کالم لسٹ "پقنک"

آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے کروا رہے جو دنیا میں قدرتی کاشتکاری کے ایک ابھرتے ہوئے مبلغ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے قدرتی نظام کاشتکاری کے 4 بنیادی اصول دریافت کئے اور پھر ان اصولوں کی بنیاد پر کاشتکاری کا ایک جامع نظام وضع کیا۔ آصف شریف کے قدرتی کاشتکاری نظام میں نہ تو کیمیائی کھاد استعمال کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی زہرسپرے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آصف شریف زمین میں ہل چلانے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس ںظام کاشتکاری میں آپ کی پیداوار کم ہوجاتی ہے۔ بلکہ بعض صورتوں میں پیداوار پہلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک آصف شریف کے وضع کردہ نظام کاشتکاری سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آصف شریف کئی ملکوں میں ہزاروں ایکڑ پر براہ راست کاشتکاری سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی ممالک کے زرعی ماہرین کو تربتی لیکچر بھی دیتے ہیں۔

آصف شریف کون ہیں، انہوں نے قدرتی نظام کاشتکاری کے اصول کیسے دریافت کئے؟ قدرتی نظام کاشتکاری کی تفصیلات کیا ہیں؟ اور ایک عام کاشتکاراس نظام کو کیسے اپنا سکتا ہے؟ موجودہ اور آنے والے کئی مضامین میں یہ تمام تفصیلات پیش کرنی کی کوشش کی جائے گی۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون پیش خدمت ہے جس میں آصف شریف کا پس منظر اور ان کی زرعی خدمات پر بات کی گئی ہے۔

آصف شریف گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کرنے کے بعد امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے مارکیٹنگ کے مضمون میں نارتھ کیرولائنا سٹیٹ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجوایشن مکمل کی۔

تعلیم کے آخری سال، فورڈ موٹر کمپنی نے انہیں ملازمت کی پیش کش کی۔ اس وقت فورڈ موٹر کمپنی کے دو بڑے شعبے تھے۔ ایک شعبہ آٹو موٹر ڈویژن جو کہ ٹرک اور کاروں سے متعلق تھا اور دوسرا شعبہ ٹریکٹر ڈویژن کا تھا جو کہ ظاہر ہے زراعت سے متعلق تھا۔

آصف شریف چونکہ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے زراعت سے متعلق شعبے ٹریکٹر ڈویژن میں ملازمت اختیار کر لی۔

بنیادی ٹریننگ دینے کے بعد فورڈ کمپنی نے آصف شریف کو امریکہ کی نارتھ کیرولائنا ریاست کا سیلز منیجر مقرر کر دیا۔

نارتھ کیرولائنا ریاست کی آب و ہوا اور زراعت بڑی حد تک پنجاب سے مماثلت رکھتی ہے۔ آصف شریف کی ذمہ داریوں میں اہم ذمہ داری کاشتکاروں کو جدید زرعی آلات اور فصلوں کی پیداواری ٹیکنالوجی کے رموز و اوقاف سے آگاہ کرنا تھا۔

اس مقصد کے لئے وہ کاشتکاروں کی بڑی بڑی مجلسیں منعقد کرتے جہاں جدید زرعی علوم کے حوالے سے بات چیت کی جاتی۔

امریکہ میں آصف شریف یہ کام بڑی لگن اور دل جمعی سے کر رہے تھے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر انہیں وطن واپس آنا پڑ گیا۔

پاکستان میں واپس آ کر انہوں نے اپنی آبائی زمین پر کاشتکاری کا فیصلہ کیا۔

آصف شریف کی آبائی زمین ضلع پاکپتن میں، پاکپتن شہر سے 5 کلو میٹر دور بر لب سڑک واقع تھی جہاں انہوں نے سن 1972میں کاشتکاری کا آغاز کیا۔

انہوں نے امریکہ میں اپنی ملازمت کے دوران جو کچھ بھی زراعت سے متعلق علم سیکھا تھا اسے اپنے ہاں عملی طور پر اپلائی کیا۔

مثلاََ لمبے کھیت، پرسئین لیولنگ، سائفن ٹیوٹ فرو اریگیشن سسٹم، پرسیئن سیڈ پلانٹنگ، ٹریکٹر ماؤنٹڈ سپرے مشین، فولئر اپپلیکیشن گویا اس زمانے میں جتنے بھی جدید طریقہ زراعت تھے وہ سب کے سب آصف شریف نے کاشتکاری میں اپنائے۔

امریکہ کے علاوہ آصف شریف آسٹریلیا بھی گئے جہاں انہوں نے کئی ہفتے قیام کر کے کاشتکاروں اور ماہرین سے گنا و دیگر فصلیں اگانے کے طریقے سیکھے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ سورج مکھی اور ہائبرڈ بہاریہ مکئی آصف شریف نے 1975 میں کاشت کی۔ ہائبرڈ بیج انہوں نے امریکہ کی کارگل کمپنی سے درآمد کرنا شروع کئے۔
اگر یہ کہا جائے کہ کارگل کمپنی پاکستان میں آصف شریف کی وجہ سے آئی تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

ہائبرڈ بیجوں کی بدولت آصف شریف فارم پر مکئی کی پیداوار 90 من تک جا پہنچی۔ جبکہ آس پاس کے اچھے کاشتکار 25-30 من سے زیادہ پیداوار نہیں لیتے تھے۔ اسی طرح آصف شریف نے امریکہ سے ڈیلٹا پائن کپاس کے بیج منگوا کر پاکستان میں کامیابی سے اگائے جس کی وجہ سے 1976 میں ان کی پیداوار 50 من فی ایکڑ تک جا پہنچی۔ واضح رہے کہ ان دنوں کپاس کے اچھے کاشتکار 15-20 من فی ایکڑ سے زیادہ پیداوار نہیں لے پاتے تھے۔

آلو کی بات کریں تو پاکستان میں آلو کی مشینی کاشت بھی پہلی مرتبہ آصف شریف نے اپنائی۔ اس سے پہلے جندرے کے ساتھ وٹیں بنا کر آلو کاشت کئے جاتے تھے اور پیداوار بھی 30 بوری سے زیادہ نہیں آتی تھی۔ لیکن آصف شریف کے مشینی اور جدید طریقہ کاشت سے آلو کی پیداوار 135 بوری تک چلی گئی۔

کارگل کمپنی کو دیکھ کر پائنیر کمپنی نے بھی پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ ساہیوال میں سن 1992 میں پائنئر سیڈ کمپنی کا پلانٹ آصف شریف کا ہی انسٹال کیا ہوا ہے۔

پاکپتن، اوکاڑہ، ساہیوال، دیپالپور، عارف والا کے علاقوں کی زرعی ترقی کے پیچھے بھی آصف شریف کے زرعی فارم کا بڑا ہاتھ ہے۔ بر لب سڑک ہونے کی وجہ سے آصف شریف فارم، ہر آنے جانے والے کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ کاشتکار ازراہ شوق آصف شریف کے فارم پر آتے وہ تجسس بھرے سوالات پوچھتے جن کا وہ تسلی بخش جوابات دیتے۔ لہذا آصف شریف کے فارم نے ایک طرح سے نمائشی فارم کا کام کیا جسے دیکھ کر کسانوں نے اپنی کاشتکاری کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔ اس طرح دیکھا دیکھی چند سالوں میں ہی پاکپتن کے آس پاس کے علاقوں کی زراعت میں جدت آنا شروع ہو گئی۔

آلو اور مکئی کی فصلیں کاشت کرنے والے جوڑ کا آغاز بھی آصف شریف کے فارم سے ہی شروع ہوا تھا۔ جو کاشتکاروں میں اس قدر مقبول ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سارا خطہ آلو اور مکئی کا علاقہ بن گیا۔

رفحان میظ 1975 کے آس پاس بند ہونے کے قریب تھی جب انہوں نے آصف شریف کی مشاورت سے بہاریہ مکئی کا پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کی بدولت رفحان میظ کے دن بدل گئے اور وہ تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔

اسی طرح سن 1977 میں حکومت پنجاب کے محکمہ اصلاح آبپاشی کا تصور بھی آصف شریف فارم سے ہی ابھرا ۔ بلکہ اس محکمے کا نام On-Farm Water Management بھی آصف شریف کا ہی تجویز کردہ ہے۔ سن 1984 میں پہلا لیزر لینڈ لیولر بھی پاکستان میں آصف شریف ہی لے کر آئے تھے۔ بعد ازاں آصف شریف نے حکومت پنجاب کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا جس کے تحت کاشتکاروں کو سبسڈی پر لیزر لینڈ لیولر دئیے گئے جو اب پنجاب کے ہر کاشتکار کی دسترس میں ہیں۔

اصلاح آبپاشی کا محکمہ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ کاشتکاروں کو آب پاشی کے درست طریقہ جات سے آگاہ کیا جائے۔ لیکن محکمہ اصلاح آبپاشی نے کسانوں کی تعلیم و تربیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ کھال پکے کرنے کی طرف مرکوز کر دی۔ یہ محکمہ اس کام کی طرف کیوں مائل ہوا اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔

آصف شریف فارم 10 سال تک خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس وقت کی تمام بڑی بڑی سرکاری غیر سرکاری شخصیات نے ان کے فارم کا دورہ کیا۔

انہی شخصیات میں سے ایک جمیل نشتر بھی شامل تھے۔ جمیل نشتر، قائد اعظم محمد علی جناع کے قریبی ساتھی اور سابق گورنر پنجاب سردارعبدالرب نشتر کے بیٹے تھے۔ انہوں نے نیشنل بنک کے ایک سینئر عہدیدار کی حیثیت سے آصف شریف فارم کا سن 1977 میں دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران آصف شریف نے چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی قرضہ جات کی سہولت دینے کے لئے موبائل کریڈٹ آفیسر (ایم سی او) کا پروگرام پیش کیا جسے جمیل نشتر کی وساطت سے نیشنل بنک نے اپنا لیا۔

اس طرح تاریخی حوالے سے بھی یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں موبائل کریڈٹ افسروں کا پہلا پُور نیشنل بنک کے تعینات کیا۔ اور پھر ان افسروں کو بنیادی تربیت بھی آصف شریف فارم پر ہی دی گئی۔

موبائل کریڈٹ آفیسرتعینات ہونے سے ایک طرف کو زرعی گریجوایٹ کے لئے روزگار کا دروازہ کھل گیا اور دوسری طرف کاشتکاروں کو بھی قرضہ جات حاصل کرنے کی سہولت ہو گئی۔

آج کے پاکستان میں جتنے بھی ترقی پسند کاشتکار جدید سے جدید تر کاشتکاری کر رہے ہیں 1981 تک وہ ساری جدت آصف شریف کے فارم پر ظہور پذیر ہو چکی تھی۔

کاشتکاری کے انتہائی مدارج کو چھونے کے بعد جب یہ عمل یکسانیت کا شکار ہونے لگا تو آصف شریف کی دلچسپی میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ کیونکہ اس مرحلے پر وہ سمجھتے تھے کہ کاشتکاری میں وہ جو کچھ کرنا چاہتے تھے، کر چکے ہیں اور اب ان کی متجسس طبیعت کچھ نیا کرنا چاہتی تھی۔

سن 1981 میں آصف شریف نے ایک دفعہ پھر فورڈ موٹر کمپنی سے رابطہ کیا کہ انہیں کوئی نئی اسائنمنٹ دی جائے۔

جواب میں فورڈ موٹر کمپنی نے انہیں امریکہ میں ملازمت کی پیشکش کی لیکن اب وہ پاکستان میں رہ کر ہی کوئی زرعی سرگرمی اختیار کرنا چاہتے تھے۔

اسی دوران جمیل نشتر جو اس سے قبل نیشنل بنک میں سینئر افسر تھے انہیں زرعی ترقیاتی بنک کا چئرمین مقرر کر دیا گیا۔

زرعی بنک کا چئرمین بننے کے بعد جمیل نشتر نے آصف شریف کو اسلام آباد مشاورت کے لئے مدعو کیا جہاں ایگرو رینٹل سروسز کا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ اس منصوبے نے پاکستان میں جدید زرعی مشینری کی داغ بیل ڈالنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں سن 1984 میں گندم کاٹنے کے لئےپیلے رنگ کے نیو ہالینڈ کمبائنڈ ہارویسٹر پاکستان آنا شروع ہوئے جس سے گندم و دیگر فصلات کی کٹائی و گہائی میں بڑی سہولت اور تیزی پیدا ہوئی۔ یہ تمام مشینیں فورڈ کمپنی نے پاکستان کو فروخت کیں۔
اسی منصوبے کے تحت سن 1985 میں شوگر کین ہارویسٹر (گنا کاٹنے والی مشین) اور کاٹن پکر (کپاس چننے والی مشین) بھی درآمد کئے گئے ۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں کاشتکاروں کو فصلیں کاشت کرنے کے لئے پلانٹر دئیے جانے تھے لیکن 1985 میں جمیل نشتر کا بے وقت انتقال ہو گیا جس کے بعد یہ منصوبہ بینک کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا۔ جمیل نشتر صاحب کی زرعی میدان میں قابل قدر خدمات ہیں جن پر پھر کبھی بات ہو

یہ بات بھی آپ کو بتانا ضروری ہے کہ آصف شریف زرعی مشینیں ڈیزائن کرنے کے بھی ماہر ہیں۔ مشینیں بنانا یا بیچنا ان کا کاروبار نہیں ہے یہ محض ان کا شوق ہے۔ انہوں نے پاکستان میں درجن بھر سے زائد مشینیں ایجاد کر کے متعارف کروائی ہیں۔


آصف شریف کی بنائی ہوئی بعض مشینیں تو ایسی ہیں جو دنیا میں پہلی مرتبہ ڈیزائن یوئی ہیں۔ ان مشینوں کے ڈیزائن پر کسی بھی طرح کے کوئی کاپی رائٹ نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہ ڈیزائن بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں چند ایک کاریگر ہیں جو آصف شریف سے یہ ڈیزائن حاصل کر کے مشینیں بنا رہے ہیں۔

اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں اجناس کو سٹور کرنے کے لئے بلک سائیلوز اور بٹلر وائڈ سپین بلڈنگ ٹیکنالوجی بھی آصف شریف نے ہی سن 1988 میں متعارف کروائی تھی۔


سن 1993 میں ملک میں بے نظیر بھٹو کی حکومت آ گئی۔ بے نظیر بھٹو نے زرعی ترقی کے لئے ایک سپیشل کمیٹی بنائی جس کے کنوینئر یا چئرمین کی ذمہ داری آصف شریف کے حوالے کی گئی۔

اس کمیٹی نے پاکستان میں زرعی ترقی کے لئے کئی ایک اقدامات کئے۔ ان اقدامات کا تذکرہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم،فاروق احمد خان لغاری مرحوم، نواب یوسف تالپور کا ذکر کیا جائے جنہوں نے اس کمیٹی کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انتھک محنت کی۔

اس کمیٹی نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ زرعی زہروں کو ان کے اصلی ناموں سے بیچنے کی اجازت دے دی۔واضح رہے کہ اس سے قبل یہ کام غیر قانونی تھا۔ اس قدم سے یہ ہوا کہ زرعی ادویات کی قیمتیں کئی گنا سستی ہو گئیں۔ مثال کے طور پر پولیٹرین سی زہر جو اس وقت 600 روپے میں بک رہی تھی، ایک آدھ ماہ میں ہی کمپنی کو اس کی قیمت 100 روپے لیٹر کرنا پڑ گئی۔

اسی طرح کاشتکاروں کی اجناس کوڑیوں کے داموں دھر لی جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں زرعی اجناس کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق نہیں تھیں۔ عام طور پر کاشتکار کو عالمی قیمتوں کے مقابلے میں آدھی قیمت ملتی تھی۔ کمیٹی نے تجویز دی کہ ملک میں زرعی اجناس کی قیمتیں عالمی منڈی کی قیمتوں سے منسلک کر دی جائیں۔ اس تجویز پر عمل درآمد ہوتے ہی پھٹی کا ریٹ جو کہ 400 روپے فی من تھا دیکھتے ہی دیکھتے 1600 روپے من تک چلا گیا۔ اور یہی معاملہ باقی اجناس کے ساتھ بھی ہوا۔

اس کے علاوہ اس کمیٹی نے عوامی ٹریکٹر سکیم کی تجویز دی جس کی بنیاد پر پاکستان میں پہلی مرتبہ کاشتکاروں کو آدھی سے بھی کم قیمت پر 30 ہزار ٹریکٹر دئیے گئے۔ یہ ٹریکٹر پولینڈ اور بیلاروس سے درآمد کئے گئے۔ پولینڈ سے ارسس ٹریکٹر اور بیلاروس سے بیلارس ٹریکٹر درآمد کر کے ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ میں دئیے گئے۔ واضح رہے کہ اس وقت میسی فرگوسن کی قیمت ساڑھے تین لاکھ کے قریب تھی۔

اسی دوران آصف شریف نے فورڈ کمپنی سے ٹریکٹر بنانے کا لائسنس حاصل کیا اور لاہور میں ٹریکٹر بنانے کی فیکٹری لگا لی۔

پاکستان میں نظر آنے والے نیلے رنگ کے تمام فورڈ ٹریکٹر آصف شریف کی اسی فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں۔ بعد ازاں فورڈ کمپنی نے اپنا ٹریکٹر ڈویژن ختم کر کے فیئٹ کمپنی کو بیچ دیا اور آصف شریف نے بوجوہ ٹریکڑ سازی کا کام چھوڑ دیا۔

سن 2007 میں آصف شریف کی ملاقات امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نارمن تھامس اپ ہاف سے ہوئی۔ کارنیل یونیورسٹی کا شمار زراعت کے حوالے سے دنیا کی چند بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نارمن تھامس، کارنیل یونیورسٹی میں شعبہ زراعت کے سربراہ ہیں جنہیں 2 مرتبہ نوبل انعام کے لئے نامزد کیا جا چکا ہے۔

آصف شریف نے کارنیل یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ساتھ مل کر چاول کاشت کرنے کا ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جس کی بدولت چاول کی فی ایکڑ پیداوار 4 گنا بڑھ جاتی ہے اور خرچہ بھی 70 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ کو وضع کرنے کے لئے تمام تجربات آصف شریف کے اپنے ہی فارم پر یہاں پاکستان میں ہوئے ہیں۔ آصف شریف نے اس طریقے کو System of Rice Intensification (SRI) کا نام دیا ہے۔

امریکہ میں یہ طریقہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ طریقہ کیا ہے؟ اس پر ہم اس سلسلے کے اگلے مضامین میں بات کریں گے۔

ڈاکٹر نارمن تھامس، آصف شریف کو اپنا مینٹر (گُرو) کہتے ہیں۔ اسی طرح آصف شریف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر تھامس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ دونوں شخصیات ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کے زرعی تجربات سے استفادہ کرتی ہیں تاکہ ترقی کے ذریعے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔

پاکستان میں آصف شریف کچھ عرصہ زرعی ترقیاتی بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئرمین بھی رہے۔ آصف شریف کے بقول ان کی کوشش کے باوجود زرعی بنک کے معاملات بوجوہ اس طرف نہیں جا ر ہے تھے جس طرف وہ انہیں لے کر جانا چاہتے تھے جس وجہ سے محض 7 مہینے بعد ہی انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا۔

آصف شریف، اقوام متحدہ اور ورلڈ بنک کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں جہاں ان سے پاکستان اور دنیا میں زرعی ترقی کے حوالے سے تجاویز لی جاتی ہیں۔

لیکن ایسا نہیں تھا کہ ان ساری مصروفیات کے دوران آصف شریف نے کاشتکاری چھوڑ دی ہو۔ اس سارے عرصے میں وہ مستقل کاشتکاری کے ساتھ وابسطہ رہے۔ سن 2007تک وہ کاشتکاری کے لئے مسلسل کھاد اور زرعی زہروں کا استعمال کرتے چلے آ رہے تھے۔ لیکن سن 2007 میں کچھ ایسا ہوا کہ آصف شریف پر قدرتی نظام کاشتکاری کے چند بنیادی اصول منکشف ہوئے۔ وہ بنادی اصول جنہیں اپنا کر آصف شریف نے ہر طرح کی کھادوں اور زرعی زہروں کو خیر باد کہ دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں زمین میں ہل چلانے سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا۔

ایسا نہیں ہے کہ کھادیں اور زرعی زہروں کا استعمال ترک کرنے کے بعد ان کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ بلکہ ان کی فی ایکڑ پیداوار بعض صورتوں میں زیادہ ہوئی ہے۔

قدرتی نظام کاشتکاری کو اپنانے سے ان کی پیداواری لاگت میں کئی گنا کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عام کاشتکار جب گندم اگاتا ہے تو اس کی فی من پیداواری لاگت کم و بیش 600 روپے تک ہوتی ہے۔ جبکہ آصف شریف کے ہاں یہ پیداواری لاگت 100 روپے سے بھی کم ہے۔

دنیا میں آصف شریف، پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری (پقنک) کے ایک بہت بڑے مبلغ کے طور پر ابھرے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک ان سے یہ اصول سیکھ رہے ہیں۔ امریکہ، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، حتی کہ بھارت جیسے ممالک میں آصف شریف کا دیا گیا قدرتی نظام کاشتکاری تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ بھارت کی ریاست بہار کوآصف شریف نے سن 2010 میں قدرتی نظام کاشتکاری کا ماڈل بنا کر دیا تھا۔ جس کو آگے بڑھا کر وہ ریاست زراعت میں بہت آگے نکل گئی ہے۔

آجکل آصف شریف دنیا کے مختلف ممالک میں کاشتکاری کرنے والی بڑی بڑی کمپنیوں کو ہر طرح کی تکنیکی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بعض ممالک میں آصف شریف کی کمپنی پیداور معاہدے کے تحت کاشتکاری بھی کررہی ہے۔ اس طرح وہ کئی ممالک میں ہزاروں ایکڑ رقبہ جات پر براہ راست کاشتکاری سے منسلک ہیں۔
اس کے علاوہ وہ دنیا میں بڑے پیمانے پر کاشتکاری کرنے والی کمپنیوں کے سٹاف کو زرعی امور پر ٹریننگ بھی دیتے رہتے ہیں۔ آصف شریف اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مختلف ممالک کے زرعی ماہرین کو گھنٹوں زراعت پر لیکچر دیتے ہیں۔ وہ ایک ایک لیکچر کے کئی کئی ہزار ڈالر وصول کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان کی تمام سروسز مفت ہیں۔

وہ یہ دعوی نہیں کرتے کہ انہوں نے کوئی نئی چیز ایجاد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف وہی بات بیان کر رہے ہیں جو کارخانہ قدرت میں پہلے سے ظہور پذیر ہے۔ انہوں نے بس قدرتی طور پر ہونے والی زراعت کے بنیادی اصولوں کو دریافت کیا ہے۔ اور پھر ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے پائیدار قدرتی کاشتکاری کا ایک نظام وضع کیا ہے جسے وہ Paradoxical Agriculture System کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔

آصف شریف نے قدرتی نظام کاشتکاری کے یہ اصول کیسے دریافت کئے؟ وہ اصول کون کون سے ہیں؟ اور انہیں ایک عام کاشتکار کیسے اپنا سکتا ہے؟ اس پر آئندہ بات ہو گی انشاءاللہ۔

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد
بشکریہ: آصف شریف
اگر آپ اس مضمون کے کسی حصے سے متفق نہیں ہیں تو نقد و نظر کے لئے دعوت عام ہے۔

اس سے پہلے ہم قدرتی کاشتکاری کا پہلا اصول تفصیلاََ بیان کر چکے ہیں جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ مستقل بیڈ یا پٹڑیاں بنا کر فصل کاشت کرنے کے پیچھے کون کون سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اس سے آپ کو کون کون سی بچتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔


آج ہم قدرتی کاشتکاری کے نہائیت اہم اور دوسرے اصول پر بات کریں گے۔

قدرتی کاشتکاری کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ نے زمین کو کبھی بھی ننگا نہیں رہنے دینا۔ بلکہ اسے فصلوں کی باقیات یا گھاس پھوس وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھنا ہے۔

آئیے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ زمین کو ڈھانپ کر رکھنے کے کیا کیا فوائد ہیں اور بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ عمل کس قدر غیر معمولی ہے۔

سب سے پہلے آپ اس بات کو سمجھیں کہ مٹی، جس میں ہم بیج بوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ چیزوں کا مجموعہ ہے۔

نمبر 1۔ ہوا

نمبر 2 پانی

نمبر 3 ٹھوس ذرات

نمبر 4 فصلوں کی گلی سڑی باقیات یا گوبر وغیرہ (جسے ہم نامیاتی مادہ کہتے ہیں)

نمبر5 عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے مفید جراثیم


کھیت کی صحت مند مٹی پانی، ہوا، نامیاتی مادے، جراثیم اور مٹی کے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مٹی کے اندر ہوا کیسے اور کہاں سے داخل ہو جاتی ہے؟ تو آئیے سب سے پہلے اسی پر بات کر لیتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ کھیت کو پانی لگاتے ہیں تو چند ہی گھنٹوں میں وہ پانی کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ وہ مٹی میں جذب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگلا سوال یہ ہے کہ اگر مٹی میں پانی جذب ہو جاتا ہے تو پھر پتھر میں یہ پانی جذب کیوں نہیں ہو پاتا۔

دراصل بات یہ ہے کہ کھیت کی مٹی کے اندر باقائدہ رستے بنے ہوتے ہیں جن کے ذریعے پانی مٹی کے اندر اترتا ہے اور ہوا بھی انہی رستوں میں سے ہوتی ہوئی مٹی میں داخل ہوتی ہے۔


ان راستوں کے اندر نہ صرف ہوا اور پانی موجود ہوتا ہے بلکہ عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم بھی انہیں راستوں میں گھر بنا کر رہتے ہیں۔

البتہ پتھر کے ذرات ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان راستے نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ پتھر میں نہ تو پانی جذب ہوتا ہے، اورنہ ہی اس میں ہوا داخل ہوتی ہے۔ ظاہر جہاں نہ پانی ہو گا اور نہ ہی ہوا، تو پھر وہاں جراثیم کیسے پائے جا سکتے ہیں۔

پانی، ہوا اور مفید جراثیم پر بات کرنے کے بعد آئیے اب مٹی کے ٹھوس ذرات پر بات کرتے ہیں۔

مٹی کے یہ ٹھوس ذرات 3 طرح کے ہوتے ہیں۔

نمبر 1۔ ریت کے ذرات

،نمبر 2۔ بھل کے ذرات

نمبر 3۔ چکنے ذرات

ریت کے ذرات جسامت میں سب سے بڑے جبکہ چکنے ذرات سب سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بھل کے ذرات قدرے درمیانی جسامت کے ہوتے ہیں۔

لہذا آپ کے کھیت کی مٹی میں اگر ریت کے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین ریتلی نظر آئے گی۔ اسی طرح اگر بھل کے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین چکنی اور ریتلی کے درمیان درمیان محسوس ہو گی۔ اور اگر چکنے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین چکنی ہو گی۔

فصلیں اگانے کے لئے ایسی زمین بہترین سمجھی جاتی ہے جس میں 40 فیصد ذرات ریت کے، 40 فیصد ہی بھل کے اور 20 فیصد چکنے ذرات کے ساتھ ساتھ فصلوں کی گلی سڑی باقیات یا گلے سڑے گوبر وغیرہ کی مناسب مقدار موجود ہو۔ ایسی زمین کو ہم مَیرا زمین کہتے ہیں۔

اب لگے ہاتھ یہ بات بھی سمجھ لیں کہ ریت کے ذرات چونکہ بڑے ہوتے ہیں اس لئے ان میں راستے بھی کھلے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریتلی زمین میں جیسے ہی آپ پانی لگاتے ہیں وہ پانی دیکھتے ہی دیکھتے اِن کھلے کھلے راستوں سے زمین میں اتر جاتا ہے۔


لیکن چکنے ذرات چونکہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے ان کے درمیان بننے والے راستے بہت تنگ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چکنی مٹی والے کھیت کو لگایا گیا پانی زمین میں گھنٹوں کھڑا رہتا ہے۔

زمین کے متعلق چند بنیادی باتیں سمجھنے کے بعد اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ قدرتی کاشتکاری میں زمین کو ڈھانپنا کیوں ضروری ہے۔

ڈھانپ کر رکھنے سے زمین کا درجہ حرارت مناسب رہتا ہے جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے

گرمیوں میں دوپہر کے وقت زمین کس قدر گرم ہو جاتی ہے اس کا اندازہ آپ کو تب ہوتا ہے جب آپ دوپہر کو ننگے پاؤں زمین پر چل کر دیکھیں۔ تپتی ہوئی زمین پر دو چار قدم چلنے سے ہی انسان کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔ تو ذرا سوچئے کہ وہ پودا جو سارا دن اسی تپتی ہوئی زمین پر کھڑا رہتا ہے اس کا کیا حشر ہوتا ہو گا۔

زمین کا درجہ حرارت ہمیشہ ہوا کے درجہ حرارت سے زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہوا کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تو ننگی زمین جس میں نامیاتی مادے کی بھی قدرے کمی ہو اس کا درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

جب زمین اس قدر گرم ہو جائے تو پھر پودے کی ساری توجہ نشوونما کی بجائے اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ پودا اپنے آپ کو مسلسل ٹھنڈا کرنے کے لئے پتوں کے ذریعے پانی بخارات کی صورت ہوا میں اڑاتا رہتا ہے اور اس عمل میں بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ جب بھی پانی، بخارات میں تبدیل ہوتا ہے تو ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔ انسان کو پسینے کا آنا بھی بالکل یہی عمل ہے۔ جب انسان کو گرمی لگتی ہے تو اس کی جلد کے مساموں سے پسینے کی شکل میں پانی نکل آتا ہے۔ جب یہ پانی، بخارات کی صورت ہوا میں اڑتا ہے تو جلد پر ٹھنڈک کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ فریج اور اے سی وغیرہ بھی اسی اصول کے تحت کام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اگر زمین کا درجہ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتو پودے کو دیا جانے والا سارا پانی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال کرتا ہے۔

لیکن اگر زمین کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو پودے کو دئیے جانے والے پانی کا صرف 15 فیصد حصہ ہی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال کرتا ہے۔ باقی 85 فیصد پانی کا ایک بڑا حصہ پودا اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہوا میں اڑا دیتا ہے۔

اسی طرح جب زمین کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو پانی کے ضیاع کے ساتھ ساتھ زمین میں موجود نامیاتی مادہ بھی گرمی کی وجہ سے جل کر ضائع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب زمین کا درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو پودے کو دیا جانے والا سارا پانی پودا اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کے چکر میں ضائع کر دیتا ہے اور ایک فیصد پانی بھی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال نہیں کر پاتا۔

جب زمین کا درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو شدید گرمی کی وجہ سے زمین کے اندر موجود ہر طرح کی حیات اور مفید جراثیم وغیرہ مر جاتے ہیں جس سے ہماری زمین بانجھ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ وغیرہ جہاں زمین کا درجہ حرات 60 ڈگری سینڈی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے وہاں زمین کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟

تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہم اپنی زمینوں کو گھاس پھوس اور فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ ہماری زمینیں گرمیوں میں ٹھنڈی رہیں گی بلکہ شدید سردی میں بھی زمین کا درجہ حرارت معتدل رہے گا جس کا پیداوار پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔


اب اگلی بات یہ ہے کہ زمین کو فصلوں کی باقیات اور گھاس پھوس وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھنے سے زمین کتنی ٹھنڈی رہے گی؟

تو ظاہر ہے اس بات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ زمین پر گھاس پھوس وغیرہ کی تہہ کتنی موٹی ہے؟ اگر تہہ زیادہ موٹی ہوگی تو زمین زیادہ ٹھنڈی رہے گی لیکن اگر یہ تہہ پتلی ہو گی تو پھر زمین چند ڈگری سینٹی گریڈ ہی ٹھنڈی ہو پائے گی۔

یہاں آپ کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ اتنی موٹی تہہ بچھانے کے لئے آپ فصلوں کی باقیات یا گھاس پھوس وغیرہ کہاں سے اکٹھا کریں گے؟

تو جناب بات یہ ہے کہ گھاس پھوس وغیرہ آپ نے کہیں سے بھی اکٹھا نہیں کرنا۔ بس آپ نے زمین میں ہل نہیں چلانا۔ یہ تہہ خود بخود بنتی چلی جائے گی۔ اور دو تین سال کے اندر اندر دو تین انچ موٹی تہہ آپ کی زمین پر بن جائے گی۔ پچھلے مضمون میں بھی بہت سے کاشتکاروں نے سوال کیا تھا کہ اگر ہل نہیں چلائیں گے تو فصل کیسے کاشت کریں گے؟ اس بات کا تفصیلی جواب اس سے اگلے آرٹیکل میں قدرتی کاشت کاری کے تیسرے اصول کے تحت تفصیل سے دیا جائے گا۔

زمین کو ڈھانپنے کی بدولت ایک تو زمین ٹھنڈی رہے گی اور دوسرے کھیت کی سطح سے براہ راست پانی ہوا میں اڑ کر بھی ضائع نہیں ہو گا۔ اگر ہم بیڈ یا پٹڑیاں بنا کرفصل کاشت کریں اور پھر ان پٹڑیوں کو فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپ دیں تو ایک اندازے کے مطابق پانی کی 80 فیصد تک بچت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ پانی کہ یہ بچت ڈرپ آبپاشی کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ اور اس کام پر خرچہ ڈرپ کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔

بیج کو اگنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک گرمائش اور دوسرا نمی اور تیسرا ہوا۔ جب تک یہ تینوں چیزیں بیج کی طلب کے مطابق اسے نہیں ملیں گی بیج کا اگاؤ نہیں ہوگا چاہے وہ سالہا سال تک ہی کیوں نہ پڑا رہے۔

اگر ہم درجہ حرارت کے حوالے سے گندم کی مثال لیں تو گندم کے بیج کو اگنے کے لئے 4 ڈگری سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان گرمائش چاہئے ہوتی ہے۔ اگر بیج کو 4 ڈگری سے کم یا 37 ڈگری سے زیادہ گرمائش مل رہی ہو تو گندم کے بیج کا اگاؤ نہیں ہو گا۔

دوسری چیز جو بیج کو اگنے کے لئے چاہئے وہ نمی ہے۔ نمی کے بغیر بیج نہیں اگ سکتا۔ بعض بیجوں کو اگاؤ کے لئے اپنے وزن سے چار پانچ گنا زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ گندم کی بات کریں تو بیج کو اگنے کے لئے اپنے وزن سے ڈیڑھ تا دو گنا زیادہ پانی جذب کرنا پڑتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بیج یہ نمی یا پانی کہاں سے حاصل کرتا ہے؟

بیج نمی حاصل کرنے کے لئے زمین کا محتاج ہے۔ اگر گندم کی مثال لیں تو بیج مسلسل دو دن تک پانی جذب کرتا رہتا ہے تب جا کر اس کا اگاؤ یقینی بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یا تو بیج کو وتر زمین میں بوتے ہیں یا پھر خشک زمین میں بو کر اوپر سے پانی لگا دیتے ہیں تاکہ بیج مطلوبہ نمی حاصل کر کے کامیابی سے اگاؤ کر لے۔

اب اگر بیج کو زمین کے اندر دبا دیا جائے تو بیج زمین سے باآسانی پانی جذب کر کے اپنا اگاؤ مکمل کرسکتا ہے۔ لیکن اگر بیج کو مٹی میں دبایا نہ جائے اور وہ زمین کے اوپر ہی پڑا رہے تو ایسی صورت میں بیج زمین سے مطلوبہ نمی جذب نہیں کر سکے گا اور اس کا اگاؤ خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایک بات ذہن میں رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں بار بار ہل نہیں چلایا جاتا۔ ہل نہ چلانے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے بیج زمین کے اوپر ہی پڑے رہتے ہیں اور مطلوبہ نمی نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ تر بیجوں کا اگاؤ ہی نہیں ہوتا۔

یہاں آپ کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ بیج دیکھنے کو تو ایک چھوٹا سا دانہ ہے لیکن حقیقیت میں یہ قدرت کا ایک بہت بڑا شاہکار ہے۔

بیج کی کوکھ میں پودے کا بچہ زندہ حالت میں پڑا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس بچے کی خوراک بھی اس کےساتھ ہی باندھی ہوئے ہے کہ جب بھی اس بچے کو مطلوبہ گرمائش، نمی اور ہوا میسر آئے تووہ قدرت کی طرف سے عطیہ کردہ خوراک کو استعمال کر کے اپنی ابتدائی نشوونما کر سکے۔

اس بچے اوربچے کی خوراک کو گرم و سرد حالات سے بچانے کے لئے اللہ تعالی بیج کے باہر ایک خول یا سخت سی تہہ چڑھا دیتا ہے تاکہ وہ ہر طرح کے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ الٹ پلٹ کے دوران بھی محفوظ رہ سکے۔

بیج کے متعلق بنیادی بات سمجھنے کے بعد اب میں آپ کو اگلی بات بتاتا ہوں۔

بیج جب اگتا ہے تو ابتدائی نشوونما کے لئے وہ اپنے ساتھ بندھی ہوئی خوراک استعمال کرتا ہے۔ اس خوراک کو استعمال کر کے بیج سب سے پہلے اپنی جڑیں نکالتا ہے جو زمین میں داخل ہو کر وہاں سے پانی اور خوراک وغیرہ جذب کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد بیج اپنے ابتدائی سبز رنگ کے پتے نکالتا ہے۔ پتوں کی مدد سے پودا اپنی خوراک ازخود تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔


لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پودے کو خوراک بنانے کے لئے سورج کی روشنی کی ہر حال میں ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پودے کے پتوں پر سورج کی براہ راست روشنی نہیں پڑے گی تو پودا اپنی مطلوبہ خوراک تیار نہیں کر سکے گا اور خوراک کی کمی کا شکار ہو کر پودا اپنی نشوونما جاری نہیں رکھ سکے گا اور اس قدر لاغر و کمزور ہو جائے گا کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو جائے گا۔

لہذا جب ہم زمین کو گھاس پھوس سے ڈھانپ دیتے ہیں تو جڑی بوٹیوں کے وہ بیج جن کا اگاؤ ہو جاتا ہے، اگاؤ کے بعد گھاس پھوس کے نیچے پڑے ہونے کی وجہ سے انہیں مناسب روشنی نہیں ملتی۔ لہذا جڑی بوٹیوں کے یہ ننھے منھے پودے سورج کی روشنی نہ ملنے کی وجہ سے مطلوبہ خوراک تیار نہیں کرپاتے اورخوراک کمی کا شکار ہو اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہو کہ ان حالات میں اگر جڑی بوٹیوں کے پودے مر جاتے ہیں تو فصل کے پودے کیسے بچ جاتے ہیں؟ اس پر ہم قدرتی کاشتکاری کے تیسرے اصول میں بات کریں گے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے مفید جراثیموں کی آبادی انتہائی تیزی سے بڑھتی ہے۔

اگر آپ کے کھیت کی مٹی صحت مند ہے تو صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں 7 ارب سے زیادہ مفید جراثیم پائے جاتے ہیں۔ ہے ناں حیران کن بات۔ یعنی کرہ ارض پر جتنے انسان بستے ہیں ان کی کل آبادی سے زیادہ حیات صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں پائی جاتی ہے۔ دراصل یہی وہ جراثیم ہیں جو زمین کی زرخیزی کی ضمانت ہیں۔ اگر ہماری زمینوں میں یہ جراثیم پرورش پانا شروع کر دیں تو ہمیں اپنی فصلوں کو کسی طرح کی کھاد ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔


اگرصحت مند مٹی کو طاقتور خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تو اس میں اس طرح کے مفید جراثیم نظر آتے ہیں

اگرصحت مند مٹی کو طاقتور خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تو اس میں اس طرح کے مفید جراثیم نظر آتے ہیں
اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی زرعی زمینوں میں بھی یہ مفید جراثیم اتنی ہی تعدا میں پائے جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب بدقسمتی سے ہاں میں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں 90 فیصد سے زیادہ زمینوں کو ہم نے اس قدر غیر قدرتی طریقے سے استعمال کیا ہے کہ ان فائدہ مند جراثیموں کا ایک بڑا حصہ اپنی زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔

لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قدرت نے ان جراثیموں کا نظام کچھ اس طرح سے بنایا ہے کہ جب بھی انہیں سازگار ماحول میسر آئے گا یہ دو تین سال میں ہی نشوونما پا کر اپنی تعداد پوری کر لیں گے۔

اس بات کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے ہم نے کسی جگہ سے درختوں کا جھنڈ کاٹ دیا ہو اور وہاں پر بسنے والے ہزاروں پرندے غائب ہو چکے ہوں۔ اب جیسے ہی ہم وہاں نئے درخت لگائیں گے تو ان درختوں کے بڑے ہوتے ہی پرندے پھر سے لوٹ آئیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ یہ انتہائی مفید جراثیم ہماری زمینوں میں واپس لوٹ آئیں۔

اس کے لئے ہمیں قدرتی طریقہ کاشتکاری کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ جس میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم مستقل بیڈ بنا کر فصلیں کاشت کریں (یہ بات ہم قدرتی کاشکاری کے پہلے اصول میں تفصلا بیان کر چکے ہیں)۔ اور دوسرا کام یہ کرنا ہو گا کہ ہمیں اپنی زمینوں کو گھاس پھوس یا فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانک کر رکھنا ہو گا۔ جب ہم زمین کو ڈھانک دیں گے تو ہماری زمین ٹھنڈی رہے گی۔ اور پھر ٹھنڈی زمین میں وہ ماحول میسر آ سکے گا جس میں یہ مفید جراثیم اپنی افزائش نسل اور نشوونما کرکے اپنی آبادی بڑھا سکیں گے۔

جس طرح ایک حد سے زیادہ گرمی یا ایک حد سے زیادہ سردی انسان برداشت نہیں کر سکتا ان جراثیموں کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ گرمی لگے تو انسان سائے میں جا بیٹھتا ہے سردی ہو تو چادر اوڑھ لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شدید سردی یا شدید گرمی میں یہ جراثیم بے جاری کیا کریں؟ اگر ہم زمین کو ڈھانپ کر نہیں رکھیں گے تو ان کی موت واقع ہو جائے گی۔ اور ان مفید جراثیموں کی موت کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی زمین کو زرخیز رکھنے والی مضلوق کا خاتمہ کر دیا ہے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے فصلوں کو کھادیں وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانپنے سے اربوں جراثیم مٹی میں پیدا ہو جاتے ہیں جو زمین کی زرخیزی کو یقینی بناتے ہیں۔

دراصل قدرت نے زمین کے اندر ہر وہ چیز رکھ دی ہے جس کی پودے کو ضرورت ہے۔ مثلاََ نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاش، زنک، بوران اور نہ جانے کون کون سے غذائی اجزاء جو کسی بھی پودے کو درکار ہوتے ہیں وہ سب کے سب وافر مقدار میں کروڑوں سالوں سے زمین میں موجود ہیں۔

اگلے کروڑوں سالوں میں بھی ان غذائی اجزاء میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ کیونکہ غذائی اجزاء کی جتنی مقدار پودے استعمال کرتے ہیں، قدرت کے ایک خود کار نظام کے تحت یہ غذائی اجزاء خود بخود بحال ہو جا تے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کروڑوں سالوں سے سورج اس کرہ ارض کو روشنی دے رہا ہے اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگلے کروڑوں سالوں تک بھی یہ سورج ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ یہی معاملہ زمین کا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے جنگل موجود ہیں جہاں کروڑوں سالوں سے سبزہ پیدا ہو رہا ہے لیکن زمین کی زرخیزی کم نہیں ہوئی ہے۔

یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ زمین کے اندر جو غذائی اجزاء پڑے ہوئے ہیں وہ ایسی حالت میں موجود ہیں کہ پودا انہیں براہ راست استعمال نہیں کر سکتا۔ جراثیم ان غذائی اجزاء کو اس قابل بناتے ہیں کہ پودا انہیں استعمال کر سکے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی بھوکے شخص کے پاس کئی من کچا گوشت رکھ دیا جائے۔ ظاہر ہے اس کچے گوشت سے انسان اپنی بھوک تو نہیں مٹا سکتا۔ ضروری ہے کہ کوئی باورچی اس گوشت میں مناسب مرچ مصالحہ ڈال کر اسے ہنڈیا پر چڑھائے تاکہ وہ اس قابل ہو سکے کہ حضرتِ انسان اس گوشت کو کھا سکے۔

دراصل زمین میں موجود یہ ارب ہا جراثیم پودے کے لئے باورچی کا کام کرتے ہیں۔ وہ زمین میں موجود غذائی اجزاء کو اس قابل بناتے ہیں کہ پودا انہیں استعمال کر سکے۔ اور یہ جراثیم پودے کی ضرورت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور پودے کو خوراک مہیا کر رہے ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ اگر یہ جراثیم زمین میں نہیں ہوں گے تو پھر پودا خوراک کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔ جسے پورا کرنے کے لئے ہمیں بار بار اپنی زمینوں میں کھادیں ڈالنا پڑیں گی۔ آج کل ہمارے کاشتکاروں کے ساتھ بس یہی کچھ ہو رہا ہے۔

اگر آپ اپنی زمین کو فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانک دیں تو دو تین سال میں ہی آپ کی زمین میں اربوں جراثیم پیدا ہو جائیں گے جو آپ کی فصل کو غذائی اجزاء مہیا کریں گے۔ شروع والے ایک دو سال آپ کو فی ایکڑ چار چار پانچ پانچ کلو کھاد ڈالنا پڑ سکتی ہے۔ لیکن جب یہ جراثیم اپنی تعداد بڑھا لیں گے تو پھر آپ کو کھاد کا ایک دانہ بھی اپنے کھیتوں میں نہیں ڈالنا پڑے گا۔ موجودہ سلسلے کے آخری مضامین میں ہم آپ کو ان کسانوں سے ملوائیں گے جنہوں نے گزشتہ سال گندم کے کھیت میں چار پانچ کلو فی ایکڑ کھاد استعمال کر کے 60 من فی ایکڑ سے زیادہ پیداوارحاصل کی ہے۔

فصلوں کی باقیات کو زمین پر رہنے دینے سے زمین کے نامیادتی مادے میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں مختلف فصلوں خاص کر دھان اور کماد کی باقیات کو آگ لگانا ایک عام بات ہے۔ جب ہم فصلوں کو آگ لگاتے ہیں تو زمین کی سطح کے آس پاس مفید جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ وہ جراثیم جو 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے وہ آگ کی وجہ سے پیدا ہونے والےکم و بیش 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ لہذا آگ لگانے سے دو نقصانات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ فصلوں کی وہ باقیات جنہیں گل سڑ کر زمین میں نامیاتی مادے کی صورت میں شامل ہونا تھا اس کو ضائع کر دیا گیا۔ اور دوسرے وہ مفید جراثیم جنہوں نے فصلوں کی باقیات کو گلا سڑا کر نامیاتی مادے میں بدلنا تھا انہیں بھی مار دیا گیا۔ یعنی آپ نے نہ صرف پرندے کو مار دیا بلکہ اس درخت کو بھی کاٹ دیا جس پر پرندے نے گھونسلا بنا کر انڈے بچے دینے تھے۔ اس طرح آگ لگا کر آپ نے اپنے ہاتھوں اپنی زمین کو برباد کر دیا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم آگ لگانے کی بجائے فصلوں کی باقیات کو زمین پر ہی پڑا رہنے دیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی زمین میں مفید جراثیم محفوظ رہیں گے بلکہ زمین کے نامیاتی مادے میں بھی اضافہ ہوگا۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے پودوں پر کیڑوں مکوڑوں کا بہت کم حملہ ہوتا ہے۔

عام طور پر کیڑے مکوڑے پودوں پر دو صورتوں میں حملہ کرتے ہیں۔

پہلی صورت

پہلی صورت وہ کہ جب پودا اس قدر لاغر اور کمزور ہو جائے کہ اس کے دفاعی نظام میں کیڑے مکوڑوں کو روکنے کی سکت نہ رہے۔

اگر آپ کسی سنڈی کو ادھ موا کر کے زمین پر پھینک دیں تو دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیاں سنڈی پر حملہ آور ہو جائیں گی اور سنڈی کے مسلسل تڑپتے رہنے کے باوجود اسے گھسیٹتے ہوئے اپنی بل میں لے جائیں گی۔ لیکن وہی سنڈی اگر صحت مند اور چوکس ہو تو کوئی چیونٹی اس کے پاس بھی نہیں پھٹکے گی۔

اسی طرح آپ نے دیکھا ہو گا کہ سینکڑوں گدھ آسمان پر اڑتے رہتے ہیں لیکن ہمیشہ وہ اسی جانور پر گرتے ہیں جو مر چکا ہوتا ہے۔ کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ گدھ کسی صحت مند اور زندہ جانور کو نوچنے کے لئے زمین پر اتر آئیں۔

بالکل یہی حال پودوں کا ہے۔ جب پودے کا کوئی حصہ لاغر یا کمزوریا بے جان ہو جاتا ہے تو کیڑے مکوڑے اس پودے پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ ہر لحاظ سے صحت مند پودے پر کیڑے حملہ آور ہو جائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پودے کی صحت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

صرف اور صرف صحت مند زمین ہی پودوں کی صحت کی ضمانت دے سکتی ہے۔ اورفصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپے بغیر زمین کی صحت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

لہذا زمین کو ڈھانکنے سے فصل کو کیڑے مکوڑوں کے حملے سے بلاواسطہ بچایا جا سکتا ہے۔

دوسری صورت

دوسری صورت میں کیڑے مکوڑے فصل پر اس وقت حملہ کرتے ہیں جب پودوں کے پتے اور شاخیں بہت زیادہ نازک اور رسیلے ہو جائیں۔ اور یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فصل پر کھادوں خاص طور پر یوریا کھاد کا استعمال کیا جائے۔

جی ہاں! آپ بالکل درست سمجھے ہیں کہ یوریا کھاد کا استعمال فصل پر کیڑے مکوڑوں کے حملے کا سبب ہے۔

لہذا اگر ہم یوریا کھاد کا استعمال بالکل ترک کر دیں تو فصل پر کیڑے مکوڑوں کے حملوں کا امکان بہت کم رہ جائے گا۔

تو یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھادوں کے بغیر فصل کی بہتر پیداوار کیسے حاصل ہو گی؟ اس سے پہلے ہم اسی مضمون میں بیان کر چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانپنے سے آپ کے کھیت میں مفید جراثیم پیدا ہو جائیں گے تو آپ کی زمین کو زرخیز رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اور اس طرح کھادوں کے بغیر ہی آپ بہتر پیداوار حاصل کر سکیں گے۔ اور جب آپ کھادیں استعمال نہیں کریں گے تو آپ کی فصل پر کیڑوں مکوڑوں کے حملہ کرنے کے امکانات بھی بہت کم رہ جائیں گے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے پودوں پر بیماریوں کا بہت کم حملہ ہوتا ہے۔

پودوں پر بیماری دو صورتوں میں آتی ہے۔

پہلی صورت

قدرت نے زمین کے اندر جو مفید جراثیم پیدا کئے ہیں وہ دوسرے بہت سے کاموں کے ساتھ ساتھ بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کو شکار بھی کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے فصل میں بہت سے شکاری کیڑے، نقصان دہ کیڑوں کو کھا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرائی سوپا یا ریڈ بیٹل وغیرہ ایسے کیڑے ہیں جو خود فصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ فصل کو نقصان پہنچانے والے رس چوسنے والے کیڑوں کو شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں۔

لیکن مفید جراثیموں کی غیر موجودگی میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم زمین کے اندر اپنا اثرورسوخ پیدا کر لیتے ہیں اور جیسے ہی پودا بیج سے نکل کر زمین میں اپنا پاؤں رکھتا ہے تو بیماریاں پھیلانے والے یہ جراثیم پودے پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

لہذا فصل کو بیماریوں سے بچانے کے لئے ایک تو ضروری ہے کہ زمین میں مفید یا شکاری جراثیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس حوالے سے اسی آرٹیکل میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانک کر رکھنے سے مفید جراثیم خوب نشوونما پاتے ہیں جو بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کو شکار کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔

دوسری صورت


بیماریاں پھیلانے کا دوسرا سبب فصل پر حملہ کرنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ کپاس کے زیادہ تر کاشتکار یہ بات جانتے ہیں کہ سفید مکھی پودوں میں وائرس پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اسی طرح رس چوسنے والے کیڑے پتوں کو زخم لگا کر رس چوستے ہیں اور بعد میں یہ زخم مختلف بیماریوں کے جراثیموں کو پروان چڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح رس چوسنے والے کیڑے شربتی مادہ خارج کرتے ہیں جن پر کئی طرح کی پھپھوندیاں نشوونما پا کر فصل کی پیداوار اور معیار میں کمی واقع کر دیتی ہیں۔

لہذا کیڑے مکوڑوں کو فصل پر حملہ کرنے کا موقع نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی فصل کو بیماریوں سے بچا رہے ہیں۔ اور زمین کو ڈھانپنے سے مفید جراثیموں کی بھر پور نشوونما ہو گی۔ مفید جراثیم ہوں گے تو زمین صحت مند اور اس کی زرخیزی بحال رہے گی۔ زمین زرخیز اور صحت مند ہو گی تو اس سے دو باتیں ہوں گی۔ ایک تو پودوں کا دفاعی نظام مضبوط رہے گا اور دوسرا فصل کو کھادیں بھی نہیں ڈالنا پڑیں گی۔ اور ایسی فصل جس کا دفاعی نظام مظبوط ہو گا اس پر کیڑے مکوڑے حملہ آور نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ کھادوں کا عدم استعمال بھی کیڑوں کے حملے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہو گا۔ اور جب فصل پر کیڑے نہیں آئیں گے تو بیماریاں بھی کم سے کم ہوں گی۔

زمین کو ڈھانک کر رکھنے کے جو فوائد ہم نے بتائے ہیں پاکستان میں بہت سے کاشتکار اس پر عمل پیرا ہو کر یہ تمام فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ قدرتی کاشتکاری کے آخری مضامین میں ہم ان کاشتکاروں سے آپ کی براہ راست ملاقات کروائیں گے۔

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

یہ مضمون لکھنے کے لئے محترم آصف شریف کے افکارو تجربات سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سائنسی جرائد میں شائع ہونے والے تحقیقی مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہمارے لئے ایک قدرتی نظام بنا کر زمین پر لاکھوں سال سے درخت اور دیگر نباتات غیر ہموار زمین پر اُگا دیے بغیر کسی کھاد اور سپرے کو کئے۔ ہم کو بھی یہی قدرتی نظامِ کاشت اپناتے ہوئے اپنے لیے زراعت کے بہتر وسائل تلاش کرنے ہوں گئے۔

پائیدار قدرتی نظامِ کاشت (پقنک)

اگر ہم زمین کی قدرتی ساخت پر غور کریں تو ہم کو پتہ چلے گا کے اللہ تعالیٰ نے زمین ہموار نہیں بنائی تاکہ جن فصلوں کو زیادہ پانی کی ضرورت ہے وہ گہرائی میں لگائی جائیں جیسے چاول وغیرہ اور جن فصلوں کو کم پانی کی ضرورت ہے وہ اونچی جگہ پر لگائی جائیں جیسے سبزیاں وغیرہ۔ جب بارش ہو تو پانی کم پانی کی ضرورت والی فصلوں کو سیراب کرتا ہوا ڈھلوان میں چلا جائے اور اسطرح دونوں قسم کی فصلوں کو فائدہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے بیکٹیریا پیدا کیے جو پانی میں زندہ رہ سکے اور کچھ ایسے جو پانی کی صرف نمی یا سوکھی جگہ پر زندہ رہ کر فصلوں کو فائدہ دیں اور فصلوں کی باقیات کو گھلا کرنامیاتی کھاد کا کام کریں۔ سو جب ہم ریزبیڈز کی بجائے فلیٹ زمین پر کاشتکاری کرتے ہے تو جن بیکٹیریا نے ہماری فصلوں کو فائدہ دینا ہوتا ہے انکو ہم پانی میں ڈبو کر مار دیتے ہے. اس طرح فائدہ مند کیڑوں کی تعداد ہماری فصلوں میں ختم ہو گی اور ہماری فصلیں کیمیکل زہروں اور کھادوں کی محتاج ہو گئی ہیں۔ ہم نے خود اپنے ہاتھوں اپنی زمینیں تباہ کر لی۔

پقنک میں جب ہم قدرت کے طریقہ کی طرف دوبارہ آتے ہوئے فصلوں اور اُنکی باقیات کی ریزبیڈز پر آرگینک ملچنگ کرتے ہیں تو ہماری فصلوں کو خود با خود نامیاتی کھاد مل جاتی ہے۔ ریزبیڈز پر فصلوں کی باقیات پڑا رہنے سے زمین کا اندرونی ٹمپریچر کم ہو جاتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے آرگینک میٹر ضائع نہیں ہوتا اور آرگینک میٹر کی بچت کی وجہ سے زمین کی پی ایچ نہیں بڑھتی۔ پھر ہم جو تھوڑی سی بھی کیمیائی کھاد  ڈالتے ہیں وہ پودے کو ساری کی ساری مل جاتی ہے اور بیڈز پر کاشت کی وجہ سے بیج کی لاگت بھی کم ہو جاتی ہے۔

جب ہم زمین میں بار بار ہل چلاتے ہیں تو ایک تو ڈیزل کا خرچہ آتا ہے اور زمین  کھلی ہونے کی وجہ سے نامیاتی مادہ دھوپ کی گرمی سے ضائع ہوتا رہتا ہے۔ اسکے برعکس جب ہم ایک ہی دفعہ ریزبیڈز بنا کر انہی بیڈز بر بار بار فصل لگا لیں گئے تو زمین کا ٹمپریچر زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے فصل پیداوار بھی اچھی دے گی اور فصل کا خرچا کم ہو گا اور آمدن میں منافع زیادہ۔


قدرتی نظام کاشتکاری کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہم فصل ہمیشہ بیڈ یا پٹڑیوں پر کاشت کریں۔ ان پٹڑیوں کے ارد گرد کھیلیاں ہوتی ہیں جہاں سے پانی گزرتا ہے۔ یعنی اصول یہ ہے کہ جہاں سبزہ ہو گا وہاں پانی کھڑا نہیں ہو گا اور جہاں پانی کھڑا ہو گا وہاں سبزہ نہیں ہو گا۔ آج کے اس مضمون ہم تفصیل سے بات کریں گے کہ بیڈ یا پٹڑیوں پر فصل کاشت کرنے کے پیچھے وہ کون کونسے راز اور کون کونسی حکمتیں پوشیدہ ہیں جن کی بدولت ہم بہت ساری بچتیں کرنے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی پیداوار حاصل کر لیتے ہیں

پہلی حکمت

مستقل بیڈ بنانے سے زمین کے نیچے والی تہہ سخت نہیں ہوتی

ایک بات ذہن میں رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں جب ہم ایک دفعہ بیڈ بنا لیتے ہیں تو یہ بیڈ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مستقل طور پر بنائے جاتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ آپ بیڈ بنا کر فصل لگائیں اور پھر اگلی فصل لگانے کے کھیت میں ہل چلا کر نئے بیڈ بنائیں۔ قدرتی کاشتکاری میں زمین میں بار بار ہل نہیں چلایا جاتا۔

ہوتا یہ ہے کہ ٹریکٹر کے ساتھ جب ہم زمین میں بار بار ہل چلاتے ہیں تو زمین کے نیچے کی تہہ سخت ہوتی جا تی ہے۔اگر ہم میسی 240 ٹریکٹر کی بات کریں تو اس کا وزن بھی 40 من سے زیادہ ہوتا ہے۔ جب 40 من وزنی ٹریکٹر بار بار زمین کے اوپر سے گزرتا ہے تو زمین کے نیچے ایک سخت تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ سپرنگ والا ہل زمین کی تہہ کو سخت کرنے میں اہم کردار ادار کرتا ہے جس پر آئندہ بات ہو گی۔

اگر دیکھا جائے تو 90 فیصد ہمارے ہاں کلٹی ویٹر یعنی سپرنگوں والا ہل استعمال ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 5 انچ کی گہرائی تک جاتا ہے۔ اسی طرح راجہ ہل اور ڈسکیں بھی 9 انچ سے گہری نہیں جاتیں۔ لہذا 9 انچ سے نیچے زمین میں سخت تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سخت تہہ کی موٹائی تقریباََ 8 سے 10 انچ تک ہوتی ہے اور اس کے بعد پھر نرم زمین شروع ہو جاتی ہے۔ چونکہ اوپر والے 9 انچ میں ہل چلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے زمین سخت نہیں ہوتی اور مٹی قدرے نرم رہتی ہے۔ اب زمین کے نیچے بننے والی یہ تہہ اس قدر سخت ہو جاتی ہے کہ اس میں سے پودوں کی جڑیں بھی نہیں گزر سکتیں۔ اور پانی کو بھی زمین کے نیچے بہنے میں دقت پیش آتی ہے جس سے ہماری زمین خراب ہوتی چلی جاتی ہے اور فصلوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ سخت تہہ زمین اور پودوں کی صحت دونوں کے نقصان دہ ہوتی ہے۔ روائتی کاشتکاری کے ماہرین کے نزدیک بھی ہر3 سال بعد زمین کی اس سخت تہہ کو توڑنا بہت ضروری ہے جو صرف چیزل ہل چلانے سے ہی ممکن ہے۔ چیزل ہل کے تین لمبے پھالے ہوتے ہیں جو زمین میں زیادہ سے زیادہ 2 فٹ کی گہرائی تک جا سکتے ہیں جس سے سخت تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔

لہذا قدرتی کاشتکاری میں مستقل بیڈ بنانے سے پہلے نہائیت ضروری ہے کہ ہم ایک مرتبہ زمین کی گہرائی میں چیزل ہل چلا کرسخت والی تہہ کو توڑ دیں۔ چیزل ہل چلانے کے بعد زمین میں روٹا ویٹر پھیر کر مستقل بیڈ بنا دیں۔

مستقل بیڈ بنانے کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کے کھیت میں سے ٹریکٹر بھی ہمیشہ مستقل رستے یعنی کھیلی میں سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے اوپر والی جگہ جہاں آپ نے فصل کاشت کرنی ہے وہاں سے ٹریکٹر نہیں گزرے گا۔

لہذا وقت کے ساتھ کھیلیوں کے نیچے والی زمین میں تو سخت تہہ بنے گی لیکن بیڈ کے اوپر والی جگہ جہاں آپ نے فصل کاشت کرنی ہے وہ نرم ہی رہے گی۔ اور نیچے تک اس نرم زمین میں آپ کی فصل کی جڑیں جہاں تک جانا چاہیں جا سکیں گی اور زیادہ گہرائی سے خوراک لا کر پودے کو دیں گی جس سے پودے کی بہترین نشوو نما ہو گی۔

دوسری حکمت


مستقل بیڈ بنانے سے کھیلی کے نیچے سخت تہہ بن جائے گی جس سے پانی کی بچت ہو گی۔

جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مستقل بیڈ بنانے سے آپ کا ٹریکٹر بار بار کھیلی میں سے ہی گزرے گا جس سے کھیلی کے نیچے والی زمین کی تہہ سخت ست سخت تر ہوتی چلی جائے گی۔ واضح رہے کہ کھیلیاں ہمیشہ ہم ٹریکڑ کی چوڑائی کو مدنظر رکھ کر اس طرح بناتے ہیں کہ ٹریکٹر کا ٹائر کھیلیوں میں ہی رہیں۔



organic farming ideas in urdu
ایک دفعہ چیزل ہل چلا کر مستقل بیڈ بنا دئیے گئے ہیں۔ اب ٹریکٹر ہمیشہ کھیلی سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے نیچے زمین نرم رہے گی

ایک دفعہ چیزل ہل چلا کر مستقل بیڈ بنا دئیے گئے ہیں۔ اب ٹریکٹر ہمیشہ کھیلی سے ہی گزرے گا اور بیڈ کے نیچے زمین نرم رہے گی
زمین میں پانی بھی چونکہ آپ نے کھیلیوں میں ہی لگانا ہے۔ اس لئے زمین سخت ہونے کی وجہ سے وہ 10 فیصد پانی جو زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اس کا بہت سا حصہ زمین کے نیچے بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے بیڈوں کی طرف مڑ جائے گا جس سے پانی کی بچت ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کا بہتراور موثراستعمال ہو سکے گا۔

organic farming ideas in urdu

پانی زمین کے نیچے بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے بیڈوں میں جذب ہو رہا ہے۔
تیسری حکمت

بیڈ میں پودے کو پانی کی بجائے نمی ملتی ہے اور نمی میں پودا بہت خوش رہتا ہے

سائنس دان بتاتے ہیں کہ پودے کے پاؤں پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پسندیدہ بات یہی ہے کہ پودے کے پاؤں پانی میں ڈبونے کی بجائے اسے نمی مہیا کی جائے۔ لہذا بیڈ بنانے میں بھی یہی حکمت ہے کہ پانی کھیلیوں میں لگایا جاتا ہے اور بیڈ کو کھیلیوں سے نمی حاصل ہوتی رہتی ہے جسے پودا استعمال کر کے اپنی نشوونما جاری رکھتا ہے۔

بیڈ کی وجہ سے پودے کے پاؤں پانی میں ڈوبنے کی بجائے اسی نمی مل رہی ہے
واضح رہے کہ بیڈ بنا کر پانی دینا، ڈرپ آبپاشی سے بھی بہتر ہے۔ کیونکہ ڈرپ آبپاشی میں زمین پانی سے نچڑتی رہتی ہے جو پودے کی صحت کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ پودا نچڑتی ہوئی مٹی کی بجائے نمدار یا ہلکی گیلی مٹی میں خوش رہتا ہے۔ اور دوسرے جتنی پانی کی بچت لاکھوں روپے لگا کر ڈرپ آبپاشی کے ذریعے ہوتی ہے، کم و بیش اتنی ہی پانی کی بچت مستقل بیڈ بنا کر بھی ہو جاتی ہے۔

چوتھی حکمت

بیڈ میں آبپاشی کرنے سے پودا بھر پور خوراک حاصل کرتا ہے

اس بات کو آپ اس طرح سے سمجھیں کہ انسان اگر چینی کھانا چاہے تو وہ دو طریقوں سے کھا سکتا ہے۔ ایک تو چینی کا چمچ اپنے منہ میں ڈال کر چبائے اور کھا لے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ چینی کو پہلے پانی میں حل کرے اور پھر اس کے بعد چینی والا پانی پی لے۔

واضح رہے کہ پودا انسان کی طرح دونوں طریقوں سے خوراک حاصل نہیں کر سکتا بلکہ وہ صرف دوسرے طریقے سے ہی خوراک حاصل کرتا ہے۔ یعنی جب ہم پانی لگاتے ہیں تو خوراک پہلے پانی میں حل ہو گی اور پھر جب پودا اس خوراک والے پانی کو اپنی جڑوں کے ذریعے حاصل کرے گا تو پانی کے ساتھ ہی خوراک بھی پودے کے اندر چلے جائے گی۔

اب اس بنیادی بات کو سمجھنے کے بعد ذرا دیکھئے کہ اگر آپ کھیت میں کھلا پانی چھوڑیں گے اور کھیت میں پڑی ہوئی خوراک جب زیادہ پانی میں ھل ہو گی تو ظاہر ہے پتلا شربت بنے گا لیکن اگر وہی خوراک تھوڑی پانی میں حل ہو گی تو گاڑھا شربت بنے گا۔ بیڈ میں جب ہم پانی لگاتے ہیں تو کم پانی لگنے کی وجہ سے گاڑھا شربت بنتا ہے۔ جب پودا اس گاڑھے شربت کو اپنی جڑوں سے حاصل کرتا ہے تو پھر اس میں حل شدہ زیادہ خوراک پودے کو ملتی ہے۔



ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آ رہی ہو کہ اگر شربت پتلا ہے تو پودا زیادہ شربت اپنی جڑوں کے ذریعے حاصل کر لے اور اپنی خوراک پوری کر لے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک حد سے زیادہ پانی جذب نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پانی سادہ ہو یا میٹھا، انسان دو چار گلاس سے زیادہ پانی نہیں پی سکتا۔ پودوں کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ ہے۔

کیونکہ پودے کی جڑیں 2 طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو موٹی ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو بالکل بال کی طرح باریک ہوتی ہیں۔ موٹی جڑیں پودے کو زمین میں مضبوطی کے ساتھ کھڑا رکھنے کے لئے ہوتی ہیں جبکہ بال کی طرح باریک جڑوں کے ذریعے پودا زمین سے پانی اور دیگر غذائی اجزاء جذب کرتا ہے۔

اب پودا کتنا پانی جذب کرے گا؟ یہ بات نہ ہمارے اختیار میں ہے اور نہ ہی پودے کے اپنے اختیار میں ہے۔ بلکہ تین چیزیں ہیں جو پودے کے پانی جذب کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ پودے کے پتے کتنے چوڑے ہیں اور اس کی چھتری کا پھیلاؤ کتنا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہوا میں نمی کتنی ہے اور تیسری یہ کہ ہوا کا درجہ حرارت کتنا ہے۔ کیونکہ اگر پتے چوڑے ہوں گے، ہوا میں نمی کم ہوگی اور ہوا کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو پودا پتوں سے زیادہ پانی ہوا میں اڑائے گا۔ اور جتنا پانی پودا ہوا میں اڑائے گا بالکل اتنا پانی ہی پودا زمین سے جذب کر سکے گا۔

پودے کے پتوں سے پانی اڑنے والی بات کو کپڑے سوکھنے والی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ہم کپڑے دھو کر دھوپ میں ڈالتے ہیں تو گرمیوں میں وہ جلدی سوکھ جاتے ہیں جبکہ سردیوں میں کافی وقت لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں ہوا میں نمی کم اور ہوا کا درجہ حرارت زیادہ ہو تا ہے جبکہ سردیوں میں ہوا میں نمی زیادہ اور ہوا کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر آپ کپڑے کو اچھی طرح سے پھیلائیں گے تو اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے وہ جلدی سوکھ جائے لیکن اگر اس کو پھیلائے بغیر ویسے ہی تار پر لٹکا دیں گے تو وہ شام تک نہیں سوکھے گا۔

پانچویں حکمت


مستقل بیڈ بنانے سے زمین میں فائدہ مند جراثیموں کی بھر پور نشوونما ہوتی ہے

اگر آپ صحت مند زمین سے مٹی کا ایک چمچ لیں تو اس ایک چمچ مٹی میں 7 ارب سے زیادہ فائدہ مند جراثیم پائے جاتے ہیں۔ یعنی جتنی دنیا میں تمام انسانوں کی آبادی ہے اس سے زیادہ حیات صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں پائی جاتی ہے۔

زمین میں پائے جانے والے یہ مفید جراثیم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی طرح سانس لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو مچھلی کی طرح ہوا لگنے سے مر جاتے ہیں۔ جب ہم زمین میں کھلا پانی چھوڑتے ہیں تو وہ جراثیم جو انسان کی طرح سانس لیتے ہیں پانی میں زیادہ دیر ڈوبے رہنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے جراثیم جو مچھلی کی طرح ہوا لگتے سے مر جاتے ہیں، انہیں ہم ہل چلا کر ہوا لگاتے ہیں جس سے وہ مر جاتے ہیں۔

زمین میں ایسے کروڑوں عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم ہوتے ہیں جن کی نشوونما بہت ضروری ہے


زمین میں ایسے کروڑوں عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم ہوتے ہیں جن کی نشوونما بہت ضروری ہے
لیکن جب ہم مستقل بیڈ بنا کر زمین کو کھیلیوں میں پانی لگاتے ہیں تو دونوں طرح کے مفید جراثیم نہ صرف محفوظ رہتے ہیں بلکہ خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ہل چلا کر کھیت میں کھلا پانی چھوڑیں گے تو کچھ جراثیم پانی میں ڈوب کر اور کچھ ہوا لگنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ یہ جراثیم عام آنکھ سے نظر نہیں آتے البتہ طاقتور شیشوں کی مدد سے انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔

انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ان مفید جراثیموں کے بارے سائنس دانوں کا علم محدود ہے۔ ان کی انواع و اقسام اور ان کے کردار پر تحقیق جاری ہے۔ یہ جراثیم نہ جانے کون کون سے غذائی اجزاؑ تیار کر کے پودے کو دیتے ہیں جس سے پودا سر سبزو شاداب نظر آتا ہے اور بھر پور پیداوار دیتا ہے۔

چھٹی حکمت


بیڈ بنا کر فصل کاشت کرنے سے کیمیائی کھاد کی ضرورت بہت کم پڑتی ہے۔

جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ بیڈ بنا کر آب پاشی کرنے سے زمین میں مفید جراثیموں کی پھر پور نشوونما ہوتی ہے۔ یہ جراثیم کھیت میں موجود فصلوں کی باقیات کو پودوں کے دلپسند غذائی اجزاء میں تبدیل کرتے ہیں جس سے پودوں کو کسی طرح کی غذائی کمی نہیں آتی اور کیمیائی کھادوں کا استعمال کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ واضح رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں فصلوں کی باقیات کو زمین کے اوپر ہی پڑا رہنے دیا جاتا ہے جسے یہ جراثیم غذائی اجزاء میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔


اس تصویر میں جراثیم پودے کی جڑوں کے آس پاس دکھائے گئے ہیں جو زمین سے خوراک حاصل کرنے میں پودے کی مدد کرتے ہیں
جب آپ نئے نئے بیڈ بنائیں تو اس وقت ہو سکتا ہے آپ کو دو چار کلو فی ایکڑ کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑے لیکن جب یہ جراثیم اپنی آبادی بڑھا لیتے ہیں اور اپنا کام شروع کر دیتے ہیں تو پھر کسی طرح کی کیمیائی کھاد کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ساتویں حکمت


بیڈ بنا کر پانی لگانے سے پانی کی خاطر خواہ بچت ہوتی ہے۔

جب ہم زمین میں کھلا پانی چھوڑتے ہیں تو اس پانی کا 10 فیصد حصہ زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ 70 فیصد پانی زمین سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ کھلا پانی چھوڑنے کی صورت میں پودا صرف 10 سے 20 فیصد ہی پانی استعمال کر پاتا ہے اور باقی سارا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

یہ بات تجربات سے ثابت ہے کہ بیڈ بنا کر اگر فصل کاشت کی جائے اور زمین کو کھاس پھوس سے ڈھانک کر رکھا جائے تو پانی کی 80 فیصد تک بچت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ لاکھوں روپے کا ڈرپ آبپاشی نظام لگا کر جتنے پانی کی بچت ہوتی ہے، کم و بیش اتنے ہی پانی کی بچت مفت میں بیڈ بنا کر ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈرپ آبپاشی نظام کے فوائد، بیڈ آبپاشی کے مقابلے میں کئی حوالوں سے کم ہیں جنہیں آنے والے مضامین میں بیان کیا جائے گا۔

آٹھویں حکمت


بیڈ بنا کر فصل کاشت کرنے سے پودوں کی جڑوں کا نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے

پودا خود تو ساکن ہوتا ہے لیکن اس کی جڑیں زمین میں چلتی پھرتی رہتی ہیں۔ یہ جڑیں زمین میں چل پھر کر اپنی خوراک تلاش کرتی ہیں۔ پودے کو جس طرف پانی نظر آتا ہے جڑیں اس طرف کو بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پودے کے لئے بہت ضروری ہوتا کہ وہ اپنی جڑوں کا جال دور دور تک پھیلائے۔ کیونکہ جتنا بڑا جال ہو گا اتنی ہی زیادہ خوراک پودا زمین سے حاصل کر سکے گا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس مچھلی پکڑنے کے لئے بڑا جال ہو تو اس میں زیادہ مچھلی آتی ہے لیکن اگر جال ہی چھوٹا ہو تو اس میں بہت کم مچھلی آتی ہے۔ اس لئے پودے کی جڑ کے جال کا بڑا ہونا بہت ضروری ہے۔



بیڈ پر موجود پودے نے کھیلیوں سے پانی حاصل کرنے کے لئے اپنی جڑیں دور دور تک پھیلا رکھی ہیں
خوراک کے علاوہ پودے کی جڑوں کا جال پودے کو زمین میں مضبوتی سے گاڑ کر رکھتا ہے۔ اگر جڑیں مضبوط ہوں گی تو فصل کبھی بھی آندھی وغیرہ چلنے سے نہیں گرے گی چاہے پانی لگانے کے فوراََ بعد ہی آندھی آ گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ پودے کی جڑوں کا جال بڑا کیسا ہو گا؟

اس بات کو سمجھنے کے لئے مثال بالکل سادہ ہے۔ اگر پانی کا گلاس آپ کے دائیں ہاتھ کے بالکل ساتھ پڑا ہوا ہے تو آپ وہیں سے اٹھا کر پی لیں گے۔ لیکن اگر یہی گلاس دو فٹ دور پڑا ہوا ہے تو پھر آپ کو گلاس اٹھانے کے لئے اپنے بازو کو حرکت دے کر دور لے جانا پڑے گا۔ لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ پودے کی جڑوں کا جال بڑا ہو تو ہمیں پانی پودے سے دور رکھنا پڑے گا۔ اور یہ کام بیڈ یا پٹڑیاں بنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سوائے گاجر مولی وغیرہ کے اکثر پودوں کی جڑیں چار چار پانچ پانچ فٹ گہرائی تک چلی جاتی ہیں اور اگر حالات سازگار ہوں تو اسی طرح اطراف میں بھی پھیلتی ہیں۔

یہاں پر میں آپ سے ایک دلچسپ سوال پوچھتا ہوں۔

فرض کریں کہ آپ نے 42 انچ کے بیڈ پر گندم کی 5 لائنیں لگائی ہوئی ہیں۔ باہر والی دو دو لائنیں پانی کے ذیادہ قریب ہیں اور درمیان والی ایک لائن پانی سے دور ہے۔ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سی لائنیں زیادہ صحت مند ہوں گی؟ درمیان والی ایک لائن یا باہر والی دو دو لائنیں؟

یہ سوال جس سی بھی پوچھا جاتا ہے وہ اس کا یہی جواب دیتا ہے کہ باہر والی دو دو لائنیں چونکہ پانی کے ذیادہ قریب ہیں اس لئے وہ زیادہ صحت مند ہوں گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔

سالہا سال کے مشاہدے سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ درمیان والی وہ لائن جو پانی سے زیادہ دور ہے وہ زیادہ صحت مند اور خوش باش ہوتی ہے بہ نسبت ان لائنوں کے جو پانی کے بالکل قریب ہوتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر والی لائن کے پودوں کو پانی کی تلاش کرنے کے لئے کہیں جانا ہی نہیں پڑا انہیں وہیں پر پانی مل جاتا ہے۔ جبکہ درمیان والی لائن کو پانی کی تلاش میں 21 انچ دور جانا پڑے گا جس سے پودے کی جڑوں کا جال زیادہ پھیل پھیل جائے گا اور جڑوں کے پھیلاؤ اور مضبوطی کی وجہ سے پودے کو خوراک زیادہ ملے گی اور پودا زیادہ صحت مند ہو گا۔ درمیان والی لائن کا سٹہ بھی پہلے نکلے گا ، اس کا سٹہ لمبا بھی ہو گا اور پودا بھی خوش حال ہو گا۔

نویں حکمت

بیڈ بنا کر آب پاشی کرنے سے آپ کی زمین کلرزدہ نہیں ہوتی

ایک بات ذہن میں رہے کہ کوئی پانی ایسا نہیں ہے جس میں نمکیات نہیں ہوتے۔ بلکہ نہری پانی میں بھی نمکیات کی مقدار 500 سے 1000 پی پی ایم تک ہوتی ہے۔

ننگی زمین پر پانی کھلا چھوڑنے کی صورت میں 70 فیصد پانی کھیت سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ اسی طرح 10 فیصد پانی زمین کی گہرائی میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اور باقی پانی جسے زمین جذب کر لیتی ہے اس میں سے بھی پانی کا کچھ حصہ زمین کے مساموں سے بخارات بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ باقی 10 سے 20 فیصد پانی رہ جاتا ہے ہے جسے پودا اور زمین میں موجود دوسرے جراثیم استعمال کر تے ہیں۔

پانی کا وہ حصہ جو زمین کے مساموں سے یا کھیت کی سطح سے براہ راست ہوا میں اڑ جاتا ہے وہ زمین میں کلر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

دراصل جب پانی ہوا میں اڑتا ہے تو وہ خالص شکل میں اڑتا ہے۔ اور جب پانی اڑتا ہے تو وہ اپنے پیچھے زمین میں نمکیات چھوڑ جاتا ہے جس سے زمین میں نمکیات کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ جب ہماری زمین کلراٹھی ہو جاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین کی پی ایچ بڑھ جاتی ہے۔

بیڈ بنا کر پانی لگانے سے چونکہ بہت کم پانی ہوا میں اڑتا ہے اس لئے آپ کی زمین کلر جیسے مسائل سے محفوظ رہتی ہے۔

دسویں حکمت


بیڈ کاشت میں بارش کی صورت میں اضافی پانی کھیت سے نکل جاتا ہے

یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیادہ بارش ہو جائے اور پانی کھیت میں 48 گھنٹوں سے زائد وقت کے لئے کھڑا رہے تو پودے دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ نے بیڈ بنا کر فصل کاشت کر رکھی ہے تو اضافی پانی ان کھیلیوں کے ذریعے کھیت سے باہر نکل جاتا ہے جس سے آپ کی فصل محفوظ رہتی ہے۔

آخری بات


ایک سوال جو آپ کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اگر چوڑے چوڑے بیڈ بنا کر ان پر فصل کاشت کریں تو کیا پانی بیڈ کے درمیان تک پہنچ پائے گا؟

تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ساڑھے تین فٹ کا بیڈ بنا کر اگر فصل کاشت کریں تو پانی باآسانی بیڈ کے درمیان تک چلا جاتا ہے، بشرطیکہ آپ کی زمین کی پی ایچ ساڑھے ساتھ کے آس پاس ہو یعنی آپ کی زمین میں نمکیات زیادہ نہ ہوں۔


ساڑھے تین فٹ کے بیڈ میں پانی باآسانی جذب ہو جاتا ہے

ہاں اگر آپ کی زمین کی پی ایچ ساڑھے سات سے زیادہ ہے تو پھر اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ زمین کو پانی لگائیں اور جب زمین وتر آ جائے تو ہل چلا کر بیڈ بنائیں اور وتر میں ہی فصل کاشت کر دیں۔ جب پودے کا اگاؤ ہو جائے گا اور وہ اپنی جڑیں بنا لے گا تو پھر پودا خود ہی جڑوں کے ذریعے پانی حاصل کر لے گا۔ واضح رہے کہ پودے کی جڑیں خود ہی اس طرف بڑھنا شروع کر دیتی ہیں جس طرف پانی ہوتا ہے۔ اور پھر جب دو تین ہفتوں میں جڑیں لمبی ہو جاتی ہیں تو جڑوں کی وجہ سے زمین کھل جاتی ہے اور پانی جذب ہو کر بیڈ کے درمیان تک پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

یہ مضمون لکھنے کے لئے محترم آصف شریف کے افکارو تجربات سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget