تازہ ترین اشاعتیں

زیتون کی کاشت کے ذریعے ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچا کر ملکی معیشت پر پڑنے
والے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔زیتون کی کاشت کے لیے گرم معتدل درجہ حرارت والے علاقے موزوں ہیں۔ اس کی کاشت ان علاقوں میں ہوسکتی ہے جہاں شدید سردی نہ پڑتی ہو۔ زیتون میں کلیاں بننے کے لیے سردیوں میں تقریباً دو ماہ کے عرصہ کے لئے روزانہ درجہ حرارت کا اتار چڑھا 1.5اور 15.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنا چاہےے۔ ٹھنڈک کی یہ ضرورت پوری نہ ہونے کی صورت میں پھول اور پھل نہیں بنتے۔ البتہ پھول بننے کے بعد کورا اور سرد ہوا سے پھولوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا وہ خطے جہاں اوائل بہار کے بعد کورا پڑتا ہو اس کی کاشت کےلئے موزوں نہیں ہےں۔ پنجاب میں پوٹھوہار کا خطہ اپنی مخصوص آب وہوا کی وجہ سے زیتون کی کاشت کےلئے نہایت موزوں ہے۔ کالا چٹا پہاڑ، چوآسیدن شاہ، کلر کہار، وادی سون اور چینجی فارسٹ میں جنگلی زیتون کثرت سے موجود ہے۔ تجربات کے بعد زیتون کی چند اچھی اقسام شمالی پنجاب کےلئے موزوں پائی گئی ہیں جو اس آب و ہوا میں اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ اچھے آبی نکاس والی ریتلی سے میرا زمین جس کی پی ایچ(PH ) 5.5سے 8.5 کے درمیان ہو اس میں زیتون کو کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔ کامیاب کاشت کےلئے زمین کا زرخیز ہونا ضروری ہے۔ اگر پانی کا نکاس اچھا نہ ہو تو چند ہفتے جڑوں کے ارد گرد پانی کھڑا رہ جانے سے پودے مر جاتے ہیں۔ اگست اور فروری کے مہینے زیتون کے پودے لگانے کےلئے موزوں ہیں۔ پہلے ایک سال کے دوران موسم کی شدت اور پانی کی کمی سے پودوں کو بچانا نہایت ضروری ہے۔زیتون کی افزائش نسل کے کئی طریقوں میں افزائش بذریعہ قلم کو زیادہ بہتر پایا گیا ہے۔ قلموں کی جڑیں عموماً مشکل سے بنتی ہیں۔ جڑیں حاصل کرنے کےلئے قلمیں لگانے سے پہلے نچلے 1/2 انچ پر3000ppmانڈول بیو ٹائرک ایسڈ (IBA) کے استعمال سے اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں زمین اور ہوا میں اچھی خاصی نمی کا ہونا بھی جڑ بننے کےلئے ضروری ہے۔ درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ (3+)اور فضا میں نمی 90فیصد مناسب عوامل ہیں۔ قلمیں بھی دونوں موسموں یعنی مون سون (برسات) اور فروری میں لگائی جاسکتی ہیں۔ زیتون کو اکثر دیگر پھل دار پودوں کے مقابلے میں پانی کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی اس کی بڑھوتری اور اچھی پیداوار کے لئے اہم ہے۔

پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے تو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر یہاں آبادی فی مربع کلومیٹر بہت کم ہے۔ معدنیات سے مالا مال اس علاقے میں لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش بارانی کاشتکاری اور غلہ بانی ہے۔ پھلوں کے باغات اور خشک میوہ جات بھی یہاں کی خاص سوغاتیں ہیں۔
لیکن شورش زدہ اس صوبے میں پانی کی کمی کے باعث زراعت، خصوصاً پھلوں کے باغات متاثر ہو رہے تھے۔ اس مسئلے کے حل اور زمینداروں کو نقد آور فصل تیار کرنے کے لیے زرعی تحقیقاتی مرکز بلوچستان نے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے جسے ’او لِو پراجیکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر محمد اسلم چوہان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت انگور، پستہ اور انار کے ساتھ اب زیتون بھی متعارف کراویا گیا ہے اور ان کے بقول کیونکہ سیب کے درخت کو پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لہذا پانی کی قلت کے پیش نظر زیتون کا درخت بہت مفید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت کو سال میں صرف چار یا پانچ بار پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ پر لگائے گئے زیتون کے پھل سے 500 لیٹر خوردنی تیل حاصل کیا جا سکتا ہے’’اور بین الاقوامی سطح پر مانگ زیادہ ہونے کے باعث 500 لیٹر تیل سے کم ازکم پانچ لاکھ روپے کمائے جا سکتے ہیں۔‘‘
اس وقت صوبے کے دو اضلاع خضدار اور ژوب میں 2,000 سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں جن سے پیداوار بھی شروع ہو گئی ہے۔
زرعی تحقیقاتی مرکز بلوچستان کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے 19 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے پر کام شروع کر رکھا ہے اور اب کوئٹہ، پشین، شیرانی، ہرنائی، موسیٰ خیل، بارکھان، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، لسبیلہ کے اضلاع کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔
اسلم چوہان کے مطابق تحقیق کے بعد صوبے کے 12 اضلاع میں زمینداروں کو مفت یا بہت ہی کم قیمت پر زیتون کے پودے دیے جائیں گے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اٹلی سے دو مشینیں منگوائی گئی تھیں جن سے اب لورالائی اور خضدار میں کام لیا جارہا ہے اور دوسرے اضلاع میں بھی زیتون کا تیل نکالنے والی یہ مشینیں لگا کر بیرون ملک سے اس خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔
زیتون سے تیل نکالے جانے کے بعد اس کا فضلہ بھی اسلم چوہان کے بقول بہت کارآمد ہوتا ہے جسے بطور کھاد، جانوروں کی خوراک، صابن یا فارمیکہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی زراعت میں صوبہ پنجاب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی
کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے خوردنی تیل کی درآمد پر ہر سال کثیر زرمبادلہ خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے زرعی تحقیق اور جدید کاشتکاری کو اپناتے ہوئے خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران خوردنی تیل کی مقامی پیداوار میں کسی حد تک اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اضافہ خوردنی تیل کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے۔
زیتون اپنی غذائیت، رنگت اور خوشبو کی وجہ سے بیحد مقبول ہے، جس کی دنیا میں ایک ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ زیتون کا تیل انسانی صحت کیلئے انتہائی مفید ہے جسکے اثرات دل کی بیماریوں، پٹھوں کی مضبوطی اور دماغی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے بھی کارآمد ہیں۔ پاکستان میں زیتون کی کاشت کیلئے پوٹھوہار کا علاقہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ زیتون کا پودا ہر قسم کی زمین میں، جہاں پانی کی مناسب مقدار موجود ہو، کاشت کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی کاشت کیلئے زمین کی تیزابی خاصیت ۵ء۵ سے ۵ء۸ تک ہونی چاہئے۔ زیتون کے درخت کی نشوونماء کیلئے ایسی آب وہوا جہاں گرمیوں میں موسم خشک، سردیوں میں درجہ حرارت کچھ عرصہ کیلئے ۷ ڈگری سینٹی گریڈ سے کم اور زیادہ بارشیں ہوتی ہوں، بہت مناسب ہے۔ مذکورہ موسمی حالات میں زیتون کا پودا اچھی طرح پھلتا پھولتا ہے۔
زیتون کی افزائش نسل زیادہ تر بذریعہ قلم کی جاتی ہے، جبکہ بعض اقسام کو پیوند کاری کے ذریعے بھی کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔ زیتون کا درخت عموماً ۳ سے ۴ سال کے عرصہ میں پھل دینا شروع کردیتا ہے اور اس کی اچھی اقسام سے ہر سال ۲۰ سے ۲۵ کلوگرام فی پودا پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ زیتون کی کاشت موسم بہار (فروری، مارچ) اور مون سون (اگست، ستمبر) میں کی جاتی ہے۔ زیتون کے پودوں کو ہموار جگہوں پر قطاروں میں لگایا جاتا ہے اور قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً رکھا جاتا ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ۲۰ فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ بھی ۲۰ فٹ ہونا چاہئے۔ کاشت سے قبل زمین پر پودوں کیلئے نشانات لگا کر ۲ فٹ گہرے اور ۲ فٹ چوڑے چوکور گڑھے کھودیں اور انہیں تقریباً ۲ ہفتے تک کھلا رکھیں۔ ان گڑھوں سے نکالی گئی بالائی مٹی ۲ حصے اور گوبر کی گلی سڑی کھاد ایک حصہ لے کر اچھی طرح ملانے کے بعد گڑھے کو مٹی سے بھر دیں اور خوب پانی ڈالیں تاکہ مٹی اچھی طرح بیٹھ جائے۔ گڑھوں کو کھلا پانی دینے کے ۲ سے ۳ ہفتے بعد پودوں کی جڑوں یا گاچی کی ضرورت کے مطابق گڑھے کھود کر پودے لگائیں، جبکہ بذریعہ پیوند کاری تیار کئے گئے پودے کے پیوند کا جوڑ بوقت کاشت مٹی سے باہر ہونا ضروری ہے۔
زیتون کا پودا خشک سالی کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتا ہے لیکن موسمی حالات کے مطابق چھوٹے پودوں کو حسب ضرورت ۴ سے ۱۰ دن جبکہ بڑے پودوں کو ۱۵ سے ۲۰ دن کے وقفہ سے آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیتون کی بہتر پیداوار کے لئے پھول آنے سے پہلے، پھل بننے کے بعد اور پھل پکنے سے ایک ماہ پہلے تک پودوں کو آبپاشی کی ضروری ہوتی ہے۔ ڈرپ یا ببلر اریگیشن آبپاشی کے جدید طریقے ہیں جن کی مدد سے دستیاب پانی کو باکفایت طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اور زیادہ رقبہ پر زیتون کی کاشت کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ زیتون کی بڑھوتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے کھاد کی فراہمی خاص اہمیت رکھتی ہے، اسلئے پودوں کی عمر کے لحاظ سے دیسی و کیمیاوی کھادوں کا بروقت استعمال بہت ضروری ہے۔ پودوں کو متوازن شکل میں رکھنے کیلئے کاٹ چھانٹ کا عمل بھی ضروری ہے۔ یہ عمل پودے لگانے کے ساتھ ہی شروع کردیا جاتا ہے تاکہ پودے ابتداء ہی سے سیدھے اور متوازن شکل میں رہیں۔ بہتر نشوونماء کیلئے بڑے پودوں کی سوکھی، بیمار اور ایک دوسرے سے الجھی ہوئی شاخوں کو کانٹ چھانٹ کے دوران کاٹ دیا جائے۔
زیتون میں از خود اور مخلوط دونوں طرح کی بار آوری پائی جاتی ہے۔ اسکی ترقی دادہ اقسام میں از خود بارآوری ہوتی ہے اسلئے مخلوط بارآوری کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ باغات میں زیتون کی بیک وقت کم از کم ۳ اقسام کاشت کی جانی چاہےءں تاکہ اگر از خود بارآوری نہ ہو تو مخلوط بارآوری یقینی طور پر ہوسکے۔ زیتون کے پودوں پر زیتون کی مکھی، بارک بیٹل اور وولی ایفیڈ حملہ آور ہوتی ہیں، جبکہ مون سون میں نمی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے وولی ایفیڈ کا حملہ شدید ہوجاتا ہے۔ زیتون کے درخت کی دیگر بیماریوں میں پیکاک لیف اسپاٹ اور کینکر یا بیکٹریل ناٹ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ زیتون کے کاشتکار بیماریوں اور کیڑوں کے تدارک کیلئے محکمہ زراعت کے ماہرین سے رابطہ میں رہیں۔


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget