کالم لسٹ "جانوروں کی افزائش"

کٹیاں 15 ماہ میں گھبن اور کٹا سال میں

400 کلو سے زیادہ کرنے کا فارمولہ یہ کتابی کہانی نہیں حقیقت ھے میرے عام فارمولہ کے رزلٹ آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں. ھزاروں فارمرز میرے اس فارمولے سے منافع بخش فارمنگ کر رھے ہیں یہ فارمولہ اس کی گھبن ماں کو ونڈہ کے فارمولہ سے شروع ھوتا ھے
گھبن بھینس یا گائے بچے کی پیدائش سے 3 ماہ پہلے
میرا مندرجہ ذیل سادہ فارمولہ دیں
مکئی دلیہ 1 +چوکر گندم 1 + کھل بنولہ 1 کلو
یا (1 کلو میظ گلوٹن جوکہ کھل سے بہت سستا ھے )
100گرام بائی پاس فیٹ روزانہ
آخری ماہ ڈبل ونڈہ کر دیں 3+3 صبح شام

نوٹ.(کھل بنولہ کا مہنگی ھے فارمولہ سستا کرنے کے کھل بہتر مگر 30 روپے کلو میظ گلوٹن رفحان استعمال کریں)
اس سے بھینس کا
پہلے سوائے سے 5/6 کلو دودھ بھی زیادہ ھو گا
پیدا بچے کا وزن عام بچے سے 6/7 کلو زیادہ ھو گا
(اس کے بعد پیدائش کے بعد بوھلی بار بار پینے دیں بلکہ اس کو کھلا چھوڑ دیں اپنی مرضی سے بار بار پینے دیں یہ وہم ھے کہ اس سے اس کو پیچش لگ جاتے ایسا کوئی مسلہ نہیں )
اس کو 4/5 کلو دودھ پینے کے لیے 2.تھن دودھ دیں
4/5.دن تک اس کو سادہ چوکر اس کے منہ میں 3/4.دفعہ ڈالیں اور اس کے سامنے کھرلی میں موجود ھو یہ خود ھی کھانا شروع کر دے گا
2 ماہ تک کھل بنولہ کاف سٹارٹر میں ڈالیں اس کے بعد کھل کا خرچہ کم کرنے کے لیے کھل کی جگہ آپ میظ گلوٹن بھی استعمال کر سکتے ہیں

کاف سٹارٹر فارمولہ
مکئی دلیہ.. 20 کلو
چوکر........ 10 کلو
سویابین.... 10 کلو یا (کھل بنولہ)

کاف سٹارٹر پانی کے برتن کے ساتھ اس کے سامنے کھرلی میں ھر وقت موجود رھے اور اس کو 2 ماہ تک رسی کھول کر علیحدہ عارضی باڑے میں رکھیں۔ اس طرح نوزائیدہ بچہ خوشں رھتا ھے اوراپنی مرضی سے کاف سٹارٹر بہتر طریقے سے کھاتا ھے

پیدائش کے وقت وزن اگر 45 کلو ھو تو
وزن دوگنا 90 کلو ھونے پر
(جوکہ 2/3 ماہ کے بعد ھو جاتا ھے)

اس کے بعد اس کا دودھ آہستہ آہستہ بند کر دیں اور اس کو دودھ نکالنے کے لیے دودھ دیں۔ 

اب اس کی کی پرورش

کاف سٹارٹر اور خشک برسیم یا لوسن پر پرورش کریں 4/5 کلو خشک برسیم / لوسن /روڈ گراس
یا سبز چارہ دیں
6 ماہ کے بعد یہ فارمولہ استعمال کریں
.مکئی.......... 40 کلو
چوکر ........40 کلو
سویابین میل 20 کلو
پوڈر DCP 2 kg
L. S Mineral mixture100 grms
By Pass Fats 5 kg
سب کو مکس کر کے ھر وقت کھانے کے لیے دستیاب ھو

اس طرح سے جس نوزائیدہ کٹے کٹی جس کا وزن پیدائش کے وقت 45 کلو تھا
ایک سال میں 400 کلو ھو جائے تو یہ گرم بھی ھوتو
اس کو گھبن مت کروایں
اس سے پہلے اگر گرم ھو تو ملائی مت کروایں
اور جب وزن کلو 450 کلو ھو جائے تو کروائی جائے
یہ کتابی کہانی نہیں
ثابت شدہ عملی رزلٹ ہیں

سائنسی کلیہ کے تحت
گھبن ھونے کا تعلق وزن سے ھے
پیدائش کے وقت وزن 45 کلو تو
ملائی کے وقت وزن 450 کلو ھونا چاہیے

نوٹ * وزن کرنے کا گھریلو طریقہ آسان ھے. اب وزن کی پیمائش کا فیتہ بڑے شہروں میں بازار سے دستیاب ھے اور
گوندل برادرز سے فون 03006986918 سے ھوم ڈلیوری پر دستیاب ھے .اس کے علاوہ سویابین اور میظ گلوٹن گروپ ممبران کو ٹرک بلٹی سے اپنے شہر منگوانے کی سہولت مہیا کی گئی ھے

تحریر ڈاکٹر خالد پرویز 03231492130 (واٹس ایپ)
سابقہ / ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک


جانوروں کے چیچڑوں کا مکمل خاتمہ

علاج نمبر 1:

اکثر جانوروں پر چیچڑ لگ جاتے ہیں، جو جانور کا خون چوستے ہیں اور ان سے جانور کمزور بھی ہوتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کے لیئے انجکشن آئیورمیکٹن کھال میں صرف ایک ڈوز لگائیں، آئیور میکٹن حاملہ جانوروں میں استعمال نہ کریں، ان کی لیئے نیچے بتائی گئی دوسری دوا استعمال کریں ۔

Inj. Ivermectin 1%
(Dose: 1ml per 40kg)

علاج نمبر 2:

ایکٹوفون پائوڈر چیچڑوں کے لیئے بہترین دوا ہے۔ یہ پاؤڈر ایک کلو پانی میں 10گرام حل کیا جاتا ہے اور کسی کپڑے وغیرہ سے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ یہ دوا حاملہ جانور کیلئے محفوظ ہے، اسکے علاوه جانور کے چاٹنے کی صورت میں بھی اس کا کوئی نقصان نہیں۔

Ectofon Powder 10gm
(Prix Pharmaceutical)

علاج نمبر 3:

سائیپر میٹ دوا لیکوئیڈ کی صورت میں ہوتی ہے، اس دوا کا 10ml ایک لیٹر پانی میں حل کرکے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کیلئے یہ سب سے موئثر دوا ہے، لیکن جانور اس دوا کو ہرگز چاٹ نہیں سکتا۔ حاملہ جانوروں کیلئے بھی محفوظ دوا ہے۔

Cypermit (Eterna)
10ml per 1 liter water

سائیپر میٹ اور ایکٹوفون، دونوں دواؤں کو جانوروں کے رکھنے کی جگہ پر اسپرے کی صورت میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
چیچڑوں کے خاتمے کیلئے اوپر دی گئی کوئی بھی دوا استعمال کرنے کے 21دن بعد دوبارہ ضرور استعمال کریں، تاکہ انڈوں سے نکلنے والے نئے چیچڑوں کا خاتمہ بھی ہو سکے، ورنہ وہ دوبارہ آپ کے جانور کی تباہی کا سبب بنیں گے۔

جانور کی اصل دشمن توڑی // نا قابل ھضم
( 50% سے زیادہ گوبر میں ضالع اور ھاضمے کی خرابی
اور بدضمی کا سبب ھے
اس کو آسان طریقہ سے براون توڑی بنا کر قابل ھضم بنائیں اور غذائیت دوگنا کر کے جانوروں کی صحت بڑھائیں اور 
پھکیوں اور چورن سے نجات پائیں.

 اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم صبح کے وقت اٹھتے ہیں تو جسم میں شدید کمزوری محسوس کرنے کے ساتھ تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں دن کا آغاز انتہائی مشکل ہوجاتا ہے اور ہم سارا دن نیند اور بے چینی کاشکار رہتے ہیں،آئیے آپ کو لیموں اور زیتون کے تیل کو ملاکر بنائے جانے والا ایسا جادوئی نسخہ بتاتے ہیں جس کو ایک بار استعمال کرنے کے بعد آپ ساری عمر ایسا کرتے رہیں گے۔یہ نسخہ صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور ہر کسی نے اسے بہت ہی مفید پایا ہے۔ایک لیموں لے کر اس کا رس نکالیں اور اس میں ایک کھانے کا چمچ خالص زیتون کے تیل کا ڈالیں۔اب اس آمیزے کو ہر صبح استعمال کرنے سے آپ کے متعدد صحت کے مسائل حل ہوجائیں گے۔یہ آمیزہ ناشتے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں تبدیلی آئے گی۔اس کی وجہ سے آپ کی قبض ٹھیک ہوگی، دل کی بیماریاں دور رہیں گی اور ساتھ ہی جگر،پِتا اور لبلبہ بہتر طریقے سے کام کرنے لگیں گے،گردے اور مثانے کے مسائل بھی حل ہوں گے اور ساتھ ہی جگر بھی صاف ہوجائے گا۔
زیتون کا تیل
زمانہ قدیم ہی سے رومن اور یونانی اقوام اس کی افادیت کو مانتی آئی ہیں اور اسے ’مائع سونے‘کا نام بھی دیا گیا ہے۔اس میں موجود فیٹی ایسڈکی وجہ سے برے کولیسٹرول کو کم کیاجاسکتا ہے اور اس کی وجہ سے جسم سے زہریلے مادے بھی نکالے جاسکتے ہیں۔
لیموں
وٹامن سی ،پوٹاشیم،فاسفورس، پروٹین، وٹامن بی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور اس پھل میں کئی بیماریوں کا علاج موجود ہے۔لیموں اور زیتون کے تیل کوملاکر استعمال کرنے سے آپ کا معدہ بہتر طریقے سے کام کرسکے گااور معدے سے زہریلے مادے فضلہ کی صورت میں نکل جائیں گے۔

بھوسہ کی غذائیت 100% بڑھا کر سبز چارے کے برابر کریں بھوسے ناقص خوراک ھے اور اس کی غذائیت نہ ھونے کے برابر ھے
25 کلو توڑی پر 10 کلو پانی میں۔۔۔۔ 1 کلو یوریا کھاد
50 کلو توڑی تہہ ۔۔۔۔20 کلو پانی . ۔۔۔۔ 2 کلو یوریاعام کھاد
100 کلو توڑی ۔۔۔۔۔۔۔40 کلو پانی ۔۔۔۔۔۔۔ 4 کلو یوریا کھاد

ضرورت کے مطابق بھوسہ کی ھموار تہہ پلاسٹک شیٹ پر بچا کر نرسری کے پھُوارے یا سپرے مشین کھلی نوزل سے
محلول سپرے کرئیں۔ اور ایک یا دو آدمی ساتھ ساتھ اس توڑی کو مکس کرتے جائیں تاکہ یہ محلول اچھی طرح ساری توڑی کے ساتھ مکس ھو جائے۔ اس کو اب پلاسٹک شیٹ یا بڑے پلاسٹک شاپر لفافہ میں میں اس طرح پیک کریں کہ اس میں ھوا داخل نہ ھو سکے۔

*ایک ماہ تک ائیر ٹائیٹ رکھ کر کھول دیں اس کے بعد بند رکھنے کی ضرورت نہیں

اب یہ توڑی تیار ھے اس کو اب آپ کھول کر عام توڑی کی طرح بھی رکھ سکتے ہیں یا اس شاپر کے اندر سے نکل کر استعمال کر سکتے ہیں

کیمیائی عمل

*یہ یوریا کھاد کچھ دن بعد امونیا گیس میں بدل جاتی ھے اور یہ خیال کہ یوریا کھاد کا اثر دودھ میں آتا ھے جوکہ انسانوں کے لیے خطرہ ھے یہ تو امونیا گیس کا کمال ھے جوکہ توڑی کے اوپر سخت تہہ Lignin پر اثر کرکے اس کو ختم کر دتیی ھے جو کہ عام توڑی کو ناقابل ھضم بناتی ھے

ایک ماہ بعد توڑی کا رنگ براون ھو گا اور توڑی کو سونگھنے پر آپ کو امونیا گیس تیز چُھبتی بُو محسوس ھو گی جوکہ عارضی ھے
توڑی کو استعمال سے پہلے کھلی ھوا پر رکھنے سے وہ ختم ھو جاتی ھے
اس توڑی کو ونڈے میں استعمال کریں
جس سے %16 Cp پروٹین ونڈے کی Cp پروٹین بڑھ کر 20% ھو جائے گی
اگر 1% یوریا شیرہ مکس کریں گے تو اس کی غذائیت مزید بڑھ جائے گی % Cp بڑھ کر 22 تک ھو جائے گی

یوریا محلول چھڑکاو کرکے ایک ماہ تک پلاسٹک شیٹ میں آئیر ٹائیٹ بند رکھنا ھے
** پبلک سروس میسج از ڈاکٹر خالد پرویز


دودھیل جانوروں کا کیمیکلز سے پاک سستا خالص صحت افزاء اور  وٹامنز/منرلز سے بھوپور ونڈہ گھر بنائیں

چاول دانہ بیس کلو (ٹوٹہ)
جو/گندم ایک من
مکئی ایک من
کالا چنا پانچ کلو
گڑ پانچ کلو
تارہ میرا دس کلو
سونف ایک کلو
آیوڈین نمک تین کلو
کھل بنولہ ایک بوری

نمک، سونف اور گڑ کے علاوہ سب کو موٹا پسوا لیں (گریڈ چار کی چکی کی پسوائی بہتر رہے گی۔
بعد ازاں اس میں نمک، گڑ اور سونف ڈال کرٹاٹ بچھا کر سب اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں اور مکس شدہ ونڈہ کو پولی تھین بوری (پلاسٹک کا توڑا) میں محفوظ کرلیں۔
اس ونڈے کو روزانہ چارے یا توڑی میں ملا کر دیں، اس سے نہ صرف جانور کی قوتِ مدافعت بڑے گی بلکہ دودھ بھی بڑے گا۔
مارکیٹ میں دلکش پیکنگ دیکھ کر کھاد اور ٹاکسن ملا زہر مت خریدیں گھر ونڈہ تیار کرنے میں  تھوڑی محنت درکار ہے، ان شاء الله بہترین نتائج ملیں گے۔

ونڈہ آدھا کلو صبح/شام بھگو کر شروع کرنا ہے۔
جانور کو پسند آئے اور پانچویں دن تک آپکو مثبت نتائج نظر آئیں تو ہر ہفتے مقدار آدھا کلو بڑھاتے رہیں اور ڈھائی کلو صبح شام تک دیں،

اس ونڈے میں جانور کو ملیں گے وٹامنز اور منرلز۔ یعنی پروٹین، میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، کاربز، آئرن، سوڈیم، شوگر،فائبر، وٹامن اے، بی چھے، سی، وغیرہ۔


دوسرا طریقہ 


اسان اور سستی فارمنگ
ونڈہ اور متوازن غذا
یاد رکھنا ونڈہ خود بناٶ ورنہ نقصان اٹھاٶ ۔
جدید ڈیری فارمنگ میں ساری اہمیت متوازن غذا کی ہے کچھ لوگ بہت اچھی نسل کے جانور مہنگے داموں لیتے ہیں پر جب ان کے گھر اتا ہے تو دودھ کم کرتا چلا جاتا ہے اور پھر کچھ لوگوں کو کہتٕے سنا ہے کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے۔ایسا نہی ہے اسکی بنیادی وجہ متوازن خوراک نہی دی جاتی ۔جسکی وجہ سے جانور دودھ کم کرتا چلا جاتا ہے ۔میں نے دوغلی نسل کو اچھا دودھ دیتے دیکھا ہے کیونکہ انکو متوازن غذا دی گی اسلیے انکی دودھ کی پیداوار زیادہ رہی ۔متوازن غذا ہے کیا ۔
ہم متوازن غذا اسکو کہتے ہیں جسمیں کاربوہاٸیڈریڈ ۔پروٹین۔ویٹامن ۔کیلشیم۔فیٹ۔فاٸبر ۔اٸیرن (فولاد)۔شوگر۔سوڈیم اور منرل وغیرہ ہوں ۔کیونکہ یہ سب اجزا دودھ میں ہوتے ہیں اور اگر جسم میں انکی مقدار کم ہو گی تو دودھ بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ایک حد تک تو جانور اپنے جسم سے یہ سب پوری کرتا ہے ۔پھر جانور دودھ کم کر دیتاہے۔دودھ دینے والے جانور کو بہت خوراک کی ضرورت نہی ہوتی بلکہ متوان خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسکی مثلا ایسے ہی ہے جیسے ایک ادمی چار روٹیاں کھاے اور دوسرا ادمی ایک روٹی ایک انڈا ایک بوٹی اور ایک گلاس دودھ پیے ۔پہلے ادمی نے خوراک تو زیادہ کھاٸی پر غزاٸی اعتبار سے دوسرے ادمی کی خوراک بہتر تھی ۔
یہی چیز اب جدید ڈٸیری میں چاہیے دودھ والے جانوروں کو بہت سارا چارہ نہی چاہیے بلکہ متوازن چارہ اور غزاٸی اجزا چاہیے اسمیں کچھ تو ہم سبز چارہ ۔ساٸلیج۔براٶن توڑی یا توڑی سے لیتے ہیں۔اور کچھ ہم اجناس سے اورکچھ معدنیات سے حاصل کرتے ہیں ۔
اجناس اور معدنیات کاجو مرکب ہم بناتے ہیں اسکو ہم ونڈا کہتے ہیں ۔زیادہ فارمر پریشان رہتے ہیں کہ اسکو بنایا کیسے جاتا ہے ۔
فارمر حضرات میری ایک بات یاد رکھنا ونڈا خود بناٶ ورنا نقصان آٹھاو۔
ونڈا بنانے کیلیے ہم اسکو چار گروپ میں تقسیم کرتے ہیں ۔
فرض کریں ہم نے سو کلو ونڈا بنانا ہے تو ہم اسکو یوں بناٸیں گے۔اسکو میں اپکو گروپوں میں سمجھاتا ہوں ۔ان گروپوں میں سے جو جوچیز اپکوسستی اور اسانی سے میسر ہو وہ اپ لیں ۔

گروپ 1

کھل بنولہ ۔کھل توریا ( سرسوں)
دونوں میں سے کوٸی 30 کلو لیں

گروپ 2

چوکر ۔میز گلوٹن۔دالوں کا برادا ۔چنے کا برادا۔
ان میں سے کوٸی دو 15 +15 کلو لیں ۔کل 30 کلو

گروپ 3

مکٸی کا باریک دلیہ ۔راٸس پالش ۔ جو ۔گندم کاباریک دلیہ۔چنے کا بریک دلیہ۔شیرہ راب۔
شیرہ دس کلو باقی انمیں سے کوٸی دو 12 12 کلو لیں ۔
اگر میسر نہی تو پھر مکٸی ہی 24 کلو لیں ۔
گروپ 4
منرل مکسچر دو کلو
باٸی پاس فیٹ دوکلو
نمک ایک کلو
کیلشیم(DCP ۔انڈا کاچھلکا۔چونے کاپانی۔ہڈیوں کا کاچورہ) ایک کلو
بجھا چونا ایک کلو

تمام گروپ میں سے مقررہ مقدار لیں اور سبکو باریک پیس کر سب کو ملا لیں ۔گروپ 4 میں سے سب اجزا کولینا ہے۔باقی تین میں سے جو جواپکو سستا ملے وہ وہ لے لیں۔
اب ونڈا اور چارہ کس جانورکو دینا کتنا ہے ۔دودھ والی دیسی گاۓ کو 8 کلو ساٸلیج 10 کلو سبز چارہ۔اور براٶن توڑی تین کلو۔اگر ساٸلیج میسر نہی توپھر چارہ 18 کلو ۔ اگر فریزین گاۓ یا بھینس ہے ہےتو پھر 10 کلو ساٸلیج۔دس کلو سبز چارہ ۔چار کلو براٶن توڑی ۔
اب دودھ والے جانور کو ونڈہ کس حساب سے دینا ہے ۔
تین کلو دودھ پر ایک کلو ونڈا دینا ہے اگر دودھ 24 گھنٹے میں 15 کلو ہے تو 5 کلو ونڈہ دینا ہے ۔اگر 17 یا 18 کلو دودھ ہے تو 6کلو ونڈا دینا ہوگا ۔بہتر نتاٸج کیلے ادھاونڈا صبح اورادھا شام کو کودیں۔
اگر جانور بچہ دینے کےبعد 13 کلو دودھ ہے تو اسکو 5 کلو ونڈا دیں دس پندرہ دن میں اگر دودھ 15 کلو کرگیا تو پھر اسکو6کلو ونڈا دیں اور پھر اگر دس دن بعد دودھ 16 یا 17 کلو ہوجاے تو 7 کلو ونڈا دیں جب جانور کادودھ ایک مقدار پر رک جاۓ پھر اسے تین کلو دودھ پرایک کلو ونڈا ہی دیتے جاٸیں ۔
یہاں ایک بات نوٹ کریں کہ فریزین کو نمک کیلشیم اور شیرہ زیادہ دیں۔اگر اپ نہی دیں گے تو فریزین چواٸی کےبعد بلڈ پریشر یا شوگر کم ہونے سے مر بھی جاتا ہے یا پھر گر جاتا ہے۔یا پھر اس سے صحیح سے اٹھا نہی جاتا۔
کوشش کریں فی کلو ونڈہ 35 سے 40روپے سے کم میں ہی پڑے ۔
جانور 20 % دودھ بروقت اور صاف پانی پینے سے بڑھاتا ہے ۔دودھ والے جانور کے پاس ہر وقت پانی موجود ہو خاص طور پر فریزین کیلیے ۔
گبن اور دچھے وچھیوں کو یہ ہی ونڈا دینا ہے سب کو صرف فربا جانوروں کیلیے براٶن توڑی اور ونڈا دینا ہے اور شیرہ ونڈہ میں مکس نہی کرنا ۔ایک کلو
شیرہ کو گیارہ کلو پانی میں مکس کر کے وہ پانی ہر وقت دینا ہے ۔اسطرح وچھے چھ ماہ اور بکرے سو سے ایک سو دس دن میں فربا ہو جاتے ہیں ۔
ونڈا میں جو چیزیں پانی والی ہیں اسکو ونڈا میں اسوقت شامل کریں جب ونڈا جانور کو دینا ہو ۔
جانور کسان کا زیور ہے اسکی حفاظت کریں ۔
خوشحال کسان مضببوط پاکستان ۔

تیسرا طریقہ

جانور کو 6 ماہ کاف سٹاٹر ونڈہ کے بعد اس فارمولے پر پالیں فربہ کرنے کا ونڈہ


چوتھا طریقہ


پانچواں طریقہ


ایک سوال تواتر کے ساتھ پوچھا جاتا ہے کہ، (صوبہ پنجاب کی حد تک)، بکری کی کون سی نسل پالی جاۓ۔ اس موضوع پر تفصیلات، ہمارے ناقص علم اور تجربات کے مطابق، مندرجہ ذیل ہیں:

پاکستان کی ساری ہی نسلیں بہترین ہیں۔ ایک مطالعہ کے مطابق 26 نسلوں کی بکریاں موجود ہیں ارض پاک پر۔ سب سے قد آور، دودھ آور اور مضبوط نسل #بِیتل ہے، ماشاءاللہ۔ بِیتل کی کل چھ شاخیں ہیں جو مادہ میں دودھ اور نر میں قد و قامت اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کے حوالے سے ترتیب وار مندرجہ ذیل ہیں:

1- لائلپُوری بیتل (جسے فیصل آبادی یا امرتسری بھی کہا جاتا ہے)۔
2- ناگری بیتل
3- مکھّی چینی بیتل
4- رحیم یارخان بیتل (جسے ہوتل بھی کہا جاتا ہے)
5- نُکری بیتل (جس راجن پوری بھی کہا جاتا ہے)
6- گجراتی بیتل (جسے پوٹھوہاری بِیتل بھی کہا جاتا ہے)

#لائلپُوری (مکمل سیاہ یا سیاہ جسم پر سفید دھبے اور #ناگری (تیز سیاہی مائل سُرخ رنگ، یا اس پر سفید دھبے)، بنیادی طور پر فیصل آباد اور ساہیوال میں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں اور ان علاقوں میں نسلوں سے پالی جا رہی ہیں، لیکن وسطی پنجاب اور بالائی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موجود ہیں۔ دودھ، وزن اور قد میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ ایک اچھی لائلپُوری یا ناگری پہلے سُوۓ میں تین کلو دودھ یومیہ سے شروع ہو جاتی ہے اور بعض گھروں کے پاس چار دانت کی عُمر میں پہلے سُوۓ پر پانچ کلو یومیہ یا زائد والی بکریاں بھی موجود ہیں (ماشاءاللہ تبارک اللّہ)۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کے حوالے سے بھی باقی نسلوں سے بہتر ہیں۔ ماشااللہ۔ یہ دونوں نسلیں آپس میں بہنیں سمجھی جاتی ہیں اور ماحول میں اپنے آپ کو جلدی ڈھالنے کی خصوصیت کی بِنا پر قریبا پورے پاکستان میں پرورش کے لئے موزوں ہیں (سواۓ مسلسل سرد، شدید سرد، مسلسل مرطوب اور ذیادہ گرم خشک علاقوں کے)۔

#مکھّی_چینی_بِیتل بھی عمدہ کارکردگی والی نسل ہے۔ اور ناگری اور لائلپُوری کے بعد دودھ اور قد کے حوالے سے ایک معروف نسل ہے۔ اس نسل کا آبائی علاقہ بہاولپور ڈویژن ہے، اور بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع میں اپنی بہترین بڑھوتری دکھاتی ہے۔ جبکہ ضلع رحیم یار خان میں رحیم یار خانی بھی مکھّی چینا کے ساتھ آ جاتی ہے۔ اپنے آبائی علاقوں میں پالنے کے لئے بہترین نسل ہے، تاہم محنت کے ساتھ بالائی اور وسطی پنجاب میں بھی کامیاب ہو رہی ہے۔

#نُکری_بِیتل (جسے ڈیرہ غازی خان کے ضلع راجن پور کے حوالہ سے راجن پوری بھی کہا جاتا ہے) ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے لئے شاندار نسل ہے۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے چاروں اضلاع لیّہ، مظفرگڑھ، ڈی جی خان اور راجن پور کی آب و ہوا کے مطابق وہاں پالنے کے لئے سب سے بہترین نسل ہے۔ اس نسل کی سب سے خالص صنف، گُلابی نکرے نر بہت اچھا قد اور خوبصورتی رکھتے ہیں۔نُکری مادہ دودھ کے حوالے سے کم دودھ دینے والی نسل میں آتی ہے۔

#رحیم_یار_خانی_بِیتل بہاولپور، رحیم یار خان، صادق آباد، یزمان وغیرہ کے علاقوں اور منڈیوں میں پائی جاتی ہے اور اُس علاقے کی مقبول نسل ہے۔ تیکھے نین نقش اور ماتھے سے شروع ہونے والا ناک کا ابھار اس کی خصوصیات ہیں۔ نر بہتر جسم بناتے ہیں، جبکہ مادہ نسبتا کم دودھ دینے والی نسل ہے۔

#گجراتی_بیتل (پوٹھوہاری) سطح مرتفع پوٹھوہار کے علاقوں میں ذیادہ مقبول ہے اور اس وجہ سے رحیم یار خانی کی طرح علاقائی بیتل کا مقام رکھتی ہے۔ اپنے علاقے میں اچّھی پرورش پاتی ہے۔ نر اچھا وزن کرتے ہیں۔ مادہ دودھ کے حوالے سے بہت معروف نہیں مانی جاتی۔

بِیتل کے بعد، #دائرہ_دین_پناہ نسل بھی دودھ اور گوشت کے حوالے سے قابلِ تعریف ہے اور لیّہ سے کوٹ ادُو جاتے ہوئے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ضلع مظفر گڑھ کے علاقے دائرہ دین پناہ کے نام سے موسوم ہے اور لیّہ، پہاڑ پور، احسان پور، دائرہ دین پناہ اور کوٹ ادو کے علاقوں میں عام نظر آتی ہے۔ تیز سیاہ رنگ میں، گھنے بالوں سے لدا، گُٹھا ہوا جسم اسے ایک مضبوط نسل بناتا ہے۔

یہ بات میں کتابی یا فیس بک پر بیٹھ کر نہیں، اپنے کئی برس کے کھاۓ ہوئے دھکوں، فارموں اور پنجاب کی معروف و غیر معروف منڈیوں کے بارہا سفر کی بنا پر کہ رہا ہوں، کہ، نسل ہمیشہ وہ پالنی چاہیے، جو آپ کے علاقے، آب و ہوا سے مطابقت رکھتی ہو، بہتر قوت مدافعت اور ماحول کی تبدیلی کو جلد قبول کر لینے والی خصوصیات کی حامل ہو۔ مثال کے طور پر (ڈی جی خان ڈویژن کے ساتھیوں سے معذرت کے ساتھ)، اگر راجن پوری پورے ملک میں اسی طرح کا قد کاٹھ نکالتا جو وہ اپنے آبائی علاقے (ڈیرہ غازی خان ڈویژن، خاص طور پر ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع راجن پور) میں کرتا ہے، تو پورے ملک میں راجن پوری ہی پل رہا ہوتا۔

جانور کی خوبصورتی سے پہلے، اپنے علاقے کی آب و ہوا، دستیاب وسائل، اپنی لگن اور دیگر زمینی حقائق کو سامنے رکھیں۔ ہر بندہ اپنے حساب سے مشورہ دے گا۔ وسائل اور وقت آپ ہی کے لگنے ہیں۔ صرف تجربہ کی کمی اور غلط مشوروں کی وجہ سے کامیاب کے ساتھ ساتھ ناکام فارموں کی تعداد بھی بڑھتی ہے۔ جب بھی گوٹس یا کوئی اور لائیو اسٹاک فارمنگ کریں، پہلے تجربہ، تجزیہ اور تقابلی جائزہ ضرور لیجئے۔ سب سے اہم بات، خود اپنے ہاتھوں سے کام کے جذبے کے ساتھ کریں۔ اگر سارا دن نہیں تو کم از کم کچھ گھنٹے ملازم کے ساتھ ضرور لگائیں۔ تحقیق کے ساتھ تجربہ بھی ایک لازمی امر ہے، لازمی ترین امر۔ ایک اور اہم بات، گوبر/مینگنیں اٹھانے، جانور چرانے، پٹھا ونڈا کرنے میں شرم یا محنت کے ذریعے کامیابی۔۔۔۔دونوں میں سے ایک ہی کام ہو سکتا ہے۔

پاکستان کا نام لوں تو سندھ بکریوں کی اقسام میں پہلے نمبر پر ہے معلومات میں اضافہ کے لیئے عرض کرتا چلوں کے پاکستان میں سب سے قدآور نسل جتن ہے دودھ اور گوشت میں پاکستان کی تمام نسلوں سے پہلے نمبر پر ہے بہت سے دوست اس نسل سے نا آشنا ہیں دوسرے نمبر پہ کچھن ہے گوشت اور دودھ کے حساب سے تیسرے نمبر پہ کاموری ہے یہ تینوں سندھ کی نسلیں ہیں بیتل کا نمبر ان سے پیچھے ہے سندھ کی اک نسل لوہری ہے جس کے کان اسکے قد کے برابر ہوتے ہیں اور دودھ دینے کی وجہ سے مشہور نسل ہے گلابی پٹیری بھی سندھ کی بڑی نسلوں میں شمار ہوتی ہیں.
اللّہ پاک سب افراد، جو اس سنت کام کو لے کر چلنا چاہتے ہیں، کو کامیاب فرمائیں اور آسانی، عافیت اور برکت کا معاملہ فرمائیں۔ ۔آمین

بکریوں کی فارمنگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمنگ کم پیسے سے بھی شروع کی جا سکتی ہے ۔ اور بکریوں کی افزائش ہمارے پیغمبروں کا پیشہ بھی رہا ہے۔ اور اس لحاظ سے اس میں برکت بھی ہے۔ بکریوں کی بے شمار اقسام ہیں۔ لیکن بکریوں کی اقسام کا موضوع بھی ایک وسیع موضوع ہے تو اس لحاظ سے اس پر الگ سے پوسٹ لکھ رہا ہوں وہ آپ وہاں جا کر پڑھ سکتے ہیں لیکن آج ہم صرف دو اقسام کو دیکھیں گے اور آج کا ہمارا بنیادی موضوع بھی صرف بکریوں کی افزائش سے متعلق ہے۔ کہ ہم کس طرح بکریوں کو پال کر اچھا منافع کما سکتے ہیں۔ اور ایک بہت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ تو اس کے لئے آج آپ کو مکمل معلومات سے آگاہ کرنے کی کوشش کروں گا کہ کس طرح آپ اس کاروبار کو شروع کر سکتے ہیں کیا کیا چیزیں درکار ہیں۔ اور آپ کو اس بارے میں کون سی معلومات کے بارے علم ہونا ضروری ہے ۔ 
بکریوں کی فارمینگ دو قسم کی ہیں

    bakra farm business
  1. دودھ دینے والی قسم
  2.  گوشت کی پیداوار والی قسم
دونوں اقسام کا کام منافع بخش کاروبار ہیں ۰

فارم بنانے کیلیے جگہ کا انتخاب:۰


  • فارم بنانے کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں پہ فارم کے شیڈ کے قریب قریب جنگل ہو جہاں سبز چارہ ،گھاس،جڑی بوٹیاں ، کیکر ، پھلائی ، بیری ، شہتوت ، جامن ، اور پیپل کے درخت ہوں
  • اگر یہ سہولت موجود نی ہے تو خود کے درخت لگائے
  • اسکے علاوہ چراہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پانی کی ندی نالے یا کسی نہر کا گزر ہو ایسی جگہ کا انتخاب کریں
  • چراہ گاہوں اور کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے وزن بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے
  • چراگاہوں میں جانے والی بکریاں اپنا وزن زیادہ بڑھاتی ہے کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے مقابلہ میں ۔
  • اسکے علاوہ باہر چراگاہوں میں جانے سے بکریاں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اور ہر قسم کا چارا کھانے سے مال مویشی بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۰

۱-بکریوں کے شیڈ کا طریقہ :۰



  • بکریوں کے شیڈ کی تعمیر کے لے ہمیشہ جگہ اونچی ہو اور ایسی جگہ ہو جہاں قریب سیلابی پانی کے آنے کا خطرہ نہ ہو ۰
  • شیڈ کی بنیادیں بھی زمین سے ۲ یا ۳ فٹ اونچی ہو تاکہ اندر کے پانی کی نکاسی اچھی ہو ۰
  • شیڈ کی چھت صحن سے چھ انچ اونچی اور شیڈ کی پچھلی طرف چھ انچ نیچے ہو تاکہ بارشی پانی صحن میں نہ آئے ۰
  • شیڈ کی چوڑائی کا رُخ شمالاً جنوباً ہو۰
  • شیڈ کی چھت (7) سے (9) فٹ اونچی ہو۰
  • شیڈ کی عمارت ہوا دار اور روشن ہو۰
  • شیڈ کے ساتھ اور صحن میں سایہ دار درخت لگائے۰
  • شیڈ کے اندر سردیوں میں دھوپ لگتی ہو۰
  • شیڈ کے فرش پختہ ہو اگر فرش کچے ہے تو اندر کی دیواریں کم از کم (2) فٹ تک پختہ ہوں۰
  • ٹیڈی بکری کیلے ۱۰ مربع فٹ چھتی جگہ ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کی ہو۰
  • بڑی نسل کی بکریوں کیلے (12) مربع فٹ جگہ چھتی ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کے لے ہو۰
  • شیڈ کے اندر چارے کی کُھرلیوں کی تعمیر ۰
  • شیڈ میں پانی کے حوض چوڑائی ایک فٹ گہرائی نو انچ اور لمبائی جانوروں کی تعداد کے مطابق۰
  • شیڈ میں سردی اور گرمی کے مطابق انتظام ۰

۲-بکریوں کا انتخاب :۰

بکریوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے اور اس کیلے اپ کو ان کا علم ہونا لازمی ہے کہ کس علاقہ کی نسل کدھر سے سستی ملے گئی ا س ک ے علاوہ اپ کو ان کی بیماریوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جانور لیتے وقت مکمل تسلی کر لیں کہ کہیں بیمار تو نی ہے یا کسی متعدی بیماری تو نی ہے
  • اس کے لے بکریوں کے کان کے اندر چیچڑ ، منہ اور کُھر کے اندر چھالے یا زخم نہ ہوں
  • تھن دو اور برابر ہوں زخمی یا سخت نہ ہو ں
  • پورا ھوانہ چیک کرے سخت یا سوجن نہ ہو
  • ھوانہ کا سائز بڑا ہو اور کم لٹکا ہو
  • ھوانہ میں دودھ ہو تو دودھ نکال کر چیک کرے
  • جانور کو دست کی بیماری نہ ہوں
  • بکریاں حاملہ ہوں یہ اپ کے لے سود مند ہوں گی
  • بکریاں جوان ہوں
  • ایسی بکریوں کا انتخاب کرے جو دو یا تین بچے پیدا کرنے والی ہوں
  • بکریاں اچھی نسل کی ہوں
  • بکریاں صحت مند ہوں
  • بکریوں کا قد و کاٹھ اچھا ہوں


۳-نئے فارم کے لے انتظامات :۰


نیا فارم شروع کرنے کے لے چند انتظام لازمی عمل میں لائیں
  • فارم صاف و ستھرا ہو
  • فارم میں پانی اور خوراک کا انتظام ہو
  • فارم میں سردی اور گرمی کے لحاظ سے مناسب انتظام ہو
  • فارم کے فرش پر چونے کا چھڑکاؤ ہو
  • فارم میں بکریوں کو اُتے ہی حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
  • فارم میں اگر پہلے سے جانور موجود ہوں تو نئے جانوروں کو دس دن تک الگ رکھے اور ویکسین کر کے شامل کرے
  • حاملہ بکریوں کے آخری ماہ ہونے پر سب سے الگ رکھے
  • تمام جانوروں کو دس دن کے بعد کرموں کی دوائی دیں
  • جانوروں کی مینگنوں کو کسی لیبارٹری سے چیک کروا کر ان کی ہدایت کے مطابق کرم کش دوائی پلائیں


۴-کامیاب فارمینگ کے چند اہم نکات :۰


بکریوں کی فارمینگ کو کامیاب بنانے کیلے میں اپنے چند اہم نقطۂ نظر اپ کی پیش خدمت کرتا ہوں۰
  • جانوروں کا مکمل ریکارڈ رکھیں
  • بکریوں سے سال میں دو دفعہ بچے لیں
  • بکریوں سے حاصل ہونے والے ہر بچہ کی اچھی پرورش کریں
  • تمام بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
  • تمام جانوروں کو اندرونی و بیرونی کرم کش ادویات دیں
  • تمام شیڈ کی صفائی ہر روز کریں
  • تمام شیڈ کو ہر ماہ چونا لازمی کریں خاص کر سردیوں میں
  • بکریوں کی اچھی پیداوار کے لے اچھی صحت کا ہونا اور اچھی صحت کے لے اچھی خوراک کا ہونا لازمی ہے
  • تمام جانوروں کے نمکیات اور منرل کا خیال رکھے
  • حاملہ جانوروں کو قبض سے بچائے
  • حاملہ جانوروں کو اپھارے سے محفوظ رکھیں
  • حاملہ بکریوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
  • چھوٹے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
  • حاملہ بکریوں کو آخری ایام میں ونڈا کا استعمال کرے
  • بکریاں (145/150) دن میں بچہ دیتی ہے
  • بچوں میں میل فروخت کرے اور فیمیل رکھیں
  • حاملہ بکریوں کے ھوانہ کو سوزش سے محفوظ رکھیں
  • نسل کشی 15 مارچ سے 15 اپریل اور 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک کریں
  • ماہ جولائی اور اگست میں بکریوں کا ملاپ نہ کریں
  • ملاپ سے ایک ماہ پہلے بکریوں کو ونڈا استعمال کروائیں
  • 30 بکریوں کے لے ایک بریڈر میل بکرا کافی ہے
  • اس کے علاوہ بھی اپ کے پاس بریڈر میل ہونے چاہیں
  • بریڈر میل کو نسل کشی کے موسم میں ہی ریوڑ میں چھوڑیں


اہم نوٹ:
  • نوکروں کے ساتھ خود بھی شیڈ میں کام کریں
  • جانوروں سے پیار اور محبت سے پیش آنا لازمی شرط ہے


مزید معلومات کے لئے روزانہ چکر لگاتے رہیے۔  جس میں ہم آپ کو مندرجہ ذیل تمام طریقوں کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے ۔

  • ٹیڈی بکریاں
  • بکریوں کی خوراک
  • بکریوں کی بیماریاں اور ان کا علاج
  • ونڈا بنانے کا طریقہ
  • بکریوں کی بیماریاں اور علامات
  • بکریوں کا کاروبار
  • بیتل بکری کی قیمت
  • پاکستان میں بکریوں کی اقسام

بٹیر فارمنگ کے لیے پولٹری کی نسبت کم جگہ اور کم سرمائے کی ضدروت ہوتی ہے جس وجہ سے آپ اس کو گھر کے کسی بھی غیر استعمال شدہ کمرے میں شروع کرسکتے ہیں
یوں تو بیٹر کی کافی اقسام ہیں لیکن جو فارمنگ کے لیےموزوں ہے وہ ہے جاپانی بیٹر ہے اس کا اصل نام (کوٹرنکس جیپونیکا ہے
اس کی مادہ سب سے زیادہ انڈے دیتی ہے یعنی سالانہ 200سے 300 انڈے دیتی ہےاس لیے ہی نسل فارمنگ بہتر رہتی ہے
مرغبانی کی نسبت بٹیر فارمنگ کم سرمائے سے شروع ہوسکتی ہے یعنی کہ ایک بٹیر 20 سے 30 روپے میں پالا جاتا ہے جبکہ برائلر 120سے 125 روپے میں پالاجاتاہے
گوشت کا حصول
اس کے لیے کم جگہ کی ضرورت ہوتی ہے ایک مربع فٹ مین آپ 7سے 8 بٹیررکھے جاسکتے ہیں 
بٹیر فارمنگ میں بھی بچوں کا حصول مصنوعی طریقہ کارہے یعنی جس طرح مرغبانی میں بچے مشینوں کے ذریعے سے نکلوائے جاتے ہیں اسی طرح بٹیر کے بچے بھی مشینوں کے نکلوانے پڑتے ہیں کیونکہ اس کی مادہ کم ہی کڑک ہوتی ہے
بٹیر فارمنگ دراصل گوشت کے حصول کے لیے کی جاتی ہے اس لیے میری رائے میں بچے ہیچری سے لے کر پالنے چاہیے اس کے لیےآپ کسی ہیچری سے ایک دن کے بچے حاصل کر لیں اور اُن کو30دن تک پال کر فروخت کریں اس طرح آپ کا لگایا ہوا پیسہ جلد واپس آنا شروع ہوجائے گا
اپنی استداد کے حساب سے اس میں رقم لگائیں
بروڈنگ کا طریقہ کار
اس میں سب سے زیادہ اہمیت بروڈنگ کی ہے اگر آپ اس میں کامیاب ہوگے تو پھر منافع ہی منافع ہے چوزے لانے سے پہلے بروڈر کو 24 گھنٹے پہلے تیار کرلیں یعنی اس کا درجہ حرارت 95 ڈگری فارن پر سیٹ کرلیں اور اس میں خوراک پانی کے برتن رکھ دیں ساتھ ہی زمین پر گتہ بھی بچھا دیں گتہ نہ بچھانے کی صورت میں ان کی ٹانگیں جوڑوں سے نکل جاتی ہیں جو کہ موت کا باعث بنتی ہیں
پہلے ہفتہ میں درجہ حرارت 95 فارن ہیٹ رکھیں پھر ہر ہفتہ 5 درجہ کم کرتے جائیں اور آخری ہفتہ میں 75 درجہ پر مسلسل رہنے دیں 
خوراک
خوراک میں بٹیر سٹاٹر نمبر 1 دیں جو کہ آپ کو پولٹری فیڈ فروخت کرنے والوں سے آسانی سے مل جائے گی 
---------------------------------------------------
میں نے جو معلومات حاصل کی ہیں اُن کو مدنظر رکھ کر یہ آرٹیکل لکھا ہے کیونکہ چند میں پہلے میں نے اسی فورم پر اس بارے میں معلومات حا صل کرنے کے لیے کچھ سوال کے تھے جن کا مجھے کوئی جواب نہیں ملا شائد کوئی اس بارے میں معلومات نہ رکھتا ہو یہی سوچ کر اس آرٹیکل کو لکھا کہ اور دوستوں کا فائدہ ہوجائے جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں
اپنی رائے سے ضرور نوازئیں اور اگر اس بارے میں کسی کو مزید معلومات ہوں تو میری گزارش ہے کہ وہ لازمی یہاں بیان کرے تاکہ اس آرٹیکل میں جو کمی ہے وہ پوری ہوسکے

کے لیے بٹیر فارمنگ کے لیے پولٹری کی نسبت کم جگہ اور کم سرمائے کی ضدروت ہوتی ہے جس وجہ سے آپ اس کو گھر کے کسی بھی غیر استعمال شدہ کمرے میں شروع کرسکتے ہیں
یوں تو بیٹر کی کافی اقسام ہیں لیکن جو فارمنگ کے لیےموزوں ہے وہ ہے جاپانی بیٹر ہے اس کا اصل نام (کوٹرنکس جیپونیکا ہے
اس کی مادہ سب سے زیادہ انڈے دیتی ہے یعنی سالانہ 200سے 300 انڈے دیتی ہےاس لیے ہی نسل فارمنگ بہتر رہتی ہے
مرغبانی کی نسبت بٹیر فارمنگ کم سرمائے سے شروع ہوسکتی ہے یعنی کہ ایک بٹیر 20 سے 30 روپے میں پالا جاتا ہے جبکہ برائلر 120سے 125 روپے میں پالاجاتاہے

گوشت کا حصول

اس کے لیے کم جگہ کی ضرورت ہوتی ہے ایک مربع فٹ مین آپ 7سے 8 بٹیررکھے جاسکتے ہیں. بٹیر فارمنگ میں بھی بچوں کا حصول مصنوعی طریقہ کارہے یعنی جس طرح مرغبانی میں بچے مشینوں کے ذریعے سے نکلوائے جاتے ہیں اسی طرح بٹیر کے بچے بھی مشینوں کے نکلوانے پڑتے ہیں کیونکہ اس کی مادہ کم ہی کڑک ہوتی ہے. بٹیر فارمنگ دراصل گوشت کے حصول کے لیے کی جاتی ہے اس لیے میری رائے میں بچے ہیچری سے لے کر پالنے چاہیے اس کے لیےآپ کسی ہیچری سے ایک دن کے بچے حاصل کر لیں اور اُن کو30دن تک پال کر فروخت کریں اس طرح آپ کا لگایا ہوا پیسہ جلد واپس آنا شروع ہوجائے گا. اپنی استداد کے حساب سے اس میں رقم لگائیں.
Quail Farming

بروڈنگ کا طریقہ کار

اس میں سب سے زیادہ اہمیت بروڈنگ کی ہے اگر آپ اس میں کامیاب ہوگے تو پھر منافع ہی منافع ہے چوزے لانے سے پہلے بروڈر کو 24 گھنٹے پہلے تیار کرلیں یعنی اس کا درجہ حرارت 95 ڈگری فارن پر سیٹ کرلیں اور اس میں خوراک پانی کے برتن رکھ دیں ساتھ ہی زمین پر گتہ بھی بچھا دیں گتہ نہ بچھانے کی صورت میں ان کی ٹانگیں جوڑوں سے نکل جاتی ہیں جو کہ موت کا باعث بنتی ہیں. پہلے ہفتہ میں درجہ حرارت 95 فارن ہیٹ رکھیں پھر ہر ہفتہ 5 درجہ کم کرتے جائیں اور آخری ہفتہ میں 75 درجہ پر مسلسل رہنے دیں 

خوراک

خوراک میں بٹیر سٹاٹر نمبر 1 دیں جو کہ آپ کو پولٹری فیڈ فروخت کرنے والوں سے آسانی سے مل جائے گی
---------------------------------------------------
میں نے جو معلومات حاصل کی ہیں اُن کو مدنظر رکھ کر یہ آرٹیکل لکھا ہے کیونکہ چند میں پہلے میں نے اسی فورم پر اس بارے میں معلومات حا صل کرنے کے لیے کچھ سوال کے تھے جن کا مجھے کوئی جواب نہیں ملا شائد کوئی اس بارے میں معلومات نہ رکھتا ہو یہی سوچ کر اس آرٹیکل کو لکھا کہ اور دوستوں کا فائدہ ہوجائے جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں. اپنی رائے سے ضرور نوازئیں اور اگر اس بارے میں کسی کو مزید معلومات ہوں تو میری گزارش ہے کہ وہ لازمی یہاں بیان کرے تاکہ اس آرٹیکل میں جو کمی ہے وہ پوری ہوسکے

بٹیر ایک چھوٹا پرندہ ہے اور یہ 150 گرام سے لیکر 200 گرام تک ہوجاتا ہے ۔اس کی زندگی 3 سے 4 سال ہوتی ہیں۔ اور اس کے انڈے کا وزن 7 سے 15 گرام تک ہوتا ہے۔ بٹیر کی نسل بڑی تیزی سے برہتی ہے اور 5 سے 6 ہفتوں میں کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں اور کوٹرنکس کی مختلف نسلوں کی مادہ بٹیر 7سے 8 ہفتوں بعد انڈے دینا شروع کر دیتی ہے اور بٹیر ایک سال میں 300 سے 350 تک انڈے دیتی ہے۔ مادہ بٹیر اپنی زندگی کے پہلے سال میں 300 انڈے دیتی ہے اور دوسرے سال میں 150 سے 170 انڈے دیتی ہے۔ مادہ بٹیر روشنی میں زیادہ انڈے دیتی ہیں۔ زیادہ تر یہ دوپہر کے بعد انڈے دیتی ہے۔ انڈے دینے کی صلاحیت ہر سال کم ہو جاتی ہے۔ بٹیر کے انڈے بہت خوب صورت اور چھوٹے حجم کے ہوتے ہیں۔ انڈوں میں سے بچے تقریباََ 17 دنوں میں نکل آتے ہیں۔انڈے سے نکلے تازہ بچے کا وزن تقریباََ 6 سے 7 گرام ہوتا ہے۔بٹیر اپنے انڈوں کو نہیں سیتے ( انڈوں سے بچے نکلانا) بلکہ انڈوں سے بچے نکالنے کے لئے انڈوں سے بچے نکالنے والی مشین استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اور مشین سے بچے نکالنے کے لئے تقریباََ 9 سے 11 گرام کے انڈے بہت بہترین ہوتے ہیں۔ بہترین بٹیر فارمنگ کے لئے 5 مادہ بٹیر کے ایک نر بٹیر رکھے ۔ بٹیر کے بچے بہت احساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور تقریباََ 2 ہفتوں میں موسم کی شدت وغیرہ برداشت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
بٹیر ایک کھائے جانے والے پرندوں میں بہت چھوٹا پرندہ ہے ۔اسی وجہ سے اس کو بڑی آسانی سے گھریلوں اور تجارتی پیمانے پر پالا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے حکومت سے کسی قسم کی کوئی خاص اجازت یا لائسنس بھی نہیں لینا پڑتا۔ بٹیر پالنے سے پہلے ایک مکمل منصوبہ بنائے ۔اور پھر اُس منصوبے کے مطابق کام کریں۔ ایک مکمل منصوبے میں نسل، خوراک، حفاظتی اقدامات ، جگہ اور منڈی میں کاروبار کے طریقے شامل ہوتے ہیں۔ یہاں میں بٹیر پالنے کے لئے تھوڑی تفصیل بتا رہا ہوں ۔

بٹیر کی نسل کا انتخاب:

صرف پاکستان میں 50 قسم کے بٹیر پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے چند ایک ہی ہمیں عام طور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور تقریباََ 18 اقسام کے بٹیر پالنا نہایت فائدہ مند ہے۔ ان میں سے جاپانی بٹیر ، بوب وائٹ بٹیر (سفید بٹیر) ، امریکن بٹیر زیادہ مشہور ہیں۔ بوب وائٹ بٹیر مشرقی جنوبی امریکہ کا مقامی پرندہ ہے ۔ کافی سالوں سے پاکستان اور بھارت میں جاپانی بٹیر کو زیادہ پالا جا رہا ہے۔

جگہ کا انتخاب :

بٹیر کو گھریلوں اور تجارتی پیمانے پالنے کے لئے جگہ انتخاب سب سے اہم مرحلہ ہے۔ نیچے دی گئی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے آ پ اپنے بٹیر کا پنجرا یا جگہ کو خاص بنا سکتے ہیں۔
بٹیر گندگی اور پنجروں دونوں میں پالے جا سکتے ہیں۔ لیکن پنجروں میں پالنا زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ پنجروں کی صفائی کرنی آسان ہوتی ہیں ۔ بیماریاں اور دوسری مشکلات کا سامنا بہت کم کرنا پڑتا ہے۔
پنجرا یا ایسی جگہ (جو بٹیر پالنے کے لئے ) کا انتخاب کرئے جو ہوا دار اور روشن ہو ۔ آپ تقریباََ 50 بٹیر پنجرے میں پال سکتے ہیں۔ جس کی لمبائی 120cm ہو ، چوڑائی 60cm ہو اور اُونچائی 25cm ہو ۔
پنجرے کو بنانے کے لئے جالی کا استعمال کرئے۔
بڑے بٹیروں کے لئے جالی کا ئز تقریباََ 5mm X 5mm ہو ۔
پلاسٹک کے پنجرے بٹیر پالنے کے لئے بہت مناسب ہوتے ہیں۔
بٹیر رکھنے کی جگہ یا بٹیر پالنے والا پنجرا جنگلی جانوروں اور شکاریوں سے دور اور محفوظ ہونی چائیے۔

بٹیر کی خوراک:

بٹیر وں کو بہترین افزائش اور صحت مند رکھنے کے لئے مناسب اور اچھی خوراک دینا ضروری ہیں۔ ایک بٹیر روزنہ تقریباََ 20 سے 25 گرام خوراک کھاتا ہے۔ بٹیر کے بچے تقریباََ 27 فیصد اور بڑا بٹیر تقریباََ 22 سے 24 فیصد کو خوراک کی صورت میں پروٹین دینا ضروری ہیں۔ بٹیر کی متوازن اور مناسب خوراک کا شڈول (Chart) درج ذیل ہیں۔

بٹیر کی متوازن اور مناسب خوراک کا شڈول (Chart) درج ذیل ہیں۔

جوان بٹیر
4 سے 5 ہفتے
 0 سے 3 ہفتے
اجزا
50 گرام
50 گرام
48 گرام
گندم
 22 گرام
22 گرام
23 گرام
تِل
14 گرام
15 گرام
20 گرام
مچھلی

بڑا یا جوان بٹیر 4 سے5 ہفتے 0 سے 3 ہفتے اجزاء

  • 50 گرام 50 گرام 48 گرام گندم
  • 22 گرام 22 گرام 23 گرام تِل
  • 14 گرام 16 گرام 20 گرام کیپر مچھلی
  • 9 گرام 8 گرام 6 گرام چوکر
  • 4.25 گرام 3.25 گرام 2.25 گرام سپی کا خول
  • 0.50 گرام 0.50 گرام 0.50 گرام نمک
  • 0.25 گرام 0.25 گرام 0.25 گرام معدنی تیل مکس
  • 100 گرام 100 گرام 100 گرام ٹوٹل

انڈوں کی پیداوار (Egg Production) : 

مادہ بٹیروں سے مطلوبہ انڈوں کی پیداوار کے لئے مناسب روشنی کا ہونا ضروری ہیں۔ آپ بلب اور ہیٹر کے ذریعے سے بھی مصنوعی روشنی دے سکتے ہیں۔ آپ اس مقصد کے لئے 40 سے 100 واٹ کا بلب استعمال کر سکتے ہیں۔ ضرورت کی روشنی اور حرارت موسم پر منحصر ہوتا ہے۔ آپ بہترین نسل پالنا اور اُن کے انڈوں سے بچے نکلوانا چاہتے ہیں تو 1 نر بٹیر کے ساتھ 5 مادہ بٹیر رکھے ۔ زیادہ انڈے حاصل کرنے کے لئے بٹیر کی اُس نسل کا انتخاب کرے جو زیادہ انڈے دیتی ہیں اور اُن کے پنجروں اور جگہوں کو جہاں بٹیر رکھے ہوں صاف ستھرا رکھے۔ انڈوں کی پیداوار حرارت، خوراک ، پانی وغیرہ کے انتظامات پر اور دیکھ بھا ل ہوتا ہے۔ مادہ بٹیروں سے اپنی مطلوبہ تعداد کے مطابق انڈے حاصل کرنے کے لئے روشنی بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بٹیروں کو نیچے دیے گئے شڈول کے مطابق روشنی دینی چائیے ۔
روشنی دینے کے لئے گھنٹے (درجہ حرارت (ڈگری میں عمر
  • 24 35 پہلا ہفتہ
  • 24 30 دوسرا ہفتہ
  • 12 25 تیسرا ہفتہ
  • 12 21 - 22 چوتھا ہفتہ
  • 12 21 پانچواں ہفتہ
  • 13 21 چھٹا ہفتہ
  • 14 21 ساتواں ہفتہ
  • 15 21 آٹھواں ہفتہ
  • 16 21 نواں ہفتہ
  • 16 21 باقی دنوں میں
بٹیر کے بچوں کو پالنا (Raising Quail Chicks) :
بٹیر کبھی بھی اپنے انڈوں کو نہیں سیتے (بچے نکالنا) ۔ آپ بٹیر کے انڈوں سے بچے نکالنے کے لئے ان کے انڈوں کو مرغی کے نیچے رکھ دے یا پھر انڈوں سے بچے نکالنے والی مشین استعمال کرئے۔ اگر انڈوں سے بچے نکالنے والی مشین استعمال کر رہے ہیں تو 16 سے 18 دنوں میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ انڈوں سے نکلے بٹیر کے نوزائیدہ بچوں کو جھولدان (Brooder) میں رکھے ۔ بٹیرے کے ان نوزائیدہ بچوں کو اپنی پیدائش سے لیکر 14 سے 21 دنوں تک مصنوعی درجہ حرارت اور روشنی کی ضرورت ہوتی ہیں۔ بٹیر کے بچے بہت احساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کو گندگی والی جگہ اور بیٹری نظام والی جگہوں پر پالا جا سکتا ہے ۔ بٹیر کے بچوں کو پالتے ہوئے درج ذیل باتوں کا لازمی خیال رکھے ۔
  • مناسب درجہ حرارت
  • مناسب روشنی
  • ہوا کا گزر
  • خوراک اور پانی کا وقت پر دینا
  • صاف ستھرا ماحول
انڈے دینے والی مادہ کو نیچے دئیے گئے شڈول کے مطابق روشنی اور درجہ حرارت میں رکھیں۔
روشنی دینے کے لئے گھنٹے (درجہ حرارت (ڈگری میں عمر
  • 24 37.7 پہلا ہفتہ
  • 24 35 دوسرا ہفتہ
  • 12 22.2 تیسرا ہفتہ

بٹیر کو لگنے والی بیماریاں (Quail Diseases) :

دوسرے کھائے جانے والے پرندوں کی نسبت بٹیر کو کم بیماریاں لگتی ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہر بیماری اور کمزوری سے بچا نے کے لئے ان کی مناسب دیکھ بھال کرنی ضروری ہیں۔ منافع کمانے کے لئے مناسب دیکھ بھال اور اچھے انتظامات بہت ضروری ہیں۔ بازار میں ابھی بیماری کے لئے کوئی خاص ویکسین نہیں پائی جاتی ۔ بٹیر موسم کی تبدیلی اور نہ ہی اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ اگر وہ موسم کی تبدیلی اور درجہ حرارت کی تبدیلی کا سامنا کرئے گے تو بیمار ہو جائے گئے۔ اس دوران بہت احتیاط اور دیکھ بھال کرئے۔ بٹیر کی درج ذیل بیماریاں بہت خطرناک ہیں ۔

نُبیقہ زدگی (Coccidiosis) :

اگر بٹیر نُبیقہ زدگی ( پرندوں کی آ نتوں میں کیڑے پیدا ہونے والی بیماری) کا شکار ہو جائے تو اُن کو Coaxial 20 2 گرام ایک لیٹر پانی میں ملا کر دن میں 3 مرتبہ دیں۔ ورنہ اس کو جانوروں کے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خوراک میں ملا کر دیں۔

قرحہ دار ورم قولون (Ulcerative Enteritis) :

اگر بٹیر قرحہ دار ورم قولون (ایک مخصوص بیماری جس میں نامعلوم یا غیر مخصوص سبب سے بڑی آنت متورم ہو جاتی ہے ۔) کا شکار ہو جائے تو Streptomycin کو ایک لیٹر پانی میں ملا کر دن میں 3 مرتبہ دینا چائیے۔ یہ اس بیماری کو ختم کر دے گا۔

صحت مند بٹیر پالنے کی تجاویز (Hygienic Quail Farming Tips) :

  • اپنے بٹیروں کو صحت مند اور زیادہ پیداوار کے لئے نیچے دیے گئی تجاویز پر عمل کریں۔
  • ہمیشہ پنجرا یا جگہ کو صاف ستھرا اور خشک رکھیں۔
  • ہوادار اور روشن ہو۔
  • مختلف عمر کے بٹیروں کو الگ الگ رکھیں۔
  • بیمار بٹیر کو صحت مند بٹیر وں سے الگ رکھیں۔
  • جو بٹیر مر جائے اُس کو مٹی میں دفنا دے۔
  • دوسرے پرندوں ، جانوروں اور انسانوں کو اپنے بٹیر پالنے والی جگہ پر مت جانے دیں۔
  • صاف ستھری اور متوازن غذا دیں ۔
  • اُن کو پینے کے لئے صاف اور تازہ پانی مہیا کریں۔
  • جن برتنوں میں ان کو خوراک اور پانی دیں اُن کو لازمی صاف ستھرا رکھیں۔
بٹیر کا کاروبار کرنا (Quail Marketing) :
بٹیر کا گوشت اور انڈے بہت لذیز اور وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اسی لئے بٹیر کا گوشت اور انڈوں کی بہت مانگ ہیں۔ بٹیر ایک چھوٹا پرندہ ہے اور ان کے انڈوں کا سائز بھی چھوٹا ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کو لوگ آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ آپ کو اپنے بٹیر اور اُن کے انڈے بیچنے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑئے گی۔ آپ اپنے قریبی علاقوں میں بٹیر آسانی سے بیچ سکتے ہیں۔ لیکن یہ بہت ہی عمدہ رہے گا کہ اگر آپ اپنے بٹیر بیچنے کے لئے کوئی اچھی منصوبہ بندی بنا لیں۔ کیونکہ ہر جگہ ایک جیسی مانگ نہیں ہوتی ۔
بٹیر پالنے سے روزانہ وٹامن سے بھرپور غذااور نافع کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ اور تجارتی پیمانے پر بٹیر پالنے سے بے روزگاری میں بھی کمی لانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور آپ اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ ایک اچھی آمدنی مزید کما سکتے ہیں۔ اگر آپ اس کاروبار میں آنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے قریبی کسی بٹیر پالنے والی جگہ کو معائنہ لازمی کر لیں۔ اور پھر اپنا حتمی فیصلہ کریں۔ اﷲ آپ کو اپنے حفظوامان رکھیں۔

بٹیر فارمنگ کے ذریعے بھاری مالی منافع حاصل کیا جا سکتاہے ، ماہرین جنگلی حیات

ماہرین جنگلی حیات نے کہاہے کہ بٹیر فارمنگ کے ذریعے بھاری مالی منافع حاصل کیا جا سکتاہے کیونکہ بٹیر کا گوشت انتہائی پسندیدہ انسانی خوراک ہے جس کے انڈے اور گوشت زود ہضم ہونے کے علاوہ غذائی اعتبار سے بہترین ہیں یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بٹیرو ں کی کھپت اور مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہاہے لہٰذا کاروباری نقطہ نظر سے بٹیر فارمنگ کے روشن امکانات موجود ہیں۔
ایک ملاقات کے دوران ماہرین جنگلی حیات نے بتایاکہ پاکستان میں بٹیر کی تقریباً 50نسلیں پائی جاتی ہیں جن میں شالمی ، گولڈن، سیاہ ، سفید گوب، پہاڑی وڑھ، دیسی ، چھاتی والا ، کوٹرنکس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ بٹیر کی نسل بڑی تیزی سے بڑھتی ہے اور 5سی6ہفتوں میں یہ بٹیر کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ کوٹرنکس کی مختلف نسلوں کی مادہ بٹیر 7سی8ہفتے بعد انڈے دینا شروع کر دیتی ہے اور یہ ایک سال میں 300سے 350 تک انڈے دیتی ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ بٹیر چوزوں کا پہلے ہفتے خاص خیال رکھا جانا چاہیے اور درجہ حرارت 95فارن ہائٹ تک ہونا چاہیے تاکہ چوزوں کو مرنے سے بچایا جا سکے۔ انہوںنے بتایاکہ اس ضمن میں مزید معلومات ماہرین جنگلی حیات سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

[youtube src="7JWdaspiKyU"]
[youtube src="BHCOv7AedTk"]
[youtube src="JOaA6_AMYF8"]
[youtube src="Asko2bKLGX4"]
[youtube src="FwnAfxsyXl8"]

ذبیحہ کی سائنس۔

آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو آتی ہے اور یہ جلدی گلتا یعنی پکتا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب کچھ آپ نے بھی محسوس کیا ہو۔ اگر ہاں تو کیا کبھی سوچا کہ ایسا کیوں یے؟ اگر غور کرنے کا وقت نہیں ملا تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے بڑا مہنگا جانور خرید رکھا ہو، لاریب کہ آپ کا جانور خوبصورتی میں بھی بے مثال ہو، لیکن معذرت کے ساتھ آپ کو جانور ذبح کرنا یا کروانا نہیں آتا۔ ذرا ٹھہریں، غصہ تھوک دیں، لیکن حقیقت یہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ اگر یقین نہیں آرہا تو پھر یہ باتیں غور سے سنیں، سمجھیں اور اس عید قربان پر ان پر عمل کریں۔ آپ خود ہی کہیں گے کہ قربانی کا گوشت تو ہم آج پہلی دفعہ کھا رہے ہیں، کیونکہ ایسا مزیدار، صحت بخش اور خوشبودار جنتی گوشت آپ نے پہلے کبھی نہیں کھایا ہوگا۔

آپ کو کرنا کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں۔ بس ساون کے مینڈکوں کی طرح نکلنے والے نسلی یا فصلی قصائیوں کی باتوں پر یقین نہیں کرنا بلکہ دین کی روشنی اور ذبیحے کی سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے میرٹ پر جانور ذبح کروانا اور گوشت بنوانا ہے۔ اگر وہ آگے سے جز بز ہوں تو آپ چیں بچیں ہو جائیں۔ آخر آپ ان کو پیسے کس بات کے ادا کر رہے ہیں؟ اگرچہ سچے آپ بھی ہیں کہ پاکستان اور میرٹ!!! جی ہاں! کہیں اور ہو یا نہ ہو، لیکن اس بار چھری تلے میرٹ ضرور ہونا چاہیے، بس یہی آپ نے کرنا ہے۔

اگر آپ پاکیزہ، خوشبودار اور ذائقہ دار گوشت کھانے کے واقعی خواہشمند ہیں تو پھر سنیے۔ ذبح کرنے کی چھری آپ کی نیتوں کی مثل اچھی طرح تیز ہونی چاہیے، ذبح کرنے سے قبل جانور کو خوب کھلا پلا لیں اور جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرکے خوف کا شکار مت کریں۔ ان تمام صورتوں میں جسم میں ایک کیمیکل 'ہسٹامین' خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے، جو خون کی نالیوں کو پھیلا دیتا ہے، جس سے خون سست رفتار ہوکر مکمل طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتا۔ اور یوں گوشت کی کوالٹی متاثر ہو جاتی ہے۔

اور سب سے اہم بات جو آپ نے دھیان میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ذبح کرنے والے کو کبھی مذبوح کے حرام مغز کو نہیں کاٹنے دینا۔ اگرچہ وہ سو بہانے بنائے گا اور جانور کو جلدی ٹھنڈا کرکے اذیت سے نجات دلانے کے دعوے کرے گا، لیکن آپ نے سنی ان سنی کردینی ہے۔ اسے نہ آپ کے جذبہ قربانی کی فکر اور نہ بسمل کی تکلیف کا خیال۔ وہ تو بس اگلے گاہک اور اپنی ففٹی سنچری کے تصور میں ہوگا۔ اور شرعی طور پر بھی چھری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں تک لیجانا جانور کو بلاوجہ اذیت دینا اور مکروہ ہے۔ ذبح کی شرائط میں اول سانس کی نالی، دوم خوراک کی نالی، سوم دو جگلر آرٹریز اور چہارم دو کیروٹڈ آرٹریز میں سے کسی تین کا مکمل یا جزوی کٹ جانا اور خون کا بہہ جانا شامل ہے۔ چلیں آپ ساری نالیاں اور رگیں کاٹ دیں مگر مہروں تک چھری پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی دادوں پردادوں کے فن دکھانے کی کوشش میں حرام مغز کو کاٹ دیتا ہے تو جسم کا تڑپنا یکدم رک جائے گا اور یوں گوشت میں موجود باریک رگوں سے خون خارج نہیں ہوپائے گا۔ جس کا نتیجہ گوشت کی خرابی کی اور ذائقے کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

اور آخری بات، جانور کے تڑپنے کے ساتھ اس کی تکلیف کا کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دو تین سیکنڈ میں ہی جب سانس اور خون کی نالیاں کٹ جاتیں ہیں، تو اس کا دماغ بے حس ہوکر تکلیف محسوس کرنا بند کردیتا ہے۔ تڑپنا اس کے پٹھوں کی غیر ارادی حرکات کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس کے حرام مغز کے تحت ہوتی ہیں۔ 

 اوپر تصویر میں کچھ مذبوح کے گلے میں موجود نالیوں اور خون کی رگوں کے مقام کو واضح کیا گیا ہے۔ دیکھ کر ذبح کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔


پاکستان میں اس سال شہد کی پیداوار میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ جبکہ شہد کی قیمتیں بھی غیر معمولی طور پر بڑھی ہیں۔ جس کی ایک وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کو قرار دیا جارہا ہے۔ ’’امت‘‘ کو دستیاب اطلاعات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور اکتوبر میں بے موسم کی بارش و ژالہ باری سے شہد کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہوئی ہے۔ خدشہ ہے کہ شہد کی ایکسپورٹ کے آرڈر پورے نہیں کیے جاسکیں گے، جس کی وجہ سے آئندہ سال کیلئے توقعات کے مطابق آرڈر ملنے کے امکانات بھی کم ہیں۔
پاکستان ہنی ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر شہد کی پیداوار 40 ہزار ٹن ہے۔ سب سے زیادہ بیری کے شہد کی پیداوار ہے اور یہی شہد ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ باقی اقسام کے شہد مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت ہوتے ہیں۔ شہد کی فارمنگ سے منسلک افراد نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ بیری کے شہید کی ہے اور دیگر کے مقابلے میں بیری کے شہد کی پیداوار دگنی ہے۔ بیری کے شہد کا سیزن عمومی طور پر اگست کے آخر سے شروع ہوکر نومبر تک جاتا ہے۔ جبکہ اس کے ہول سیل کاروبار کا سیزن وسط اکتوبر سے شروع ہوکر جنوری تک چلتا ہے، جو شہد کے کاروبار سے منسلک لوگوں کے منافع کا سیزن ہوتا ہے۔ تاہم اگر بیری کا شہد اچھا نہ ہو یا اس کی پیداوار کم ہو تو کاروباری لوگوں کو خاصا نقصان ہوتا ہے۔

ماہرین نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ بیری کے شہد کی تین کشید ہوتی ہیں۔ یعنی شہد جمع کرنے والے ڈبوں میں سے تین مرتبہ شہد نکالا جاتا ہے۔ سیزن کے آغاز میں پہلی کشید اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع میں نکالی جاتی ہے۔ دوسری کشید نومبر کے درمیان اور تیسری کشید نومبر کے آخر اور دسمبر میں ہوتی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق بیری کا اصلی اور معیاری شہد دوسری کشید کا ہوتا ہے۔ ماہرین کے بقول پہلی اور تیسری کشید کے مقابلے میں بیری کے شہد کے اصل فوائد دوسری کشید سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری کشید سے حاصل ہونے والا شہد زیادہ تر ایکسپورٹ کردیا جاتا ہے۔ یہ شہد بہت کم ہی پاکستانی مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں عموماً پہلی اور تیسری کشید کا شہد فروخت ہوتا ہے۔ یہ شہد گرم علاقوں میں بیری کے درختوں پر لگے پھولوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جو عمومی طور پر ستمبر سے اکتوبر کے آخر تک درختوں پر موجود ہوتے ہیں۔ لیکن موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اب اس دورانیے میں فرق آگیا ہے۔
ٹریڈنگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ شہد کی درآمد پہلے ہی متاثر ہے۔ 2013ء میں شہد کی درآمد تقریباً 9 ملین ڈالر تھی، جو 2017ء میں کم ہوکر تقریباً ساڑھے 6 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ پاکستان ہنی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیر زمان نے ’’امت‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان سے کم و بیش اٹھارہ سے بیس ہزار کلو گرام کے 700 کنٹینر ایکسپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم اس سال تو شہد کی پیداوار میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی سیزن جاری ہے، اس لئے مکمل اعدادوشمار تو نہیں بتائے جاسکتے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں نظر آرہا ہے کہ شاید اس سال 200 کنٹینر بھی ایکسپورٹ نہ کئے جاسکیں۔ جب پاکستانی ایکسپوٹرز آرڈر پورے نہیں کرسکیں گے تو انہیں آئندہ سال کیلئے آرڈر نہیں ملیں گے۔ کیونکہ خریدار دوسری مارکیٹوں کی طرف رجوع کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بیری کے علاوہ مختلف اقسام کے شہد ہوتے ہیں۔ لیکن اس سال کسی قسم کے شہد کی پیداوار مناسب نہیں رہی۔ اگر سیزن میں صرف بیری کے شہد کی پیداوار اچھی ہو تو فارمر سے لے کر کاروباری افراد تک، سب فائدے میں رہتے ہیں۔ لیکن اس سال بیری کا شہد بھی بہت کم ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہول سیل مارکیٹ میں دوسری کشید کے شہد کی قیمت 65 ہزار روپے فی من ہے، جوکہ ریکارڈ قیمت ہے۔ قیمت میں اس قدر اضافے کی ایک وجہ تو پیداوار میں کمی ہے اور دوسری بڑی وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے، جس نے کاروباری افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کبھی شہد کی صنعت پر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ محتاط اندازے کے مطابق شہد کی صنعت سے مجموعی طور پر 10 لاکھ لوگوں کو روزگار مل رہا۔ اگر حکومت اس صنعت پر توجہ دے اور پیداوار بڑھائی جائے تو 20 لاکھ لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے۔ جبکہ ایکسپورٹ 700 کنٹینر سے بڑھا کر تین ہزار کنٹیر تک لے جائی جاسکتی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ شیر زمان کا کہنا تھا کہ شہد کی پیداوار کم ہونے کی متعدد وجوہات ہیں، جس میں ایک تو موسمی تبدیلی، دوسری جنگلات کا کم نہ ہونا اور تیسری آلودگی میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ فارمرز کا غیر تربیت یافتہ ہونا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے ان مسائل پر توجہ دی جائے تو شہد کی صنعت میں بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
محکمہ ماحولیات خیبر پختون کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان رشید کا ’’امت‘‘ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان میں شہد کی صنعت موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ غفلت کا شکار ہورہی ہے ۔ بیری کے درخت آبادیوں کی نذر ہورہے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار کم ہوتی جارہی ہے۔ اس سال اکتوبر، نومبر میں بے وقت بارشیں اور ژالہ باری ہوئی، جس سے بیری کے درختوں پر موجود پھول تباہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ایک موثر پالیسی تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

گھریلو مرغبانی
مرغی اور انڈے کسے پسند نہیں؟ لیکن انہیں کھانا ہرکسی کے بس میں نہیں کیونکہ بسا اوقات خصوصاً سردیوں میں مرغی کا گوشت اور انڈے اتنے مہنگے ہوجاتے ہیں کہ انہیں کھانا کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔ مرغی اور انڈوں کا آسان حصول گھروں میں مرغیاں پالنے سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ مرغیوں کی افزائش بہت ہی آسان اور ہمارے لئے اجنبی نہیں کہ چند سال پہلے تک یہ ہمارے گھروں کا حصہ تھیں۔ انڈے دینے والی مرغیوں کی افزائش اسلئے بہتر ہے کہ آپ فی مرغی تقریباً 5 سے 6انڈے ہر ہفتے لے سکتے ہیں۔ مرغیوں کی رہائش کیلئے ڈربہ بنانا بہت آسان ہے۔  مرغیوں کو کچن سے بچی ہوئی چیزیں جیسے روٹیاں، سبزی، یا دوسری چیزوں کے علاوہ اناج کی مختلف اقسام مکس کرکے کھلا سکتے ہیں یا کمرشیل خوراک بھی دی جاسکتی ہے جو کہ ہر شہر میں باآسانی دستیاب ہے۔ انڈے دینے والی ایک اچھی مرغی کی قیمت تقریباً 400 سے 500 روپے ہے اور ایک مرغی سالانہ اوسطاً 200 انڈے دیتی ہے۔ اسطرح اگر آپ 10 مرغیاں پالتے ہیں تو روزانہ 7 سے 8 انڈے لے سکتے ہیں یعنی ماہانہ تقریباً  170 سے 180انڈے۔ اسطرح آپ اپنے خاندان کی خوراک کے ساتھ ساتھ اضافی انڈے بیچ کر اضافی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

گھریلو مرغبانی سے متعلق چند بنیادی باتیں

نسلیں
مرغیاں انڈوں اور گوشت  کے حصول کیلئے پالی جاتی ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ انہیں مشغلے کے طور پہ بھی پالتے ہیں۔ ہر مقصد کیلئے الگ الگ نسل کی مرغیاں پالی جاتی ہیں۔  کیونکہ کچھ ایسی ہیں جو زیادہ انڈے دیتی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو زیادہ گوشت پیدا کرتی ہیں۔ اور مرغیوں کی کچھ نسلیں خوبصورتی میں خوب ہیں. بعض نسلیں ایسی ہیں جو گھریلو مرغبانی کے لئے دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ گھریلو مرغبانی کیلئے مصری، کراس، گولڈن، فیومی یا آر۔آئی۔آر نسل کی مرغیاں خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔

خوراک
مرغیاں  ہر قسم کی خوراک کھاتی ہیں۔ خاص طور پہ اناج، پھل، اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ کیڑے  بھی کھاتی ہیں. انہیں کمرشیل فیڈ بھی کھلائی جا سکتی ہے۔ فیڈ میں وٹامن، معدنیات اور پروٹین  توازن کے ساتھ شامل ہوتی ہیں. اسلئے انڈواں اور گوشت کی پیداوار کیلئے زیادہ موزون ہیں۔ انڈوں کی اچھی پیداوار کیلئے ان کی خوراک میں آبی جانداروں کے شیل بھی شامل کرنے چاہئیں۔ انڈے دینے والی ایک صحتمند مرغی ایک ہفتے میں تقریباً  اپنے وزن کے 50 فیصد کے برابر فیڈ کھاجاتی ہے۔ مرغیاں سردیوں میں زیادہ جبکہ گرمیوں میں کم فیڈ کھاتی ہیں۔ انہیں کچن سے بچ جانے والی ہر قسم کی خوراک دی جاسکتی ہے جیسے سبزیاں، روٹی یا چاول وغیرہ ۔ 

انڈوں اور گوشت کی بہتر پیداوار کیلئے مرغیوں کو صاف پانی کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ خاص طور پہ گرمیوں کے دنوں میں جب وہ گرمی کم کرنے کیلئے نہاتی بھی ہیں۔ 

ہاؤسنگ
بیک یارڈ چکن کی بہتر پیداوار کے لئے ضروری ہے کہ مرغیوں کیلئے مناسب ڈربہ بنایا جائے جو سردی اور گرمی سے بچانے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی فراہم کرے۔ مرغیوں کی رہائش کیلئے ڈربہ بنانا بہت آسان ہے۔ ڈربہ لکڑی یا گتے کے کارٹن، پلاسٹک یا ٹہنیوں سے بنی ٹوکریوں یا محض جالیدار سادہ کپڑے یا پلاسٹک اور لوہے کی جالی سے بھی کم خرچ میں تعمیر کیا جاسکتا ہے۔  گھریلو مرغبانی کیلئے ایک ڈربے میں ۴ سے ۵ مرغیاں رکھی جاسکتی ہیں۔ ہرانڈے دینے والی مرغی کو انڈے دینے کیلئے علیحدہ گھونسلہ چاہئے۔ اسلئے ڈربے کے اندر ضروری گھونسلے بنانے چاہئیں۔ ڈربہ روشن اورہوادار ہونا چاہئے۔ فی مرغی کم از کم 3 سے 5 فٹ جگہ مختص کرنی چاہئے۔  
مرغیوں کے دشمنوں میں بلی، چوہے ، الو اور باز وغیرہ شامل ہیں اسلئے ان سے تحفظ کا بندوبست کرنا چاہئے۔ 

روزانہ دیکھ بھال
مرغیوں کو ضرورت کے مطابق فیڈ دینی چاہئے۔ انکا پانی روزانہ بدلنا چاہئے۔ انہیں ہر صبح ڈربے سے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور رات ہونے سے پہلے دبارہ ڈربے میں بند کرنا چاہئے۔ انڈوں کو روزانہ 2 مرتبہ گھونسلوں سے نکالنا چاہئے۔ حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ہفتہ میں کم از کم ایک دفعہ ڈربے کی صفائی کرنی چاہئے۔

مرغیوں کی صحت 
صحت مند مرغیاں مستعد اور سرگرم رہتی ہیں اور یہاں وہاں چونچ مارتی اور چلتی پھرتی نظر آئیں گی۔ انکی آنکھیں  بھی روشن ہو نگی۔ یہ ساکت تب نظر آئیں گی جب دن بہت گرم ہوں، ایسے میں انہیں سائے میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ 

مرغیاں انڈے دینے اور خوراک کھانے کی عادات میں ایک دوسرے سے تھوڑا بہت مختلف ہوتی ہیں۔ لہذا ہر مرغی کی انفرادی طور پہ نگرانی کرنی چاہئے۔ صحتمند  مرغیاں عموماً بھورے رنگ کے ٹھوس فضلہ کا اخراج کرتی ہیں جسکے ساتھ سفید رنگ کا پیشاب بھی شامل ہوتا ہے۔ کسی مرغی کا تقریبا ہر دسواں فضلہ تھوڑا سا فوم کی طرح، معمول سے زیادہ بو والا اور ہلکے براؤن رنگ کا ہوتا ہے۔

گھریلو  مرغیاں  عام طور پر صحت مند رہتی ہیں اور بیماریوں کا آسانی سے شکار نہیں ہوتیں۔ کسی بیمار مرغی کو پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہو کہ صحت مند مرغیاں کس طرح نظر آتی ہیں۔اگر کوئی مرغی روزمرہ کے معمول سے مختلف دکھے، مثال کے طور پر اگر وہ خوراک کیلئے بھاگ دوڑ نہ کرے،  اس سے خر خر کی آواز آئے یا وہ چھینکنا شروع کرے یا پتلے پاخانے لگیں  تو سمجھ جائیے کچھ گڑبڑ ہے۔

صفائی اور حفضان صحت
مرغیوں  کی صحت کے لئے ایک اہم عنصر صاف ستھرا ماحول ہے۔ صاف، صحت مند ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے ڈربے اور اس سے ملحقہ علاقے کو کم از کم ہفتہ وار صاف کیا جانا چاہئے، یا درمیان میں جب جب ضرورت ہو صاف کرنا چاہئے۔ اگر ڈربے سے بو آنے لگے تو سمجھئے صفائی کی ضرورت ہے۔  فیڈر اور پانی کے برتنوں کو باقاعدگی سے دھونا چاہئے اور جراثیم کش کلینر استعمال کرنا چاہئے۔ ڈربے کے ساتھ واک ایریا میں ریت رکھنی چاہئے تاکہ مرغیاں ڈسٹ باتھ لے سکیں۔ یہ اسلئے ضروری ہے کہ اسطرح مرغیاں طفیلی جانداروں سے چھٹکارا پاتی ہیں۔ 

یہ ضروری ہے کہ سال میں ایک بار، عام طور پر موسم بہار میں، ڈربے اور اردگرد کی مکمل صفائی کی جائے۔ اور جراثیم کش اسپرے کیا جائے۔  ہمیشہ ڈربے میں نئی مرغیاں ڈالنے سے پہلے بھی مکمل صفائی ضروری ہے۔  اس سے نئی ​​مرغیوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ موسم خزاں کے دوران بھی مکمل صفائی طفیلی کیڑوں پر کنٹرول کے لئے موثر ومددگار ہے۔

جب صفائی کرنی ہو فیڈر اور پانی کے برتن باہر نکال دینے چاہئیں۔ ڈربے کے فرش پر بچھائی گئی گھاس پھوس کی تہہ کو بھی نکال کر نئی تہہ لگائی جائے۔  ڈربے کی دیواروں، کونوں کھدروں اور چھت کو کپڑے یا ڈسٹر سے صاف کرنا چاہئے۔ اگر جالے وغیرہ بن گئے ہیں تو انہیں بھی نکالنا چاہئے۔ ڈربے کے اندر کی جانب کلورین بلیچ سے صفائی کرنی چاہئے۔ اس مقصد کیلئے بلیچ کا ایک کھانے والا چمچہ، ایک گیلن ابلے ہوئے پانی میں مکس کرنا چاہئے۔

صفائی کے دوران دھول سے نمٹنے میں حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ جیسے ڈسٹ ماسک پہننا اور دھول کو روکنے کیلئے پانی کا اسپرے کرنا چاہئے۔ مرغیوں کے فضلے سے پر دھول میں سانس لینا انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

فضلے کا انتظام 
مرغیوں کے فضلےمیں  غیر ہضم شدہ فیڈ ، بیکٹیریا، نظام ہضم کے رس اور جسم کے اندر میٹابولزم کے عمل سے پیدا ہونے والے مادے اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ مرغیوں کےفضلے میں تقریباً ۸۵ فیصد پانی ہوتا ہے۔ اسلئے ڈربے میں نمی کا سبب بنتا ہے اور ساتھ میں بدبو پیدا کرنے کا بھی۔ 

اس صورتحال میں کئی آپشن ہیں جو اسکے بہتر انتظام کیلئے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔ ان میں سال میں ایک سے دو بار مکمل صفائی کے علاوہ ڈربے کی جگہ بدلنا اور کمپوسٹنگ شامل ہیں۔ اگر آپکے پاس لان ہے تو جگہ بدلنا ایک بہتر آپشن ہوسکتا ہے۔

انڈوں کی پیداوار
مرغیاں تقریبا چھ ماہ کی عمر میں انڈے دینا شروع کرتی ہیں اور5-10 سال تک دیتی رہتی ہیں۔ لیکن انڈوں کی زیادہ تر پیداوار پہلے 2 سالوں کے دوران آتی ہے۔ عموماً مرغیاں ہر ہفتے تقریبا 6 انڈے دیتی ہیں۔ ہر سال انڈوں کی پیداوار میں اسوقت کمی آتی ہے جب مرغیاں اپنے پر ڈراپ کرتی ہیں۔ انڈوں کی بہتر پیداوار کیلئے ابتدائی موسم خزاں میں ان کے پر تبدیل کروانے چاہئیں۔ 

انڈوں کی بہتر پیداوار کیلئے مرغیوں کو کم از کم 12 سے 14 گھنٹے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک عام بلب یہ روشنی فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔

مرغیوں کی خریداری 
لیئر مرغیوں کیلئے بہتر آپشن یہ ہے کہ ۱۶ سے ۱۸ ہفتے کی مرغیاں خرید کی جائیں جب یہ چند دنوں میں انڈے دینے کیلئے تیار ہوں۔ چوزوں سے اس عمر تک لانا ایک علیحدہ جھنجھٹ ہے۔ تاہم اگر آپکی دلچسپی ہو تو یہ بھی ایک مشغلے کی طرح آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ مرغیاں یا چوزے جو بھی خریدیں کسی بھروسے والی جگہ سے خریدیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اسوقت تک انہیں تمام ضروری ویکسین کی گئی ہیں۔ 

یہ آرٹیکل ان لوگوں کے لئے رہنمائی کا کام کریں گا جو لوگ نئے ہیں اور پولٹری فارم کا کاروبار شروع کرنا چاہ رہے ہیں۔ پولٹری فارم ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے اور یہ کاروبار اپنی مثال آپ ہے۔ اکثر لوگ پولٹری فارم کا کاروبار اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے کرتے ہیں۔

پولٹری فارم کے کاروبار سے مراد ایسا کاروبار جس میں حلال اور کھائے جانے والے پرندوں کو گوشت کی پیدوار کے لئے یا ان کے انڈے حاصل کرنے لئے گھریلو یا تجارتی پیمانے پر پالے جاتے ہیں۔ لیکن اس آرٹیکل میں مرغیاں پالنے کے حوالے سے پولٹری فارم کا کاروبار کرنے کے لئے رہنمائی ملے گی۔ مرغی دوسرے جانوروں کی نسبت سستا ذریعہ ہے گوشت اور انڈوں کی پیدوار کے ساتھ ساتھ پروٹین وغیرہ حاصل کرنے کا۔ اور مرغیاں انسان کی غزا کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ گھریلو اور چھوٹے پیمانے پر مرغیاں پالنے سے ایک خاندان کے لئے گوشت اور انڈے وغیرہ ملنے سے پروٹینز وغیرہ کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن بڑے اور تجارتی پیمانے پر مرغیاں پالنے سے آمدنی میں اضافے کا ایک بہترین ذریعہ بنتا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی چھوٹے اور بڑے پیمانے پر مرغیاں پالنے کا کاروبار کیا جا رہا ہیں۔ پولٹری فارم کا کاروبار ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جن کو پرندوں اور جانور پالنے کا شوق ہوتا اور وہ ان کے باڑے میں آسانی سے رہ سکتےہیں۔ پولٹری فارم کا کاروبار ایک منافع بخش کاروبار ہے اگر آپ اس کو اچھے طریقے سے چلا سکے اور پولٹری فارم کے پرندوں کی اچھی دیکھ بھال کر سکیں۔اپنے پولٹری فارم کے کاروبار کو شروع کرنے لئے تمام طریقہ کار پر مرحلہ وار عمل کریں۔ پولٹری فارم کا کاروبار شروع کرنا بہت آسان ہے لیکن اس میں روزمرہ کے بہت سے کام ایک ہی وقت پر کئیے جاتے ہیں  پولٹری فارم کا کاروبار بہت زیادہ سرمایہ کاری مانگتا ہے۔ آپ اپنی مدد آپ کے تحت سرمایہ کاری کے لئے رقم اکھٹی کر سکتے ہیں یا پھر کسی بنک سے قرضہ لے سکتے ہیں۔ حکومتی اور پرائیویٹ دونوں سطع پر پولٹری فارم کا کاروبار کرنے کے لئے قرضہ دیا جاتا ہے۔ آپ اپنے پسند کے بنک سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ اس کاروبار میں نئے ہیں اس لئے کوشش کریں کہ کم سے کم پرندوں کے ساتھ اپنے کاروبار کا آغاز کریں۔ اس سے رقم کی ضرورت کم سے کم پڑئے گی پولٹری کے پرندوں کی صنعت کی بات کریں تواس کی وصت بہت زیادہ ہیں۔ لیکن عام طور پر پولٹری کے پرندوں کودومقاصد کے طورپرپالا جاتا ہے۔ ان میں ایک مقصد گوشت کی پیداروار یعنی برائلر(broiler) اوردوسرا انڈوں کو حاصل کرنے کے لئے(layer) پالا جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ انڈوں میں سے پرندوں کے پچے نکلونا (incubating the eggs) اور بچوں کو پال کر کھانے یا فروخت کرنے لائق بنانا بہت سارے لوگ پولٹری کے پرندوں کا کام کرنے والے ایک ہی وقت میں بہت سارے حلقوں / شعبوں میں کاروبار کر رہے ہیں۔ اگرآپ ان لوگوں کی طرح تمام حلقوں / شعبوں میں اپنا کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو شروعات میں آپ کو ایک یا دو حلقوں / شعبوں میں سخت محنت کر کے مکمل مہارت حاصل کر لینی چائیے۔ پولٹری کے پرندوں کے حوالے سے چند حلقے یا شعبے درج ذیل ہیں۔

گوشت کی پیداوار کے لئے پرندہ پالنا – (broiler breeding)

انڈے دینے کے لئے پرندے پالنا – (layer breeding)

پولٹری کے پرندوں کے لئے خوراک (فیڈٌ) تیار کرنا

پولٹری کے انڈوں سے بچے نکوانا – (Hatchery)

انڈوں اور گوشت کو محفوظ کر کے فروخت کرنا

پولٹری فارم کے لئے جگہ کا انتخاب اور موذوع بنانا:
پولٹری فارم کے کاروبار کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کو ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چائیے جہاں ساری سہولتیں میسر ہوں اور آپ آسانی سے کاروبار کر سکیں۔ یہ شہر یا آبادی سے تھوڑے فاصلے پر ہونا چائیے جہاں پولٹری فارم کے لیے زمین سستی ملنے کے ساتھ ساتھ مزدوری پر بھی زیادہ لاگت نہ آئے۔ لیکن شہر یا آبادی سے زیادہ دور پولٹری فارم مت بنائے کیونکہ آخر آپ نے شہر یا آبادی میں آکر ہی اپنے پولٹری فارم کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہے۔ اور نہ ہی شہری یا آبادی کے اندر پولٹری فارم بنائے کیونکہ پولٹری فارم کے پرندوں کے گند سے گندی اور نہ پسندیدہ بدبو آتی ہے۔ ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں سے آپ آسانی سے نقل وحمل (transportation) کرنے کے ساتھ ساتھ پرندوں کے لئے ادویات بھی آسانی دستیاب ہوسکے۔
پولٹری فارم پر مرغیوں کے لئے باڑہ یا شیڈ بنانا :
پولٹری فارم کے لئے جگہ کے انتخاب کے بعد اپنے پرندوں کے لئے اچھا سا باڑہ یا شیڈ بنائے۔ اس بات کا لازمی دھان رکھیں کہ پرندوں کے لئے بنائے گئے باڑے یا شیڈ میں تمام ضروری سہولتیں میسر ہیں یا نہیں۔ پولٹری فارم پر باڑہ یا شیڈ پرتقریباً تین طرح سے بنائے جاتے ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔

کھلے آسمان تلے اور دور تک پھیلا ہوا یا وسیع پیمانے پرپرندوں کو پالنا – (Extensive Farming) ۔

کچھ حصے میں شیڈ بنا کر اور کچھ حصہ کھلے آسمان تلے پرندوں کو پالنا – (Semi-Intensive Farming) ۔

باڑہ یا شیڈ میں پرندوں کو پالنا – (Intensive) ۔

تجارتی پیمانے پر پرندوں کو پالنے کے لئے باڑہ یا شیڈ بنا کر پالا (Intensive Farming) جاتا ہے۔ آپ پرندوں کو پنجرے میں یا زمین پر دونوں طرح سے پال سکتے ہیں۔ گوشت کی پیداوار کے لئے (برائلر) مرغی کو تقریباً آڑھائی (2.5) مربع فٹ جگہ چائیے ہوتی ہے اور انڈے دینے والی مرغی (Layer chicken) کو تقریباً چار (4) مربع فٹ جگہ چائیے ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر آپ تقریباً 200 انڈے دینے والے مرغیاں پالنا چاہ رہے ہیں۔ تو اس کے لئے آپ کو 800 مربع فٹ جگہ چائیے ہو گی۔ اگر مرغیوں کو پنجرے میں پال رہے تو تقریباً 4 مربع فٹ جگہ ایک مرغی کے لئے درکار ہوگی۔ باڑہ یا شیڈ میں روشنی کا مناسب اتنظام کرنے کے ساتھ ساتھ ہوادار بنانا نہ بھولیں۔

پولٹری فارم کے لئے سازوسامان :
پولٹری فارم کے لئے کچھ ضروری سازوسامان (equipment) چائیے ہو گے۔ ان کو آپ اپنی مرضی کے ڈیزائن اور بازار سے خرید سکتے ہیں۔ ایک پولٹری فارم میں پرندوں کو پالنے کئے درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہوگی جو فہرست میں دئیے گئے ہیں

خوراک دینے والے برتن – (Feeders)

پانی والی بولتیں – (Waterers)

گھونسلے – (Nests)

پنجرے – (Cages)

ڈبہ یا ٹوکرا – (Coop)

لکٹری کے کریٹس – (Crates)

انڈے سینے والی مشینیں – (Incubator)

انڈرے رکھنے والی ٹرے – (Egg tray)

روشنی کے لئے بلب وغیرہ – (Lighting instruments)

پرندوں کے لئے بیٹھنے کے لئے – (Perches)

پرندوں کو گرم رکھنے کے لئے ہیٹرز – (Heaters)

ہوادار بنانے کے لئے پنکھے – (Ventilation System)

کچرا پھکنے کے لئے – (Waste disposal system)

پولٹری فارم پر مزدور :
پولٹری فارم پر پالے جانے والے پرندوں کی تعداد کے مطابق مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر شروع میں آپ 200 سے 500 تک پرندا پالنا چاہ رہے ہیں تو اس کے لئے آپ کو کسی مزدور کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ سارا کام آپ آسانی سے خود ہی کر لیں گے۔ اگر آپ اس سے زیادہ پرندے پالنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو مزدوروں کی ضرورت ہو گی۔ اس بات کا دھان رکھے کہ مزدور آپ کو سستے داموں میں مل جائے۔

پولٹری فارم کے لئے چوزوں کی خرید :
سب کچھ تیار کر لینے کے بعد کسی اچھے اور قابل اعتماد پولٹری فارم سے چوزوں کو خریدیں۔ چوزوں کو فارم پر لانے سے پہلے فارم کے درجہ حرارت کو چوزوں کے لئے مناسب بنائے۔ اگر آپ اس کاروبار میں نئے ہیں تو ایک دن کے چوزے سے شروعات کرنا بہ بانسبت بڑئے چوزوں کے مناسب رہے گا۔ اور اگر آپ اس کاروبار کے اصول و ضوابطوں کے بارئے میں بلکل نہ وقف ہیں تو آپ کم سے کم چوزوں سے شروعات کریں۔ جن کی تعداد 500 سے بلکل بھی زیادہ نہ ہو۔

پولٹری فارم کے پرندوں کے لئے خوراک :
پولٹری فارم کے پرندوں کے لئے خوراک سب سے اہم جزو ہوتا ہے۔ باڑہ یا شیڈ بنانے کے ساتھ ساتھ سازوسامان اور چوزوں کی خرید کے بعد چوزوں کی خوراک کے لئے سب زیادہ سرمایہ چائیے ہوتا ہے۔ کل خرچ کا تقریباً 70% پرندوں کی خوراک کے لئے چائیے ہوتا ہے۔ اور اس کاروبار میں کامیابی کا سہرا اچھی اور مناسب خوراک پر ہوتا ہے۔ آپ بازار سے مختلف اجزاء خرید کر پرندوں کے لئے اپنی خود کی خوراک بنا سکتے ہیں یا پھر بازار سے بنی بنائی خوراک بھی خرید سکتے ہیں۔ بازار میں تقریباً ہر پرندے کے لئے مختلف طرح کی خوراک دستیاب ہوتی ہیں۔ خوراک کے حوالے سے مزید تفصیل جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے ویب سائیٹ کے پیجز کو پڑھے۔

نوٹ: اپنے پولٹری فارم پر اپنے پرندوں کو ایسی خوراک دیں جو آپ کے پرندوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی صحت لئے مفید ہو۔ زیادہ منافع کے کوشش میں آپ جانے انجانے میں انسانی صحت کے ساتھ تو نہیں کھیل رہے۔ اس بات کا لازمی خیال رکھیں۔ اوراس بات کو لازمی ذہن نشین رکھیں کہ قدرت کا قانون ہے کہ جو بیج بو رہے ہو وہ کاٹنا ضرور ہے۔ دوسروع کو خیال کرو گے تو اللہ آپ کا خیال کریں گا ورنہ اس کو آپ کی کوئی پراہ نہیں۔ کیونکہ کہ آپ کو اس کی پیداکردا مخلوق کی پرواہ نہیں۔

گوشت کی پیداروار (برائلر) کے لئے خوراک

انڈے دینے والی پرندے کے لئے خوراک
پولٹری فارم کے پرندوں کی صحت کا خیال :
جیسا کہ پہلے بتا چکے ہیں کہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں سے پرندوں کے لئے آسانی سے ادویات دستیاب ہو۔ پولٹری فارم کے پرندوں کو مختلف طرح کی بیماریاں لگتی ہے جن کے لئے آپ کو تیار رہنا چائیے۔ ہم جانتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ لیکن پھر بھی پرندوں کے دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی صحت کے لئے صاف ستھرا ماحول ہونا لازمی چائیے۔ اپنے پرندوں کو تازہ اور صاف پانی مہیاکریں اور ان کو صاف ستھری اور تازہ خوراک دیں۔ اگر آپ بازاری خوراک دے رہے تو اس پر دی گئی ہدایات کو غور سے پڑھ لیں اور اس کے استعمال کی میاد ختم (expiry date) کو لازمی دیکھ لیں۔ پولٹری فارم کے پرندوں کو وقت پر وٹامنز اور ادویات دیں۔ اور کچھ ادویات اپنے پاس ذخیرہ کر لیں تاکہ بروقت کام آسکیں۔

پولٹری فارم کی مصنوعات کو فروخت کرنا :
پولٹری فارم کی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کر کے فروخت کیا جائے تو اس سے اچھا منافع حاصل ہوتا ہے۔ اگر آپ بازار میں آسانی سے اپنی مصنوعات کو فروخت کر سکتے ہیں تو اس سے آپ کی حوصلہ افزائی ہو گی اور آپ زیادہ محنت کریں گے۔ پولٹری فارم کے کاروبار کو شروع کرنے سے پہلے شہر یا آبادی میں پولٹری فارم کی مصنوعات کے حوالے سے جائزہ ضرور لے لیں اس سے کاروبار کرنے میں آسانی رہے گی۔ اگر آپ اپنی مصنوعات کو آسانی سے فروخت نہیں کر پائے گے تو آپ کو اچھا منافع حاصل نہیں ہو گا۔

تجزیہ :
مجھے اُمید ہے اس آرٹیکل کے ذریعے آپ کو اپنے پولٹری فارم کا کاروبار کرنے میں ضرور راہنمائی ملیں گئ۔ کوشش کریں کہ پولٹری فارم کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے تفصیل سے علم حاصل کریں اور دوسرے پولٹری فارمز کو ضرور دیکھیں کہ وہ اپنا کاروبار کیسے کر رہے ہیں اور ان کے انتظامات کے بارے میں جاننے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ اس سے آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget