کالم لسٹ "کچن گارڈننگ"


گملوں میں پودے لگانے سے پہلے ہمیں چند اہم چیزوں کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔

:زمین اور گملے میں فرق 

گملوں میں پودے لگانے کا عمل زمین میں پودے لگانے سے مختلف نہیں، اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال یکسر مختلف ہے۔ لیکن چونکہ زمین میں پودے کا رابطہ اور تعلق جڑوں کے ذریعے ارد گرد کی زمین اور ماحول سے ہوتا ہے اسلئے بہت دفعہ اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے جیسے پانی کا وقت پہ نہ دینا یا کھاد نہ ڈالنا وغیرہ تو پودے ارد گرد کی زمین سے یہ اجزا حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی کارکردگی پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑتا لیکن جب ہم گملوں میں پودے اگاتے ہیں تو گملے میں چونکہ وسائل اور حالات محدود ہوتے ہیں اسلئے ہمیں بہت ساری باتوں کا دھیان خود رکھنا پڑتا ہے۔ جیسے پودے لگاتے وقت گملے میں موجود مٹی کی کیمیائی ساخت و ترکیب، پانی اور کھاد کی بروقت فراہمی، پودے کو دھوپ کی مناسب فراہمی اور موسمی اثرات سے بچانے کا زیادہ اہتمام شامل ہیں۔

kitchen gardening in pakistan urdu ​

:مٹی کی تیاری

اکثر پودے ایسی مٹی میں زیادہ بہتر اگتے ہیں جس میں سے پانی آسانی سے اور تھوڑی دیر میں بہہ جائے اور وہ نمی بھی پکڑے رھے، تاکہ جڑوں کو پانی کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں آکسیجن بھی ملتی رہے۔ ایسی مٹی عموماً مختلف اجزا ملا کر بنائی جاسکتی ہے جن میں سلٹ (رسُوبی مٹی یا بالو مٹی، وہ مٹی جو دریا یا کینال سے نکالی جائے)، ریت اور آرگینک (نباتاتی) اجزا شامل ہوں جیسے کمپوسٹ (گلی سڑی گوبر یا سبزیان اور پتے)۔ یہ تینوں اجزا تقریباً برابر ڈالنے چاہئیں۔ اگر فقط ریت اور کمپوسٹ ملائیں تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ریت کی جگہ اینٹوں کا برادہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر پودوں کیلئے مٹی کی کیمیائی ساخت کا ہلکا تیزابی ہونا بھی ضروری ہے۔


:پودوں کی تیاری

پودوں کو دو مرحلوں میں لگانا چاہئے۔
بیج سے پودے اگانا اور پودوں کی منتقلی (ٹرانسپلانٹیشن)۔
یہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ کچھ پودے جیسے پودینہ، تلسی، لیمن گراس اور اسی طرح کے دیگر پودے ٹہنیاں بونے سے نہایت بہتر انداز میں اگتے ہیں۔ لہسن، مرچ، ٹماٹر، بینگن، پیاز اور دیگر کئی قسم کے پودے ٹرانسپلانٹ کرنے سے زیادہ بہتر اگتے اور پھل دیتے ہیں۔ جبکہ بھینڈی، آلو، دھنیا، پالک، کھیرا، گاجر، مولی، شلجم، تربوز، خربوز اور مٹر، اور دیگر قسم کے بین، بیج لگانے سے بہتر اگتے ہیں اور اگر انہیں ٹرانسپلانٹ کیا جائے تو ان کی کارکردگی پہ برا اثر پڑتا ہے۔ پالک، میتھی اور اس قسم کی دیگر ہری سبزیاں گملوں کے بجائے ٹرے میں لگانی چاہئیں۔ آلو  اور ادرک کی آنکھ یا کونپلیں جوکہ ثابت آلو اور ادرک پہ اگتی ہیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔ 


:بیج سے پودے اگانا

بیج کو چھوٹے برتنوں میں اگانا چاہیے جیسے پلاسٹک کے چھوٹے کپ یا گلاس، آدھے لٹر کی کٹی ہوئی پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلیں یا دیگر کسی قسم کے پلاسٹک کے کپ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ بیج کیلئے مٹی اوپر بتائے ہوئے طریقے سے تیار کرنی چاہئے۔ بیج کے گملوں کو گھر کے اندر گرم اور مرطوب جگہ جہاں چند گھنٹے دھوپ آتی ہو یا مناسب روشنی ہو رکھنا چاہئے۔ چھوٹے اور نازک پودوں کو موسمی اثرات جیسے  ٹھنڈ اور تیز دھوپ سے بچانا چاہئے۔ بیج کو بوائی کے وقت سے 3 سے 4 ہفتے پہلے لگانا چاہئے تاکہ بوائی کا موسم آنے تک آپ کے پودے ٹرانسپلانٹ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اکثر سبزیاں موسم بہار اور کچھ موسم سرما آنے سے پہلے بوئی جاتی ہیں لہٰذا ان کے بیج کی تیاری موسم سرما کے آخر اور خزاں کے آنے سے چند ہفتے پہلے شروع کردینی چاہئے۔


:پودوں کو کھلے ماحول کیلئے تیار کرنا

جب موسم بہتر ہونے لگے تو چھوٹے پودوں کو تھوڑی دیر کیلئے باہر رکھنا چاہئے تاکہ وہ باہر کے موسم کو برداشت کرنے کے قابل بن سکیں۔ شروع میں انہیں آدھے گھنٹے پھر ایک گھنٹے، پھر دو گھنٹے اور پھر آہستہ آہستہ زیادہ وقت کیلئے باہر رکھنا چاہئے۔ اسطرح جب آپ انہیں گملوں میں منتقل کریں گے تو وہ پہلے ہی اس ماحول کے عادی ہو چکے ہونگے۔ پودوں کو  کم از کم 5 سے 6 گھنٹے دھوپ دستیاب ہونی چاہئے۔


:(گملے میں منتقلی (ٹرانسپلانٹیشن


جب بیج سے اگائے ہوئے پودے مناسب سائیز کے ہوجائیں تو پودوں کو گملوں میں منتقل (ٹرانسپلانٹ) کرنا چاہئے۔ گملے میں پودے منتقل کرنے کے بعد انہیں خوب پانی دینا چاہئے یہاں تک کہ پانی گملے کے سوراخ سے نکلنے لگے۔ پودے گملون میں منتقل کرنے کے بعد گملوں کو ایک دو دن کیلئے نیم سائے میں رکھنا چاہئے۔ اگر آپ نے مٹی میں پہلے کھاد نہیں ڈالی تو پودے منتقل کرنے کے بعد کھاد ڈالنی چاہئے تاکہ پودے کو مناسب مقدار میں خورا ک مہیا ہو۔


:گملوں کا سائیز

گملے چھوٹے یا بڑے ہوسکتے ہیں اور اس کا زیادہ دارومدار پودوں کی قسم پر ہے۔ لیکن عمومی سائیز 2 سے 5 گیلن مناسب ہوتی ہے۔ اگر پھلدار سبزیاں جیسے ٹماٹر، مرچ، بھینڈی، کھیرا بینگن، گوبھی اور آلو  وغیرہ لگانے ہیں تو کم از کم 5 گیلن (ایک عام بالٹی کے سائیز) کا گملا منتخب کرنا چاہئے۔ گملے کے پیندے میں مناسب سوراخ کرنا چاہئے تاکہ اضافی پانی آسانی سے خارج ہوجائے۔ پانچ گیلن کی بالٹی میں ایک سے دو مربع انچ کا سوراخ کرنا چاہئے۔ گملے میں مٹی بھرنے سے پہلے سوراخ کے اوپر گھاس پھوس یا ایسی رکاوٹ ڈالنی چاہئے تاکہ مٹی نہ نکل سکے تاہم پانی آسانی سے نکل جائے۔


:کھاد کا استعمال

گملوں میں پودوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے اور برقرار رکھنے کیلئے کھاد کا استعمال بہت ضروری ہے۔  گملوں میں پودوں کو آرگینک یا مصنوئی دونوں قسم کی کھاد دی جاسکتی ہے۔ تاہم مصنوعی یا زرعی کھاد کے نتائج فوری آنے لگتے ہیں جبکہ آرگینک کھاد جیسے گوبر یا کمپوسٹ ذرا آہستہ رنگ دکھاتی ہے، لیکن آرگینک کھاد کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے پودے کو ہمہ قسم کی کھاد میسر ہوتی ہے جس میں دونوں میکرو اور مائکرو اقسام کے نیوٹریئینٹ (غذائی اجزا) دستیاب ہوتے ہیں۔ مصنوعی کھاد میں میکرو نیوٹریئینٹ جیسے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم زیادہ مقدار میں شامل ہوتے ہیں جبکہ چند مائرو نیوٹریئینٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ شروع میں پودے کو ایسی کھاد ڈالنی چاہئے جس میں زیادہ نائٹروجن شامل ہو جیسے یوریا یا امونیم سلفیٹ جب پودوں میں پھل لگنے لگیں تو انہیں زیادہ فاسفورس اور زیادہ پوٹاشیم اور کم نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے۔ گملوں میں ٹماٹر عموماً اینڈ راٹ غذائی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں ٹماٹر کا نیچے والا حصہ کالا یا سرمئی ہوجا تا ہے اور اس کی شکل کسی زخم کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئے کیلشیم استعمال کرنا چاہئے۔ کیلشیم کیلئے انڈے کے چھلکے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں تاہم ان کا زیادہ استعمال پی ایچ کو بڑھا سکتا ہے۔

:بروقت ہارویسٹ

پودوں پہ پھل پکنے کے بعد انہیں جلد از جلد کاٹنا چاہئیے تاکہ ان پر دوسرے پھل اگ سکیں۔

:پودوں کی صحت کی دیکھ بھال

​پودوں کی دیکھ بھال گھریلو باغبانی کے لئے بہت اہم ہے۔ اور اسکا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ پانی دیتے وقت پودوں کا بغور معائنہ کرنا چاہئے۔ اسطرح آپ بیماریوں کا بروقت ممکنہ تدارک کرسکتے ہیں۔ اگر بیماری کے کوئی آثار نظر آئیں تو ان کا فوری علاج کیا جانا چاہئیے۔ پودوں کو عموماً سب سے زیادہ خطرہ رینگنے والے کیڑوں اور مختلف قسم کی مکھیوں سے ہوتا ہے لہٰذا انہیں بروقت بھگانا چاہئے یا پکڑ کر تلف کردیں۔ بیماری کی صورت میں گھریلو نسخے جیسے نیم کا عرق، مرچوں اور لہسن کا اسپرے وغیرہ کا استعمال کیا ۔ جاسکتا ہے۔ اگر حشرات کا سامنا ہو تو انہیں پانی کے تیز اسپرے سے بھگانا چاہئے۔ رینگنے والے کیڑوں کو ہاتھ سے پکڑ کر تلف کردینا چاہئے۔

kitchen gardening in pakistan urdu ​

ماہنامہ فارمنگ ریولوشن کی ٹیم ساجد اقبال سندھو صاحب کی تہہ دل سے مشکور ہے جن کی تکنیکی راہنمائی کا فائدہ فارمنگ ریولوشن کے فورم کی وساطت سے ہزاروں فارمرز کو ہو رہا ہے۔ ساجد صاحب کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز فیصل آباد یونیورسٹی سے کیا اورا کئی سال شعبہ تدریس سے وابستہ رہے ۔تبدیلی پر یقین رکھنے والے ساجد صاحب کے لیے زیادہ دیر ایسے ماحول میں کام کرنا دشوار تھا جہاںقابل لوگوں کی صلاحیتیںکچھ مفاد پرست لوگوں کی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہی تھیں۔مثبت تبدیلی کے خواہش مند سندھو صاحب نے اپنی قابلیت کو عملی شکل دی۔اور پاکستان میں تین ایکڑ زمین پر ٹنل فارمنگ کا آغاز (گرین سرکل ) فورم کے نام سے 2000,1999 میںکیا اس وقت ان کے ساتھ کچھ اور بھی شامل تھے ۔اب پاکستان میںبڑے رقبے پر کامیاب ٹنل فارمنگ کی جا رہی ہے ۔
ٹنل فارمنگ مفید کیسے ہے اور اس سے ہمارا ہر فارمر مستفید ہوں اس چیز کو ذہن میں رکھ کر ہم ساجد اقبال سندھو صاحب کو زحمت دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں ٹنل فارمنگ سے تفصیلی آگاہ کریں۔
٭سوال۔زراعت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
٭سب سے پہلی بات یہ ہے کہ زراعت کا شعبہ کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتا ہے ۔اور ہمارے یہاں یہ ریڑھ کی ہڈی دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے اس بات کو صحافی اور ماہرین جانتے ہیں کہ یہ ریڑھ کی ہڈی کیسے کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے ۔ہماری فی ایکڑ آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے ۔ہماری فصلیں پیچھے کی طرف جا رہی ہیں ہمارا پانی کم ہوتا جا رہا ہے ۔1947کے بعد ہمارے پاس جتنا پانی تھا وہ آدھا رہ چکا ہے ۔آبادی جو اس وقت ڈیڑھ یا دو کروڑ تھی اب بڑھ کر اٹھارہ سے بیس کروڑ پر جا چکی ہے۔آبادی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ۔اگر نئی قسمیںاور نئی پیدوار میسر نہ ہوتی تو ہمارے آدھے لوگ اس وقت فاقہ کشی کا شکار ہوتے اس کا حوالہ آپ کو Green Revolutionسے مل جائے گا ۔جو ساٹھ کی دھائی میںمتعارف ہوا تھا ۔یہ ای بور لاگ اگر Green Revolutionیا سبز انقلاب نہ لے کر آتا تو دنیا کی آدھی آبادی فاقوں سے یا کم خوراک کی وجہ سے بھوکوں مرنے پر مجبور ہوتی ۔ان سب چیزوں سے قطع نظر ہم لوگ جو Green Circleسے وابستہ ہیںہم نے اپنی کاوش کا آغاز 2000,1999میں کیا ۔جب میں طالب علم تھا تو فیلڈ میں میرے پاس تین چار راستے تھے کہ ہم کسی بھی ایک شعبے کو اپنا لیں۔جس میں کاٹن انڈسٹری بھی ہو سکتی تھی ۔live Stock بھی ہو سکتا تھا ۔اس میں پولٹری بھی ہو سکتی تھی۔میں نے ان سب شعبوں کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ان کے اپنے معاشرے پر اور معیشت پر اثرات دیکھے اس کے بعد میرا انتحاب سبزیوں کی کاشت تھی ۔
٭ سوال۔ سبزبوں کی کاشت کا انتخاب کرنے کی وجہ کیا تھی ؟
٭پوری دنیا میں ہر چیز اُدھار پر مل بھی جاتی ہے ۔یا اس کے اُدھار پر ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔جیسے کہ آپ کے گھروں میں آنے والا دودھ جس کے پیسے ایک ماہ کے بعد دینا ہوتے ہیں ۔آپ کو اخبار اُدھار مل جاتا ہے ۔آپ کو اپنے گھر کا روز مرہ کا سودا سلف اُدھار مل جاتا ہے ۔لیکن کبھی سبزی اُدھار نہیں ہوتی ہے ۔تو پاکستان کی معیشت جو پہلے ہی اُدھار پر ہے لوگ ایک دوسرے کے پیسے مارنے کی فکر میں ہیں ۔تو فارمر کو اپنی پیداوار آڑتی کے پاس فرخت کرنے کے بعد اپنے حق حلال کے پیسے وصول کرنے کے لیے تین چار ماہ بلکہ سال سال بھر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ ۔خاص طور پر شوگر ملوں کے لیے تو لوگ عام طور پر سال سال ڈیڑھ ڈیڑھ سال ذلیل ہو تے ہیں ۔اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے میری زیادہ دلچسپی سبزی کی جانب تھی ۔عام عقلمند آدمی کا انتخاب بھی فارمنگ میں سبزیاں ہی ہوں گی ۔کیونکہ اس میں فارمر کو اچھے پیسے ملتے ہیں اور جیسے ہی فارمر اپنی پیداوار کو فروخت کرتا ہے اس کے پاس پیسے آ جاتے ہیں ۔یہ میرا ٹنل فارمنگ کی جانب آنے کا پس منظر تھا۔ 1999 , 2000میں ہم نے ٹنل فارمنگ کا آغاز کیا۔
٭ سوال ۔ٹنل فارمنگ ہے کیا ؟
٭ٹنل فارمنگ کی وضاحت اگر ہم انگریزی میں کریں ۔جو وضاحت پوری دنیا میں سمجھی جاتی ہے ۔سبزیات کی بے موسمی کاشت۔اور اس کو تکنیکی طور پر بیان کریں تو یہ کہا جائے گا کہ فورس کر کے سبزیات کو اُگانا ۔اگر وہ گرمی کی سبزی ہے تو اس کو سردی میں اُگانا ۔ اور اگر سردی کی سبزی ہے تو اس کو گرمی میں اُگانا عام طور پر لوگ اس بات میں دلچسپی لیتے ہیں کہ جو چیز ان کو پسند ہے مثلا اگر کسی کو آم پسند ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ سارا سال مجھے آم کا ذائقہ ملتا رہے اگر آم نہیں بھی ملے گا تو وہ آم کے ذائقے کی آئس کریم کھانا پسند کرئے گا ۔وہ اس کا ملک شیک پینا پسند کرئے گا ۔اور اگر اس کا تازہ آم ملے تو کیا بات ہے جس شخص کو بھنڈی پسند ہے وہ چاہتا ہے کہ سارا سال بھنڈی کھائے اور ہر ہفتے کم از کم ایک با ر تو اس کے گھر میں بھنڈی پکے ۔جس کو کدو پسند ہے وہ کدو کھا نا چاہے گا ۔اور جو کریلے کا شوقین ہے وہ چاہے گا کہ سارا سال اس کے گھر میں کریلا پکتا رہے ۔پھلوں کو محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔لیکن سبزیوں کو اور خاص طور پر سبز رنگ کی سبزیوں کو لمبے عرصے تک کے لیے محفوظ نہیں کیا جا سکتا ۔اگر ان کو محفوظ کے لیا جاے تو یہ کینسر کا باعث ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسی محفوظ سبزیوں میں زہر پیدا ہو جاتا ہے ۔اس لیے تازہ سبزی ہی کھانی چاہیے اور اس صورتحال میں اگربے موسمی سبزیاں پیدا کر لی جائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ قیمت میں بک سکیں گی ۔
٭یہاں ایک سوال ہے کہ اس فارمنگ کے ذریعے بے موسمی سبزیاں اُگائی جاتی ہیں تو کیا ٹنل فارمنگ کے ذریعے موسمی سبزیوں کی پیداوار بھی بڑھائی جا سکتی ہے ؟
٭جی اس بات کا جواب میں یوں دوں گا کہ ہم فارمر کو اس حوالے سے دو جانب لے کر جاتے ہیں ایک تو بے موسمی سبزیوں کی کاشت اور دوسرا کم سے کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ پیداوار لینا اب یہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کیسے ہوتی ہے یہ افقی کاشت کے ذریعے ممکن ہے ۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی کئی منزلہ عمارت ہے ۔اگر آپ کا زمین پر گھر پانچ مرلے ہے جب اس کی دوسری منزل بناتے ہیں تو دس مرلے ۔اس کی تیسری منزل بناتے ہیں تو پندرہ مرلے اور اس سے اوپر بیس مرلے ہو جاتی ہے ۔ہم ہوا کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کورڈ ایریا بڑھاتے ہیں ۔اسی طرح اگر سبزی کو ہم زمین پر رکھ دیتے ہیں تو ایک ایکڑ سے ایک ایکڑ کی پیداوار لیں گے ۔لیکن اگر ہم سبزی کی بڑھوتری میں افقی طریقہ اختیار کرتے ہیں تو دو فٹ پر دو ایکڑ زمین کی پیداوارلیں گے ۔تین فٹ پر تین ایکڑ کی چار فٹ پر چار ایکڑ کی کی پیداوار لیں گے ۔اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایکڑ زمین سے تین یا چار ایکڑ زمین کے برابر پیداوار لے سکتے ہیں ایک تو اس کا یہ فائدہ ہے ۔دوسرا وہ بے موسمی ہو گئی اس کی قیمت زیادہ ملے گی آپ نے دیکھا ہو گا جب کوئی نئی سبزی آتی ہے جیسے ابھی کریلا آئے گا ۔تو وہ دو سو روپے بکے گا ۔جب بھنڈی آئے گی تو وہ ایک سو ساٹھ ستر میں بکے گی ۔یا جب نیا ٹماٹر آئے گا تو وہ مہنگا بکے گا ۔تو ہماری یہ ہی کوشش تھی کہ فارمر کو زیادہ سے زیادہ اپنی پیداوار کی قیمت مل سکے ۔جس کے دو تین فائدے ہیں جو ہماری کمپنی کے کتابچے میں بھی درج ہیں کہ ٹنل فارمنگ کے فوائد کیا ہیں ایک تو جلدی کاشت ، دوسر ی زیادہ پیداوار ہے ۔پھر ملکی ضروریات کو پورا کرنا ہے اور زرِمبادلہ کو بچانا ہے ۔تاکہ ہمیں دوسرے ملکوں سے سبزی خریدنے کے لیے کم سے کم پیسہ خرچ کرنا پڑے۔اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ گورنمنٹ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا فارمر اس سال ٹماٹر نہیں لگا سکا ۔اس سال واہگہ باڈر سے 400ٹرک ہر روز پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں ۔اور پچھلے دو مہینے سے ہر روز اتنے ٹرک آ رہے ہیں ۔اور اگر ہر ٹرک تین لاکھ کا بھی ہے تو ہم ہر روز بارہ کروڑ روپے ٹماٹر کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں ۔جو کہ بہت زیادہ ہے ۔اور (گرین سرکل )ٹنل فارمنگ کے ذریعے اس فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
٭کیا یہ فارمنگ کا جدید طریقہ ہے ؟
٭ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ فارمنگ کا کوئی جدید طریقہ ہے کیونکہ یہ طریقہ کاشت صدیوں سے چلا آ رہا ہے ۔اس کو رومن بھی کرتے تھے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے پاس وہ آلات موجود نہیں تھے جو آج ہمارے پاس موجود ہیں اس وقت اس کو چٹانوں کی آڑ میں لگاتے تھے ۔پتھروں کے پیچھے لگا کر سبزیوں کو کورے سے بچانے کی کوشش کرتے تھے ۔گرمی سے بچانے کے لیے اس پر کپڑے بھی ڈالتے تھے ۔درختوں کی چھاؤں کے نیچے بھی لگاتے تھے ۔
٭سوال۔ٹنل فارمنگ کے ذریعے کیا ہماری سبزی کی اتنی پیدوار ہو سکتی ہے کہ اس کو ہم برآمد کریں۔اور کیا سبزیوں کو یورپی ملکوں میں بھیجنا آسان ہے ؟
٭پاکستان کی جغرافیائی صورت کچھ ایسی ہے کہ ہمارے ملک میں بیک وقت چاروں موسم رہتے ہیں ۔اگر ہم کسی ملک کو کریلا سپلائی کر رہے ہیں تو ان کی خواہش ہو گی کہ ہم ان کو بارہ مہینے کریلا سپلائی کریں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم بارہ مہینے کریلا پیدا کر سکتے ہیں۔تو اس کا جواب مثبت ہے کیونکہ ہم ایک علاقے سے پیداوار لیں گے جب وہاں موسم تبدیل ہو جائے گا تو اگلے علاقے سے پیدوار ملے گی اور یوںشمال سے جنوب تک ٹنل فارمنگ کے ذریعے یہ سبزی سارا سال پیدا کی جا سکتی ہے۔
٭سوال ۔ کیا اس کاشت سے اتنا زرِ مبادلہ مل سکتا ہے ؟
٭زرِ مبادلہ کا اندازہ یوں ہو گا کہ پاکستان میں کریلا اگر 100روپے میں بکتا ہے ۔تو یورپ میں اس کی قیمت فی کلو 12سے15 یورو ہے ۔اور فی کلو برآمد کا خرچ ایک یورو ہو گا ۔تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ باہر کی منڈی میں 100روپے میں کاشت ہونے والا کریلا 1500سے 2000روپے میں فروخت ہو گا ۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹنل فارمنگ کے ذریعے اس کی نہ صرف پیداوار بڑھائی جاے بلکہ اس کو سارا سال پیدا کیا جائے۔
٭آپ نے ٹنل فارمنگ کا آغاز کیسے کیا؟
٭ہم نے ٹنل فارمنگ کا آغاز ایسے کیا کہ سبزی نقد کا سودا ہے اس وقت زمنیندار آڑھتی سے تنگ ہیں ۔آڑھتی تو سبزیوں کی خرید و فروخت میں بھی ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کو نقد کے پیسے مل جاتے ہیں ۔اگر گنے کو ملیں خریدنے سے انکار کر دیں ۔گندم کا امدادی ریٹ ملنا بند ہو جائے کپاس کا گورنمنٹ ریٹ اناونس نہ کرئے تو شاید زمیندار کو یہ سب لوگ مل کر کھا جائیں ۔زمیندار کو یہ ایک روپیہ بھی نہ دیں ۔یا یہ کوشش کریں کہ پول کر کے ان سے سستے ترین داموں چیزیں اٹھا لی جائیں ۔کیونکہ صنعت کار تو پول کر سکتا ہے زمیندار پول نہیں کر سکتا ۔اب یہ ساری چیزیں دیکھتے ہوئے جو مجھے چیز نظر آئی کہ سبزی بہترین کاروبار ہے ۔سبزی پھل اور چکن یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو نقد میں بکتی ہیں ۔میں جس بھی میٹنگ میں گیا میں نے لوگوں کو اس بات پر مائل کیا کہ آپ سبزیوں کی کاشت کریں ۔کیونکہ سبزی آپ کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین ہے ۔کہ آپ کو نقد اور موقع پر پیسے مل جاتے ہیں چاہے تھوڑے کم مل جائیں ۔لیکن آپ کو مل جاتے ہیں ۔آپ کے پیسے رکتے نہیں ہیں ۔زراعت میں سبزی سے زیادہ منافع بخش چیز اور کوئی نہیں ہے ۔آپ پیاز لگاتے ہیں آپ لہسن اور ادرک کاشت کرتے ہیں۔ان تمام فصلوں سے منافع ہے ۔ جبکہ گندم ایک ہزار روپے میں من ملتی ہے ۔اور بعض صورتوں میں ٹماٹر سو روپے یا اس سے زیادہ میں ایک کلو ملتا ہے ۔یہ بہت بڑا فرق ہے اور ٹماٹر آج کل بھی ساٹھ ستر پر گیا ہوا ہے ۔
٭یہاں ایک سوال ہے کہ پاکستان میں گندم ،چاول ،گنا اور کپاس بہت بڑے رقبے میں کاشت ہو رہی ہے ۔کیا اس سارے رقبے پر سبزیاں کاشت کی جا سکتی ہیں ؟
٭جی بالکل ہو سکتی ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے ۔کہ ہماری سبزیوں کی اتنی کھپت بھی ہو ۔ابھی ہماری لوکل ٖ ضرورت کے لیے جتنی سبزی پیدا کی جا رہی ہے وہ کافی ہے ۔ہمیں گورنمنٹ اور اس کے ادارے رسائی فراہم نہیں کر رہے ہیں اگر وہ ہمیں یورپ تک سبزیوں کی فراہمی کی رسائی دے دیں ٹیکس اٹھا دیں اور صرف ہماری پالیسیوں کو نرم کر دیں ۔تو اتنا بڑا سیکٹر کھل جائے گا جو ہماری سوچ سے بھی باہر ہے ۔ہم جتنے پیسوں کا باہر سے پیٹرول اور چیزیں درآمد کرتے ہیں ان سے کئی گنا میں (دوبارہ زور دوں گا) کہ کئی گنا زیادہ سبزیاں فراہم کریں گی۔
٭اچھا یہ بتائیے کہ ان پالیسیوں کو کون نرم کرئے گا ؟
٭اس کا فیصلہ بالکل ایسے ہی ہونا ہے جیسے یک دم بیٹھے بیٹھے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ انڈیا ہر ٹریڈ میںہماری سب سے بہترین کاروباری ساتھی ہو گا۔اسی طرح یورپی یونین فیصلہ کرئے یا ہماری گورنمنٹ یہ فیصلہ کر لے کہ ہم نے یورپی یونین کو جو سبزیاں سپلائی کرنی ہیں ۔اس میں ہم ہر جگہ فارمر کو سہولت دیں گے اس کے لیے گورنمنٹ گارگو پلین دے گی یا کارگو کے ریٹ بہت کم کر دے گی 
٭ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فارمر سے گورنمنٹ خریدے گی ۔
٭ بالکل نہیں( بالکل بھی نہیں )گورنمنٹ اتنا بڑا کام کر ہی نہیں سکتی گورنمنٹ آج یہ اعلان کر دے کہ فارمر اپنی سبزیات یورپ برآمد کر سکتا ہے ۔اور اس پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا ۔برآمدی ڈیوٹی وہ نہیں ادا کرئے گا ۔تو ریٹ آپ کو فیئر پرائس پر لگیں گے ۔ابھی آپ کو معلوم ہے اس کی کیا قیمت لی جا رہی ہے ۔ابھی صرف لندن تک فی کلو کے حساب سے کل کی قیمت 112/-روپے تھی ۔اب اگر یہ ہی کام سعودی حکومت اپنے فارمر کے ساتھ کر رہی ہے ۔یا دوبئی سے لوگ کر رہے ہیں ۔تو ان کا ریٹ حیران کن طور پر صرف بائیس روپے فی کلو ہے اور ہمارے ملک میں 112/- روپے ہے تو ہم تو مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔
بنگلہ دیش بھی 35/-روپے فی کلو کے حساب سے ریٹ دے رہا ہے ۔تو ہم 112/-روپے کے ریٹ کے حساب سے کیسے مقابلہ کریں گے ۔اس وقت یورپ میں کوئی بھی سبزی چار یا پانچ یورو فی کلو سے کم میں نہیں بک رہی ہے اور پانچ یورو کا مطلب پانچ چھ سو روپیہ ہے ۔تو چھ ساڑھے چھ کلو ہمارے زمیندار کو سبزی کا ریٹ مل جائے تو وہ باقی سارے کام چھوڑ دے ۔
٭گویا ہمیں باقی فصلوں سے ہٹ کے صرف اس پر کام کرنا چاہیے 
٭اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ غیر ملکی زر مبادلہ سے ہمارے ملک میں پیسہ آئے گا اور جو ہم خسارے میں جا رہے ہیں ۔ہمیں ہر وقت ڈالر اور پیسوں کی ضرورت ہے ۔وہ پیسہ آئے گا تو ملک خوشحال ہو گا ۔اور دوسری اور خاص وجہ جو خاص طور پر نمایاں کرنے کے قابل ہے ۔گندم ہماری بنیادی خوراک ہے جو پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے ۔دنیا کا سب سے فرسودہ اور سب سے تھکا ہوا اور سب سے گھٹیا ذریعہ پیٹ بھرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے وہ گندم ہے چونکہ ہم استعمال کر رہے ہیں اس وجہ سے یہ اعلی نہیں ہو گیا ہے ۔گندم کی وجہ سے ہی بابا آدم کو بھی جنت سے نکالا گیا تھا ۔تو یہ تو اسلامی طور پر بھی اس کو کھانا ناجائز ہے ۔تو یہ اسٹیپل فوڈ میں دنیا میں سے نیچے کی سطح پر آتی ہے ۔ساڑھے پانچ ماہ کی محنت کے بعد آپ فی ایکڑ 21سے 22من گندم فی ایکڑ سے پیدوار ملتی ہے اور اچھے دنوں میں 24من فی ایکڑ تک مل جاتی ہے ۔یہ ساڑھے پانچ مہینے کے بعد حاصل ہونے والی گندم ہے ۔اس کے مقابلے میں اگر ہم کدو لگاتے ہیں ۔تو ایک ایکڑ سے ایک ہفتے میں 70سے80من فی ایکڑگیلے کدو کی پیداوار ہوتی ہے ۔اور اگر ہم اس کو خشک صورت میں تبدیل کریں تو یہ 40من فی ایکڑ پیداوار دیتا ہے ۔تو گویا ایک مہینے میں 160من فی ایکڑ کے حساب سے کدو سے ملے گا ۔اور اگر اس خشک کدو کو آٹے میں تبدیل کر کے گندم کے ساتھ ملا کر روٹی پکائی جائے یا مکئی کے ساتھ تو اس سے ایک بہترین کھانا تیار ہو سکے گا ۔اسی طرح سے دوسری فصلیں ہیں دنیا اس وقت نئی سے نئی سبزیات اگانا چاہتی ہے ہم لوگ صدیوں سے لکیر کے فقیر ہیں ۔ایک بہت اہم نقطہ یہ ہے کہ جس خطے میں ہم رہ رہے ہیں ۔ذہنی طور پر ایک محکوم اور غلام طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ بہت سخت اور چبھنے والے الفاظ ہیں لیکن آج تک اس خطے کی یہ خاصیت رہی ہے ۔کہ باہر سے آکر کر لوگوں نے ہم پر حکومت کی ہے لیکن ہم نے کبھی حملہ نہیں کیا ۔محمد بن قاسم سے لے کر راجہ داہر تک اور راجہ داہر سے لے کر پٹھان حکمرانوں اور مغلوں تک صرف رنجیت سنگھ یہاں کا باسی تھا باقی تمام لوگوں نے باہر سے آ کر ہم پر حکومت کی ہے ۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو شخص بھی ہمارے اوپر حکومت کرنے آتا تھا وہ ہمارا محبوب ہو جاتا تھا ۔لیکن مزید خوفناک بات یہ ہے کہ آج بھی آزاد ہونے کے باوجود ہم آزادی نہیں لے رہے ہیں وہ ایسے کہ ہم اپنی زبان میں کوئی چیز خریدنا اور بیچنا پسند نہیں کرتے ہیں ۔مثلا اگر بازار میں ایک شمپو سر اور کندھے کے نام سے بکنا شروع ہو تو ہم کبھی نہیں خریدیں گے لیکن Head & shoulderکے نام سے ہو تو ہم ضرور خریدیں گے یہ ذہنی طور پر محکوم ہونے کی ایک بہت بڑی نشانی ہے ۔خیر یہ تو ضمنی طور پر بات آ گئی ۔تو دنیا نج کراپس پر کیسے جا رہی ہے ۔ونیلا فارمنگ ہے ونیلا کی کراپس ایک ایکڑ پر فارمر کو ١یک کروڑ بیس لاکھ یا ایک کروڑ پچاس لاکھ فی ایکڑ کی آمدنی ہے ۔ہماری گورنمنٹ یا ہمارے سائنسدانوں کے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں ہے کہ وہ اس چیز پر ریسرچ کریں ۔ادویات والے پودے ہیں ۔مثلا مجھے پچھلے دنوں میں خود بھی کھانے کا اتفاق ہوا۔ملک تھسل Milk thistleنام کی ایک جڑی بوٹی ہے ۔ اس میں خدا تعالی نے ایسی خوبی رکھی ہے ۔کہ جو جگر کو چاہے اس کے جتنے بھی برے حالات ہوںاس کو یہ پور طور پر ٹھیک کر دیتی ہے ۔اسی طرح پاکستان میں بھی جگر کے لیے دو اور ادویات ہیں اگرچہ ان سے فائدہ نہیں لیا گیا ۔ایک گاجر ہے اور دوسرا گنا ہے ۔لیکن ہم نے آج تک اپنی اس چیز کو کیش کروانے کی کوشش نہیں کی۔تو ملک تھسل اگر دنیا میں اگر مانی جاتی ہے تو یہ ہمارے ہاں کیوں نہیں کاشت ہو سکتی ۔ہم اس کو لگا سکتے ہیں ہم اس سے پیسے کما سکتے ہیں ۔اس طرح بے شمار ادویاتی پودے ایسے ہیں جو لاکھوں نہیں کروڑوں روپے دے سکتے ہیں ۔لیکن ہم اس کو کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں 
٭آپ کی ساری تجاویز بے حد مفید ہیں لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ فارمر کی سوچ کیسے بدلی جائے ۔
٭میں اپنے بارے میں تو یہ بتاؤں گا کہ ہم رونے والوں میں سے نہیں ہیں جو بیٹھ کے روتے رہتے ہیں کہ گورنمنٹ یہ کرئے گورنمنٹ وہ کرئے گورنمنٹ اگر ہمیں ایک گلی پکی کروا کر نہیں دے سکتی تو ہم اپنے چلنے کا ٹریک تو پکا کر سکتے ہیں میں نے اسی سوچ کو لے کر آگے بڑھتے ہوئے پاکستان میں ٹنل فارمنگ کی جو داغ بیل ڈالی تھی آج اس کا پودا بلکہ اس کا درخت تیار ہو چکا ہے ۔36ہزار ایکڑپر اب ٹنل فارمنگ کی جا رہی ہے ۔ایک بندہ سارے شعبوں کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔نئے سے نئے لوگ آنے چاہیں۔یہ کیسے آئیں گے گورنمنٹ کو اس کی طرف لانا نہیں ہے بلکہ صرف ایک پالیسی دینی ہے ۔پالیسی کیسے دی جاتی ہے یہ گورنمنٹ کے لوگ مجھ سے بہتر سمجھتے ہوں گے ۔بنگلہ دیش کی صرف ایک پالیسی نے ہمارے جتنے صنعت کار ہیں فیصل آباد سے جو کپڑا بناتے تھے ۔وہ اپنی لگی ہوئی مشنیں اٹھا کر بنگلہ دیش لے گئے ہیں ۔پالسی کیا تھی بنگلہ دیش کی دو پالیسیاں تھیں پہلی پالیسی یہ تھی کہ پندرہ سال تک ہم آپ سے ٹیکس نہیں لیں گے آپ جو مرضی کمائیں جو مرضی کریں ۔ہم آپ سے ٹیکس نہیں لیں گے ۔دوسری پالیسی یہ تھی کہ ہم آپ کو بجلی کی سپلائی بغیر روکے لگاتار دیں گے ۔یعنی بجلی کی سپلائی نہیں رکنے دیں گے۔ آپ یقین کر سکتے ہیں کہ فیصل آباد کے30%صنعت کار پاکستان چھوڑ کے اُدھر چلے گئے ہیں ۔یہاں لوگ سڑکوں پر روتے پھر رہے ہیں لوگو ں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں ۔جس کی وجہ سے کرائم کا ریٹ فیصل آباد میں تین چار گنا بڑھ چکا ہے ۔بنگلہ دیش کی حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ اتنی مخلص ہے ۔اسی طرح سے زرعی پالیسی دی جا سکتی ہے۔اس کا یہ ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں انفرادی طور پر بات کر دوں کہ یہ ہو جائے یا وہ ہو جائے ۔پالیسی بنانے کے لیے ذہین اور سمجھ دار لوگوں کو بیٹھنا پڑتا ہے ۔پھر ہی ایسی پالیسیاں بن سکتی ہیں جو ہمارے نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں لے کر آئیں ۔
٭ہم ان پالیسیوں کو بنانے کے بعد کیسے تیزی سے قابل عمل بنا سکتے ہیں
٭جی اس کے لیے میں یہ کہوں گا کہ ابھی میرے پاس ایک شحص U.P.Sلگانے آیا تھا اس کو ایک پرزہ درکار تھا اگر میں وہ پرزہ خود خریدنے جاؤں تو سب سے پہلے میرا کام حرج ہو گا جو کر رہا ہوں پھر پیٹرول خرچ ہو گا اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مطلوبہ چیز بھی نہ لا سکوں۔یہ شخص مجھ سے وہ ایک پرزہ لانے کے لیے دو سو روپے مانگ رہا تھا ۔میں نے اس کودو سو روپے کے ساتھ دو سو زائد دے دیئے ۔اب وہ کہہ گیا ہے کہ میں ایک گھنٹے کے بعد آپ کو لگا کر دے جاؤں گا ۔اب یہ میری پالیسی ہے کہ میں نے اپنے کام کو اور اپنے ٹائم کو منظم کیا ۔آج تک ہمیں ایک بھی ایسا مخلص لیڈر نہیں مل سکا جو ملک کے مسائل کو منظم کر کے حل کرئے۔وہ تو خیر دور کی بات ہے ۔زراعت اور صحت کے شعبوں میں کبھی بھی آفیسر یا کمانڈنگ آفسیر بیوروکریٹ نہیں لگا نا چاہیے ۔وہ ٹیکنو کریٹ ہونا چاہیے جو اپنے شعبے کو اٹھا کر آگے چلے ۔یہ سب سے پہلا پالیسی میٹر ہو گا ۔جس پر ہم زور دیں گے ۔بیورو کریٹ کی بجائے ٹیکنو کریٹ کو اداروں کا سربراہ بنایا جائے ۔اور اداروں کو خود مختار بنایا جائے ۔
٭ ٹنل کے بارے میں کچھ بتائیں 
٭ٹنل فارمنگ کی تین چار مروجہ قسمیں ہیں ۔اس میں سب سے پہلی اور سستی والی (لو ٹنل ) ہے یہ دو فٹ چوڑی اور اڑھائی فٹ اونچی ہوتی ہے ۔دوسری (واک ان ٹنل) ہے جس میں ہم چل سکتے ہی ۔تیسری قسم کی جو ٹنل ہے اس کا نام ہے (ہائی ٹنل) اس میں ٹریکٹر تک چل سکتا ہے ۔ان تینوں کے مختلف اخراجات ہیں ۔ان کی تعمیر کے لیے ہم مختلف اشیاء استعمال کرتے ہیں ۔جس میں بانس بھی شامل ہو سکتا ہے ۔جس میں لوہا بھی ہو سکتا ہے۔ جس میں سفیدہ اور لکڑی بھی ہو سکتی ہے ۔ جس میں ٹی آئرن اور اینگل آئرن بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔پچھلے بارہ سال سے پاکستان کے زمیندداروں کا سب سے منافع بخش کاروبار ٹنل فارمنگ ہی ہے ۔لوگوں نے ڈیری کا کام بھی کیا ہے ۔ایک کام اور ہے جس میں منافع بہت ہے وہ ہے پولٹری فارمنگ لیکن اس میں خرچ بھی بہت زیادہ ہے ۔دوسرا یہ مشکل کام ہے اس میں پہلی بات یہ ہے ۔کہ اس کو لگانے کے لیے بڑا سرمایا درکار ہے ۔یہ صرف امیر آدمی کے کرنے کے کام ہیں 
٭کیا آپ کی بات سے یہ نہیں لگتا کہ لوگوں کوپولٹری کی جانب نہیں آنا چاہیے 
٭جی نہیں اگرکوئی شخص ہوٹل بنانا چاہتا ہے تو ضرور ی نہیں کہ وہ پر کانٹینٹل ہی بنائے وہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے ہوٹل سے بھی اپنا کام شروع کر سکتا ہے اگر پولٹری کا کام کرنا ہے تو وہ ایک ہزار کا چھوٹا سا پلاٹ رکھ کر بھی شروع کیا جا سکتا ہے ۔لیکن ظاہر ہے جو شخص جنتا زیادہ سرمایا لگائے گا اتنا ہی کمائے گا ۔
ٹنل فارمنگ 
زرعی مشورے اور ماہرانہ تبصرے
سال رواں میں بھی کاشتکار بے شمار حکومتی بے مروتیوں زرعی مداخل کی عدم دستیابی اور مہنگے داموں دستیابی، جعلی کھادوں اور زہروں کی پریشانیوں اور روز افزوں آسمان کو چھوتی مہنگائی ( پیٹرول بجلی ڈیزل ) کے باوجودبھی ہر وقت جہد مسلسل میں جتا ہوا ہے ۔اور اپنے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ـ ( زراعت) کو مسلسل سہارا دیے ہوئے ہے۔ ماہ مئی اور جون میں ٹنل فارمنگ کی کچھ سبزیات اپنی عمر پوری کر کے خاتمہ کی طرف رواں ہوں گی تو چند فصلیں بہترین پیداواری کارکردگی دکھا رہی ہوں گی۔ 
زرعی مشورہ جات مندرجہ ذیل ہیں
کھیرا
١۔کھیرے کی زیادہ تر ہائبرڈ اور پارتھینو کارپک اقسام مئی کے اختتام تک اپنی پیدوار دینا ختم کر دیتی ہیں ۔تاہم اگر دو پہر کو ٹھنڈے پانی کا سپرے کیا جائے یا (Misters) فین لگا دیئے جائیںتو فصل کی عمر میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ 
٢۔دیسی اور زمینی کھیرے کی بہتات کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے لیکن اگر فصل کو لمبا چلا لیا جائے تو بہتر قیمتوں کا حصول ممکن ہے ۔
٣۔کھیرے کو فنگس کی بیماریوں سے خصوصی تحفظ کے لیے دو اقسام کی ادویات کو مشترکہ سپرے کریںاس ضمن میںریوس (Revus) اور اسکور (Score) کا ایک ساتھ سپرے نہایت مفید پایا گیا ہے ۔
٤۔فصل کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے سمندری جڑی بوٹیوںکے محلولSea Weed Extrect کو سپرے کریں۔بہترین رزلٹ کے لیے TK.50 یا ایزابیان کو استعمال کریں۔
٥۔فو لیٹر کھادوں پر انحصار بڑھا دیں NPK 20:20:20اپنی خاص فارمولیشن برائے سبزیات جینو فرٹ۔ 60 میں بہترین رزلٹ دیتی ہے 
سبز مرچ ۔ شملہ مرچ
1۔مرچوں کو زمینی بیماریوںاور یک دم موت سے بچانے کے لیے کسی بھی مناسب فنگس کش زہر سے ڈریچینگ (Drenching) کریںاس عمل میں زہر کو پودوں کی جڑوں میں ڈالا جاتا ہے ۔
2۔اگر آپ کی زمین میں دیمک اور نیما ٹوڈ (Termites & Nematodgs)کا مسئلہ موجود ہے ۔تو آبپاشی کے ساتھ مناسب زہر ٹر میسائیڈاور نیمیٹیسائیڈ قطرہ بہ قطرہ استعمال کریں۔
3۔لگاتار پھولوں اور زیادہ پھل کے حصول کے لیے پودوں کو ایک خاص اینزائم کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس پروڈکٹ کو پلانٹ ایپیٹائزر کا نام دیا گیا ہے اس کے حصول کے لیے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مسائل سائنس انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر یٰسین صاحب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے یہ دوائی فی ایکڑ کے لیے صرف 100 ایک سو روپے میں دستیاب ہے ۔
ٹماٹر
1۔رواں سال شدید موسمی حالات کے باعث ٹماٹر مناسب پورا سائز اور وزنی نہیں ہو سکا 
2۔انڈیا سے ٹماٹر کی لگاتار درآمد نے لوکل زمیندار کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے انتہائی سستے داموں ٹماٹر کی فروخت دیکھ کر اگلے سال کاشتکارٹماٹر لگانے کی ہمت نہیں کر سکے گا ۔یوں کروڑوں روپے کا زر مبادلہ انڈیا کے پاس زرعی اجناس کی مد میں جا رہا ہے ۔اور اگلے سال یہ رقم صرف ٹماٹر کی مد میں اربوں روپے میں ہو گی ۔ حکوت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

سبزیوں کی اہمیت وضرورت
سبزیاں اپنی غذائی و طبّی اہمیت کی وجہ سے”حفاظتی خوراک“ کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کے لیے تمام ضروری اجزاءمثلاً نشاستہ، لحمیات، حیاتین،نمکیات وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو کہ دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں ملتے ہیں۔ طبّی لحاظ سے بھی سبزیوں کی افادیت مسلّمہ ہے۔ سبزیاں جسم سے نہ صرف غلیظ مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں بلکہ یہ آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی نیز دماغ کی بڑھوتری کے لئے بھی یکساں مفید ہیں۔ سبزیوں کا متوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے۔

ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونمااور بڑھوتری کے لیے غذا میں سبزیوں کا استعمال300 تا 350گرام فی کس روزانہ ہونا ضروری ہے۔ جبکہ پاکستان میں سبزیوں کا فی کس روزانہ استعمال 100 گرام سے بھی کم ہے۔ سبزیوں کے اس کم استعمال کی ایک وجہ کم پیداوار اور سبزیوں کا مہنگا ہونا بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں تا کہ وطن عزیز میں سبزیوں کی بدولت غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت اس سلسلہ میں انتہائی مؤثر کاوش ہے۔ گھریلو باغیچہ پر تھوڑی سی محنت سے نہ صرف تازہ اور زہریلی ادویات سے پاک سبزی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ یہ مشغلہ اخراجات کو کم کرنے کا اچھا ذریعہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

سبزیوں کی درجہ بندی
درجہ بندی بلحاظ موسم
موسمی عوامل کے لحاظ سے سبزیوں کی دو اقسام ہیں:

1 ۔گرمیوں کی سبزیاں
گرمیوں کی سبزیوں میں ٹماٹر،مرچ،شملہ مرچ، بینگن، کھیرا، بھنڈی، کالی توری، گھیا توری، گھیا کدو،کریلا، اروی، تربوز، خربوزہ، حلوہ کدو، پیٹھا کدو، آلو، ہلدی اور ادرک وغیرہ ہیں جو عموماً فروری مارچ میں کاشت ہوتی ہیں اور ستمبر اکتوبر تک ان کی برداشت جاری رہتی ہے۔ یہ گرمیوں کی سبزیاں کہلاتی ہیں۔

2 ۔سردیوں کی سبزیاں
یہ سبزیاں ستمبر اکتوبر میں کاشت ہوتی ہیں اور فروری مارچ تک برداشت ہوتی رہتی ہیں۔ موسم سرما کی سبزیوں میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا، لہسن اور چقندر شامل ہیں۔

درجہ بندی بلحاظ طریقہ کاشت:
 طریقہ کاشت کی بنیاد پر سبزیات کی تین قسمیں ہیں۔

1 )۔ براہ راست بیج سے کاشت ہونے والی سبزیاں
موسم سرما میں مولی،شلجم، گاجر، پالک، دھنیا، میتھی اور مٹر جبکہ موسم گرما میں بھنڈی ، کریلا، کھیرا، تربوز اور خربوز وغیرہ کو زمین میں براہ راست کاشت کیا جا ئے گا۔

2)۔پنیری سے کاشت ہونی والی فصلیں
ٹماٹر، مرچ، شملہ مرچ، اور بینگن گرمیوں میں جب کہ پھول گوبھی، بند گوبھی، بروکلی، پیاز اور سلاد موسم سرما میںبذریعہ پنیری کاشت ہونے والی سبزیاں ہیں۔ علاوہ ازیں شعبہ سبزیات قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد کی جدید تحقیق کے مطابق موسم گرما کی بیلوں والی سبزیات مثلاً کھیرا، تر، گھیا کدو وغیرہ کی اگیتی پنیری پلاسٹک کی تھیلیوں میں اُگائی جا سکتی ہے۔ جس سے پیداوار میں دُگنا اضافہ ممکن ہے۔

3) نباتاتی حصوں سے کاشت ہونے والی سبزیاں
اروی،آلو، لہسن، ہلدی، ادرک، اور پودینہ نباتاتی حصوں سے کاشت ہونے والی سبزیاں ہیں۔ جبکہ شعبئہ سبزیات، قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، اسلام آباد کی تحقیق کے مطابق ٹماٹر کی لمبے قد والی اقسام مثلاً منی میکر کے بغلی شگوفوں اور ٹماٹر کی دیگراقسام کی قلمیں بطور افزائش استعمال میں لائی جا سکتی ہیں۔

گھریلو باغیچہ کی منصوبہ بندی
٭ سبزیوں کے لیے ایسی جگہ منتخب کیجئے جہاں پودے دن میں کم از کم چھ گھنٹے سورج کی روشنی سے مستفید ہوسکیں۔ اگر آپ کے صحن یا باغیچے میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ دیر تک سایہ رہتا ہو تو ایسی جگہ پر پتوں والی سبزیاں مثلاً دھنیا، پودینہ، پالک، سلاد وغیرہ کاشت کیجئے۔

٭ کاشت کے لیے منتخب رقبہ کو ناپ لیں تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ رقبہ کے لیے کتنی کھاد اور بیج کی ضرورت ہو گی۔ ایک مرلہ زمین272مربع فٹ کے برابر ہوتی ہے۔ یعنی ایک مرلہ زمین کی لمبائی اور چوڑائی کا حاصل ضرب 272فٹ ہو گا۔

٭زمین ناپنے کے بعد اپنی ضرورت، پسند اور موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سبزیوں کے لئے رقبہ مختص کر لیں۔ بعض سبزیاں مثلاً دھنیا، پودینہ کم رقبے سے بھی گھر کی ضرورت پوری کر دیتی ہیں۔ جبکہ دیگر سبزیوں کو زیادہ رقبے کی ضرورت ہوتی ہے۔

٭کاشت سے قبل کاغذ پر ایک خاکہ بنا کر اس میں منتخب سبزیاں لکھ لیں اسی طرح سے خاکہ میں سبزیوں کی قطاروں، پودوں کا فاصلہ، کھاد کی ضرورت وغیرہ درج کر لیں تا کہ زمین کی تیاری کے وقت دشواری نہ ہو۔ بیلوں والی سبزیوں مثلاً مٹر ، کدو وغیرہ کو حفاظتی باڑ کے ساتھ کاشت کریں۔ تا کہ بیلوں کو باڑ پر چڑھایا جا سکے۔ سبزیوں کی قطاروں کا رُخ سردیوں میں شمالاً جنوباً رکھیں تا کہ دھوپ زیادہ مقدار میں مل سکے۔

٭سبزیوں کو پالتو جانوروں مثلاً مرغی، خرگوش وغیرہ سے بچانے کے لئے رقبے کے اردگرد حفاظتی باڑ کا انتظام کیجئے۔ پرندوں مثلاً طوطے چڑیا وغیرہ سے مٹر اور دیگر سبزیوں کو بچانے کے لئے رقبے میں چمکیلی پٹی باندھنے سے پرندے سبزیوں سے دور رہتے ہیں۔

٭ ایک خاندان کی سبزیاں ایک ہی ٹکڑے (رقبہ) پر یکے بعد دیگرے کاشت نہ کریں۔ تا کہ کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کی شدت میں کمی رہے مثلاً بیلدار سبزیاں (کدو، توری وغیرہ) آلو، ٹماٹر مرچ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عملی کاشت کاری سے قبل درج ذیل تمام اہم نکات مد نظر رکھیں۔ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ باغیچہ کی تیاری کیجئے۔

عملی کاشت کاری:
 عملی کاشت کاری کے لئے درج ذیل سامان کی ضرورت ہو گی۔

1 ۔ درانتی:۔گھاس کی کٹائی کے لئے

2 ۔ کھرپہ:۔گوڈی اور زمین نرم کرنے کے لئے

3 ۔ ریک:۔ کٹی گھاس سمیٹنے کے لئے نیز زمین ہموار کرنے کے لئے

 4 ۔ کسی:۔ زمین کی کھدائی نیز پٹڑیاں یا وٹیں بنانے کے لئے

5 ۔ کدال:۔ سخت زمین کی کھدائی کے لئے

 6 ۔ فوارہ:۔ آب پاشی کے لئے


روشنی میں کھیرے کی پلاسٹک ٹنل میں کاشت کا جو مشاہدہ کیا وہ مندرجہ ذیل ہے :

 1. جہاں کھیرا لگانا ہو وہ زمین لیزر لیول کروا لیں . 
2. زمین کی تیاری کے وقت دو سے تین بوری ڈی اے پی ، ایک سے ڈیڑھ بوری ایس او پی اور 8 کلوگرام فیوراڈان زہر اچھی طرح زمین میں ملائیں .
3. بیڈ سائز 2 فٹ چوڑا رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ پونے فٹ سے ایک فٹ تک ہونا چاہیے .
 4. چوپہ کاشت کی صورت میں 48 گھنٹے کے اندر اندر پچاس فیصد اگاؤ آ جاتا ہے 50 فیصد اگاؤ آتے ہی ٹنل کے گیٹ سورج کی روشنی میں کھول دیں .
 5. روزانہ صبح سورج نکلتے ہی تمام ٹنلز کے گیٹ اوپن کریں اور 3 سے 4 بجے کے درمیان بند کر دیں .
6. دھند یا بارش کی صورت میں گیٹ بند رکھیں . 
7 .جب تک پودے کے 4 پتے نہ بن جائیں کسی بھی قسم کا سپرے مت کریں . 
8. جس کمپنی کا بیج ہو اس کمپنی سے سپرے پروگرام مرتب کروائیں اور ہر کسی کے مشورے پر عمل کرنے سے اجتناب کریں . 
9. وتر آنے پر واٹر چینلز میں ایک یا دو دفعہ گوڈی لازمی کریں . 
10. سپرے پروگرام میں امائنو ایسڈ اور این پی کے کا استعمال لازمی کریں . 
11. ٹنلز میں نمی کا تناسب دیکھتے ہوۓ پانی لگائیں جو عمومن پہلی چنائ کے بعد لگایا جاتا ہے .
12. پہلے پانی پہ ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی یا لیکوئڈ پوٹاش ایک گیلن فلڈ کریں جس سے لگاتار چنائیاں شروع ہو جائیں گی .
13. ایک پانی چھوڑ کے اور پھر پلاسٹک اترنے کے بعد ہر پانی پر کھاد لازمی فلڈ کریں .
14. گرمی کے دنوں میں روزانہ شام کو پانی دیں . نوٹ : ٹنلز میں نمی نہ بڑھنے دیں روزانہ گیٹ کھولیں ورنہ ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے .


مٹر اپنی نوعیت کے اعتبار سے سردی کی فصل ہے یہ آٹھ سینٹی گریڈ سے لے کرتیس سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے


وقت کاشت: 
مٹر کی کاشت کا وقت مانسہرہ ہری پور اور ملحقہ علاقوں میں وسط اگست سے لے کر بیس ستمبر تک ہے جبکہ بالائی پنجاب میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے لے کر شروع نومبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے اور جنوبی پنجاب اور سندھ میں بیس اکتوبر سے لے کر وسط دسمبر تک کاشت ہوتا ہے
مٹر کی اقسام:
اگیتی کاشت کے لئے کلاسک اور الینا جبکہ پچھیتی کاشت کے لئیے مٹور بہترین ورائٹیز ہیں البتہ یہ تقسیم ان کے پیداواری صلاحیت اور مدت برداشت کے حسب سے کیا گیا ہے جبکہ موسم کی برداشت کی قوت سب میں ایک جیسی ہوتی ہے
اگیتی کاشت کے لئیے بیج کا استعمال ڈیڑھ گنا زیادہ کرنا چاہئے پٹڑیوں کی چوڑائی 18 انچ تک رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ 2انچ رکھیں مٹر کی پچھیتی اقسام کی کاشت کیلئے پٹڑیوں کی چوڑائی 20سے 22 انچ اور پودے کا پودے سے درمیانی فاصلہ 3انچ تک رکھیں کاشتکار مٹر کی اگیتی اور پچھیتی اقسام کو پٹڑیوں کے دونوں جانب کاشت کریں اور کاشت کرنے کےلئے ہاتھ سے کیرا یا ہر بیج کو 2سے 3انچ کے فاصلہ پر 2 سے 3 سینٹی میٹر گہرا لگا دیں۔

پانی اور کھاد:
شروع میں فصل کو ہفتہ کے وقفہ سے پانی دیا جائے تاہم بعد میں موسم سرد ہو جانے پر پانی کا وقفہ بڑھا یاجاسکتاہے ۔
زمین کی تیاری کے وقت ایک سے دو بیگ ڈی اے پی ایک بیگ پوٹاش اور ایک بیگ یوریا ڈالیں اور پھر ہر دوسرے پانی کے ساتھ دس کلو یوریا لازمی دیں

جڑی بوٹیوں کا تدارک:
مٹر کی فصل میں کرنڈ، باتھو، اٹ سٹ، جنگلی پالک، مینا، سینجی، دمبی گھاس، لہلی، پیازی اور ڈیلا وغیرہ جیسی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو فصل کی خوراک، پانی اور روشنی میں حصہ دار بننے کے ساتھ ساتھ بیماریاں اور کیڑے پھیلانے کا سبب بھی بنتی ہیں لہٰذا کاشتکار ان جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے گوڈی کریں کیونکہ اس سے زمین نرم ہو جاتی ہے ، اس میں آکسیجن کا گزر بڑھ جاتا ہے اور پودوں کی بڑھوتری بھی تیز ہو جاتی ہے مگر اس کے برعکس دوائی کے استعمال سے زمین کی سطح دوائی کی تہہ جم جانے سے سخت ہو جاتی ہے جس سے جڑی بوٹیاں توتلف ہو جاتی ہیں لیکن پودوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

جڑی بوٹیوں کے کیمیائی تدارک:
زمین کی تیاری کے وقت جب رونی وتر حالت میں آجائے تو زمین میں ہل چلا کر پینڈی میتھولین اور اسیٹا کلور کا سپرے کریں اور سہاگہ چلا کر زمین کو 24 گھنٹے پڑا رہنے دیں پھر زمین تیار کر کے مٹر کاشت کریں
2۔ پانی میں چوکا لگا کر دوآل گولڈ کا سپرے کریں
3-نوک دار پتے والی اگی ہوئی جڑی بوٹیوں کے لئے پوما سپر کا استعمال کر سکتے ہیں فصل پر اس کا کوئی سٹریس نہیں
4۔چوڑے پتے کی جڑی بوٹیوں کے لئے زنکر 50گرام فی ایکڑ استعمال کر سکتے ہیں مگر اس سے زیادہ فصل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس بات کا خیال رہے کہ زنکر کو پھول آنے سے پہلے استعمال کر سکتےہیں..


چونکہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لیے تیل دار اجناس کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ سامنے آیا ہے ۔ جبکہ
ہمارے ملک میں اس کی طرف خاصہ رجحان نہیں اس لیے اجناس کی قلت مہنگائی کو جنم دیتی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو بلی کا بکرا بننا پڑتا ہے ۔ ہمارے ملک میں  ضرورت کا صرف 20سے30فیصد خوردنی تیل پیدا کیا جاتا ہے جبکہ باقی کی ضروریات دوسرے ممالک کی بدولت پوری کی جاتی ہیں ۔ ہماری روایتی تیل دار فصلیں کپاس ، رایا اور سر سوں وغیرہ ہے ۔ جبکہ غیر روایتی فصلیں کینولا ، سورج مکھی اور سویا بین وغیرہ ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان غیر روایتی فصلوں کی کاشت روایتی فصلوں  سے خاصی آسان ہے کیونکہ یہ کم عرصے میں تیار ہو جاتی ہیں ۔ اور اس کے علاوہ ان میں تیل کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے اس لیے کسانوں کو چاہیے کہ اپنا رجحان ان فصلات کی طرف بھی لائیں تاکہ پاکستان کو تیل کے حوالے سے دوسرے ممالک کا محتاج نہ ہونا پڑے ۔ چونکہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اس لیے اس کو مکمل طور پر استعمال میں لانا چاہیے ۔ اب میں آپ سے چند غیر روایتی روغنی اجناس کی کاشت کے حوالے دوچار ہوں گا ۔ سب سے پہلے کینولا کی کاشت کے بارے بتاؤں گا ۔ ویسے تو کینولا سر سوں کی ایک ترقی یافتہ قسم ہے اور اس کے علاوہ یہ منافع بخش فصل بھی ہے اس لیے اس کی طرف رجحان ملکی معیشیت کے لیے موزوں ہے ۔ اس فصل کی کاشت کے لیے ہر قسم کی زمین موزوں ہے مگر سیم تھور اور ریتلی زمین میں فصلکامیاب نہیں بلکہ پیسے کا ضیاع ہے ۔ اچھی پیداوار کے حصول کے لیے آبپاشی کا نظام بہتر ہونا لازم ہے ۔ زمین کی تیاری کی بات کی جائے تو بارانی علاقوں میں سہاگہ اور ہل کی مدد سے وتر کو محفوظ کرنا لازمی ہے جبکہ نہری علاقوں میں کاشت کے لیے کاشت سے قبل تین مرتبہ ہل لازمی چلائیں اور اس کے بعد زمین کی ہمواری کے لیے سہاگہ دے دیں ۔ پنجاب کے تمام علاقوں میں  کینولا کو 20ستمبر تا 31اکتوبر تک کاشت کیا جاسکتا ہے اور کاشت میں تا خیر سے پر ہیز کریں اس وجہ سے فصل کی بہت کم پیداوار حاصل ہو گی اور یہ کاشتکار کے لیے نہایت نقصان دہ ہے ۔کینولا کی کاشت کے لیے گندم کاشت کرنے والی ڈرل کا استعمال کریں ۔ شرح بیج کی بات کی جائے تو یہ دو کلو کافی ہے جبکہ اہم بات یہ کہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 14سے18انچ مناسب ہے ۔ ڈرل نہ ہونے کی صورت میں اسے چھٹہ دے کے بھی کاشت کیا جا سکتا ہے ۔ کاشت سے قبل بیجوں کو کم از کم 12سے 14گھنٹے بھگوائیں اور اچھی پیداوار  کے حصول  کے لیے بیج کا معیار ہونا لازمی ہے ۔ کھادوں کی بات کی جائے تو  ایک بوری یوریا ، ایک بوری ڈی ،اے ، پی  اور ایک بوری ایس ، او ، پی کافی ہے ۔ فصل کی کامیابی کے لیے تین سے چار آبپاشی ضروری ہے جبکہ نہ اس سے کم نہ زیادہ مگر موسم کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ۔ کینولا کی فصل پر کیڑوں کے حملے کی بات کریں تو اس سنڈیاں اور تیلہ حملہ کرتا ہے ۔ اور یہ حملہ پھول یا پھیلیاں بنتے وقت ہوتا ہے اس لیے اسے محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق کنٹرول کریں ورنہ پیداوار میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے اس کے علاوہ فصل کو جڑی بوٹیوں سے بھی محفوظ رکھیں تاکہ یہ کیڑوں کے لیے آماج گاہ نہ بنیں ۔ اب آپ کو سویا بین کی کاشت کے حوالے سے بتا ات چلوں کہ یہ بھی ایک نہایت منافع بخش فصل ہے اس میں 40فیصد تک پروٹین پائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں بیس فیصد تک بہترین قسم کا تیل  پایا جاتا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے سویا بین کا تیل موزوں سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کا آٹا شوگر کے مریضوں کے لیے نہایت مفید ہے ۔ کاشت کے لحاظ سے سویا بین کے لیے میرا زمین کا  انتخاب موزوں ہے ۔ جبکہ کلراٹھی زمینوں میں اسے کاشت کرنے سے پر ہیز کریں ۔ کاشت ہمیشہ صبح یا شام کے وقت وتر  مین کریں اچھی پیداوار حاصل  ہوگی ۔ صوبہ پنجاب میں بہار یہ فصل کے لیے سویا بین کا وقت کاشت فروری ہے ۔ جبکہ خزاں کی فصل کے لیے کاشت کا وقت جون تا اگست ہے ۔ شرح بیج 35کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں اور بیج اچھی کوالٹی کا ہو ۔ اس کے علاوہ کھادوں کا استعمال صرف ایک بوری ، ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا بوقت کاشت اور آدھی بوری یوریا یا دوسرے پانی پر استعمال کریں ۔ ویسے تو سویا بین کو عموماً 6سے7آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بہاریہ فصل کو پہلاپانی اُگاؤ کے تین سے چار ہفتے بعد دینا چاہیے ۔ اور خزاں کی فصل کو پہلا پانی اُگنے کے ایک سے دو ہفتے بعد دے دینا چاہیے ۔ سویا بین پر تیلہ سفید مکھی اور لشکری سنڈی حملہ آور ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ جوؤں کا حملہ بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔ خصوصاً  جڑی بوٹیوں سے فصل کو پاک رکھیں اور کیڑے مار ادویات کا درست انتخاب کریں ۔ آخر میں سورج مکھی کی کاشت کی بات کریں تو اصل فصل کو بہتر بڑھوتری کے لیے میرا زمین درکار ہے ویسے تو یہ ہر قسم کی زمین میں ہو جاتی ہے مگر چونکہ ہمارا مقصد زیادہ پیداوار ہے اس لیے میرا زمین کا انتخاب کریں ۔ موسم خزاں میں اس کو یکم جولائی سے 10 اگست تک زیرِ کاشت لایا جا سکتا ہے جبکہ موسم بہار میں اس فصل کا وقت کاشت فروری کا مہینہ ہے ۔ سورج مکھی  کی کاشت کے لیے دو سے تین کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہے مگر بیج صاف ستھرا ہونا چاہئے ۔ کھادوں کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ نہری علاقوں میں ایک بوری ، ڈی اے پی، ایک بوری ،ایس او پی ، بوائی کے وقت جبکہ آدھی بوری یوریا پہلے پانی پر اور آدھی بوری دوسرے پانی پر استعمال کریں اس کے علاوہ ایک بوری یوریا ڈوڈیاں بنتے وقت استعمال کریں ۔ اس فصل کو چار سے پانچ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے سبز تیلہ ، سست تیلہ ، چور کیڑا اور دیگر سنڈیوں سمیت مختلف کیڑوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ ان سے بچاؤ کے لیے وقت ِ مدافعت والی اقسام کاشت کریں اور فصل کو جڑی بوٹیوں سے ہمیشہ پاک رکھیں ۔ حکومت پنجاب  محکمہ زراعت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو تیل دار اجناس کی کاشت پر مائل کریں تاکہ ہمارا ملک معاشی طور پر مزید ترقی کر سکے ۔


موسم گرما کی سبزیوں کدو، کریلا، بھنڈی ، ٹماٹر، بینگن، بیل توری ،سبز مرچ وغیرہ کی کاشت کا وقت قریب ہے جن دوستوں نے
موسم گرما کی سبزیاں لگانے کا پلان کیا ہے جلد از جلد مرچ اور ٹماٹر کی پنیریاں کاشت کر لیں یا مطلوبہ پنیریوں کا انتظام کر لیں اور زمین کی تیاری جلد از جلد مکمل کر لیں .
زمین کی تیاری اور کھادیں :
سب سے پہلے زمین کو لیزر لیول کروائیں .ایک سال پرانا گلا سڑا گوبر یا کمپوسٹ 4 تا 5 ٹرالی فی ایکڑ زمین میں ڈالیں اور اچھی طرح سے روٹاویٹ کر کے ہل چلائیں . ہر تیسرے یا چوتھے دن سہاگہ دے کے ہل چلاتے رہیں کہ 15 فروری تک زمین کی مٹی پاؤڈر نما ہو جاۓ .جن کی زمینیں کمزور ہیں سوائل لیبارٹری سے مٹی کا ٹیسٹ کروا لیں اور جن بھائیوں کی زمینیں فصلیں اگاتی ہیں بوقت کاشت دو بوری ڈی اے پی ،ایک بوری ایس او پی ،ایک بوری ایمونیم سلفیٹ ،اور 8 کلوگرام فیوراڈان فی ایکڑ ڈالیں اور آخری دفعہ روٹاویٹر چلا کر فصلوں کے مطابق بیڈ شیپر یا لیبر کی مدد سے مطلوبہ بیڈز تیار کر لیں .
بیج کو زھر لگا کے کاشت کریں :
بیج کو عام طور پر صرف تھائرم سے ٹریٹ کر کے پیک کیا جاتا ہے جو قطن بھی فنگس اور پیسٹس سے محفوظ نہیں کر پاتا.اس لئیے بیج کو خشک کپڑے پر بچھا دیں اور ٹاپسن ایم 2.5 گرام ، امیڈا کلوپرڈ 2.5 گرام اور 10ملی لیٹر پانی کا مکسچر بنا کے بیج پر چھڑکاؤ کریں اور دوسرے ہاتھ سے بیج کو لگاتے جائیں یہاں تک کے مکسچر ہر ایک بیج کے ساتھ چپک جاۓ . پھر 2 سے 4 گھنٹے بیج کو چھاؤں میں پڑا رہنے دیں کہ اچھی طرح خشک ہو جاۓ
مختلف سبزیوں کے لئیے بیڈز کے سائز اور پودے سے پودے کا فاصلہ :
بھنڈی،بینگن اور سبزمرچ کے بیڈز کا سائز 2 فٹ چوڑا رکھیں .مرچ اور بینگن کے پودے سے پودے کا فاصلہ 2 فٹ اور بھنڈی کے بیج کا چوپہ 2 سے 3 انچ کے فاصلے سے بیڈ کی دونوں اطراف میں کریں . کدو،ٹماٹر،کریلا،بیل توری کے بیڈز کا سائز چار فٹ رکھیں . ٹماٹر کے پودے سے پودے کا فاصلہ دوفٹ اور کدو،کریلا ،بیل توری کے بیج کا چوپہ ڈیڑھ سے دو فٹ کے فاصلے پر کریں لیکن چار فٹ بیڈ سائز پہ کدو،کریلا اور بیل توری کو بانس لگا کر جال پر چڑھانا ہوگا جو ان فصلوں کی بھرپور پیداوار لینے کا بہترین طریقہ ہے .اگر جال نہ لگانا ہو تو بیل توری،کدو اور کریلے کی فصل کے لئیے بیڈز کا سائز 8 فٹ رکھیں .
کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ :
جب پودے چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں تو ان کو نگہداشت اور دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.روزانہ کی بنیاد پر دن میں دو دفعہ فصل کا بغور معائنہ کرتے رہیں . تیلہ،ٹوکہ ،سرخ ب . عام طور پر آپ کے سٹاک میں امائینو ایسڈ، این پی کے ، بائ فینتھرین ، امیڈا،پائری،مینکوزیب وغیرہ کے پراڈکٹس کا ہونا ضروری ہے
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ :
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ بذریعہ گوڈی لگاتار جاری رکھیں .


زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.
زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟


پاکستان میں گندم کی اوسط پیداوار بہت کم ہے جو کہ تقریباً 29تا30من فی ایکڑ ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ کہ تقریبا 15سے 20 لاکھ
ایکڑ کلر و تھور زدہ رقبوں پر گندم کی کاشت کی جاتی ہے ۔ گندم کی کاشت کے لئے موزوں طریقے اختیار نہیں کیے جاتے نتیجتاً فی ایکڑ پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ ہماری تھوڑی سی توجہ اور محنت سے ان زمینوں کو مختلف کیمیائی یا حیاتیاتی طریقوں سے قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے تحقیقاتی ادارہ شورزدہ اراضیات ،پنڈی بھٹیاں نے ان زمینوں کی اصلاح اور ان کی پیداواری صلاحیت بحال کر کے گندم اور دھان کی فصلوں کی کاشت کے لئے مختلف تجربات کیے ہیں ۔ کاشتکار ان تجربات سے استفادہ کرکے کلراٹھے رقبوں کی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں اور گندم کی بہتر فصل حاصل کر سکتے ہیں ۔


1۔اس کو کاٹتے جائیں اور کاٹنے والے جو مزدور ہوں انسے گھاس بھی ساتھ ساتھ نکلواتے جائیں جو چھوٹا چھوٹا ہو رہا ہے

2۔پانی لگا کر مکی کا چوپا لگوا دیں
3۔وتر جب آئے گا تو کچھ دن بعد پھر دھنیا کی کٹائی ہوگی تو ساتھ موٹی موٹی جڑیبوٹیوں کو نکلواتے جائیں۔
4۔تیسری کٹائی پر مکی بھی بڑی ہو جائے گی اور آپ دھنیا کی تین کٹائیاں لے چکے ہوں گے اگر چاہیں تو اس وقت بھی دھنیا کی کٹائی کے ساتھ ساتھ گھاس بھی مکی کے پودوں کے قریب سے کاٹنے والوں سے کہیں کے نکالتے جائیں۔
5۔اب آپ دھنیا سے کٹنگ لے چکے ہوں گے دھنیا کو کاٹیں اور اس پر مکی کے اندر چل کر سپرے کر دیں جڑی بوٹیوں والی جو مختلف کمپنیز دے رہی ہیں
6۔مکی کو کچھ نہیں ہوگا دھنیا اور گھاس نیچے سے ختم ہو جائے گا



لہسن کی کاشت فوری شروع کرنے کی ہدایت
محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو لہسن کی کاشت فوری شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاشتکار زمین کی تیاری مکمل کر کے لہسن کی کاشت کا آغاز کر دیں تاکہ بروقت کاشت کی صورت میں اچھی پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ لہسن کی کاشت سے پہلے 20 سے 25 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد کھیت میں ڈال کر اسے زمین میں اچھی طرح ملا دینا چاہیے جس کے بعد زمین کی تیاری کیلئے ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل اور دو سے تین مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر سہاگہ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لہسن کی کاشت اکتوبر کے وسط میں شروع کر کے وسط نومبر تک مکمل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لہسن گلابی اور جی ایس ون لہسن ون کی منظور شدہ اقسام ہے جن کا صحتمند بیج شاندار فصل کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیج کی مقدار، کھادوں کے استعمال اور دیگر معلومات کیلئے محکمہ زراعت کے عملہ یا ہیلپ لائن سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
لہسن کی کاشت خشک زمین میں کریں ۔اور اس کے فوراً بعد آبپاشی کر دیں بعد میں دو تین آبپاشیاں ہفتہ وار اور اس کے بعد چودہ دن کے وقفہ آبپاشی کریں ۔جبکہ آخر میں تین ہفتہ کے بعد پانی لگا یا جا سکتا ہے بارش کے پانی کے نکاس کا بندوبست بہت ضروری ہے ۔کیونکہ اس فصل کے پودے زیادہ ہمقدار میں برداشت نہیں کر سکتے ۔
محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کوہدایت کی ہے کہ لہسن کی کاشت ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے آغاز میں شروع کر کے وسط نومبر تک مکمل کی جا سکتی ہے جبکہ لہسن کی منظور شدہ اقسام گلابی ، جی ایس ون، لہسن ون کی کاشت کو ترجیح دیں ۔

برداشت ۔

لہسن عام طور پر اپریل میں برداشت کیا جاتا ہے ۔جب پتے خشک اور بھورے رنگ کے  ہو رہے ہوں تو سمجھیں کہ فصل تیار ہے ۔اور آبپاشی بند کردیں ۔اس کے چار پانچ دن بعد کھرپوں کی مدد سے کھود کر گٹھیوں کو نکال لینا چاہئے۔ لہسن کو خشک کرنے کے لئے کسی سایہ دار جگہ یا ہوا دار کمرے میں تین چار دن کے لئے یکسان طور پر پھیلا دیں ۔جب اُوپر سے چھلکے آسانی سے علیحدہ ہونے لھیں تو گٹھیوں کو پتوں سمیت باندھ کر خشک اور  ہوادار جگہ پر سٹور کر لیں ۔اس طرح لہسن لمبے عرصہ تک سٹور کیا جا سکتا ہے ۔ لہسن کی فصل کے ضرر رساں کیڑے اور اُن کا انسداد لہسن کی فصل پر عموومی طور پر 'تھرپس' کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ۔اس کی تدارک کے لئے کراؤن یا لانچر 200 ایس ایل کا 150-200  ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔اگر اس کا حملہ شدید ہوتو فائنڈر یا کانٹیسٹ 320 ایس سی 100 ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں ۔اور اسپرے کے بعد کھیت کی آبپاشی ضرور کریں  ۔کسی بھی قسم کی سُڈی کے حملے کی صورت میں ٹائمر 9'1 ای سی 200 ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔

لہسن کی فصل کی اہم بیماریاں اور اُن کا علاج 
 (Purple Blotch 1۔ ار غوانی پھپھوندی (
یہ لہسن اور پیاز کی اہم اور نقصان دہ بیماری ہے ۔یہ
 نامی پھپھوندی سے پھیلتی ہے ۔ہوا میں نمی کی موجودگی اور 18 سے 30 ڈگری Alternaria Porri
سینٹی گریڈ درجہ حرارت اس بیماری کے لئے موافق حالات فراہم کرتے ہیں ۔پرانے پتوں پر بیماری کے حملہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔

علامات۔
؎ پتوں پر چھوٹے چھوٹے بھورے دھبے جامنی رنگ کے مرکزی حصوں کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں ۔
؎یہ دھبے بیل کی آنکھ سے مشابیت رکھتے ہیں اور ان کا بارڈر سُرخی مائل پوتا ہے ۔
؎اگر اس کا حملہ زیادہ ہوتو پیاز کے پتے بالکل مُرجھا جاتے ہیں ۔
؎گٹھیوں کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور لہسن زمین کے اندر صحیح طور پر تیا ر نہیں ہو پاتا ۔
انسداد ۔
؎جس کھیت میں بیماری کا حملہ مسلسل ہورہا ہو تو وہاں اگلے سال لہسن کی فصل کاشت نہ کریں بلکہ فصلوں کا ہیر پھیر کریں ۔
؎ہمیشہ صاف سُتھرا اور صحت مند بیج کاشت
؎کم بیماریوں کا شکار ہونے والے اور بہتر پیداواری صلاحیت کے حامل پودوں والی اقسام کاشت کریں ۔
؎لہسن کی برداشت کے بعد فصل کے باقیات کو مکمل طور پر تلف کریں کیونکہ ان کا پھپھوندانہی باقیامت میں رہتا ہے ۔
؎جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں اور اگر حملہ مسلسل کئی سال ہو رہا ہو تو فصلوں کا 3 سال تک ہیر پھیر کریں ۔
؎لہسن کی فصل کو کھلی لائینوں میں کاشت کریں تاکہ ان میں ہوا کا گذر آسانی سے ہوسکے اور نمی کی مقدار کم ہو جائے تاکہ بیماری کا حملہ کم ہو ۔
؎جب فصل 45 سے 60 دن کی ہوتو ڈولومائیٹ 58 ڈبلیوپی 250 گرام فی ایکڑ یا شیلٹر 80 ڈبلیو پی 600 گرام فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔
؎اس کے بعد دوسرے مرحلے میں جب پیاز کی فصل 60 سے 75 دن کی ہوتو ڈیزومل پلاٹینم 72 ڈبلیوبی 250 سے 300 گرام فی ایکڑ یا ہیلونل 75 ڈبلیوپی 200 گرام فی ایکڑ یا سکسیس 72 ڈبلیوپی 400 تا 500 گرام فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔
(Downy Mildew۔ روئیں دار پھپھوندی (2
 نامی پھپھوندی سے پھیلتی ہے ۔ٹھنڈے اور برسات کے Peronospora destructor یہ بیماری
موسم میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ سازگار حالات  ہوں تو یہ بیمار یلہسن کی فصل کو بہت تیزی سے تباہ و کر سکتی ہے ہوا میں نمی کی موجودگی اور 22 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت اس بیماری کے لئے موافق حالات ہیں ۔لہسن کی کوالٹی کو بہت خراب کرتی ہے ۔اگر موسم خشک ہوجائے تو اس کا حملہ کم ہوجاتا ہے۔
علامات ۔
؎ پتوں کے اوپر والے آدھے حصے میں پیلے رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں ۔اور زیادہ حملے کی صورت میں یہی آدھا حصہ نیچے کی طرف مڑجاتا ہے۔
؎جب پتوں پر شبنم پڑی ہوتو یہ سر مئی رنگ کے دھبے کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جہاں پھپھوندی کی دھاگہ نما  ساختیں واضح نظر آتی ہیں۔
؎پرانے پتوں پر اس بیماری کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ۔
؎ یہ بیماری ہوا کے زریعے بیمار پودوں سے صحت مند پودوں میں منتقل ہوتی ہے ۔
؎اس بیماری کے اسپور رات کے وقت پیدا ہوتے ہیں اور دن کے وقت دوسرے پودوں پر پھیلتے ہیں ۔
؎اس بیماری کے اسپور عموماً تین دن تک ذندہ رہتے ہیں ۔
؎9 سے 12 دنوں میں اس بیماری کی علامت پودوں پر نظر آجاتی ہیں ۔

انسداد
؎جس کھیت میں بیماری کا حملہ مسلسل ہورہا ہوتو وہاں اگلے سال پیاز کی فصل کاشت نہ کریں بلکہ تین سال تک فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کریں ۔
؎کم بیماریوں کا شکار ہونے والے اور بہتر پیداواری صلاحیت کے حامل پودوں والی اقسام کاشت کریں ۔
؎لہسن کی فصل کو کھلی لائینوں میں کاشت کریں تاکہ ان میں ہوا کا گذر آسانی سے ہو سکے اور نمی کی مقدار کم ہو جائے تاکہ بیماری کا حملہ کم ہو ۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں اور فصل کو مناسب پانی دیں ۔
؎بیماریوں سے پاک صاف سُتھرا اور صحت مند بیج کاشت کریں ۔
؎نائٹر جن والی کھادوں کا مناسب استعمال کریں ۔
؎لہسن کی برداشت کےک بعد فصل کے باقیات کو مکمل طور پر تلف کریں ۔
؎جب فصل 45 سے 60 دن کی ہو تو ڈولو مائیٹ 58 ڈبلیو پی 250 گرام فی ایکڑ یا سا ئی می چنگ 70 ڈبلیو پی 500 تا 600 گرام فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔
؎اس کے بعد دوسرے مرحلے میں جب پیاز کی فصل 60 سے 75 دن کی ہوتو ڈیزومل پلاٹینم 72 ڈبلیو پی 250 سے 300 گرام فی ایکڑ یا کلپر 50 ڈبلیوپی 500 گرام فی ایکڑ یا سکسیس 72 ڈبلیو پی 400 تا 500 گرام فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔
3۔ بھبھکا یا بلاسٹ  
 نامی پھپھوندی سے Botrytis Squamosa یہ بھی لہسن کی ایک اہم ترین بیماری ہے ۔یہ بیماری
پھیلتی ہے ۔یہ پھپھوندی متاثرہ پودوں سے پھیلتی ہے اس پھپھوندی کے جراثیم زمین میں پائے جاتے ہیں ۔اس پھپھوندی کے سپورز زمین میں لمبے عرصے تک موجود رہتے ہیں اگر حالات اس کے مواقف ہوں تو یہ بیماری لہسن کی فصل کو بہت تیزی سے تباہ و کرسکتی ہے ہوا میں نمی کی موجودگی اس بیماری کو پھیلنے کیلئے ساز گار ماحول پیدا کرتی ہے ۔
علامات
؎ پتوں پر سفید رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں اور ان دھبوں کے ارد گرد بہت واضح ہلکے سبز رنگ کے دائرے ہوتے ہیں ۔
؎پتوں پر یہ دھبے اوپر سے نیچے کی طرف  آتے ہیں اور حملے کی شدت کی وجہ سے چند دنوں مین پورا پتا سوکھ جاتا ہے ۔
؎اگر بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مطلع صاف رہے تو اس کا حملہ شدت اختیار کر جاتا ہے ۔اگر موسم ابر آلود ہوتو پودوں پر حملہ آگے کم ہوجاتا ہے ۔
؎متاثرہ پتے بعد میں زردی مائل ہوجاتے ہیں اور جلد گر جاتے ہیں ۔
انسداد
؎جڑی بوٹیوں کو تلف کریں اور مناسب مقدار میں فصل کو پانی لگائیں ،زیادہ پانی دینے سے گریز کریں ۔
؎جب فصل مین کو نمپلیں اوپر سے سُوکھنی شروع ہوں تو نائٹرو جن والی کھاد کھیت مین ضرورڈالیں اور فصل کی آبپاشی کریں ۔
؎کم بیماریوں کا شکار ہونے والے اور بہتر پیداواری صلاحیت کے حامل پودوں والی اقسام کاشت کریں ۔
؎بیماریوں سے پاک صاف سُتھرا اور صحت مند بیج کاشت کریں ۔
؎لہسن کی فصل کو کھلی لائینوں میں کاشت کریں تاکہ ان میں ہوا کا گذر آسانی سے ہو سکے اور نمی کی مقدار کم ہو جائے تاکہ بیماری کا حملہ کم ہو ۔
؎ہیلو نل  75 ڈبلیو پی 200 سے 250 گرام  فی ایکڑ حفاظتی اسپرے کریں ۔
؎بیماری کے حملہ کی صورت میں تھائیومل یا تھائیو فینیٹ میتھائیل70 ڈبلیو پی 500 گرام فی ایکڑ کے حساب سے اسپرے کریں ۔
؎لہسن کی برداشت کے بعد فصل کے باقیات کو مکمل طور پر تلف کریں ۔
لہسن کی اچھی پیداوار کیلئے فصل کو جڑی بوٹیوں اور بیماریوں سے بچائیں! محکمہ زراعت پنجاب
محکمہ زراعت پنجاب راولپنڈی کے ترجمان کے مطابق گذشتہ سال 2014-15 کے دوران 7729 ایکڑ رقبہ لہسن کے زیر کاشت لایا گیا جس سے 25079 ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ سال 2015-16 کے دوران لہسن کا پیداواری رقبہ 8000 ایکڑ مقرر کیا گیا ہے جس سے 26300 ٹن پیداوار متوقع ہے۔ ترجمان کے مطابق لہسن کی اچھی پیداوار کیلئے فصل کو جڑی بوٹیوں اور بیماریوں سے بچانا ضروری ہے۔ لہسن کی فصل کو زیادہ نقصان چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں پہنچاتی ہیں جن کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ جڑی بوٹیوں کو بذریعہ گوڈی بھی تلف کیا جاسکتا ہے لیکن اگر لہسن کی فصل کے گھٹے پورے سائز کے ہوجائیں تو پھر گوڈی سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ لہسن کی فصل پر مختلف بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں جن میں زیادہ مشہور لہسن کے پتوں کی چوٹی کا سفید جھلساؤ، لہسن کے پتوں اور تنوں کا گلاؤ، ارغوانی جھلساؤ، روئیں دار پھپھوندی، لہسن کی کنگھی اور تھرپس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ترجمان نے لہسن کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں اور اگر کسی بیماری کا حملہ نظر آئے تو فوراً محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کرکے مناسب تدارک کریں۔
لہسن اور کدو کی کاشت بڑھائی جائے

لہسن
لہسن کی کاشت کے لیئے زمین بہت اچهی طرح تیار کریں گہرا ہل چلائیں
گوبر کی کهاد بهی ڈالیں
مگر اس کے دو نقصانات ہیں ایک تو جڑی بوٹیاں زیادہ اگتی ہیں اور دوسرا دیمک لگنے کا خدشہ هوتا ہے
زمین کو پانچ مرلہ کی کیاریوں میں تقسیم کر لیں تو زیادہ مناسب ہے
وقت کاشت اخیر ستمبر سے اکتوبر تک اچها ٹائم ہے کاشت کے لیے
کهاد. زمین کی تیاری میں چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ دو بوری امونیم نائٹریٹ اور ایک بوری پوٹاش
یہ محکمہ زراعت کی سفارش ہے مگر آپ اپنی زمین اور تجربے کے مطابق تبدیلی کر لیں.
دسمبر اور جنوری میں بهی امونیم نائٹریٹ استعمال کریں
اور اگر ایس او پی فلڈ کریں تو اچها رزلٹ آتا ہے.
شرح بیج.
لہسن کی تریاں 200 سے 250 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں
اگر چائنیز لہسن کاشت کریں تو شرح بیج بہت زیادہ هو گا
ویسے دیسی لہسن کی ڈیمانڈ زیادہ ہے.
دیسی میں دو اقسام ہیں
ایک گلابی
دوسری جی ایس ون یہ سفید رنگ کا هوتا ہے دیسی لہسن کی پیداوار 4 سے 5 ٹن هو سکتی ہے
چائنیز کی اس سے دو گنا
طریقہ کاشت
بجائی قطاروں میں کریں
قطار سے قطار کا فاصلہ 15 سے 20 سینٹی میٹر
پودے کا پودے سے فاصلہ 8سے 7 سینٹی میٹر
پوتهی کو زمین میں اس طرح لگائیں کہ جڑ والا حصہ زمین کے اندر اور نوک والاحصہ زمین کے باہر نظر آئے
کاشت کهیلیوں پر بهی هو سکتی ہے
میرا تجربہ ہے کہ کهیلیوں کے علاوہ کاشت سے پیداوار زیادہ آتی ہے بیج لگانے کے فوری بعد پانی لگا دیں
جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیئے دو طریقہ کار مباسب ہیں
ایک تو گوڈی جس جڑی بوٹیاں بهی تلف هوتی ہیں اور زمین بهی نرم رہتی ہے جس سے لہسن موٹا هوتا ہے
دوسرا طریقہ اگرچہ لہسن کی کاشت کے حوالے سے پاکستان میں زیادہ مروجہ نہیں مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ ہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے یعنی ملچنگ
اس کے لیئے اگرچہ پولیتهین شیٹ مارکیٹ میں دستیاب ہے مگر یہ مہنگا طریقہ ہے
اس ضمن میں چاول کی پرالی بہتریں آپشن ہے
ایک ٹوٹکا. دیہات میں اکثر میں نے دیکها ہے کہ لوگ لکڑی کی راکهه لہسن پر چهٹا کرتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ اسطرح لہسن زیادہ موٹا هوتا ہے
تهوڑی سی تحقیق کی تو معلوم هوا کہ لکڑی کی راکهه میں پوٹاش موجود هوتی ہے انجانے میں ہی سہی بہرحال یہ ایک کامیاب ٹوٹکا ہے
بیماریاں
لہسن کے پتوں کا جهلساو
لہسن کے پتوں اور تنوں کا گلاو
چوٹی کا سفید جهلساو
بیماری کی حالت میں پانی کم لگائیں کسی اچهی پهپهوندی کش اسپرے کا استعمال کریں
میں نے اس سلسلے میں ریڈومل گولڈ کو بہترین پایا اور کبهی کبهار اس میں ٹاپسن ایم بهی شامل کر کے استعمال کرتا رہا هوں.
تهرپس کا حملہ بهی هوتا ہے اس کا بهی خیال رکهیں.
مارکیٹنگ
میرے خیال میں یہ ایک منافع بخش سبزی یا مصالحہ ہے پچهلے سال دیسی لہسن کا ریٹ 80 سے 100روپے منڈی میں رها
لہسن کو مارکیٹ کرتے وقت یہ خیال رکهیں کہ کبهی بهی سارا لہسن ایک بار ہی منڈی میں نہ بهیجیں اور منڈی کے حجم کا بهی خیال رکهیں....


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget