تازہ ترین اشاعتیں

(کم سرمایہ سے شروع کیے جانے والے منافع بخش، اہم اور آسان کاروبار)
 کافی سینٹر:🍵
سیاحتی اور کاروباری مقام پرآپ اپنا ایک خوبصورت کافی سینٹر بناسکتے ہیں.جہاں پر آپ بہترین ذائقے کی چائے اور کافی ایک اچھے اور خوبصورت ماحول میں منفرد انداز میں پیش کریں.
جو صفائی معیار اور آداب سے بھرپور ہو.
🍲 بریانی سینٹر:🍝
آپ اپنا ایک خوبصورت بریانی شاپ بناسکتے ہیں.بریانی بنانا اور بیچنا بہت آسان ہے اور اس کی مانگ بہت زیادہ ہے آپ کسی سیاحتی اور کاروباری جگہ پر مناسب ریٹ اور صاف ماحول میں اسے پیش کر سکتے ہیں.
🍔 برگر و سوپ:🥣
آپ ایک خوبصورت برگر و سوپ پوائنٹ بنا سکتے ہیں.اپنے قریب کے کسی اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال وغیرہ کے پاس مناسب قیمت صاف ماحول منفرد آداب اور اخلاق سے پیش کر سکتے ہیں اس کی مانگ بہت ہے.
 سیاحتی کمپنی:🚂
آپ سیاحت کا خوبصورت سیٹ اپ بنا سکتے ہیں.جس میں آپ آن لائن بکنگ کر کے کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی طرف لوگوں کو سیاحتی پیکیج فراہم کر سکتے ہیں.
🥦 کاشتکاری:🌽
آپ چھوٹے رقبے پر سبزیاں اگا سکتے ہیں.جن میں آلو پیاز بھنڈی ٹماٹر کدو لہسن وغیرہ چھوٹے پیمانے پر اگا کر اسے بہترین پیکنگ اور صفائی کے ساتھ سستے ریٹ میں فروخت کر سکتے ہیں.
📚 لائبریری:📖
آپ کو مطالعے سے لگاؤ ہے اور ادبی حلقوں سے راہ رسم ہے تو آپ ایک خوبصورت چھوٹی لائبریری بنا سکتے ہیں.آپ مختلف تعارفی اور بیداری کے پروگرامز کر کے اس کی advertising کرسکتے ہیں.
📱 موبائل شاپ: 📲
موجودہ دور میں ہر شخص موبائل استعمال کرتا ہے اور نئے نئے برانڈز آ رہے ہیں تو آپ اپنا سستا موبائل ریپرنگ لیب بنا سکتے ہیں.جہاں پر آپ دیانت سے سستے داموں بہترین کوالٹی کی ریپرنگ فراہم کر سکتے ہیں.اس کے ساتھ آپ پرانے موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر فروخت کر سکتے ہیں.
🦆 جانور پالنا:🐃
آپ بکریاں، پرندے اور خرگوش وغیرہ پال سکتے ہیں.یہ بہت نفع جانور ہیں آپ اعلی نسل کے بچے پال کر سال میں دو بار اچھی قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں اور برائلر مرغی کے زہر کے متبادل کے طور پر آپ تھوڑی مہم چلا کر خرگوش سے سستے صاف اور بہترین گوشت کو فروخت کر سکتے ہیں.
👚 گارمنٹس👗
آپ بڑے شہروں سے سستے اور معیاری بچوں اور خواتین کے سوٹ خرید کر مناسب ریٹ خوبصورت منفرد انداز کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں
🥟 سموسہ چاٹ سینٹر 🍜
آپ اپنے گرد اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال بس اسٹینڈ ہاسٹل وغیرہ کے قریب سموسہ و چاٹ سینٹر شروع کر سکتے ہیں جو معیاری نفیس اور بہترین ماحول و انداز سے پیش کیا جائے.
🏘 ریئیل اسٹیٹ مارکیٹینگ 🏪
بغیر کسی سرمائے کے شروع کیا جانیوالا یہ بزنس آجکل پاکستان سمیت پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔یہ منافع کمانے کا بہترین آن لائن ذریعہ ہے اور اپنے گھر بلکہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر با آسانی اس بزنس کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں آپ کسی اور کمپنی کی پروڈکٹ یا سروسز کو انٹرنیٹ یا ایسے ہی کسی دوسرے میڈیم کے ذریعے پروموٹ کرتے ہیں اور اسے فروخت کر کے اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔
🖥 بلاگ رائٹنگ 📰
بلاگ ایسی ویب سائیٹ یا ویب پیج ہوتا ہے جس پر ہر روز نئی نئی معلومات اور تبصرے لکھے جاتے ہیں۔ایک فرد یا افراد کا ایک گروپ مل کر اس کو پلان کرتا ہے۔بلاگ رایئٹینگ سوشل میڈیا کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔پاکستان میں اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں اس کی ڈیمانڈ ہے۔ آپ بنا کسی سرمائے کے مختلف ویب سائٹس کے لئے بلاگ رایئٹینگ کا کا م شروع کر کیایک معقول آمدنی کا ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں۔
👔 تاجر کاؤنسلِنگ🗣
اگر آپ کے پاس بزنس فیلڈ کا کافی نالج،مہارت اور آئیڈیاز موجود ہیں اور آپ اس سلسلے میں بزنس کے میدان میں داخل ہونیوالے نئے افراد کی مدد کرنے کی سوچ بھی رکھتے ہیں تو آپ ایک بہت اچھے بزنس کاؤنسلر بن کر نہ صرف نئے بزنس کاروباری افراد کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں بلکہ ایک اچھا منافع کما سکتے ہیں۔
🎓 اسٹوڈنٹ کیریئر کاؤنسلِنگ 🤵
اگر آپ کے پاس کیریئر کاؤنسلِنگ کی ڈگری یا اس فیلڈ کی کافی زیادہ معلومات موجود ہیں اور آپ کے اندرلوگوں کی چھپی صلاحیتوں کا کسی حد تک اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو آپ اسٹوڈنٹس کے لئے ایک اچھے کر نہ صرف کمیونٹی کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ ایک باعزت روزگار بھی کما سکتے ہیں.
 کنسلٹنٹ کمپنی 💼
اگر آپ کسی بھی فیلڈ میں بہترین معلومات اور مہارت رکھتے ہیں تو آپ اس فیلڈ میں پہلے سے موجود یا نئی آنیوالے لوگوں کی رہنمائی کے لئے ایک کنسلٹنگ کمپنی کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے فیلڈ کی وسیع معلومات و مہارت درکار ہے۔
 کونٹینٹ رائٹنگ 📖
تمام کمپنیوں اور اداروں کو پروموشن کے لئے تحریری شکل میں ایک قابلِ توجہ مواد کی ضرورت ہڑتی ہے جو زیادہ سے زیادہ کسٹمرز کی توجہ حاصل کر سکے۔اگر آپ کے اندر اردو یا انگلش زبان میں ایسا پرکشش کونٹینٹ تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو آپ ایک نہایت کامیاب کونٹینٹ رائیٹنگ کا کاروبار شروع کر سکتے ہیں اور مختلف کمپنیوں اور اداروں کو کونٹینٹ فراہم کر سکتے ہیں۔
🕶 لائف کنسلٹنگ🌏
اگر آپ کا مطالعہ آپ کی معلومات آپ کا تجربہ اور آپ کی سنجیدگی اور ڈیلنگ اچھی ہے تو آپ پریشان ذدہ لوگوں کو زندگی جینے کے گر سکھا کر ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں.اس میں عزت ہے علم ہے اور بہترین کاروبار بھی ہے.
💻 یوٹیوبر🎥
اگر آپ میں کسی بھی طرح کی مہارت ھے، جسے آپ ویڈیوز کی صورت میں اس بہترین انداز میں پیش کرسکتے ھیں کہ جس میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے کچھ سیکھنے یا تفریح کا موقع ھو تو فورا یوٹیوب پر اپنا چینل بناکر ڈھیروں کماسکتے ھیں.
📡 آن لائن اسٹور💺
انٹرنیٹ پر Olx کی طرح کئی ویب سائٹس ھیں جو آپ کو مفت اسپیس فراہم کرتی ھے جہاں آپ اپنی کوئی بھی پراڈکٹ آن لائن بیچنے کے لیے رکھ سکتے ھیں، جہاں گھر بیٹھے آپ کمائی کرسکتے ھیں.
🏍 بائیک رائیڈر 🛵
اگر آپ شہر کے شاھراہوں کا بخوبی علم رکھتے ھوں اور آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل ھوتو آپ کریم، اوبر اور فوڈپانڈہ جیسی کمپنیوں سے منسلک ھوکر اچھی خاصی کمائی کرسکتے ھیں.
🤝 دراز دوست 🤝
آن لائن شاپنگ ویب سائٹ "دراز" نے دراز دوست کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ھے جس سے منسلک ھو کر آپ بہترین کمائی گھر بیٹھے کرسکتے ھیں.
📱 ایپ ڈویلپرز 🖥
موبائل کا دور چل رھا ھے، ایپ بنانے کا چھوٹا سا کورس کرکے آپ خود گھر بیٹھے مختلف ایپس بناکر اسے پلے اسٹور میں ڈال کر گھر بیٹھے زبردست کمائی کرسکتے ھیں.

گھریلو مرغبانی
مرغی اور انڈے کسے پسند نہیں؟ لیکن انہیں کھانا ہرکسی کے بس میں نہیں کیونکہ بسا اوقات خصوصاً سردیوں میں مرغی کا گوشت اور انڈے اتنے مہنگے ہوجاتے ہیں کہ انہیں کھانا کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔ مرغی اور انڈوں کا آسان حصول گھروں میں مرغیاں پالنے سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ مرغیوں کی افزائش بہت ہی آسان اور ہمارے لئے اجنبی نہیں کہ چند سال پہلے تک یہ ہمارے گھروں کا حصہ تھیں۔ انڈے دینے والی مرغیوں کی افزائش اسلئے بہتر ہے کہ آپ فی مرغی تقریباً 5 سے 6انڈے ہر ہفتے لے سکتے ہیں۔ مرغیوں کی رہائش کیلئے ڈربہ بنانا بہت آسان ہے۔  مرغیوں کو کچن سے بچی ہوئی چیزیں جیسے روٹیاں، سبزی، یا دوسری چیزوں کے علاوہ اناج کی مختلف اقسام مکس کرکے کھلا سکتے ہیں یا کمرشیل خوراک بھی دی جاسکتی ہے جو کہ ہر شہر میں باآسانی دستیاب ہے۔ انڈے دینے والی ایک اچھی مرغی کی قیمت تقریباً 400 سے 500 روپے ہے اور ایک مرغی سالانہ اوسطاً 200 انڈے دیتی ہے۔ اسطرح اگر آپ 10 مرغیاں پالتے ہیں تو روزانہ 7 سے 8 انڈے لے سکتے ہیں یعنی ماہانہ تقریباً  170 سے 180انڈے۔ اسطرح آپ اپنے خاندان کی خوراک کے ساتھ ساتھ اضافی انڈے بیچ کر اضافی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

گھریلو مرغبانی سے متعلق چند بنیادی باتیں

نسلیں
مرغیاں انڈوں اور گوشت  کے حصول کیلئے پالی جاتی ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ انہیں مشغلے کے طور پہ بھی پالتے ہیں۔ ہر مقصد کیلئے الگ الگ نسل کی مرغیاں پالی جاتی ہیں۔  کیونکہ کچھ ایسی ہیں جو زیادہ انڈے دیتی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو زیادہ گوشت پیدا کرتی ہیں۔ اور مرغیوں کی کچھ نسلیں خوبصورتی میں خوب ہیں. بعض نسلیں ایسی ہیں جو گھریلو مرغبانی کے لئے دوسروں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ گھریلو مرغبانی کیلئے مصری، کراس، گولڈن، فیومی یا آر۔آئی۔آر نسل کی مرغیاں خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔

خوراک
مرغیاں  ہر قسم کی خوراک کھاتی ہیں۔ خاص طور پہ اناج، پھل، اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ کیڑے  بھی کھاتی ہیں. انہیں کمرشیل فیڈ بھی کھلائی جا سکتی ہے۔ فیڈ میں وٹامن، معدنیات اور پروٹین  توازن کے ساتھ شامل ہوتی ہیں. اسلئے انڈواں اور گوشت کی پیداوار کیلئے زیادہ موزون ہیں۔ انڈوں کی اچھی پیداوار کیلئے ان کی خوراک میں آبی جانداروں کے شیل بھی شامل کرنے چاہئیں۔ انڈے دینے والی ایک صحتمند مرغی ایک ہفتے میں تقریباً  اپنے وزن کے 50 فیصد کے برابر فیڈ کھاجاتی ہے۔ مرغیاں سردیوں میں زیادہ جبکہ گرمیوں میں کم فیڈ کھاتی ہیں۔ انہیں کچن سے بچ جانے والی ہر قسم کی خوراک دی جاسکتی ہے جیسے سبزیاں، روٹی یا چاول وغیرہ ۔ 

انڈوں اور گوشت کی بہتر پیداوار کیلئے مرغیوں کو صاف پانی کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ خاص طور پہ گرمیوں کے دنوں میں جب وہ گرمی کم کرنے کیلئے نہاتی بھی ہیں۔ 

ہاؤسنگ
بیک یارڈ چکن کی بہتر پیداوار کے لئے ضروری ہے کہ مرغیوں کیلئے مناسب ڈربہ بنایا جائے جو سردی اور گرمی سے بچانے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی فراہم کرے۔ مرغیوں کی رہائش کیلئے ڈربہ بنانا بہت آسان ہے۔ ڈربہ لکڑی یا گتے کے کارٹن، پلاسٹک یا ٹہنیوں سے بنی ٹوکریوں یا محض جالیدار سادہ کپڑے یا پلاسٹک اور لوہے کی جالی سے بھی کم خرچ میں تعمیر کیا جاسکتا ہے۔  گھریلو مرغبانی کیلئے ایک ڈربے میں ۴ سے ۵ مرغیاں رکھی جاسکتی ہیں۔ ہرانڈے دینے والی مرغی کو انڈے دینے کیلئے علیحدہ گھونسلہ چاہئے۔ اسلئے ڈربے کے اندر ضروری گھونسلے بنانے چاہئیں۔ ڈربہ روشن اورہوادار ہونا چاہئے۔ فی مرغی کم از کم 3 سے 5 فٹ جگہ مختص کرنی چاہئے۔  
مرغیوں کے دشمنوں میں بلی، چوہے ، الو اور باز وغیرہ شامل ہیں اسلئے ان سے تحفظ کا بندوبست کرنا چاہئے۔ 

روزانہ دیکھ بھال
مرغیوں کو ضرورت کے مطابق فیڈ دینی چاہئے۔ انکا پانی روزانہ بدلنا چاہئے۔ انہیں ہر صبح ڈربے سے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور رات ہونے سے پہلے دبارہ ڈربے میں بند کرنا چاہئے۔ انڈوں کو روزانہ 2 مرتبہ گھونسلوں سے نکالنا چاہئے۔ حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ہفتہ میں کم از کم ایک دفعہ ڈربے کی صفائی کرنی چاہئے۔

مرغیوں کی صحت 
صحت مند مرغیاں مستعد اور سرگرم رہتی ہیں اور یہاں وہاں چونچ مارتی اور چلتی پھرتی نظر آئیں گی۔ انکی آنکھیں  بھی روشن ہو نگی۔ یہ ساکت تب نظر آئیں گی جب دن بہت گرم ہوں، ایسے میں انہیں سائے میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ 

مرغیاں انڈے دینے اور خوراک کھانے کی عادات میں ایک دوسرے سے تھوڑا بہت مختلف ہوتی ہیں۔ لہذا ہر مرغی کی انفرادی طور پہ نگرانی کرنی چاہئے۔ صحتمند  مرغیاں عموماً بھورے رنگ کے ٹھوس فضلہ کا اخراج کرتی ہیں جسکے ساتھ سفید رنگ کا پیشاب بھی شامل ہوتا ہے۔ کسی مرغی کا تقریبا ہر دسواں فضلہ تھوڑا سا فوم کی طرح، معمول سے زیادہ بو والا اور ہلکے براؤن رنگ کا ہوتا ہے۔

گھریلو  مرغیاں  عام طور پر صحت مند رہتی ہیں اور بیماریوں کا آسانی سے شکار نہیں ہوتیں۔ کسی بیمار مرغی کو پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہو کہ صحت مند مرغیاں کس طرح نظر آتی ہیں۔اگر کوئی مرغی روزمرہ کے معمول سے مختلف دکھے، مثال کے طور پر اگر وہ خوراک کیلئے بھاگ دوڑ نہ کرے،  اس سے خر خر کی آواز آئے یا وہ چھینکنا شروع کرے یا پتلے پاخانے لگیں  تو سمجھ جائیے کچھ گڑبڑ ہے۔

صفائی اور حفضان صحت
مرغیوں  کی صحت کے لئے ایک اہم عنصر صاف ستھرا ماحول ہے۔ صاف، صحت مند ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے ڈربے اور اس سے ملحقہ علاقے کو کم از کم ہفتہ وار صاف کیا جانا چاہئے، یا درمیان میں جب جب ضرورت ہو صاف کرنا چاہئے۔ اگر ڈربے سے بو آنے لگے تو سمجھئے صفائی کی ضرورت ہے۔  فیڈر اور پانی کے برتنوں کو باقاعدگی سے دھونا چاہئے اور جراثیم کش کلینر استعمال کرنا چاہئے۔ ڈربے کے ساتھ واک ایریا میں ریت رکھنی چاہئے تاکہ مرغیاں ڈسٹ باتھ لے سکیں۔ یہ اسلئے ضروری ہے کہ اسطرح مرغیاں طفیلی جانداروں سے چھٹکارا پاتی ہیں۔ 

یہ ضروری ہے کہ سال میں ایک بار، عام طور پر موسم بہار میں، ڈربے اور اردگرد کی مکمل صفائی کی جائے۔ اور جراثیم کش اسپرے کیا جائے۔  ہمیشہ ڈربے میں نئی مرغیاں ڈالنے سے پہلے بھی مکمل صفائی ضروری ہے۔  اس سے نئی ​​مرغیوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔ موسم خزاں کے دوران بھی مکمل صفائی طفیلی کیڑوں پر کنٹرول کے لئے موثر ومددگار ہے۔

جب صفائی کرنی ہو فیڈر اور پانی کے برتن باہر نکال دینے چاہئیں۔ ڈربے کے فرش پر بچھائی گئی گھاس پھوس کی تہہ کو بھی نکال کر نئی تہہ لگائی جائے۔  ڈربے کی دیواروں، کونوں کھدروں اور چھت کو کپڑے یا ڈسٹر سے صاف کرنا چاہئے۔ اگر جالے وغیرہ بن گئے ہیں تو انہیں بھی نکالنا چاہئے۔ ڈربے کے اندر کی جانب کلورین بلیچ سے صفائی کرنی چاہئے۔ اس مقصد کیلئے بلیچ کا ایک کھانے والا چمچہ، ایک گیلن ابلے ہوئے پانی میں مکس کرنا چاہئے۔

صفائی کے دوران دھول سے نمٹنے میں حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ جیسے ڈسٹ ماسک پہننا اور دھول کو روکنے کیلئے پانی کا اسپرے کرنا چاہئے۔ مرغیوں کے فضلے سے پر دھول میں سانس لینا انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

فضلے کا انتظام 
مرغیوں کے فضلےمیں  غیر ہضم شدہ فیڈ ، بیکٹیریا، نظام ہضم کے رس اور جسم کے اندر میٹابولزم کے عمل سے پیدا ہونے والے مادے اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ مرغیوں کےفضلے میں تقریباً ۸۵ فیصد پانی ہوتا ہے۔ اسلئے ڈربے میں نمی کا سبب بنتا ہے اور ساتھ میں بدبو پیدا کرنے کا بھی۔ 

اس صورتحال میں کئی آپشن ہیں جو اسکے بہتر انتظام کیلئے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔ ان میں سال میں ایک سے دو بار مکمل صفائی کے علاوہ ڈربے کی جگہ بدلنا اور کمپوسٹنگ شامل ہیں۔ اگر آپکے پاس لان ہے تو جگہ بدلنا ایک بہتر آپشن ہوسکتا ہے۔

انڈوں کی پیداوار
مرغیاں تقریبا چھ ماہ کی عمر میں انڈے دینا شروع کرتی ہیں اور5-10 سال تک دیتی رہتی ہیں۔ لیکن انڈوں کی زیادہ تر پیداوار پہلے 2 سالوں کے دوران آتی ہے۔ عموماً مرغیاں ہر ہفتے تقریبا 6 انڈے دیتی ہیں۔ ہر سال انڈوں کی پیداوار میں اسوقت کمی آتی ہے جب مرغیاں اپنے پر ڈراپ کرتی ہیں۔ انڈوں کی بہتر پیداوار کیلئے ابتدائی موسم خزاں میں ان کے پر تبدیل کروانے چاہئیں۔ 

انڈوں کی بہتر پیداوار کیلئے مرغیوں کو کم از کم 12 سے 14 گھنٹے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک عام بلب یہ روشنی فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔

مرغیوں کی خریداری 
لیئر مرغیوں کیلئے بہتر آپشن یہ ہے کہ ۱۶ سے ۱۸ ہفتے کی مرغیاں خرید کی جائیں جب یہ چند دنوں میں انڈے دینے کیلئے تیار ہوں۔ چوزوں سے اس عمر تک لانا ایک علیحدہ جھنجھٹ ہے۔ تاہم اگر آپکی دلچسپی ہو تو یہ بھی ایک مشغلے کی طرح آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ مرغیاں یا چوزے جو بھی خریدیں کسی بھروسے والی جگہ سے خریدیں۔ اور یہ یقین کرلیں کہ اسوقت تک انہیں تمام ضروری ویکسین کی گئی ہیں۔ 

بسم الله الرحمن الرحيم.
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. وَطُورِ سِينِينَ. وَهَذَا الْبَلَدِ الأَمِينِ. لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ. ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ. إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ. فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ. أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ..
زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.
زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.
زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے.
دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.
زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں.
زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10×10 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 400 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں.
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے.
پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں تاکہ گاچی وغیرہ ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نہ لگ جائے. گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے.
زیتون کی کون کون سی اقسام کہاں کہاں کاشت کی جا سکتی ہیں؟
پوٹھوہار اور اس کے ملحقہ اضلاع کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں.
نمبر 1. لسینو
نمبر 2. گیملک
نمبر 3. پینڈولینو
نمبر 4. نبالی
نمبر 5. آربو سانا
نمبر 6. کورونیکی
نمبر 7. آربیقوینہ
پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں.
نمبر 1. آربو سانا
نمبر 2. کورونیکی
نمبر 3. آربیقوینہ
یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.
زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟
کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے:
گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں
نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں
فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟
عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے.
زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے
زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟
زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے.
اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے.
لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے 25 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں موجود 400 (اوسط) پودوں سے 10000 ہزار کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے.
ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے.
20 فی صد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل ( 10000 کلوگرام ) سے تقریبا 2000 کلو گرام تیل نکل آتا ہے.
فی ایکڑ آمدن کتنی ہو سکتی ہے؟
یوں تو مارکیٹ میں بڑے بڑے سپر سٹوروں پر آپ کو زیتون کا تیل کوالٹی کے حساب سے 800 روپے سے لیکر 1100 روپے فی کلو تک مل سکتا ہے. لیکن واضح رہے کہ یہ سارے کا سارا تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی کوالٹی پر ماہرین کے شدید تحفظات ہیں. ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف برانڈوں کا درآمد شدہ تیل جو پاکستانی مارکیٹ میں بک رہا ہے یہ خالص زیتون کا تیل نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے تیلوں کی ملاوٹ ہوتی ہے .
گرین ایگرو کی معلومات کے مطابق چکوال میں تحقیقاتی ادارے کے پلانٹ سے نکالا جانے والا تیل کم از کم 2 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے. واضح رہے کہ چکوال کا زرعی تحقیقاتی ادارہ کسانوں کو تیل نکالنے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے.
اگر ریٹ واقعی دو ہزار روپے فی کلو گرام ہو تو آمدن کا حساب آپ خود لگا سکتے ہیں. گرین ایگرو نے آمدن معلوم کرنے کے لئے 800 روپے فی کلو گرام کے ریٹ کو سامنے رکھا ہے.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget