کالم لسٹ "پھلوں کی افادیت"

انار عموماََ دو وجوہات کی بنیاد پر پھٹتا ہے.
نمبر 1. بیکٹیریا سے لگنےوالی بیماری بیکٹیریل بلائٹ کی وجہ سے
نمبر 2. کھادوں اور پانی کی کمی بیشی کی وجہ سے
لیکن آپ نے جو حقیقت بتائی ہے اور تصویریں بھیجی ہیں ان کے مطابق یہ بیکٹیریا سے لگنے والی بیماری بیکٹیریل بلائٹ ہے.
لہذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بیماری کو اچھی طرح سے پہچان لیا جائے.
ہوتا یہ ہے کہ بیکٹیریا سب سے پہلے انار کے پتوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پتوں پر بھورے اور کالے رنگ کے دھبے ظاہر ہوتے ہیں.
پتوں پر بھورے اور کالے رنگ کے دھبے نظر آ رہے ہیں
اس کے بعد یہ دھبے شاخوں پر بھی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں. اور شاخیں کہیں کہیں سے کالی کالی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں.
دھبے شاخوں پر بھی نظر آ رہے ہیں
اگر حملہ زیادہ تو شاخیں پھٹنا بھی شروع ہو جاتی ہیں
زیادہ حملے کی صورت میں شاخ پھٹ جاتی ہے
اس کے بعد پھل پر تکونی شکل کے کالے رنگ کے نشان سے ظاہر ہوتے ہیں

اور شدید حملے کی صورت میں انار پھٹ جاتا ہے.

بیکٹیریل بلائٹ کا حل کیا ہے؟
اگر آپ کے انار پھٹ رہے ہوں تو فوری طور پر تین کام کریں

نمبر 1. اینٹی بائیوٹک کا سپرے کریں

اس بیماری میں جب بیکٹیریا پودے پر حملہ کرتا ہے تو اس کے فوراََ بعد پھپھوندی بھی حملہ آور ہو جاتی ہے. لہذا اس بیماری کو کنٹرول کرنے کے لئے سب پر پہلے اینٹی بائیوٹک اور اس کے بعد پھپھوندی کش زہر کا سپرے کرنا ضروری ہے.

لہذا سب سے پہلے آپ انار پر ایک اینٹی بائیوٹک سٹر یپٹو مائی سین سلفیٹ سپرے کر دیں.
سٹر یپٹو مائی سین سلفیٹ کی ایک گرام پیکنگ آپ کو کسی بھی میڈیکل سٹور سے 10 یا 12 روپے میں مل جائے گی.
اینٹی بائیوٹک کی ایک گرام کی پیکنگ
20 لیٹر پانی والی ٹینکی میں دو گرام (یعنی دو شیشیاں) ڈال کر اچھی طرح حل کریں اور انار کے پودوں پر سپرے کر دیں.

نمبر 2. پھپھوندی کش سپرے کریں

اس سپرے کے 2 دن بعد بائر کی ایک پھپھوندی کش زہر جو مارکیٹ میں نٹیوو کے نام سے دستیاب ہے پودے پر سپرے کر دیں.

نمبر 3. کھادیں پوری کریں

واضع رہے کہ پودے کو مناسب خوراک نہ دی گئی ہو تو اس کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور وہ بیماریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا. پودے کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے 1 کلو نائٹروفاس اور آدھا کلو پوٹاشیم سلفیٹ کی کھادیں ڈالیں.
اصولاََ یہ کھادیں جنوری میں ڈالنی چاہئیں تھیں. اگر آپ نے جنوری میں کوئی کھاد ڈال رکھی ہے تو اسی حساب سے جمع تفریق کر کے پودے کی کھاد پوری کر دیں.

بوران کا سپرے کریں. دو گرام فی لیٹر پانی کے حساب سے سپرے کریں.

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک اور پھوندی کش زہروں کے بیماری آنے سے پہلے حفاظتی سپرے کریں.
پانی یا کھادوں کی کمی بیشی کی وجہ سے پھل کا پھٹنا بعض اوقات انار کے پھل کو بیکٹیریل بلائٹ بیماری نہیں ہوتی جبکہ پھل پھر بھی پھٹ رہے ہوتے ہیں.

ماہرین بتاتے ہیں کہ اس طرح سے اناروں کا پھٹنا پانی اور کھادوں کی کمی بیشی کی وجہ سے ہوتا ہے.
بوران، کیلشیم اور پوٹاش کی کمی کا انار پھٹنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے البتہ ان تینوں اجزاء کی کمی کی وجہ سے پودے میں پانی کی کمی بیشی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے. اس طرح سے بوران، کیلشیم اور پوٹاش کی کمی بھی پھل پھٹنے کا سبب بن جاتی ہے.
 ماہرین کے مطابق
 1. پانی کی کمی بیشی
2. کیلشیم و بوران کی کمی کے ساتھ نائٹروجن کھاد کا ضرورت سے زائد استعمال اور
3. ہارمون کا بے جا استعمال پھل پھٹنے کی وجہ ہے.

انار کی کچھ ورائٹیاں ایسی ہیں جن میں پھل کم پھٹتا ہے جبکہ دوسری ورائٹیوں میں پھل پھٹنے کا رجحان زیادہ ہے. بھارت میں تحقیق یہ بتاتی ہے کہ امبی بہار اور ہستا ورائٹیوں میں پھل سب سے زیادہ جبکہ مریگ بہار ورائٹی میں سب سے کم پھٹے ہیں. امید ہے پاکستان میں بھی اس طرح کی کوئی تحقیق جلد سامنے آ جائے گی.

اگر انار کھادوں اور پانی کی کمی بیشی کی وجہ سے پھٹ رہے ہوں تو اس کاحل کیا ہے؟
انار کو مناسب وقفے سے پانی لگائیں اور پانی کی کمی بیشی نہ ہونے دیں. خاص طور پر پھل لگنے سے لیکر پھل پکنے تک پانی لگانے میں محطاط رویہ اختیار کریں. بتایا جاتا ہے جہاں اناروں کو ڈرپ آبپاشی کے ذریعے پانی لگایا جاتا ہے وہاں انار کے پھل کم پھٹتے ہیں.

جب پھل تھوڑا بڑا ہو جائے تو یکے بعد دیگرے بوران کے دو سپرے کریں. سپرے کرنے کے لئے 2 گرام بوران فی لیٹر پانی کے حساب سے محلول بنا کر سپرے کریں.

زمینی تجزیے کے مطابق کیلشیم اور پوٹاش کھادیں ڈالیں. یہ کھادیں پانی کی کمی کی صورت میں پھل کو پھٹنے سے بچاتی ہیں.

پوسٹ کی زیادہ تر معلومات ایگری اخبار سے لی گئی ھیں.
ترتیب،چھانگاسرکار
پوسٹ دیگر احباب کی معلومات کے لئے شیئر کریں ۔۔شکریہ

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔ 
یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔
تاہم جہاں اس کے متعدد فوائد ہیں، وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں اور یہ دونوں آپ نیچے جان سکتے ہیں۔

کیلے کے فوائد

دل کی صحت

کیلے دل کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود پوٹاشیم ہے اور دل کے افعال کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سوڈیم یا نمکیات نہ ہونے کے برابر ہے لہذا یہ شریانوں کو ہائی بلڈ پریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ رواں سال ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم شریانوں کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کے اکڑنے یا سکڑنے کا خطرہ کم کرتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

ڈپریشن کے خلاف بھی مفید

کیلوں میں موجود ٹرائیپٹوفن نامی جز جسم میں جاکر سیروٹونین میں بدل جاتا ہے جو کہ مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس نیند کو بہتر کرتا ہے جبکہ میگنیشم پٹھوں کو سکون فراہم کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر اور موٹاپے میں کمی

فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث کیلے قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہیں جبکہ وٹامن بی سکس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں کمی لاتا ہے، چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے اور پیٹ کو جلد بھر دیتا ہے لہذا بے وقت منہ چلانے کی عادت پر بھی قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ورزش

جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ورزش کرنے والے افراد کے لیے انرجی ڈرنکس سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

بینائی

صرف گاجر ہی نہیں بلکہ کیلے بھی بینائی میں بہتری کے لیے فائدہ مند ہے، اس پھل میں کم لیکن نمایاں مقدار میں وٹامن اے ہوتا ہے جو بینائی کے تحفظ کے لیے اہم ترین جز ہے، یہ عام بینائی کو صحت مند رہنے اور رات کی بینائی بہتری لانے والا پھل ہے۔

ہڈیاں

کیلے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق کیلوں میں ایک جز fructooligosaccharides موجود ہوتا ہے جو معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھا کر جسم کی کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

کینسر

کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اعتدال میں رہ کر اس پھل کو کھانے سے گردوں کے کینسر سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ چالیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے، اور اس حوالے سے کیلے موثر ترین ہے۔ ہر ہفتے چار سے چھ کیلے کھانا گردوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

حمل

برطانوی طبی جریدے دی رائل سوسائٹی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کیلے میں موجود پوٹاشیم حاملہ خواتین کے ہاں لڑکوں کی پیدائش میں مدد دے سکتا ہے، اس تحقیق کے دوران 740 خواتین کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ حمل سے قبل زیادہ مقدار میں پوٹاشیم کو کھانے سے لڑکوں کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

طبی نقصانات

یہ پھل اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی طرح چونکہ یہ میٹھا پھل ہے تو اسے زیادہ کھانے پر دانتوں کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنا دانتوں کی فرسودگی اور ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ اس پھل میں چونکہ مناسب مقدار میں پروٹین یا فیٹ نہیں، لہذا جسم غذائیت سے محروم ہوسکتا ہے۔
تاہم واضح رہے کہ کیلے اسی وقت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جب انہیں بہت زیادہ کھایا جائے اور طبی ماہرین کے مطابق ایک دن میں دو سے چار کیلے ہی صحت کے لیے بہتر ہوتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ کھانے سے جسم میں وٹامن اور دیگر منرلز کی سطح بہت زیادہ بڑھ کر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

سرخ چیری صرف دیکھنے میں ہی خوش نما اور دل کش نہیں ہوتی،بلکہ اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں یہ چھوٹا سا پھل جو غذائیت سے بھرپورہے،گرمی کے موسم میں ہوتا ہے۔چیری میں ریشہ اور پانی ہوتا ہے۔ماہرینِ غذائیت کہتے ہیں کہ اگر آپ وزن گھٹانا چاہتے ہیں تو چیری کھائیے۔

یہ چھوٹا سا خوب صورت پھل ہمیں زنک،فولاد،پوٹاشیم،مینگنیز اورتانبا فراہم کرتا ہے۔اس میں شامل پوٹاشیم دل کی دھڑکنوں کو معمول پر رکھتا اور ہائی بلڈ پریشر پر قابو پاتا ہے۔یہ سوزش کو بھی ختم کرتا ہے۔چیری میں شامل ”بورون“(BORON ) نامی مادہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔دوسرے بہت سے پھلوں کی طرح چیری میں وٹامن سی بھی ہوتا ہےجو ہماری جِلدکے لیے بہت فائدہ مند ہے اورانفیکشن نہیں ہونے دیتا۔یہ شریانوں اور نسیجوں کو مضبوط کرتی ہے۔اس کے علاوہ اس میں زخموں کو مندمل کرنے اور دانتوں کو مضبوط بنانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔

موسم گرما میں ویسے توآم کی بادشاہت ہوتی ہے لیکن اس موسم کا آغاز چیری سے ہوتا ہے جوافادیت کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں ۔ چیری پاکستان کے شمالی علاقوں میںکاشت کی جاتی ہے،مثلاََ گلگت، بلتستان اور بلوچستان وغیرہ۔دنیا بھر میں چیری کی تقریباََ 50 اقسام پائی جاتی ہیںجن کا ذائقہ اور خوشبو مختلف ہے۔چیری میں درد ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے چنانچہ اسے کھانے سے جوڑوں کا درد، ورم،عضلاتی کھچاؤ اور کھیل کود کے دوران لگنے والی چوٹوں میں آرام ملتا ہے۔

اگر آپ اعصابی دباؤ،بے خوابی یا سردرد میں مبتلا ہیں تو روز چیری کھائیں،اس لیے کہ چیری میں مانع تکسید جزو میلاٹونن (MELATONIN )ہوتا ہے،جو دماغ کے اعصاب کو سکون دیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دوسرے اعصاب کو بھی پُرسکون کرتی ہے،ہیجان کو روکتی اور گہری نیند لاتی ہے۔رومی ،یونانی اور چینی اسے قدیم زمانے سے کھارہے ہیں۔مشی گن (امریکا) میں جولائی کے مہینے میں اس کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اگر آپ ناشتے میں دلیا کھا رہے ہوں تو اس میں چیری بھی ملا سکتے ہیں۔دوپہر کے کھانے میں بھی چیری کھائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ اگر رات کے کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو دل چاہے تو چیری کھانے میں کوئی حرج نہیں۔چیری ایسا پھل ہے کہ آپ جب چاہیں اسے کسی چیز کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔اسے سلاد میں ڈالیں،پڈنگ کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کریں،کیک میں شامل کریں یا شیک بنا کر پئیں۔ہر طرح سے چیری لطف اور مزہ دے گی۔

سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ چیری کو قدرتی حالت میں کھایا جائے، اس لیے کہ اس کا شیک بنانے یا پھینٹنے سے اس میں شامل ریشہ ضائع ہوجاتا ہے۔اسے زیادہ عرصے تک ریفریجریٹر میں نہ رکھیے ورنہ اس کی مانع تکسید(AntiOxidant)خاصیت ختم ہوجائے گی۔ اگر آپ کا وزن بڑھ گیا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہےبلکہ چیری کے موسم میں تازہ چیری کھانے کی ضرورت ہے۔یہ وزن کم کرنے میں آپ کی بھرپور مدد کرسکتی ہے۔چیری کو اپنی روزانہ کی غذاؤں میں شامل کریں۔

گرمیوں میں لوگ پھلوں کے بادشاہ آم کو کھانا پسند کرتے ہیں،مگرچیری کے کئی فائدوں کی بنا پر اسے بھی بازار سے خرید کر گھر لے جاتے ہیں۔رومی ،یونانی اور چینی اسے قدیم زمانے سے کھارہے ہیں۔مشی گن(امریکا) میں جولائی کے مہینے میں اس کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں چیری کی کاشت کی جاتی ہے،مثلاََ گلگت، بلتستان اور بلوچستان وغیرہ۔دنیا بھر میں چیری کی تقریباََ 50 اقسام پائی جاتی ہیں،جن کا ذائقہ اور خوشبو مختلف ہے۔چیری میں درد ختم کرنے کی خاصیت ہوتی ہے۔چیری میں درد ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔چناں چہ اسے کھانے سے جوڑوں کا درد اور ورم،عضلاتی کھچاؤ اور کھیل کود کے دوران لگنے والی چوٹوں کا درد ختم ہوجاتا ہے۔اگر آپ اعصابی دباؤ،بے خوابی یا سرکے درد میں مبتلا ہیں تو روز چیری کھائیں،اس لیے کہ چیری میں مانع تکسید جزو میلاٹونن ( MELATONIN )ہوتا ہے،جو دماغ کے اعصاب کو سکون دیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دوسرے اعصاب کو بھی پُرسکون کرتی ہے،ہیجان کو روکتی اور گہری نیند لاتی ہے۔آزاد اصلیوں (FREE RADICALS)کو ختم کرتی ہے،جو بڑھاپا لاتے،سرطان پیدا کرتے یا مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

یہ چھوٹا سا خوب صورت پھل ہمیں جست،فولاد،پوٹاشیئم،مینگنیز اورتانبا فراہم کرتا ہے۔اس میں شامل پوٹاشیئم دل کی دھڑکنوں کو معمول پر رکھتا اور ہائی بلڈ پریشر پر قابو پاتا ہے۔یہ سوزش کو بھی ختم کرتا ہے۔چیری میں شامل ”بورون“(BORON ) نامی مادہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔دوسرے بہت سے پھلوں کی طرح چیری میں حیاتین ج(وٹامن سی) بھی ہوتی ہے،جو ہماری جِلدکے لیے بہت فائدہ مند ہے اور تعدیہ (انفیکشن) نہیں ہونے دیتی۔یہ شریانوں اور نسیجوں کو مضبوط کرتی ہے۔اس کے علاوہ اس میں زخموں کو مندمل کرنے اور دانتوں کو مضبوط بنانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔

اگر آپ ناشتے میں دلیا کھا رہے ہوں تو اس میں چیریاں بھی ملا سکتے ہیں۔دوپہر کے کھانے میں بھی چیری کھائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ اگر رات کے کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو دل چاہے تو چیری کھانے میں کوئی حرج نہیں۔چیری ایسا پھل ہے کہ آپ جب چاہیں اسے کسی چیز کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔اسے سلاد میں ڈالیں،پڈنگ کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کریں،کیک میں شامل کریں یا شربت بنا کر پییں۔ہر طرح سے چیری لطف اور مزہ دے گی۔

ماہرینِ غذائیات کے مطابق چیری کھانے سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہ خوش نما اور خوش ذائقہ پھل کئی اہم طبی اجزا سے بھرپور ہے۔


ایک کپ یا 20 چیری میں 100 کیلوریز ہوتی ہیں جو وٹامن سی کی روزمرہ ضروریات کی 15 فیصد مقدار پوری کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چیری کے چند اہم ترین فوائد درج ذیل ہیں۔

کینسر سے بچنے میں مدد

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹھی اور کھٹی چیری میں فائبر، وٹامن سی اور پوٹاشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے اور یہ کینسر سے بچانے میں مددکرتی ہے۔ کھٹی چیری کے جوس میں وٹامن اے کی بھی اچھی مقدار پائی جاتی ہے۔چیری میں اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو آپ کے جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔چیری پر ہونے والی ایک اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سرخ اور رس دار چیری آرتھرائٹس اور گٹھیا کے درد میں آرام دیتی ہے۔ ساتھ ہی کینسر اور ذیابطیس جیسے خطرناک امراض سے بچنے میں بھی فائدے مند ہوتی ہے۔

کولیسٹرول کم ، نیند زیادہ،حافظہ تیز

یوں تو تمام اقسام کی چیری صحت کے لیے فائدے مند ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ کھٹی چیری جو گہرے رنگ کی ہوتی ہے اس کے چھلکے میں بھرپور غذائیت موجود ہوتی ہے۔چیری حافظے کی کمزوری کے خلاف مزاحمت کرتی ہے، کولیسٹرول کم کرتی اور بھرپور نیند لاتی ہے۔ کھٹی چیری میں کسی بھی پھل یا سبزی کے مقابلے میں سب سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹ پایا جاتا ہے۔ امریکا میں ہونے

والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دوڑنے اور دیگر جسمانی ورزشوں کے بعد چیری کا شیک پینا انتہائی صحت بخش ہے۔ 

اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور

اینٹی آکسیڈنٹس ہمارے جسم کے باڈی گارڈز ہیں جو کئی امراض سے دور رکھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں اس بگاڑ کو روکتے ہیں جو کینسر، الزائیمر اور دل کے امراض کی وجہ بنتے ہیں۔

ذیابیطس سے محفوظ رکھے

چیری بدن کی اندرونی سوزش کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان پھلوں میں شامل ہے جس کا گلاسیمک انڈیکس سب سے کم ہے۔ اسے کھانے سے ئہ ہی شوگر بڑھتی ہے اور نہ ہی انسولین کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ ذیابیطس سے محفوظ رکھنے میں بہت مؤثر پھل ہے۔

پرسکون نیند کی ضمانت

بہت کم پھل ایسے ہیں جن میں ایک اہم ہارمون میلاٹونِن پایا جاتا ہے اور چیری ان میں شامل ہے۔ یہ ہارمون سونے اور جاگنے کے چکر کو متوازن رکھتا ہے۔ اس پر ایک سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ چیری کھانے سے نیند بہتر ہوتی ہے اور نیند بہتر ہونے سے تمام جسمانی اور دماغی افعال بہتر اور منظم ہوتے ہیں۔

جوڑوں کے درد میں آرام

چیری پر کیے گئے کئی اہم تجربات اور سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ اس کا جوس جوڑوں کے درد کو کم کرتا ہے اور گٹھیا کے مرض میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

کولیسٹرول گھٹائے

چیری کا جوس برے کولیسٹرول یعنی ’ایل ڈی ایل‘ کولیسٹرول کا دشمن ہے۔ اگر کولیسٹرول میں ایک فیصد کمی ہوجائے تو اس سے دل کے عارضے کا خدشہ دو فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے چیری کا رس کولیسٹرل گھٹانے میں بہت معاون ہے۔

ورزش کا درد گھٹائے

ورزش کے بعد بدن میں درد ہونے لگتا ہے اور اس صورتحال میں چیری بدن کے درد کو کم کرتی ہے۔ خلیات کی ٹوٹ پھوٹ اور فرسودگی کو دور کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ پٹھوں اور عضلات میں اینٹھن کا بھی علاج ہے۔ جسمانی مشقت کرنے والے اور کھلاڑی حضرات چیری کا بطورِ خاص استعمال کریں۔

احتیاط اور استعمال

چیری کھائیں، اس کا رس پیئیں اور بازار میں اس کے سفوف بھی ملتا ہے جو یکساں طور پر فائدہ دیتا ہے اس لیے چیری کا باقاعدہ استعمال اس وقت بھی ممکن ہوسکے گا جب وہ درختوں سے غائب ہوجاتی ہیں۔
بازار سے چیری خریدتے وقت محتاط رہیے۔عموماََ ٹھیلوں پر رکھی چیری جلد خراب ہوجاتی ہے لہٰذا گتے کے ڈبوں میں بند چیری خریدنا مناسب ہے۔ان کے جلدگلنے سڑنے کا احتمال نہیں ہوتا۔گھر لاکر انہیں خوب اچھی طرح دھولیں۔پھر ریفریجریٹر میں رکھ دیں۔

آڑو سرد علاقے کا اہم پھل ہے پاکستان میں تقریباً 2 ہزار ہیکٹر رقبہ اس کے زیرِ کاشت ہے جس سے اندازاً 18,000 ٹن پھل پیدا ہوتا ہے۔ کوئٹہ، قلات، پشاور ، سوات اور کوہستان میں آڑو کی زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ اور خاص قسم کی خوشبو منفرد ہونے کی وجہ سے اس کو پھلوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔آڑو میں تقریباً 14.6-10 فیصد نشاستہ 2فیصد لحمیات کے علاوہ حیاتین الف،ب اور ج کافی مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ فولاد ، فاسفورس اور کیلشیم بھی مناسب مقدار میں پایا جاتا ہے۔ آڑو کی کاشت پاکستان کے مندرجہ ذیل علاقوں میں ہوتی ہے:

پنجاب
اٹک، مری، خوشاب

خیبرپختونخواہ
پشاور، سوات، مینگورہ، ہزارہ، چترال

بلوچستان
کوئٹہ، پشین، لوالائی، قلات، قلعہ سیف اللہ

صوبوں کے لحاظ سے پاکستان میں فی ہیکٹر کے حساب سے پیداوار

صوبہ                          علاقہ(000)ہیکٹر                 پیداوار(000)ٹن
خیبرپختونخواہ                     5.9                                 33.3
بلوچستان                            9.4                                 20.8
پنجاب                                4.2                                  2.2

آڑو کی اقسام   

سفارش کردہ اقسام
فلوریڈا کنگ، ارلی گرینڈ، فلوریڈا پرنس، فلوریڈا سٹار


خیبرپختونخواہ میں آڑو کی سفارش کردہ اقسام

ارلی گرینڈ، سوات1-8، سپرنگ کرسٹ، ٹیکساس، اے69، البرٹا، سوانی، پیچ ایٹ، مرایہ ڈلیزیہ

آڑو کی پیداواری ٹیکنالوجی

موسم
پھلوں کی کامیاب پیداوار حاصل کرنے کے لیے اس میں موسم کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ گو آڑو سرد موسم کا پھل ہے لیکن اس کی مختلف علاقوں میں کاشت کی جا سکتی ہیں۔ جن میں سے کچھ اقسام میدانی علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آڑو کاشت کرنے سے پہلے مخصوص علاقوں کے لیے سفارش کردہ اقسام کے بارے میں ماہرانہ مشورہ حاصل کیا جائے اور پھر وہی اقسام لگائی جائیں۔

زمین کی تیاری
آڑو مختلف قسم کی زمینوں میں لگایا جا سکتا ہے لیکن ریتلی میرا اور میرا زمین زیادہ موزوں ہے۔ زمین میں پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام ہونا ضروری ہے۔کیونکہ آڑو زیادہ دیر تک کھڑے پانی کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ زیادہ بارشوں والے علاقوں میں اس کا خاص خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔

افزائش نسل
آڑو کے روٹ سٹاک کی افزائشِ نسل بذریعہ تخم کی جاتی ہے۔صیحح النسل اور معیاری پودے حاصل کرنے کے لیے نباتاتی طریقہ زیادہ موزوں ہے اور یہی طریقہ زیادہ استعمال میں آتا ہے۔اس طریقے سے پودے حاصل کرنے کے لیے پہلے روٹ سٹاک تیار کیے جاتے ہیں جن پر چشمہ یا پیوندکاری کی جاتی ہے۔ قلم سے بھی ایسے پودے تیار کیے جا سکتے ہیں مگر روٹ سٹاک کچھ بیماریوں کو برداشت کرنے کی خاصیت کی وجہ سے پیوندکاری زیادہ مناسب ہے۔نرسری سے پودے حاصل کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضرور ی ہے کہ پیوند صحیح لگایا گیا ہو اور پودے صحت مند ہوں ۔ہمارے ملک میں چونکہ نرسری پودوں کی تصدیق کا طریقہ کار موجود نہیں ہے اس لئے پودے با اعتماد نرسری سے حاصل کرنے چاہئیں۔

 باغ لگانا
پودے باغ میں لگانے کے لیے پہلے رمین کو خوب تیار کرنا چاہیے اگر گوبر کی کھاد میسر ہو تو تقریباً 5-6 ٹن فی ایکڑ ملا دی جائے اس کے علاوہ 2×2 گڑھے بنا کر ان میں ایک حصہ گوبر کی کھاد ایک حصہ بھل اور ایک حصہ گڑھے کی مٹی ملا کر بھر دیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ ان کی قسم، روٹ سٹاک اور پودوں کے درمیان کام کرنے کے طریقہ کار کے مطابق رکھنا چاہیے۔عام طور پر آڑو کے پودے 5×5 اور 6×6 میٹرکے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں۔ پودے لگانے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے گڑھے بھر دینے چاہیں تا کہ ان کی مٹی اپنی جگہ بیٹھ جائے اور جب پودے لگائیں تو وہ متاثر نہ ہوں۔

آڑو کے پودوں کو خوابیدہ حالت میں لگانا چاہیے جس کے لیے جنوری ، فروری مناسب وقت ہے۔پودا لگاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ پیوندکردہ حصہ زمین سے کم از کم چھ انچ باہر رہے تا کہ اس کو پانی اور مٹی سے لگنے والی بیماری کا اندیشہ نہ رہے۔پودا لگانے کے بعد پانی دینا چاہیے تا کہ وہ زمین میں اپنی جڑیں پکڑ لے۔

کھادوں کا استعمال
پھلوں کی کامیاب اور منافع بخش پیداوار کے لیے ان کی خوراک کو اہم مقام حاصل ہے کیونکہ کسی بھی غذائی عنصر کی کمی سے پھل کی کوالٹی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ پودوں کی مناسب صحت کے لیے مختلف کھادوں کا استعمال ضروری ہے۔ان کی مقدار زمین کی حالت، پودے کی عمر کے مطابق رکھنی چاہیے اگر ممکن ہو تو زمین اور پتوں کا تجزیہ کروا لینا چاہیے تا کہ مقدار کا تعین کرنے میں آسانی رہے آڑو کے ایک جوان سال پودے کے لیے 20-40 کلو گرام گوبر کا کھاد 2:1:2 کے تناسب سے این۔پی۔کے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوبر کی کھاد سال میں ایک دفعہ دسمبر میں اور مصنوعی کھادوں کی آدھی مقدار پھول نکلنے سے پندرہ دن پہلے اور آدھی مقدار پھل بننے کے بعد ڈالنی چاہیے۔

پانی
گرم اور خشک موسم میں پودوں کو 10-15 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیے۔ سردیوں میں آڑو کو بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔بارانی علاقوں میں اگر مناسب وقفے سے بارشیں ہوتی رہیں تو پانی لگانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اگر بارشیں نہ ہوں تو اپریل سے جون تک پانی لگانا چاہیے کیونکہ پھل کی بڑھوتری کے دوران پانی کی کمی پیداوار اور پھل کی کوالٹی پر برا اثر ڈالتی ہے۔

شاخ تراشی
ابتدائی سالوں میں پودوں کو پرکشش بنانے اور کھلے زاویوں کی شکل دینے کے لیے تربیت کی جاتی ہے تا کہ پودا مظبوط اور صحت مند رہے اور لمبی عمر تک بارآور رہے۔ بعد میں ہر سال شاخ تراشی ضروری ہے تا کہ اس کی شکل و صورت قائم رہے اور پھل دینے کی عادت اور پھل کی خصوصیات بہتر ہو سکیں۔ شاخ تراشی سے بیمار اور سوکھی شاخوں کو کاٹا جاتا ہے۔ جو شاخیں آپس میں کراس کریں اور کمزور ہوں ان کا کاٹنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جن شاخوں کا رخ پودے کے اندر کی جانب ہوتا ہے انہیں بھی کاٹ دینا چاہیے تا کہ روشنی اور ہوا پودے کے اندرونی حصے تک پہنچ سکے اور پھل صحیح طور پر پک سکے ۔ شاخ تراشی عموماً دسمبر ،جنوری میں جب پودے خوابیدہ حالت میں ہوں کی جاتی ہے۔ شاخ تراشی سے پودے کی بے قاعدگی سے پھل دینے کی عادت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

 پھلوں کی تعداد کم کرنا
عام طور پر آڑو میں پھولوں کی بارآوری بے حد زیادہ ہوتی ہے۔ عموماً پھل گچھوں کی صورت میں لگتا ہے جس کی اگر چھدرائی نہ کی جائے تو پھل کا حجم بہت کم رہ جاتا ہے لہٰذا پھل بننے کے فوراً بعد پھلوں کو تقریباً 3-4 انچ کا وقفہ دے کر باقی پھل توڑ دینا چاہیے اس طرح باقی ماندہ پھل بہتر خوراک ملنے سے رنگ، مٹھاس اور حجم کے لحاظ سے اعلٰی خاصیت میں تیار ہوتے ہیں۔

برداشت
برداشت کے لیے مناسب وقت اور منڈی کی طلب کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ آڑو کو تازہ پھل کے طور پر استعمال کرنا ہو تو پکے ہوئے پھلوں کو برداشت کرنا چاہیے لیکن اگر دور دراز کی منڈیوں میں بھیجنا ہو تو تھوڑا سخت حالت میں پھل کو توڑنا چاہیے۔تازہ پھل جلدی خراب ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کو فوری طور پر منڈی روانہ کرنا چاہیے۔ کولڈ سٹوریج کی سہولت میسر ہوتو اس پھل کو 4°C پر ایک ہفتہ یا کچھ زیادہ دنوں کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

کیڑے مکوڑے اور ان کا تدارک
آڑو کے تیلے، سبز تیلا، کالا تیلا، پتہ مروڑ تیلا
تدارک
ڈائی میکران، مونوکروٹوفاس، کراٹے، نوواکران، بحساب2سی سی فی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں یا 200ملی لیٹر100لیٹر پانی میں ملا کر پھول نکلنے سے قبل سپرے کریں۔

پھل کی مکھی
تدارک
ڈپٹریکس100سے150گرام100لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ سپرے پھل لگنے کے20دن بعد اور مزید سپرے کی ضرورت ہو تو15دن کے وقفے سے کریں۔ گلے سڑے پھلوں کو اکٹھا کر کے زمین میں دبا دیں کیونکہ اس میں پھل کی مکھی کی افزائش ہوتی ہے۔

آڑو کی بیماریاں اور ان کا تدارک
پتوں کا چڑ مڑ (PEACH LEAF CURL)
یہ بےماری اےک پھپھوندی (DEFORMANS TAPHRINA) کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا حملہ پودے کے پتوں پر ہوتا ہے جس کے نتبجہ مبں پتے صحیح شکل کے نہبں رہتے اور چڑ مڑ سے ہو جاتے ہبں۔پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے پھل کی پبداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔

روک تھام
۱۔ متاثرہ حصوں کو کاٹ کر جلا دیا جائے۔

۲۔ بورڈومکسچر 5:5:50 کا سپرے کیا جائے۔ یا انٹراکول 70 ڈبلےو پی 200 ملی لٹر 100 لٹر پانی مبں ملا کر سپرے کربں۔

سبز تیلے کے حملے کی صورت میں بھی پتے چڑ مڑ ہو جاتے ہیں اور بڑھوتری کا عمل رک جاتا ہے اور پیداوار پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اس کے لیے کنفیڈور یا نواسٹار سپرے کریں۔

سبز شاخ کا سوکھنا
یہ بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے۔

تدارک
ٹرائی ملٹاکس200گرام100لیٹر پانی میں ملا کر شاخ تراشی کے بعد سپرے کریں اور ضرورت کے وقت10دن کے بعد سپرے کریں۔


سیب خالص ٹھنڈے علاقے کا پھل ہے اس کی کثیر اقسام 1350 میٹر کی بلندی سے 2250 میٹر کی بلندی تک کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ ایسا علاقہ جہاں موسم سرما میں شدید سردی، موسم گرما میں کم گرمی (21-240C) مگر وافر مقدار میں سورج کی روشنی میسر ہو اور درجہ حرارت میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ نہ ہو۔ موسم بہار کورے سے پاک ہو۔ موسم بہار سے قبل (وسط دسمبر تا وسط مارچ) سے قبل خوابیدگی توڑنے اور پھول لانے کے لیے اس پودے کو 7 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کے 1000 سے 1500گھنٹے (Chilling hours) درکار ہوتے ہیں۔ کم بلندی پر سردی کا مطلوبہ دورانیہ ممکن نہ ہونے کی وجہ سے پھول نہیں آتے لہٰذا پھل بھی نہیں بنتا۔ اَنا اور این شیمر سیب کی ایسی اقسام ہیں جن کو کم بلندی پر کاشت کیا جاتاہے۔ جن کو لوچلنگ ورائٹی (Low chilling varieties) کہا جاتا ہے۔ سیب کو مجموعی طور پر100 سے 125 سم سالانہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بارشوں کا سلسلہ اگر پھول آنے، بارآوری کے دوران اور پھل پک جانے کے بعد جاری رہے تو پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بارآوری کے دوران تیز ہوائیں، ابرآلود موسم، سردی کی اچانک لہر اور لمبے عرصے تک خشک سالی پھل کی پیداوار کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پیداوار میں کمی کا ایک اور اہم عنصر ژالہ باری بھی ہے جس سے نہ صرف پھول اور پھل بلکہ پودوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

اگرچہ سیب میرا زمین سے لے کر چکنی اقسام کی زمینوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے مگر بہتر پیداوار کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کرنا چاہیے۔ جس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ، ہوا کا بہتر نکاس اور نامیاتی مادے بھی وافر مقدار میں موجود ہوں۔ مزید برآں زمین کی پی ایچ کی حد 5.5 سے 6.5 ہو اور زمین سخت زیر زمین تہہ اور سیم کے مسائل سے پاک ہو۔ سیب کے پودوں کو کم ڈھلوان والی زمین میں جنوبی سمت میں لگانا چاہیے تاکہ پودے زیادہ سے زیادہ دھوپ سے مستفید ہو سکیں اور نتیجتاً اچھی خاصیت اور رنگت کا پھل مہیا کر سکیں۔ سیب کی افزائش نسل بذریعہ پیوند کاری کی جاتی ہے اور چھوٹاروٹ سٹاک استعمال کیا جاتا ہے۔ چھوٹے سیب کا روٹ سٹاک بذریعہ بیج بھی تیار کیا جاتا ہے۔ مگر عمومی طور پر رائج طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے سیب کے زیر بچے دسمبر میں اکھاڑ کر نرسری میں لگا دیئے جاتے ہیں جو جون جولائی یا آئندہ سال فروری مارچ میں پیوند کاری کے قابل ہو جاتے ہیں۔ عموماً سیب میں کلفٹ گرافٹنگ اور ٹی بڈنگ کے ذریعے صحیح النسل پودے کامیابی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ کلفٹ گرافٹنگ جنوری فروری میں جبکہ ٹی بڈنگ مون سون کی بارشوں کے بعد کی جاتی ہے۔

سائن بنانے کے لیے من پسند ورائٹی کا ایک سال کی پختہ اور مضبوط شاخ سے 10 سم کا پھانا تیار کیا جاتا ہے جس میں تین سے چار صحت مند آنکھیں ہوں۔ نیچے کے حصے سے 2.5 سم کی دونوں اطراف سے قلم بنائیں۔ روٹ سٹاک کو سطح زمین سے 30-20 سم تمام شاخیں اتار کر قینچی سے کاٹ دیا جاتاہے۔چاقو کی مدد سے اس کے درمیان میں کٹ لگا کر پھاڑ دیا جاتا ہے۔ اس میں سائن کی قلم کو اس طرح رکھا جائے کہ سائن اور سٹاک کی دیواریں آپس میں جڑ جائیں۔ اوپر سے پولیتھین کی مدد سے باندھ دیا جاتا ہے۔ جب سائن پھوٹ آئے تو پولیتھین اتار دیا جاتا ہے۔ اگست کے مہینے میں روٹ سٹاک پر Tکی شکل کا کٹ بنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں من پسند ورائٹی کی ایک سال پرانی شاخ سے 1×1 کا ٹکڑا لیں جس پر ایک اچھی طرح ابھری ہوئی صحت مند آنکھ ہو کو T کی شکل کے کٹ میں اس طرح ڈالا جاتاہے کہ سائن کی آنکھ اور سٹاک آپس میں جڑ جائیں۔ اس کے بعد جوڑ پولیتھین سے باندھ دیا جاتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ آنکھ پولیتھین سے باہر رہے۔ پودے خریدتے وقت صحت مند بیماریوں سے پاک اور صحیح النسل پودے محکمہ زراعت کی سرکاری نرسری سے خریدیں۔ پودے ہمیشہ آب و ہوا کی مناسبت سے لگائے جائیں اور ہمیشہ ایک سے زائد اقسام کے پودے لگائے جائیں تاکہ اس کی بار آوری میں آسانی ہو اور وہ اقسام جو اپنے زردانے سے بارآور نہیں ہوتیں۔ ان کو دوسری اقسام سے زردانے مل جائیں اور بہتر پیداوار حاصل کی جاسکے۔ پودوں کی قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً رکھنا چاہیے۔ پہاڑوں پر ڈھلوان کو قدرے ہموار کر کے چھوٹے چھوٹے کنٹوئر (Contoier) بنا کر سیب کے پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 فٹ اور قطاروں کے درمیانی فاصلہ 20فٹ رکھا جاتا ہے۔ نومبر میں 1×1 میٹر کے گڑھے کھود کر کچھ دن کھلا رہنے کے بعد بالائی اچھی قسم کی مٹی، گوبر کی کھاد اور بل 1:1:1 کے تناسب سے زمین سے دس انچ اونچا بھر دیں اور ساتھ ہی پانی لگا دیں۔ موسم بہار کے آغاز سے پہلے جب پودے ابھی خوابیدہ حالت میں ہوں۔ باغ میں منتقل کر دیئے جاتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ پیوند کا جوڑ سطح زمین سے اوپر ہو اور آبپاشی کا پانی اس جوڑ کو نہ چھو سکے۔

کھادوں کا استعمال زمین کی زرخیزی اور پودے کی عمر پر منحصر ہوتا ہے۔ ان کا استعمال پودے کو لگانے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے جس کی پہلی خوراک گڑھوں کو بھرنے کے ساتھ ہی دے دی جاتی ہے۔ ایک سال کے باغی پودے کو نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش کی 70N:35P:70K گرام کھاد دی جاتی ہے جوبڑھاتے بڑھاتے دس سال کے پودے کے لیے کھاد کی ڈوز 700N:350P:700K گرام تک پہنچ جاتی ہے۔ گوبر کی گلی سڑی کھاد نومبر دسمبر میں ڈال دی جاتی ہے۔ نائٹروجن کھاد کی نصف مقدار پھول نکلنے سے دو ہفتے قبل اور باقی ماندہ خوراک پھل بننے کے بعد ڈالی جاتی ہے۔ مری کے پہاڑوں میں سیب کے باغات کی آبپاشی کا زیادہ تر انحصار بارشوں پر ہے۔سال کے دوران بالعموم بارش کے ذریعے مناسب پانی میسر آ جاتا ہے تاہم مئی جون کے دوران درجہ حرارت زیادہ اور بارشیں کم ہونے کی وجہ سے کم عمر پودوں کے مرنے اور بڑے پودوں سے پھل گرنے کا خدشہ ہوتا ہے لہٰذا گرم موسم میں آب پاشی کا کوئی متبادل انتظام بھی ہونا چاہیے اس لیے چھوٹے پودوں کو 10 دن کے وقفے اور بڑے پودوں کو 15 دن کے وقفے سے پانی دینا چاہیے۔ پھر پودوں میں شاخ تراشی ان کو مناسب شکل و صورت اور مضبوطی دینے کے لیے ضروری ہوتی ہے تاکہ ہوا کا بہتر گزر ہو اور روشنی تمام حصوں کو بہم پہنچ سکے۔ پھل دینے والے پودوں میں ان کی اونچائی کو کم رکھنے کے لیے بھی شاخ تراشی کی جاتی ہے جس سے سپرے اور برداشت جیسے دیگر عوامل بھی آسانی سے انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ آپس میں الجھی، ٹوٹی اور بیمار شاخوں کو ختم کرنے کے لیے شاخ تراشی نہایت ضروری ہے۔ شاخ تراشی کے لیے بہتر وقت جنوری ہے۔

پپیتا تاڑ سے ملتے جلتے پودے کیریکا پیپایا ( Carica papaya ) کا پھل جو زرد رنگ کا ہوتا ہے اور کسی قدر خربوزہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ پھلوں کا رس میں خامرہ پیپائن موجود ہوتا ہے۔

پاکستان میں پپیتے کا زیر کاشت رقبہ 1945ہیکٹرز اور پیداوار8932ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ پنجاب کے گرم مرطوب علاقوں میں پپیتے کی کاشت کے رقبہ میں اضافہ ہونے لگاہے نیز سندھ کے اضلاع نواب شاہ ، سانگھڑ ، سکھر ، ٹھٹھہ ، بدین پپیتے کی کاشت کیلئے آئیڈیل علاقے ہیں، ایک ملاقات کے دوران ماہرین زراعت نے بتایاکہ پاکستان کے علاوہ سری لنکا ، ہوائی ، ملایا، تھائی لینڈ اور بھارت میں بھی وسیع رقبے پر پپیتے کی کاشت ہو رہی ہے۔ پپیتا اپنی مخصوص غذائی افادیت اور شاندار طبی خصوصیات کی وجہ سے ایک منفرد پھل کی حیثیت رکھتاہے جو نہ صرف پھل کے طورپر کھانے بلکہ کچے پھل کے سبزی کے طور پر پکانے ، جیم ، جیلی، اچار،مربہ اور کینڈی بنانے کیلئے بھی اس کا استعمال کیاجاتاہے۔ پپیتے میں پیکٹین اور پیپین بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں لہٰذا اس کارس دوسرے پھلوں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے ہاضمہ درست ، معدہ و جگر تندرست ، پیشاب صاف ، بلغم دور اور نیند نہ آنے کی شکایت بھی رفع ہو جاتی ہے۔ اس کی جڑیں بواسیر کی بیماری کے تدارک کیلئے انتہائی مفید ہیں جبکہ پیپین جسم کے داغ دھبوں کو صاف کرنے میں بھی معاون ہے۔ پپیتے کی کاشت پانی کے اچھے نکاس والی ذرخیز زمین میں کی جا تی ہے ۔  باغبان و کاشتکار پپیتے کی کاشت کے ضمن میں مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ 

ماہرین زراعت نے پنجاب کے گرم مرطوب علاقوں اور سندھ کے اضلاع نواب شاہ ، سانگھڑ ، سکھر ، ٹھٹھہ ، بدین کو پپیتا کی کاشت کیلئے آئیڈیل قرار دے دیا ہے ۔پاکستان کے علاوہ سری لنکا ، تھائی لینڈ،ملائیشیا اور بھارت میں بھی وسیع رقبے اس کی کاشت ہو رہی ہے ۔

پپیتا کی کاشت کا طریقہ (ایک مکمل تحقیقی مواد)
پاکستان میں پپیتا سندھ کے علاقوں میں کاشت ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن اب اسے پنجاب میں بھی کاشت کرنے کا رواج چل پڑا ہے. ویسے تو پپیتا پورے پنجاب میں لگایا جا سکتا ہے لیکن بالائی پنجاب میں پپیتے پر بیماری کا حملہ قدرے زیادہ ہو سکتا ہے. پپیتا نرسری کے ذریعے کاشت کیا جاتا ہے. آئیے آپ کو اس کی تفصیل بتاتے ہیں.
پنجاب میں پپیتے کی کونسی ورائٹی زیادہ کامیاب ہے؟
ویسے تو اب کینیڈین پپیتے کا بھی نام سنا جا رہا ہے لیکن تا حال پنجاب میں ریڈ لیڈی ورائٹی سب سے زیادہ کاشت کی جا رہی ہے. البتہ ہارون آباد کے کاشتکار جناب میاں جعفر سکھیرا، جنہوں نے اپنے فارم پر ریڈ لیڈی کے علاوہ سنٹا ورائٹی بھی کاشت کر رکھی ہے ، ان کا خیال ہے کہ سنٹا ورائٹی ریڈ لیڈی سے قدرے بہتر ہے. وہ بتاتے ہیں کہ سنٹا کا تنا زیادہ مضبوط ہے اس لئے اس کے ٹوٹنے اور گرنے کا خدشہ کم ہے. دیگر حوالوں سے ان کے خیال میں دونوں ورائٹیاں برابر ہیں.

پپیتے کی پنیری کیسے تیار کی جاتی ہے؟
پپیتے کی پنیری تیار کرنے کے لئے چھ تین انچ کی تھیلیوں میں بھل مٹی بھرلی جاتی ہے اور پھر اس بھل مٹی کے اوپر کم از کم دوانچ پیٹ ماس ڈال دی جاتی ہے.

پیٹ ماس کیا ہے؟
پیٹ ماس دراصل تیار شدہ مٹی ہے جو امریکہ اور کینیڈا کے دلدلی علاقوں میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے. مارکیٹ میں بڑی بڑی نرسریوں یا بڑی بیج کی دکانوں سے مل جاتی ہے. 50 کلوگرام پیٹ ماس کا تھیلا تقریبا تین ہزارروپے میں مل جاتا ہے. ہمارے بعض کسان دوست کمپوسٹ اور پیٹ ماس کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں. لہذا واضح رہے کہ کمپوسٹ اور پیٹ ماس دو مختلف چیزیں ہیں.
بھل مٹی اور پیٹ ماس سے تیار شدہ تھیلیوں میں پپیتے کا بیج لگا دیا جاتا ہے.

ایک ایکڑ کی پنیری لگانے کے لئے تھیلیاں سوا کنال جگہ گھیر لیتی ہیں.

پپیتے کا بیج کب لگانا چاہئیے اور پنیری کھیت میں کب منتقل کرنی چاہئے؟
ویسے تو پپیتے کا بیج کسی بھی موسم میں لگایا جا سکتا ہے لیکن پنجاب میں کاشتکاروں کا تجربہ یہ بناتا ہے کہ بیج لگانے کا بہترین وقت جون، جولائی کا مہینہ ہے. جون، جولائی میں لگے ہوئے بیج 2 مہینے بعد ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے ہو جاتے جنہیں اگست ستمبر میں کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے.

ہارون آباد کے کاشتکار میاں محمد جعفر سکھیرا کے مطابق اگر 100 بیج لگائے جائیں تو 50 بیج اگتے ہیں اور اگر پنیری کے 50 پودے کھیت میں منتقل کئے جائیں تو 25 پودے کامیاب ہوتے ہیں. البتہ کچھ دوسرے کاشتکار یہ بھی کہتے ہیں کہ بیج اور نرسری کی کامیابی کا تناسب تقریباََ 70 فی صد تک ہے.

یہ بات ذہن میں رہے کہ نرسری تیار کرنا ایک حساس کام ہے. خاص طور پر پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے زمین کو نم رکھنا بہت ضروری ہے. اسی طرح شدید سردی اور شدید گرمی بھی بیج اور پودوں کی کامیابی پر منفی اثر ڈالتی ہے.

پپیتے کے بیج کہاں سے ملیں گے؟
پپیتے کے بیج آپ کو بیج کی بڑی بڑی دکانوں سے باآسانی مل جائیں گے. آٹھ، نو ہزار روپے میں 10 گرام بیج کا پیکٹ ملتا ہےجس میں تقریبا 800 بیج ہوتے ہیں. ایک ایکڑ میں لگانے کے لئے آپ کو تقریبا 8 سو سے 9 سو تیار پودے چاہئیں. لہذا اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیج خریدیں.

کیا پپیتے کی پنیری نرسری سے خرید کر لگائی جا سکتی ہے؟
اگر آپ پنیری خود نہ تیار کرنا چاہیں تو پھر آپ نرسریوں سے بھی پودے خرید سکتے ہیں.
پنجاب میں کئی نرسریوں والے اب پپیتے کی نرسری تیار کر رہے ہیں. اگر آپ گوگل پر ریڈ لیڈی پپیتا لکھ کر سرچ کریں تو آپ کو کئی نرسریوں والے پپیتے کے بیج اور پودے بیچتے ہوئے نظر آئیں گے. آپ کسی کو بھی آرڈر دے کر پپیتے کی نرسری تیار کروا سکتے ہیں. ویسے نرسریوں والے 50 روپے سے لیکر 100 روپے تک پودا بیچ رہے ہیں. پتوکی سے آپ کو پپیتے کا پودا 50 روپے تک مل سکتا ہے. لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی نرسری خود تیار کریں کیونکہ پنیری خریدنے والا کام خاصا مہنگا ہے.

پپیتے کی کاشت کے لئے زمین کیسی ہونی چاہیئے؟
پپیتے کے لئے مَیرا زمین ہی موزوں ہے. ریتلی اور زیادہ چکنی زمینوں میں پپیتا کاشت نہیں کرنا چاہیئے. یہ بات بھی نہائیت اہم ہے کہ آپ کی زمین اچھے نکاس والی ہو. ایسی زمین جس میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے پپیتے کی کاشت کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے.

پودے کتنے فاصلے پر لگیں گے؟
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ایک ایکڑ میں 8 سو سے لے کر 9 سو پودے لگائے جاتے ہیں. یہ تعداد پوری کرنے کے لئے پودے سے پودے کا فاصلہ 9 فٹ اور قطار سے قطار کا فاصلہ 8 فٹ رکھا جاتا ہے.

پپیتے کو کتنا پانی چاہیئے؟
پپیتے کو عام پھل دار پودوں کی نسبت زیادہ پانی کی ضرورت ہے. سردیوں میں ہفتے بعد پانی لگایا جا سکتا ہے البتہ گرمیوں کے مہینوں میں خاص طور پر لو کے دنوں میں تیسرے یا چوتھے دن پانی لگانا ضروری ہے بصورت دیگر پودا سوکھ سکتا ہے. یاد رہے کہ پپیتے کا تنا پانی میں ڈوبنا نہیں چاہیئے. اگر پپیتے کا تنا 48 گھنٹوں تک پانی میں ڈوبا رہے تو پودا مر سکتا ہے.
پپیتے کے کاشتکار کی کامیابی اسی بات میں ہے کہ پپیتے کے تنے کے ساتھ براہ راست پانی نہ لگنے پائے. تنے کے ساتھ براہ راست پانی لگنے سے پودے پر پھپھوندی کا حملہ بڑھ جاتا ہے. اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ بیڈ (کوٹھے) بنا کر ان کے اوپر پپیتا لگائیں تاکہ پانی کھیلیوں میں ہی رہے اور زمین میں جذب ہو کر پپیتے کو ملتا رہے.

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈرپ آبپاشی بھی پپیتے کے لئے بہتر ہے. لیکن عام آبپاشی کے ذریعے بھی پپیتا کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے.

پپیتے کو کتنی کھاد چاہیئے؟
اگر آپ نے 800 پودے فی ایکڑ لگائے ہوں تو پھر ایک سال میں 10 بوری یوریا (400 گرام نائٹروجن فی پودا) 8 بوری ڈی اے پی (250 گرام فاسفورس فی پودا) اور 12 بوری ایس او پی (400 گرام پوٹاشیم فی پودا) کھاد ڈالنی چاہئے. ان تمام کھادوں کو چھ برابر برابر حصوں میں تقسیم کر لیں اور ہر دو مہینے بعد ایک ایک حصہ کھاد ڈالتے جائیں. اس کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ 20 گلوگرام روڑی یا گوبرکی کھاد فی پودا ڈالنی بھی ضروری ہے. آپ اپنے وسائل کے مطابق کھادیں زیادہ کر سکتے ہیں. یہ بات ذہن میں رہے کہ زیادہ پیداوار کے لئے اس سے بھی زیادہ کھادوں‌کی ضرورت ہے. بعض کاشتکار پپیتے کو سال میں 60 بوری فی ایکڑ تک بھی کھاد ڈال دیتے ہیں.

پپیتے پر کونسی بیماریاں اور کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں؟
پپیتے پر پھپھوندی بہت جلد حملہ کرتی ہیں۔ پھپھوندی پپیتے کی جڑوں، تنے، پتوں اور پھل پھول پر حملہ کرتی ہے. جڑوں اور تنے پر پھپھوندی کا حملہ زیادہ خطرناک ہے. کیونکہ ایسی صورت میں پودے کے سوکھنے یا گرنے کا خطرہ زیادہ ہے. بر وقت پھپھوندی کش سپرے کرنے سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے. 
تنے پر پھپوندی کے حملے کی وجہ سے پپیتا ٹوٹ کر گر چکا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق تھائیو فینیٹ میتھائل یا ٹی بُوکونازول زہر پپیتے پر بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے.۔ پنجاب میں پپیتے کے کاشتکار ہر ہفتے پھپھوندی کش زہروں کا سپرے کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں. پھپھوندی پپیتے کی اس قدر شوقین ہے کہ شاخ سے ٹوٹنے کے بعد بھی پھل کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور اسے کھیت سے منڈی اور منڈی سے ریڑھی تک پہنچتے پہنچتے خراب کرتی رہتی ہے.

پھپوندی پپیتے کے پھلوں پر حملہ آور ہے ۔ ویسے تو پپیتے پر کئی طرح کے کیڑے حملہ کرتے ہیں لیکن پنجاب کے کاشتکاروں کے مطابق پپیتے پر کیڑوں کا حملہ بہت کم ہے. اس لئے یہ کوئی زیادہ پریشانی کی بات نہیں.

پپیتا کب اور کتنا پھل دیتا ہے؟
پپیتے کا درخت کھیت میں شفٹ ہونے کے 10 ماہ بعد پھل دینا شروع کر دیتا ہے.  یعنی اگست، ستمبر کو کھیت میں شفٹ کیا ہوا پپیتا اگلے سال جولائی، اگست میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے. پہلے سال پپیتے کا درخت کم پھل دیتا ہے اس کے بعد دو سال پپیتا بھر پور پھل دیتا ہے.

ماہرین تین سال کے بعد پپیتے کے پرانے درخت کاٹ‌ کر نئے لگانے کا مشورہ دیتے ہیں. جبکہ میاں جعفر سکھیرا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پپیتا صرف دو سال کی فصل ہے. اُن کا خیال ہے کہ ایک سال کے بعد ہی یعنی دوسرے سال کھیت میں متبادل جگہوں پر پپیتے کے پودے لگا دینے چاہئیں تاکہ جب پرانے پودے پھل دینا بند کردیں تو نئے پودے پھل دینے کے لئے تیار ہوں. پیداوار کے حوالے سے میاں جعفر سکھیرے کا ماننا ہے کہ فی پودا پپیتے کی اوسط پیداوار دو من سے زیادہ ہو جاتی ہے. لہذا پپیتے کی فی ایکڑ پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کے کھیت میں کتنے پودے موجود ہیں. اگر 9 سو میں سے آپ کے 7 سو پودے بھی جوان ہو گئے تو آپ کی پیداوار 14 سو من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے.

مارکیٹ کہاں ہو گی اور آمدن کتنی ہو گی؟
راقم نے گزشتہ روز فیصل آباد میں ایک فروٹ کی دکان سے پپیتا 200 روپے کلو کے حساب سے خریدا ہے. لیکن بورے والا میں پپیتے کے ایک کاشتکار کے مطابق عام طور پر پپیتا ایک ہزار روپے سے لیکر 5 ہزار روپے فی من کے حساب سے منڈی میں بکتا ہے.اس طرح اگر اوسط قیمت 1500 روپے فی من بھی لگائی جائے تو پھر بھی 14 سو من پپیتے سے 21 لاکھ کی آمدن متوقع ہے.

میاں جعفر سکھیرا کے مطابق ہارون آباد اور آس پاس کے علاقوں میں بیوپاری ایک سال کے لئے 1500 سے لیکر 2000 تک یعنی اوسطاََ 1750 روپے فی پودا ادا کرتے ہیں. اگر اس حساب سے بھی دیکھا جائے تو آمدن 12 لاکھ سے کم نہیں ہو گی.
اس کا مطلب یہ ہے کہ پپیتا خود توڑ کر منڈی میں بیچنا زیادہ نفع بخش کام ہے. جو کاشتکار یہ کام کرتے ہیں وہ 12 کلو کی سیب والی پیٹی میں پپیتا پیک کر کے لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور، سیالکوٹ اور ملتان کی منڈیوں میں بھیجتے ہیں جہاں یہ با آسانی بک جاتا ہے.

ایک ایکڑ پپیتے پر خرچ اور منافع کا حساب کیا ہے؟
60 بوری کے حساب سے کھادوں کا خرچہ
20 بوری یوریا = 1450 روپے فی بوری = 29800 روپے
16 بوری ڈے اے پی = 2900 روپے فی بوری = 46400 روپے
24 بوری پوٹاشیم سلفیٹ = 3600 روپے فی بوری = 86400 روپے
کھادوں کا کل خرچہ = 162600 روپے
ہفتہ وار کے حساب سے سپرے کا خرچہ
پھپوندی کش زہروں کا ماہانہ خرچ = 4000 روپے ماہانہ
سالانہ خرچ = 48000 روپے
بیج کا خرچ = 10 گرام والے دو پیکٹ
8 ہزار روپے فی پیکٹ = 1600 روپے
مزدوری = 150،000 روپے
ایک ایکڑ پپیتے کا کل خرچ = 3 لاکھ 76 ہزارروپے
کم سے کم آمدن = 12 لاکھ
زیادہ سے زیادہ آمدن = 21 لاکھ
کم سے کم منافع = 8 لاکھ
زیادہ سے زیادہ منافع = 17 لاکھ

اگر آپ ٹیوب ویل کا پانی لگا رہے ہیں تو پھر وہ خرچ بھی اس میں شامل کر لیں.

پپیتا کاشت کرنے کے زیادہ تر مسائل کیا ہیں؟
اگر آپ پپیتا لگانا چاہتے ہیں تو یہ بات ذہن میں رہے کہ پپیتا ایک محنت طلب فصل ہے۔ آپ کو اس فصل پر مسلسل نظر رکھنی پڑتی ہے۔ پپیتے کو عام طور پر پنجاب میں جو مسائل پیش آ سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں۔
  1. پپیتے کی جڑیں زیادہ گہری نہیں ہوتیں اور اس کی جڑوں کا نظام قدرے کمزور ہوتا ہے. تیز آندھی کی صورت میں پودے گر سکتے ہیں اور نقصان ہو سکتا ہے. پپیتے کو تیز آندھی سے بچانے کے لئے کھیت کے چاروں طرف درخت لگا دئیے جائیں تو آندھی کی شدت کم کی جا سکتی ہے.
  2. جب پپیتا بڑا ہو جائے تو اس میں ہل نہیں چلانا چاہئیے کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں زیادہ گہری نہیں ہوتیں اور ہل چلانے کی وجہ سے جڑوں کے اکھڑنے کا خدشہ ہوتا ہے. ایسی صورت میں پپیتے کی جڑوں کا نظام جو پہلے ہی کمزور ہے مزید کمزور ہو سکتا ہے. لہذا جڑی بوٹی کے خاتمے کے لئے کھرپا یا رنبے کا استعمال کرنا چاہیئے.
  3. شدید سردی اور کورا، پپیتے کے لئے نقصان دہ ہیں. زیادہ کورا پڑنے کی صورت میں پپیتے کے پتے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں. کورے سے بچانے کے لئے یا تو پپیتے پر کوئی شاپر وغیرہ ڈالا جا سکتا ہے جو کہ بہت مہنگا اور محنت طلب کام ہے، یا پھر کورے کے دنوں میں‌پانی لگانے سے بھی پپیتے پر کورے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے.

ڈرپ اریگیشن سے پپیتا کی کاشت

 ڈرپ اریگیشن کی بدولت میں محض دو گھنٹوں میں6ایکڑ رقبے پر محیط پپیتے کے باغ سیراب کیا جاسکتا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ ڈرپ اریگیشن سے پپیتا کی کاشت آسان ہوگئی ہے، مزید براں ڈرپ سسٹم کے ذریعے کی گئی آبپاشی سے پودے کے قد، جڑ کے قُطراور فی پودے پتہ کی تعداد میں متاثر کن حد تک اضافہ ہوتاہے۔ ابتدائی طور پر میں نے 7میں سے 6ایکڑ رقبے پر پھیلے پپیتے کے باغ کوڈرپ اریگیشن سے سیراب کرتے ہوئے بہترین فصل حاصل ہوتی ہے ،پنجاب میں پپیتے کے کاشتکاروں کیلئے ڈرپ اریگیشن کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ پپیتے کے پودے کو نشونماکے تمام مراحل میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈرپ اریگیشن سے یہ ضرورت پورے ناپ تول کیساتھ بخوبی پوری کی جاسکتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ پپیتے کو پودے کوفی ہفتہ زیادہ سے زیادہ 160لیٹر پانی اور بذریعہ ڈرپ اریگیشن 50لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔



Papaya farming, Papita ki kasht in Urdu, پپیتے کی کاشت, papaya farming in punjab, papaya farming profit in pakistan, papaya tree information in urdu, papaya farming profit per acre in pakistan

خربوزہ موسم گرما کا ایک لذیز اور بکثرت استعمال ہونے والا پھل ہے۔ خربوزہ نہ صرف انسانی جسم کی نشوونما کے لئے ازحد ضروری ہے بلکہ یہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں بھی ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

آم کی طرح اس کی بھی متعدد اقسام ہیں۔ ہٹرپہ سے دریافت ہونے والے تصویری شاہکار اس حقیقت کا پتہ دیتے ہیں کہ ہزاروں سال سے خربوزہ انسانوں کے استعمال میں ہے۔ دنیا میں خربوزے کی عام کاشت بھی اسی خطے میں شروع ہوئی پھر اسے چین ، روس اور ایران میں کاشت کیا گیا۔ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ خربوزہ بھارت اور پاکستان میں پیدا ہوتا ہے۔

100 گرام خربوزے میں 21 حرارے، ایک گرام پروٹین ، پانچ گرام کاربوہائیڈریٹ، ایک گرام نشاستہ ہوتا ہے۔ خربوزے میں پانی، فاسفورس، کیلشیم ، پوٹاشیم، کیرے ٹن، تانبا، گلوکوز اور وٹامن اے، بی اور ڈی پائے جاتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی موجودگی سے خربوہ جسم کو نا صرف مضبوط بناتا ہے، بلکہ دھوپ کی تپش برداشت کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ خربوزہ استعمال کرنے کے فوائد کون کون سے ہیں۔ خوش ذائقہ اور جوسی خربوزے کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے۔ خربوزے سے متعلقہ احتیاطی تدابیر اور خربوزے کے نقصانات کون کون سے ہیں۔

خوش ذائقہ اور جوسی خربوزے کی پہچان کے طریقے

خربوزے کی مخصوص خوشبو بےحد خوشگوار ہوتی ہے۔ پکاہوا تازہ خربوزہ زیادہ تیز مہک رکھتا ہے۔جب بھی آپ خربوزہ خریدنے کے لیے جائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ پیلے رنگ کے ہموار قدرے چمکدار چھلکے پر مشتمل ہو۔ اس پر کوئی دھبہ نہ ہونہ ہی یہ کہیں سے پھٹا ہوا ہو۔

اس کے علاوہ اگر خربوزہ دیکھنے میں دبا ہوا یا کسی جگہ سے نرم محسوس ہو تو ایسا خربوزہ بھی نہیں خریدنا چاہیے۔ایسے خربوزے کا انتخاب کریں جو کہ ٹھوس محسوس ہو اور گہری پیلی رنگت رکھتا ہو ایسا خربوزہ خوش ذائقہ اور زیادہ جوسی ہوتا ہے۔

ایسے خربوزے جن کے چھلکے کا رنگ پیپر وائٹ ہو یا سبزی مائل سفید ہو وہ بد مزہ پھیکے اور کچے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں خریدنے سے اجتناب کریں۔ایسا خربوزہ جس کا چھلکا ہموار ہو اور مرجھایا ہوا محسوس نہ ہو وہ زیادہ بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

خربوزہ کھانے کے فوائد

خربوزے کو مختلف امراض کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خربوزے کا مغز، گودا، چھلکا مختلف دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزہ میں معدے ، آنتوں میں رکے ہوئے زہریلے فضلے خارج کرتا ہے۔ گردوں کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوا ہے اور مثانہ اور گردے کی پتھری کا موثر علاج بھی ہے۔
خربوزے میں گوشت بنانے والے روغنی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے اور جسم سے فاسد مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ یرقان، پتھری، بندش پیشاب جیسے امراض میں مفید ہے۔

خربوزہ کھانے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم کی بہتر نشونما ہوتی ہے۔ یہ خوش ذائقہ بھی ہے اور باعث تسکین بھی۔ ایک کلو خربوزے میں دو روٹیوں جتنی غذائیت ہوتی ہے۔ دل و دماغ کے لئے خربوزہ تقویت بخش ہے۔

خربوزے کا چھلکا، بیج سب کارآمد ہیں۔ گرمی میں بچوں کو کھلایا جائے تو ان کے پھوڑے پھنسیوں کو بھی آرام آتا ہے۔ پتھری کو بھی توڑتا ہے۔ خالی پیٹ خربوزہ نہ کھائیں۔ دو کھانوں کے بیچ میں خربوزہ کھانا چاہیے۔ خربوزے کھانے کے بعد پانی بالکل نہیں پینا چاہئے اس سے جسم پر اچھے اثرات نہیں ہوتے بلکہ ہیضہ ہو جاتا ہے۔

خربوزہ میں شامل ایک خاص جزو (اڈینوسائن) خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ چیز بعدازاں ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا اسٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔

معدے کے ورم کے لیے بھی خربوزہ بے حد مفید ہے۔ یرقان کے مرض میں خربوزہ بہت فائدہ دیتا ہے۔ چاروں مغز کے ساتھ خربوزے کے بیج کا حریرہ بنا کر دیسی گھی سے بھگار کر پینا عام کمزوری کے لیے مفید ہے۔ جدید تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے کہ خربوزہ نا صرف جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے بلکہ جسم کو فربہ کرتا ہے۔

1 دل و دماغ کی گرمی دور کرنے کے لیے

قدرتی طور پر گرمی میں جسم کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن ڈی صحت کیلئے مفید ہے۔ جسم کے پٹھوں اور رگوں کو توانائی دیتا ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاتا ہے۔ اس کے کھانے سے دل کو فرحت ہوتی ہے۔گرمی میں اسے ضرور کھائیں۔ تاکہ جسم کو بھرپور توانائی ہے۔

خربوزے کے بیج منقیٰ کے چند دانے ، کھیرے کے چند خشک بیج، مغز کدو کو ہم وزن ملا کر نہار منہ اس کا پانی پینے سے دل و دماغ کی گرمی دور ہو گی۔ طبیعت میں بھی تازگی برقرار رہے گی۔

2 کمزوری سے نجات

دل کی کمزوری ، معدے اور جگر کی کمزوری میں خربوزے کے بیج ،منقی، مغز، تخم خیاران، تخم کدو ہم وزن لے کر پیس لیں اور چھان کر ہلکی سی شکر ملا کر علی الصبح پی لیں ۔ اس سے آپ کو دل کی کمزوری، معدے اور جگر کی کمزوری میں خاطر خواہ فرق محسوس ہو گا۔

3 گردے کی تکلیف سے نجات

خربوزہ کا استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور گردے میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اور اگر خربوزہ کو لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ یورک ایسڈ جیسی تکلیف میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔ گردے کی شدید تکلیف سے نجات کے لیے خربوزے کے دو گرام خشک چھلکے، ایک پاؤ عرق گلاب میں جوش دے کر اسے چھان لیجیے اور اس میں تین گرام کالا نمک ملا کر مریض کو پلائیں۔

4 ماں کے دودھ میں اضافہ

گرمی کے اثرات زائل کرنے اور جسم کے بعض ضروری نمکیات کی کمی دور کرنے کے لیے خربوزے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ چونکہ خربوزہ ماؤں کے دودھ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے شیر خوار بچوں کی ماؤں کے لیے اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔

4 چہرے کے داغ دھبے اور خشکی سے نجات

اگر نقاہت کی وجہ سے چہرے کی دلکشی کم ہوگئی ہویا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہوں اور خون کی کمی بھی ہوتو کچھ عرصہ مستقل خربوزہ استعمال کرنے سے چہرے پر بشاشت آجاتی ہے اور دبلاپن دور ہو جاتاہے۔خربوزے کے گودے کا پیسٹ بنا کر چہرے پر ماسک کی طرح لگانے سے چند روز میں رنگت نکھرجاتی ہے۔

چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے خربوزے کے خشک چھلکے ، مونگ کی دال (یا بیسن)میں ہم وزن پیس کر دہی میں ملا کر اس کا پتلا لیب بنا کر داغوں پر لگانے سے داغ بھی غائب ہوں گے اور چہرے پر نکھار بھی آئے گا۔خربوزہ کھانے سے جلد کی خشکی دور اور رنگت نکھر جاتی ہے۔ پٹھوں کی قدرتی لچک برقرار رکھنے میں خربوزہ اہمیت کا حامل ہے، خربوزہ کھانے سے چستی آتی ہے۔

خربوزے کے بیج پچاس گرام پانی میں پیس کر چاولوں میں ملا کر پکایا جائے تو اس کے استعمال سے جسم میں نکھار آتا ہے، داغ بھی کم ہوتے ہیں اور نیند بھی بہت اچھی آتی ہے۔ چہرے کی شادابی میں نیند کاکردار کتنا اہم ہے اس سے تو ہم صرف واقف ہی ہیں۔

5 سینے کی جلن میں مفید

خربوزہ سینے کی جلن دور کرنے میں بے حد معاون ہے۔ اس میں موجود 90 فیصد پانی تسکین کا احساس دیتا ہے اس میں وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن سی کے علاوہ پروٹین، کیلشیم اور فاسفورس کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے۔

خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا چاہیے۔اور کوشش کرنی چاہیے کہ خالی پیٹ اس کا استعمال نہ کیا جائے۔

خربوزے کا ماسک

خربوزے کے بیج کا ماسک چہرے کے نکھار میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ماسک بنانے کے لیے خربوزے کے چھلے ہوئے بیج ایک چائے کا چمچ ، بادام دو عدد ، لیموں کا رس چھ قطرے اور بالائی والا دودھ چار چائے کے چمچ لیں۔

بیج اور بادام باریک پیس کر اس میں بالائی والا دودھ ملا لیں۔ اب اس میں لیموں کا رس ڈالیں، زیادہ گاڑھا ہو تو اس میں تھوڑا سا دودھ شامل کر کے چہرے پہ آہستہ آہستہ لگائیں اور دس سے پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد گیلی روئی سے صاف کر لیں، پھر ٹھنڈے برف کے پانی میں روئی بھگو کر چہرے پر لگائیں۔

احتیاطیں:

خربوزے کو تقریبا تین سے چار دن تک ریفریجریٹر میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن کاٹنے کے بعد خربوزے کو جتنی جلدی ممکن ہو کھا لینا چاہیے ورنہ فوڈپوائزننگ کاخدشہ ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ خربوزہ کھانے کے بعد فوراً پانی نہیں پینا چاہیے۔ نیزخربوزہ خریدنے کے بعد اسےتین سے چاردن کے اندر اندر استعمال کر لینا چاہیے۔

خربوزہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایک حد تک اگر زیادہ مقدار میں بھی کھا لیا جائے تو نقصان نہیں دیتا، تندرست معدے والے ایک سے دو گھنٹے میں خربوزہ ہضم کر لیتے ہیں لیکن ٹھنڈے مزاج کے ضعیف افراد تین سے چار گھنٹے میں ہضم کرتے ہیں۔

دو غذاؤں کے درمیان خربوزہ کھانا مفید ہوتا ہے، نہار منہ ہر گز نہیں کھانا چائیے۔ کچا خربوزہ مضر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے کھانے سے احتیاط کریں، خربوزے کا بکثرت استعمال بھی نقصان دہ ہے، خربوزے کے چھلکے سے ایک طرح کا نمک حاصل کیا جاتا ہے جو نمک خربوزہ کہلاتا ہے جو کئی فوائد کا حامل ہے۔

نوٹ: خربوزے سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

زیتون ایک ایسا درخت ہے جو چالیس برس کی عمر میں پھلتا ہے اور ہزار برس تک رہتا ہے۔ اس کے پھل بیضاوی اور بیر کی طرح کے ہوتے ہیں۔ زیتون کے پختہ پھلوں کو دبا کر نچوڑنے سے جو تیل نکلتا ہے اس کو روغن زیتون Olive Oil یعنی زیتون کا تیل کہا جاتا ہے۔ زیتون کے تیل کی قوت چار ہزار سال تک باقی رہتی ہے، یہ تیل جتنا پرانا ہوجائے اتنا بہتر ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ یہ ایک مبارک درخت ہےاور اس میں 70بیماریوں سےشفاء ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)۔ اسپین کی یہ کہاوت آج بھی ضرب المثل ہے کہ زیتون کا تیل تمام امراض کا علاج ہے۔

زیتون کا تیل وہ واحد تیل ہے جو نفوذ کر کے مالش کے ذریعے جسم میں جذب ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زیتون کا تیل بہت فائدے مند اور صحت بخش ہوتا ہے۔ زیتون آئل ایک بیوٹی پروڈکٹ کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ یہ جس طرح ہمارے جسم کو اندرونی طور پر فائدہ پہنچاتا ہے، بالکل اسی طرح بیرونی طور پر بھی ہمارے جسم کیلئے مفید ہے۔

زیتون کے تیل میں کئی اقسام کے اینٹی آکساڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔  یہ فیٹس کی بناوٹ کے لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ اس میں اومیگا 9فیٹ بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اومیگا 3، اومیگا6فیٹی ایسڈزاور وٹامن EاورKبھی اس میں پائے جاتے ہے۔ زیتون کا تیل قدرتی طور پر کولیسٹرول اور گلوٹین سے پاک ہوتا ہے۔

اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ زیتون کے تیل کے فوائد کیا ہیں۔ زیتون کے تیل سے علاج کیسے ممکن ہے۔ زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

زتیون کے تیل کے فوائد

زیتون سے علاج

زیتون کا تیل پٹھوں کی سردی دور کرتا ہے، ان کو طاقت دے کر اعضاء کو قوت بخشتا ہے، بالوں کو جھڑنے اور سفیدی آنے سے روکتا ہے۔ زیتون کے تیل کی مالش سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ جاتی ہے۔ زیتون کے تیل سے لاتعداد فوائد حاصل ہوتے ہیں، یہاں پر ہم زیتون کے تیل سے علاج کرنے کے چیدہ چیدہ فوائد کی مکمل تفصیل آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات

اگر کسی وجہ سے ہڈیوں میں درد رہتا ہو تو زیتون کے تیل کی مالش سے آرام محسوس ہوتا ہے، ایسے افراد جن کی ٹانگوں میں درد رہتا ہو یا ہاتھ پاؤں میں کڑل پڑتے ہوں وہ روغن زیتون نمک ملے نیم گرم پانی میں جلا کر ٹکور کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔

روغن زیتون (زیتون کے تیل) کی مالش سے نہ صرف پٹھے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اعضاء کو تقویت ملتی ہے۔ روغن زیتون (زیتون کا تیل )جلد بڑھاپے کو روکتا ہے ہے پیدائشی کمزور بچوں کو روغن زیتون پلانا ان کی ہڈیاں مضبوط کرتا ہے اور اچھی صحت کی ضمانت ہے۔

زیتون کا تیل کولیسٹرول کم رکھتا ہے

زیتون کا تیل جسم میں لو ڈینسٹی لائیپو پروٹین (ایل ڈی ایل) جس سے خون کی نالیاں سکڑ سکتی ہیں ، کو کم رکھتا ہے۔ جسم میں ایل ڈی ایل کی زیادتی سے امراض قلب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی زیتون کا تیل جسم میں ہائی ڈینسٹی لائپو پروٹین ایچ ڈی ایل کو بڑھاتا ہے۔ جسم میں ایچ ڈی ایل کی زیادہ مقدار خون جمنے سے روکتی ہے جو کہ دل کے دورے کی ایک اہم وجہ ہے۔

جلد کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

زیتون کا تیل جِلد کیلئے بہت مفید ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خشک جِلد والی خواتین کیلئے پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ ایسی خواتین کو چاہئے کہ وہ زیتون کا تیل لے کر چہرے کا مساج کریں۔ ہلکے ہلکے ہاتھوں سے کیا جانے والا مساج جِلد کو آرام پہنچاتا ہے اور جِلد کی خشکی بھی دور کرتا ہے۔ زیتون کا تیل جِلد کیلئے قدرتی علاج ہے، جس سے جِلد صحت مند اور خوب صورت ہوجاتی ہے۔ آزما کر دیکھ لیں، زیتون آئل آرائش کیلئے بہترین ہے۔

زیتون کے تیل سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے

ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے مریض زیتون کے تیل کے مستقل استعمال سے بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے لی جانے والی دواؤ ں کی مقدار کم کرسکتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود اولک ایسڈ جسم میں جلدی جذب ہو جاتا ہے اس لیے یہ بلڈ پریشر کم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے استعمال سے دل بھی جوان رہتا ہے۔

ایسے خواتین و حضرات جو ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار ہیں وہ ایک بڑا چمچ زیتون کا تیل لیں اس میں دو چمچ اسپغول ڈالیں اور اچھی طرح ملا کر استعمال کریں۔ زیتون آئل اور اسپغول کو دن میں تین مرتبہ استعمال کریں کچھ ہی دنوں میں شفاء یاب ہو جائیں گے۔

زیتون کا تیل کیل مہاسوں سے نجات دلاتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ زیتون کے تیل کو جس طریقے سے چہرے پر استعمال کرکے کیل مہاسوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے وہ عجیب لگے مگر بیشتر ماہرین اس کی تصدیق کرتے یں۔ چار چائے کے چمچ نمک کو تین چائے کے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر ایک پیسٹ سا بنالیں۔

اب اس مکسچر کو اپنے ہاتھوں اور انگلیوں پر انڈیل لیں اور چہرے پر پھیرنا شروع کردیں۔ ایک یا دو منٹ تک ایسا کریں اور پھر نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس طریقے کو ایک ہفتے تک روزانہ آزمائیں اور پھر اس کو ہفتے میں دو سے تین بار تک محدود کردیں۔ آپ کو جلد اپنے چہرے پر نمایاں بہتری نظر آئے گی۔

زیتون کا تیل ذیابیطس سے بچاتا ہے

ذیابیطس کے علاج کے لیے زیتون کا تیل مفید ہے۔ اس سے خون میں شوگر کا لیول کنٹرول میں رہتا ہے اور انسولین کی حساسیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دو ہزار گیارہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق متوازن غذا اور زیتون کے تیل کا استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات کو پچاس فی صد تک کم کردیتا ہے۔

ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کے لیے اپنی خوراک میں روزآنہ دو بڑے چمچ زیتون کے تیل کے استعمال کریں۔

آنتوں کی سوزش دور کرنے کے لیے

ٹائیفائیڈ کے مریض جو کہ صحت یاب ہوجاتے ہیں اکثر انہیں بعد ازاں آنتوں کی سوزش کا اثر رہتا ہے جو پرانی ہوکر نظام ہضم کو خراب کرتی ہے اور قبض کا باعث بنتی ہے۔ ان کے لئے روغن زیتون کا استعمال بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ بواسیر کے مسوں کی سوزش اور درد کو بھی فائد ہ ہوتاہے۔

زیتون کا تیل شیونگ کریم کا متبادل ہے

اگر شیونگ کریم ختم ہوجائے تو صابن کو استعمال کرکے وقت ضائع نہ کریں کیونکہ اس سے جلد سخت ہوجاتی ہے، اس کے مقابلے میں زیتون کا تیل شیونگ کریم کا اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ نہ صرف چہرے پر بلیڈ کو چلانا آسان بناتا ہے بلکہ جلد کو نمی بھی بخشتا ہے۔ ہوسکتا ہے اس کو آزما کر آپ شیونگ کریم کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں۔

آنکھوں کے سیاہ حلقوں اور ہونٹوں کی سیاہی کا علاج

ہونٹوں کی سیاہ رنگت اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس بات کی علامت ہیں کہ آپ کے جسم میں آئرن اور وٹامن بی کی کمی ہو گئی ہے۔ غسل کرنے یا ہاتھ دھونے کے بعد زیتون کا تیل لگائیں۔ زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انگلی کے ذریعے ہونٹوں پر مساج کیجئے۔ اور زیتون کا تیل آنکھوں کے حلقوں کے گرد لگائیں اور انگلی سے مساج کریں۔


یہ عمل کم از کم پندرہ بیس دن جاری رکھیں آنکھوں کے حلقے دور ہو جائیں گے۔ کچھ عورتوں کے ہونٹ لپ اسٹک لگانے کے بعد انتہائی خشک ہو جاتے ہیں اور چھلکے اترنے لگتے ہیں۔ ایسے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانے سے پہلے ہلکا سا روغن زیتون (زیتون کا تیل)لگائیں پھر لپ اسٹک لگائیں تو خشکی کا احساس نہ ہوگا۔

خشک بالوں کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

اگر آپ کے بال بہت خشک رہتےہیں تو بالوں میں زیتون کے تیل کی زیادہ مقدار لگا کر دیر تک بالوں میں کنگھا کریں، تاکہ تیل بالوں میں خوب جذب ہوجائے۔ اب بالوں کو اچھی طرح لپیٹ کر پکڑا باندھ لیں یا کیپ پہن لیں۔ آدے گھنٹے تک اسی حالت میں آرام کریں۔ اس دوران تیل اپنا اثر دکھائے گا اور بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے گا۔ اب کسی معیاری شیمپو سے بالوں کو اچھی طرح دھولیں۔

زیتون کے تیل کا استعمال

آپ محسوس کریں گی کہ تیل نے آپ کے بالوں کو خوب ملائم اور چمکدار بنادیا ہے اور ان میں اس قدر لچک آگئی ہے کہ آپ نہ صرف بالوں کو آسانی سے سنوار سکتی ہیں، بلکہ انہیں جو بھی انداز دینا چاہیں، دے سکتی ہیں۔

زیتون کا تیل ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے

زیتون کے تیل کے استعمال سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور ان کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے خون میں کیلثیم کی مقدار متوازن رہتی ہے۔ خون میں موجود کیلشیم ہڈیوں کے لیے معدنیات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آسٹیوپوروسس سے بچاؤ کے لیے بھی زیتون کے تیل کا استعمال بے حد مفید ہے۔

زیتون کے تیل سے چکنے ہاتھوں کی صفائی ہو جاتی ہے

اگر ہاتھوں میں گاڑی کی گریس یا پینٹ لگ جائے تو ایک چائے کا چمچ زیتون کا تیل اور ایک چائے کا چمچ نمک یا چینی اپنے ہاتھوں پر انڈل لیں۔
اس مکسچر کو مضبوطی سے ہاتھوں پر کئی منٹ تک رگڑیں پھر صابن اور پانی سے دھولیں۔ نہ صرف آپ کے ہاتھ چکنائی سے پاک ہوجائیں گے بلکہ نرم بھی ہوجائیں گے۔

سر میں خشکی (خشک کھوپڑی) کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

اگر آپ کی کھوپڑی خشک رہتی ہے تو زیتون کے تیل سے دیر تک اس کی مالش کریں اوراگر آپ کے سر میں خشکی رہنے لگی ہو تو رات کو سوتے وقت زیتون کا تیل خوب اچھی طرح سر میں لگالیں، تاکہ تیل کھوپڑی میں جذب ہو جائے۔
اس طرح بھوسی کی پپڑیاں اچھی طرح پھول کر جِلد سے الگ ہونے کیلئے تیار ہوجائیں گی۔ صبح نیم گرم پانی سے سر دھولیں، اس طرح خشکی دور ہوجائے گی۔ یہ عمل ہفتے میں کم از کم دو تین بار ضرور کریں تاکہ خشکی کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔

زیتون کا تیل جسم سے سوجن دور کرتا ہے

زیتون کے تیل سے جسم میں سوجن نہیں بنتی جس کے باعث اس سے ہونے والی بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، الزائمرز، گٹھیا، کینسر اور امراض قلب شامل ہیں۔دوہزار پانچ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق زیتون میں ایک ایسا اینٹی انفلیمیٹری ایجنٹ موجود ہوتا ہے جس سے جسم میں کے کسی حصے میں سوجن نہیں ہوتی۔

زیتون کے تیل کے ذریعے گھریلو چیزوں کی پالش کرنا

اپنے لکڑی کے فرنیچر کی چمک دمک بحال کرنے کے لیے ایک محلول تیار کریں جس میں دو حصے زیتون کا تیل اور ایک حصہ لیموں کا عرق یا سفید سرکہ ہو، جسے ایک اسپرے بوتل میں ڈال کر اچھی طرح ہلائیں اور پھر فرنیچر پر اسپرے کریں اور ایک یا دو منٹ تک مکسچر اس پر لگا رہنے دیں، اس کے بعد کسی صاف کپڑے یا تولیے سے صاف کرلیں۔
زیتون کے تیل کی کچھ مقدار کپڑے پر لگا کر لیدر، اسٹین لیس اسٹیل کی مصنوعات کو پالش کیا جاسکتا ہے، جو بالکل نئے کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور اس سے آپ کچن سنک کو بھی جگمگا سکتے ہیں۔ گندے چمچ کو صحیح طرح صاف کرنا مشکل ہوتا ہے، تو ایسے چمچ کو زیتون کے تیل میں ڈبو دیں، اس پر جم جانے والی اشیاءخود ہٹ جائیں گی

۔ شیشے کے برتنوں پر لگے اسٹیکر ہٹانا چاہتے ہیں تو زیتون کے تیل کو کسی کپڑے پر لگاکر رگڑیں وہ بہت جلد ہٹ جائے گا۔

زیتون کے تیل لہسن اور دارچینی کے کمالات

زیتون کے تیل کے جہاں بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے استعمال سے نہ صرف عضو خاص بڑا اور موٹا ہوتا ہے، بلکہ اس کی لمبائی میں بھی فرق پڑ تا ہے۔عضو تناسل کی بہتری کے لیے زیتون کا تیل لے کر اس کے ہم وزن لہسن اور چوتھائی دار چینی ڈال کراتنا گرم کریں کہ لہسن جل کر کوئلہ ہو جائے تو اس کو چھان لیں اور اپنے پاس رکھ لیں۔
ایک ماہ تک روزانہ رات کو اس تیل سے بیس منٹ تک اپنے نفس کی اچھی طرح مالش کریں۔ اور صبح اٹھ کر گرم پانی سے دھو لیں۔ ٹھنڈے پانی سے ہرگز نہ دھوئیں۔ یاد رکھیں اس عمل کے دوران روزانہ صبح اٹھ کر ورزش ضرور کریں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لہسن کی ایک گٹھی لے کر اس کی پوتھیوں کو چھیل کر کوٹ لیں اور کسی باریک کپڑے میں ڈال کر پوٹلی بنا لیں۔ اس پوٹلی کو کسی چھوٹی دیگچی میں ڈال کر اتنا زیتون کا تیل ڈالیں کہ یہ پوٹلی تیل میں ڈوب جائے۔ اب اس دیگچی کو دھیمی آنچ پر گرم ہونے کے لیے رکھ دیں۔

جب تیل کڑکڑانے لگے اور لہسن جل کر سیاہ ہو جائے تو تیل کو آگ سے اتار کر چھان لیں اور کسی شیشی میں محفوظ کر لیں۔ اس تیل کے متواتر ایک ہفتہ کے استعمال سے عضو خاص اسٹیل کی راڈ کی طرح سخت ہو جائے گا۔

زیتون کا تیل بطور کنڈیشنر

زیتون کا تیل اگر درست طریقے سے استعمال کریں تو یہ بہترین کنڈیشنر ثابت ہوسکتاہے۔ اس کے لگانے کا طریقِ کار بالکل سادہ ہے، مگر فوائد بے شمار ہیں۔ زیتوں کے تیل کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ بالوں کو نہ صرف صحت بخشتا ہے، بلکہ ان میں قدرتی چمک پیدا کر کے انہیں جاذب نظر بھی بناتا ہے۔
زیتون کا تیل سکون بخش بھی ہے۔ یہ ان کریموں اور لوشنوں کے کیمیائی اجزا کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، جو بالوں کو سیدھا کرنے یا رنگوانے کیلئے بالوں میں لگائے جاتے ہیں اور بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

زیتون کا تیل کینسر سے محفوظ رکھتا ہے

چند اقسام کے کینسر سے بچاؤ کے لیے زیتون کااستعمال فائدے مند ہے۔ زیتون کے تیل میں موجود پولی فینلزاینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات رکھتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خون کے خلیات کو بھی کام کرنے میں مدد دیتے ہیں جس سے کینسر کے خطرات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔

زیتون کے تیل سے بالوں پر لگے پینٹ کو مٹانا

اگر تو کسی وجہ سے گھر میں یا کمرے میں رنگ کرتے ہوئے پینٹ آپ کے بالوں میں لگ جائے تو اس سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم اگر آپ زیتون کے تیل سے روئی کی کچھ مقدار کو بھگو کر نرمی سے اپنے بالوں پر پھیریں تو یہ کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔
یہی چیز آنکھوں کے گرد مسکارا صاف کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے مگر یہاں روئی کی جگہ کسی ٹشو کا استعمال کرنا ہوگا۔

زیتون کا تیل اور مردانہ کمزوری

مردانہ کمزوری کے شکار افراد کے لیے روغن زیتون (زیتون کا تیل) اور شہد اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مردانہ طاقت میں کمی کی شکایت کرنے والے حضرات اگر ان دونوں چیزوں کا استعمال با قاعدگی کے ساتھ کریں تو ان کی مردانہ طاقت یعنی قوت باہ میں اضافہ ہو گا۔ مردانہ کمزوری جاتی رہے گی۔
اس مقصد کے لیے صبح و شام چار چمچ شہد ایک کپ بکری کے دودھ میں گھول کر پی لیں جب کہ دوپہر کے وقت بکرے کے کپورے روغن زیتون میں پکا کر مناسب مقدار میں کھائیں۔ چند دنوں کے بعد ہی جسم میں اس کا اثر محسوس ہو گا۔ اور مردانہ طاقت کی کمزوری کی شکایت ختم ہو جائے گی۔
چند ماہ کے مسلسل اور باقاعدہ استعمال سے کبھی دوبارہ مردانہ کمزوری نہیں ہو گی۔ سردیوں کے موسم بہتر نتائج کے لیے زیتون کے تیل سے نفس کی مالش بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کھردرے ، بے رونق اور الجھے بالوں کا علاج

برسات کے موسم میں بال الجھے الجھے سے رہتے ہیں۔ سردی شروع ہوتے ہیں بال کھردرے ہوجاتے ہیں۔ اگر بال پہلے سے ہی خشک اور بے رونق ہیں تو برسات اور سردی کے موسم میں یہ مزید خشک اور بے رونق ہوجاتے ہیں۔ بالوں کو نرم و ملائم اور چمکدار رکھنے کیلئے ہمیشہ زیتون کے تیل کی مالش کریں۔ زیتون کا تیل بالوں کیلئے بہترین غذا اور دوا ہے۔
سردیوں کے شروع ہوتے ہیں بالوں میں زیتون کے تیل کی مالش شروع کردیں۔اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے مالش کریں اور صبح نیم گرم پانی سے بال دھولیں ، بالوں کے سروں، یعنی بالوں کی نوکوں پر زیادہ توجہ دیں۔
مالش کرنے کے بعد بالوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیں یا تو لیہ لپیٹ لیں، تاکہ تیل کی حرارت برقرار رہے،پونے گھنٹے بعد بالوں کو کسی اچھے شیمپو سے دھولیں۔ آپ کے بال صاف ستھرے، نرم و ملائم اور چمک دار ہوجائیں گے۔

زیتون کا تیل بطور میک اپ ریموور

زیتون کا تیل قدرتی میک اپ ریموور کی طرح کام کرتا ہے، یہ وائپس کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند اور جلد کے لیے بہتر ہوتا ہے، خاص طورپر آئی میک اپ کو ہٹانے کے لیے بہترین ہے۔

 زیتون کے تیل سے چھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ

آنکھوں کے نیچے جو جھریاں ہوتی ہیں انہیں باقاعدہ زیتون کے تیل کے مساج اور موسچر ائزنگ سے کم کیا جاسکتا ہے۔ جلد سے خارج ہونے والی چکنائی کو اگر چہرے سے صاف نہ کیا جائے تو وہ سخت ہو کر سفید دانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس سے نجات پانے کے لئے زیتون کے تیل کا فیس ماسک بہت مفید ہے۔
چہرے کی جلد وہ آئینہ ہے جس میں عمر کے نشان بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اپنے چہرے کو دھوپ سے بچائیں اور چہرے پر زیتون کے تیل کا مساج کریں۔ عام طور پر خشک جلد کے پھٹنے سے ہونٹ کے اوپر لکیریں نمودار ہوتی ہیں اس تکلیف سے بچاؤ کے لئے ہونٹوں پر اکثر زیتون کا تیل لگایا کریں۔ اگر چہرے پر باقاعدگی سے زیتون کے تیل کا مساج کیا جائے تو چھائیاں بھی دور ہو جاتی ہیں۔

زیتون کے تیل کی مدد سے پرانی گیند کو نیا کرنا

اگر تو آپ کرکٹ کے پرستار ہیں اور اپنی پرانی ہارڈ بال کو دراڑوں سے محفوظ اور اس کے چمڑے کو سخت رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی نئی زندگی کے لیے ہر کچھ عرصے بعد زیتون کے تیل کو استعمال کریں۔ بس زیتون کے تیل کو کسی نرم کپڑے کے ساتھ گیند کے خشک حصوں پر پھیریں اور پھر اسے تیس منٹ تک چھوڑ دیں اور پھر صاف کپڑے سے صاف کرلیں۔

زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ

زیتون کا تیل انسانی صحت کیلئےتبھی مفید ہوتا ہے جب آپ اس کے صحیح استعمال سے واقف ہوں گے۔ ہمارے ہاں زیتون کے تیل کے شوقین لوگ عام طور پر یہ غلطی کر رہے ہیں کہ اس میں چیزیں نہ صرف بلند درجہ حرارت پر پکائی جاتی ہیں بلکہ فرائی بھی کی جاتی ہیں جو کہ بالکل غلط اور سخت مضر صحت کام ہے۔
زیتون کے تیل کو سلاد اور دیگر کھانے کی اشیاءپر چھڑکا جا سکتا ہے اور اگر اسے پکانے کیلئے استعمال کرنا ہو تو نہایت کم درجہ حرارت پر ہی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔زیتون کے تیل کو کبھی بھی زیادہ درجہ حرارت پر گرم نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں انتہائی نقصان دہ مرکبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ زیتون کے تیل کو زیادہ گرم کرنا بھی مناسب نہیں۔

نوٹ: زیتون کے تیل سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget