کالم لسٹ "طبی فوائد"

پاکستان میں تخمِ ملنگا جیسی قدرتی نعمت کو بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے جو صحت کا ایک خزانہ ہونے کی بنا پر طبی فوائد سےبھرپور ہے۔

صرف شربت اور فالودہ بناتے وقت ہی تخمِ ملنگا کی یاد آتی ہے لیکن تاریخ میں اس بیج کو بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ازبک  سپاہی جنگ سے پہلے اسے کھاتے تھے کیونکہ یہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر تخمِ ملنگا کو دوڑنے والے کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔

تخمِ ملنگا کی 28 گرام مقدار میں 137 کیلوریز،
 12 گرام کاربوہائیڈریٹس،
ساڑھے چار گرام چکنائی،
ساڑھے دس گرام فائبر، 
صفر اعشاریہ چھ ملی گرام مینگنیز، 265
 ملی گرام فاسفورس، 177
 ملی گرام کیلشیئم کے علاوہ
 وٹامن، معدنیات، نیاسن، آیوڈین اور تھایامائن موجود ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ تخمِ ملنگا میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔

اب تخمِ ملنگا کے فوائد بھی جان لیجئے۔

جلد نکھارے اور بڑھاپا بھگائے

میکسکو میں تخمِ ملنگا پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں قدرتی فینولِک (اینٹی آکسیڈنٹ) کی مقدار دوگنا ہوتی ہے اور یہ جسم میں فری ریڈیکل بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب تو یہ جلد کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کو بھی روکتا ہے۔

ہاضمے کے لیے مفید

فائبر کی بلند مقدار کی وجہ سے تخمِ ملنگا ہاضمے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ السی اور تخمِ ملنگا خون میں انسولین کو برقرار رکھتے ہیں اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بھی لگام دیتے ہیں۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر پانی جذب کرکے پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور وزن گھٹانے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا استعمال معدے کے لیے مفید بیکٹیریا کی مقدار بڑھاتا ہے۔

قلب کو صحتمند رکھے

تخمِ ملنگا کولیسٹرول گھٹاتا ہے، بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال خون کی شریانوں کی تنگی روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وجہ سے یہ دل کا ایک اہم محافظ بیج ہے۔

ذیابیطس میں مفید

تخمِ ملنگا میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی وجہ سے خون میں چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو اہم اشیا ہیں جو آگے چل کر ذیابیطس کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے ملنگا بیج کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

توانائی بڑھائے

جرنل آف اسٹرینتھ اند کنڈشننگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ ملنگا ڈیڑھ گھنٹے تک توانائی بڑھاتا ہے اور ورزش کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ جسم میں استحالہ (میٹابولزم) تیز کرکے چکنائی کم کرتا ہے اور موٹاپے سےبھی بچاتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

ایک اونس تخمِ ملنگا میں روزمرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیئم پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر فاسفورس، مینگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زنک اور دیگر اجزا منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں۔

جدید سائنسی تحقیقات نے ایسے بہت سے درختوں، سبزیوں اور پھلوں کے بارے میں ہمیں بیش بہا معلومات کے حصول تک رسائی دی ہے جنہیں بجا طور پر “کرشماتی پودے” کہا جا سکتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں اہمیت حاصل کرنے والا ایک پودا “مورنگا” بھی ہے جسے عرف عام میں سوہانجنا بھی کہا جاتا ہے۔

سوہانجنا ایک ایسا پودا ہے جسے بجا طور پر غذائی، طبی اور صعنتی فوائد و اہمیت کا حامل پودا کہا جا سکتا ہے۔ اس پودے کی بہت سی اقسام ہیں تاہم “مورنگا اولیفیرا”( Moringa olifera) اس کی وہ قسم ہے جسکی غذائی اہمیت انسانوں اور جانوروں دونوں کے لئیے تسلیم شدہ ہے ۔
معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

سوہانجنا میں دودھ کے مقابلے میں سترہ گناہ زیادہ کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح دہی کے مقابلے میں نو گنا زیادہ پروٹین، گاجر کے مقابلے میں چار گناہ زیادہ وٹامن اے، کیلے کے مقابلے میں پندرہ گناہ زیادہ پوٹاشیم اور پالک کے مقابلے میں انیس گنا زیادہ فولاد موجود ہوتا ہے۔ سوہانجنا میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ (chlorogenic acid) جو چینی (Sugar) جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے خون میں شُوگر کم ہوتی اور ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے۔

کیلشیم، وٹامنز اور پروٹینز کی وافر مقدار کے باعث بچوں کی بڑھوتری میں یہ پودا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر بچوں کی خوراک میں اسے شامل کیا جائے تو نہ صرف انھیں مختلف بیماریوں سے تحفظ ملے گا بلکہ بچوں کی گروتھ بھی جلد ہوگی۔
نہ صرف پتے، بلکہ اس کرشماتی پودے کے ہر حصے میں اہم غذائی اور طبی فوائد کے حامل اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جن میں وٹامنز، کیلسییم، میگنیشیم ، فاسفورس اور زنک وغیرہ شامل ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں پر قابو پانے کے لئیے اہمیت کے حامل ہیں۔ جدید طب کے علاوہ سوہانجنا کے مختلف حصوں کا بطور دوا استعمال قدم حکما اور اطبا سے بھی ثابت شدہ ہے ۔ سوہانجنا کی خاص بات یہ ہے کہ اس پودے کا ہر حصہ، بیج، پتے، جڑ وغیرہ قابل استعمال ہے۔

سوہانجنا کے تمام حصوں کو بے شک و شبہ غذا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پودے کا پھل پھلیوں کی صورت میں لگتا ہے جنہیں پکا کر سبزی ترکاری کے طور پر استعمال میں لانے کے علاوہ اچار کی صورت میں لمبے عرصے تک استعمال کے لئیے محفوظ کیا جاتا ہے ۔

اسی طرح اس کے پھول اور نوزائیدہ کونپلیں بھی پکانے کے کام آتی ہیں مگر انہیں زیادہ دیر تک پکانے سے انکی غذائی افادیت میں کمی آ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ سوہانجنا کی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی نوعمر پودوں کی وہ جڑیں ہوتی ہیں جنہیں “سوہانجنے کی مولیاں” کہا جاتا ہے ۔ یہ بھی پکانے اور اچار بنانے کے لئیے استعمال ہوتی ہیں اور اس سے بننے والا اچار لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

اس کے نیم پختہ بیجوں کو توے پر بھون کر بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کا ذائقہ مونگ پھلی یا کاجو سے مشابہت رکھتا ہے ۔
معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

تحقیقات کے مطابق سوہانجنا کی سب سے زیادہ غذائی اہمیت اس کے تازہ پتوں اور پھولوں میں ہوتی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ اس کے پتوں کا استعمال خشک سفوف کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

پتوں کو چھاوں میں سکھانے کے بعد پیس کر ہوا بند مرتبانوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اطبا کے مطابق بچوں اور بڑوں میں اس سفوف کا استعمال قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ ذہانت میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔
پتوں کا رس نکال کر جراثیم کش محلول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیئے اس کے کچلے ہوئے پتوں کو مٹی میں ملانے سے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔

معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

دیہات میں آج بھی اس کے ان کِھلے پھولوں(ڈوڈیوں) کو سالن کے طور پر پکایا جاتا ہے جبکہ اس کی جڑوں کا اچار بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے مگر لوگ اس کے غذائی فوائد سے بے خبر ہیں۔

– سوہانجنا جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو زیادہ خوراک اور امائنو ایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے جو اس پودے میں مناسب مقدار میں موجود ہیں جبکہ اس میں پایا جانے والا کیلشیم اور فولاد خواتین کو ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر امراض سے محفوظ رکھتا ہے،
معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

آپ کو اس کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں  
  • سوہانجنا کے درخت سے پتے یا شاخیں توڑ لیجیے۔ 
  • پتے شاخوں سے الگ کیجیے اور ان کو دھو کر خشک کر لیجیے۔
  •  سائے میں پھیلا کر سکھا لیجیے۔ 
  • جب پتے سوکھ جائیں تو ان کو گرائنڈر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیجیے اور کسی ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔ 
  • روزانہ صبح یا شام ایک چائے کا چمچہ پاؤڈر ڈیڑھ کپ پانی میں خوب اچھی طرح جوش دیجیے اور پھر چائے کی طرح پی لیجیے۔ 
  • چاہیں تو مٹھاس کے لیے ایک چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔ 
  • آپ اس مشروب میں گرین ٹی بھی ملا سکتے ہیں۔
  • شروع میں ایک چائے کا چمچ پینا شروع کیجیے بعد میں آپ دن میں دو مرتبہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
  • زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیجیے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے اور زیادہ مقدار میں لینے کی صورت میں دست آور ہو سکتا ہے۔
  • جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اس میں تین سو بیماریوں کا علاج موجود ہے جن میں سے بیشتر ایسی بھی ہیں جو لا علاج ہیں۔بلڈ پریشر، کولیسٹرول، سوزش، جگر کی خرابی، شوگر، اینٹی آکسیڈنٹ یعنی بڑھاپے اور جھریوں کو روکنے والا، جوڑوں میں ورم اور سوزش، موٹاپا، دل کے امراض، دماغی صحت کے لیے بہترین، یادداشت کو انتہائی تیز کرتا ہے، نظر کی کمزوری دور کرتا ہے
  •  تاہم حاملہ اور اولاد کی خواہش مند خواتین کو اس پودے کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج  moringa oleifera tree health benefits

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔ 
یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔
تاہم جہاں اس کے متعدد فوائد ہیں، وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں اور یہ دونوں آپ نیچے جان سکتے ہیں۔

کیلے کے فوائد

دل کی صحت

کیلے دل کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود پوٹاشیم ہے اور دل کے افعال کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سوڈیم یا نمکیات نہ ہونے کے برابر ہے لہذا یہ شریانوں کو ہائی بلڈ پریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ رواں سال ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم شریانوں کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کے اکڑنے یا سکڑنے کا خطرہ کم کرتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

ڈپریشن کے خلاف بھی مفید

کیلوں میں موجود ٹرائیپٹوفن نامی جز جسم میں جاکر سیروٹونین میں بدل جاتا ہے جو کہ مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس نیند کو بہتر کرتا ہے جبکہ میگنیشم پٹھوں کو سکون فراہم کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر اور موٹاپے میں کمی

فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث کیلے قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہیں جبکہ وٹامن بی سکس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں کمی لاتا ہے، چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے اور پیٹ کو جلد بھر دیتا ہے لہذا بے وقت منہ چلانے کی عادت پر بھی قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ورزش

جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ورزش کرنے والے افراد کے لیے انرجی ڈرنکس سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

بینائی

صرف گاجر ہی نہیں بلکہ کیلے بھی بینائی میں بہتری کے لیے فائدہ مند ہے، اس پھل میں کم لیکن نمایاں مقدار میں وٹامن اے ہوتا ہے جو بینائی کے تحفظ کے لیے اہم ترین جز ہے، یہ عام بینائی کو صحت مند رہنے اور رات کی بینائی بہتری لانے والا پھل ہے۔

ہڈیاں

کیلے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق کیلوں میں ایک جز fructooligosaccharides موجود ہوتا ہے جو معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھا کر جسم کی کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

کینسر

کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اعتدال میں رہ کر اس پھل کو کھانے سے گردوں کے کینسر سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ چالیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے، اور اس حوالے سے کیلے موثر ترین ہے۔ ہر ہفتے چار سے چھ کیلے کھانا گردوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

حمل

برطانوی طبی جریدے دی رائل سوسائٹی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کیلے میں موجود پوٹاشیم حاملہ خواتین کے ہاں لڑکوں کی پیدائش میں مدد دے سکتا ہے، اس تحقیق کے دوران 740 خواتین کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ حمل سے قبل زیادہ مقدار میں پوٹاشیم کو کھانے سے لڑکوں کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

طبی نقصانات

یہ پھل اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی طرح چونکہ یہ میٹھا پھل ہے تو اسے زیادہ کھانے پر دانتوں کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنا دانتوں کی فرسودگی اور ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ اس پھل میں چونکہ مناسب مقدار میں پروٹین یا فیٹ نہیں، لہذا جسم غذائیت سے محروم ہوسکتا ہے۔
تاہم واضح رہے کہ کیلے اسی وقت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جب انہیں بہت زیادہ کھایا جائے اور طبی ماہرین کے مطابق ایک دن میں دو سے چار کیلے ہی صحت کے لیے بہتر ہوتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ کھانے سے جسم میں وٹامن اور دیگر منرلز کی سطح بہت زیادہ بڑھ کر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ہلدی کا رنگ زرد اور ذائقہ پھیکا اور تلخ ہوتا ہے۔ ہلدی کا شجرہ نسب (خاندان) ادرک ہے۔ اس کی سرخی مائل زرد نباتاتی جڑیں بطور مصالہ اور دوا کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔

ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ یہ سدا بہار پودا جنوبی ہند کے ان علاقوں میں خوب پرورش پاتا ہے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہے۔یا زمینیں سایہ دار ہوتی ہیں۔

ہلدی کو مرچوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہلدی کو عربی میں عروق الصفر، فارسی میں زرد چوب اور انگریزی میں Turmeric اور سندھی میں ہیڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا پودا ایک میٹر بلند ہوتا ہے اور اس کے پتے پچاس سے ایک سوبیس ملی میٹر لمبے اور اڑتیس سے پنتالیس ملی میٹر چوڑے اور بیضوی ہوتے ہیں۔ اور ان کا اگلا سرا نوکیلا ہوتا ہے۔

اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ ہلدی کے فوائد و نقصانات کیا ہیں، ہلدی کے ذریعے علاج کیسے ممکن ہے۔ ہلدی کا استعمال کیسے کیا جائے۔، ہلدی کی کاشت کیسے ہوتی ہے۔ اور ہلدی کی چائے بنانے کا طریقہ کیا ہے۔

ہلدی کی کاشت

ہلدی کی کاشت ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں سالانہ بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔پاکستان کے ضلع قصور اور ہندوستان کی ریاست آندرپردیش میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ ہلدی کی کاشت عموماً اپریل ، مئی کے مہینے میں کی جاتی ہے۔

نومبر ،دسمبر میں جب اس کے پتے سوکھنے لگتے ہیں تو فصل کو اکھاڑنے سے تین چار دن پہلےہلدی کے کھیت کو ہلکا پانی لگا دیا جاتا ہے۔ اور نمی کی حالت میں پتے کاٹ کر علیحدہ کرکے ہلدی کی گنڈیوں کو اچھی طرح صاف کر کے پانی میں ایک گھنٹہ تک ابالا جاتا ہے۔

ہلدی کی گنڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد ایک ہفتے تک دھوپ میں سوکھایا جاتا ہے تا کہ گنڈیاں خشک ہو جائیں۔ اس کے بعد گنڈیوں کو صاف کر کے سرسوں کا تیل لگا کر دانے بھوننے والی بھٹیوں میں دس سے پندرہ منٹ تک بھونا جاتا ہے۔ اس طرح یہ گنڈیاں دو چاردنوں میں خشک ہو جاتی ہیں۔

اگلے مرحلے میں ہلدی کو پالش کیا جاتا ہے۔ پالش کر نے کیلئے خشک کی ہوئی گنڈیوں کو ایسے ڈرم میں ڈالا جاتا ہے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی چھریاں لگی ہوتی ہیں۔ اور گھمایا جاتا ہے ۔ اس سے گنڈیوں کا اوپر وا لا چھلکا اتر جا تا ہے اور ہلدی پالش ہو کر چمکدار اور خوبصورت دکھا ئی دیتی ہے۔ اس کے بعد اس کو بو ریوں میں بندکرکے صاف ستھرے اورہوادار کمر ے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ تا کہ ہلدی خراب نہ ہو۔

ہلدی کا استعمال

ہلدی کا استعمال صرف کھانوں اور دواؤں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ کیک ، مٹھائیوں اور پھلوں کے جوس اور دیگر کئی اشیا ء تیاری میں بھی کیا جاتا ہے ۔ کیمیائی تجزیہ کے مطابق ہلدی میں پوٹاشیم، کیشیم، فاسفورس ، فولاد، ،سوڈیم کے علاوہ وٹامن “A” ، “B” اور “C” بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

ہلدی کا استعمال بطور دوا توبعد میں شروع ہوا ، ابتدا میں اسے رنگ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا تھا ۔ اور بعض مقامات پر اسے زعفران کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔جبکہ اب یہ ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو بن گئی ہے اور اسے کھانے کو خوش رنگ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

ہلدی سے علاج

ہلدی کا باقاعدہ استعمال سے حیرت انگیز فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہلدی اپنے اندر جادوائی خواص رکھتی ہے۔ امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق اس میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی بیکٹیریل ،اینٹی وائرل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔

ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے اس میں شامل پوٹاشیم دل اور بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہےاور اس میں شامل آئرن خون کے سر خ خلیوں کو بڑھاتا ہے۔ خون کی کمی دور کرنے کے علاوہ یہ خون کو صاف بھی کرتی ہے۔ ہلدی میں وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں معدنیات اور فولاد پائی جاتی ہے لیکن ان سب کے باوجود اس میں سرکومن نامی اینٹی آکسیڈنٹس عنصر جادوئی اثر رکھتا ہے۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نمک ہلدی اور سرسوں کا تیل ملاکر اس سے روزانہ دانت صاف کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔

ہلدی کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تیزابیت کے ازالہ کی مخصوص دوا ہے۔ یہ گلے کی سوزش ، جوڑوں کی سوزش کے لئے فائدہ مند ہے۔ یہ جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ محافظ جگر ادویہ میں اسے ممتاز مقام حاصل ہے ، جگر کی سوزش (ہیپاٹائٹس) اور یرقان میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔


ہلدی جسم میں سے زائد چربی ختم کر کے وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ سرجری سےکچھ دن پہلے ہلدی کا استعمال سرجری کے دوران دل کے دورے کے خدشے کوساٹھ فیصدتک کم کردیتا ہے۔ ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ جس سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔

چوٹ یا زخم کا علاج

یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔ اس میں اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لئے متعدی امراض میں فائدہ مند ہے اور اسی وجہ سے چوٹ ، درد اور اندرونی سوزش (انفیکشن) میں ہلدی کا بیرونی اور اندرونی استعمال کیا جاتا ہے ۔ زخم کیسا بھی ہو ہلدی کا پیسٹ لگانے سے ہفتہ دس دن میں خشک ہوکر بھر جاتا ہے۔ جوڑوں کےدرد، آپریشن کے بعد اور عام درد میں بھی یہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ جسم کے اندر سوزش اور جلن کوبھی ختم کرتی ہے۔
اینٹی سیپٹک جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ اس سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔ باؤلے کتے کے کا ٹنے پر مریض کو ایک تولہ ہلدی پانی کے ساتھ دن میں دو بار کھلا نا مفید ہوتاہے اور کاٹی ہو ئی جگہ پر ہلدی کا لیپ لگا دیں، مریض کا زخم جلدی بھر جائے گا۔

کینسرسے بچاؤ

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہلدی عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر بھگانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنتوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے علاوہ خون کے سرطان(لیوکیمیا)کے علاج اور اس سے بچاؤ کے لیے بھی مفید ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ہلدی میں قدرتی طور پر پایا جانیوالا کیمیائی مادہ’’کرکیومن‘‘کینسر زدہ خلیات کی افزائش کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کولیسٹرول لیول کم کرنا

تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ ہلدی شریانوں کی بندش روکنے اور کولیسٹرول گھٹانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس میں شامل پوٹاشیم بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

یاداشت کی بہتری کےلئے

سائنسی تحقیق کے مطابق ہلدی یاداشت کی کمزوری کے عارضہ الزائمر سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔ یہ دماغ کی آکسیجن کے حصول کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دماغی افعال میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ ہلدی میں قدرتی طورپر موجود اہم جزو کرکومین دماغی انحطاط کے باعث لاحق ہونے والےمرض الزائمر جوعموماً معمر افراد کو لاحق ہوتا ہے ، کے علاج میں کافی فائدہ مند ہے۔ لال مرچ کے فوائد و نقصانات
اس مرض کی ابتدا میں یاداشت کمزور ہوتی ہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ مریض اپنے قریبی عزیزوں کی پہچان تک کھو بیٹھتا ہے اور اپنے روزمرہ کے معمولات ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ اس بیماری کی وجہ دماغی خلیوں میں پروٹین کا انجماد ہے، جس سے خلیوں کے درمیان برقی رابطوں میں تعطل پیدا ہونے لگتا ہے۔
جب کہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض میں دماغ کے متاثرہ خلیے اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہناہے کہ ہلدی، دماغ میں نئے اعصابی ریشوں کے بننے کا عمل تیز کردیتی ہے ، جس سے دماغی انحطاط کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اس طرح یہ دماغی کمزوری دور ہوکریاداشت بہتر ہوجاتی ہے۔

ذیابیطس سے بچاؤ

ہلدی ذیابیطس میں بھی مفید ہے یہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ اینٹی ذیابیطس اور اینٹی اوکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ جگر میں گلوکوز کی پیداوار کو کم کرکے خون میں گلوکوز کی سطح کوکم کرتی ہے۔ اور انسولین مقدار کو اعتدال پر لاتی ہے۔ ذیابیطس میں استعمال ہونے والی ادویات کے اثر کو بڑھا دیتی ہے۔
اس مقصد کے لئے گرم دودھ میں کچی ہلدی ابال کر یا اس کا سفوف ایک چمچ ملا کر پینے سے فائدہ ملتا ہے۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔

جلدی امراض سے بچاؤ

خوبصورتی کے لئے قدیم زمانے سے ہلدی کے استعمال کو بہترین مانا جاتا ہے ہلدی نہایت سستی بیوٹی پروڈکٹ ہے ہلدی دانت صاف کرتی ہے اور جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے ہزاروں سال سے استعمال ہورہی ہے۔ یہ جلد کو دھوپ کی مضرصحت الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھ کر اسے جھلسنے اور مزید تباہی سے دور رکھتی ہے۔ اس کا استعمال مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے جسے بھولنے کی بیماری، مختلف اقسام کی الرجی جوڑوں کے درد وغیرہ میں فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔

داغ دھبوں سے نجات

چہرے پر داغ دھبوں کی صورت میں ہلدی کا پاؤڈر اور صندل کی لکڑی کا پاؤڈر ہم وزن لیں۔ اور اس میں لیموں کا رس ملا کے پیسٹ بنا لیں۔ پندرہ منٹ تک چہرے پر لگارہنے دیں۔ اور پھر نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔ہفتے میں دو باراستعمال کرنے سے چہرے سے داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔

خشک اورچکنی جلد کے لئے

خشک جلد کے لئے انڈے کی سفیدی، دو قطرے زیتون کا تیل، چند قطرے تازہ لیموں کا رس اور ایک چٹکی ہلدی کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اورمتاثرہ حصوں پر لگائیں اور مکمل طور پر خشک ہونے کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ چکنی جلد کے لئے ہلدی کا ماسک بہت فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔ چکنی جلد کے لئے اس کا پیسٹ بنانے کے لئےایک چمچ صندل پاؤڈر میں ایک چٹکی ہلدی کے ساتھ تین چمچ اورنج جوس ملا کے پیسٹ بنا لیں اور جلد پر استعمال کریں۔

جھریوں کا خاتمہ

چہرے پر جھریوں کےخاتمے کے لئے ہلدی پاؤڈر، چاول کا آٹا، خشک دودھ اور ٹماٹر کے جوس میں اچھی طرح ملا کے پیسٹ بنا لیں تیس منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ اس سے نہ صرف جھریوں کا خاتمہ ہو گا بلکہ چہرے کی رنگت بھی نکھر جائے گی۔

آنکھوں کے گردسیاہ حلقے

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو ختم کرنے کے لئے دو چمچ بٹر ملک میں ایک چٹکی ہلدی ملا کے آنکھوں کے گرد بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ہفتے میں دو بار استعمال سے آنکھوں کے گرد موجود سیاہ حلقے ختم ہو جائیں گے۔

بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنا

بڑھتی عمر کے جلد پر ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لئے بیسن اور ہلدی کو ہم وزن لے کر پانی ملائیں اور پیسٹ بنا لیں اس پیسٹ میں بہترین نتائج کے لئے خشک دودھ یا دہی بھی استعمال کر سکتے ہیں پیسٹ کو چہرے پر لگائیں اور خشک ہونے کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں اس پیسٹ کو پورے جسم پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

ذہنی ڈپریشن، ذہنی تناؤ کا علاج

ہلدی ڈپریشن ،ذہنی تناؤ اور اداسی کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح موثر طریقے سے اس کے استعمال سے ذہنی ڈپریشن، تناؤ سے بچا جا سکتا ہے۔

نفسیاتی خوف سے نجات

ہلدی میں نہ صرف بے خوابی کا عمدہ علاج ہےبلکہ یہ خوف اور دیگرکئی نفسیاتی بیماریوں میں بھی مؤثر ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق یہ نہ صرف دماغ میں موجود کسی بھی قسم کےنفسیاتی خوف کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بلکہ یہ ذہن میں پیدا ہونے والے نئے خوف کو بھی روکتی ہے۔

جو لوگ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور دیگر نفسیاتی عدم توازن کا شکار ہوکر خوف میں مبتلا ہوں تو ایسے افراد کے لیے ہلدی سے تیارکردہ غذائیں انتہائی مفید ہیں۔علاوہ ازیں ہلدی میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ آپ کے دماغ سے برے واقعات کو بھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

چینونٹیوں سے نجات

چیونٹیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس جگہ پر جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ ہوں وہاں پر تھوڑی سے ہلدی ڈال دیں، ساری چیونٹیاں بھاگ جائیں گی اور دوبارہ وہاں پر نہیں آئیں گی۔

کمر درد سے نجات

کمر میں درد کی وجہ سے انسان کا چلنا پھرنا بھی دو بھر ہوجاتا ہے اور مختلف طرح کی دردکش ادویات کھاکر صحت کے دیگر مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔اس لئے آپ ذیل میں دئیے گئے قدرتی نسخہ ضرور آزمالیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہلدی میں موجود کیرکیومن کی وجہ سے درد اور سوزش میں کافی آرام ملتا ہے لہذا اس کی مدد سے کمر کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی، ناریل کا تیل اور چٹکی بھر کالی مرچ ڈال کر پینے سے کمر کے درد میں افاقہ ہو گا۔
جس جگہ درد ہو وہاں ہلدی کو پانی یا زیتون کے تیل میں حل کر کے لگانے سے درد سے نجات مل جائے گی۔رات کو سونے سے پہلے ہلدی کو لگا کر کوئی گرم کپڑا باندھ لیں، اگلی صبح آپ واضح فرق محسوس کریں گے۔

ہلدی کی چائے

ہلدی کے حیرت انگیز فوائد حاصل کرنے کےلئے ہلدی کی چائے بنا کر بھی پی جا سکتی ہے۔ ایک کپ ناریل کا دودھ ، ایک کپ پانی ، ایک چمچ دیسی گھی ، ایک چمچ شہد اور ایک چمچ ہلدی کا سفوف لیں۔ سب سے پہلے کوکونٹ ملک اور پانی کو 2 منٹ تک ابالیں پھر اس میں شہد ، دیسی گھی اور ہلدی ڈال کر مزید دو منٹ ابالنے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔کوکونٹ ملک(ناریل کا دودھ) نہ ملے تو عام دودھ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

نوٹ: ہلدی سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

گلاب کو پھولوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ گلاب کے پھول سے گل قند اور خوشبو تیار کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گلاب کی پتیوں سے جو عرق نکالا جاتا ہے اسے عرق گلاب کہتے ہیں۔ گلاب ایک سدا بہار درخت ہے جس کی سو سے زائد اقسام ہیں۔ گلاب کو پیار کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گلاب امریکہ اور برطانیہ کا قومی پھول ہے۔ اردو شاعری میں سب سے زیادہ اس پھول کا نام آیا ہے۔ عرق گلاب کو انگریزی میں Rose Water اور عربی میں ماء الورد کہتے ہیں۔ عرق گلاب کا استعمال دنیا بھر میں خوشبو، ذائقے، ادویہ سازی، میک آپ کی اشیاء وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔

خشک موسم میں انسانی جلد خشکی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس سے چہرے کے خدوخال میں کھنچاؤ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور جلد پھوٹنے لگتی ہے۔ چہرے کے علاوہ ہاتھوں کی جلد بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ چہرے کے علاوہ پورے بدن پر بیماریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ جن سے بچاؤ کے لیے مختلف قسم کے طریقہ علاج آزمائے جاتے ہیں۔

اکثر تجربہ کار ڈاکٹرز صاحبان عرق گلاب کو جلدی بیماریوں میں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عرق گلاب جلدی امراض کے علاوہ بھی بہت سے امراض میں مفید تصور کیا جاتا ہے۔سردیوں کے دوران عورتوں اور بچوں کی جلد جن امراض میں لاحق ہوتی ہے۔ عرق گلاب ان کے لیے موثر دوا کا کام کرتا ہے۔

عرق گلاب کے بیش بہا خصوصیات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عرق گلاب کو خود گھر میں تیار کیا جائے۔ کیونکہ بازار سے چاہے جتنی اچھی کمپنی کا عرق گلاب خریدا جائے اس میں وہ بات نہیں ہوتی جو گھر میں تیار کیے گئے عرق گلاب میں ہوتی ہے۔ عرق گلاب گھر میں تیار کرنے کے لیے آپ ہماری اگلی تحریر پڑھ سکتے ہیں۔

اس تحریر میں آپ پڑھیں گے عرق گلاب کے فوائد اور استعمال، عرق گلاب کی لاجواب تاثیر اور گھریلو دیسی ٹوٹکے، عرق گلاب سے علاج اور خوبصورتی کا حصول

عرق گلاب کے فوائد اور استعمال

  • سردیوں میں بچوں کے چہرے پر سفید اور کھردرے نشان بن جاتے ہیں۔ یہ نشان اکثر جلدی بیماری کے سبب ظاہر ہوتے ہیں، عرق گلاب کے مسلسل استعمال سے نا صرف اس مرض کا علاج ممکن ہے بلکہ اس مرض کی روک تھام کے لیے یہی قدرتی دوا سستی اور موثر ثابت ہوتی ہے۔ بہت سے ڈاکٹر عرق گلاب اور گلیسرین ملا کر بچوں کے چہرے اور جسم پر لگانے کی ہدایت کرتے ہیں۔
  • عرق گلاب جلد کی قوت بڑھاتا ہے۔ یہ جلد میں پانی کی صحیح مقدار قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جلد ملائم، چمکدار اور ملائم رہتی ہے۔
  • جدید سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ خوشبو سے علاج کے ضمن میں عرق گلاب اثرانگیزی میں سب سے نمایاں ہے ، کیونکہ اس کے سونگھنے سے گرمی کا سردرد لمحوں میں رفع ہو جاتا ہےاور دماغی تھکان سے نجات مل جاتی ہے۔گلاب یا اس کا عرق سونگھنے سے دماغ اور دل کو تقویت ملتی ہے۔ بعض اطباء کا تو یہ خیال ہے کہ جس انسان کا دماغ کمزور اور مزاج گرم ہو تو وہ بطورعلاج عرق گلاب سونگھا کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ سستی دور کر کے بدن میں چستی پیدا کر دیتا ہے۔
  • عرق گلاب،جلد سے پانی کے ضرورت سے زیادہ اخراج کو روکتا ہے۔ ایسے خواتین و حضرات جنہیں زیادہ پسینہ آتا ہے، اس کا استعمال انہیں پسینے کی بدبو سے نجات دلاتا ہے۔
  • عرق گلاب جسم میں نمی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے جلد نرم اور چمکدار رہتی ہے۔ یہ ہماری جلد کی خشکی کو ختم کر دیتا ہے اور تمام موسموں کے لیے ایک قدرتی موئسچرائیزر ہے خشک جلد والوں کی جلد کو نم رکھنے کیلئے عرق گلاب بہترین ہے یہ جلد کی کھچاٹ دور کرتا ہے۔ جبکہ چکنی جلد والوں کے چہرے پر اس کے استعمال سے زائد چکناہٹ اور تیل ختم ہوجاتا ہے۔ جلد کی نمی کو بحال رکھنے کیلئے وقفے وقفے سے عرق گلاب کااسپرے کرنے سے خشک جلد نرم وملائم ہوجاتی ہے
  • اگر آپ اپنے ہونٹوں کو گلابی بنانا چاہتی ہیں یا آپ کے ہونٹ سیاہ ہیں تو عرق گلاب اور چقندر کا رس ملا کر اپنے ہونٹوں پر روزانہ دن میں دو سے چار بار لگائیں۔ یہ موئسچرائیزر ہونٹوں کو گلابی بنانے اور سیاہ ہونے سے بچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ ہونٹوں کو خوبصورت، نرم و ملائم اور گلابی بنانے کے لئے آپ ہماری تحریر ہونٹوں کی خوبصورتی اور دلکشی کے نسخے بھی پڑھ سکتے ہیں۔
  • سردیوں میں ہماری جلد بہت زیادہ خشک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جلدی امراض مثلاً ایگزیما لاحق ہو جاتا ہے، عرق گلاب اس بیماری سے بچاتا ہے۔
  • فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور ، مستری وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہیں سیمنٹ اور کیمیکلز سے الرجی ہو جاتی ہے۔ ان کی جلد سرخ اور سخت ہو کر پھٹنے لگتی ہے۔ جبکہ ہاتھ پاؤں بھی پھٹ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کام نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے عرق گلاب میں گلیسرین کی آمیزش کر کے انہیں دوائی کی طرح استعمال کرایا جاتا ہے۔
  • چھائیوں سے نجات اور جلد کی رنگت میں نکھار پیدا کرنے کے لئے جلدی امراض کے اکثر ماہر ڈاکٹرز عرق گلاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیز ڈاکٹروں کا یہ مشورہ بھی ہوتا ہے کہ چہرے کی خشکی اور جھریوں سے بچنے اور رنگت گوری کرنے کے لیے عرق گلاب میں گلیسرین ملا کر استعمال کی جائے تو مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر آپ کے چہرے پر چھائیاں ہیں اور آپ انہیں ختم کرنا چاہتی ہیں تو عرق گلاب اس کا بہترین علاج ہے۔ دو چمچ بیسن، ایک چٹکی ہلدی اور عرق گلاب کو ملا کر ایک نرم پیسٹ بنا لیں۔ پیسٹ کو اپنے چہرے پر لگائیں اور خشک ہونے کے بعد چہرے کو پانی سے دھو لیں۔ کوئی بھی چیز آپ کے چہرے کو اس سے زیادہ تر و تازہ نہیں بنا سکتی۔علاوہ ازیں دہی، میں کھیرااور سندل کی لکڑی پیس کر ملالیں اس میں عرق گلاب شامل کرکے ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اسے چہرے پر بطور ماسک لگانے سے دھبوں اور جھریوں کے علاوہ کیل مہاسے اور چوٹ کے نشان بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
  • گھریلوخواتین جن کے ہاتھوں کی انگلیاں کپڑے اور برتن دھونے والے صابن سے کھردری ہو کر پھٹ جاتی ہیں اور ان میں زخم بن جاتے ہیں ، ایسی خواتین گلیسرین اور عرق گلاب روزانہ تین چار مرتبہ استعمال کریں تو اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔
  • رنگ گورا کرنے والی کریموں میں عرق گلاب کے چند قطرے ڈال کر روزانہ جلد پر لگایا جائے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں جلد پر نمی کا برقرار رہنا سرفہرست ہے۔ عرق گلاب لگانے سے جلد کی اوپری سطح پر موجود مردہ خلیوں (ڈیڈ سیلز) کا خاتمہ ہوتا ہے اور جراثیم سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
  • نیل پالش کا مسلسل استعمال ناخن کے رنگ کو خراب کر دیتا ہے۔ اپنے ناخنوں کی قدرتی چمک واپس لانے کے لیے عرق گلاب اور لیموں کے رس کو برابر مقدار میں ملا کر ناخنوں پر لگائیں۔
  • سردیوں میں اکثر مرد وخواتین کی ایڑیاں پھٹنے لگتی ہیں۔اگر وہ عرق گلاب اور گلیسرین کا مکسچر لگائیں تو ان ا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
  • عرق گلاب ، زیتون اور شہد کے ساتھ مل کر جلد اور معدہ کی حفاظت کرتا ہے۔ خصوصاً اس کے پینے سے قبض دور ہو جاتا ہے اور انتڑیوں کو جراثیم سے پاک و صاف بھی کر دیتا ہے۔
  • شیمپو کرنے کے بعد اکثر بال خشک ہو جاتے ہیں۔ اگر بال دھونے کے بعد بالوں کی جڑوں پر عرق گلاب لگا لیا جائے تو بال خشک نہیں ہونگے۔
  • برصغیرکے قدیم طبی ماہرین عرق گلاب کو آنکھوں کے لیے مفید بتاتے آئے ہیں۔ لیکن آج ماحولیاتی آلودگی کے زمانے میں اس کا استعمال ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ گردوغبار اور دھوئیں کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے آنکھوں میں خالص عرق گلاب کے چند قطرے ڈال لینے سے آنکھوں کی صفائی ہو جاتی ہے۔یہ آنکھوں کو صاف ستھرا رکھ کر جراثیم سے محفوظ کر دیتا ہے۔ آشوب چشم میں عرق گلاب کے چند قطرے ایک سستی اور موثر دوا ثابت ہوتے ہیں۔ یہ آنکھوں کا ایک ایسا محافظ ثابت ہوا ہے جس سے نا صرف بصارت تیز ہوتی ہے بلکہ آنکھوں میں چمک بھی پیدا ہوتی ہے۔ اور آنکھوں کا گدلا پن دور ہو جاتا ہے۔ کمپیوٹر پر کام کرنے والے افراد روزانہ عرق گلاب کے چند قطرے آنکھوں میں ڈال لیا کریں تو ان کی آنکھیں مضر اثرات سے بچ سکتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے آپ کی آنکھیں سوج گئی ہیں یا آپ تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں تو تو روئی کو عرق گلاب میں بھگو کر تھکاوٹ سے چور آنکھوں پر لگائیں۔اس عمل سے نہ صر ف سوجن اور تھکاوٹ سے راحت ملے گی بلکہ آنکھوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ عرق گلاب کا ایک اور زبردست فائدہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو ختم کرنا ہے۔ صرف ایک چمچ کھیرے کے جوس میں عرق گلاب ملائیں اور اس کے بعد روئی کو آمیزے میں بھگو کر سیاہ حلقوں پر نفاست سے لگائیں۔
  • عرق گلاب جلد کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور جلد کی نچلی تہوں میں پانی کی مقدار قائم رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ عرق گلاب سے روزانہ چہرہ دھویا جائے تو جلد ملائم، چمکدار اور صحت مند رہتی ہے۔ یہ پانی کے غیر معمولی اخراج کو بھی روکتا ہے۔ نہانے کے پانی میں چند قطرے عرق گلاب کے شامل کر لیے جائیں تو اس سے جلد معطر ہو جاتی ہے۔
  • عرق گلاب دل اور دماغ کے لیے ایک مقوی اور راحت آمیز دوا ہے۔ یہ کمزور دل اور دماغ کو توانا اور چست کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں ڈپریشن اور اعصابی دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ سکون آور اددیات کا استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے معمولات زندگی بالکل بدل کر رہ گئے ہیں۔ اگر عرق گلاب ، شہد اور اسپغول کو اپنی خوارک کا حصہ بنا لیا جائے تو ان تمام عوارض سے حفاظت ہو سکتی ہے۔ ذہنی و اعصابی دباؤ میں مبتلا لوگوں کے لیے یہ قدرتی اشیاء نسخہ کیمیاء ثابت ہوتی ہیں۔ یہ اعصاب کو مضبوط اور ذہن کو توانا بنا دیتی ہیں۔
  • تیس چالیس سال پہلے جب مصنوعی اورکیمیاوی کاسمیٹکس کا رجحان نہیں تھا، تو خواتین اپنے چہرے کی دلکشی کے لیے قدرتی اجزاء سے تیار کی ہوئی اشیاء ہی استعمال کرتی تھیں ، یوں ان کی صحت و تندرستی اور حسن و شادابی بالکل نوجوانوں کی طرح برقرار رہتی تھی۔ قدرتی اشیاء اور جڑی بوٹیوں کے استعمال سے ان کا چہرہ شفاف اور تروتازہ رہتا تھا۔ ایسی خواتین حسن زیبائش کے لیے اور خصوصاً جلدی امراض سے بچنے کے لیے عرق گلاب اور لیموں کا رس استعمال کیا کرتی تھیں۔ آج جدید طب نے بھی ان دونوں چیزوں کو دلکشی اور جلد کی صحت کا امین قرار دیا ہے۔
  • اطباء کا کہنا ہے کہ کان میں درد ہو تو عرق گلاب کے دو قطرے کان میں ڈالنے سے درد میں کمی ہو سکتی ہے۔ جبکہ ناک میں دو قطرے ڈالنے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے۔
  • عرق گلاب ایک خوشبو دار ، دوا، غذا اور مشروب ہے ۔ سخت گرمیوں میں دو چمچ شہد ایک گلاس پانی میں گھول کر اس میں چند قطرے عرق گلاب کے ملا لیے جائیں تو یہ ایک فرحت بخش مشروب بن جاتا ہے۔ اس سے بدن کی گرمی دور ہو جاتی ہے اور یہ گرمی کی شدت سے بھی بچاتا ہے۔ عرق گلاب کے چند قطرے مشروبات میں ملانے سے فرحت اور تازگی کا احساس ہوتا ہے مگر جب اسے میٹھے کھانوں خصوصاً کیک، پڈنگ، فرنی وغیرہ میں استعمال کیا جائے تو اس کا ذائقہ آپ کو ایک نئی لذت سے آشنا کر دے گا۔
  • عرق گلاب دانتوں اور منہ کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے نہایت سستی اور پر اثر دوا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر لوگوں کو مسوڑھوں کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔
  • عرق گلاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اگر اسے پیا جائے تو یہ بطور دو بھرپور اثرات رکھتا ہے اور معدہ کے تعفن اور قبض کو دور کرتا ہے۔ طبیعت کے بھاری پن اور بدہضمی کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے منہ میں پانی آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔ جبکہ اگر اسے دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض کے لیے استعمال کیا جائے تو ان کے کئی امراض خصوصاً دانتوں کا درد اور بدبو ختم کر کے رکھ دیتا ہے۔ عرق گلاب چند قطرے پانی میں ڈال کر کلیاں کی جائیں تو مسوڑھوں سے خون آنا بند ہو جاتا ہے۔

دنیا میں خوشبویات کے ذریعے علاج کا طریقہ نہایت مقبول ہورہا ہے۔ اس کیلئے اگرچہ مصنوعی خوشبویات بنائی جارہی ہیں مگر زیادہ تر قدرتی جڑی بوٹیوں اور پھولوں کے عرق حاصل کرکے خوشبویات بھی تیار ہورہی ہیں کیونکہ سائنس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جہاں دیگر ادویات ناکام ہو جاتی ہیں وہاں خوشبویات بطور دوا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرتی ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ خوشبو گلاب کے عرق سے حاصل کی جارہی ہے۔ امریکہ اور انگلینڈ سمیت دوسرے یورپی ممالک میں گلاب بطور پرفیوم استعمال کیا جارہا ہے جبکہ بطور دوا اس کے رجحان میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

نوٹ: عرق گلاب سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

خربوزہ موسم گرما کا ایک لذیز اور بکثرت استعمال ہونے والا پھل ہے۔ خربوزہ نہ صرف انسانی جسم کی نشوونما کے لئے ازحد ضروری ہے بلکہ یہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں بھی ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

آم کی طرح اس کی بھی متعدد اقسام ہیں۔ ہٹرپہ سے دریافت ہونے والے تصویری شاہکار اس حقیقت کا پتہ دیتے ہیں کہ ہزاروں سال سے خربوزہ انسانوں کے استعمال میں ہے۔ دنیا میں خربوزے کی عام کاشت بھی اسی خطے میں شروع ہوئی پھر اسے چین ، روس اور ایران میں کاشت کیا گیا۔ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ خربوزہ بھارت اور پاکستان میں پیدا ہوتا ہے۔

100 گرام خربوزے میں 21 حرارے، ایک گرام پروٹین ، پانچ گرام کاربوہائیڈریٹ، ایک گرام نشاستہ ہوتا ہے۔ خربوزے میں پانی، فاسفورس، کیلشیم ، پوٹاشیم، کیرے ٹن، تانبا، گلوکوز اور وٹامن اے، بی اور ڈی پائے جاتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی موجودگی سے خربوہ جسم کو نا صرف مضبوط بناتا ہے، بلکہ دھوپ کی تپش برداشت کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ خربوزہ استعمال کرنے کے فوائد کون کون سے ہیں۔ خوش ذائقہ اور جوسی خربوزے کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے۔ خربوزے سے متعلقہ احتیاطی تدابیر اور خربوزے کے نقصانات کون کون سے ہیں۔

خوش ذائقہ اور جوسی خربوزے کی پہچان کے طریقے

خربوزے کی مخصوص خوشبو بےحد خوشگوار ہوتی ہے۔ پکاہوا تازہ خربوزہ زیادہ تیز مہک رکھتا ہے۔جب بھی آپ خربوزہ خریدنے کے لیے جائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ پیلے رنگ کے ہموار قدرے چمکدار چھلکے پر مشتمل ہو۔ اس پر کوئی دھبہ نہ ہونہ ہی یہ کہیں سے پھٹا ہوا ہو۔

اس کے علاوہ اگر خربوزہ دیکھنے میں دبا ہوا یا کسی جگہ سے نرم محسوس ہو تو ایسا خربوزہ بھی نہیں خریدنا چاہیے۔ایسے خربوزے کا انتخاب کریں جو کہ ٹھوس محسوس ہو اور گہری پیلی رنگت رکھتا ہو ایسا خربوزہ خوش ذائقہ اور زیادہ جوسی ہوتا ہے۔

ایسے خربوزے جن کے چھلکے کا رنگ پیپر وائٹ ہو یا سبزی مائل سفید ہو وہ بد مزہ پھیکے اور کچے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں خریدنے سے اجتناب کریں۔ایسا خربوزہ جس کا چھلکا ہموار ہو اور مرجھایا ہوا محسوس نہ ہو وہ زیادہ بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

خربوزہ کھانے کے فوائد

خربوزے کو مختلف امراض کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خربوزے کا مغز، گودا، چھلکا مختلف دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزہ میں معدے ، آنتوں میں رکے ہوئے زہریلے فضلے خارج کرتا ہے۔ گردوں کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوا ہے اور مثانہ اور گردے کی پتھری کا موثر علاج بھی ہے۔
خربوزے میں گوشت بنانے والے روغنی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے اور جسم سے فاسد مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ یرقان، پتھری، بندش پیشاب جیسے امراض میں مفید ہے۔

خربوزہ کھانے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم کی بہتر نشونما ہوتی ہے۔ یہ خوش ذائقہ بھی ہے اور باعث تسکین بھی۔ ایک کلو خربوزے میں دو روٹیوں جتنی غذائیت ہوتی ہے۔ دل و دماغ کے لئے خربوزہ تقویت بخش ہے۔

خربوزے کا چھلکا، بیج سب کارآمد ہیں۔ گرمی میں بچوں کو کھلایا جائے تو ان کے پھوڑے پھنسیوں کو بھی آرام آتا ہے۔ پتھری کو بھی توڑتا ہے۔ خالی پیٹ خربوزہ نہ کھائیں۔ دو کھانوں کے بیچ میں خربوزہ کھانا چاہیے۔ خربوزے کھانے کے بعد پانی بالکل نہیں پینا چاہئے اس سے جسم پر اچھے اثرات نہیں ہوتے بلکہ ہیضہ ہو جاتا ہے۔

خربوزہ میں شامل ایک خاص جزو (اڈینوسائن) خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ چیز بعدازاں ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا اسٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔

معدے کے ورم کے لیے بھی خربوزہ بے حد مفید ہے۔ یرقان کے مرض میں خربوزہ بہت فائدہ دیتا ہے۔ چاروں مغز کے ساتھ خربوزے کے بیج کا حریرہ بنا کر دیسی گھی سے بھگار کر پینا عام کمزوری کے لیے مفید ہے۔ جدید تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے کہ خربوزہ نا صرف جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے بلکہ جسم کو فربہ کرتا ہے۔

1 دل و دماغ کی گرمی دور کرنے کے لیے

قدرتی طور پر گرمی میں جسم کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن ڈی صحت کیلئے مفید ہے۔ جسم کے پٹھوں اور رگوں کو توانائی دیتا ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاتا ہے۔ اس کے کھانے سے دل کو فرحت ہوتی ہے۔گرمی میں اسے ضرور کھائیں۔ تاکہ جسم کو بھرپور توانائی ہے۔

خربوزے کے بیج منقیٰ کے چند دانے ، کھیرے کے چند خشک بیج، مغز کدو کو ہم وزن ملا کر نہار منہ اس کا پانی پینے سے دل و دماغ کی گرمی دور ہو گی۔ طبیعت میں بھی تازگی برقرار رہے گی۔

2 کمزوری سے نجات

دل کی کمزوری ، معدے اور جگر کی کمزوری میں خربوزے کے بیج ،منقی، مغز، تخم خیاران، تخم کدو ہم وزن لے کر پیس لیں اور چھان کر ہلکی سی شکر ملا کر علی الصبح پی لیں ۔ اس سے آپ کو دل کی کمزوری، معدے اور جگر کی کمزوری میں خاطر خواہ فرق محسوس ہو گا۔

3 گردے کی تکلیف سے نجات

خربوزہ کا استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور گردے میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اور اگر خربوزہ کو لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ یورک ایسڈ جیسی تکلیف میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔ گردے کی شدید تکلیف سے نجات کے لیے خربوزے کے دو گرام خشک چھلکے، ایک پاؤ عرق گلاب میں جوش دے کر اسے چھان لیجیے اور اس میں تین گرام کالا نمک ملا کر مریض کو پلائیں۔

4 ماں کے دودھ میں اضافہ

گرمی کے اثرات زائل کرنے اور جسم کے بعض ضروری نمکیات کی کمی دور کرنے کے لیے خربوزے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ چونکہ خربوزہ ماؤں کے دودھ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے شیر خوار بچوں کی ماؤں کے لیے اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔

4 چہرے کے داغ دھبے اور خشکی سے نجات

اگر نقاہت کی وجہ سے چہرے کی دلکشی کم ہوگئی ہویا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہوں اور خون کی کمی بھی ہوتو کچھ عرصہ مستقل خربوزہ استعمال کرنے سے چہرے پر بشاشت آجاتی ہے اور دبلاپن دور ہو جاتاہے۔خربوزے کے گودے کا پیسٹ بنا کر چہرے پر ماسک کی طرح لگانے سے چند روز میں رنگت نکھرجاتی ہے۔

چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے خربوزے کے خشک چھلکے ، مونگ کی دال (یا بیسن)میں ہم وزن پیس کر دہی میں ملا کر اس کا پتلا لیب بنا کر داغوں پر لگانے سے داغ بھی غائب ہوں گے اور چہرے پر نکھار بھی آئے گا۔خربوزہ کھانے سے جلد کی خشکی دور اور رنگت نکھر جاتی ہے۔ پٹھوں کی قدرتی لچک برقرار رکھنے میں خربوزہ اہمیت کا حامل ہے، خربوزہ کھانے سے چستی آتی ہے۔

خربوزے کے بیج پچاس گرام پانی میں پیس کر چاولوں میں ملا کر پکایا جائے تو اس کے استعمال سے جسم میں نکھار آتا ہے، داغ بھی کم ہوتے ہیں اور نیند بھی بہت اچھی آتی ہے۔ چہرے کی شادابی میں نیند کاکردار کتنا اہم ہے اس سے تو ہم صرف واقف ہی ہیں۔

5 سینے کی جلن میں مفید

خربوزہ سینے کی جلن دور کرنے میں بے حد معاون ہے۔ اس میں موجود 90 فیصد پانی تسکین کا احساس دیتا ہے اس میں وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن سی کے علاوہ پروٹین، کیلشیم اور فاسفورس کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے۔

خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا چاہیے۔اور کوشش کرنی چاہیے کہ خالی پیٹ اس کا استعمال نہ کیا جائے۔

خربوزے کا ماسک

خربوزے کے بیج کا ماسک چہرے کے نکھار میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ماسک بنانے کے لیے خربوزے کے چھلے ہوئے بیج ایک چائے کا چمچ ، بادام دو عدد ، لیموں کا رس چھ قطرے اور بالائی والا دودھ چار چائے کے چمچ لیں۔

بیج اور بادام باریک پیس کر اس میں بالائی والا دودھ ملا لیں۔ اب اس میں لیموں کا رس ڈالیں، زیادہ گاڑھا ہو تو اس میں تھوڑا سا دودھ شامل کر کے چہرے پہ آہستہ آہستہ لگائیں اور دس سے پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد گیلی روئی سے صاف کر لیں، پھر ٹھنڈے برف کے پانی میں روئی بھگو کر چہرے پر لگائیں۔

احتیاطیں:

خربوزے کو تقریبا تین سے چار دن تک ریفریجریٹر میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن کاٹنے کے بعد خربوزے کو جتنی جلدی ممکن ہو کھا لینا چاہیے ورنہ فوڈپوائزننگ کاخدشہ ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ خربوزہ کھانے کے بعد فوراً پانی نہیں پینا چاہیے۔ نیزخربوزہ خریدنے کے بعد اسےتین سے چاردن کے اندر اندر استعمال کر لینا چاہیے۔

خربوزہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایک حد تک اگر زیادہ مقدار میں بھی کھا لیا جائے تو نقصان نہیں دیتا، تندرست معدے والے ایک سے دو گھنٹے میں خربوزہ ہضم کر لیتے ہیں لیکن ٹھنڈے مزاج کے ضعیف افراد تین سے چار گھنٹے میں ہضم کرتے ہیں۔

دو غذاؤں کے درمیان خربوزہ کھانا مفید ہوتا ہے، نہار منہ ہر گز نہیں کھانا چائیے۔ کچا خربوزہ مضر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے کھانے سے احتیاط کریں، خربوزے کا بکثرت استعمال بھی نقصان دہ ہے، خربوزے کے چھلکے سے ایک طرح کا نمک حاصل کیا جاتا ہے جو نمک خربوزہ کہلاتا ہے جو کئی فوائد کا حامل ہے۔

نوٹ: خربوزے سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

زیتون ایک ایسا درخت ہے جو چالیس برس کی عمر میں پھلتا ہے اور ہزار برس تک رہتا ہے۔ اس کے پھل بیضاوی اور بیر کی طرح کے ہوتے ہیں۔ زیتون کے پختہ پھلوں کو دبا کر نچوڑنے سے جو تیل نکلتا ہے اس کو روغن زیتون Olive Oil یعنی زیتون کا تیل کہا جاتا ہے۔ زیتون کے تیل کی قوت چار ہزار سال تک باقی رہتی ہے، یہ تیل جتنا پرانا ہوجائے اتنا بہتر ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ یہ ایک مبارک درخت ہےاور اس میں 70بیماریوں سےشفاء ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)۔ اسپین کی یہ کہاوت آج بھی ضرب المثل ہے کہ زیتون کا تیل تمام امراض کا علاج ہے۔

زیتون کا تیل وہ واحد تیل ہے جو نفوذ کر کے مالش کے ذریعے جسم میں جذب ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زیتون کا تیل بہت فائدے مند اور صحت بخش ہوتا ہے۔ زیتون آئل ایک بیوٹی پروڈکٹ کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ یہ جس طرح ہمارے جسم کو اندرونی طور پر فائدہ پہنچاتا ہے، بالکل اسی طرح بیرونی طور پر بھی ہمارے جسم کیلئے مفید ہے۔

زیتون کے تیل میں کئی اقسام کے اینٹی آکساڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔  یہ فیٹس کی بناوٹ کے لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ اس میں اومیگا 9فیٹ بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اومیگا 3، اومیگا6فیٹی ایسڈزاور وٹامن EاورKبھی اس میں پائے جاتے ہے۔ زیتون کا تیل قدرتی طور پر کولیسٹرول اور گلوٹین سے پاک ہوتا ہے۔

اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ زیتون کے تیل کے فوائد کیا ہیں۔ زیتون کے تیل سے علاج کیسے ممکن ہے۔ زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

زتیون کے تیل کے فوائد

زیتون سے علاج

زیتون کا تیل پٹھوں کی سردی دور کرتا ہے، ان کو طاقت دے کر اعضاء کو قوت بخشتا ہے، بالوں کو جھڑنے اور سفیدی آنے سے روکتا ہے۔ زیتون کے تیل کی مالش سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ جاتی ہے۔ زیتون کے تیل سے لاتعداد فوائد حاصل ہوتے ہیں، یہاں پر ہم زیتون کے تیل سے علاج کرنے کے چیدہ چیدہ فوائد کی مکمل تفصیل آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات

اگر کسی وجہ سے ہڈیوں میں درد رہتا ہو تو زیتون کے تیل کی مالش سے آرام محسوس ہوتا ہے، ایسے افراد جن کی ٹانگوں میں درد رہتا ہو یا ہاتھ پاؤں میں کڑل پڑتے ہوں وہ روغن زیتون نمک ملے نیم گرم پانی میں جلا کر ٹکور کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔

روغن زیتون (زیتون کے تیل) کی مالش سے نہ صرف پٹھے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اعضاء کو تقویت ملتی ہے۔ روغن زیتون (زیتون کا تیل )جلد بڑھاپے کو روکتا ہے ہے پیدائشی کمزور بچوں کو روغن زیتون پلانا ان کی ہڈیاں مضبوط کرتا ہے اور اچھی صحت کی ضمانت ہے۔

زیتون کا تیل کولیسٹرول کم رکھتا ہے

زیتون کا تیل جسم میں لو ڈینسٹی لائیپو پروٹین (ایل ڈی ایل) جس سے خون کی نالیاں سکڑ سکتی ہیں ، کو کم رکھتا ہے۔ جسم میں ایل ڈی ایل کی زیادتی سے امراض قلب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی زیتون کا تیل جسم میں ہائی ڈینسٹی لائپو پروٹین ایچ ڈی ایل کو بڑھاتا ہے۔ جسم میں ایچ ڈی ایل کی زیادہ مقدار خون جمنے سے روکتی ہے جو کہ دل کے دورے کی ایک اہم وجہ ہے۔

جلد کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

زیتون کا تیل جِلد کیلئے بہت مفید ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خشک جِلد والی خواتین کیلئے پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ ایسی خواتین کو چاہئے کہ وہ زیتون کا تیل لے کر چہرے کا مساج کریں۔ ہلکے ہلکے ہاتھوں سے کیا جانے والا مساج جِلد کو آرام پہنچاتا ہے اور جِلد کی خشکی بھی دور کرتا ہے۔ زیتون کا تیل جِلد کیلئے قدرتی علاج ہے، جس سے جِلد صحت مند اور خوب صورت ہوجاتی ہے۔ آزما کر دیکھ لیں، زیتون آئل آرائش کیلئے بہترین ہے۔

زیتون کے تیل سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے

ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے مریض زیتون کے تیل کے مستقل استعمال سے بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے لی جانے والی دواؤ ں کی مقدار کم کرسکتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود اولک ایسڈ جسم میں جلدی جذب ہو جاتا ہے اس لیے یہ بلڈ پریشر کم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے استعمال سے دل بھی جوان رہتا ہے۔

ایسے خواتین و حضرات جو ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار ہیں وہ ایک بڑا چمچ زیتون کا تیل لیں اس میں دو چمچ اسپغول ڈالیں اور اچھی طرح ملا کر استعمال کریں۔ زیتون آئل اور اسپغول کو دن میں تین مرتبہ استعمال کریں کچھ ہی دنوں میں شفاء یاب ہو جائیں گے۔

زیتون کا تیل کیل مہاسوں سے نجات دلاتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ زیتون کے تیل کو جس طریقے سے چہرے پر استعمال کرکے کیل مہاسوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے وہ عجیب لگے مگر بیشتر ماہرین اس کی تصدیق کرتے یں۔ چار چائے کے چمچ نمک کو تین چائے کے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر ایک پیسٹ سا بنالیں۔

اب اس مکسچر کو اپنے ہاتھوں اور انگلیوں پر انڈیل لیں اور چہرے پر پھیرنا شروع کردیں۔ ایک یا دو منٹ تک ایسا کریں اور پھر نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس طریقے کو ایک ہفتے تک روزانہ آزمائیں اور پھر اس کو ہفتے میں دو سے تین بار تک محدود کردیں۔ آپ کو جلد اپنے چہرے پر نمایاں بہتری نظر آئے گی۔

زیتون کا تیل ذیابیطس سے بچاتا ہے

ذیابیطس کے علاج کے لیے زیتون کا تیل مفید ہے۔ اس سے خون میں شوگر کا لیول کنٹرول میں رہتا ہے اور انسولین کی حساسیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دو ہزار گیارہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق متوازن غذا اور زیتون کے تیل کا استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات کو پچاس فی صد تک کم کردیتا ہے۔

ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کے لیے اپنی خوراک میں روزآنہ دو بڑے چمچ زیتون کے تیل کے استعمال کریں۔

آنتوں کی سوزش دور کرنے کے لیے

ٹائیفائیڈ کے مریض جو کہ صحت یاب ہوجاتے ہیں اکثر انہیں بعد ازاں آنتوں کی سوزش کا اثر رہتا ہے جو پرانی ہوکر نظام ہضم کو خراب کرتی ہے اور قبض کا باعث بنتی ہے۔ ان کے لئے روغن زیتون کا استعمال بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ بواسیر کے مسوں کی سوزش اور درد کو بھی فائد ہ ہوتاہے۔

زیتون کا تیل شیونگ کریم کا متبادل ہے

اگر شیونگ کریم ختم ہوجائے تو صابن کو استعمال کرکے وقت ضائع نہ کریں کیونکہ اس سے جلد سخت ہوجاتی ہے، اس کے مقابلے میں زیتون کا تیل شیونگ کریم کا اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ نہ صرف چہرے پر بلیڈ کو چلانا آسان بناتا ہے بلکہ جلد کو نمی بھی بخشتا ہے۔ ہوسکتا ہے اس کو آزما کر آپ شیونگ کریم کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں۔

آنکھوں کے سیاہ حلقوں اور ہونٹوں کی سیاہی کا علاج

ہونٹوں کی سیاہ رنگت اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس بات کی علامت ہیں کہ آپ کے جسم میں آئرن اور وٹامن بی کی کمی ہو گئی ہے۔ غسل کرنے یا ہاتھ دھونے کے بعد زیتون کا تیل لگائیں۔ زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انگلی کے ذریعے ہونٹوں پر مساج کیجئے۔ اور زیتون کا تیل آنکھوں کے حلقوں کے گرد لگائیں اور انگلی سے مساج کریں۔


یہ عمل کم از کم پندرہ بیس دن جاری رکھیں آنکھوں کے حلقے دور ہو جائیں گے۔ کچھ عورتوں کے ہونٹ لپ اسٹک لگانے کے بعد انتہائی خشک ہو جاتے ہیں اور چھلکے اترنے لگتے ہیں۔ ایسے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانے سے پہلے ہلکا سا روغن زیتون (زیتون کا تیل)لگائیں پھر لپ اسٹک لگائیں تو خشکی کا احساس نہ ہوگا۔

خشک بالوں کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

اگر آپ کے بال بہت خشک رہتےہیں تو بالوں میں زیتون کے تیل کی زیادہ مقدار لگا کر دیر تک بالوں میں کنگھا کریں، تاکہ تیل بالوں میں خوب جذب ہوجائے۔ اب بالوں کو اچھی طرح لپیٹ کر پکڑا باندھ لیں یا کیپ پہن لیں۔ آدے گھنٹے تک اسی حالت میں آرام کریں۔ اس دوران تیل اپنا اثر دکھائے گا اور بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے گا۔ اب کسی معیاری شیمپو سے بالوں کو اچھی طرح دھولیں۔

زیتون کے تیل کا استعمال

آپ محسوس کریں گی کہ تیل نے آپ کے بالوں کو خوب ملائم اور چمکدار بنادیا ہے اور ان میں اس قدر لچک آگئی ہے کہ آپ نہ صرف بالوں کو آسانی سے سنوار سکتی ہیں، بلکہ انہیں جو بھی انداز دینا چاہیں، دے سکتی ہیں۔

زیتون کا تیل ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے

زیتون کے تیل کے استعمال سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور ان کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے خون میں کیلثیم کی مقدار متوازن رہتی ہے۔ خون میں موجود کیلشیم ہڈیوں کے لیے معدنیات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آسٹیوپوروسس سے بچاؤ کے لیے بھی زیتون کے تیل کا استعمال بے حد مفید ہے۔

زیتون کے تیل سے چکنے ہاتھوں کی صفائی ہو جاتی ہے

اگر ہاتھوں میں گاڑی کی گریس یا پینٹ لگ جائے تو ایک چائے کا چمچ زیتون کا تیل اور ایک چائے کا چمچ نمک یا چینی اپنے ہاتھوں پر انڈل لیں۔
اس مکسچر کو مضبوطی سے ہاتھوں پر کئی منٹ تک رگڑیں پھر صابن اور پانی سے دھولیں۔ نہ صرف آپ کے ہاتھ چکنائی سے پاک ہوجائیں گے بلکہ نرم بھی ہوجائیں گے۔

سر میں خشکی (خشک کھوپڑی) کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال

اگر آپ کی کھوپڑی خشک رہتی ہے تو زیتون کے تیل سے دیر تک اس کی مالش کریں اوراگر آپ کے سر میں خشکی رہنے لگی ہو تو رات کو سوتے وقت زیتون کا تیل خوب اچھی طرح سر میں لگالیں، تاکہ تیل کھوپڑی میں جذب ہو جائے۔
اس طرح بھوسی کی پپڑیاں اچھی طرح پھول کر جِلد سے الگ ہونے کیلئے تیار ہوجائیں گی۔ صبح نیم گرم پانی سے سر دھولیں، اس طرح خشکی دور ہوجائے گی۔ یہ عمل ہفتے میں کم از کم دو تین بار ضرور کریں تاکہ خشکی کا مکمل خاتمہ ہوجائے۔

زیتون کا تیل جسم سے سوجن دور کرتا ہے

زیتون کے تیل سے جسم میں سوجن نہیں بنتی جس کے باعث اس سے ہونے والی بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، الزائمرز، گٹھیا، کینسر اور امراض قلب شامل ہیں۔دوہزار پانچ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق زیتون میں ایک ایسا اینٹی انفلیمیٹری ایجنٹ موجود ہوتا ہے جس سے جسم میں کے کسی حصے میں سوجن نہیں ہوتی۔

زیتون کے تیل کے ذریعے گھریلو چیزوں کی پالش کرنا

اپنے لکڑی کے فرنیچر کی چمک دمک بحال کرنے کے لیے ایک محلول تیار کریں جس میں دو حصے زیتون کا تیل اور ایک حصہ لیموں کا عرق یا سفید سرکہ ہو، جسے ایک اسپرے بوتل میں ڈال کر اچھی طرح ہلائیں اور پھر فرنیچر پر اسپرے کریں اور ایک یا دو منٹ تک مکسچر اس پر لگا رہنے دیں، اس کے بعد کسی صاف کپڑے یا تولیے سے صاف کرلیں۔
زیتون کے تیل کی کچھ مقدار کپڑے پر لگا کر لیدر، اسٹین لیس اسٹیل کی مصنوعات کو پالش کیا جاسکتا ہے، جو بالکل نئے کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور اس سے آپ کچن سنک کو بھی جگمگا سکتے ہیں۔ گندے چمچ کو صحیح طرح صاف کرنا مشکل ہوتا ہے، تو ایسے چمچ کو زیتون کے تیل میں ڈبو دیں، اس پر جم جانے والی اشیاءخود ہٹ جائیں گی

۔ شیشے کے برتنوں پر لگے اسٹیکر ہٹانا چاہتے ہیں تو زیتون کے تیل کو کسی کپڑے پر لگاکر رگڑیں وہ بہت جلد ہٹ جائے گا۔

زیتون کے تیل لہسن اور دارچینی کے کمالات

زیتون کے تیل کے جہاں بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے استعمال سے نہ صرف عضو خاص بڑا اور موٹا ہوتا ہے، بلکہ اس کی لمبائی میں بھی فرق پڑ تا ہے۔عضو تناسل کی بہتری کے لیے زیتون کا تیل لے کر اس کے ہم وزن لہسن اور چوتھائی دار چینی ڈال کراتنا گرم کریں کہ لہسن جل کر کوئلہ ہو جائے تو اس کو چھان لیں اور اپنے پاس رکھ لیں۔
ایک ماہ تک روزانہ رات کو اس تیل سے بیس منٹ تک اپنے نفس کی اچھی طرح مالش کریں۔ اور صبح اٹھ کر گرم پانی سے دھو لیں۔ ٹھنڈے پانی سے ہرگز نہ دھوئیں۔ یاد رکھیں اس عمل کے دوران روزانہ صبح اٹھ کر ورزش ضرور کریں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لہسن کی ایک گٹھی لے کر اس کی پوتھیوں کو چھیل کر کوٹ لیں اور کسی باریک کپڑے میں ڈال کر پوٹلی بنا لیں۔ اس پوٹلی کو کسی چھوٹی دیگچی میں ڈال کر اتنا زیتون کا تیل ڈالیں کہ یہ پوٹلی تیل میں ڈوب جائے۔ اب اس دیگچی کو دھیمی آنچ پر گرم ہونے کے لیے رکھ دیں۔

جب تیل کڑکڑانے لگے اور لہسن جل کر سیاہ ہو جائے تو تیل کو آگ سے اتار کر چھان لیں اور کسی شیشی میں محفوظ کر لیں۔ اس تیل کے متواتر ایک ہفتہ کے استعمال سے عضو خاص اسٹیل کی راڈ کی طرح سخت ہو جائے گا۔

زیتون کا تیل بطور کنڈیشنر

زیتون کا تیل اگر درست طریقے سے استعمال کریں تو یہ بہترین کنڈیشنر ثابت ہوسکتاہے۔ اس کے لگانے کا طریقِ کار بالکل سادہ ہے، مگر فوائد بے شمار ہیں۔ زیتوں کے تیل کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ بالوں کو نہ صرف صحت بخشتا ہے، بلکہ ان میں قدرتی چمک پیدا کر کے انہیں جاذب نظر بھی بناتا ہے۔
زیتون کا تیل سکون بخش بھی ہے۔ یہ ان کریموں اور لوشنوں کے کیمیائی اجزا کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، جو بالوں کو سیدھا کرنے یا رنگوانے کیلئے بالوں میں لگائے جاتے ہیں اور بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

زیتون کا تیل کینسر سے محفوظ رکھتا ہے

چند اقسام کے کینسر سے بچاؤ کے لیے زیتون کااستعمال فائدے مند ہے۔ زیتون کے تیل میں موجود پولی فینلزاینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات رکھتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خون کے خلیات کو بھی کام کرنے میں مدد دیتے ہیں جس سے کینسر کے خطرات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔

زیتون کے تیل سے بالوں پر لگے پینٹ کو مٹانا

اگر تو کسی وجہ سے گھر میں یا کمرے میں رنگ کرتے ہوئے پینٹ آپ کے بالوں میں لگ جائے تو اس سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم اگر آپ زیتون کے تیل سے روئی کی کچھ مقدار کو بھگو کر نرمی سے اپنے بالوں پر پھیریں تو یہ کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔
یہی چیز آنکھوں کے گرد مسکارا صاف کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے مگر یہاں روئی کی جگہ کسی ٹشو کا استعمال کرنا ہوگا۔

زیتون کا تیل اور مردانہ کمزوری

مردانہ کمزوری کے شکار افراد کے لیے روغن زیتون (زیتون کا تیل) اور شہد اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مردانہ طاقت میں کمی کی شکایت کرنے والے حضرات اگر ان دونوں چیزوں کا استعمال با قاعدگی کے ساتھ کریں تو ان کی مردانہ طاقت یعنی قوت باہ میں اضافہ ہو گا۔ مردانہ کمزوری جاتی رہے گی۔
اس مقصد کے لیے صبح و شام چار چمچ شہد ایک کپ بکری کے دودھ میں گھول کر پی لیں جب کہ دوپہر کے وقت بکرے کے کپورے روغن زیتون میں پکا کر مناسب مقدار میں کھائیں۔ چند دنوں کے بعد ہی جسم میں اس کا اثر محسوس ہو گا۔ اور مردانہ طاقت کی کمزوری کی شکایت ختم ہو جائے گی۔
چند ماہ کے مسلسل اور باقاعدہ استعمال سے کبھی دوبارہ مردانہ کمزوری نہیں ہو گی۔ سردیوں کے موسم بہتر نتائج کے لیے زیتون کے تیل سے نفس کی مالش بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کھردرے ، بے رونق اور الجھے بالوں کا علاج

برسات کے موسم میں بال الجھے الجھے سے رہتے ہیں۔ سردی شروع ہوتے ہیں بال کھردرے ہوجاتے ہیں۔ اگر بال پہلے سے ہی خشک اور بے رونق ہیں تو برسات اور سردی کے موسم میں یہ مزید خشک اور بے رونق ہوجاتے ہیں۔ بالوں کو نرم و ملائم اور چمکدار رکھنے کیلئے ہمیشہ زیتون کے تیل کی مالش کریں۔ زیتون کا تیل بالوں کیلئے بہترین غذا اور دوا ہے۔
سردیوں کے شروع ہوتے ہیں بالوں میں زیتون کے تیل کی مالش شروع کردیں۔اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے مالش کریں اور صبح نیم گرم پانی سے بال دھولیں ، بالوں کے سروں، یعنی بالوں کی نوکوں پر زیادہ توجہ دیں۔
مالش کرنے کے بعد بالوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیں یا تو لیہ لپیٹ لیں، تاکہ تیل کی حرارت برقرار رہے،پونے گھنٹے بعد بالوں کو کسی اچھے شیمپو سے دھولیں۔ آپ کے بال صاف ستھرے، نرم و ملائم اور چمک دار ہوجائیں گے۔

زیتون کا تیل بطور میک اپ ریموور

زیتون کا تیل قدرتی میک اپ ریموور کی طرح کام کرتا ہے، یہ وائپس کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند اور جلد کے لیے بہتر ہوتا ہے، خاص طورپر آئی میک اپ کو ہٹانے کے لیے بہترین ہے۔

 زیتون کے تیل سے چھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ

آنکھوں کے نیچے جو جھریاں ہوتی ہیں انہیں باقاعدہ زیتون کے تیل کے مساج اور موسچر ائزنگ سے کم کیا جاسکتا ہے۔ جلد سے خارج ہونے والی چکنائی کو اگر چہرے سے صاف نہ کیا جائے تو وہ سخت ہو کر سفید دانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس سے نجات پانے کے لئے زیتون کے تیل کا فیس ماسک بہت مفید ہے۔
چہرے کی جلد وہ آئینہ ہے جس میں عمر کے نشان بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اپنے چہرے کو دھوپ سے بچائیں اور چہرے پر زیتون کے تیل کا مساج کریں۔ عام طور پر خشک جلد کے پھٹنے سے ہونٹ کے اوپر لکیریں نمودار ہوتی ہیں اس تکلیف سے بچاؤ کے لئے ہونٹوں پر اکثر زیتون کا تیل لگایا کریں۔ اگر چہرے پر باقاعدگی سے زیتون کے تیل کا مساج کیا جائے تو چھائیاں بھی دور ہو جاتی ہیں۔

زیتون کے تیل کی مدد سے پرانی گیند کو نیا کرنا

اگر تو آپ کرکٹ کے پرستار ہیں اور اپنی پرانی ہارڈ بال کو دراڑوں سے محفوظ اور اس کے چمڑے کو سخت رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی نئی زندگی کے لیے ہر کچھ عرصے بعد زیتون کے تیل کو استعمال کریں۔ بس زیتون کے تیل کو کسی نرم کپڑے کے ساتھ گیند کے خشک حصوں پر پھیریں اور پھر اسے تیس منٹ تک چھوڑ دیں اور پھر صاف کپڑے سے صاف کرلیں۔

زیتون کا تیل استعمال کرنے کا طریقہ

زیتون کا تیل انسانی صحت کیلئےتبھی مفید ہوتا ہے جب آپ اس کے صحیح استعمال سے واقف ہوں گے۔ ہمارے ہاں زیتون کے تیل کے شوقین لوگ عام طور پر یہ غلطی کر رہے ہیں کہ اس میں چیزیں نہ صرف بلند درجہ حرارت پر پکائی جاتی ہیں بلکہ فرائی بھی کی جاتی ہیں جو کہ بالکل غلط اور سخت مضر صحت کام ہے۔
زیتون کے تیل کو سلاد اور دیگر کھانے کی اشیاءپر چھڑکا جا سکتا ہے اور اگر اسے پکانے کیلئے استعمال کرنا ہو تو نہایت کم درجہ حرارت پر ہی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔زیتون کے تیل کو کبھی بھی زیادہ درجہ حرارت پر گرم نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں انتہائی نقصان دہ مرکبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ زیتون کے تیل کو زیادہ گرم کرنا بھی مناسب نہیں۔

نوٹ: زیتون کے تیل سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

ہماری زبان کے چٹخاروں نے ہمیں کبھی بھی  کسی چیز کے نفع،نقصان سے متعلق سوچنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔اگر زہر بھی چٹخارے دار ہوتا توہم لوگ شاید اس کو بھی کھانے سے پیچھے نہ ہٹتے۔ ہماری حالت  یہ ہے کہ جہاں بچہ ذراکھانے کے قابل ہوا،وہیں  ہم اس کے منہ میں مرچوں کے سالن ٹھونسنا شروع کر دیتے ہیں۔
شروع شروع میں تو بچہ منہ بنا کر اپنی نفرت کا اظہار کرتا ہے لیکن ہم  ہیں کہ اس کی نفرت کو نظر انداز کر تے ہوئے اسے مرچیں کھانے کا عادی بنا کر چھوڑتے ہیں۔ پاکستان اور  ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک یورپ، امریکہ، افریقہ، عرب، شام، ترکی وغیرہ میں کہیں بھی لال مرچ نہیں کھائی جاتی۔
پٹھان جیسی اکھڑ اور تندخو قوم بھی اس کے استعمال سے گریز کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں حالت یہ  ہے کہ کھانے غذائیت سے بھرپور ہو نہ ہو، چٹخارے دار ضرورہونا چاہیے۔اس سلسلہ میں نہ تو  ہمیں اپنی صحت و تتدرستی کا خیال ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے بیوی بچوں کی صحت و  تندرستی کا۔
اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ لال مرچ کھانے کے فوائد، نقصانات اور مضر اثرات کیا ہیں۔ لال مرچوں کی اہمیت و افادیت کیا ہے؟ خالص سرخ مرچ کی پہچان کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ لال مرچ سے علاج کیسے ممکن ہے۔

لال مرچوں کی افادیت و اہمیت

اللہ تعالیٰ نے  پوری کائنات میں کوئی چیز ایسی تخلیق نہیں کی۔جو صرف مضر اثرات  ہی رکھتی ہو۔کیسی ہی نقصان دہ اور مضرصحت چیز کیوں نہ ہو۔ اپنے اندر کچھ نہ کچھ افادیت کا عنصر ضرور رکھتی ہے۔ لال مرچوں کے لاکھ نقصانات سہی لیکن اس کے فوائد سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

تیز مرچ سے بہتانزلہ اور بند ناک کھل جاتی ہے۔مرچ میں فولاد‘ فاسفورس‘ پروٹین‘ حیاتین الف اور بے موجود ہیں‘ نیز وٹامن سی کی بہتات ہے۔ موسمی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اکیلی مرچ ہی کافی ہے۔

لال مرچ کے مضر اثرات

مرچوں کے مضر صحت اثرات سب سے پہلے غذا کی اس نالی پر پڑتے ہیں جو منہ سے شروع ہو کر مقعد تک جاتی  ہے۔ جب ہم کوئی ایسی چیز کھاتے ہیں جس میں مرچیں زیادہ اور تیز ہوں تو سب سے پہلے اس تیزی اور جھنجھناہٹ کا اثر ہماری زبان پر محسوس ہوتا ہے۔

گو یا قدرت کے بنائے ہوئے جسمانی نظام کے مطابق ہمیں مطلع کیا جاتا ہے کہ ہم کوئی ایسی چیز کھا رہے ہیں جس سے ہماری صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے لیکن ہم اس کی قطعی پرواہ نہیں کرتے۔

منہ بری طرح جل رہا ہوتا ہے، ناک بہہ رہی ہے، آنکھوں سے پانی جا ری ہوتا ہے، سی سی کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر کیا مجال ہے کہ پیچھے ہٹیں۔ جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کیا جا رہا ہے۔ایسے میں نوبت نزلہ، زکام اور کھانسی کی بیماریوں  تک جا پہنچتی ہے ۔پھر یہ بیماریاں زندگی بھر ساتھ نہیں چھوڑتی۔

جب یہ لال مرچیں معدے سے گزر کر آنتوں میں پہنچتی ہیں تو وہاں بھی اپنے اثرات د کھائے بغیر نہیں رہتیں۔ غذائی نالی کے آخری حصے میں وہی سوزش اور جلن ہوتی ہے جس نے کھانے کے وقت زبان، منہ اور حلق کو جھلسایا تھا۔ جب مرچوں کی تیزی اور گرمی خون میں جذب ہو جاتی ہے۔

اور مرچوں سے متاثر شدہ یہی خون جگر پر اثرا انداز ہو کر اسے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے مثانہ،جگر، گردہ، اور پاخانہ تک مرچوں کے اثرات سے ماﺅف ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں پنجاب اور  ہندوستان میں دہلی اور یوپی میں بہت زیادہ لال مرچیں کھائی جاتی ہیں۔ اور اس کے نتیجہ کے طور پر کوئی بواسیر میں مبتلا ہے، کسی کو نزلہ اور زکام نے گھیرا ہوا ہے کوئی رقت و سرعت کا شکار ہے، اور کسی پر اسہال و پیچش جیسے امراض نے تسلط جمارکھا ہے۔

کینسر سے بچاؤ

حالیہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ لال مرچ میں کینسر سے لڑنے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ خاص طور پر انسانی جسم میں لبلبہ کے کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ پروٹیسٹ کینسر کو روکتی ہے اور اگر یہ لاحق ہو تو اسے پھیلنے سے روکتی ہے۔لال مرچ میں جو تیزی ہوتی ہے۔ وہ اس میں موجود ایک کیمیائی مرکب کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا کیمیائی نام کیپسائسن (Capsaicin) ہے۔

ماہرین نے اس مرکب کے تجربات سے پتہ چلایا ہے کہ پروٹیسٹ کینسر کے خلیوں کی نشونما روکتا ہے۔اس طرح کینسر سے متاثر جانوروں کی خوراک میں لال مرچ شامل کی گئی تو اس سے ان کے ٹیومر (رسولیاں) جسامت میں کم ہو گئیں۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ Capsaicin مرکب خلیوں کے توانیہ جو خلیوں کے سانس لینے کے مراکز ہوتے ہیں، ان پر حملہ کر کے خلیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت مند خلیوں پر حملہ نہیں کرتا۔ کیونکہ صحت مند خلیوں کی کیمیائی ساخت کینسر زدہ خلیوں کی کیمیائی ساخت سے مختلف ہوتی ہے۔

مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ لال مرچ میں وٹامن سی اور وٹامن اے بھی پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن جسم میں قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ مقدار میں جو وٹامن بی اور ای بھی ہوتے ہیں۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ مرچوں کی تیزی ممالیہ میں جس طرح محسوس ہوتی ہے۔ اور کھانے کے دوران منہ جلتا ہے۔ ویسا پرندوں میں نہیں ہوتا۔ وہ بڑے مزے سے مرچیاں کھا جاتے ہیں۔ اور مرچیوں کے بیج اپنے فضلے کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ جس سے مرچوں کے نئے پودے معرض وجود میں آتے ہیں۔

لال مرچ میں پوٹاشیم، میگنیشم اور لوہا خاصی مقدار میں اور کچھ مقدار میں سوڈیم بھی پایا جاتا ہے۔ خوراک میں لال مرچ کے استعمال سے معدے کے اندر کاربوہائیڈریٹ (نشاستہ) کو اس کے اجزاء میں بننے میں مدد ملتی ہے۔

لال مرچ کے فوائد

لال مرچ کا استعمال موٹاپے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ یہ حراروں کے علاوہ چکنائی کو بھی جلانے میں کام آتی ہے۔ مرچیں جسم میں جاکر معدے کو بھر دیتی ہیں اور ایسے اعصاب کو سرگرم کردیتی ہیں جو جسم کو کہتے ہیں کہ بہت کھالیا اور زیادہ کھانا ممکن نہیں ہے۔

لال مرچ ذیابیطس میں بھی مفید پائی گئی ہے۔ اس کے باقاعدہ استعمال سے انسولین کی پیدوار میں 55 فیصد بہتری آتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ جوڑوں کے درد کو بھی کسی حد تک کم کرتی ہے۔ کیونکہ اس کا استعمال سوزش کو رفع کرتا ہے اور سانس کے حصے میں جمع مواد کو پتلا کر کے نکالتا ہے۔لال مرچ معدے کی قوت ہضم کو ابھارتی اور بھوک لگاتی ہے۔ اسے سالن میں حسب ذائقہ ہی ڈالنا چاہیے۔

مرچ کی ساری تیزی اس کے بیجوں میں ہوتی ہے۔ مرچ جتنی چھوٹی ہو اتنی ہی تیز ہوگی۔ اس کے بیجوں میں Capsaicinنامی مادہ ہوتا ہے۔ یہ کیمیائی مادہ جوڑوں اور گھٹنوں کے درد کیلئے انتہائی مفید ہے۔ اسی طرح یہ مادہ خون بھی پتلا رکھتا ہے۔

اس نقطہ نگاہ سے یہ دل کے مریضوں کیلئے بے حد مفید ہے۔خون پتلا رہے تو لوتھڑے (Clot) نہیں بنتے دوران خون ٹھیک رہتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ مسوڑھوں اور دانتوں کے امراض میں بھی مرچ خوب کام دیتی ہے‘ آنکھ کے لیے بھی مفید ہے۔

سرخ مرچ پیٹ میں درد گیس اور مروڑ سے محفوظ رکھتی ہے ۔ یہ تھوک اور معدے میں کھانا ہضم کرنے والے مادوں کا اخراج بڑھا دیتی ہے جو کھانا جلد ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سرخ مرچ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے اور فبرن کو حل کرکے خون میں پھٹکیاں بننے سے روکتی ہے۔

لال مرچ کے نقصانات

لال مرچ کے زیادہ استعمال سے پیٹ کے کینسر کا اندیشہ ہے۔لال مرچ کے بیج اور اس کے مرکزی حصہ میں موجود مغر بہت زیادہ تیزی رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کو کھانے سے بچنا چاہیے۔ اس کی زائد مقدار معدے میں سوزش اور جلن پیدا کرتی ہے۔

جس سے معدہ کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے دانشمندی اس میں ہے کہ لال مرچ کا استعمال نہایت اعتدال کے ساتھ کیا جائے۔ بلند فشارِ خون کے مریضوں کو سرخ مرچ کم کھانی چاہیے کیونکہ اسے کھانے سے فشار خون بڑھ جاتا ہے۔

ہرچیز کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ زیادہ مقدار میں لال مرچ کھانے سے بواسیر نیز خون کی خرابی ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار تو جگر میں گرمی نقصان دہ حد تک بڑھ جاتی ہے اس لیے زیادہ لال مرچ نہیں کھانی چاہیے۔

خالص لال مرچ کی پہچان

آج کل کے دور میں خالص چیزیں ڈھونڈنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ ملاوٹ عام ہو گئی اس صورت میں چیزوں کے خالص ہونے میں کافی شک وشہبات پائے جاتے ہیں ۔لال مرچ کو جانچنے کیلئے کہ آیا یہ اصلی ہے یا اس میں ملاوٹ کی گئی ہے۔

لال مرچ کو پانی میں ڈالیں اور اگر تو پانی میں ڈالنے سے اس کا رنگ تبدیل ہو جائے یعنی پانی اسکا رنگ پکڑ لے تو اس کا مطلب ہے اس میں ملاوٹ کی گئی ہے جوکہ اینٹوں کا مصالحہ یا کچھ اور  بھی ہو سکتا ہے ۔

نوٹ: لال مرچوں سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget