کالم لسٹ "جانور،"

کٹیاں 15 ماہ میں گھبن اور کٹا سال میں

400 کلو سے زیادہ کرنے کا فارمولہ یہ کتابی کہانی نہیں حقیقت ھے میرے عام فارمولہ کے رزلٹ آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں. ھزاروں فارمرز میرے اس فارمولے سے منافع بخش فارمنگ کر رھے ہیں یہ فارمولہ اس کی گھبن ماں کو ونڈہ کے فارمولہ سے شروع ھوتا ھے
گھبن بھینس یا گائے بچے کی پیدائش سے 3 ماہ پہلے
میرا مندرجہ ذیل سادہ فارمولہ دیں
مکئی دلیہ 1 +چوکر گندم 1 + کھل بنولہ 1 کلو
یا (1 کلو میظ گلوٹن جوکہ کھل سے بہت سستا ھے )
100گرام بائی پاس فیٹ روزانہ
آخری ماہ ڈبل ونڈہ کر دیں 3+3 صبح شام

نوٹ.(کھل بنولہ کا مہنگی ھے فارمولہ سستا کرنے کے کھل بہتر مگر 30 روپے کلو میظ گلوٹن رفحان استعمال کریں)
اس سے بھینس کا
پہلے سوائے سے 5/6 کلو دودھ بھی زیادہ ھو گا
پیدا بچے کا وزن عام بچے سے 6/7 کلو زیادہ ھو گا
(اس کے بعد پیدائش کے بعد بوھلی بار بار پینے دیں بلکہ اس کو کھلا چھوڑ دیں اپنی مرضی سے بار بار پینے دیں یہ وہم ھے کہ اس سے اس کو پیچش لگ جاتے ایسا کوئی مسلہ نہیں )
اس کو 4/5 کلو دودھ پینے کے لیے 2.تھن دودھ دیں
4/5.دن تک اس کو سادہ چوکر اس کے منہ میں 3/4.دفعہ ڈالیں اور اس کے سامنے کھرلی میں موجود ھو یہ خود ھی کھانا شروع کر دے گا
2 ماہ تک کھل بنولہ کاف سٹارٹر میں ڈالیں اس کے بعد کھل کا خرچہ کم کرنے کے لیے کھل کی جگہ آپ میظ گلوٹن بھی استعمال کر سکتے ہیں

کاف سٹارٹر فارمولہ
مکئی دلیہ.. 20 کلو
چوکر........ 10 کلو
سویابین.... 10 کلو یا (کھل بنولہ)

کاف سٹارٹر پانی کے برتن کے ساتھ اس کے سامنے کھرلی میں ھر وقت موجود رھے اور اس کو 2 ماہ تک رسی کھول کر علیحدہ عارضی باڑے میں رکھیں۔ اس طرح نوزائیدہ بچہ خوشں رھتا ھے اوراپنی مرضی سے کاف سٹارٹر بہتر طریقے سے کھاتا ھے

پیدائش کے وقت وزن اگر 45 کلو ھو تو
وزن دوگنا 90 کلو ھونے پر
(جوکہ 2/3 ماہ کے بعد ھو جاتا ھے)

اس کے بعد اس کا دودھ آہستہ آہستہ بند کر دیں اور اس کو دودھ نکالنے کے لیے دودھ دیں۔ 

اب اس کی کی پرورش

کاف سٹارٹر اور خشک برسیم یا لوسن پر پرورش کریں 4/5 کلو خشک برسیم / لوسن /روڈ گراس
یا سبز چارہ دیں
6 ماہ کے بعد یہ فارمولہ استعمال کریں
.مکئی.......... 40 کلو
چوکر ........40 کلو
سویابین میل 20 کلو
پوڈر DCP 2 kg
L. S Mineral mixture100 grms
By Pass Fats 5 kg
سب کو مکس کر کے ھر وقت کھانے کے لیے دستیاب ھو

اس طرح سے جس نوزائیدہ کٹے کٹی جس کا وزن پیدائش کے وقت 45 کلو تھا
ایک سال میں 400 کلو ھو جائے تو یہ گرم بھی ھوتو
اس کو گھبن مت کروایں
اس سے پہلے اگر گرم ھو تو ملائی مت کروایں
اور جب وزن کلو 450 کلو ھو جائے تو کروائی جائے
یہ کتابی کہانی نہیں
ثابت شدہ عملی رزلٹ ہیں

سائنسی کلیہ کے تحت
گھبن ھونے کا تعلق وزن سے ھے
پیدائش کے وقت وزن 45 کلو تو
ملائی کے وقت وزن 450 کلو ھونا چاہیے

نوٹ * وزن کرنے کا گھریلو طریقہ آسان ھے. اب وزن کی پیمائش کا فیتہ بڑے شہروں میں بازار سے دستیاب ھے اور
گوندل برادرز سے فون 03006986918 سے ھوم ڈلیوری پر دستیاب ھے .اس کے علاوہ سویابین اور میظ گلوٹن گروپ ممبران کو ٹرک بلٹی سے اپنے شہر منگوانے کی سہولت مہیا کی گئی ھے

تحریر ڈاکٹر خالد پرویز 03231492130 (واٹس ایپ)
سابقہ / ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک


جانوروں کے چیچڑوں کا مکمل خاتمہ

علاج نمبر 1:

اکثر جانوروں پر چیچڑ لگ جاتے ہیں، جو جانور کا خون چوستے ہیں اور ان سے جانور کمزور بھی ہوتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کے لیئے انجکشن آئیورمیکٹن کھال میں صرف ایک ڈوز لگائیں، آئیور میکٹن حاملہ جانوروں میں استعمال نہ کریں، ان کی لیئے نیچے بتائی گئی دوسری دوا استعمال کریں ۔

Inj. Ivermectin 1%
(Dose: 1ml per 40kg)

علاج نمبر 2:

ایکٹوفون پائوڈر چیچڑوں کے لیئے بہترین دوا ہے۔ یہ پاؤڈر ایک کلو پانی میں 10گرام حل کیا جاتا ہے اور کسی کپڑے وغیرہ سے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ یہ دوا حاملہ جانور کیلئے محفوظ ہے، اسکے علاوه جانور کے چاٹنے کی صورت میں بھی اس کا کوئی نقصان نہیں۔

Ectofon Powder 10gm
(Prix Pharmaceutical)

علاج نمبر 3:

سائیپر میٹ دوا لیکوئیڈ کی صورت میں ہوتی ہے، اس دوا کا 10ml ایک لیٹر پانی میں حل کرکے جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے۔ چیچڑوں کے خاتمے کیلئے یہ سب سے موئثر دوا ہے، لیکن جانور اس دوا کو ہرگز چاٹ نہیں سکتا۔ حاملہ جانوروں کیلئے بھی محفوظ دوا ہے۔

Cypermit (Eterna)
10ml per 1 liter water

سائیپر میٹ اور ایکٹوفون، دونوں دواؤں کو جانوروں کے رکھنے کی جگہ پر اسپرے کی صورت میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
چیچڑوں کے خاتمے کیلئے اوپر دی گئی کوئی بھی دوا استعمال کرنے کے 21دن بعد دوبارہ ضرور استعمال کریں، تاکہ انڈوں سے نکلنے والے نئے چیچڑوں کا خاتمہ بھی ہو سکے، ورنہ وہ دوبارہ آپ کے جانور کی تباہی کا سبب بنیں گے۔

ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﭩﯽ ﭼﮑﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ۔
ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﯾﺘﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﮨﻢ کچھ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﯾﺎ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺵ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﭼﮑﻨﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﺗﮩﮧ ﭼﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮﺁﺑﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﮮ ﮔﮩﺮﯼ ﺯﻣﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﺮﭼﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺯﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ کا ﺳﺎﺋﯿﺰ اتنا ہونا ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻭ ﺻﺤﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔ ﺗﺎﻻﺏ ﭼﻨﺪ ﻓﭧ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﮑﮍ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺩﻭ ﺍﯾﮑﮍ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﮔﯽ۔


ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ داخل ﻭ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺳﺎﺋﯿﺰ ﮐﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﺍﮔﺮ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺮﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ 60 ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻓﯽ ﺍﻧﭻ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﭨﯿﻮﺏ ﻭﯾﻞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺳﺎﺋﯿﺰ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﺎﻟﯽ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔

ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺁﭖ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﻮﺑﺮ ﯾﺎ ﮐﮭﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﯽ ﺍﯾﮑﮍ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ 5000 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﭽﮧ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺧﺎﻟﺺ، ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻓﺶ ﮨﯿﭽﺮﯼ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﭽﮧ ﺧﺎﻟﺺ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ کی ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮕﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﭘﮑﮯ ﭘﺎﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺁﭘﮑﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﮔﯽ۔

ﺑﭽﮧ ﻓﯿﺒﺮﻭﺭﯼ ﯾﺎ ﻣﺎﺭﭺ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮔﺮﻡ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﺳﺮﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﯾﺎ ایک ساتھ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ساتھ ﭘﺎﻻ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻮ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﻮﺑﺮ ﯾﺎ ﺯﺭﻋﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﮐﻢ ﺧﺮﭼﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﻟﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﺑﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔


ﺗﺎﻻﺏ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﺎﻗﺎﺋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮔﯿﺴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺟﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﻣﻘﺪﺍﺭ 5 ﭘﯽ ﭘﯽ ﺍﯾﻢ ‏( ﯾﺎ ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﻓﯽ ﻟﭩﺮ ‏) ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺳﺒﺰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ 5 ﺳﮯ 7 ﻓﭧ ﺭﮨﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ
ﺍﮔﺮ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﮌﮦ ﯾﺎ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺭﻡ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺶ ﻓﺎﺭﻡ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺧﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﭘﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮔﻮﺑﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﭧ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺱ ﭘﮭﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺩﮮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺑﮩﺘﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﺎﻥ ﺣﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﺩﮮ ﺑﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺯﺭﻋﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻨﯽ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮐﺮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﺰ ﺗﮩﮧ ﺳﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺑﮍﮮ ﭘﻮﺩﮮ ﺟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﭘﺎﺗﮯ۔

ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺍﮌﯾﮟ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﺁﮐﺴﯿﮉﺍﺋﯿﺰ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﺟﺰﺍ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

ﭼﻨﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ :
ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ
ﭘﯽ ﺍﯾﭻ 6.5 ﺳﮯ 8.5 ﺗﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ
ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮔﯿﺲ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﻮﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﮉﺭﻭﺟﻦ ﺳﻠﻔﺎﺋﯿﮉ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺑﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺍﻣﻮﻧﯿﺎ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺍﻟﭩﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﭽﮭﻠﯿﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﻘﺼﺎﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ۔

جانور کی اصل دشمن توڑی // نا قابل ھضم
( 50% سے زیادہ گوبر میں ضالع اور ھاضمے کی خرابی
اور بدضمی کا سبب ھے
اس کو آسان طریقہ سے براون توڑی بنا کر قابل ھضم بنائیں اور غذائیت دوگنا کر کے جانوروں کی صحت بڑھائیں اور 
پھکیوں اور چورن سے نجات پائیں.

 اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم صبح کے وقت اٹھتے ہیں تو جسم میں شدید کمزوری محسوس کرنے کے ساتھ تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں دن کا آغاز انتہائی مشکل ہوجاتا ہے اور ہم سارا دن نیند اور بے چینی کاشکار رہتے ہیں،آئیے آپ کو لیموں اور زیتون کے تیل کو ملاکر بنائے جانے والا ایسا جادوئی نسخہ بتاتے ہیں جس کو ایک بار استعمال کرنے کے بعد آپ ساری عمر ایسا کرتے رہیں گے۔یہ نسخہ صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور ہر کسی نے اسے بہت ہی مفید پایا ہے۔ایک لیموں لے کر اس کا رس نکالیں اور اس میں ایک کھانے کا چمچ خالص زیتون کے تیل کا ڈالیں۔اب اس آمیزے کو ہر صبح استعمال کرنے سے آپ کے متعدد صحت کے مسائل حل ہوجائیں گے۔یہ آمیزہ ناشتے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں تبدیلی آئے گی۔اس کی وجہ سے آپ کی قبض ٹھیک ہوگی، دل کی بیماریاں دور رہیں گی اور ساتھ ہی جگر،پِتا اور لبلبہ بہتر طریقے سے کام کرنے لگیں گے،گردے اور مثانے کے مسائل بھی حل ہوں گے اور ساتھ ہی جگر بھی صاف ہوجائے گا۔
زیتون کا تیل
زمانہ قدیم ہی سے رومن اور یونانی اقوام اس کی افادیت کو مانتی آئی ہیں اور اسے ’مائع سونے‘کا نام بھی دیا گیا ہے۔اس میں موجود فیٹی ایسڈکی وجہ سے برے کولیسٹرول کو کم کیاجاسکتا ہے اور اس کی وجہ سے جسم سے زہریلے مادے بھی نکالے جاسکتے ہیں۔
لیموں
وٹامن سی ،پوٹاشیم،فاسفورس، پروٹین، وٹامن بی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور اس پھل میں کئی بیماریوں کا علاج موجود ہے۔لیموں اور زیتون کے تیل کوملاکر استعمال کرنے سے آپ کا معدہ بہتر طریقے سے کام کرسکے گااور معدے سے زہریلے مادے فضلہ کی صورت میں نکل جائیں گے۔

بھوسہ کی غذائیت 100% بڑھا کر سبز چارے کے برابر کریں بھوسے ناقص خوراک ھے اور اس کی غذائیت نہ ھونے کے برابر ھے
25 کلو توڑی پر 10 کلو پانی میں۔۔۔۔ 1 کلو یوریا کھاد
50 کلو توڑی تہہ ۔۔۔۔20 کلو پانی . ۔۔۔۔ 2 کلو یوریاعام کھاد
100 کلو توڑی ۔۔۔۔۔۔۔40 کلو پانی ۔۔۔۔۔۔۔ 4 کلو یوریا کھاد

ضرورت کے مطابق بھوسہ کی ھموار تہہ پلاسٹک شیٹ پر بچا کر نرسری کے پھُوارے یا سپرے مشین کھلی نوزل سے
محلول سپرے کرئیں۔ اور ایک یا دو آدمی ساتھ ساتھ اس توڑی کو مکس کرتے جائیں تاکہ یہ محلول اچھی طرح ساری توڑی کے ساتھ مکس ھو جائے۔ اس کو اب پلاسٹک شیٹ یا بڑے پلاسٹک شاپر لفافہ میں میں اس طرح پیک کریں کہ اس میں ھوا داخل نہ ھو سکے۔

*ایک ماہ تک ائیر ٹائیٹ رکھ کر کھول دیں اس کے بعد بند رکھنے کی ضرورت نہیں

اب یہ توڑی تیار ھے اس کو اب آپ کھول کر عام توڑی کی طرح بھی رکھ سکتے ہیں یا اس شاپر کے اندر سے نکل کر استعمال کر سکتے ہیں

کیمیائی عمل

*یہ یوریا کھاد کچھ دن بعد امونیا گیس میں بدل جاتی ھے اور یہ خیال کہ یوریا کھاد کا اثر دودھ میں آتا ھے جوکہ انسانوں کے لیے خطرہ ھے یہ تو امونیا گیس کا کمال ھے جوکہ توڑی کے اوپر سخت تہہ Lignin پر اثر کرکے اس کو ختم کر دتیی ھے جو کہ عام توڑی کو ناقابل ھضم بناتی ھے

ایک ماہ بعد توڑی کا رنگ براون ھو گا اور توڑی کو سونگھنے پر آپ کو امونیا گیس تیز چُھبتی بُو محسوس ھو گی جوکہ عارضی ھے
توڑی کو استعمال سے پہلے کھلی ھوا پر رکھنے سے وہ ختم ھو جاتی ھے
اس توڑی کو ونڈے میں استعمال کریں
جس سے %16 Cp پروٹین ونڈے کی Cp پروٹین بڑھ کر 20% ھو جائے گی
اگر 1% یوریا شیرہ مکس کریں گے تو اس کی غذائیت مزید بڑھ جائے گی % Cp بڑھ کر 22 تک ھو جائے گی

یوریا محلول چھڑکاو کرکے ایک ماہ تک پلاسٹک شیٹ میں آئیر ٹائیٹ بند رکھنا ھے
** پبلک سروس میسج از ڈاکٹر خالد پرویز


دودھیل جانوروں کا کیمیکلز سے پاک سستا خالص صحت افزاء اور  وٹامنز/منرلز سے بھوپور ونڈہ گھر بنائیں

چاول دانہ بیس کلو (ٹوٹہ)
جو/گندم ایک من
مکئی ایک من
کالا چنا پانچ کلو
گڑ پانچ کلو
تارہ میرا دس کلو
سونف ایک کلو
آیوڈین نمک تین کلو
کھل بنولہ ایک بوری

نمک، سونف اور گڑ کے علاوہ سب کو موٹا پسوا لیں (گریڈ چار کی چکی کی پسوائی بہتر رہے گی۔
بعد ازاں اس میں نمک، گڑ اور سونف ڈال کرٹاٹ بچھا کر سب اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں اور مکس شدہ ونڈہ کو پولی تھین بوری (پلاسٹک کا توڑا) میں محفوظ کرلیں۔
اس ونڈے کو روزانہ چارے یا توڑی میں ملا کر دیں، اس سے نہ صرف جانور کی قوتِ مدافعت بڑے گی بلکہ دودھ بھی بڑے گا۔
مارکیٹ میں دلکش پیکنگ دیکھ کر کھاد اور ٹاکسن ملا زہر مت خریدیں گھر ونڈہ تیار کرنے میں  تھوڑی محنت درکار ہے، ان شاء الله بہترین نتائج ملیں گے۔

ونڈہ آدھا کلو صبح/شام بھگو کر شروع کرنا ہے۔
جانور کو پسند آئے اور پانچویں دن تک آپکو مثبت نتائج نظر آئیں تو ہر ہفتے مقدار آدھا کلو بڑھاتے رہیں اور ڈھائی کلو صبح شام تک دیں،

اس ونڈے میں جانور کو ملیں گے وٹامنز اور منرلز۔ یعنی پروٹین، میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، کاربز، آئرن، سوڈیم، شوگر،فائبر، وٹامن اے، بی چھے، سی، وغیرہ۔


دوسرا طریقہ 


اسان اور سستی فارمنگ
ونڈہ اور متوازن غذا
یاد رکھنا ونڈہ خود بناٶ ورنہ نقصان اٹھاٶ ۔
جدید ڈیری فارمنگ میں ساری اہمیت متوازن غذا کی ہے کچھ لوگ بہت اچھی نسل کے جانور مہنگے داموں لیتے ہیں پر جب ان کے گھر اتا ہے تو دودھ کم کرتا چلا جاتا ہے اور پھر کچھ لوگوں کو کہتٕے سنا ہے کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے۔ایسا نہی ہے اسکی بنیادی وجہ متوازن خوراک نہی دی جاتی ۔جسکی وجہ سے جانور دودھ کم کرتا چلا جاتا ہے ۔میں نے دوغلی نسل کو اچھا دودھ دیتے دیکھا ہے کیونکہ انکو متوازن غذا دی گی اسلیے انکی دودھ کی پیداوار زیادہ رہی ۔متوازن غذا ہے کیا ۔
ہم متوازن غذا اسکو کہتے ہیں جسمیں کاربوہاٸیڈریڈ ۔پروٹین۔ویٹامن ۔کیلشیم۔فیٹ۔فاٸبر ۔اٸیرن (فولاد)۔شوگر۔سوڈیم اور منرل وغیرہ ہوں ۔کیونکہ یہ سب اجزا دودھ میں ہوتے ہیں اور اگر جسم میں انکی مقدار کم ہو گی تو دودھ بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ایک حد تک تو جانور اپنے جسم سے یہ سب پوری کرتا ہے ۔پھر جانور دودھ کم کر دیتاہے۔دودھ دینے والے جانور کو بہت خوراک کی ضرورت نہی ہوتی بلکہ متوان خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسکی مثلا ایسے ہی ہے جیسے ایک ادمی چار روٹیاں کھاے اور دوسرا ادمی ایک روٹی ایک انڈا ایک بوٹی اور ایک گلاس دودھ پیے ۔پہلے ادمی نے خوراک تو زیادہ کھاٸی پر غزاٸی اعتبار سے دوسرے ادمی کی خوراک بہتر تھی ۔
یہی چیز اب جدید ڈٸیری میں چاہیے دودھ والے جانوروں کو بہت سارا چارہ نہی چاہیے بلکہ متوازن چارہ اور غزاٸی اجزا چاہیے اسمیں کچھ تو ہم سبز چارہ ۔ساٸلیج۔براٶن توڑی یا توڑی سے لیتے ہیں۔اور کچھ ہم اجناس سے اورکچھ معدنیات سے حاصل کرتے ہیں ۔
اجناس اور معدنیات کاجو مرکب ہم بناتے ہیں اسکو ہم ونڈا کہتے ہیں ۔زیادہ فارمر پریشان رہتے ہیں کہ اسکو بنایا کیسے جاتا ہے ۔
فارمر حضرات میری ایک بات یاد رکھنا ونڈا خود بناٶ ورنا نقصان آٹھاو۔
ونڈا بنانے کیلیے ہم اسکو چار گروپ میں تقسیم کرتے ہیں ۔
فرض کریں ہم نے سو کلو ونڈا بنانا ہے تو ہم اسکو یوں بناٸیں گے۔اسکو میں اپکو گروپوں میں سمجھاتا ہوں ۔ان گروپوں میں سے جو جوچیز اپکوسستی اور اسانی سے میسر ہو وہ اپ لیں ۔

گروپ 1

کھل بنولہ ۔کھل توریا ( سرسوں)
دونوں میں سے کوٸی 30 کلو لیں

گروپ 2

چوکر ۔میز گلوٹن۔دالوں کا برادا ۔چنے کا برادا۔
ان میں سے کوٸی دو 15 +15 کلو لیں ۔کل 30 کلو

گروپ 3

مکٸی کا باریک دلیہ ۔راٸس پالش ۔ جو ۔گندم کاباریک دلیہ۔چنے کا بریک دلیہ۔شیرہ راب۔
شیرہ دس کلو باقی انمیں سے کوٸی دو 12 12 کلو لیں ۔
اگر میسر نہی تو پھر مکٸی ہی 24 کلو لیں ۔
گروپ 4
منرل مکسچر دو کلو
باٸی پاس فیٹ دوکلو
نمک ایک کلو
کیلشیم(DCP ۔انڈا کاچھلکا۔چونے کاپانی۔ہڈیوں کا کاچورہ) ایک کلو
بجھا چونا ایک کلو

تمام گروپ میں سے مقررہ مقدار لیں اور سبکو باریک پیس کر سب کو ملا لیں ۔گروپ 4 میں سے سب اجزا کولینا ہے۔باقی تین میں سے جو جواپکو سستا ملے وہ وہ لے لیں۔
اب ونڈا اور چارہ کس جانورکو دینا کتنا ہے ۔دودھ والی دیسی گاۓ کو 8 کلو ساٸلیج 10 کلو سبز چارہ۔اور براٶن توڑی تین کلو۔اگر ساٸلیج میسر نہی توپھر چارہ 18 کلو ۔ اگر فریزین گاۓ یا بھینس ہے ہےتو پھر 10 کلو ساٸلیج۔دس کلو سبز چارہ ۔چار کلو براٶن توڑی ۔
اب دودھ والے جانور کو ونڈہ کس حساب سے دینا ہے ۔
تین کلو دودھ پر ایک کلو ونڈا دینا ہے اگر دودھ 24 گھنٹے میں 15 کلو ہے تو 5 کلو ونڈہ دینا ہے ۔اگر 17 یا 18 کلو دودھ ہے تو 6کلو ونڈا دینا ہوگا ۔بہتر نتاٸج کیلے ادھاونڈا صبح اورادھا شام کو کودیں۔
اگر جانور بچہ دینے کےبعد 13 کلو دودھ ہے تو اسکو 5 کلو ونڈا دیں دس پندرہ دن میں اگر دودھ 15 کلو کرگیا تو پھر اسکو6کلو ونڈا دیں اور پھر اگر دس دن بعد دودھ 16 یا 17 کلو ہوجاے تو 7 کلو ونڈا دیں جب جانور کادودھ ایک مقدار پر رک جاۓ پھر اسے تین کلو دودھ پرایک کلو ونڈا ہی دیتے جاٸیں ۔
یہاں ایک بات نوٹ کریں کہ فریزین کو نمک کیلشیم اور شیرہ زیادہ دیں۔اگر اپ نہی دیں گے تو فریزین چواٸی کےبعد بلڈ پریشر یا شوگر کم ہونے سے مر بھی جاتا ہے یا پھر گر جاتا ہے۔یا پھر اس سے صحیح سے اٹھا نہی جاتا۔
کوشش کریں فی کلو ونڈہ 35 سے 40روپے سے کم میں ہی پڑے ۔
جانور 20 % دودھ بروقت اور صاف پانی پینے سے بڑھاتا ہے ۔دودھ والے جانور کے پاس ہر وقت پانی موجود ہو خاص طور پر فریزین کیلیے ۔
گبن اور دچھے وچھیوں کو یہ ہی ونڈا دینا ہے سب کو صرف فربا جانوروں کیلیے براٶن توڑی اور ونڈا دینا ہے اور شیرہ ونڈہ میں مکس نہی کرنا ۔ایک کلو
شیرہ کو گیارہ کلو پانی میں مکس کر کے وہ پانی ہر وقت دینا ہے ۔اسطرح وچھے چھ ماہ اور بکرے سو سے ایک سو دس دن میں فربا ہو جاتے ہیں ۔
ونڈا میں جو چیزیں پانی والی ہیں اسکو ونڈا میں اسوقت شامل کریں جب ونڈا جانور کو دینا ہو ۔
جانور کسان کا زیور ہے اسکی حفاظت کریں ۔
خوشحال کسان مضببوط پاکستان ۔

تیسرا طریقہ

جانور کو 6 ماہ کاف سٹاٹر ونڈہ کے بعد اس فارمولے پر پالیں فربہ کرنے کا ونڈہ


چوتھا طریقہ


پانچواں طریقہ


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget