تازہ ترین اشاعتیں

دالوں کی اہمیت: پاکستان میں قدیم زمانہ سے پھلی دار فصلوں کے بیجوں کو اناج دار فصلوں کے ساتھ کھانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔دالوں کی اہمیت قدیم کہاوت دال روٹی اور دال چاول سے واضح ہوتی ہے کہ جسے قدیم زمانہ سے روزانہ کی خوراک کا حصہ شمار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ ان دالوں کا شمار صحتمند اور متوازن غذا کے طور پر ہوتا ہے۔ دالوں میں فا ئبرز اورپروٹین کی وافر مقدار پائی جا تی ہے۔ دالوں میں فائبرز کی دونوں اقسام پائی جاتی ہیں: سالوبل فائبرز (i) نان سالوبل فائبرز (ii) پہلی قسم کیفائبرز خون میں کولیسٹرول کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ خون میں شوگر (شکر)کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے فائبرز دالوں کو زیادہ زود ہضم بناتے ہیں ۔ اس طرح دالیں انسانوں میں کینسر ، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

مونگ کا تعارف:

مونگ باقی دالوں کی طرح ایک پھلی دار فصل ہے ۔ جس کا بیج کھانے میں بطور دال استعمال ہوتا ہے۔ مونگ کا شمار موسم خریف کی اہم فصلات میں ہوتا ہے۔ مونگ ایک کم مدت میں پکنے والی فصل ہے جوکہ 80-90 دن میں پک کر تیار ہو جاتی ہے ۔ مونگ کوبراہ راست کھانے کے علاوہ اور بہت ساری کھانے کی اشیا میں بطور خام مال استعمال کیاجاتا ہے۔

مونگ کے پیداواری اعدادوشمار:

دالیں پاکستان میں تقریباً 6.2 ملین ہیکٹرز پر کاشت کی جاتی ہیں اور پیداوار کا زیادہ تر حصہ صوبہ پنجاب میں کاشت کیا جاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2016-17 کے دوران تمام دالوں کی کاشت میں مونگ کی مجموئی پیداوار صوبہ پنجاب میں 93% ، صوبہ خیبر پختونخواہ میں 4% ، صوبہ بلوچستان میں 2% جبکہ صوبہ سندھ میں صرف ایک فیصدریکارڈ کی گئی۔ جس کے مطابق صوبہ پنجاب کی پیداوار 120900 ٹن ، صوبہ خیبر پختونخواہ کی 4900 ٹن ، صوبہ بلوچستان 3100 ٹن جبکہ صوبہ سندھ کی پیداوار 1300 ٹن ریکارڈکی گئی۔

مونگ کی غذائی اہمیت:

مونگ غذائیت سے بھرپور فصل ہے جس میں تقریباً 22-24 فیصد تک پروٹین پائی جاتی ہے۔ جس وجہ سے مونگ کو گوشت کا لحمیاتی نعم البدل کہا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مونگ کی دال میں کیلشیم ، آئرن اور فاسفورس پایا جاتا ہے۔ مونگ کی دال باقی دالو ں کی نسبت جلدی ہضم ہو جاتی ہے جس وجہ سے مریضوں کو سفارش کی جاتی ہے۔ مونگ میں وٹامن A اور C پایا جاتاہے ۔ ان تمام خوبیوں کے پیش نظر مونگ کی دال دل اور معدے کے لیے انتہائی مفید ہے۔

زرعی اہمیت:

مونگ ایک پھلی دار فصل ہے ۔ جس کی جڑوں میں بیکٹیریا (جراثیم ) پائے جاتے ہیں جو ہوا کی نائٹروجن کو فکس کر کے پودوں کے استعمال کے قابل بناتے ہیں۔ جس سے زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے ۔ یہ جراثیم ایک سال میں تقریباً 25 کلو گرام فی ایکڑ نائٹروجن فکس کر تے ہیں۔ اس لیے مونگ کی کاشت کے بعد اس کھیت میں جو فصل کاشت کی جائے اسکی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ مونگ کی پھلیاں چن لی جاتی ہیں اور باقیات کو زمین میں روٹاویٹر کی مدد سے مکس کر دیا جاتا ہے ۔ جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

آب و ہوا:

مونگ کی کاشت کے لیے گرم اور خشک موسم زیادہ موزوں ہے ۔ مونگ کی کاشت سال میں دو دفعہ کی جاتی ہے ۔ مارچ میں کا شت ہونیوالی مونگ کو اگر جون اور جولائی کے دوران زیادہ گرمی کا سامنا کرنا پڑے تو مونگ کے دانے سکڑجاتے ہیں اور پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ جبکہ موسمی کاشت میں اگر بارشیں زیادہ ہو جائیں تو پودوں کو پھلیاں کم لگتی ہیں۔ اس لیے ایک سے دو بارشیں پیداوار میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

زمین کی تیاری:

میرا اور ہلکی زمین مونگ کی اچھی پیداوار کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔ جبکہ بھاری زمینوں میں مونگ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس سیم و تھور زدہ زمینوں میں مونگ کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ بیج کی بوائی سے پہلے کھیت میں دو دفعہ ہل چلا کر سہاگہ دیا جاتا ہے۔ اگر کھیت میں پہلے والی فصل کی باقیات یا مڈھ وغیرہ ہوں تو روٹا ویٹر چلا کر سہاگا دیا جاتا ہے۔

شرح بیج اور طریقہ کاشت:

مونگ کی کا شت دو طرح سے کی جاتی ہے ۔ (1 ) روائتی طریقہ کاشت یعنی چھٹے کا طریقہ (2) کاشت بذریعہ ڈرل عام روائتی طریقہ سے کاشت کی صورت میں شرح بیج 10-12 کلو گرام فی ایکڑ جبکہ بذریعہ ڈرل کاشت کے لیے 8-10 کلو گرام بیج استعمال کیا جاتا ہے۔ بھاری زمینو ں میں بیج کی شرح کم کی جاتی ہے ۔

کھاد :

مونگ کی فصل کو البتہ کم کھاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے لیے بہتر حل یہ ہے کے کھاد کے مناسب استعمال کے لیے زمین کا تجزیہ کرایا جائے اور فصل کی ضرورت کے مطابق منا سب کھاد دی جائے ۔ لیکن اگر تجزیہ نہ کروانے کی صورت میں نائٹروجن 9 کلو گرام ، فاسفورس 23 کلو گرام جبکہ پوٹاش 12 کلو گرام فی ایکڑ دی جائے تو اچھی پیداوار لی جا سکتی ہے۔ مو نگ کی فصل کو نائٹروجن کی کھاد کم دی جاتی ہے کیونکہ اس کی جڑوں میں موجود جراثیم ہوا سے نائٹروجن کو فکس کر تے ہیں جو پودے اپنے استعمال کے علاوہ اگلی فصل کے لیے زمین میں زخیرہ کرتے ہیں ۔ جسکی وجہ سے اگلی فصل کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

ٓآبپاشیاں :

مونگ گرم اور خشک علاقہ کی فصل ہے اس لیے اسے کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ما رچ میں کاشت ہو نے والی مونگ کو 3-4 آبپاشیا ں جبکہ موسمی مونگ کا شت کے لیے 2-3 آبپا شیاں درکار ہوتی ہیں ۔ اس دوران بارش کی صورت میں آبپاشیوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے۔

بیج کی منظورشدہ اقسام:

پانی کی دستیا بی اور علاقہ کی مناسبت سے بیج کی درج ذیل اقسام کاشت کی جاتی ہیں: صوبہ پنجاب کے نہری علاقوں میں منظور شدہ اقسام NM-2006, NM-2011, NM-2016 NM-2016, Azri Mung-2006, Punjab-2010, جبکہ بارانی علاقوں کے لیے چکوال ایم ۔97 ، چکوال ایم ۔6 اور مونگ ۔88 کاشت کی جاتی ہیں۔

مو نگ کی جڑی بوٹیاں:

مو نگ کی فصل درمیانہ قد والی فصل ہے جسکی وجہ سے جڑی بوٹیاں خاصہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ مارچ میں کاشت ہو نے والی مونگ کی جڑی بوٹیوں میں باتھو، کرنڈ ، دُھمبی سٹی اور جنگلی پالک وغیرہ جبکہ خریف کاشتہ مونگ میں اٹ سٹ ، تاندلہ ، مدھانہ گھاس اور جنگلی چولائی وغیرہ پائی جاتی ہیں۔

مونگ کی کاشت میں زنک لائی سین چیلیٹ کا استعمال :

زنک کا کردار پودوں میں اجزائے صغیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ البتہ پودوں کی بہتر پیداوار کے لیے زنک کی کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیے مونگ کی کا شت میں زنک کے استعمال سے نہ صرف پیداوار میں اضا فہ ہوتا ہے بلکہ مونگ کی غذائی معیار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ ترقی پزیر ممالک میں مال نیوٹریشن جیسے موزی مسلئے کی ایک وجہ خوراک میں زنک کی کمی بھی شما ر کی جاتی ہے۔ لہذا اس مسلئے سے بچاؤ کے لیے مونگ کی کاشت کے لیے زنک لائی سین چیلیٹ کا سپرے سفا رش کیا جاتا ہے۔ جس سے مونگ کے پودوں کی نہ صرف نشو و نما بہتر ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور غذائی اعتبار سے اس میں زنک کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے جس سے خوراک کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

زنک لائی سین چیلیٹ کا طریقہ استعمال :

0.5 فیصد زنک لائی سین چیلیٹ کا محلول بنا کر 25-30 دن کی فصل پر سپرے کیا جاتا ہے۔ زنک لائی سین چیلیٹ کے سپرے سے پودوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ پودوں میں بائیوٹک اور اے۔بائیوٹک سٹریسز کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔

زنک لائی سین چیلیٹ کے نتائج :

اس مقصد کے لیے زنک لائی سین چیلیٹ کے مختلف کنسنٹریشنز (0.25, 0.5, 0.75 اور 1.0 فی صد) کے محلول بنا کر 25-30 دن کی مونگ کی فصل پر سپر ے کیا گیا ۔ جس سے نہ صرف پودوں کی نشونما بہتر ہوئی بلکہ پودوں کے پتوں کے سائز ،جڑوں اور پودوں کی لمبائی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ویسے تو تمام پودے جن پر زنک لائی سین چیلیٹ کے محلول کا سپرے کیا گیا تھا ان میں کنٹرول پودوں کے مقابلے میں بہتری محسوس کی گئی لیکن سب سے اچھے نتائج0.5 فی صد محلول والے پودوں میں دیکھا گیا۔ ان تجربات سے یہ نتائج اخذ کیے گئے کہ 0.5 فی صد زنک لائی سین چیلیٹ کے محلول کا مونگ کے پودوں پر سپرے کرنے سے پودوں کی بڑھوتری میں اضافہ ہوتا ہے جس سے مونگ کی پیداواری صلاحیت بھی بڑھتی ہے اور مونگ کی دانوں میں زنک کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے ۔ اس لیے مونگ کے کاشتکاروں کو سفارش کی جاتی ہے کہ مونگ کی معیاری اور اچھی پیداوار لینے کے لیے 0.5 فی صد زنک لائی سین چیلیٹ کے محلول کا25-30 دن کی فصل پر سپرے کیا جائے۔

وقت برداشت اور پیداوار:

مونگ کی فصل چونکہ کم مدت میں پکنے والی فصل ہے اس لیے 80-90 دن میں برداشت کے قابل ہو جاتی ہے ۔ فصل کی برداشت کے صحیح وقت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جب مونگ کی 65-75 فی صد پھلیاں پک کر تیار ہو جائیں تو پھلیاں چن لی جانی چا ہیے ورنہ تاخیر کی صورت میں دھوپ اور گرمی سے پھلیوں سے دانے گرنا شروع ہو جاتے ہیں جسے شیٹرنگ کہا جاتا ہے جس سے پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اچھی فصل سے 22-25 من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

مرچ کا آبائی وطن پیرو, میکسیکو اور گوئٹے مالا ہے. وہیں سے یہ امریکہ اور ایشیاء تک پھیلی ہے. مرچ سولانیسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے. اس کا نباتاتی نام کیپسی کم اینم ہے. بر صغیر پاک وہند میں اس کا تعارف سترہویں صدی میں پرتگیوں کی آمد سے شروع ہوا. یہ دنیا میں 17 لاکھ 76 ہزار ہیکٹر رقبہ پر کاشت ہوتی ہے. جس سے 71 لاکھ 82 ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے. مرچ کی ایکسپورٹ میں انڈیا, چائنا, سپین, میکسیکو اور پاکستان کا بالترتیب 26, 20, 18, 9, 8 فیصد حصہ ہے. جبکہ یہ فصل پاکستان میں 48000 ہیکٹیر رقبہ کاشت ہوتی ہے. جس سے تقریباً 90 ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے. مرچ کا کڑوا پن اور خوشبو اس میں موجود کیپسینولڈ کے سبب ہے. اس جوہر میں تقریباً 16 ملین ہیٹ یونٹ ہوتے ہیں. جبکہ عام طور پر مرچوں کی اقسام میں 1000 سے 5000 ہیٹ یونٹ ہوتے ہیں مرچ میں موجود کیپوسین خون میں کولیسٹرول اور ٹرايی گلاسیرایڈ کو کم کرتی ہے. اور دل کے دورہ سے بچاتی ہے.

آب وہوا

مرچ کے پودے کی نباتاتی بڑھوتری اور نشونما کیلئے مرطوب آب وہوا اور 20 تا 25 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے. سرخ مرچ کی کوالٹی اور زیادہ پیداوار کیلئے خشک موسم درکار ہوتا ہے. جب زمینی درجہ حرارت 10 سینٹی گریڈ پر پہنچتا ہے تو پودے کی نشوونما رک جاتی ہے. بیج کا اگاؤ 18 تا 20 سینٹی گریڈ پر بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے. جبکہ 13 سینٹی گریڈ سے کم اگاؤ صیحیح نہیں ہوتا. اگر پھول و پھل آنے پر درجہ حرارت 37 سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے تو پھول جھڑ جاتے ہیں. پھل نہیں لگتا, پودے کی نشوونما اور پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے جبکہ یہ فصل کورے کو بھی بالکل برداشت نہیں کرتی. اسی لئے اگیتی اور بے موسمی فصل کے حصول کیلئے پلاسٹک ٹنل اور گرین ہاؤس کا رواج فروغ پا رہا ہے

. پنیری کی کاشت :

اگیتی یا بہاریہ فصل کیلئے مرچ کی نرسری کا کاشت اکتوبر کے آخری ہفتہ سے نومبر کے آخری ہفتہ تک کی جاتی ہے. یہ نرسری ما فروری میں کھیت میں اس وقت منتقل کی جاتی ہے جب کورے کا خطرہ نہ رہے. مرچ سرد موسم برداشت نہیں کرتی. لٰہذا بہاریہ فصل کی نرسری کو کورے سے بچانے کیلئے چھوٹی پلاسٹک ٹنل, سر کنڈے یا کھوری کا استعمال بہت ضروری ہے. پچھیتی فصل کے حصول کیلئے مئی جون میں نرسری لگا کر جون جولائی میں کھیت میں منتقل کر دی جاتی ہے. لیکن اس موسم میں فصل پر وائرسی اور پھپھوند کی بیماریوں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے.

شرح بیج اور نرسری کی تیاری :

ایک ایکڑ رقبہ کیلئے پنیری تیار کرنے کیلئے پنیری تیار کرنے کیلئے 4 تا 5 مرلے اچھی زمین جو کہ جزوی سایہ دار ہو منتخب کر لی جائے. زمین کی تیاری سے پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب دو من فی مرلہ اچھی طرح زمین میں ملا دی جائے. زمین اچھی طرح ہموار کرکے ایک میٹر چوڑی اور حسبِ ضرورت لمبی اور اونچی کیاریاں بنائی جائیں. ایک ایکڑ رقبہ کی فصل کیلئے آدھا کلو گرام بیج لائنوں میں کاشت کیا جائے. لائنوں کا درمیانی فاصلہ 8تا 10 سینٹی میٹر ہونا چاہئے تا کہ بعد میں جڑی بوٹیوں کا تدارک آسان ہو سکے. بیج کو ایک سینٹی میٹر گہرائی پر کاشت کریں اور بعد میں مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں. بجائی کے بعد کیاریوں کو سرکی, کھوری یا پرالی سے اچھی طرح ڈھانپ دیں. کیاریوں کو ڈھانپنے کے بعد آبپاشی اسطرح کریں کہ زمین بیج کے اگاؤ تک وتر حالت میں رہے. نرسری میں جڑ کے اکھیڑے کی بیماری حملہ آور ہو سکتی ہے. اسکے پیشگی تدارک کیلئے ڈائی تھین ایم 45 بحساب 2.5 گرام فی لیٹر پانی ہفتہ کے وقفہ سے دو دوفعہ استعمال کریں. اگر دوائی کا حصول مشکل ہو تو نیلا تھوتھا بحساب 2 گرام فی لیٹر پانی کے حساب سے استعمال کریں. یاد رہے کہ کافی مقدار میں بیج کھیت کے کیڑوں, مکوڑوں کی نظر ہو جاتا ہے. اس نقصان سے بچنے کیلئے نرسری کے اردگرد کیڑے مار ادویات کا استعمال بہت ضروری ہے

کھیت کی تیاری:

مرچ کیلئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہت اچھ ہو منتخب کرنی چاہئے. کاشت سے دو ماہ پہلے ایک بارمٹی پلٹنے والا ہل چلا کر زمین اچھی طرح ہموار کر لیں اور 20 تا 25 ٹن فی ایکڑ گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالیں اوع زمین میں اچھی طرح مکس کر کے سہاگہ چلائیں. بعد ازاں کھیت کو پانی لگا دیں. تا کہ کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کی بیج اُ گ آیئں. پنیری سے پہلے دو تین بار سہاگہ چلا کر زمین بجائی کیلئے تیار کریں. اور75 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پٹڑیاں بنا لیں
مرچ کے لیئے مندرجہ ذیل اقسام کاشت کی جاتی ہیں
گولا پشاوری, صنم, سکائی لائن, دوغلی اقسام

پودوں کی منتقلی:

جب مرچ کی پنیری یا پود 8 تا 10 سینٹی میٹر ہو جائے تو کھیت میں منتقل کف دیں. کھیت میں پود کی منتقلی سے پہلے, پٹڑیوں کی درمیانی نالیوں میں پانی چھوڑ دیں. پھر کھڑے پانی میں 30 تا 45 سینٹی میٹر کے فاصلہ پر پٹڑی کے مشرقی سمت میں پودے لگائیں. کاشت کے تین چار دن بعد دوبارہ ہلکی آبپاشی کریں. شروع میں ہفتہ وار آبپاشی کا وقفہ ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔

کیمیائی کھادوں کا استعمال:

مرچ کی کامیاب فصل کیلئے 66 کلو نائٹروجن, 46 کلوگرام پوٹاش کی ضرورت ہوتی ہے. اس مقصد کیلئے 2 بوری ڈی اے پی اور 1 بوری پوٹاش زمین کی تیاری کے وقت استعمال کریں. جب پودے اچھی طرح پکڑ لیں تو ایک بوری امونیم نائٹریٹ یا آدھی بوری یوریا ڈال دیں. خود رو پودوں کو تلف کرنے کیلئے تین چار گوڈیوں کی ضرورت پڑتی ہے. لہذا باقی ماندہ نائٹروجن ایک ایک مہینہ کے وقفہ سے امونیم نائٹریٹ ڈال کر پوری کر دی جائے. اس عمل سے پودوں کی صحت اور پیداوار پر مثبت اثرات پڑتے ہیں. دوغلی اقسام کاشت کرنے والے کسان بیج مہیا کرنے والے کسان بیج مہیا کرنے والی کمپنی کی ہدایات کے مطابق کھادوں کا استعمال کریں۔

گوڈی اور جڑی بوٹیوں کا کیمیائی تدارک :

جڑی بوٹیاں پیداوار پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہیں. لہذا انکا تدارک انتہائی ضروری ہے. اگر پود کی منتقلی سے پہلے جڑی بوٹی مار ادویات مثلاً ڈوال گولڈ بحساب 800 سی سی یا سٹامپ بحساب ایک لیٹر فی ایکٹر استعمال کر لی جائے تو چار پانچ گوڈیوں کی بچت ہو جاتی ہے. جب پودے بہتر طریقہ سے نشوونما پارہے ہوں تو پھول نکالنے سے پہلے اچھی طرح گوڈی کر کے پودوں کو مٹی چڑھا دینا بہت ضروری ہے. پودوں کو مٹی چڑ ھانے سے پانی براہ راست پودے کے تنے کو نہیں چھوتا جس سے فصل بہت سی بیماریوں مثلاً ( تنے کی بیماری) سے کافی حد تک بچ جاتی ہے۔
بیماریاں:
مرچوں پر نرسری کا جھلساؤ, پھل اور تنے کا جھلساؤ, وائرسی بیماریاں اہم ہیں. ان بیماریوں کی پہچان اور تدارک ملا حظہ فرمائیں۔

نرسری کا جھلساؤ

یہ پھپھوند سے لگنے والی عام بیماری ہے. گہرے بھورے ہم مرکز دھبے پہلے پتوں کی نچلی سطح پر پیدا ہوتے ہیں جو بعد میں بالائی پتوں پر ظاہر ہوتے ہیں آہستہ آہستہ تمام پتوں, شاخوں اور پھل کی ڈنڈی پر پھیل جاتے ہیں. بیماری کے حملہ کی شدت کی صورت میں پودا جھلسا ہوا نظر آتا ہے. اس بیماری کےلئے 24 -30 سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور ہوا میں 60 فیصد یا اس سے زیادہ نمی بہت موزوں ہے
تدارک
قوت مدافعت کی حامل اقسام کو کاشت کیا جائے. بیج کو پھپھوند کش زہر مینکوزیب اور سینکوزیب بحساب 2 گرام فی کلو گرام بیج لگانی چاہئے. حفاظتی پھپھوند کش زہر انٹرا کال کا مینکوزیب اور سینکوزیب 10 دن کے وقفہ سے باری باری سپرے کی جائیں. برداشت کے بعد فصلات کے بچے کھچے حصوں کو جلا دیا جائے

پھل اور تنے کا جھلساؤ

یہ بیماری ایک خاص قسم کی پھپھوند سے لگتی ہے. یہ پتوں شاخوں اور پھلوں کو متاثر کرتی ہے. پودوں کی بالائی شاخیں سب سے پہلے متاثر ہوتی ہیں. اور سوکھنا شروع ہو جاتی ہیں. جو پھل لگا ہوتا ہے. وہ سوکھ جاتا ہےا ور مزید پھل نہیں لگتا. مرچوں کی پھلیوں پر سیاہی مائل بھورے نوکدار یا گول دھبے ظاہر ہوتے ہیں. یہ دھبے آہستہ آہستہ بڑھتے اور بھورے ہو جاتے ہیں. اور پھل خشک ہو جاتا ہے. اگر متاثرہ پودے زیادہ عرصہ تک زمین میں رہیں تو جڑیں گل جاتی ہیں. یہ خاص کر مرطوب موسم میں کمزور فصل پر تیزی سے حملہ کرتی ہے. اور پودے مر جاتے ہیں. بیمار پودوں کے خس و خاشاک اور بیج پھیلنے کا سبب بنتے ہیں

تدارک

بوائی سے پہلے تاپسن ایم یا مینکوزیب پھپھوندکش زہر بحساب 2 گرام فی کلو گرام بیج لگائی جائے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر ڈائی تھین ایم. 45 یا کیپٹان یا مینکوزیب یا ٹاپسن ایم کا محلول بحساب 2 گرام زہر فی لیٹر پانی تیار کر کے فصل پر سپرے کیا جائے. یہ خیال رہے کہ پورے پورے یکساں طور پر محلول سے بھیگ جائیں. اس عمل کو ہفتہ عشرہ کے وقفہ پر دہرایا جائے
جس کھیت میں بیماری کا حملہ ہو وہاں آئندہ سال مرچ کاشت نہ کی جائے. کھادوں اور پانی کے مناسب استعمال سے اس بیماری کے حملہ کو کم کیا جاسکتا ہے

وائرسی بیماریاں

وائرس ایکس بھی مرچ کی فصل پر حملہ آور ہوتی ہے. اور ہلکے اور گہرے سبز رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں. جبکہ وائرس وائی سے پتوں پر چتکبراپن, پتوں کی رگوں کے گرد سبز رنگ کگ بند اور ابھار اور شکنیں پڑجاتی ہیں. پودوں کی شکل بگڑ جاتی ہے اور قد چھوٹا رو جاتا ہے

تدارک

قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کا کاشت کیا جائے. شدید متاثرہ پودوں کو تلف کیا جائے. رس چوسنے والے کیڑوں کا مکمل تدارک کیا جائے

ضرر رساں کیڑے:

دیمک, چور کیڑا, چست تیلہ, مرچوں کے اہم کیڑے ہیں. ان کیڑوں کی پہچان اور تدارک ملا حظہ کریں۔

دیمک

یہ کیڑا زیر زمین گہرائی میں اپنا گھر بناتا ہے. جس میں یہ کیڑا ایک خاندان کی صورت میں رہتے ہیں جن میں ایک ملکہ, بادشاہ اور کارکن ہوتے ہیں. نقصان صرف کارکن پہنچاتے ہیں. یہ کیڑے پودوں کی جڑوں اور زیر زمین تنوں پر حملہ کرتے ہیں اور ان کو کھاتے ہیں. حملہ شدہ پودے پہلے مرجھاتے ہیں اور بعد میں خشک ہو جاتے ہیں

تدارک

کچی گوبر کی کھاد استعمال کرنے سے حملہ بڑھ جاتا ہے. حملہ شدہ کھیتوں میں بھر کر پانی لگانے سے حملہ کم ہو جاتا ہے. اپریل سے جون پانی کی کمی کی وجہ سے حملہ بڑھ جاتا ہے اس سے ان مہینوں میں پانی لگانے سے حملہ کم ہو جاتا ہے. کلور پائریفاس 40 فیصد ایس سی. بحساب 1.5-2.0 لیٹر یا فیرونل 500 ملی لیٹر یا امیڈا کلوپرڈ 200 ایس ایل/ ایسای بحساب 300-500 ملی لیٹر کھیت میں فلڈ کریں

چور کیڑا

یہ کیڑا بہت ساری سبزیات پر حملہ کرتاہے. اکتوبر تا مئی سرگرم رہتا ہے. رات کے وقت چھوٹے پودوں کو کاٹ کاٹ کر نقصان پہنچاتا ہے. کھاتا کم اور نقصان زیادہ کرتا ہے. دن کے وقت سنڈیاں زمین میں چھپی رہتی ہیں

تدارک

پروانوں کو تلف کرنے کیلئے روشنی کے پھندے لگائیں. کھیتوں میں زیادہ سے زیادہ گوڈی کریں. حملہ ہونے کی صورت میں فصل کو پانی لگائیں. کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں. کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں. سنڈیوں کو اکٹھا کر کے تلف کرنے کیلئے کھیت میں مختلف جگہوں پر ناکارہ سبزیات اور پتوں کے ڈھبر لگائیں جن پر سنڈیاں جمع ہونگی پھر ان کو تلف کریں. زیادہ حملہ کی صورت میں کاربیرل 10فیصدڈی, بحساب 3 تا 5 کلو گرام یا پر میتھرین 0.5 فیصد ڈی, بحساب 3 کلوگرام 10 تا 15 کلو راکھ یا ریت یا مٹی میں ملا کر کھیت میں دھوڑا کریں یا اینڈ وسلفان 35 فیصد ای سی, بحساب 600 ملی لیٹر فلڈ کریں

چست تیلہ

بالغ اور بچے پتوں کا نچلی سطح سے رس چوستے ہیں. حملہ شدہ پتے اوپر کی جانب کپ کی شکل بناتے ہیں اور پیلے اور بعد میں خشک ہو کر گرنے لگتے ہیں

تدارک

متبادل خوراکی پودوں کو تلف کریں. ہو میں نمی اور درجہ حرارت بڑھنے سے حملہ زیادہ ہوتا ہے. کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں. امیڈا کلو پرڈ بحساب 80 ملی لیٹر یا بائی فینتھرین 10 فیصد ای سی, 100 ملی لیٹر یا تھائیا میتھا کم 25 فیصد ڈبلیو بی بحساب 24 گرام 80-100 لٹر پانی میں ملا کر اسپرے کریں

برداشت:

سرخ مرچ کی پیداوار کیلئے گرم اور خشک موسم درکار ہوتا ہے. برداشت کے وقت مر چیں اچھی طرح پکی اور سرخ ہونی چاہئیں. پہلی چنائی مئی کے آخر یا جون میں جبکہ دوسری چنائی جولائی میں ہو گی. چنائی کے بعد مرچ ایک دن کیلئے سایہ میں ڈھیر کر دیں تا کہ تمام مرچیں یکساں رنگت اختیار کر لیں. بعد ازاں بکھیر کر اچھی طرح خشک کر لیں. ورنہ نمی کے باعث سٹور میں اسکی رنگت تبدیل ہو جائے گی. جس سے کوالٹی پر برا اثر پڑتا ہے. اور مارکیٹ میں قیمت کم ملتی ہے. مرچ کی عام اقسام سے 4 سے 5 ٹن فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

Jalal Puri Sabaz March Ki Paidawari Technology Kot Sultan

Jalal Puri Sabaz March Ki Paidawari Technology Kot Sultan

Jalal Puri Sabaz March Ki Paidawari Technology Kot Sultan

Jalal Puri Sabaz March Ki Paidawari Technology Kot Sultan

Jalal Puri Sabaz March Ki Paidawari Technology Kot Sultan
مزید معلومات اور بہترین رہنمائی کے لئے اور جدید روایتی کاشت کاری سے ہٹ کر سبزیوں اور زراعت سے جڑی منافع بخش کاشتکاری اور پنیری کے لئے رابطہ کریں ۔ 
چوہدری بشارت 
جو دوست احباب کچن گارڈننگ اور وسیع پیمانے پر کوٹ سلطان کی دیسی سبز مرچ کاشت کرنے کے لئے پنیری منگوانا چاہتے ہیں وہ اپنی ضرورت کے مطابق رقم بھجواکر اپنا ایڈریس انباکس کردیں. شکریہ 
* ایزی پیسہ اکاونٹ 
03457206474
شناختی کارڈ نمبر
3220320091771

بینک اکاونٹ ٹائٹل
Basharat Ali 
بینک اکاونٹ نمبر
PK63 UNIL 0109 0002 4388 1129
بینک کا نام
UBL Chowkazam 0072 Layyah (Punjab)


صرف وہ دوست واٹس ایپ گروپ جوائن کریں جو کوٹ سلطان کی سبز دیسی مرچ کاشت کرنا چاہتے ہیں لیکن پہلے پورا میسج ضرور پڑھ لیں. شکریہ

🤷🏻‍♂ ضلع لیہ کا علاقہ کوٹ سلطان پاکستان بھر میں دیسی سبز مرچ کی پیداوار کے لئے مشہور ہے اور پاکستان بھر کی سبزی منڈیوں میں کوٹ سلطان کی سبز دیسی مرچ کو ہاتھوں ہاتھ خریدا جاتا ہے. پاکستان میں پہلی بار آن لائن گھریلو اور وسیع پیمانے پر کاشت کے لئے کوٹ سلطان کی دیسی مرچ کی پنیری اور پودے فراہم کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے. انشاءاللہ 
🤴🏻آپ اپنے گھر میں کچن گارڈننگ کے طور پر کوٹ سلطان کی سبز دیسی مرچ کے پودے لگا کر اپنے خاندان کو صحت مند اور آرگینکلی پیدا شدہ سبز مرچ کھلا سکتے ہیں. 
🤴🏻 آپ اپنی زمین پر کوٹ سلطان کی سبز دیسی مرچ لگا کر مقامی سبزی منڈی میں سپلائی کرکے خاطر خواہ منافع کماسکتے ہیں.  
🤔 اس گروپ کو صرف وہ مرد و خواتین جوائن کریں جو درج ذیل شرائط سے متفق ہوں. 
☠ جو واقعی میں سال 2020 میں گھریلو / تجرباتی اور کمرشل کاشتکاری کے لئے کوٹ سلطان کی سبز دیسی مرچ لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں. 
☠ جو دوست گروپ میں لمبی تان کر سوجانے کی عادت یا خواہش مند ہیں، ایسے دوست گروپ ہرگز جوائن نہ کریں. بلکہ ایسے غیر متحرک دوستوں کو گروپ سے نکال دیا جائے گا. 
☠ جو دوست صرف معلومات حاصل کرتے ہیں اور عملی طور پر کچھ کرنے کے قائل نہیں، ایسے دوست بھی گروپ جوائن نہ کریں. 
☠ جو دوست صرف گروپ ممبران کی گنتی پوری کرنے کے لئے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، وہ بھی گروپ سے دور رہیں. 
☠ جو دوست گروپ میں آوٹ آف ٹاپک پوسٹ کرتے ہیں، وہ بھی گروپ سے دور رہیں. 
☠ جو دوست گروپ میں مارکیٹنگ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ بھی گروپ سے دور رہیں. 
اگر آپ درج بالا شرائط سے متفق ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کے ذریعے گروپ کو جوائن کرلیں. شکریہ 
https://chat.whatsapp.com/IR2xdi4UYOsIG8FU3ZWUCJ

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget