تازہ ترین اشاعتیں

تین وجوہات کی بنا پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مویشی پال کسانوں کو ہرا چارا چھوڑ کر سائلج کی طرف آ جانا چاہئے۔

پہلی وجہ

پہلی وجہ یہ ہے کہ سال میں چار مہینے یعنی مئی جون اور دسمبر جنوری میں چارے کی سخت قلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس قلت سے سائلج بنا کر نمٹا جا سکتا ہے۔ آپ سائلج کی شکل میں سال بھر کا چارا سٹور کر سکتے ہیں جسے بارہ مہینے اپنے جانوروں کو کھلا سکتے ہیں۔

دوسری وجہ

دوسری وجہ کا تعلق چارے کی غذائیت سے ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم جوار کی مثال لیتے ہیں۔ جوار کے ننھے منھے یا عمر رسیدہ پتوں میں پروٹین کی مقدارتقریباََ 7 فیصد ہوتی ہے جبکہ عین جوانی میں جوار کے سرسبز پتوں میں یہ مقدار 17 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ چارے کی بھر پور غذائیت حاصل کرنے کے لئے اسے عین شباب میں اس وقت کاٹا جائے جب اس میں غذائیت بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن سبز چارا استعمال کرنے والے کاشتکار کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا۔

کیونکہ کاشتکار نے اپنی ضرورت کے مطابق چارہ کاٹنا ہوتا ہے۔ اگر چارہ کم پڑ رہا ہو تو وہ چھوٹے چھوٹے چارے کو ہی کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اگر چارہ وافر ہو تو کھیت میں کھڑا کھڑا چارہ عمر رسیدہ ہو جاتا ہے اور اس کی کٹائی کی باری تب آتی ہے جب اس کی غذائیت میں بڑی حد تک کم واقع ہو چکی ہوتی ہے۔

اس مسئلے کا بھی حل یہی ہے کہ جب فصل شباب پر آئے تو سارے کا سارا چارہ کاٹ کر اس کا سائلج بنا لیا جائے تاکہ غذائیت کی بلند ترین سطح کو محفوظ کیا جا سکے۔

تیسری وجہ

تیسری وجہ کا تعلق پانی اور کھاد وغیرہ کے نفع بخش استعمال کے ساتھ ہے۔
آپ ایک دفعہ نیچے دی گئی تصویر کو دیکھئے۔
یہ جوار کا کھیت ہے جس کے ایک حصے کی آج ہی کٹائی ہوئی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھیت کا وہ حصہ جہاں چارہ موجود ہے اور وہ حصہ جہاں چارے کی کٹائی ہو چکی ہے، کیا ان دونوں حصوں کو پانی اور کھاد کی یکساں ضرورت ہے؟

ظاہر ہے ان دونوں حصوں کی ضروریات الگ الگ ہیں۔

لیکن جب اس کھیت کو پانی لگایا جائے گا تو وہ دونوں حصوں کو برابر لگے گا اور عام طور پر کھاد بھی ایسے ہی ڈالی جاتی ہے۔ اس طرح پانی اور کھاد کا نفع بخش استعمال نہیں ہوتا۔ لہذا اگر کھیت ایک ہی وقت بویا اور ایک ہی وقت کاٹا جائے تو پھر پورے کھیت کی کھاد اور پانی کی ضرورت بھی یکساں ہو گی اور اسی حساب سے اسے کھاد پانی دیا جائے گا۔ ایک ہی وقت میں کٹائی اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ بیک وقت تمام چارہ کاٹ کر اسے سائلج کی شکل میں محفوظ کر لیں۔
آئیے اب آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ نے سائلج بنانا کیسے ہے۔
یوں تو سائلج دوسرے چاروں کا بھی بن سکتا ہے لیکن آج ہم مکئی کے چارے سے سائلج بنانے کے حوالے سے بات کریں گے۔
زیادہ تر کاشتکار سائلج بنانے کے لئے ہائبرڈ مکئی کو ترجیح دیتے ہیں۔
سائلج بنانے میں سب سے اہم مرحلہ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ مکئی کی کٹائی کب کی جائے۔

پہلا مرحلہ

جب چھلی کا دانا آدھا دودھیا اور آدھا پکی ہوئی حالت میں ہو تو اس وقت آپ نے کٹائی کرنی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مکئی ابھی سرسبز ہو۔اگر مکئی میں پانی کی مقدار 65 فیصد سے کم ہو تو اسے سرسبز نہیں مانا جاتا۔

دوسرا مرحلہ

کٹائی کے بعد اب آپ نے چارے کو کترنا ہے۔ سائلج کے لئے مکئی کی کترائی کرنے کے لئے مخصوص مشینیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مشین آپ کی ذاتی بھی ہو سکتی ہے اور رینٹ پر بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔پنجاب کے بعض علاقوں میں گندم کاٹنے والے کمبائنڈ ہارویسٹر کی طرح کے مکئی کاٹنے والے بڑے بڑے ہارویسٹر اور ٹریکٹر ٹرالیاں کرائے پر دستیاب ہیں جو مکئی کو کاٹنے اور کترنے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک جگہ ڈھیری بھی لگا دیتے ہیں۔

مکئی کاٹنے اور کترنے کے لئے کمبائنڈ ہارویسٹر

جہاں پر کتری ہوئی مکئی جمع ہو رہی ہو وہاں چارے کے اوپر ٹریکٹر چڑھا کر اسے پریس کرتے جائیں۔ ٹریکٹر کو آپ نے خالی چلانا ہے۔ ٹریکٹر مکئی کے اوپر مسلسل آگے پیچھے چلاتے جائیں جب چارہ اس قدر پریس ہو جائے کہ ٹائر کے نشان نہ بنیں تو سمجھ لیں کہ چارہ اچھی طرح پریس ہوچکا ہے۔
ٹریکٹر کے ذریعے مکئی کے چارے کو پریس کیا جا رہا ہے
اب اس پر مزید دو فٹ چارہ ڈالیں اور پریس کرتے جائیں۔ کوشش کریں کہ ڈھیری کی شکل اس طرح بنائیں جیسے توڑی کی دھڑ بنائی جاتی ہے۔ یعنی چوٹی اونچی ہو اور اطراف نیچی ہو اس طرح چوٹی پر بارش کا پانی وغیرہ کھڑا نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ دھڑ کے نیچے آپ نے شاپر بچھانا ہے اور اوپر سے بھی دھڑ کو شاپر سے کور کرنا ہے۔ اس کے بعد دھڑ کو شاپر سے ڈبل کور کریں اور سب سے اوپر ترپال ڈال دیں یا دھڑ کی طرح مٹی سے لپائی کر دیں تاکہ چارہ مکمل طور پر ہوا بند ہو جائے۔
سائلج کی دھڑ بنا کر اوپر شاپر ڈال کر ہوا بند کر دیا گیا ہے

چارے کو ہوا بند کرنے کے بعد 40 یا 50 دنوں میں چارہ تیار ہو جائے گا۔

ایک ایکڑ مکئی کا سائلج دو بھینسوں کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔

سائلج کے ساتھ توڑی وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ جانور کو کھل یا ونڈا وغیرہ ڈالا جا سکتا ہے لیکن اس کی مقدار عام طور پر کم ہوتی ہے۔

ماہر توسیع زراعت ڈاکٹر شوکت علی کا کہنا ہے کہ سائلج صرف ان جانوروں کے لئے تیار کرنا چاہئے جو اٹھارہ بیس کلو تک دودھ دے سکتے ہوں۔ اس سے کم دودھ کی صلاحیت رکھنے والے جانوروں کو سائلج ڈالنا مویشی پال حضرات کو وارا نہیں کھاتا۔

یعنی اگر آپ کے پاس ایسے جانور ہیں جن کی دودھ دینے کی صلاحیت کم ہے تو پھر وہی جوڑ جمع کرنا زیادہ بہتر ہے جو آپ عام طور پر کر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس جانور اچھے ہیں تو پھر آپ کو سائلج ضرور بنانا چاہئے۔

مکئی کے علاوہ سائلج بنانے پر 20 سے 25 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔

کاشتکار کو عام طور پر سائلج 4 سے 5 روپے فی کلو کے حساب سے پڑتا ہے۔

ایک بھینس 30 کلو سائلج روزانہ کھا جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھینس روزانہ 120 سے 150 روپے کا سائلج کھا جاتی ہے۔

آئیے اب آپ کو فی ایکڑ سائلج پر آنے والے اخراجات کا حساب کتاب بتاتے ہیں۔
عام طور پرہائبرڈ مکئی کے چارے کی فی ایکڑ پیداوار 500 من تک ہو جاتی ہے۔ لیکن جب اس چارے کا سائلج بنتا ہے تو اس کا وزن کم ہو کر 350 من رہ جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 350 من سائلج تیار کرنے میں آپ کی 62 ہزار روپے لاگت آئی ہے۔ اس حساب سے آپ کو فی کلو یہ سائلج ساڑھے چار روپے میں پڑا ہے۔

سائلج تیار ہونے کے بعد آپ ایک طرف سے سائلج نکالنا شروع کر دیں۔ سائلج نکالنے کے بعد اسے اچھی طرح سے ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر سائلج میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔

سائلج میں کون سی خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے جانوروں یا جانوروں کا دودھ گوشت استعمال کرنے والوں کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس پر اگلے آرٹیکل میں بات ہو گی۔

تحریر
سمیعہ تبسم
معاونت
ڈاکٹر شوکت علی
بشکریہ: ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز

آج کل آڑو کی چند ایسی ورائٹیاں بھی سامنے آ چکی ہیں جو پنجاب کے گرم علاقوں میں کامیابی سے کاشت ہو رہی ہیں. پنجاب کی آب و ہوا میں لگے ہوئے آڑو کا پھل، سوات کے آڑو سے تقریباََ ڈیڑھ دو مہینے پہلے پک کر تیار ہو جاتا ہے. اگیتا ہونے کی وجہ سے منڈی میں اس کو بہت اچھا ریٹ ملتا ہے. پپیتے اور سٹرابری کے برعکس، آڑو کے باغ کی دیکھ بھال نہائیت آسان اور کم محنت مانگتی ہے. پنجاب میں بہت سے کاشتکاروں نے انگور کے باغ لگا رکھے ہیں. انگور کا باغ لگانا ایک مہنگا منصوبہ ہے جو اڑھائی تین لاکھ روپے فی ایکڑ سے کم میں نہیں لگایا جا سکتا لیکن آڑو کا باغ لگانے کا خرچہ انگور کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے.
اگر آپ آڑو کا باغ لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ مضمون پڑھ لیجئے. اطمینان ہو جائے تو ہمارے حق میں دعا فرما دیجئے گا.
peach farming in punjab pakistan

آڑو کی کونسی ورائٹی کاشت کرنی چاہئے؟

پنجاب میں آڑو کی دو ورائٹیاں فلورڈا کنگ اور ارلی گرینڈ زیادہ مقبول ہو رہی ہیں. فی الحال آپ کو انہی دونوں ورائٹیوں کی سفارش کی جاتی ہے لیکن اگر آپ چاہیں تو دو دو چار چار پودے فلورڈا پرنس، فلورڈا گولڈ اور سٹرن کے بھی لگا سکتے ہیں.
ان ورائٹیوں کی تفصیل جاننے کے لئے یہاں کلک کریں

آڑو کے پودے کہاں سے ملیں گے اور قیمت کیا ہو گی؟

آڑو کے پودے بھی آم اور مالٹے کی طرح پیوند سے تیار کئے جاتے ہیں. اور یہ کام زیادہ تر پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوات، پشاور، دیر وغیرہ میں کیا جاتا ہے.
یہ بات تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ پنجاب میں پتوکی کا علاقہ نرسریوں کا گڑھ ہے. پتوکی والے پشاور وغیرہ سے آڑو کے پودے منگوا کر یہاں پنجاب کے کاشتکاروں کو فروخت کرتے ہیں.
لہذا یا تو آپ پتوکی سے آڑو کے پودے خرید لیں یا پھر براہ راست پشاور سے پودے لے آئیں.
آڑو کی فلوریڈ کنگ اور ارلی گرینڈ ورائٹی کا فی پودا 80 روپے سے 100 روپے تک مل جانا چاہئے. جبکہ دوسری ورائٹیاں ذرا مہنگی ہیں. جس طرح سیٹرن کا فی پودا 250 روپے سے 500 روپے تک مل رہا ہے. پودوں کی ڈیمانڈ کے حساب سے ریٹ اوپر نیچے بھی ہوتا رہتا ہے. لہذا بہتر یہی ہے کہ جب بھی آپ آڑو کے پودے خریدیں مارکیٹ کا اچھی طرح جائزہ لے کر خریداری کریں. ایک ایکڑ باغ لگانے کے لئے آڑو کے پودوں کی مد میں آپ کے کم و بیش 15 سے 20 ہزار روپے خرچ ہوں گے.
فیس بک پر سرچ کرنے سے آپ کو کئی نرسری بانوں کے نمبر مل جائیں گے جن سے رابطہ کر کے آپ بھاؤ تاؤ کر سکتے ہیں. یا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بس یا گاڑی پکڑیں اور پتوکی پہنچ جائیں. آپ کو آڑو کے پودے مل جائیں گے.
کوشش کریں کہ آڑو کا پودا جب خریدیں تو اس کی عمر ایک سال کی ہو. بعض کاشتکار دو سال کا پودا خریدنے کا لالچ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پودا بڑی عمر کا ہو گا تو اسے جلدی پھل لگے گا. ایک بات ذہن میں رہے کہ دو سال کے پودے کے مرنے یا سوکھنے کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں. ایک سال کا پودا چونکہ نرم ہوتا ہے اور اپنی بڑھوتری کے پورے زور پر ہوتا ہے اس لئے ایک سال کے پودے زیادہ کامیاب ہو تے ہیں اور بہتر نشوونما پاتے ہیں.

آڑو کے پودے کو کس طرح کی زمین چاہئے؟

آڑو، میرا یا ریتلی میرا زمین میں نہائیت خوش رہتا ہے لیکن اسے بھاری میرا زمین میں بھی لگایا جا سکتا ہے. ایک بات کا دھیان رہے کہ زمین کلر وغیرہ سے پاک اور پانی جلدی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو. کیونکہ اگر آڑو کے ارد گرد زیادہ دیر تک پانی کھڑا رہے تو پودا اسے بالکل برداشت نہیں کرتا. آڑو کا پودہ 6 سے 8 پی ایچ کی زمینوں میں خوب پھلتا پھولتا ہے. اگر پی ایچ 8 سے زیادہ ہو تو زمین کی پی ایچ کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے.

آڑو کے پودے کاشت کرنے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

آڑو کا پودا ہر سال سردیوں میں پرانے پتے جھاڑ دیتا ہے. اور موسم بہار میں نئے پتے نکالتا ہے. لہذا اسے لگانے کا بہترین وقت جنوری فروری کا مہینہ ہے تاکہ آپ اسے نئے پتے نکالنے سے پہلے زمین میں لگا دیں. اور زمین میں لگنے کے دس پندرہ دن بعد اس کے پتے نکالنے کا وقت آ جائے. لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ اگر جنوری میں سخت کورا پڑ رہا ہو تو ان دنوں میں پودے لگانے سے گریز کریں اور جب کورے کی لہر گزر جائے تو پودے لگانے کا کام مکمل کر لیں.

آڑو کے پودے کس طرح لگائے جاتے ہیں؟

عام طور پر آڑو کے پودے لگانے کے لئے قطار سے قطار اور پودے سے پودے کا فاصلہ 16 فٹ یا 20 فٹ رکھا جاتا ہے. لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک کاشتکار نے 12 فٹ کے فاصلے پر بھی پودے لگا رکھے ہیں جن پر پھل ابھی آنا ہے. دو تین سال تک پتا چلے گا کہ 12 فٹ کے فاصلے پر پودے لگانا کس حد تک فائدہ مند ہے.
ماہرین 16 فٹ سے کم فاصلے پر آڑو کے پودے لگانا بہتر نہیں سمجھتے. کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کم فاصلے پر پودے لگانے سے باغ جنگل کا منظر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے پودوں کو ہوا اور روشنی مناسب مقدار میں نہیں ملتی اور پودوں کی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی حملہ کرنے کا بہتر موقع میسر آ جاتا ہے.
مزید یہ کہ 20 فٹ کے فاصلے پر لگے ہوئے پودوں کے درمیان آپ چھوٹے قد کی فصلیں بھی کاشت کر سکتے ہیں.
یہ بات تو ہمارے زیادہ تر کاشتکار حضرات جانتے ہی ہیں کہ پودا لگانے کے لئے کم از کم 2 فٹ چوڑا اور دو فٹ گہرا گڑھا کھودنا چاہئے. گڑھے کو جس مٹی سے بھرنا ہے اس کا ایک حصہ گلے سڑے گوبر، ایک حصہ بھل اور ایک حصہ اسی گڑھے کی مٹی پر مشتمل ہونا چاہئے. یاد رکھیں زمین پودے کی گود اور اس کا معدہ ہے. پودے کا معدہ جتنا صحت مند ہو گا پودا اتنی ہی بہتر نشوونما پائے گا.
پودا لگاتے ہوئے سب سے اہم بات جس کا خیال رکھنا ہے وہ یہ ہے کہ پودا لگاتے ہوئے اس کا پیوند کیا ہوا حصہ کم از کم 6 انچ زمین سے باہر رہنا چاہئے. اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کے پودے کو پانی اور مٹی کے ذریعے کئی طرح کی بیماریاں لگ سکتی ہیں.

ایک ایکڑ میں آڑو کے کتنے پودے لگیں گے؟

اگر آپ پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ 20 فٹ رکھتے ہیں تو ایک ایکڑ میں 108 پودے لگیں گے.
لیکن اگر پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ 16 فٹ رکھا جائے تو ایک ایکڑ میں 168 پودے لگیں گے.
اسی طرح اگر آپ پودے سے پودے اور قطار سے قطار کا فاصلہ 12 فٹ رکھیں تو ایک ایکڑ میں 298 پودے لگیں گے.
البتہ اگر آپ آڑو کا باغ ہائی ڈنسٹی پر لگائیں تو پھر پودوں کی تعداد بڑھ جائے گی جس پر آئندہ کبھی بات ہو گی.

آڑو کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟

گرمیوں میں آڑو کے پودوں کو 10 سے پندرہ دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہئے. مارچ سے جون تک پانی کا خاص رکھنا بہت ضروری ے کیونکہ ان دنوں پودا پھل پر آیا ہوا ہوتا ہے اور پانی کی کمی پھل کی کوالٹی اور بڑھوتری کو متاثر کرتی ہے. سردیوں میں پانی کی بہت کم ضرورت پڑتی ہے لہذا پچیس تیس دن کے وقفے سے بھی پانی لگایا جا سکتا ہے.
بہتر یہی ہے کہ موسم اور زمین کی حالت کے پیش نظر آڑو کی آبپاشی کا فیصلہ کیا جائے.

آڑو کو کتنی کھاد کی ضرورت ہے؟

آڑو کی کھاد کی ضرورت کے بارے میں جاننے کے لئے درج ذیل ٹیبل پر نظرڈالیں.

حوالہ: پنجاب زرعی یونیورسٹی لدھیانہ بھارت
گوبر کی گلی سڑی کھاد، ایس او پی (فاسفورس) کھاد اور ایم او پی (پوٹاش) کھاد دسمبر میں ڈالیں. البتہ یوریا کھاد کو دو حصوں میں تقسیم کر لیں. آدھی یوریا کھاد جنوری میں شاخ تراشی کے فوراََ بعد ڈال دیں اور باقی یوریا کھاد مارچ میں اس وقت ڈالیں جب پودا پھل پہ آ جائے.
ایک بات ذہن میں رہے کہ ریتلی میرا اور زیادہ پی ایچ کی زمینوں میں جب آڑو کاشت کیا جاتا ہے تو وہاں زمین میں آئرن کی کمی کا اندیشہ موجود رہتا ہے. چونکہ پنجاب میں زیادہ تر زمینوں کی پی ایچ زیادہ ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ آئرن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مارچ اپریل میں پودے پر فیرس سلفیٹ کا سپرے کر دیا جائے. سپرے کرنے کے لئے 3 گرام فیرس سلفیٹ فی لیٹر پانی کے حساب سے محلول بنائیں اور پودے پر اچھی طرح سپرے کر دیں.

کتنے سال کا آڑو پھل دینا شروع کرتا ہے؟

عام طور پر ایک سال کا پودا لگایا جاتا ہے. آڑو کا پودا، لگانے کے بعد تیسرے سال پھل دینا شروع کر دیتا ہے. یوں سمجھئے کہ اگر آپ اس سال یعنی 2019 میں آڑو کا باغ لگاتے ہیں تو تیسرے سال یعنی 2022 میں پودا تھوڑا بہت پھل اٹھالے گا. لیکن اگلے سال یعنی 2023 میں پودا بھر پور پھل لے گا.

آڑو کے پھلوں کی تعداد کم کیوں اور کیسے کرنی چاہئے؟

آڑو کا پودا گچھوں کی شکل میں بہت زیادہ پھل لیتا ہے. اس قدر زیادہ پھل کو پودا جتنا بھی صحت مند ہو خوراک مہیا نہیں کر سکتا . لہذا ضروری ہوتا ہے کہ پودے پر پھلوں کی تعدا کو کم کر دیا جائے. اگر یہ کام نہ کیا جائے تو پھل کا سائز چھوٹا رہتا ہے اور اس کی کوالٹی بھی اچھی نہیں ہو تی. اس کے علاوہ پودا کمزور ہو جاتا ہے اور اس میں اگلے سال پھل دینے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے. مزید یہ کہ پودے کی عمر میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے.

یکم مارچ کے آگے پیچھے جب پودے پر پھل واضح ہو جائے تو زائد پھل اتار دینا چاہئے. شاخ پر لگے ہوئے پھلوں کو اتارنے سے پہلے شاخ کو پکڑ کر ہلکا سا ہلائیں تاکہ کمزور پھل از خود ہی نیچے گر پڑیں. شاخ پر موجود پھلوں کو اس طرح اتاریں کہ ایک پھل کا دوسرے پھل سے فاصلہ 3 سے 4 انچ ہو جائے. پودے سے پھلوں کی تعداد کم کرنے سے آپ کو صحت مند اور معیاری پھل حاصل ہو گا انشاء اللہ.

کس مہینے میں پنجاب کے آڑو کا پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے؟

پنجاب کے موسم میں آڑو کی ارلی گرینڈ ورائٹی کا پھل 15 اپریل تک پک کر تیار ہو جاتا ہے. جبکہ فلوریڈا کنگ کا پھل 15 دن بعد یعنی 30 اپریل تک پک جاتا ہے. واضح رہے کہ اپریل کے مہینے میں پنجاب کے آڑو کے علاوہ کوئی بھی دوسرا آڑو منڈی میں نہیں آ رہا ہوتا. حتی کہ اپریل میں ہمسایہ ممالک سے بھی آڑو کی سپلائی شروع نہیں ہوئی ہوتی اور سواتی آڑو کا سائز تو اس مہینے بمشکل بادام کے سائز جتنا ہوتا ہے. لہذا مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے پنجابی آڑو منڈی میں بہت اچھی قیمت پاتا ہے.

آڑو کی پیداوار کتنی ہوتی ہے؟

اگر آڑو کی اچھی دیکھ بھال کی گئی ہو تو اسے بھر پور پھل لگتا ہے. آڑو کا درمیانہ پودا 2 سے 3 من تک پیداوار دے دیتا ہے. لہذا اگر آپ نے 16 فٹ کے فاصلے پر آڑو کاشت کر رکھا ہے تو 168 پودوں سے کم از کم 336 من فی ایکڑ پیداوار ہونی چاہئے.

آڑو کے باغ سے فی ایکڑ کتنی آمدن ہو سکتی ہے؟

پنجاب کی منڈیوں میں اول اور دوم درجے کے آڑو کی الگ الگ بولی ہوتی ہے. پچھلے سال یعنی 2018 میں دوم درجے کے آڑو کی اوسطاََ قیمت 2600 روپے فی من رہی ہے.
اس کا مطلب یہ ہے کہ فی ایکڑ 336 من کی پیداوار، 2600 روپے فی من کے حساب سے پونے نو لاکھ روپے کی آمدن دے سکتی ہے.
واضح رہے کہ میں نے آپ کو دوم درجے کے آڑو کی قیمت بتا کر حساب کتاب لگایا ہے. اول درجے کا آڑو اوسطاََ ایک ہزار روپے فی من کے حساب سے مہنگا بکتا ہے. باقی آپ خود حساب لگا لیں.

پچھلے سال یعنی 2018 میں فیصل آباد کی منڈی میں آڑو کے ریٹ کے حوالے سے کیا صورت حال رہی؟

سال 2018 میں آڑو 30 اپریل کو منڈی میں آ گیا تھا جو 15 مئی تک تقریباََ 3000 روپے فی من کے حساب سے بکتا رہا. 15 سے 20 مئی تک آڑو دباؤ کا شکار رہا لیکن اس کے بعد 21 مئی سے 25 جون تک پنجاب کا آڑو اوسطاََ 2600 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہوتا رہا . ان 35 دنوں میں آڑو ایک دن بھی 2400 روپے سے نیچے نہیں آیا حتی کہ چند دن تو 3800 روپے فی من کے حساب سے بھی بکتا رہا. واضح رہے کہ پنجاب کا کاشتکار جون کے مہینے میں آڑو بیچ کر فارغ ہو جاتا ہے.
یکم جولائی سے فیصل آباد کی منڈی میں سوات اور ہمسایہ ممالک سے آڑو آنا شروع ہو گیا. سوات کا آڑو یکم جولائی سے 15 اکتوبر تک فروخت ہوتا رہا. ساڑھے چار مہینے کے اس سارے عرصے کے دوران دوم درجے کا سواتی آڑو اوسطاََ 3500 روپے فی من کے حساب سے بکتا رہا.
یہ میں نے آپ کے ساتھ فیصل آباد کی منڈی کے ریٹ کا تذکرہ کیا ہے. لاہور، راولپنڈی اور ملتان کی منڈیوں میں پچھلے سال (2018) آڑو کا ریٹ، فیصل آباد کی منڈی سے بہتر رہا ہے.

آڑو کے پودے کی شاخ تراشی کب اور کیسے کرنی چاہئے؟

واضح رہے کہ اچھی اور معیاری پیداوار کے لئے آڑو کے پودے کی شاخ تراشی از بس ضروری ہے. شاخ تراشی دسمبر یا جنوری کے دوسرے ہفتے تک کر لینی چاہئے. شاخ تراشی کرتے ہوئے پودے کی بیمار اور سوکھی شاخوں کو کاٹ دینا چاہئے. ایک دوسرے کے ساتھ الجھی ہوئی شاخوں کو بھی کاٹ دیں. شاخ تراشی نہ کرنے سے پودے پر پھل کم آتا ہے اور بیماریوں و کیڑے مکوڑوں کے حملے کا بھی خطرہ رہتا ہے.
شاخ تراشی کے ذریعے پودے کی شکل و صورت کیسے کو کیسے خوبصورت بنایا جاتا ہے؟ پہلے سال کونسی شاخ کاٹنی ہے اور کونسی چھوڑنی ہے؟ دوسرے اور تیسرے سال میں شاخ تراشی کا عمل کیسے مکمل کرنا ہے؟ تحریر میں ان ساری باتوں کا ابلاغ مشکل ہے. لہذا آئندہ کسی مضمون میں اس موضوع پر تصاویر کی مدد سے بات ہو گی.

آڑو کی بیماریاں اور حملہ کرنے والے کیڑے مکوڑوں کا احوال اور ان سے بچاؤ کا طریقہ آئندہ مضمون میں بیان کیا جائے گا

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد
اظہار تشکر
محمد شاہسوار، ماہر اثمار، ترناب، پشاور
چھانگا سرکار، نرسری ایکسپرٹ، پتوکی
ہستم خان نرسری مینیجر، پشاور
محمد اسلم، ترقی پسند کاشتکار ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل، اسلام آباد
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

یہ مضمون 5 فروری 2019 کو شائع کیا گیا.

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔ 
یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔
تاہم جہاں اس کے متعدد فوائد ہیں، وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں اور یہ دونوں آپ نیچے جان سکتے ہیں۔

کیلے کے فوائد

دل کی صحت

کیلے دل کے لیے اچھے ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود پوٹاشیم ہے اور دل کے افعال کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سوڈیم یا نمکیات نہ ہونے کے برابر ہے لہذا یہ شریانوں کو ہائی بلڈ پریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ رواں سال ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم شریانوں کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کے اکڑنے یا سکڑنے کا خطرہ کم کرتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

ڈپریشن کے خلاف بھی مفید

کیلوں میں موجود ٹرائیپٹوفن نامی جز جسم میں جاکر سیروٹونین میں بدل جاتا ہے جو کہ مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس نیند کو بہتر کرتا ہے جبکہ میگنیشم پٹھوں کو سکون فراہم کرتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر اور موٹاپے میں کمی

فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث کیلے قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہیں جبکہ وٹامن بی سکس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں کمی لاتا ہے، چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے اور پیٹ کو جلد بھر دیتا ہے لہذا بے وقت منہ چلانے کی عادت پر بھی قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ورزش

جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ورزش کرنے والے افراد کے لیے انرجی ڈرنکس سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

بینائی

صرف گاجر ہی نہیں بلکہ کیلے بھی بینائی میں بہتری کے لیے فائدہ مند ہے، اس پھل میں کم لیکن نمایاں مقدار میں وٹامن اے ہوتا ہے جو بینائی کے تحفظ کے لیے اہم ترین جز ہے، یہ عام بینائی کو صحت مند رہنے اور رات کی بینائی بہتری لانے والا پھل ہے۔

ہڈیاں

کیلے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق کیلوں میں ایک جز fructooligosaccharides موجود ہوتا ہے جو معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھا کر جسم کی کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

کینسر

کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ اعتدال میں رہ کر اس پھل کو کھانے سے گردوں کے کینسر سے تحفظ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ چالیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے، اور اس حوالے سے کیلے موثر ترین ہے۔ ہر ہفتے چار سے چھ کیلے کھانا گردوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

حمل

برطانوی طبی جریدے دی رائل سوسائٹی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کیلے میں موجود پوٹاشیم حاملہ خواتین کے ہاں لڑکوں کی پیدائش میں مدد دے سکتا ہے، اس تحقیق کے دوران 740 خواتین کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ حمل سے قبل زیادہ مقدار میں پوٹاشیم کو کھانے سے لڑکوں کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

طبی نقصانات

یہ پھل اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی طرح چونکہ یہ میٹھا پھل ہے تو اسے زیادہ کھانے پر دانتوں کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنا دانتوں کی فرسودگی اور ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ اس پھل میں چونکہ مناسب مقدار میں پروٹین یا فیٹ نہیں، لہذا جسم غذائیت سے محروم ہوسکتا ہے۔
تاہم واضح رہے کہ کیلے اسی وقت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جب انہیں بہت زیادہ کھایا جائے اور طبی ماہرین کے مطابق ایک دن میں دو سے چار کیلے ہی صحت کے لیے بہتر ہوتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ کھانے سے جسم میں وٹامن اور دیگر منرلز کی سطح بہت زیادہ بڑھ کر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget