو مضبوط بنیاد ملتی ہے۔
  • مناسب فاصلے پر چوکے لگانے کی وجہ سے پودوں کی مطلوبہ تعداد دستیاب ہوجاتی ہے۔ چورائی کرکے فاصلہ متعین کرنے میں سہولت رہتی ہے۔
  • زیادہ بارشیں ہوجائے تو کھیت سے فالتوپانی آسانی سے باہر نکالا جاسکتاہے۔ 50 فیصد تک بیج کی بچت ہو جاتی ہے۔
  • جگہ نرم ہونے کی وجہ سے جڑوں کی نشوونما بہتر ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی پیشی برداشت کرسکتی ہے کپاس جلدی تیار ہوجاتی ہے۔
  • اس طریقے سے کلر اٹھی زمینوں میں بھی کپاس کافی حد تک کامیابی سے اگائی جا سکتی ہے۔ گویا ہر قسم کی زمینوں میں بہتر اگاؤ ممکن ہوتاہے۔
  • کھالیوں میں مناسب نمی موجود ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹی مار زہروں سے بہتر طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔ زہروں کا محفوظ استعمال ممکن ہو جاتاہے۔
  • بیشتر حالا ت میں بٹٹریوں پر کاشتہ کپاس کی مجموعی پیداوار ڈرل سے کاشت کے مقابلے میں زیادہ حاصل ہوتی ہے۔
  • اس طریقے میں مجموعی طورپر زیادہ مرتبہ پانی لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈرل سے کاشت کی صورت میں کم پانی سے فصل اگائی جاسکتی ہے۔
  • پیداوار معیاری اور زیادہ مقدار میں حاصل ہوتی ہے۔
  •  اس طریقے سے کاشتہ کپاس کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جڑی بوٹیوں کا حملہ زیادہ شدید ہوتاہے اور ان کی تلفی کا عمل مشکل ہوتا ہے۔ جبکہ ڈرل سے کاشت کی صورت میں خشک گوڈی کرنے اور قطاروں کے درمیان میں ٹریکڑ چلانا آنسان ہوتاہے۔

ج - ٹنل میں کاشت:
ٹنل میں خر بوز اور تربوز کے ساتھ بھی کپاس کاشت کی جاسکتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ نومبر یا دسمبر میں خربوزہ و تربوز کاشت کیا جائے اور جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں شیٹ اتارنے سے پہلے ہی کپاس بھی کاشت کردی جائے۔ کپاس کا اگاؤ مکمل ہونے کے بعد شیٹ اتاردی جائے ۔ اتنی اگیتی فصل کی پچاس فیصد سے زیادہ پیداوار مونسون کی بارشیں شروع ہونے سے پہلے ہی حاصل ہوجاتی ہے۔
د - کپاس میں مخلوط کاشت:
فروری مارچ کاشتہ کپاس میں کئی فصلیں کامیابی کے ساتھ اگائی جاسکتی ہیں۔ ان میں مونگ، پیاز، دھنیا، ٹینڈا اور ٹماٹر کاشت کیے جاسکتے ہیں۔
1 کپاس پلس مونگ:
گندم کاٹنے کے فوراً بعد تین تین فٹ کے فاصلے پر کپاس کی ایک قطار اور ہر دو قطاروں کے درمیان میں مونگ کی ایک یا دو قطاریں ڈرل کی مدد سے کاشت کی جاسکتی ہیں۔ جولائی میں مونگ کی فصل تیار ہو جاتی ہے۔ مونگی کو جلد از جلد ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کھیت کو کم سے کم پانی لگایا جائے۔ مونگ کاٹنے کے بعد کپاس کی قطاروں کے درمیان میں ہل چلا کر مٹی چڑھادی جائے تو کپاس کی فصل بھی کامیاب ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ بڑے پیمانے پر کا شت کے لئے بھی اختیار کیاجاسکتاہے۔
2 کپاس پلس ٹینڈے:
مارچ کے شروع میں تین تین فٹ چوڑی پٹٹریوں کے ایک کنارے پر بڑے قد والی کپاس اور دوسرے کنارے پر دوغلی اقسام کے ٹینڈے یا ٹماٹر کاشت کئے جائیں تو زیادہ نفع حاصل کیا جاسکتاہے۔
3 کپاس پلس پیاز:
جنوری کے آخر میں دوبوری ڈی اے پی ڈال کر اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں بنائیں، ان کے دونوں طرف پیاز کاشت کرکے پینڈی میتھالین سپرے کردی جائے۔ صاف شدہ کھیلیوں کے ایک کنارے پر فروری کے آخر میں کپاس کے چوکے لگادیے جائیں۔
4 ۔کپاس پلس دھنیا:
نہروں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی زمینوں میں مئی جون کاشتہ کپاس میں بھی سبز دھنیا اگایا جاسکتاہے۔
5 ۔ کپاس پلس گندم یا کینولا:
اگر کپا س کا کھیت جڑی بوٹیوں سے کافی حد تک پاک ہو ، کپاس کا قد زیادہ بڑا نہ ہو ، کپاس زیادہ گھنی نہ ہو، دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں کپاس کی جھٹریاں کاٹے جانے کا امکان ہو، کپاس ہموار زمین یا کم اونچی کھیلیوں یا پٹٹریوں پر کاشت کی گئی ہوتو نومبر کے شروع میں کھڑی کپاس میں کینولا یا گندم کی فصلیں کا شت کی جاسکتی ہیں۔
6 ۔ کھڑی گندم میں کپاس کی کاشت:
نومبر میں ربیع ڈرل کا ایک پھیرلگا کر گندم کاشت کرنے کے بعد وٹ بنادی جائے۔ ہر وٹ کے ایک طرف مارچ میں ایک ایک فٹ کے فاصلے پر کپاس کے چوکے لگادیے جائیں۔
7 ۔ بہاریہ مکئی میں کپاس کی کاشت:
چھوٹے پیمانے پر کاشت کی صورت میں یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتاہے۔ جنوری میں کاشتہ اڑھائی فٹ کے فاصلے پر پر بنائی گئی کھیلیوں کے ایک طرف کاشت کی گئی بہاریہ مکئی میں مئی کے شروع میں دوسری طرف کپاس بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ یہ صرف ایسی صورت میں کاشت کی جاسکتی ہے جب مکئی کا کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جاچکاہو اور مکئی کاشت کرنے سے پہلے کھیت لیزر کی مدد سے ہموار کیے جاچکے ہوں۔
8 ۔ پیاز میں لوبیا اور کپاس کی کاشت:
چھوٹے پیمانے پر کاشت کی صورت میں یہ طریقہ اختیار کیاجاسکتاہے۔ جنوری میں پانچ فٹ کے فاصلے پر رجر کھول کر پٹٹریاں بناکر ان کے دونوں کناروں پر پیاز کاشت کردیا جائے ۔ مارچ کے شروع میں گوڈی کرنے کے بعد خشک ہونے پرپٹٹریوں کے ایک طرف لوبیا کاشت کرکے آبپاشی کردی جائے ۔ اپریل کے شروع میں پٹٹریوں دوسری طرف کپاس بھی کاشت کی جاسکتی ہے ۔ یہ صرف ایسی صورت میں ہی ممکن ہے جب لیزر سے ہموار شدہ کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جاچکاہو۔

دالیں انسانی خوراک میں لحمیات (Proteins) کا ایک بہترین ذریعہ ہیں ۔دالوں میں 20 سے 25 فی صد لحمیات ہوتی ہیں۔ مونگ کی دال غذائیت کے اعتبار سے بڑی اہم ہے۔مندرجہ ذیل عوامل پر توجہ دینے سے اس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

آب و ہوا
مونگ کی کاشت کے لئے گرم مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں عام طور پر مونگ کی فصل موسمِ خریف میں جولائی سے اکتوبر تک کاشت و برداشت کی جاتی ہے، مگر آبپاش علاقوں میں مونگ کی بہاریہ فصل بھی کامیابی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ صوبہ سندھ میں بہاریہ فصل نسبتاً زیادہ کامیاب ہے۔

کاشت کے علاقے
پنجاب میں مونگ کی کاشت کے بڑے علاقے بھکر، میانوالی اور لیہ کے اضلاع ہیں۔ اس کے علاوہ مونگ کی فصل سرگودھا، خوشاب اور جھنگ میں بھی کاشت ہوتی ہے۔ سندھ میں سانگھڑ، خیرپور، حیدرآباد۔ سرحد میں ہری پور، دیر، کرم ایجنسی اور بلوچستان میں بولان اور گوادر کے اضلاع میں بھی خاصے رقبے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔

وقتِ کاشت اور موزوں اقسام
مونگ کی منظور شدہ اقسام 6601 ‘ -28 نےاب ‘ این ایم 13-1‘ این ایم 20-21 ‘ این ایم 121-25 ‘ این ایم 19-19 ‘ این ایم 51 ‘ این ایم 54‘ این ایم 92 ‘ اے ای ایم 96 ‘ چکوال مونگ 97 اور این ایم 98 ہیں۔

آخری چاروں اقسام (این ایم 92 ‘ اے ای ایم 96 ‘ چکوال مونگ 97 اور این ایم 98 ، باقی منظور شدہ اقسام کی نسبت بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں۔ یہ اقسام بیماریوں کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہیں اور تقریباً ایک ہی وقت میں پَک کر برداشت کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔ ان چار اقسام کے علاوہ باقی اقسام بیج کے دستیاب نہ ہونے اور پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے متروک ہو چکی ہیں۔پاکستان میں مونگ کی بڑی فصل موسمِ خریف میں اگائی جاتی ہے جب کہ آبپاش علاقوں میں مونگ کی بہاریہ فصل بھی کامیابی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

بہاریہ فصل
بہار کے موسم میں مونگ کی فصل کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔ موسمِ بہار میں فصل پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ بہت کم ہوتا ہے اور فصل کی بے ہنگم بڑھوتری نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار متاثر نہیں ہوتی۔ تمام زمیندار بھائی جن کے پاس موسمِ بہار میں خالی رقبہ موجود ہو اور آبپاشی کے لئے پانی بھی میّسر ہو، بہاریہ فصل بہت کامیابی سے کاشت کر سکتے ہیں۔ بہاریہ فصل کے لئے مختلف علاقوں میں وقت کاشت اور سفارش کردہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

صوبہ علاقہ وقت کاشت سفارش کردہ اقسام
پنجاب کے جنوبی علاقے آخر فروری تا وسط مارچ این ایم 92 ، این ایم 98
پنجاب کے وسطی علاقے شروع مارچ تا آخر مارچ این ایم 92 ، این ایم 98
شمالی علاقے وصوبہ سرحد وسط مارچ تا شروع اپریل چکوال مونگ 97 ،این ایم 92
سندھ وسط فروری تا وسط مارچ اے ای ایم 96 ، این ایم 92 ، این ایم 98
فصلِ خریف
ہمارے ملک میں مونگ کی تقریباً 80 فی صد فصل موسمِ خریف میں کاشت کی جاتی ہے۔ فصلِ خریف بارانی اور آبپاش علاقوں میں یکساں کامیابی کے ساتھ کاشت ہوتی ہے۔ اس فصل کے لئے مختلف علاقوں میں وقت کاشت اور موزوں اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

صوبہ علاقے وقت کاشت سفارش کردہ اقسام
پنجاب وسطی و جنوبی علاقے وسط جون تا وسط جولائی این ایم 92 ، این ایم 98
شمالی علاقے آخر جون تا وسط جولائی چکوال مونگ 97 ، این ایم 92
خیبر پختونخواہ جنوبی علاقے (ڈی آئی خان اور بنوں) شروع جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، این ایم 98 ، چکوال مونگ 97
شمالی علاقے شروع جولائی تا آخر جولائی چکوال مونگ 97 ، این ایم 92
بلوچستان اوتھل، سبّی وسط جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
ڈاڈل، لورالائی وسط جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
کوئٹہ شروع جولائی تا آخر جولائی این ایم 92 ، اے ای ایم 96
زمین کا انتخاب اور تیاری
مونگ کی فصل آبپاش اور بارانی دونوں علاقوں میں کامیابی سے اُگائی جا سکتی ہے۔ ریتلی میرا سے بھاری میرا زمین مونگ کی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ جب کہ سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اس کی کاشت کے لئے نامناسب ہے۔ مونگ کی کاشت کے لئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ آبپاشی یا بارش کا پانی کھیت میں یکساں طور پر تقسیم ہو سکے۔ آبپاش علاقوںمیںراﺅنی کے بعد وتر آنے پر دو دفعہ ہل چلا کر زمین کو تیار کریں جب کہ بارانی علاقوں میں بارش سے پہلے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور بارش کے بعد وتر آنے پر دو دفعہ دیسی ہل چلا کر زمین کو اچھی طرح تیار کرنا چاہئیے۔ ہل چلانے کے بعد سہاگہ چلانا ضروری ہے تا کہ زمین اچھی طرح ہموار اور بُھر بُھری ہو جائے۔

شرحِ بیج و طریقہ ءکاشت
چھوٹے بیجوں والی اقسام کے لئے 8 کلو گرام اور موٹے بیجوں والی اقسام کے لئے 10 کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے بیج استعمال کیا جانا چاہئیے۔ بیج صاف سُتھرا، صحت مند اور محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام کا ہونا چاہئیے۔ بہاریہ مونگ سے حاصل شدہ بیج اگر خریف میں اور خریف کا بیج آئندہ بہار میں استعمال کیا جائے تو بہتر روئیدگی حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ پُرانے بیج سے پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کاشت قطاروں میں کیرا یا پور سے کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 10 سینٹی میٹر ہونا چاہئیے۔ اگر کاشت چھّٹے سے کی جائے تو بیج کی مقدار 2 کلوگرام فی ایکڑبڑھا دینی چاہئیے۔

آبپاشی
مونگ کی فصل کو آبپاش اور بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ وہ علاقے جہاں بارش کم ہوتی ہے وہا ں تین مرتبہ آبپاشی ضروری ہے۔ پہلا پانی کاشت سے تین ہفتے بعد، دوسرا پھول آنے پر اور تیسرا پھلیوں میں دانے بننے کے وقت۔ اگر خریف میں ان اوقات میں بارش ہو جائے تو پانی دینے کی ضرورت نہیں۔

جڑی ُبوٹیوں کی تلفی
جڑی بُوٹیاں فصل کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں اور پیداوار کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ جڑی بُوٹیوںکومندرجہ ذیل طریقوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

۱۔

بجائی سے پہلے گہرا ہل چلانے سے کافی حد تک جڑی بُوٹیوںکا تدارک کیا جا سکتا ہے۔خصوصی طور پر بارانی علاقوں میں ایسا کرنا زیادہ سُود مند ثابت ہوتا ہے۔

۲۔

فصل پر پھول آنے سے پہلے ایک گوڈی کر کے جڑی بُوٹیوں کوضرور تلف کر دینا چاہئیے۔

کھادوں کا استعمال
مونگ کی فصل کے لئے نائٹروجنی کھاد کی نسبتاً کم ضرورت ہوتی ہے۔ پھلی دار فصل ہونے کے باعث یہ ہَوا میں نائٹروجن سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ تاہم شروع میں فصل کو مطلوب نائٹروجن کی ضرورت پُوری کرنے کے لئے بوقتِ بجائی 8 سے 10 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کرنا چاہئیے۔ فاسفورس کھاد کا استعمال پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ فصل کے جَلد پکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔لہٰذا 20 سے 25 کلوگرام فاسفورس فی ایکڑ کا استعمال ضروری ہے۔ اس حساب سے نائٹروجن اور فاسفورس دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ کافی ہو گی۔

بائیو کھاد کا استعمال
بائیو کھاد ایسے جرثوموں پر مشتمل ہے جن کی زمین میں موجودگی اس کی قدرتی زرخیزی کو نہ صرف برقرار رکھتی ہے بلکہ موافق حالات میں اسے بڑھاتی بھی ہے۔ پھلی دار اجناس (دالوں) میں یہ جرثومے Rhizobium bacteria) ) اُن کی جڑوں پر مخصوص قسم کے گھر (Nodules) بنا کر رہتے ہیںجو فضا میں وافر مقدار میں موجود ( 80 فی صد) پودوں کے لئے ناقابل استعمال نائٹروجن کو قابل استعمال بنا کر ان کی نائٹروجنی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بعض حالات میں بچ جانے والی نائٹروجن اگلی فصل کے کام آ جاتی ہے۔ اگر یہ جرثومے کھیت میں مناسب تعداد میں موجود ہوں تو دالوں کے لئے کیمیائی نائٹروجن کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اکثر کھیتوں میں مثلاًدالوں کے زیر کاشت آنے والی نئی زمینوں اور ایسی زمینوں جن پر پچھلے تین چار سال سے دالیں کاشت نہ کی گئی ہوں اِن جرثوموں کی تعداد مطلوبہ حد سے بُہت کم ہوتی ہے۔ تجربات سے ایسے اِشارے ملے ہیں کہ دالوں کے مختلف پیداواری علاقوں میں حیاتیاتی کھاد کے استعمال سے ان کی پیداوار میں 15 سے 25 فی صد تک اضافہ ممکن ہے۔ملک میں زرعی تحقیق کے کئی ادارے تجارتی بُنیادوں پر مختلف دالوں اور دیگر پھلی دار اجناس کے لئے حیاتیاتی کھاد فروخت کر رہے ہیں اور اس کے متعلق دیگر معلومات بھی شائع کر رہے ہیں۔

بیماریا ںاور اُن کا انسداد
سرکو سپورا برگی دھبے
یہ مونگ کا انتہائی مہلک مرض ہے۔ جو سرکوسپورا (کینے سنس) نامی پھپھوند کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ اس بیماری کی علامات پتوں پر چھوٹے چھوٹے نیم گول اور بے ہنگم گہرے بھورے رنگ کے دھبوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان دھبوں کے کنارے گلابی مائل بھورے ہوتے ہیں۔ اس مرض کے تدارک کے لئے متاثرہ پودوں کے خس و خاشاک تلف کر دیئے جائیں اور قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں۔

کوڑھ
اس مرض کی علامات پودے کے تمام بالائی حصوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن زیادہ تر حملہ پتوں اور پھلیوں پر ظاہر ہوتا ہے پھلیوں پر دائرہ نما گہرے سفیدی مائل دھبے بن جاتے ہیں۔ اس مرض کا سبب ایک پھپھوند ہے جسے کال ٹاٹری کم لینڈی میوتھیم کہتے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لئے تندرست اور بیماری سے پاک بیج کاشت کیا جائے۔

 پیلا چتکبری وائرس
مونگ بین ییلو موزیک ایک وائرسی بیماری ہے جو رس چوسنے والے کیڑے سفید مکھی سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے نوزائیدہ پتوں پر چھوٹے چھوٹے پیلے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔سبز اور پیلے دھبے آھستہ آھستہ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ چتری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں تمام کھیت پیلانظر آتا ہے۔چونکہ یہ مرض سفید مکھی کی وجہ سے پھیلتا ہے اس لئے اس مرض کے تدارک کے لئے سفید مکھی کا خاتمہ ضروری ہے جس کے لئے ڈائی میکران یا میٹا سسٹاکس بحساب 1/4 لیٹر اصل زہر فی ایکڑ پندرہ دن کے وقفے کے بعد کم از کم دو سپرے کریں۔ نیز مونگ کی اس مرض کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام مثلاً این ایم 98 ، این ایم 92 ، چکوال مونگ 97 کاشت کریں۔

 ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد
پنجاب میں بہاریہ مونگ میں اکثر کیڑوں کا حملہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تیلا کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے۔موسم گرما میں مونگ کی فصل پر اکثر رس چوسنے والی سفید مکھی کا حملہ ہوتا ہے جس سے پودوں پر زرد رنگ کی چتری (Yellow Mosaic) نمودار ہوتی ہے۔ اس کیڑے کا حملہ عموماً اگست میں ہوتا ہے۔ صوبہ سندھ میں اکثر فصل اگنے کے فوراً بعد رس چوسنے والے کیڑوں (تیلا، سفید مکھی اور سست تیلا) کا حملہ ہوتا ہے۔اگرچہ بالدار سنڈی کا حملہ ہر سال باقاعدگی سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔ اس کیڑے کے حملے کی صورت میں فصل کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کیڑے کا حملہ اگست میں شروع ہوتا ہے اور ستمبر، اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ مونگ کی فصل کو کیڑوں کے حملے اور نقصانات سے بچانے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

(i)        فصل کی بوائی سفارش کردہ وقت پر کرنی چاہیے۔

 (ii)      جو اقسام زرد رنگ کی چتری کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہوں ان کی بجائی کی جائے۔ مثلاً این۔ایم 98 ‘ این۔ایم 92 اور چکوال مونگ 97

(iii)      فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جائے۔

ان تدابیر کے باوجود فصل پر کیڑوں کا حملہ ہو تو مندرجہ ذیل زرعی کیمیائی ادویات میں سے کوئی ایک دوا علاقہ کے ماہرینِ زراعت کے مشورے سے استعمال کریں۔

زرعی کیڑے مار ادویات اور ان کا استعمال
نام دوا مقدارفی ایکڑ وقت اور طریقہء استعمال
۱۔ کراٹے Karata 2.5 EC۲۔ Fenuelerate 250 ملی ِلٹر250 ملی ِلٹر کیڑوں کے حملے کی صورت میں ان زرعی ادویات میں سے کوئی ایک دوا 80 لیٹر پانی میں ملا کر چھڑکاﺅ (Spray) کیا جائے۔ اور کیڑوں کے حملے کی نوعیت کے لحاظ سے دوا کے چھڑکاﺅ کے عمل کو دس سے پندرہ دن کے بعد دوھرایا جا ئے۔
پولیٹرین سی Polytrin-C 440 EC 500 ملی لٹِر
تھائیوڈان Thiodan 35 EC 1000 ملی ِلٹر
برداشت
جب فصل کی 80 سے 90 فی صد پھلیاں پک جائیں تو فصل کو کاٹ لینا چاہئیے۔ کٹائی صبح کے وقت کی جائے۔ فصل کو کھیت میں چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں کی شکل میں 4 سے 5 دن پڑا رہنے دیں۔ جب پودے پوری طرح خشک ہو جائیںتو بیلوں یا تھریشر کی مدد سے گہائی کریں۔ دانوں کو چند روز تک دھوپ میں خشک کر کے سٹور کریں اور گودام کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

گندم کی کاشت کے چند زریں اصول
1۔ بارانی علاقوں میں مون سون کے شروع میں گہرا ہل چلاکر گند م کی فصل کیلئے نمی محفوظ کریں۔
2۔ گندم کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے بجائی 20 نومبر تک مکمل کریں اور بجائی ڈرل سے کریں ۔
3۔ گندم کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی سفارش کردہ ترقی دادہ اقسام سفارش کردہ شرح بیج کے ساتھ کاشت کریں۔
4۔ کاشت سے قبل بیج کو دوائی ضرور لگائیں تاکہ اُگاﺅ بہتر ہو اور بیماریوں سے بچاﺅ ممکن ہو۔
5۔ کلر اور تھورزدہ زمینوں پر کاشت تروتر میں کریں۔
6۔ نائٹروجنی اور فاسفورسی کھاد 1:1.5 کے تناسب سے استعمال کریں۔
7۔ چاول یا گنے والی زمین ،ریتلی زمین اور ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والی زمین میں پوٹاش کا استعمال کریں۔
8۔ گندم کی فصل کو جھاڑ بننے، گوبھ آنے اور دانہ بننے کے مراحل پر پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
9۔ ضرورت پڑنے پر جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے کیمیائی ادویات کا استعمال کریں۔
10۔ کٹائی اور گہائی وقت پر کر کے فصل کو ان مراحل کے دوران ممکنہ نقصانات سے بچائیں۔
گندم ہمارے ملک کی بہت ہی اہم فصل ہے۔اس سے نہ صرف ہماری غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔بلکہ اسکا بھوسہ جانوروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔گندم پاکستان میں تقریباً 20 ملین ایکڑ سے زائد رقبے پر ہر سال کاشت ہوتی ہے۔اور اسکی پیداوار کا تخمینہ تقریبََا 23 ملین ٹن سالانہ ہے۔اس وقت پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 28من کے قریب ہے۔گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں مزید اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے زمیندار بھائی ان سفارشات سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
وقت کاشت
گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے گندم کی کاشت 20نومبر سے پہلے مکمل کرنا بہت ضروری ہے۔20نومبر کے بعد کاشت ہونے والی گندم میں ہر روز تقریبََا 12سے 16کلو گرام فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہوتی ہے۔جنوری کے شروع میں کاشت ہونے والی گندم کی پیداوار میں 50فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے ۔لہٰذا گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے گندم کی بر وقت کاشت بہت ضروری ہے۔
بیج کا انتخاب
گندم کی اچھی فصل حاصل کرنے کے لئے ترقی دادہ اقسام کا صحت مند اور صاف ستھرا بیج استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ اپنے علاقے کے مطابق گندم کی سفارش کردہ قسم سفارش کردہ شرح بیج اور سفارش کردہ قسم کاشت کریں۔ تصدیق شدہ بیج سیڈ کارپوریشن کے مراکز، محکمہ زراعت اور منظور شدہ ڈیلروں اور ایجنسیوں سے حاصل کیا کاسکتا ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں کیلئے سفارش کردہ اقسام

گندم کی اقسا م اور وقت کاشت
علاقہ
قسم
وقت کاشت
صوبہ پنجاب
بارانی علاقہ جات
چکوال 50، اےن ۔اے ۔ آر۔سی 2009 ،بارس2009 ، دھرابی2011 ، پاکستان 2013
20اکتوبرتا 15نومبر
نہری علاقہ جات
عقاب 2000 ، شفق2006،فرےد 2006،معراج2008، لاثانی2008،فےصل آباد 2008
آس2011، ٓری 2011 اےن ۔ اے۔ آر ۔ سی 2011، ملت 2011، پنجاب2011 ، گلیکسی 2013
یکم نومبر تا 30نومبر
صوبہ خیبر پختونخواہ
بارانی علاقہ جات
پیر سباق 2005، تاتارا، شاہکار 2013، للما2013
20اکتوبر تا 15نومبر
نہری علاقہ جات
پیر سبا ق2004ِ ،پیر سبا ق2008، ہاشم 2008، پےر سبا ق 2013
یکم نومبر تا 30نومبر
صوبہ سندھ
نہری علاقہ جات
ٹی ڈی 1، ا یس کے ڈی1، امداد 2005 ،سسی2006 ، خرمن 2006
نیاامبر2010، نیاسنہری 2010، نیاسندر2011، نیاسارنگ2013، بینظیر2013
یکم نومبر تا 30نومبر
صوبہ بلوچستان
بارانی علاقہ جات
سریاب 92
20اکتوبر تا 15نومبر
نہری علاقہ جات
زرغون79، زرلشتہ99، راسکوہ 2005
یکم نومبرتا 30نومبر
نوٹ: 20نومبر کے بعد کاشت کی صورت میں بیج کی مقدار 60کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
 بیج کو دوائی لگانا
گندم کی مختلف بیماریوں پر قابو پانے کے لئے ٹاپسن ایم(TOPSON-M)مقدار 2گرام یا ڈیروسل(DEROSIL)مقدار 2ملی لیٹر یا ریکسل(RAXIL 2DS)مقدار1.50گرام فی کلو گرام بیج گندم استعمال کریں۔ بیج کو دوائی لگانے کے لیے مقررہ مقدار میں دوائی اور بیج ڈھکنے والے ڈرم میں یا پلاسٹک کی بوری میں نصف تک ڈال کر اچھی طرح ہلالیںتاکہ بیج کے ہر دانے کو دوائی لگ جائے۔
زمین کی تیاری
پاکستان میں گندم مختلف فصلوں کے بعد کاشت کی جاتی ہے۔آبپاش علاقوں میں گندم کپاس، دھان یا کماد کے بعد کاشت ہوتی ہے۔جبکہ کچھ علاقوں میں وریال زمینوں پر بھی اسکی کاشت ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بارانی علاقوں میں بھی وسیع رقبہ پر گندم کی کاشت کی جاتی ہے۔
بارانی علاقے
مون سون کی بارشوں کا بہتر فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک دفعہ گہرا ہل چلائیں تاکہ نمی بہتر طور پر محفوظ کی جاسکے۔ بعد ازاں ہر بارش کے بعد عام ہل چلائیں تاکہ جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں اور نمی محفوظ رہے۔ گندم کی کاشت سے پہلے دو مرتبہ عام ہل چلاکر سہاگہ دیں۔ بجائی بذریعہ ڈرل کریں۔
آبپاش علاقے
وریال یا خالی زمینیں
وہ زمینیں جو گندم کی کاشت سے کافی عرصہ پہلے خالی ہوتی ہیںان میں وقفے سے ہل چلا کر جڑی بوٹیاںختم کریں۔ جہاں ضرورت ہو کھیت کو ہموار کریں۔ کھیت کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے راﺅنی کر لیں۔ راﺅنی کے بعد وتر آنے پر سہاگہ دیں۔ بعد ازاں ہل چلا کر سہاگہ دیں تقریبََا ایک ہفتہ تک جڑیں بوٹیاں اُگ آئیں گی۔ اب بوائی کے وقت دو بار ہل چلا کر سہاگہ دے دیں۔ اس سے جڑی بوٹیاں ختم ہو جائیں گی۔ گندم کی کاشت بذریعہ ڈرل کریں۔
چاول کی کاشت والے علاقے
دھان کی فصل کو برداشت سے 15روز قبل پانی دینا بند کر دیں۔ دھان کی برداشت کے بعد وتر حالت میں روٹایٹر یاڈسک ہل چلائیں۔ بعد ازاں دو مرتبہ عام ہل چلا کر سہاگہ دے دیںاور ڈرل سے بجائی کریں۔
کپاس مکئی اور کماد کی کاشت والے علاقے
٭           فصل کی برداشت سے تین ہفتے پہلے کھیت کو پانی دے دیں۔ فصل سنبھالنے کے بعد مناسب وتر کی حالت میں فصل کے مڈھ کاٹ کر زمین میں ہل چلائیں اور روٹاویٹر کا استعمال کریں بعد ازاں بجائی بذریعہ ڈرل کریں۔
٭           جن کھیتوں میں پانی فصل سنبھالنے سے پہلے نہ دیا جاسکے ان میں فصل کی برداشت اور مڈھ کاٹنے کے بعد دو مرتبہ ہل چلائیں اور بعد ازاں روٹاویٹر یاڈسک ہل چلاکر زمین تیار کر لیں۔ بجائی بذریعہ ڈرل کریںاور کھیت کو پانی لگادیں۔
٭           کلر اٹھی زمینوں میں فصل کی برداشت اور مڈھ کاٹنے کے بعد ہل چلائیںاور سہاگہ دیں۔ اسکے بعد کھیت کو پانی دیں اور8تا12گھنٹے بھگوئے ہوئے بیج کا چھٹہ دے دیں۔ یہ طریقہ کاشت کلر اٹھی زمینوں کے لیے موزوںہے۔
کیمیائی کھادوں کا استعمال
گندم کی اچھی پہداوار حاصل کر نے کے لیے کیمیائی کھادوں کا بروقت اور بہتر تناسب کے ساتھ استعمال نہایت اہم ہے۔ کیمیائی کھادوں کے استعمال کا انحصار زمین کی زرخیزی ، پانی کی دستیابی اور فصلوں کی کثرت یا ہیر پھیر پر ہوتاہے۔
نائٹروجنی اور فاسفورسی کھادوں کا تناسب 1:1سے لے کر1:1.5تک ہونا چائیے۔
آبپاش علاقوں میں فاسفورسی کھاد کی تمام مقدار نائٹروجنی کھاد کی تصف مقدار اور نائٹروجنی کھاد کی تصف مقدار کاشت کے وقت دی جائے اور باقی ماندہ نائٹروجنی کھاد پہلے یا دوسرے پانی کے ساتھ دینی چاہیے۔ اگر فاسفورسی کھاد کسی وجہ سے نوقت کاشت نہ دی جا سکے تو پہلے پانی کے ساتھ دی جائے۔
بارانی علاقوں میں فاسفورسی اور نائٹروجنی کھاد کی تمام مقدار بوقت کاشت دے دی جائے۔ اگر کسی وجہ سے نائٹروجنی کھاد کاشت کے وقت نہیں دی جاسکی تو پہلی بارش کے ساتھ دی جاسکتی ہے۔
پاکستان کے کئی علاقوں میں پوٹاش کی کمی بھی ہے ۔ ہلکی ریتلی زمینوں ، ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں اور چاول یا گنے کے بعد کاشت ہونے والی گندم میںپوٹاش کا استعمال بھی بہت ضروری ہے۔پاکستان کے کچھ علاقوں میں زمین کا تعامل 8.2سے تجاوز کر گیا ہے جسکی وجہ سے کیمیائی کھاد ڈالنے کے فوائد کم ہورہے ہیںگندم کی بہتر پیداوار حاصل کر نے کیلئے ان زمینوں میں جپسم کا استعمال بہت ضروری ہے۔
کھادوں کی سفارش کردہ مقدار
بارانی علاقہ
سالانہ اوسط بارش                       کھاد بوقت کاشت
-1کم بارش والے علاقے                            ایک بوری ڈی اے پی+پون بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
)سالانہ 3.5ملی میٹر                                    یا
یا14انچ تک(                                           دو بوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
                                                                یا
                                                2.75بوری ایس ایس پی 1.75+بوری ایمونیم نائٹریٹ+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
                                                                یا
                                                2.75بوری ایس ایس پی 2.25+بوری ایمونیم سلفیٹ+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
-2اوسط بارش والے علاقے        ایک بوری ڈی اے پی+ایک بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
350)سے500ملی لیٹر                               یا
یا 14سے20انچ تک(                دو بوری نائٹروفاس+نصف بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
                                                                یا
                                                2.75بوری ایس ایس پی 2.5+بوری ایمونیم نائٹریٹ+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
                                                                یا
                                                2.75بوری ایس ایس پی 3.25+بوری ایمونیمسلفیٹ +ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
-3زیادہ بارش والے علاقے        1.5بوری ڈی اے پی+ 1.5 بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
)سالانہ500ملی میٹر                                   یا
یا20انچ سے زیادہ(                    تینبوری نائٹروفاس+آدھی بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
آبپاش رقبہ
زرخیزی زمین
کھاد بوقت کاشت
پہلے یا دوسرے پانی کے ساتھ
-1اوسط درجے کی زرخیز زمین
1.5بوری ڈی اے پی+آدھی بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
تین بوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
تین بوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
چاربوری ایس ایس پی+ایک بوری یوریا+ایک پوٹاشیم سلفیٹ
ایک بوری یوریا
آدھی بوری یوریا
1.25بوری ایمونیم نائٹریٹ
ایک بوری یوریا
-2زرخیز زمین
ایک بوری ڈی اے پی+آدھی بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
دو بوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
2.75بوری ایس ایس پی+پون بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
2.75بوری ایس ایس پی1.25+بوری ایمونیم سلفینائٹریٹ +ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
2.75بوری ایس ایس پی1.75+بوری ایمونیم سلفیٹ+ایک بوری   پوٹاشیم سلفیٹ
آدھی بوری یوریا
آدھی بوری یوریا
پون بوری یوریا
1.25بوری ایمونیم نائٹریٹ
1.5بوری ایمونیم نائٹریٹ
-3کمزور زمین
دو بوری ڈی اے پی +آدھی بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
چاربوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
چاربوری نائٹروفاس+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
پانچ بوری ایس ایس پی1.25+بوری یوریا+ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ
یا
پانچ بوری ایس ایس پی2.75+بوری ایمونیم نائٹریٹ+ایک بوری پو ٹاشیم سلفیٹ
یا
پانچ بوری ایس ایس پی2.25+بوری ایمونیم سلفیٹ+ایک بوری پو ٹاشیم سلفیٹ
ایک بوری یوریا
آدھی بوری یوریا
ایک بوری ایمونیم سلفیٹ
1.25 بوری یوریا
2.5 بوری ایمونیم سلفیٹ
دو بوری ایمونیم سلفیٹ
آبپاشی
گندم کے پودے کو بڑھوتری کے نازک مراحل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ان مراحل میں پانی کی کمی پیداوار پر بہت بُرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا ان مراحل میں فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں ۔
گندم کے پودے کو پہلی آبپاشی بجائی سے 20تا 25دن بعد کریں۔ جبکہدھان والے علاقوں میں پہلی آبپاشی30تا 35دن بعد کریں۔ اس موقع پر پانی لگانے سے گندم میں جھاڑ زیادہ بنتا ہے۔ اورفی پودا سٹوں کی تعداد بڑھتی ہے۔
 دوسرا پانی گوبھ )بجائی کے80تا 90دن بعد (کی حالت میں دیں۔ اس وقت سٹہ پودے کے اندر بن رہا ہوتا ہے اور اس مرحلے پر پانی کی کمی سٹے چھوٹے ہونے اور دانے کم بننے کا خدشہ ہوتا ہے۔
تیسرا پانی دانہ بننے )بجائی کے 125تا130دن بعد (پر دینا چاہیے۔ اس مرحلے پر پانی کی کمی سے دانے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اور پیداوار میں خاطر خواہ کمی ہو سکتی ہے۔
اگر موسم خشک ہو اور پانی بھی موجود ہوتو ضرورت کے مطابق فصل کو پانی لگایا جاسکتا ہے۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی
خودرو جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار میں 12سے 35فیصد تک کمی کا باعث بنتی ہیں۔ گندم کی فصل میں نوکیلے پتوں والی )جنگلی جنی، دمبی سٹی وغیرہ(اور چوڑے پتوں والی )پوہلی، پیازی ، جنگلی پالگ ،رواڑی اور شاہترہ وغیرہ(پائی جاتی ہیں۔ جڑی بوٹیاں کنٹرول کرنے کے مندرجہ ذیل طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
داب کا طریقہ اور گوڈی
راﺅنی کے بعد جب کھیت وتر میں آجائے تو ہل چلانے کے بعد سہاگہ دیں۔ جب جڑی بوٹیوں کی کونپلیں نکل آئیں تو زمین تیار کریں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی۔
جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لیے گوڈی بھی کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں پہلی اور دوسری آبپاشی کے بعد وتر حالت میں بارہیر و چلانے سے بھی جڑی بوٹیاں کنٹرول ہو سکتی ہیں۔
کیمیائی طریقہ
جڑی بوٹیوں کو کیمیائی طریقہ سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ نو کیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کر نے کے لیے مختلف اقسام کی کیمیائی ادویات دستیاب ہیں۔ ان کا استعمال محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورے اور لیبل پر درج شدہ ہدایات کے مطابق کریں۔
جڑی بوٹیوں کے موثر کنٹرول کے لیے یہ ادویات پہلے پانی کے بعد زمین وتر آنے پر کریں۔
ادویات کے استعمال میں احتیاطی تدابیر
 -1استعمال سے پہلے لیبل ضرور پڑھیںاور درج شدہ ہدایات کے مطابق دو ا استعمال کریں۔
-2پانی کی مقدار 120تا150لیٹر فی ایکڑ رکھیں۔
-3سپرے کے لیے مخصوص نوزلFLAT-FAN یا T-JETاستعمال کویں۔
-4سپرے کے دوران کھانے پینے اور تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔
-5بارش تیز ہو اور دھند کی صور ت میں سپرے نہ کریں۔
-6دوا کے خالی ڈبے ضائع کر دیںاور زمین میں دبا دیں۔
-7سپرے کے بعد جڑی بوٹیوں کو بطور چارہ استعمال نہ کریں۔
کٹائی گہائی اور ذخیرہ کرنا
٭           کٹائی سے پہلے کھیت کے ایسے حصے جہاں فصل گری نہ ہواور ہر لحاظ سے اچھی ہو بیج کے لیے منتخب کر لیں۔ان کی کٹائی گہائی اور صفائی علیحدہ کی جائے تاکہ بیج محفوظ ہو جائے۔
٭           زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام کی کٹائی پرانی لمبے قد والی اقسام سے دو تین دن پہلے ہونی چاہیے۔
٭           کٹائی کے بعد چھوٹی بھریاں بنائیں اور کھلیان لگاتے وقت سٹوں کا رخ اوپر کی طرف رکھیں۔
٭           کٹائی کے وقت گندم اچھی طرح پکی ہواور دانوں میں 16تا 17فیصد سے زیادہ نمی نہ ہو۔
٭           گندم کی گہائی اگر تھریشر یا کمبائن سے کی جائے تو وقت کی بچت کے علاوہ دانوں کا نقصان بھی کم ہو تا ہے۔
٭           گہائی کے بعد گندم کی بھرائی صاف ستھری بوریوں میں ہونی چاہیے۔
٭           آئندن فصل کے لیے بیج ، گہائی کے بعد اچھی طرح صاف کر کے اور دوائی لگا کر علیحدہ صاف ستھرے گوداموں میں رکھنا چاہیے۔
٭           گندم ذخیر ہ کر تے وقت خاص طور پر بطور بیج ذخیرہ کرتے وقت دانوں میں نمی 9تا 10فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
٭           کیڑے مکوڑوں کے حملے کی صورت میں گودام میں محکمہ زراعت کے مشورے سے دھونی کا استعمال کرنا چاہیے۔
٭           بوریاں اور گوداموں کو اچھی طرح خشک کر کے دھونی کے ذریعے کیڑے مکوڑوں سے صاف کرنا چاہیے۔
٭           چوہوں اور کیڑوں کے انسداد کیلیے گودام میں فیومی گیشن کریں۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget