کالم لسٹ "معلومات"

زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف قسم کی کھاد کا  استعمال ضروری ہوتا ہے۔کھاد میں دیگر کار آمد اشیا کے علاوہ نائٹروجن کے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جب پودوں کو پانی دیا جاتا ہے تو یہ مرکبات پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور پھر پودے کی جڑیں اُن کو چوس کر تنے، شاخوں اور پتوں وغیرہ تک پہنچا دیتی ہیں۔ جانوروں کے فضلے سے جو کھاد خود بخود بن جاتی ہے اُس کی مقدار محدود ہے اور تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔ لہٰذا بعض کیمیائی مرکبات مصنوعی کھاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں  جن کے ذیلی اثرات انسانی جسم پر مضر ردعمل  پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ نامیاتی کھاد  کی تیاری سے اس خرابی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جس میں قدرتی طور پر  نائٹروجن کے مرکبات حل ہوجاتے ہیں اور پودوں کو غذائیت فراہم کرتے ہیں۔


گھریلو باغبانی کے لیے  کھاد اپنے گھر میں  خودہی  تیار کریں

ہمارے گھروں میں روزانہ ہی مختلف قسم کا کچرا جمع ہوجاتا ہے اس کچرے کی ایک بڑی مقدار کچن سے نکلنے والا  کچرا ہے اگر ہم اس کچرے کو ضائع کرنے کی بجائے اس سے اپنے گھر میں ہی  اپنے پودوں کے لئے کھاد تیار کریں تو یہ کھاد مارکیٹ میں ملنے والی کھاد کے مقابلے میں زیادہ مفید اور بہترین ہوگی ۔اس طرح سے جو کھاد تیار کی جاتی ہے اسے آرگینک کمپوسٹ  کا  نام دیا گیا ہے ۔

آرگینک کمپوسٹ یا  نامیاتی کھاد بنانے کے لئے دو طرح کا کچرا استعمال ہو سکتا ہے

1۔تازہ یا ہرا
2۔سوکھا ہوا یا براؤن

1۔تازہ یا ہرے کچرے میں گلی سڑی سبزیاں یا پھل ،سبزیوں کے پتے اور ڈنٹھل،چائے کی استعمال شدہ پتی، کافی ، باسی بوائل چاول ،بچے ہوئے کھانے ،خراب دودھ دہی ،گارڈن سے نکلنے والی گھاس پھونس ،پتے ،پرانے مصالحے ، جلے ہوئے کھانے ،شامل ہیں۔
2۔سوکھے ہوئے اور براؤن اشیاء میں گھاس پھونس سوکھے ہوئے پتے ،لکڑی کا برادہ ،اخبار کا کاغذ ،گتہ ،بھٹے کے چھلکے  اور خالی خول ،سوکھے ہوئے پھل اور سبزیاں ،مونگ پھلی کے چھلکے ، انڈے کے چھلکے،پودوں کی جڑیں ،بے کار روئی، پالتو پرندوں کے دڑبوں سے نکلنے والا کچرا ،ٹشوپیپر ، ناقابل استعمال ادویات ،شامل ہیں۔

کوئلہ اور اسکی راکھ ،رنگین کاغذ ،بیمار اور فنگس لگے ہوئے پودے،کتے اور بلی کی گندگی گھریلو نامیاتی کھاد کی تیاری میں  استعمال نہ کی جائے ۔ان چیزوں سے کھاد کی کوالٹی خراب ہوسکتی ہے اور وہ پودوں کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔

نامیاتی کھاد کی تیاری

گھریلو نامیاتی کھاد  بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر میں زمین کے کسی کونے میں دو سے تین فٹ گہرا گڑھا کھود کر پتوں، سبزیوں ،پھلوں کے چھلکے جمع کرتے جائیں جب گڑھا بھر جائے تومٹی کی موٹی تہ لگادیں اور اوپر سے گیلا کرنے کے لئے پانی ڈال دیں تین سے چار مہینے میں کھاد تیار ہوجائے گی ۔

آج کل ہر  گھر میں کچی زمین میسر نہیں ہوتی ہے اس لیے نامیاتی کھاد تیار کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے۔  
کوئی بڑا مٹی یا پلاسٹک کا برتن  لے لیں اس مقصد کے لئے ناقابل استعمال پانی کا کولر  یا  پرانی ٹنکی بھی لے سکتے ہیں اگر یہ بھی نہیں ہے تو بڑی پلاسٹک کی بوری تو ہر جگہ مل سکتی ہے اس میں باریک سوراخ بھی ہوتے ہیں جو کہ کھاد کی تیاری کے لئے اہم ہیں اگر کوئی بڑا برتن لیا ہے تو اس میں ڈرل مشین سے سوراخ کرنا ہونگے۔ سوراخوں کے باعث  برتن کے   اندر آکسیجن کی کمی نہیں  ہوگی  جس سے کھاد سڑنے اور کیڑے پڑنے سے محفوظ رہے گی۔ اب اس برتن یا بوری جس میں کھاد بنائی جا رہی ہے کےاندر  تین حصہ براؤن چیزوں کا اور ایک حصہ ہری چیزوں کا ڈالیں گے اوپر سے مٹی کی تہ لگاکر پانی ڈال کر ڈھک دیں گے پانی ڈالنے سے بیکٹریا اپنا کام شروع کردیتے ہیں اور ان اجزأ کو توڑ کر نائٹروجن  کے مرکبات میں تبدیل کردیتے ہیں اب اس کو دھوپ میں رکھا جا ئے گا اگر بارش ہوجائے اور ان اجزأ کے اندر بارش کا پانی پہنچ جائے تو یہ اس کے لئے بہت مفید ہے کیوں کہ جب بارش ہوتی ہے اور بجلی کڑکتی ہے تو بجلی کی کڑک سے ہوا میں موجود نائٹروجن کے ذرات ٹوٹ کر پانی کے ساتھ نیچے آجاتے ہیں اور جب یہ پانی اس کھاد کے اندر جاتا ہے تو دیگر اجزأ کے ساتھ مل کر نائٹروجن کے ذیادہ مؤثر مرکبات بنالیتا ہے جو کہ قدرتی نامیاتی کھاد کا اہم جز ہے لیکن یہ خیال رہے  کہ پانی اتنا نہ جائے کہ کھاد کے اجزأگل جا ئیں ضروری ہے کہ ان کو ڈھانپ دیا جائے  ہر پندرہ دن بعد اس کو ہلا دیا جائے تقریباً  تین سے چار ماہ میں اعلٰی کوالٹی کی کھاد تیار ہوجائے گی۔اگر اس کی رنگت کالی یا براؤن ہو جائے بھربھری ہو کسی قسم کی بو نہ ہو تو یہ تیار ہے ۔اگر کھاد کے تمام اجزا  کو کوٹ کر یا پیس کر ڈالا جائے تو ایک ہفتہ میں ہی کھاد استعمال کے قابل ہوجائے گی۔

کھاد کی تیاری کے لئے ہومیو پیتھک دواؤں کا استعمال

بعض اوقات کھاد کی تیاری میں  اجزأ  کا توازن صحیح نہیں رہتا کسی بھی جز کی کمی یا زیادتی ہو سکتی ہے اس کمی کو پورا کرنےکے لئے بعض ہو میو پیتھک دواؤں کو اس میں استعمال کیا جائےتو اس سے  بہت زیادہ حیران کن نتائج سامنے آتے  ہیں۔

پلیز اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس زہر سے بچائیں شکریہ....
Pesticide Percentage (%) in cold drinks released from PMA (Pakistan Medical Association) recently.
1     Nestle  juice  7.2%
2     Coke              9.4%
3     7 up              12.5%
4     Mirinda         20.7%
5     Pepsi            10.9%
6     Fanta              29.1%
7.    Sprite.            5.3%
8.    Frooti.           24.5%
9     Maza.            19.3%

It's very dangerous to the Human Liver.....

Results in Cancer !

------------------------

1. کیا کبھی کسی میڈیا نے یہ بتایا کہ نیسٹلے﴿Nestle﴾ کمپنی خود مانتی ہے کہ وہ اپنی چاکلیٹ کٹ کیٹ ﴿Kit Kat﴾ میں گاےٴ کے گوشت کا رس ملاتی ہے.

2. کیا میڈیا نے کبھی بتلایا کہ مدراس ہائی کورٹ میں فیر اینڈ لولی Fair&Lovelyکمپنی پر جب مقدمہ کیا گیا تھا تب کمپنی نے خود مانا تھا کہ ہم کریم میں سور کی چربی کا تیل ملاتے ہیں.

3. میڈیا نے کبھی یہ بتلایا کہ کولگیٹ ﴿Colgate﴾ کمپنی جب اپنے ملک امریکہ یا یورپ میں Colgate بیچتی ہے تو اس پر وارننگ لکھی ہوتی ہے

پہلی تنبیہ Please keep out this Colgate from the reach of the children below 6 years

یعنی چھ سال سے کم بچوں کی پہونچ سے اس کولگیٹ کو دور رکھیں/بچوں کو نہ دیجیے۔ کیوں ؟؟؟ کیوں کہ بچے اس کو چاٹ لیتے ہیں اور اس میں کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اسے بچوں کو نہ دیا جاےٴ۔

دوسری تنبیہ

In case of accidental ingestion, please contact nearest poison control center immediately

مطلب اگر بچے نے غلطی سے چاٹ لیا تو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے جائیے کیوں کہ یہ بہت خطرناک زہر ہے

تیسری بات اس میں یہ بھی لکھی ہوتی ہے

If you are an adult then take this paste on your brush in pea size

مطلب یہ کہ اگر آپ عمر میں بڑے ہیں تو اس پیسٹ کو اپنے برش پر صرف ایک مٹر کے دانہ کے برابر ہی لیجیے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے یہاں جو اشتہار ٹیلی ویژن پر آتا ہے اس میں برش بھر کے استعمال کرتے ہوےٴ دکھا تے ہیں۔ ہمارے ملک والے پیسٹ پر اس طرح کی کوئی تنبیہ ﴿Warning﴾ نہیں ہوتی۔

4. میڈیا نے کبھی بتلایا کہ ویکس ﴿Vicks) نام کی دوا پر یورپ کے کتنے ممالک میں پابندی ﴿Ban﴾ ہے؟

وہاں اسے زہر ڈکلیر کیا گیا ہے۔

5. میڈیا نے کبھی بتلایا کہ لایف بواےٴ ﴿Life Bouy﴾ نہ نہانے کا صابن ﴿Bath Soap﴾ ہے نہ حمام کا صابن ﴿Toilet Soap﴾ ہے۔ یہ جانوروں کو نہلانے والا Carbolic Soap ہے؟ یوروپ میں لایف بواےٴ صابن سے کتے نہاتے ہیں اور پاکستان میں کروڑوں لوگ اس سے رگڑ رگڑ کر نہاتے ہیں!!

6. میڈیا نے کبھی بتلایاکہ Coke Pepsi کے بارے میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس میں 21 طرح کے الگ الگ زہر ہیں۔

اور تو اور ہندوستانی پارلیمنٹ کی کینٹین میں کوک پیپسی بیچنے پر پابندی ﴿Ban﴾ ہے مگر پورے ہمارے ملک میں بک رہی ہے!

7. میڈیا نے کبھی بتایا کہ ہیلتھ ٹانک بیچنے والی غیر ملکی کمپنیاں Boost , Complan, Horlics, Maltova, Protinx

ان سب کا دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ ﴿جہاں بھارت کی سب سے بڑی لیب ہے﴾ وہاں ان سب کا ٹیسٹ کیا گیا اور پتہ لگایا کہ یہ صرف مونگ پھلی کی کھلی سے بنتے ہیں ۔ مطلب مونگ پھلی کا تیل نکالنے کے بعد جو اس کا waste بچتا ہے جسے گاوٴں میں جانور کھاتے ہیں اس سے یہ Health Tonic بناےٴ جاتے ہیں!!

8. میڈیانے کبھی بتلایا کہ محققین کی ریسرچ کے مطابق Cock Pepsi پینے والے کی آنتیں سڑ جاتی ہیں

.

9. آج کل بہت سارے لوگ pizza کھانےکا بڑا شوق رکھتے ہیں چلیے پزا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔۔۔۔ پزا بیچنے والی کمپنیاں ۔۔ پزا ہٹ، ڈومنسن ، کے ایف سی ، میکڈونالڈز ، پزا کورنر ، پاپا جونز پزا ، کالیفورنیا پزا، کچن سیلز پزا

Pizza Hut, Dominos, KFC , McDonalds, Pizza Corner , Papa John’s pizza, California pizza kitchen, Sal’s pizza.

وغیرہ ۔ یہ سب کمپنیاں امریکا کی ہیں آپ چاہیں تو ویکی پیڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔

پزا Pizza میں ٹیسٹ لانے کے لیے E-631 flavor Enhancer نام کا ایک عنصرPaste ملایا جاتا ہے۔ اور یہ عنصر کیا ہوتا ہے ؟ اس میں سور کا گوشت ملایا جاتا ہے جس کو ڈال کر لوگ اس پزے کا ٹیسٹ بڑھاتے ہیں۔ آپ چاہیں تو گوگل پر دیکھ سکتے ہیں۔

براہ کرم بغیر کسی انتظار کے اس میسیج کو زیادہ سے زیادہ ہر مسلمان تک پھیلائیے۔

ہوشیار رہیے ۔۔۔ اگر کھانے پینے کی چیزوں کے پیکیٹ پر مندرجہ ذیل کوڈ لکھے ہوں تو جان لیجیے اس میں یہ چیزیں ملی ہوئی ہیں۔

عناصر/اجزاء کوڈ نوٹ :

یہ سبھی کوڈCode آپ کو زیادہ تر باہری کمپنیوں پر لکھے ملیں گے جیسے چیپس ، بسکٹ ، چیونگم ، ٹافیاں اور میگی وغیرہ۔

میگی کے پیکیٹ پر Ingredient ﴿اجزاء﴾ میں دیکھیں گے E 635 لکھا ملیگا

آپ چاہیں تو Google پر ان سارے نمبرات کو دیکھ سکتے ہیں۔

گاےٴ کا گوشت E 322

الکحل ﴿شراب﴾ E 422

الکحل اور دوسرے کیمیکلز E 442

گاےٴ کا گوشت اور الکحل کا عنصر E 471

الکحل E 476

گاےٴ اور سور کے گوشت کا میکسچر E 481

جان لیوا اور خطرناک کیمیکل E 627

گاےٴ، سور ، بکری کے گوشت کا میکسچر E 472

سور کی چربی کا تیل E 631

آپ چاہیں تو Google پر ان سارے نمبرات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

E100, E110, E120, E140, E141, E153, E210, E213, E214, E216, E234, E252, E270, E280, E325, E326, E327, E334, E335, E336, E337, E422, E430, E431, E432, E433, E434, E435, E436, E440, E470, E471, E472, E473, E474, E475, E476, E477, E478, E481, E482, E483, E491, E492, E493, E494, E495, E542, E570, E572, E631, E635, E904.

آپ سب سے ایک بار پھر گذارش ہے کہ چٹکلے بھیجنے کے ساتھ ساتھ اس کو بھیجنا اور زیادہ سے زیاد شئیرکرنا نہ بھولیں
یہ پیغام ہر مسلمان تک پہنچائیے ۔

 امرود کا ھائی ڈینسٹی پر فرٹیلائزر پلان۔  سردی کے پھل کے لئے

امرود کا ہائی ڈینسٹی پانچ سالہ پروگرام جس میں آپ کو مکمل پلان ترتیب دیا گیا ہے ۔ 

پہلا سال فی پودا ھائی ڈینسٹی 2000 پلانٹ فی ایکڑ

کمپوسٹ یا گوبر کھاد 25۔1 کلو گرام 
امونیئم سلفیٹ 35 گرام
سنگل سپر فاسفیٹ 25 گرام
ایس او پی 5 گرام
میگنیشیئم سلفیٹ 2 گرام
high density guva farming in pakistan

دوسرا سال

کمپوسٹ یا گوبر کھاد 5۔2 کلو گرام
امونیئم سلفیٹ 70 گرام
سنگل سپر فاسفیٹ 50 گرام
ایس او پی 12 گرام
میگنیشیئم سلفیٹ 3 گرام

تیسرا سال

کمپوسٹ یا گوبر کھاد 75۔3 کلو گرام
امونیئم سلفیٹ 105 گرام
سنگل سپر فاسفیٹ 75 گرام 
ایس او پی 18 گرام
میگنیشیئم سلفیٹ 4 گرام

چوتھا سال

کمپوسٹ یا گوبر کھاد 5 کلو گرام 
امونیئم سلفیٹ 140 گرام
سنگل سپر فاسفیٹ 100 گرام
ایس او پی 23 گرام 
میگنیشیئم سلفیٹ  5 گرام

پانچواں سال

کمپوسٹ یا گوبر کھاد 7 کلوگرام
امونیئم سلفیٹ 175 گرام
سنگل سپر فاسفیٹ 125 گرام
ایس او پی 28 گرام 
میگنیشیئم سلفیٹ 6 گرام  

گوبر کھاد جولائی کے پہلے ہفتے مکمل کریں۔  سنگل سپر فاسفیٹ اور نصف باقی کھادیں اگست کے پہلے ہفتے۔
باقی نصف کھادیں ستمبر کے پہلے ہفتے میں فرٹیگیٹ کر دیں ۔
ستمبر کے چوتھے ہفتے میں 8 کلو گرام ھیومک ایسڈ کرسٹل یا 20 لیٹر ھیومک ایسڈ مائع بھی فلڈ کردیں۔

اوپر والی کھادوں سے باغ کو درج ذیل اجزاء مکمل طور پر مل جائیں گے۔ 

نائٹروجن 
فاسفورس 
پوٹاش 
کیلشیئم 
میگنیشیئم 
سلفر
ھیومک ایسڈ
فلوک ایسڈ

پھول نکلنے سے پہلے درج ذیل دو فولئر  ھی کریں۔ 

پہلا سپرے

2 کلو گرام پوٹاشیئم نائٹریٹ 100 لیٹر پانی میں۔  

دوسرا سپرے۔ 100 لیٹر پانی میں۔ 
100 گرام بورک ایسڈ
200 گرام فیرس سلفیٹ
200 گرام کا پر سلفیٹ
100 گرام مینگانیز سلفیٹ 
400 گرام زنک سلفیٹ 

درج بالا فولئر سپرے پھل  بننے  کے فورا بعد الٹی ترتیب میں پھر کریں۔ یعنی اب کے پوٹاشیئم نائٹریٹ  آخر میں۔ 
پوٹاشیئم نائٹریٹ کا ایک مزید  سپرے پھل 50 فیصد سائز ھونے  پر پھر کریں۔ 

فولئر سپرے کے ساتھ فنجیسائیڈ کو مکس بھی کر سکتے ھیں۔ 

نوٹ۔
اگر گرمی کا پھل بھی لینا ھے تو درج بالا مکمل۔پروگرام دو بار کرنا ھو گا۔ 
گرمی کے پھل کے لئے مارچ سے اور سردی کے پھل کے لیے جولائی سے۔

انار عموماََ دو وجوہات کی بنیاد پر پھٹتا ہے.
نمبر 1. بیکٹیریا سے لگنےوالی بیماری بیکٹیریل بلائٹ کی وجہ سے
نمبر 2. کھادوں اور پانی کی کمی بیشی کی وجہ سے
لیکن آپ نے جو حقیقت بتائی ہے اور تصویریں بھیجی ہیں ان کے مطابق یہ بیکٹیریا سے لگنے والی بیماری بیکٹیریل بلائٹ ہے.
لہذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بیماری کو اچھی طرح سے پہچان لیا جائے.
ہوتا یہ ہے کہ بیکٹیریا سب سے پہلے انار کے پتوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پتوں پر بھورے اور کالے رنگ کے دھبے ظاہر ہوتے ہیں.
پتوں پر بھورے اور کالے رنگ کے دھبے نظر آ رہے ہیں
اس کے بعد یہ دھبے شاخوں پر بھی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں. اور شاخیں کہیں کہیں سے کالی کالی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں.
دھبے شاخوں پر بھی نظر آ رہے ہیں
اگر حملہ زیادہ تو شاخیں پھٹنا بھی شروع ہو جاتی ہیں
زیادہ حملے کی صورت میں شاخ پھٹ جاتی ہے
اس کے بعد پھل پر تکونی شکل کے کالے رنگ کے نشان سے ظاہر ہوتے ہیں

اور شدید حملے کی صورت میں انار پھٹ جاتا ہے.

بیکٹیریل بلائٹ کا حل کیا ہے؟
اگر آپ کے انار پھٹ رہے ہوں تو فوری طور پر تین کام کریں

نمبر 1. اینٹی بائیوٹک کا سپرے کریں

اس بیماری میں جب بیکٹیریا پودے پر حملہ کرتا ہے تو اس کے فوراََ بعد پھپھوندی بھی حملہ آور ہو جاتی ہے. لہذا اس بیماری کو کنٹرول کرنے کے لئے سب پر پہلے اینٹی بائیوٹک اور اس کے بعد پھپھوندی کش زہر کا سپرے کرنا ضروری ہے.

لہذا سب سے پہلے آپ انار پر ایک اینٹی بائیوٹک سٹر یپٹو مائی سین سلفیٹ سپرے کر دیں.
سٹر یپٹو مائی سین سلفیٹ کی ایک گرام پیکنگ آپ کو کسی بھی میڈیکل سٹور سے 10 یا 12 روپے میں مل جائے گی.
اینٹی بائیوٹک کی ایک گرام کی پیکنگ
20 لیٹر پانی والی ٹینکی میں دو گرام (یعنی دو شیشیاں) ڈال کر اچھی طرح حل کریں اور انار کے پودوں پر سپرے کر دیں.

نمبر 2. پھپھوندی کش سپرے کریں

اس سپرے کے 2 دن بعد بائر کی ایک پھپھوندی کش زہر جو مارکیٹ میں نٹیوو کے نام سے دستیاب ہے پودے پر سپرے کر دیں.

نمبر 3. کھادیں پوری کریں

واضع رہے کہ پودے کو مناسب خوراک نہ دی گئی ہو تو اس کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور وہ بیماریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا. پودے کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے 1 کلو نائٹروفاس اور آدھا کلو پوٹاشیم سلفیٹ کی کھادیں ڈالیں.
اصولاََ یہ کھادیں جنوری میں ڈالنی چاہئیں تھیں. اگر آپ نے جنوری میں کوئی کھاد ڈال رکھی ہے تو اسی حساب سے جمع تفریق کر کے پودے کی کھاد پوری کر دیں.

بوران کا سپرے کریں. دو گرام فی لیٹر پانی کے حساب سے سپرے کریں.

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک اور پھوندی کش زہروں کے بیماری آنے سے پہلے حفاظتی سپرے کریں.
پانی یا کھادوں کی کمی بیشی کی وجہ سے پھل کا پھٹنا بعض اوقات انار کے پھل کو بیکٹیریل بلائٹ بیماری نہیں ہوتی جبکہ پھل پھر بھی پھٹ رہے ہوتے ہیں.

ماہرین بتاتے ہیں کہ اس طرح سے اناروں کا پھٹنا پانی اور کھادوں کی کمی بیشی کی وجہ سے ہوتا ہے.
بوران، کیلشیم اور پوٹاش کی کمی کا انار پھٹنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے البتہ ان تینوں اجزاء کی کمی کی وجہ سے پودے میں پانی کی کمی بیشی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے. اس طرح سے بوران، کیلشیم اور پوٹاش کی کمی بھی پھل پھٹنے کا سبب بن جاتی ہے.
 ماہرین کے مطابق
 1. پانی کی کمی بیشی
2. کیلشیم و بوران کی کمی کے ساتھ نائٹروجن کھاد کا ضرورت سے زائد استعمال اور
3. ہارمون کا بے جا استعمال پھل پھٹنے کی وجہ ہے.

انار کی کچھ ورائٹیاں ایسی ہیں جن میں پھل کم پھٹتا ہے جبکہ دوسری ورائٹیوں میں پھل پھٹنے کا رجحان زیادہ ہے. بھارت میں تحقیق یہ بتاتی ہے کہ امبی بہار اور ہستا ورائٹیوں میں پھل سب سے زیادہ جبکہ مریگ بہار ورائٹی میں سب سے کم پھٹے ہیں. امید ہے پاکستان میں بھی اس طرح کی کوئی تحقیق جلد سامنے آ جائے گی.

اگر انار کھادوں اور پانی کی کمی بیشی کی وجہ سے پھٹ رہے ہوں تو اس کاحل کیا ہے؟
انار کو مناسب وقفے سے پانی لگائیں اور پانی کی کمی بیشی نہ ہونے دیں. خاص طور پر پھل لگنے سے لیکر پھل پکنے تک پانی لگانے میں محطاط رویہ اختیار کریں. بتایا جاتا ہے جہاں اناروں کو ڈرپ آبپاشی کے ذریعے پانی لگایا جاتا ہے وہاں انار کے پھل کم پھٹتے ہیں.

جب پھل تھوڑا بڑا ہو جائے تو یکے بعد دیگرے بوران کے دو سپرے کریں. سپرے کرنے کے لئے 2 گرام بوران فی لیٹر پانی کے حساب سے محلول بنا کر سپرے کریں.

زمینی تجزیے کے مطابق کیلشیم اور پوٹاش کھادیں ڈالیں. یہ کھادیں پانی کی کمی کی صورت میں پھل کو پھٹنے سے بچاتی ہیں.

پوسٹ کی زیادہ تر معلومات ایگری اخبار سے لی گئی ھیں.
ترتیب،چھانگاسرکار
پوسٹ دیگر احباب کی معلومات کے لئے شیئر کریں ۔۔شکریہ

جانوروں کے چیچڑوں کا مکمل خاتمہ

علاج نمبر 1:

اکثر جانوروں پر چیچڑ لگ جاتے ہیں، جو جانور کا خون چوستے ہیں اور ان سے جانور کمزور بھی ہوتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کے لیئے انجکشن آئیورمیکٹن کھال میں صرف ایک ڈوز لگائیں، آئیور میکٹن حاملہ جانوروں میں استعمال نہ کریں، ان کی لیئے نیچے بتائی گئی دوسری دوا استعمال کریں ۔

Inj. Ivermectin 1%
(Dose: 1ml per 40kg)

علاج نمبر 2:

ایکٹوفون پائوڈر چیچڑوں کے لیئے بہترین دوا ہے۔ یہ پاؤڈر ایک کلو پانی میں 10گرام حل کیا جاتا ہے اور کسی کپڑے وغیرہ سے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ یہ دوا حاملہ جانور کیلئے محفوظ ہے، اسکے علاوه جانور کے چاٹنے کی صورت میں بھی اس کا کوئی نقصان نہیں۔

Ectofon Powder 10gm
(Prix Pharmaceutical)

علاج نمبر 3:

سائیپر میٹ دوا لیکوئیڈ کی صورت میں ہوتی ہے، اس دوا کا 10ml ایک لیٹر پانی میں حل کرکے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کیلئے یہ سب سے موئثر دوا ہے، لیکن جانور اس دوا کو ہرگز چاٹ نہیں سکتا۔ حاملہ جانوروں کیلئے بھی محفوظ دوا ہے۔

Cypermit (Eterna)
10ml per 1 liter water

سائیپر میٹ اور ایکٹوفون، دونوں دواؤں کو جانوروں کے رکھنے کی جگہ پر اسپرے کی صورت میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
چیچڑوں کے خاتمے کیلئے اوپر دی گئی کوئی بھی دوا استعمال کرنے کے 21دن بعد دوبارہ ضرور استعمال کریں، تاکہ انڈوں سے نکلنے والے نئے چیچڑوں کا خاتمہ بھی ہو سکے، ورنہ وہ دوبارہ آپ کے جانور کی تباہی کا سبب بنیں گے۔

ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﭩﯽ ﭼﮑﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ۔
ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﯾﺘﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﮨﻢ کچھ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﯾﺎ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺵ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﭼﮑﻨﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﺗﮩﮧ ﭼﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮﺁﺑﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﮮ ﮔﮩﺮﯼ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﺮﭼﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺯﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ کا ﺳﺎﺋﯿﺰ اتنا ہونا ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻭ ﺻﺤﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔ ﺗﺎﻻﺏ ﭼﻨﺪ ﻓﭧ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﮑﮍ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺩﻭ ﺍﯾﮑﮍ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﮔﯽ۔


ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ داخل ﻭ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺳﺎﺋﯿﺰ ﮐﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﺍﮔﺮ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺮﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ 60 ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻓﯽ ﺍﻧﭻ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﭨﯿﻮﺏ ﻭﯾﻞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺳﺎﺋﯿﺰ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺁﭖ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﻮﺑﺮ ﯾﺎ ﮐﮭﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﯽ ﺍﯾﮑﮍ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ 5000 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﭽﮧ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺧﺎﻟﺺ، ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻓﺶ ﮨﯿﭽﺮﯼ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﭽﮧ ﺧﺎﻟﺺ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ کی ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮕﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﭘﮑﮯ ﭘﺎﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺁﭘﮑﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﮔﯽ۔

ﺑﭽﮧ ﻓﯿﺒﺮﻭﺭﯼ ﯾﺎ ﻣﺎﺭﭺ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮔﺮﻡ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﺳﺮﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﯾﺎ ایک ساتھ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ساتھ ﭘﺎﻻ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻮ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻮﺑﺮ ﯾﺎ ﺯﺭﻋﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﮐﻢ ﺧﺮﭼﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﺑﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔


ﺗﺎﻻﺏ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﺎﻗﺎﺋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮔﯿﺴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺟﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﻣﻘﺪﺍﺭ 5 ﭘﯽ ﭘﯽ ﺍﯾﻢ ‏( ﯾﺎ ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﻓﯽ ﻟﭩﺮ ‏) ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺳﺒﺰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ 5 ﺳﮯ 7 ﻓﭧ ﺭﮨﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ
ﺍﮔﺮ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﮌﮦ ﯾﺎ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺧﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﭘﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮔﻮﺑﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﭧ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺱ ﭘﮭﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺩﮮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺑﮩﺘﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﺎﻥ ﺣﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﺩﮮ ﺑﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺯﺭﻋﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻨﯽ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮐﺮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﺰ ﺗﮩﮧ ﺳﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺑﮍﮮ ﭘﻮﺩﮮ ﺟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﭘﺎﺗﮯ۔

ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺍﮌﯾﮟ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﺁﮐﺴﯿﮉﺍﺋﯿﺰ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺟﺰﺍ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

ﭼﻨﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ :
ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ
ﭘﯽ ﺍﯾﭻ 6.5 ﺳﮯ 8.5 ﺗﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ
ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮔﯿﺲ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﻮﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﮉﺭﻭﺟﻦ ﺳﻠﻔﺎﺋﯿﮉ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺑﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺍﻣﻮﻧﯿﺎ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہمارے لئے ایک قدرتی نظام بنا کر زمین پر لاکھوں سال سے درخت اور دیگر نباتات غیر ہموار زمین پر اُگا دیے بغیر کسی کھاد اور سپرے کو کئے۔ ہم کو بھی یہی قدرتی نظامِ کاشت اپناتے ہوئے اپنے لیے زراعت کے بہتر وسائل تلاش کرنے ہوں گئے۔

پائیدار قدرتی نظامِ کاشت (پقنک)

اگر ہم زمین کی قدرتی ساخت پر غور کریں تو ہم کو پتہ چلے گا کے اللہ تعالیٰ نے زمین ہموار نہیں بنائی تاکہ جن فصلوں کو زیادہ پانی کی ضرورت ہے وہ گہرائی میں لگائی جائیں جیسے چاول وغیرہ اور جن فصلوں کو کم پانی کی ضرورت ہے وہ اونچی جگہ پر لگائی جائیں جیسے سبزیاں وغیرہ۔ جب بارش ہو تو پانی کم پانی کی ضرورت والی فصلوں کو سیراب کرتا ہوا ڈھلوان میں چلا جائے اور اسطرح دونوں قسم کی فصلوں کو فائدہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے بیکٹیریا پیدا کیے جو پانی میں زندہ رہ سکے اور کچھ ایسے جو پانی کی صرف نمی یا سوکھی جگہ پر زندہ رہ کر فصلوں کو فائدہ دیں اور فصلوں کی باقیات کو گھلا کرنامیاتی کھاد کا کام کریں۔ سو جب ہم ریزبیڈز کی بجائے فلیٹ زمین پر کاشتکاری کرتے ہے تو جن بیکٹیریا نے ہماری فصلوں کو فائدہ دینا ہوتا ہے انکو ہم پانی میں ڈبو کر مار دیتے ہے. اس طرح فائدہ مند کیڑوں کی تعداد ہماری فصلوں میں ختم ہو گی اور ہماری فصلیں کیمیکل زہروں اور کھادوں کی محتاج ہو گئی ہیں۔ ہم نے خود اپنے ہاتھوں اپنی زمینیں تباہ کر لی۔

پقنک میں جب ہم قدرت کے طریقہ کی طرف دوبارہ آتے ہوئے فصلوں اور اُنکی باقیات کی ریزبیڈز پر آرگینک ملچنگ کرتے ہیں تو ہماری فصلوں کو خود با خود نامیاتی کھاد مل جاتی ہے۔ ریزبیڈز پر فصلوں کی باقیات پڑا رہنے سے زمین کا اندرونی ٹمپریچر کم ہو جاتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے آرگینک میٹر ضائع نہیں ہوتا اور آرگینک میٹر کی بچت کی وجہ سے زمین کی پی ایچ نہیں بڑھتی۔ پھر ہم جو تھوڑی سی بھی کیمیائی کھاد  ڈالتے ہیں وہ پودے کو ساری کی ساری مل جاتی ہے اور بیڈز پر کاشت کی وجہ سے بیج کی لاگت بھی کم ہو جاتی ہے۔

جب ہم زمین میں بار بار ہل چلاتے ہیں تو ایک تو ڈیزل کا خرچہ آتا ہے اور زمین  کھلی ہونے کی وجہ سے نامیاتی مادہ دھوپ کی گرمی سے ضائع ہوتا رہتا ہے۔ اسکے برعکس جب ہم ایک ہی دفعہ ریزبیڈز بنا کر انہی بیڈز بر بار بار فصل لگا لیں گئے تو زمین کا ٹمپریچر زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے فصل پیداوار بھی اچھی دے گی اور فصل کا خرچا کم ہو گا اور آمدن میں منافع زیادہ۔


قدرتی نظام کاشتکاری کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہم فصل ہمیشہ بیڈ یا پٹڑیوں پر کاشت کریں۔ ان پٹڑیوں کے ارد گرد کھیلیاں ہوتی ہیں جہاں سے پانی گزرتا ہے۔ یعنی اصول یہ ہے کہ جہاں سبزہ ہو گا وہاں پانی کھڑا نہیں ہو گا اور جہاں پانی کھڑا ہو گا وہاں سبزہ نہیں ہو گا۔ آج کے اس مضمون ہم تفصیل سے بات کریں گے کہ بیڈ یا پٹڑیوں پر فصل کاشت کرنے کے پیچھے وہ کون کونسے راز اور کون کونسی حکمتیں پوشیدہ ہیں جن کی بدولت ہم بہت ساری بچتیں کرنے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی پیداوار حاصل کر لیتے ہیں

پہلی حکمت

مستقل بیڈ بنانے سے زمین کے نیچے والی تہہ سخت نہیں ہوتی

ایک بات ذہن میں رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں جب ہم ایک دفعہ بیڈ بنا لیتے ہیں تو یہ بیڈ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مستقل طور پر بنائے جاتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ آپ بیڈ بنا کر فصل لگائیں اور پھر اگلی فصل لگانے کے کھیت میں ہل چلا کر نئے بیڈ بنائیں۔ قدرتی کاشتکاری میں زمین میں بار بار ہل نہیں چلایا جاتا۔

ہوتا یہ ہے کہ ٹریکٹر کے ساتھ جب ہم زمین میں بار بار ہل چلاتے ہیں تو زمین کے نیچے کی تہہ سخت ہوتی جا تی ہے۔اگر ہم میسی 240 ٹریکٹر کی بات کریں تو اس کا وزن بھی 40 من سے زیادہ ہوتا ہے۔ جب 40 من وزنی ٹریکٹر بار بار زمین کے اوپر سے گزرتا ہے تو زمین کے نیچے ایک سخت تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ سپرنگ والا ہل زمین کی تہہ کو سخت کرنے میں اہم کردار ادار کرتا ہے جس پر آئندہ بات ہو گی۔

اگر دیکھا جائے تو 90 فیصد ہمارے ہاں کلٹی ویٹر یعنی سپرنگوں والا ہل استعمال ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 5 انچ کی گہرائی تک جاتا ہے۔ اسی طرح راجہ ہل اور ڈسکیں بھی 9 انچ سے گہری نہیں جاتیں۔ لہذا 9 انچ سے نیچے زمین میں سخت تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سخت تہہ کی موٹائی تقریباََ 8 سے 10 انچ تک ہوتی ہے اور اس کے بعد پھر نرم زمین شروع ہو جاتی ہے۔ چونکہ اوپر والے 9 انچ میں ہل چلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے زمین سخت نہیں ہوتی اور مٹی قدرے نرم رہتی ہے۔ اب زمین کے نیچے بننے والی یہ تہہ اس قدر سخت ہو جاتی ہے کہ اس میں سے پودوں کی جڑیں بھی نہیں گزر سکتیں۔ اور پانی کو بھی زمین کے نیچے بہنے میں دقت پیش آتی ہے جس سے ہماری زمین خراب ہوتی چلی جاتی ہے اور فصلوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ سخت تہہ زمین اور پودوں کی صحت دونوں کے نقصان دہ ہوتی ہے۔ روائتی کاشتکاری کے ماہرین کے نزدیک بھی ہر3 سال بعد زمین کی اس سخت تہہ کو توڑنا بہت ضروری ہے جو صرف چیزل ہل چلانے سے ہی ممکن ہے۔ چیزل ہل کے تین لمبے پھالے ہوتے ہیں جو زمین میں زیادہ سے زیادہ 2 فٹ کی گہرائی تک جا سکتے ہیں جس سے سخت تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔

لہذا قدرتی کاشتکاری میں مستقل بیڈ بنانے سے پہلے نہائیت ضروری ہے کہ ہم ایک مرتبہ زمین کی گہرائی میں چیزل ہل چلا کرسخت والی تہہ کو توڑ دیں۔ چیزل ہل چلانے کے بعد زمین میں روٹا ویٹر پھیر کر مستقل بیڈ بنا دیں۔

مستقل بیڈ بنانے کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کے کھیت میں سے ٹریکٹر بھی ہمیشہ مستقل رستے یعنی کھیلی میں سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے اوپر والی جگہ جہاں آپ نے فصل کاشت کرنی ہے وہاں سے ٹریکٹر نہیں گزرے گا۔

لہذا وقت کے ساتھ کھیلیوں کے نیچے والی زمین میں تو سخت تہہ بنے گی لیکن بیڈ کے اوپر والی جگہ جہاں آپ نے فصل کاشت کرنی ہے وہ نرم ہی رہے گی۔ اور نیچے تک اس نرم زمین میں آپ کی فصل کی جڑیں جہاں تک جانا چاہیں جا سکیں گی اور زیادہ گہرائی سے خوراک لا کر پودے کو دیں گی جس سے پودے کی بہترین نشوو نما ہو گی۔

دوسری حکمت


مستقل بیڈ بنانے سے کھیلی کے نیچے سخت تہہ بن جائے گی جس سے پانی کی بچت ہو گی۔

جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مستقل بیڈ بنانے سے آپ کا ٹریکٹر بار بار کھیلی میں سے ہی گزرے گا جس سے کھیلی کے نیچے والی زمین کی تہہ سخت ست سخت تر ہوتی چلی جائے گی۔ واضح رہے کہ کھیلیاں ہمیشہ ہم ٹریکڑ کی چوڑائی کو مدنظر رکھ کر اس طرح بناتے ہیں کہ ٹریکٹر کا ٹائر کھیلیوں میں ہی رہیں۔



organic farming ideas in urdu
ایک دفعہ چیزل ہل چلا کر مستقل بیڈ بنا دئیے گئے ہیں۔ اب ٹریکٹر ہمیشہ کھیلی سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے نیچے زمین نرم رہے گی

ایک دفعہ چیزل ہل چلا کر مستقل بیڈ بنا دئیے گئے ہیں۔ اب ٹریکٹر ہمیشہ کھیلی سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے نیچے زمین نرم رہے گی
زمین میں پانی بھی چونکہ آپ نے کھیلیوں میں ہی لگانا ہے۔ اس لئے زمین سخت ہونے کی وجہ سے وہ 10 فیصد پانی جو زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اس کا بہت سا حصہ زمین کے نیچے بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے بیڈوں کی طرف مڑ جائے گا جس سے پانی کی بچت ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کا بہتراور موثراستعمال ہو سکے گا۔

organic farming ideas in urdu

پانی زمین کے نیچے بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے بیڈوں میں جذب ہو رہا ہے۔
تیسری حکمت

بیڈ میں پودے کو پانی کی بجائے نمی ملتی ہے اور نمی میں پودا بہت خوش رہتا ہے

سائنس دان بتاتے ہیں کہ پودے کے پاؤں پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پسندیدہ بات یہی ہے کہ پودے کے پاؤں پانی میں ڈبونے کی بجائے اسے نمی مہیا کی جائے۔ لہذا بیڈ بنانے میں بھی یہی حکمت ہے کہ پانی کھیلیوں میں لگایا جاتا ہے اور بیڈ کو کھیلیوں سے نمی حاصل ہوتی رہتی ہے جسے پودا استعمال کر کے اپنی نشوونما جاری رکھتا ہے۔

بیڈ کی وجہ سے پودے کے پاؤں پانی میں ڈوبنے کی بجائے اسی نمی مل رہی ہے
واضح رہے کہ بیڈ بنا کر پانی دینا، ڈرپ آبپاشی سے بھی بہتر ہے۔ کیونکہ ڈرپ آبپاشی میں زمین پانی سے نچڑتی رہتی ہے جو پودے کی صحت کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ پودا نچڑتی ہوئی مٹی کی بجائے نمدار یا ہلکی گیلی مٹی میں خوش رہتا ہے۔ اور دوسرے جتنی پانی کی بچت لاکھوں روپے لگا کر ڈرپ آبپاشی کے ذریعے ہوتی ہے، کم و بیش اتنی ہی پانی کی بچت مستقل بیڈ بنا کر بھی ہو جاتی ہے۔

چوتھی حکمت

بیڈ میں آبپاشی کرنے سے پودا بھر پور خوراک حاصل کرتا ہے

اس بات کو آپ اس طرح سے سمجھیں کہ انسان اگر چینی کھانا چاہے تو وہ دو طریقوں سے کھا سکتا ہے۔ ایک تو چینی کا چمچ اپنے منہ میں ڈال کر چبائے اور کھا لے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ چینی کو پہلے پانی میں حل کرے اور پھر اس کے بعد چینی والا پانی پی لے۔

واضح رہے کہ پودا انسان کی طرح دونوں طریقوں سے خوراک حاصل نہیں کر سکتا بلکہ وہ صرف دوسرے طریقے سے ہی خوراک حاصل کرتا ہے۔ یعنی جب ہم پانی لگاتے ہیں تو خوراک پہلے پانی میں حل ہو گی اور پھر جب پودا اس خوراک والے پانی کو اپنی جڑوں کے ذریعے حاصل کرے گا تو پانی کے ساتھ ہی خوراک بھی پودے کے اندر چلے جائے گی۔

اب اس بنیادی بات کو سمجھنے کے بعد ذرا دیکھئے کہ اگر آپ کھیت میں کھلا پانی چھوڑیں گے اور کھیت میں پڑی ہوئی خوراک جب زیادہ پانی میں ھل ہو گی تو ظاہر ہے پتلا شربت بنے گا لیکن اگر وہی خوراک تھوڑی پانی میں حل ہو گی تو گاڑھا شربت بنے گا۔ بیڈ میں جب ہم پانی لگاتے ہیں تو کم پانی لگنے کی وجہ سے گاڑھا شربت بنتا ہے۔ جب پودا اس گاڑھے شربت کو اپنی جڑوں سے حاصل کرتا ہے تو پھر اس میں حل شدہ زیادہ خوراک پودے کو ملتی ہے۔



ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آ رہی ہو کہ اگر شربت پتلا ہے تو پودا زیادہ شربت اپنی جڑوں کے ذریعے حاصل کر لے اور اپنی خوراک پوری کر لے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک حد سے زیادہ پانی جذب نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پانی سادہ ہو یا میٹھا، انسان دو چار گلاس سے زیادہ پانی نہیں پی سکتا۔ پودوں کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ ہے۔

کیونکہ پودے کی جڑیں 2 طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو موٹی ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو بالکل بال کی طرح باریک ہوتی ہیں۔ موٹی جڑیں پودے کو زمین میں مضبوطی کے ساتھ کھڑا رکھنے کے لئے ہوتی ہیں جبکہ بال کی طرح باریک جڑوں کے ذریعے پودا زمین سے پانی اور دیگر غذائی اجزاء جذب کرتا ہے۔

اب پودا کتنا پانی جذب کرے گا؟ یہ بات نہ ہمارے اختیار میں ہے اور نہ ہی پودے کے اپنے اختیار میں ہے۔ بلکہ تین چیزیں ہیں جو پودے کے پانی جذب کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ پودے کے پتے کتنے چوڑے ہیں اور اس کی چھتری کا پھیلاؤ کتنا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہوا میں نمی کتنی ہے اور تیسری یہ کہ ہوا کا درجہ حرارت کتنا ہے۔ کیونکہ اگر پتے چوڑے ہوں گے، ہوا میں نمی کم ہوگی اور ہوا کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو پودا پتوں سے زیادہ پانی ہوا میں اڑائے گا۔ اور جتنا پانی پودا ہوا میں اڑائے گا بالکل اتنا پانی ہی پودا زمین سے جذب کر سکے گا۔

پودے کے پتوں سے پانی اڑنے والی بات کو کپڑے سوکھنے والی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ہم کپڑے دھو کر دھوپ میں ڈالتے ہیں تو گرمیوں میں وہ جلدی سوکھ جاتے ہیں جبکہ سردیوں میں کافی وقت لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں ہوا میں نمی کم اور ہوا کا درجہ حرارت زیادہ ہو تا ہے جبکہ سردیوں میں ہوا میں نمی زیادہ اور ہوا کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر آپ کپڑے کو اچھی طرح سے پھیلائیں گے تو اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے وہ جلدی سوکھ جائے لیکن اگر اس کو پھیلائے بغیر ویسے ہی تار پر لٹکا دیں گے تو وہ شام تک نہیں سوکھے گا۔

پانچویں حکمت


مستقل بیڈ بنانے سے زمین میں فائدہ مند جراثیموں کی بھر پور نشوونما ہوتی ہے

اگر آپ صحت مند زمین سے مٹی کا ایک چمچ لیں تو اس ایک چمچ مٹی میں 7 ارب سے زیادہ فائدہ مند جراثیم پائے جاتے ہیں۔ یعنی جتنی دنیا میں تمام انسانوں کی آبادی ہے اس سے زیادہ حیات صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں پائی جاتی ہے۔

زمین میں پائے جانے والے یہ مفید جراثیم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی طرح سانس لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو مچھلی کی طرح ہوا لگنے سے مر جاتے ہیں۔ جب ہم زمین میں کھلا پانی چھوڑتے ہیں تو وہ جراثیم جو انسان کی طرح سانس لیتے ہیں پانی میں زیادہ دیر ڈوبے رہنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے جراثیم جو مچھلی کی طرح ہوا لگتے سے مر جاتے ہیں، انہیں ہم ہل چلا کر ہوا لگاتے ہیں جس سے وہ مر جاتے ہیں۔

زمین میں ایسے کروڑوں عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم ہوتے ہیں جن کی نشوونما بہت ضروری ہے


زمین میں ایسے کروڑوں عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم ہوتے ہیں جن کی نشوونما بہت ضروری ہے
لیکن جب ہم مستقل بیڈ بنا کر زمین کو کھیلیوں میں پانی لگاتے ہیں تو دونوں طرح کے مفید جراثیم نہ صرف محفوظ رہتے ہیں بلکہ خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ہل چلا کر کھیت میں کھلا پانی چھوڑیں گے تو کچھ جراثیم پانی میں ڈوب کر اور کچھ ہوا لگنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ یہ جراثیم عام آنکھ سے نظر نہیں آتے البتہ طاقتور شیشوں کی مدد سے انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔

انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ان مفید جراثیموں کے بارے سائنس دانوں کا علم محدود ہے۔ ان کی انواع و اقسام اور ان کے کردار پر تحقیق جاری ہے۔ یہ جراثیم نہ جانے کون کون سے غذائی اجزاؑ تیار کر کے پودے کو دیتے ہیں جس سے پودا سر سبزو شاداب نظر آتا ہے اور بھر پور پیداوار دیتا ہے۔

چھٹی حکمت


بیڈ بنا کر فصل کاشت کرنے سے کیمیائی کھاد کی ضرورت بہت کم پڑتی ہے۔

جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ بیڈ بنا کر آب پاشی کرنے سے زمین میں مفید جراثیموں کی پھر پور نشوونما ہوتی ہے۔ یہ جراثیم کھیت میں موجود فصلوں کی باقیات کو پودوں کے دلپسند غذائی اجزاء میں تبدیل کرتے ہیں جس سے پودوں کو کسی طرح کی غذائی کمی نہیں آتی اور کیمیائی کھادوں کا استعمال کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ واضح رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں فصلوں کی باقیات کو زمین کے اوپر ہی پڑا رہنے دیا جاتا ہے جسے یہ جراثیم غذائی اجزاء میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔


اس تصویر میں جراثیم پودے کی جڑوں کے آس پاس دکھائے گئے ہیں جو زمین سے خوراک حاصل کرنے میں پودے کی مدد کرتے ہیں
جب آپ نئے نئے بیڈ بنائیں تو اس وقت ہو سکتا ہے آپ کو دو چار کلو فی ایکڑ کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑے لیکن جب یہ جراثیم اپنی آبادی بڑھا لیتے ہیں اور اپنا کام شروع کر دیتے ہیں تو پھر کسی طرح کی کیمیائی کھاد کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ساتویں حکمت


بیڈ بنا کر پانی لگانے سے پانی کی خاطر خواہ بچت ہوتی ہے۔

جب ہم زمین میں کھلا پانی چھوڑتے ہیں تو اس پانی کا 10 فیصد حصہ زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ 70 فیصد پانی زمین سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ کھلا پانی چھوڑنے کی صورت میں پودا صرف 10 سے 20 فیصد ہی پانی استعمال کر پاتا ہے اور باقی سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

یہ بات تجربات سے ثابت ہے کہ بیڈ بنا کر اگر فصل کاشت کی جائے اور زمین کو کھاس پھوس سے ڈھانک کر رکھا جائے تو پانی کی 80 فیصد تک بچت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ لاکھوں روپے کا ڈرپ آبپاشی نظام لگا کر جتنے پانی کی بچت ہوتی ہے، کم و بیش اتنے ہی پانی کی بچت مفت میں بیڈ بنا کر ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈرپ آبپاشی نظام کے فوائد، بیڈ آبپاشی کے مقابلے میں کئی حوالوں سے کم ہیں جنہیں آنے والے مضامین میں بیان کیا جائے گا۔

آٹھویں حکمت


بیڈ بنا کر فصل کاشت کرنے سے پودوں کی جڑوں کا نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے

پودا خود تو ساکن ہوتا ہے لیکن اس کی جڑیں زمین میں چلتی پھرتی رہتی ہیں۔ یہ جڑیں زمین میں چل پھر کر اپنی خوراک تلاش کرتی ہیں۔ پودے کو جس طرف پانی نظر آتا ہے جڑیں اس طرف کو بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پودے کے لئے بہت ضروری ہوتا کہ وہ اپنی جڑوں کا جال دور دور تک پھیلائے۔ کیونکہ جتنا بڑا جال ہو گا اتنی ہی زیادہ خوراک پودا زمین سے حاصل کر سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس مچھلی پکڑنے کے لئے بڑا جال ہو تو اس میں زیادہ مچھلی آتی ہے لیکن اگر جال ہی چھوٹا ہو تو اس میں بہت کم مچھلی آتی ہے۔ اس لئے پودے کی جڑ کے جال کا بڑا ہونا بہت ضروری ہے۔



بیڈ پر موجود پودے نے کھیلیوں سے پانی حاصل کرنے کے لئے اپنی جڑیں دور دور تک پھیلا رکھی ہیں
خوراک کے علاوہ پودے کی جڑوں کا جال پودے کو زمین میں مضبوتی سے گاڑ کر رکھتا ہے۔ اگر جڑیں مضبوط ہوں گی تو فصل کبھی بھی آندھی وغیرہ چلنے سے نہیں گرے گی چاہے پانی لگانے کے فوراََ بعد ہی آندھی آ گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ پودے کی جڑوں کا جال بڑا کیسا ہو گا؟

اس بات کو سمجھنے کے لئے مثال بالکل سادہ ہے۔ اگر پانی کا گلاس آپ کے دائیں ہاتھ کے بالکل ساتھ پڑا ہوا ہے تو آپ وہیں سے اٹھا کر پی لیں گے۔ لیکن اگر یہی گلاس دو فٹ دور پڑا ہوا ہے تو پھر آپ کو گلاس اٹھانے کے لئے اپنے بازو کو حرکت دے کر دور لے جانا پڑے گا۔ لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ پودے کی جڑوں کا جال بڑا ہو تو ہمیں پانی پودے سے دور رکھنا پڑے گا۔ اور یہ کام بیڈ یا پٹڑیاں بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سوائے گاجر مولی وغیرہ کے اکثر پودوں کی جڑیں چار چار پانچ پانچ فٹ گہرائی تک چلی جاتی ہیں اور اگر حالات سازگار ہوں تو اسی طرح اطراف میں بھی پھیلتی ہیں۔

یہاں پر میں آپ سے ایک دلچسپ سوال پوچھتا ہوں۔

فرض کریں کہ آپ نے 42 انچ کے بیڈ پر گندم کی 5 لائنیں لگائی ہوئی ہیں۔ باہر والی دو دو لائنیں پانی کے ذیادہ قریب ہیں اور درمیان والی ایک لائن پانی سے دور ہے۔ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سی لائنیں زیادہ صحت مند ہوں گی؟ درمیان والی ایک لائن یا باہر والی دو دو لائنیں؟

یہ سوال جس سی بھی پوچھا جاتا ہے وہ اس کا یہی جواب دیتا ہے کہ باہر والی دو دو لائنیں چونکہ پانی کے ذیادہ قریب ہیں اس لئے وہ زیادہ صحت مند ہوں گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔

سالہا سال کے مشاہدے سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ درمیان والی وہ لائن جو پانی سے زیادہ دور ہے وہ زیادہ صحت مند اور خوش باش ہوتی ہے بہ نسبت ان لائنوں کے جو پانی کے بالکل قریب ہوتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر والی لائن کے پودوں کو پانی کی تلاش کرنے کے لئے کہیں جانا ہی نہیں پڑا انہیں وہیں پر پانی مل جاتا ہے۔ جبکہ درمیان والی لائن کو پانی کی تلاش میں 21 انچ دور جانا پڑے گا جس سے پودے کی جڑوں کا جال زیادہ پھیل پھیل جائے گا اور جڑوں کے پھیلاؤ اور مضبوطی کی وجہ سے پودے کو خوراک زیادہ ملے گی اور پودا زیادہ صحت مند ہو گا۔ درمیان والی لائن کا سٹہ بھی پہلے نکلے گا ، اس کا سٹہ لمبا بھی ہو گا اور پودا بھی خوش حال ہو گا۔

نویں حکمت

بیڈ بنا کر آب پاشی کرنے سے آپ کی زمین کلرزدہ نہیں ہوتی

ایک بات ذہن میں رہے کہ کوئی پانی ایسا نہیں ہے جس میں نمکیات نہیں ہوتے۔ بلکہ نہری پانی میں بھی نمکیات کی مقدار 500 سے 1000 پی پی ایم تک ہوتی ہے۔

ننگی زمین پر پانی کھلا چھوڑنے کی صورت میں 70 فیصد پانی کھیت سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ اسی طرح 10 فیصد پانی زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اور باقی پانی جسے زمین جذب کر لیتی ہے اس میں سے بھی پانی کا کچھ حصہ زمین کے مساموں سے بخارات بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ باقی 10 سے 20 فیصد پانی رہ جاتا ہے ہے جسے پودا اور زمین میں موجود دوسرے جراثیم استعمال کر تے ہیں۔

پانی کا وہ حصہ جو زمین کے مساموں سے یا کھیت کی سطح سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے وہ زمین میں کلر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

دراصل جب پانی ہوا میں اڑتا ہے تو وہ خالص شکل میں اڑتا ہے۔ اور جب پانی اڑتا ہے تو وہ اپنے پیچھے زمین میں نمکیات چھوڑ جاتا ہے جس سے زمین میں نمکیات کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ جب ہماری زمین کلراٹھی ہو جاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین کی پی ایچ بڑھ جاتی ہے۔

بیڈ بنا کر پانی لگانے سے چونکہ بہت کم پانی ہوا میں اڑتا ہے اس لئے آپ کی زمین کلر جیسے مسائل سے محفوظ رہتی ہے۔

دسویں حکمت


بیڈ کاشت میں بارش کی صورت میں اضافی پانی کھیت سے نکل جاتا ہے

یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیادہ بارش ہو جائے اور پانی کھیت میں 48 گھنٹوں سے زائد وقت کے لئے کھڑا رہے تو پودے دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ نے بیڈ بنا کر فصل کاشت کر رکھی ہے تو اضافی پانی ان کھیلیوں کے ذریعے کھیت سے باہر نکل جاتا ہے جس سے آپ کی فصل محفوظ رہتی ہے۔

آخری بات


ایک سوال جو آپ کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اگر چوڑے چوڑے بیڈ بنا کر ان پر فصل کاشت کریں تو کیا پانی بیڈ کے درمیان تک پہنچ پائے گا؟

تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ساڑھے تین فٹ کا بیڈ بنا کر اگر فصل کاشت کریں تو پانی باآسانی بیڈ کے درمیان تک چلا جاتا ہے، بشرطیکہ آپ کی زمین کی پی ایچ ساڑھے ساتھ کے آس پاس ہو یعنی آپ کی زمین میں نمکیات زیادہ نہ ہوں۔


ساڑھے تین فٹ کے بیڈ میں پانی باآسانی جذب ہو جاتا ہے

ہاں اگر آپ کی زمین کی پی ایچ ساڑھے سات سے زیادہ ہے تو پھر اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ زمین کو پانی لگائیں اور جب زمین وتر آ جائے تو ہل چلا کر بیڈ بنائیں اور وتر میں ہی فصل کاشت کر دیں۔ جب پودے کا اگاؤ ہو جائے گا اور وہ اپنی جڑیں بنا لے گا تو پھر پودا خود ہی جڑوں کے ذریعے پانی حاصل کر لے گا۔ واضح رہے کہ پودے کی جڑیں خود ہی اس طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہیں جس طرف پانی ہوتا ہے۔ اور پھر جب دو تین ہفتوں میں جڑیں لمبی ہو جاتی ہیں تو جڑوں کی وجہ سے زمین کھل جاتی ہے اور پانی جذب ہو کر بیڈ کے درمیان تک پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

یہ مضمون لکھنے کے لئے محترم آصف شریف کے افکارو تجربات سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔

آج ہم آپ کو ایسے گاؤں لے کر چلتے ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ یقینا ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم ان بے بس اور بے سہارا لوگوں سے سبق سیکھیں کہ کس طرح انہوں نے چند دہایوں میں اپنی زندگی بدل کر رکھ دی۔ 
بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع احمد نگر کے دوردراز گاؤں کے لوگوں نے شدید خشک سالی اور بارش کی کمی کے باوجود آبی ذخائر تعمیر کرکے اس علاقے کی قسمت بدل کر اسے ملک کا امیرترین گاؤں بنادیا ہے۔احمد نگر میں واقعے ”حیوڑے بازار“ نامی گاؤں 1200 افراد پر مشتمل ہے جہاں کے لوگوں کی فی کس آمدنی 450 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 46 ہزار روپے کے برابر ہے اور یہ بھارت میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی حاصل کرنے والا گاؤں ہے۔ اسی گاؤں میں 235 خاندانوں میں سے 60 لکھ پتی ہیں کیونکہ وہ گندم، جو، پیاز، آلو اور دیگر اہم فصلیں اگاتے ہیں۔

جب کہ کچھ سال قبل یہاں کی زمین بنجر تھی اور یہ علاقہ شدید خشک سالی کا شکار تھا۔1990 کی دہائی میں یہ گاؤں انتہائی غربت کا شکار تھا جہاں معمولی معمولی باتوں پر طویل فسادات ہوتے تھے۔ اس کے بعد علاقے کے واحد گریجویٹ پوپٹ راؤ پنہور نامی شخص نے سردار بننے کے بعد سب سے پہلے یہاں موجود درجنوں شراب خانے بند کرائے اور گاؤں کے غریب لوگوں کو قرض دینا شروع کیا۔، پھر اس گاؤں کے سب سے بڑے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ گاؤں میں سالانہ 15 انچ سے بھی کم بارش پڑتی ہے اس کے لیے دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مٹی کے 52 بند، پتھر سے بنے 32 بند اور دو بڑے ٹینک تعمیر کیے جس سے پانی کی فراوانی ہوگئی اس کے بعد زراعت 50 سے 170 ایکڑ زمین پر کھیتی باڑی شروع ہوگئی اور تین تین خاندانوں کا ایک گروپ بنایا گیا جو مل کرزراعت کرتے تھے اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے کھیتوں کا رقبہ بڑھتا گیا جہاں کئی طرح کی اجناس اگائی جاتی ہیں۔ اب اس گاؤں میں صحت و صفائی کی بہت عمدہ سہولیات موجود ہیں اور یہ بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

یہ چند تصویری جھلکیاں اس گاؤں ہیوڑے نگر کی ۔




غذائی اجزاء کی مینیجمنٹ
بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم
موضوع:فاسفورس

السلامُ علیکم!

آج ہم فاسفورس کے موضوع میں Mineralization/Immobilization پر بات کریں گے. ہماری مجبوری ہے کہ ہمیں انگلش کے الفاظ لکھنے پڑتے ہیں اور پھر انکو آسان سے آسان طریقے سے سمجھنانے کی کوشش کی جاتی ہے کے جو علم کی کتابیں ہیں وہ زیادہ تر انگلش میں ہی لکھی اور پڑہائی جاتی ہیں۔ میں کم پڑھے لکھے کاشتکاروں سے مخاطب ہوں کے جب ہم فاسفور کا سوچتے ہیں تو ایک قسم ہمارے پاس قدرت کی طرف سے فری میں ملی ہے۔ گوبر کی صورت میں اور فصلوں کی باقیات کی صورت میں کے جو ہم جلا دیتے ہیں یا ڈالتے ہی نہیں۔

جیسے ہی آپ یہ چیزیں فصل میں ڈالتے ہیں تو یہ نامیاتی مادہ گوبر یا فصلوں کی باقیات زمین میں موجود نظر نا آنے والے ان گنت مزدور جو اللہ نے زمین کو زندہ رکھنے کیلے پیدا کئے ہیں یہ ان کی خوراک بنتے ہیں۔ وہ انہیں گلاتے سڑاتے ہیں اور اس عمل کے دوران فاسفورس کی ایک شکل فاسفیٹ میں تبدیل ہو کر پودوں کو جا ملتی ہے اس عمل کو منرالائزیشن Mineralization کہتے ہیں جیسے عام کسان نہیں جانتے۔ اسی طریقہ کار کو بہتر سے بہتر طریقے سے سمجھنے کیلئے اس وقت سب سے اہم ’’فرمینٹر‘‘ ہے. فرمینٹر کیا ہے اس کی تفصیل پہلے پوسٹ کر دوں پھر منرالائزیشن کی طرف بڑھتے ہیں۔

فرمینٹر کیا ہوتا ہے؟

فرمینٹر ایک حوض نما گڑا ہوتا ہے جس میں ہم گوبر یا سبزیوں کی باقیات ڈال کر اس کی ڈی کمپوزنگکرواتے ہیں۔
نوٹ
1۔اگر آپنے فرمینٹر بنانا ہے تو جتنی گوبر یا بائیو ماس آپ کے پاس موجود ہے اس کے حساب سے لمبائی چوڑائی رکھیں۔
2۔ہو سکے تو گول بنائیں کیونکہ پانی سرکل کرتا رہتا ہے اور ڈی کمپوزنگاچھی ہوتی رہتی ہے۔
3۔اس جگہ بنائیں جہاں سے زیادہ سے زیادہ آپ کا رقبہ اس پانی سے سیراب ہو سکے۔
4۔زمین سے اوپر ہو تو اور بھی بہتر ہے صافائی کرنے میں آسانی ہوتی ہے مگر زمین میں ہے تو بھی ٹھیک ہے۔
5۔گوبر ڈال کر پانی اور گوبر اور ساتھ بکٹیریا کم از کم ایک یفتہ تک اس فرمینٹر کو ویسے ہی رہنے دیں پانی کم ہو تو اور ڈال دیں مگر فلڈ ایک ہفتہ بعد کریں تو اچھا ہے۔
6۔ٹیوب ویل کے پانی کا 30%سے زیادہ فرمینٹر سے نا گزاریں تھوڑا تھوڑا کر کے ایک سائیڈ سے ڈالیں اور اتنا ہی دوسری سائیڈ سے نکلتا رہے۔
7۔گوبر دو تین پانی لگانے کے بعد جتنی نکل جائے نکل جائے جو رہ جائے چوتھے سے پانچویں پابی پر اس کو کسی طرح نکال دیں ہلا ہلا کر یا ٹیوب ویل کا زیادہ پانی گزار کر اور پھر گوبر ڈال دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس میں ہوتا کیا ہے صرف منرالائزیشن اور کچھ نہیں جب کچھ دن تک گوبر وغیری اس حوض میں پانی کے ساتھ رہتی ہے تو گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ جب یہ عمل تیز ہوتا ہے تو اس میں سے خوراک کے اجزاء جن میں

۱۔نائٹروجن
۲۔فاسفورس
۳۔پوٹاشیم
۴۔کیلشیم
۵۔میگنیشیم
۶۔سلفر
۷۔بوران
۸۔کاپر
۹۔زنک
۱۰۔مینگنیز
۱۱۔مولیبڈینیم
۱۲۔کلورائین
۱۳۔آئرن
۱۴۔نکل

یہ چودہ کے چودہ غذائی اجزاء زمین میں فرمینٹر کے زریعے پودے تک پہنچتے ہیں جس میں فاسفورس بھی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت سے ایسے اجزاء جن کی شاید ابھی تحقیق ہی نہیں ہو سکی۔ سب سے اچھا اور بہترین طریقہ یہی ہے جس کو اپنانے سے فاسفورس کی مقدار بھی پوری ہو گی اور عام کسان کی زندگی میں بھی سکون اور بہتری آئے گی۔ اگلی پوسٹ میں Immobilization پر بحث کریں گے اور آگے بڑھیں گے یہ پوسٹ کافی لمبی ہو گئی ہے

’’آگے بڑھو کسان‘‘

منجانب:کسان گھر




پاکستان کی تمام دریاؤں کے کناروں کیساتھ 5 کلومیٹر اور نہروں و دیگر آبی گزر گاہوں کے کناروں کےساتھ 2 سے 3 کلومیٹر تک علاقائی و موسمی مناسبت سے مسلسل باغات لگائے جائیں۔ اپنی خوارک میں کڑاھی گوشت اور برگر شوارموں کی بجائے فروٹس کا استعمال بڑھائیں۔۔۔۔
منجانب
#پروجیکٹ-فروٹ-اوسسز
خالد تارڑ

اصل میں بنیادی چیز یہ فرمینٹر ہے کیا چیز تو آج کو اس فرمینٹر کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے کہ یہ کیا چیز ہے کیسے تیارکی جاتی ہے اس کے کیا کیا فوائد ہیں۔ اور کس طرح آپ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سستے اور بے پناہ آسان فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ تو اس کا طریقہ کار نیچے ذیل میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ 

فرمینٹر اور اس کے فوائد:

ايک ايکڑ کے لئے فارمولا

 ایک ڈرم میں 50 کلو تازہ گوبر
 2 کلو بیسن
 2  کلو پرانا گڑ
 5 کلو راکھ

 2 کلو بڑی عمر کے درخت کی مٹی اگر برگد یا پیپل ھو تو بہتر ھے ان چیزون ڈرم مین ڈال کر مکس کريں۔ اسکے بعد اس میں جانور کا پیشاب 5 کلو ڈال ڈھانپ دیں اس کو ہر روز دن میں ایک دفعہ مکس کریں۔ 

لگاتار پندرہ دن مکس کرتے رہیں  اس کے بعد اس میں سے کھٹی کھٹی سی بو آنی شروع ہوجائےگی اب یہ ایک ایکڑکی کھاد تیار ھے اس کو نکے پر رکھ کر فلڈ کریں  اس کے اخیر میں کچھ آمیزہ لازمی رکھیں تاکہ دوبارہ یہ جلد بنے گا اس طرح ہر 15دن کے بعد یہ اس ایکڑ میں فلڈ کرتے رہیں اور کھاد کی مقدار کم کرتے جائیں ذیڑہ سال کے بعد زمین کیڑے یعنی گڈوے بننا شروع ہو جائیں گے اس کے بعد کیمکل کھاد مکمل بند کردیں اب آپ زمین کی ph بھی کم ھو جائے گی اورکھاد کا استعمال بھی بند کردیں آپ کی پیداوار بھی زیادہ اور آمدنی بھی ذیادہ خرچہ نہ ھو نے کے برابر کھاد کی بچت رقم کم از کم پندرہ سے بیس ھزار فی ایکڑ. 

فرمینٹ کیا ہوا نامیاتی مادہ کھلے میں کمپوسٹ کئے ہوئے مادہ سے کیوں بہتر ہے؟
 فرمنٹیشن اور کمپوسٹنگ دونوں نامیاتی مادے کے گلنے سڑنے کے عمل ہیں. دونوں میں مختلف مائیکروب کے گروپ کام کرتے ہیں. فرمنٹیشن میں مائیکرو کا وہ گروہ کام کرتا ہے جو آکسیجن سے سانس نہیں لیتا. اور کمپوسٹنگ میں آکسیجن سے سانس لینے والے مائیکروب زیادہ ہوتے ہیں. دونوں عمل میں نامیاتی مادے کا گیلا ہونا اور شیرے کی کچھ مقدار جلد گلنے کے لئے ضروری ہے. گوبر یا گلے سڑے پتّے اور پرانا گڑ اگر آپ کسی بڑے ڈرم یا ہوض میں بھگو دیں تو اس میں آکسیجن کی کمی ہونے کی وجہ سے فرمنٹیشن ہوگی. اور اگر مادے کو ہوا مہیا ہو رہی ہو گی تو کمپوسٹنگ ہو رہی ہو  گی.

کمپوسٹنگ کی بنسبت فرمنٹیشن سے مندرجہ ذیل وجوہ سے ہم بہتر مقاصد حاصل کر سکتے ہیں:-

نمبر1  فرمنٹیشن کمپوسٹ بنانے سے بہت تیز عمل ہے. اس سے وقت کی بچت ہوتی ہے.

نمبر2  پندرہ سے بیس دن کی فرمنٹیشن کے بعد مائیکروب کی تعداد بہت ہی زیادہ ہو چکی ہوتی ہے. اس کا پانی جب کھیت میں پھیلے گا تو ہر جگہ پودے کو قائم ہونے اور جڑیں لمبی کرنے میں اچھی تعداد میں مائیکروب مدد کریں گے. گوبر کے مائکروب مدافعاتی کام بھی کریں گے.

fermenter design in urdu and how it works

  3 آکسیجن کے بغیر سانس لینے ہ سے فرمنٹیشن والے مائیکرو 'ایسٹک ‏ایسڈ' چھوڑتے ہیں (جیسے اچار  میں ہوتا ہے). یہ قدرتی طریقہ ہے زمین کی پی ایچ کو کم کرنے کا. جب پاکستانی زمینون کا پی ایچ  کم ہی کرنا ہوتا ہے اور کسان کیمیکل  والا تیزاب زمین کی تصحیح کے لیے ڈال رہے ہوتے ہیں تو اب زمین کو تصحیح کا اس سے بہتر قدرتی طریقہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ اگر زمین کلراٹھی ہے تو گوبر کی ٹرالیاں بھر بھر کر لگانے کی بجائے جو دیں فرمینٹر سے دیں.

نمبر4  فرمینٹر کا طریقہ لیبر بچاتا ھے. ایک دفعہ بنانے کا خرچہ تو ہے. مگر آپ جلد لیبر کے خرچے سے کور کر لیں گے. ٹرالیاں کھیت میں لے جانے اور بچھانے سے بچ جائیں گے.

fermenter design in urdu and how it works

*فرمینٹر کیا ہوتا ہے*

فرمینٹر ایک حوض نما گڑا ہوتا ہے جس میں ہم گوبر یا سبزیوں کی باقیات ڈال کر اس کی ڈی کمپوزنگ کرواتے ہیں۔

*نوٹ*

1۔اگر آپنے فرمینٹر بنانا ہے تو جتنی گوبر یا بائیو ماس آپ کے پاس موجود ہے اس کے حساب سے لمبائی چوڑائی رکھیں۔
2۔ہو سکے تو گول بنائیں کیونکہ پانی سرکل کرتا رہتا ہے اور ڈی کمپوزنگ اچھی ہوتی رہتی ہے۔
3۔اس جگہ بنائیں جہاں سے زیادہ سے زیادہ آپ کا رقبہ اس پانی سے سیراب ہو سکے۔
4۔زمین سے اوپر ہو تو اور بھی بہتر ہے صافائی کرنے میں آسانی ہوتی ہے مگر زمین میں ہے تو بھی ٹھیک ہے۔
5۔گوبر ڈال کر پانی اور گوبر اور ساتھ بکٹیریا کم از کم ایک یفتہ تک اس فرمینٹر کو ویسے ہی رہنے دیں پانی کم ہو تو اور ڈال دیں مگر فلڈ ایک ہفتہ بعد کریں تو اچھا ہے۔
6۔ٹیوب ویل کے پانی کا 30%سے زیادہ فرمینٹر سے نا گزاریں تھوڑا تھوڑا کر کے ایک سائیڈ سے ڈالیں اور اتنا ہی دوسری سائیڈ سے نکلتا رہے۔
7۔گوبر دو تین پانی لگانے کے بعد جتنی نکل جائے نکل جائے جو رہ جائے چوتھے سے پانچویں پابی پر اس کو کسی طرح نکال دیں ہلا ہلا کر یا ٹیوب ویل کا زیادہ پانی گزار کر اور پھر گوبر ڈال دیں ۔
8۔سب سے طاقت ور گوبر بھیڑ بکریوں کی مانی جاتی ہے بعد میں دوسری
9۔ہو سکے تو فرمینٹر کے اوپر سایا کر دیں تاکے *ڈی کمپوزنگ*زیادہ اچھی ہو سکے

پاکستان میں زمیں اور پانی کی ٹیسٹنگ کی لیبارٹریز کہاں کہاں پر موجود ہیں؟

ذیل میں پاکستان میں زمین اور پانی کو ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کے بارے میں معلومات دی گئی ہے ۔ جس سے آپ اپنی زمین اور پانی میں موجود نمکیات اور دیگر فائدہ مند اور نقصان دہ اجزاء کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔




آج میں تمباکو سے کیڑوں کو بھگانے کے لیے سپرے بنانے کا طریقہ بتانے جا رہا ہوں ۔ یہ سپرے ہر قسم کے کیڑوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ چاہے وہ کیڑے پودوں کے لیے فائدہ مند ہوں یا نقصاندہ۔ یہ سپرے اتنا زبردست ہو گا کہ کیڑوں کو پودوں کے پاس پھٹکنے ہی نہیں دے گا۔ ان شاء اللہ
سب سے پہلے آدھا کلو تمباکو لے لیں ۔ تمباکو آپ کو بازار سے آسانی سے مل جائے گا۔ پھر ایک پرانا برتن جس کو آپ استعمال نہ کرتے ہوں یا پھر کوئی ٹین کا ڈبہ لے لیں ۔ پھر اس کو چولہے پر رکھ کر بیچ میں پانچ لیٹر پانی ڈال دیں۔ پھر اس میں تمباکو ڈال کر آگ جلا لیں ۔ اب اس تمباکو والے پانی کو ابلنے دیں ۔ جب پانی ابل کر ایک لیٹر رہ جائے تو آگ بجھا دیں اور پانی کو چھان کر ایک بوتل میں ڈال دیں۔ لیجیے آپ کا سپرے تیار ہے۔
سپرے استعمال کرنے کا طریقہ:
اس سپرے کو استعمال کرنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ اگر اس طریقے کے برعکس سپرے استعمال کیا جائے تو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ سپرے پودوں پر شام کے وقت کرنا ہے۔ اور سپرے کرتے ساتھ ہی پودوں کو پانی دے دینا ہے۔
چند اختیاطی تدابیر:
ہو سکتا ہے اس سپرے کی خوشبو آپ کو اچھی لگے لیکن آپ اس کو غلطی سے بھی چکھنے یا پینے کی کوشش نہ کرنا کیوں کہ اس میں بہت ذیادہ مقدار میں کوکین شامل ہو گا جو انتہائی خطرناک چیز ہے صحت کے حوالے سے۔ اور یہ ہے بھی حرام۔
اس لیے اس کو بنانے کے لیے بھی کوئی پرانا برتن یا ٹین کا ڈبہ استعمال کریں۔

امید ہے آپ کو یہ پوسٹ پسند آئی ہو گی۔ اب میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔ اور پھر کسی اور موضوع کے ساتھ خاظر ہوں گا۔ آپ کی آراء اور تجاویز کا بھی انتظار رہے گا۔ اللہ خافظ

زمین کی تیاری

 سبزیوں کی کاشت کے لئے زمین کا بالائی حصہ(9 تا 12 انچ) انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ اسی حصہ سے پودے نے خوراک اور پانی حاصل کرنا ہے۔ اس لئے اس کی اچھی تیاری اور زرخیزی انتہائی ضروری ہے۔ سبزی کی کاشت کے لئے عام نرم میرا زمین انتہائی موزوں خیال کی جاتی ہے۔ اگر آپ کے رقبے میں چکنی مٹی والی یا ریتلی زمین ہو تو بھی رقبے کو درج ذیل طریقے سے قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔

٭ سخت زمین یا چکنی مٹی والی زمین بھل یا ریت اور گوبر کھاد وافر مقدار میں ملا کر قابل کاشت بنائی جا سکتی ہے۔

٭ریتلی مٹی والی زمین کو عام مٹی اور گوبر کی کھاد وافر مقدار میں ملا کر قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔

زمین کی اچھی تیاری کے لئے ایک فٹ گہرائی تک زمین کی بار بار کھودائی کیجیے۔ زمین میں شامل کنکر، پتھر، پلاسٹک وغیرہ باہر نکال دیں۔ مٹی کے ڈھیلوں کو توڑ کر نرم اور ہموار کر لیں۔ مکمل تیاری پر مٹی کا بھر بھرا اور نرم ہونا ضروری ہے۔ تا کہ پودوں کی جڑیں اچھی طرح پھیل سکیں اور پودے زمین سے وافر خوراک و پانی وغیرہ حاصل کر سکیں۔

کھادوں کا استعمال

پودوںکی بڑھوتری کے لئے نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ نائٹروجن پتوں اور پودے کے قد اور پھیلاﺅ کے لئے انتہائی ضروری عنصر ہے۔ فاسفورس پودوں کی جڑوں کی مضبوطی اور پھیلاﺅ کے لئے انتہائی اہم عنصر ہے ۔

فاسفورس پودوں کی جڑوں کو مضبوط بناتی ہے جبکہ پوٹاش پودوںمیں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح سے پوٹاشیم کی موجودگی سے پودہ نائٹروجن اور فاسفورس کا صحیح فائدہ لے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پھل اور بیج کی صحت مند بڑھوتری اور کوالٹی کے لئے پوٹاشیم انتہائی اہم ہے۔ ان تین عناصر ( نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم) کے علاوہ بعض دیگر عناصر مثلاً کیلشیم، آئرن،زنک، بوران، وغیرہ بھی انتہائی قلیل مقدار میں پودوں کی ضرورت ہوتے ہیں۔

اگرچہ یہ تمام عناصر مختلف کیمیائی کھادوں کی صورت میں بازار میں دستیاب ہیں۔ تا ہم گھریلو باغیچے کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اتنی کھادیں اکٹھی کی جائیں جبکہ قدرت نے یہ تمام عناصر گوبر کی کھاد میں یکجا کئے ہیں۔ قدرتی کھادیں جن میں گوبر اور پتوں کی کھادیں شامل ہیں نہ صرف پودوں کو ضروری غذائی اجزاءفراہم کرتی ہیں بلکہ زمین کی ساخت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔

گوبرکی کھاد

اس میں جانوروںاور مرغیوں کا فضلہ شامل ہیں۔ گوبر کی کھاد زمین کی تیاری کے وقت ڈالیں۔ خیال رہے کہ گوبر کی اچھی طرح سے گلی سڑی اور پرانی کھاد استعمال کیجئے۔ تازہ گوبر کی کھاد زمین میں ڈالنے سے دیمک لگ جانے کا اندیشہ ہے۔ نیز تازہ کھاد سے پودوں کو خوراک حاصل نہیں ہوتی۔ گوبر کی کھاد کو گڑھوں میں دو تا تین ماہ بند رکھیں یا زمین کے اوپر ہی مٹی کی موٹی تہہ سے ڈھانپ دیں تو کھاد تیار ہو جاتی ہے۔

پتوں کی کھاد

تین تا چار فٹ گہرا گڑھا کھودلیں اس گڑھے میں پتوں، سبزیوں، پھلوں اور انڈوں کے چھلکے نیزگلنے سڑنے والی دیگر اشیاءکی ہلکی تہہ لگا دیں۔اس تہہ کے اوپر گوبرکی کھاد کی تہہ لگائیں۔ اس طرح سے کئی تہیں لگا کر گڑھا بھر لیں آخر میں گڑھے کو مٹی کی موٹی تہہ سے بند کر دیں تقریباً دو تا تین ماہ میں یہ کھاد استعمال کے لئے تیار ہو جائے گی۔ گوبر اور پتوں کی کھاد 4 تا 5 من فی مرلہ استعمال کیجئے۔

کیمیائی کھادیں

کیمیائی کھادیں بازار میں دستیاب ہیں۔ مختلف اجزاء(عناصر) کے لئے گھریلو باغیچہ کیلئے گوبر کھاد یا پتوں کی کھاد ہی ترجیحاً استعمال کی جائے ۔کیمیائی کھادوں کے استعمال سے اجتناب کیجئے۔ اگر آپ کے باغیچہ کی زمین کم طاقت کی بھی ہے۔ تو نامیاتی کھادیں وافر مقدار میں استعمال کرنے سے زمین طاقت ور ہو جائے گی۔

زمین میں کھادیں ڈال کر اچھی طرح سے گوڈی کر کے کھادیں زمین میں ملا دیں۔ اب سبزی لگانے کے لئے زمین کو ہموار کر لیں اور سبزیوں کی قسم کے مطابق وٹیں پٹڑیاں یا ہموار جگہ میں سبزی کاشت کریں۔

وٹیں بنانے کا طریقہ

بھنڈی، مرچ، ٹماٹر، شملہ مرچ، بینگن، پھول گوبھی، بند گوبھی، مولی، شلجم، گاجر اور سلاد وٹوں پر کاشت کرنے سے اچھی پیداوار دیتی ہے۔ نرم اور ہموار زمین میں کسی ڈوری یا رسی کی مدد سے سیدھے نشان لگا لیں (قطاروں کے فاصلے کے لئے کیلنڈر دیکھیں ) اب نشان کے دونوں اطراف سے مٹی اُٹھا کر نشان کے اوپر ڈالتے جائیں۔ اس عمل سے جو اُبھار ہو گا یہی وٹیں کہلاتی ہیں۔ وٹوں کے درمیان پانی لگانے کے لئے نالی بن جائے گی۔

پٹڑیاں بنانے کا طریقہ

تمام بیلدار سبزیاں مثلاً کدو، کھیرا، تربوز، خربوزہ، تر اور مٹر پٹڑیوں پر کاشت ہوں گی۔ اگر ان سبزیوں کو باڑ کے نزدیک کاشت کیا جائے اور سہارا دے دیا جائے تو پٹڑیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پٹڑ یوں کے لئے بھی نشان لگا کر مٹی اٹھائیں تا کہ سیدھی پٹڑیاں بن سکیں۔پٹڑیاں وٹوں کی نسبت زیادہ چوڑی ہوتی ہیں۔

ہموار جگہ پر کاشت

پالک ، میتھی، دھنیا، لہسن، پیاز اور پودینہ ہموار جگہوں پر قطاروں میں کاشت کیجئے۔ قطاروں میں کاشت کرنے سے جڑی بوٹیوں کا تدارک نیز گوڈی و آب پاشی میں آسانی کے علاوہ پودوں کو یکساں مقدار میں دھوپ، خوراک اور پانی بھی حاصل ہوتے ہیں۔

طریقہ کاشت

سبزیا ں عموماً تین طریقوں سے کاشت کی جاتی ہیں۔

1 ۔ براہ راست بیجوں سے

2 ۔ نباتاتی حصوں سے

3 ۔ پنیری سے

1 ۔ براہ راست بیجوں سے

زمین اچھی طرح سے تیار کرنے کے بعد ضرورت کے مطابق زمین میں وٹیں ، پٹڑیاں یا ہموار جگہ پر قطاروں کے نشان لگالیں۔ کیلنڈر میں دئیے گئے فاصلے کے مطابق بذریعہ بیج کاشت ہونے والی سبزیاںمثلاً بھنڈی،کھیرا، کریلا، توری، ٹینڈا، کدو، تربوز، خربوزہ،اور تر موسم گرما جبکہ مولی شلجم، گاجر، میتھی، پالک وغیرہ موسم سرما میں بیج سے کاشت کیجئے۔ ایک جگہ اچھی روئیدگی والا ایک بیج جبکہ کم قوت روئیدگی والے دو بیج کاشت کیجئے۔ بیجوں کو ان کی جسامت کے تین گنا گہرائی میں لگائیں۔ بعد ازاں فوارہ کے ذریعے آب پاشی کیجئے۔ بیج اگنے کے چند دن بعد ایک جگہ پر ایک پودا چھوڑتے ہوئے باقی پودوں کی چھدرائی کر دیں تا کہ پودا صحت مندانہ نشوونما پا سکے۔

2۔نباتاتی حصوں سے کاشت

چند سبزیاں تنوں یا جڑوں کے حصے سے کاشت کی جاتی ہیں۔ ان سبزیوں میں آلو، اروی، لہسن اور شکر قندی شامل ہیں۔

آلو

بہاریہ فصل کے لئے آلو کو اس طرح کاٹیں کہ ہر ٹکڑے پر دو یا تین آنکھیں ہوں۔ ان ٹکڑوں کو بطور بیج جنوری میں زمین میں لگائیں۔ انہیں وٹوں پر کاشت کریں۔ وٹوں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ جبکہ پودے سے پودے کا فاصلہ 8سے10 انچ رکھیں۔ خزاں والی فصل میں درمیانی جسامت کا مکمل آلو بطور بیج وٹوں پر کاشت کیجئے۔ خزاں والی فصل شروع ستمبر میں کاشت ہو گی۔ جبکہ پہاڑی علاقوں مثلاً مری، کالام، کاغان، گلگت، سکردو میں گرمائی فصل اپریل تا جون لگائیں۔ جو کہ اگست، ستمبراور اکتوبر میں برداشت ہو گی۔

اروی

اروی کی درمیانہ جسامت کی گٹھلیوں کو بطور بیج استعمال کیجئے۔ وٹوں کا درمیانی فاصلہ دو فٹ جبکہ پودوں کا آپس میں فاصلہ 8انچ رکھیں فصل فروری، مارچ میں کاشت کیجئے۔

شکر قندی

شکر قندی کا (کھانے والا حصہ) فروری میں ریت میں دبا دیں۔ ریت کو اس قدر پانی دیتے رہیں کہ ریت نم حالت میں رہے۔ شکر قندی سے بیلیں نکلنا شروع ہو جائیں گی۔ مارچ میں ان بیلوں کو کاٹ کر 4 تا 6 انچ کی قلمیں تیار کر لیں۔

ان قلموں کو وٹوں پر کاشت کیجئے اور پانی لگا دیں۔ ابتداءمیں چونکہ ان کی جڑیں نہیں ہوں گی اس لیے مرجھائے ہوئے نظر آئیں گے تاہم چند دنوں میں پودے جڑیں بنا لیں گے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ شکر قندی والے کھیت میں گوبر کی کھاد کا استعمال نہ کیجئے۔

لہسن

 لہسن کی پوتھیاں بطور بیج استعمال ہوں گی۔ پوتھیوں کو الگ الگ کر لیں۔ ہموار زمین میں قطاروں سے قطاروںکا فاصلہ8انچ جبکہ پودے سے پودے کا فاصلہ2 تا4انچ رکھتے ہوئے لہسن اکتوبر میں کاشت کیجئے۔ لہسن میں جتنی گوڈی کریں گے اتنی پیداوار زیادہ ہو گی۔

پودینہ

پودینہ کی جڑیں ہموار سطح پر قطاروں میں کاشت کیجئے۔ پودینے کے اچھے پھیلاﺅ کے لئے زمین کا نرم ہونا اور اچھی مقدار میں گوبر کی گلی سڑی کھاد کا ہونا ضروری ہے۔

3۔پنیری والی سبزیوں کی کاشت

(الف)
ریت، گلی سڑی گوبر کی کھاد اور عام مٹی چھان کر برابر مقدار میں ملا کر آمیزہ تیار کرلیں۔ اس آمیزے کو گملوں،کریٹ یا پلاسٹک کی ٹرے میں بھر لیں۔ اس کے اندر ہی مرچ و شملہ مرچ، ٹماٹر، بینگن سلاد، پیاز، پھول گوبھی، بند گوبھی، بروکلی وغیرہ کے بیج لگا کر فوارے سے آبپاشی کیجئے۔ چند ہفتوں میں پودے نکل آئیں گے۔ مناسب جسامت کے پودے صبح یا شام کے وقت باغیچہ میںمنتقل کیجئے۔

(ب)
مرچ، ٹماٹر، شملہ مرچ اور بینگن کی اگیتی پنیری تیار کرنے کے لیے دسمبر میں گملوں یا کیاریوں میں بیج لگا لیں۔ ان کیاریوںکے اوپر شیشم یا دیگر درختوں کی ٹہنیوں سے ٹنل بنا لیں۔ ٹنل کو شفاف پلاسٹک سے ڈھانپ دیں تا کہ روشنی پودوں تک پہنچ سکے۔ دوپہر کے وقت پلاسٹک ہٹاکر پانی وغیرہ دیں اور کیاریوں کو ہوا لگنے دیں اسی دوران جڑی بوٹیوں کی صفائی کر دیں۔

(ج)
بیلوں والی سبزیوں کی اگیتی فصل کے لیے پنیری ایسے علاقے جہاں سردی زیادہ عرصہ تک رہتی ہے۔ گرمیوں کی سبزیوں مثلاً کھیرا، کدو وغیرہ کی کاشت میں کافی تاخیر ہو تی ہے۔ جس کے تدارک کے لیے طریقہ(ب) میں تیار کردہ ٹنل کے اندر پلاسٹک کی چھوٹی تھیلیاں(ڈیڑھ × ڈھائی انچ) پنیری کی تیاری کے لیے موزوں ہیں۔

تھیلیوں کے پیندے میں فالتو پانی کے اخراج کے لیے چھوٹے چھوٹے سوراخ کر لیں۔ اب تھیلیوں کو مٹی اور گوبر کی کھاد کے ہم وزن آمیزے سے بھر کر ہر تھیلی میں ایک بیج لگا کر ٹنل کے اندر رکھ کر ان کی آب پاشی کر دیں۔

اس طریقے میں کریلے دسمبر میں جب کہ گھیا کدو، تربوز، خربوزہ، کھیرا، ٹینڈا، چینی کدو، گھیا کدو، کالی توری آخر جنوری میں لگائیں۔ مارچ میں جب کورا پڑنا بند ہو جائے اور شدید سردی ختم ہو تو باغیچہ میں پنیری منتقل کرکے پانی لگا دیں۔ پنیری کی منتقلی کے وقت تھیلیوں کو پانی دے کر الٹانے سے پودے مٹی(گاچی) سمیت منتقل ہو سکتے ہیں اس طریقے سے پودوں کے مرنے کا خدشہ نہیں رہتا۔ تھیلیاں سنبھال کر رکھنے سے بار بار استعمال کی جاسکتی ہیں اس سے اگیتی پیداوار حاصل ہوگی۔ نیز اس طریقہ سے پیداوار میں عام فصل کی نسبت دُگنا اضافہ ممکن ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget