تازہ ترین اشاعتیں

جدید سائنسی تحقیق کی بنیاد پر جن پودوں نے بہت اہمیت حاصل کی ہے ’’مورنگا‘‘ ان میں سرفہرست ہے۔ مورنگا بے پناہ غذائی، طبی اور صنعتی اہمیت کا حامل پودا ہے۔Oleifera Moringa اس پودے کی وہ خاص قسم ہے جو دنیا بھر میں انسان اور جانور دونوں کیلئے بہت زیادہ غذائی اہمیت رکھتی ہے اور دنیا میں اسے کرشماتی پودے کا نام دیا گیا ہے۔خوش قسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر یہی قسم پائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں ’’سوہانجنا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق مورنگا کے پتوں میں دودھ سے دو گنا زیادہ پروٹین، دہی سے دو گنا زیادہ کیلشیم، گاجر سے چار گنا زیادہ وٹامن اے، سنگترہ سے سات گنا زیادہ وٹامن سی اور کیلا سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔ مورنگا کا قدرتی مسکن بالخصوص جنوبی انڈیا اور بالعموم جنوبی پاکستان ہے۔ اب یہ استوائی اورنیم استوائی براعظم ایشیا، امریکہ اور لاطینی امریکہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ مورنگا کا پودا پاکستان میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں صدیوں سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں نیم پہاڑی علاقوں، ندی نالوں کی پرانی گزر گاہوں جو ریتلی یا کنکریلی زمینوں سے ملحق ہوں وہ بھی مورنگا کا مسکن ہیں۔مورنگا کی چھال بھورے رنگ کی، کارک کی طرح نرم، موٹی اور دراڑوں والی ہوتی ہے۔ نئی کونپلیں اور پھول سندھ اور جنوبی پنجاب میں نومبر اور دسمبر جبکہ وسطی پنجاب میں جنوری اور فروری میں کھلتے ہیں۔ اس پودے کا ہر حصہ اپنی خاص خوبیوں کی بدولت بیمثال ہے۔
مورنگا کو فروری سے ستمبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے۔ بطور فصل کاشت کرنے کیلئے 2 فٹ کے فاصلہ پر کھیلیاں بنا کر 1 فٹ کے فاصلہ پر مکئی کی طرح بیج کاشت کر دیں۔ کھیت کے شروع میں 7 دن بعد اور بعد ازاں حسب ضرورت پانی لگائیں۔ مورنگا سے زیادہ مقدار میں چارہ کے حصول کیلئے دو بوری یوریااور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں اور فوراً آبپاشی کریں۔ جب پودے 3 فٹ تک پہنچ جائیں تو اوپر سے کاٹ دیں اور جب پودے پتوں سے بھر جائیں تو تمام پتے کاٹ لیں۔ گرمیوں میں ہر 20 سے40 دن بعد پتوں کی فصل قابل برداشت ہو جاتی ہے جبکہ سردیوں میں بڑھوتری بہت کم ہوتی ہے اور نومبر سے مارچ تک تقریباً رک جاتی ہے۔

مورنگا کی مولیوں کیلئے کاشت:۔ مولیوں کی اچھی پیداوار کیلئے مورنگا کے صحتمند بیج کو کھیت کی تیاری کے بعد زمین میں قطاروں میں اس طرح لگائیں کہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 3 فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ کم سے کم ہو کیونکہ زیادہ فاصلہ مولیوں کی کوالٹی کو متاثر کرتا ہے۔ آبپاشی اور کھادوں کا استعمال زمین کی زرخیزی کے مطابق کریں۔ مورنگا کی کاشت بطور درخت پاکستان کے بیشتر علاقوں میں ممکن ہے جبکہ برفباری اور سیم والے علاقوں میں کاشت ممکن نہیں ہے۔

براہ راست زمین میں کاشت:۔ پھلی اور بیج کی اچھی پیداوار کے حصول کیلئے بیج کو زمین میں 2 انچ دبائیں۔ پودے سے پودے کا درمیانی فاصلہ 6 فٹ رکھیں۔ اگر بیج کو کھیلیوں پر کاشت کرنا ہو تو کھیلیوں کا درمیانی فاصلہ 10 فٹ رکھیں۔

نرسری کے ذریعے کاشت:۔ نرسری کے ذریعے کاشت دو مراحل پر مشتمل ہے۔

پودوں کا اگانا:۔ پودوں کوا گانے کیلئے مناسب سائز کی پلاسٹک کی تھیلیوں کو مٹی اور ریت کے 3:1 آمیزہ سے بھریں اور ہر تھیلی میں دو سے تین بیج لگا کر سایہ دار جگہ پر رکھیں اور اگر مٹی خشک ہونے لگے تو حسب ضرورت پانی دیں۔ بیج کا اگاؤ تقریباً 7 دن میں مکمل ہو جائے گا۔ جب پودوں کی لمبائی 4 انچ تک پہنچ جائے تو ایک صحتمند پودے کا انتخاب کریں اور باقی پودے احتیاط سے نکال دیں۔

پودوں کی منتقلی:۔ تھیلیوں میں بیج لگانے کے تقریباً دو ماہ بعد جب پودے کم از کم اڑھائی فٹ کے ہوں توپودوں کو نرسری سے کھیت میں منتقل کریں۔ منتقلی کیلئے بعد از دوپہر کے وقت کا انتخاب کریں۔ کھیت کی تیاری کیلئے 10×6 فٹ کے فاصلہ پر قطاروں میں گہرے گڑھے بنائیں۔ پودے کو احتیاط سے تھیلی سے اس طرح نکالیں کہ جڑیں متاثر نہ ہوں۔ ہر پودے کو گڑھے میں کھڑا کر کے برابر مقدار میں مٹی، ریت اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے بھر دیں اور پانی لگائیں۔

قلموں سے کاشت:۔ مورنگا کی قلموں سے کاشت کیلئے کم از کم ایک سال کے پودے کی 3 سے 4 فٹ لمبی اور صحتمند شاخوں کا انتخاب کریں۔ سبز شاخیں قلموں کے لئے ہر گز استعمال نہ کریں۔ قلموں کو لگانے کیلئے زرخیز اور بھربھری زمین کا انتخاب کریں۔ زمین میں قلموں کے سائز کے مطابق 10 سے 15 فٹ کے فاصلہ پر قطاروں میں گڑھے بنائیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ قلم کا 1/3 حصہ زمین کے اندر ہو۔ گڑھے کو مٹی، ریت اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے اچھی طرح بھریں اور پانی لگائیں۔ قلموں سے صرف چند پودے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگانا مقصود ہوں تو نرسری کے ذریعے ہی لگائیں۔

آبپاشی و کھادوں کا استعمال:۔ مورنگا کے نومولود پودے کو پہلے دو ماہ تک پانی کی اشدضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا پودے کو زمین خشک ہونے سے پہلے متواتر پانی لگائیں اور پودے کی نشوونما مکمل ہونے کے بعد پودے کو حسب ضرورت پانی دیں۔ کھادیں ڈالنے کیلئے پودے کے گرد نصف فٹ کے فاصلہ تک کیاری بنائیں اور 30 گرام نائٹروجنی کھاد فی درخت ڈالیں۔

بیماریوں اور ضرر رساں کیڑوں سے بچاؤ:۔ مورنگا کیڑوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتا ہے لیکن اس کی جڑوں پر دیمک کے حملہ آور ہونے سے پودے کے خشک یا مرجھانے کا خطرہ رہتا ہے۔ محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے دیمک اور جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے سفارش کردہ زہر کا سپرے کریں۔ جڑی بوٹیاں مولیوں کی نشوونما اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں لہٰذا بوائی کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران سفارش کردہ زہر کا سپرے یا گوڈی کریں۔

کٹائی:۔ جب مورنگا کے پودے کی لمبائی 6 سے 8 فٹ ہو جائے تو زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے پودے کی اوپر والی شاخوں کو کاٹ دیں۔ اس طرح پودے کی نچلی شاخیں تیزی سے نکلیں گی بصورت دیگر مورنگا بہت پتلا اور زیادہ لمبا ہو کر جھک جاتا ہے۔ اس عمل سے ہم درخت کی لمبائی کو کم رکھ کر زیادہ مقدار میں آسانی سے پتے، پھول اور پتیاں توڑ سکتے ہیں۔

مورنگا کی بطور سبزی برداشت:۔ کچی پھلیاں دسمبر اور جنوری میں جب مونگرے کے سائز کی ہو جاتی ہیں تو ان کو بطور سالن، اچار اور مربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جنوبی پنجاب کی مشہور سبزی ہے جسے کچنار کی مانند پکایا جاتا ہے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں ہری پھلیوں اور ان میں ہرے بیجوں کو مٹر کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ مارچ سے مئی تک دستیاب ہوتے ہیں جبکہ تازہ پتے تقریباً سال بھر مل جاتے ہیں جنہیں دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
مورنگا کی بطور مولی برداشت:۔ مورنگا کا پودا جب 4 سے 5 فٹ کا ہو جائے تو اس کو اکھاڑ کر اس کی جڑ کو مولی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ستمبر سے دسمبر تک برداشت کی جاتی ہیں۔

مورنگا کی بطور چارہ برداشت:۔ مورنگا بطور فصل بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے جس میں پودوں کو 3 فٹ کے قد سے نہیں بڑھنے دیا جاتا۔ سال میں 6 سے 8 دفعہ اس کو کاٹا جا سکتا ہے جبکہ گرمیوں میں سردیوں کی نسبت اس کی کٹائی زیادہ جلدی کی جا سکتی ہے۔ اپریل سے جون کے دوران جب چارہ کی کمی ہوتی ہے تازہ چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔مورنگا کے تازہ چارہ کو دوسرے چارہ جات کے ساتھ مکس کر کے استعمال کرنا چاہیے۔

مورنگا کی بطور بیج برداشت:۔ مورنگا کی پھلیوں سے خشک ہونے کے بعد اپریل سے جون تک بیج نکالے جاتے ہیں جن کو بعد میں کاشت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

تحریر: ہارون احمد خان ( اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات، راولپنڈی)

یہ پودا زمین سے پانی ، نائٹروجن ، فاسفور س ، پوٹاشیم ، میگنیشیم ، سلفر، لوہا، زنک سمیت کم از کم سترہ غذائی اجزاء نمکیات کی شکل میں زمین سے حاصل کرتا ہے ۔ جن کے بغیر پودا اپنی زندگی کو پورا نہیں کر سکتا۔ ان کے علاوہ پودے میں بہت سارے مرکبات ضرورت کے مطابق بنتے توٹتے رہتے ہیں۔ جن میں وٹامن، گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام کو بہتر کرنے کے مرکبات شامل ہیں۔ یہ مرکبات اگرچہ قلیل مقدار میں ہوتے ہیں مگر یہ دیگر غذائی اجزاء کو بنانے اور پودے کی بڑھوتری میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مرکبات اگر پودے پر سپرے کر دیے جائیں تو پودا اپنے اندر یہ گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام میں معاون مرکبات کو خود بھی تیزی سے بنانا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں پودے کی بڑھوتری میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ موسم کی سختیوں مثلاََ شدید سردی ، شدید گرمی ، کلراٹھی زمینوں اور پانی کی کمی کا بہتر انداز میں مقابلہ کرتا ہے ۔ یہ مرکبات کیمیائی طور پر بھی بنائے جاتے ہیں اور فصلوں کے اوپر ان کا سپرے نہایت موثر پایا گیا ہے مگر عمومی طور پر یہ نہات مہنگے ہوتے ہیں اور کسان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ سائنسدان ایک عرصے سے ایسے مرکبات کو بنا کر پودوں کے اوپر استعمال کر رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ کم قیمت والے مارکیٹ میں گروتھ پر موٹر کے نام سے دستیاب بھی ہیں ۔سائنسدان ایک عرصہ سے ان مرکبات کا کوئی آسان ، سستا اور قدرتی ذریعہ ڈھونڈرہے تھے ۔ اس ضمن میں ایک ایسا پودا سامنے آیا ہے جس میں قدرتی گروتھ ہارمون اور مدافعتی نظام کو بہتر بنانے والے مرکبات دوسرے پودوں کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس پودے سے یہ مرکبات حاصل کر کے مختلف فصلوں پر استعمال کیے گئے جس کے نتیجہ میں اسے 16سے 40فیصد تک پیداوار میں اضافہ ، موسمی سختیوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مدافعت میں نہایت موثر پایا۔ اس پودے کے ایک کلو تازہ پتے کوٹ کر یا پیس کر ایک صاف ململ کے کپڑے میں پوٹلی بنائیں اور 20لیٹر والی سپرے کی ٹینکی میں صاف پانی بھر کر چائے کے ٹی بیگ کی طرح نچوڑ دیں۔ ایسی 3ٹینکیاں فی ایکڑ فصل کے اوپر سپرے کردیں۔ یعنی ایک ایکڑ کے لیے تین کلو پتے 60لیٹر پانی میں۔ یہ سپرے دو سے تین دفعہ فصل کے اہم مرحلے پر سپرے کریں مثلاََ گندم پر پہلا سپرے شگوفے نکلنے ، دوسرا گوب اور تیسرا سٹے نکلنے پر کریں۔ اس طرح باقی فصلوں پر بھی سپرے کریں ۔جبکہ سبزیوں پر ہر 15دن بعد سپرے کی جاسکتی ہے ۔ اگر فصل پر کسی زہر کا سپرے کرنا ہو تو وہ اس محلول میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ قدرت کے اس انمول خزانے کو بے پناہ غذائی ، طبعی ، صنعتی خصوصیات کی وجہ سے ’’زندگی کا پودا‘‘کہا جاتا ہے ۔ یہ پودا ہے سوہانجنا جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے ۔دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے مختلف استعمال صدیوں سے جاری ہیں جن میں زیادہ تر طبی استعمال ہیں۔ یہ پودا جنوبی پنجاب میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ جبکہ وسطی پنجاب میں اس کی جڑوں کااچار نہایت شوق سے کھایا جاتا ہے ۔ یہ پودا برصغیر کا مقامی پودا ہے اور یہاں سے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ اس پودے کو با آسانی بیج یا قلم سے کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ یہ پودا ایک سال میں 10سے 15فٹ کا درخت بن جاتا ہے۔اس پر سال میں ایک دفعہ پھول آتے ہیں جو کہ بعد میں پک کر پھلیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ایک درخت کی پھلیوں سے آٹھ سے دس ہزار بیج حاصل ہوسکتے ہیں۔ جن سے سوہانجنا کو فصل کے طور پر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ بیج کو کپاس اور مکئی کی بجائی کی طرح 1فٹ کے فاصلے پر لگایا جاتا ہے ۔ جب یہ پودے تین فٹ پر پہنچ جائیں تو ان کو اوپر سے کاٹ دیا جاتا ہے پھر بار بار 10سے 20دن کے وقفہ سے اس کے پتے بطور چارہ یا فصلوں پر سپرے کے لیے کاٹ کر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دسمبر سے لے کر مارچ تک اس کے پتوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے ۔ باقی سارا سال اس سے پتے مہیا ہوتے رہتے ہیں۔ جب سوہانجنا کا درخت پھول دینا بند کردے تو اس وقت اس کی ایک انچ قطر والی شاخیں اور چار سے چھ فٹ لمبائی رکھ کے کاٹ لی جائیں۔ زمین میں ایک فٹ چوڑا اور 3فٹ گہر ا گڑھا بنا ئیں اس کے درمیان میں قلم رکھیں۔ پھر ریت، بھل اور پتوں کی کھاد کے آمیزے سے بھر دیں۔ سوہانجنا کی قلم کے اردگرد مٹی چڑھا دیں اور اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ پانی براہ راست قلم کو نہ لگے بلکہ صرف نمی پہنچے ۔ اس طریقے سے سخت سردی کے علاوہ سارا سال پودا اگایا جاسکتا ہے ۔ جس جگہسوہانجنا کے درخت اگانا چاہیں وہاں 5x5فٹ کے فاصلے پر نشان لگائیں اور ہر نشان پر ایک فٹ گہرااور ایک فٹ چوڑا گڑھا بنا کر اسے ریت، بھل اور قدرتی کھاد سے بھر دیں پھر اس میں ایک انچ سوراخ بنائیں اور اس میں سوہانجنا کے دو عدد بیج ڈال دیں اور پانی لگا دیں ۔ دو ہفتے کے اندر پودے اگ آئیں گے جب یہ پودے چھ انچ کے ہو جائیں تو ہر سوراخ میں ایک صحت مند پودا چھوڑ کر باقی نکال دیں۔ اگر براہ راست فیلڈ میں بیج کاشت کرنا ممکن نہ ہو تو پہلے نرسری پلاسٹک کی تھیلیوں میں مٹی، ریت ، بھل اور قدرتی کھاد کے آمیزہ سے بھر لیں اور نرسری تیار کر لیں۔ایک سے دو ماہ تک ان پودوں کو نرسری میں رہنے دیں اور پھر کھیت میں منتقل کر دیں۔ چارہ حاصل کرنے کے لیے دو سے تین فٹ کے فاصلے پر کھییلیاں بنا کر ’’وٹ‘‘ کے اوپر 1فٹ کے فاصلہ پر 2سینٹٰ میٹر گہر بیج لگائیں اور فوراََ پانی لگائیں ۔

جبکہ مولیاں حاصل کرنے کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ جتنا کم ہو گا مولیاں اتنی ہی اچھی بنے گی ۔ شروع شروع میں ہر ہفتہ وار پانی دیں اور پھر تقریباََ دو ماہ بعد حسب ضرورت پانی لگائیں۔ ایک ایکڑ میں دو بوری یوریا کھاد ڈالنے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بجائی کے 24گھنٹے کے اندر اندر Round Upبوٹی مار سپرے کریں۔ فروری ، مارچ اور جولائی اگست میں اس طریقے سے کاشت کرنا بہتر ہے ۔ سوہانجنا کے تمام حصوں کو غذا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے پھل کوسوہانجنا کی پھلیاں کہتے ہیں ۔ جو سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں اور اچار ڈالنے کے کام بھی آتی ہیں۔ اسی طرح اس کے پھول اور کونپلیں بھی سبزی کے طور پر پکانے کے کام آتی ہیں۔ مورنگا کے نوعمر پودوں کی جڑیں سوہانجنے کی مولیاں کہلاتی ہیں۔ جو عام مولیوں کی جگہ پکانے کے لیے اور اچار ڈالنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس کی مولیوں اور پھلیوں سے بننے والا اچار انتہائی لذیز اور توانائی بخش ہوتا ہے۔ اس کے پتوں کی چٹنی اور سوپ بھی انتہائی مزیدار اور توانائی بخش ہے ۔ اس کے استعمال سے چہرے پر جھریاں نہیں ابھرتی اور بڑھاپا بھی دور بھاگتا ہے ۔ مورنگا کی سب سے زیادہ غذائیت اس کے تازہ پتوں میں ہے جو دیگر پتوں والی سبزیات میں شامل کر کے پکائے جاتے ہیں۔ تاہم اس کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے پتوں کو ابال کر پانی نکال دیا جاتا ہے تو بہتر ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ غذائی استعمال سوہانجنے کے خشک پتوں کا بطور سفوف استعمال ہے ۔ پتوں کو چھاوں میں خشک کر لیا جاتا ہے جسے بعدازاں پیس کر ہوا بند مرتبان میں محفوظ کر لیا جتا ہے ۔ بالغ افارد کے لیے 50گرام جبکہ بچوں کے لیے 25گرام روزانہ استعمال بیشتر غذائی ضروریات پوری کر دیتا ہے اور صحت میں نمایاں بہتری لاتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک چمچ روزانہ کا استعمال بلڈ پریشر، شوگر، جسمانی کمزوری اور دیگر امراض میں مفید ہے ۔ خشک پتے انتہائی مفید گرین چائے ہے جو دماغی اور جسمانی قوت کی بحالی اور کم خوابی کے لیے دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہیں۔ سوہانجنا کے تازہ پتوں کا نچوڑ فصلوں کے لیے ایک عمدہ قسم کا گروتھ ہارمون ہے ۔ نچوڑ نکالنے کے لیے پتوں کوبرقی شیکر یا اوکھلی میں پیس کر ململ کے کپڑے سے نچوڑ لیں اس مقصد کے لیے بازار میں دستیاب انا رکا رس نکالنے والی مشین بھی کامیابی سے استعمال کی جاسکتی ہے ۔ سوہانجنا کے رس میں 30حصے پانی ملا کر فصل بونے سے پہلے بیج کو آٹھ گھنٹے بھگو لیں۔ بعدازاں سائے میں بیج خشک کر کے بوائی کر دیں۔ یہی محلول فصلوں کو سپرے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سے تقریباََ تمام فصلوں اور سبزیات میں 10 سے 40 فیصد تک پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ مورنگا کے پتے نہ صرف انسان بلکہ جانوروں کے لیے بھی بہترین خوراک ہیں۔ شروع میں جانور اس کے قدرے کڑوے ذائقہ کو پسند نہیں کرتے مگر چند روز میں عادی ہوجاتے ہیں۔ مورنگا مکمل چارے کی بجائے دن میں چند بار دیگر چارہ جات کے ساتھ ملا کر دینے سے نہ صرف جانوروں کا دودھ اور وزن بڑھ جاتا ہے بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہوجاتی ہے ۔ اس کا مناسب استعمال ونڈے کی ضرورت کو کم یا مکمل ختم بھی کرسکتا ہے ۔ اس کے استعمال میں نہ صرف جانوروں کے دودھ اور گوشت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیار بھی بہتر ہوتا ہے ۔ 2گرام بیج کا پاؤڈر 10 لٹر پانی میں اچھی طرح مکس کر کے رکھ دیں ۔ دو گھنٹے بعد پانی نتھار لیں ۔ 99%جراثیم مر جاتے ہیں اور زہریلے نمکیات ، مٹی اور دیگر کثافتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں۔ اوپر سے نتھار کے بہترین پینے کا پانی تیار ہوجاتا ہے ۔ مورنگا کا درخت دو سے تین سالوں میں بیج دینے شروع کر دیتا ہے ۔ اس کے بیجوں سے عمدہ قسم کا شفاف تیل عام کوہلو سے نکالا جاسکتا ہے ۔ یہ تیل کوالٹی میں بہت عمدہ اور زیتوں کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ تیل دیگر استعمال میک اپ کے سامان کی تیاری اور مہنگی گھڑیوں میں بطور لبریکنٹ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک درخت سے تقریباََ 3-4کلو بیج حاصل ہوتے ہیں اور ایک کلو بیج سے تقریباََ ایک پاؤ تیل نکلتا ہے ۔ جو کہ بے پناہ فوائد کا حامل ہے ۔ پکانے کے دوران یہ تیل دوسرے تیل کی نسبت زیادہ دیر تک قابل استعمال رہتا ہے اور نہ صرف کھانے کو لذیز بناتا ہے بلکہ جسم میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے ۔ اس کو برآمد کر کے کثیرزر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے ۔ جبکہ بیج کا باقی حصہ مرغیوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال میں لا یا جاسکتا ہے ۔ جو توانائی سے بھرپور ہوتا ہے ۔ مورنگا بے شمار بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور یہ ایک بہترین غذائی ٹانک ہے ۔ اس کے پتے ،جڑیں،پھول ، بیج ، گوند اور چھال میں موجود انٹی بیکٹریل اجزاء کئی بیماریوں کے علاج میں انتہائی مدد گار ہیں ۔ کینسر ، ایڈز اور یرقان وغیرہ جیسی متعدی بیماریوں کے خلاف بہترین قوت مدافعت پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ اسی لیے اس کی خوبیوں کی بدولت امریکہ کے خلاف ادارے NASA نے اسے 21ویں صدی کا اہم ترین پودا قرار دیا ہے ۔

محکمہ زراعت نے مورنگا کی کاشت میں اضافہ کے لئے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے پتوکی میں سمینارز کا انعقاد کیا گیا جسں میں محمد محمود، سیکرٹری زراعت پنجاب نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ماہرین نے بتایا کہ مورنگا (سوہانجنا) دنیا میں ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے ۔اسکا استعمال بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے اور اس کے تیل زیتون کے تیل جیسی افادیت رکھتا ہے۔کاشتکار سوہانجنا کی کاشت کر کے بھرپور منافع کما سکتے ہیں ۔مورنگا نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ جانوروں کے چارہ کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے۔، بلڈپریشر، کولیسٹرل، جوڑوں اورہڈیوں کے درد میں مورنگا کا استعمال مفید ہے، مورنگاکے حصہ میں غذائی اور طبعی اجزاء پائے جاتے ہیں،مورنگا ( سوہانجنا) پتوں میں ددوھ سے زیادہ دوگنا پروٹین پایا جاتا ہے ، مورنگا انسان کو کئی قسم کے وٹامن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے، مورنگا کے پتوں کا نچوڑ فصلوں کے لئے ایک عمدہ قسم گروتھ ریگولیٹر ہے، مورنگا کا درخت اگر فروری اور مارچ میں کاشت کیا ہوتو ایک سال بعد ہی بیج دینے لگتا ہے اس کے بیجوں سے عمدہ قسم کا شفاف تیل حاصل ہوتا ہے،یہ تیل معیار میں بہت عمدہ اور زیتون کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ دے رہا ہے اور کاشتکاروں کی فلاح کیلئے ہر اس اقدام کی تائید کرتا ہے جس سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔مورنگا کی کاشت سے کاشتکار کم وقت میں زیادہ نفع کما سکتے ہیں اور یہ خوردنی تیل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے سمینار میں شریک ماہرین کو ہدایت کی کہ مورنگا کے فروغ کیلئے کسانوں میںشعوری مہم شروع کی جائے اور اس حوالے سے کسانوں کو اس کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے سوہانجنا کا پودا لگا کر دعابھی کی اور بعد ازاں بفیلو ریسرچ انسٹیورٹ پتوکی کا دورہ بھی کیا۔

جوڑوں گھٹنوں کے درد کا علاج بیل پتھر ۔ بیل پتھر کیا ہے اور کہاں سے ملے گا-؟

وکالت کے دور میں ایک مسئلہ در پیش ھوا۔کہ میری والدہ کو جوڑوں خصوصا” گھٹنوں میں درد شروع ھوا وہ بہت تکلیف میں تھی تمام ڈاکٹرز سے مشورہ کے بعد ان کو صرف pain killer دیئے گئے۔اور جب میں نے مختلف ڈاکٹرز سے اس سلسلے میں گفتگو کی تو پتہ چلا کہ یہ arthritis ہے اور اس کا سوائے درد ختم کرنے والے کیپسولز کے کو ئی علاج نہیں ہے بہت پریشانی ھوئی ۔اور ایک موقع ایسا آیا کہ درد کی گولیوں کا اثر ختم ھو گیا۔میں والدہ صاحبہ کے درد کی وجہ سے بہت پریشان تھا کہ ایک دن والدہ صاحبہ نے مجھے کہا کہ اب میں اٹھ کر کھڑی بھی نہیں ھوسکتی اور زیادہ پریشانیr ھوئی اور میں اسی پریشانی میں کچہری جا رھا تھا کہ مجھے راستے میں ریلوے کا ایک ملازم ملا جو ھمارے گھر سے تھوڑے فاصلے پر رھتا تھا علیک سلیک ھوئی تو مجھے کہنے لگا آپ مجھے پریشان لگ رھے ھیں میں نے اسے والدہ کے گھٹنوں کے درد کے بارے بتایا اس نے مجھے کہا کہ یہ مرض مجھے بھی ھے مگر میں نے اس پر قابو پا لیا ھے اور یہ کہا کہ شام کو وہ ایک فروٹ لا کر دے گا اور طریقہ بھی بتائے گا۔اس روز شام کو وہ مالٹے سے تھوڑے بڑے سائز کے چھ سات دانے ایک پھل کے لے آیا جو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔اس نے اس کا نام بیل پتھر بتایا اور استعمال کا طریقہ یہ بتایا کہ اس کو دھوپ میں رکھ دیں اور جب یہ سوکھ کر ھلکے ھو جائیں تو ان کو گرایئنڈ کرکے سوجی اور گھی ملا کر ان کا حلوا بنانا ھے اور رات کو صرف ایک چمچ کھا کر سو جانا ہے ۔ھم نے اس کی ھدایات پر عمل کیا اور والدہ صاحبہ نے رات کو ایک چمچ حلوہ پانی کے ساتھ لیا اور جب صبح اٹھی تو بڑے آرام سے چل پھر رہی تھی اور درد بھی غائب تھا اس کے بعد ھمارے گھر سے کبھی وہ حلوہ ختم نہیں ھوا جب تک والدہ صاحبہ زندہ رہیں ان کو درد بھی نہیں ھوا۔جوڈیشل سروس کے دوران میری پوسٹنگ سرگودھا ھوئی تو میرے ایک دوست جو کہ محکمہ زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے کی والدہ کا یہی مسئلہ پتہ چلا تو میں نے اسے فروٹ کا بتایا ۔اس کی فرمائش پر میں نے اپنے شہر سے وہ فروٹ منگوایا کیونکہ ھمارے شہر بھکر میں وہ صرف دو جگہ درخت لگا ھوا ھے۔اس کا حلوہ بنا کر اس دوست کی والدہ کو دیا تو وہ جو ہر روز درد کا ٹیکا لگواتی تھی ٹھیک ھو گئی صرف اس دوائی سے جو میں نے گھر سے بنوا کر دی تھی۔اس کے بعد اس دوست نے بتایا کہ اس فروٹ کو بل کہتے ہیں ۔یہ پرانے ریسٹ ہاؤسز میں کوئی نہ کوئی درخت مل جاتا ھے۔خان پور تبادلہ ھوا تو ایک سرکاری وکیل کے والد صاحب کا علاج بھی اسی حلوے والی دوائی سے کیا تو وہ بھی ٹھیک ھو گیا حالانکہ انہوں نے آغا خان ھسپتال سے گھٹنے تبدیل کرانے کے لیئے وقت بھی لے لیا تھا مگر اس دوا سے وہ ٹھیک ھو گئے۔تو دوستو اس فروٹ کا نام بل ھے ۔گھٹنوں کے درد کی بیماری بھی عام ھو گئی ھے شائد اس پوسٹسے کئی لوگوں کا بھلا ھو جائے۔یہ فروٹ مالٹے یعنی اورنج سے تھوڑا سا بڑا اور بھاری ھوتا ھے ۔مگر Arthritis یعنی گھٹنوں کے درد کا واحد علاج ھے۔
ماخوذ قلم محترم ڈسڑک اینڑ سیشن جج (ر) ثناءاللہ خان نیازی صاحب

اب جانئے بیل پتھر کے بارے میں-

اوپر جو تحریر بیان کی گئ ہے جس کے راوی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ و سیشن جج جناب ثنااللہ خان نیازی صاحب ہیں کا نسخہ جوڑوں کے درد کے لئے ضرور آزمانا چاہئے لیکن اس کو پڑھنے والے اکثر لوگ نہ تو اس پھل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں اور نہ ہی یہ درخت پاکستان میں عام ہے- تو پھر یہ نسخہ کیسے بنایا جائے- اس کے لئے مندرجہ ذیل تحریر پڑھئے-

پاکستان میں بیل پتھر کا درخت زیادہ عام نہیں ہے لیکن انڈیا میں یہ بے شمار ہوتا ہے- ہماری والدہ محترمہ ہم کو بتایا کرتی تھیں کہ رامپور میں اس کے درخت عام گلی کوچوں اور سڑکوں کنارے لگے ہوا کرتے تھے- اس کا چھلکا اس قدر سخت اور موٹا ہوا کرتا ہے کہ اس پھل کو چھری چاقو سے کاٹنا ناممکن ہوتا ہے- یا تو اس کو زور زور سے زمین پر پٹخئے یا پھر کسی بھاری چیز سے ضرب لگائیں تو یہ کھلتا ہے- اسی لئے اس کو بیل پتھر کہا جاتا ہے- اندر گہرا زرد تیز ھیک والا گودا اور بے شمار بیج گڈ مڈ ہوتے ہیں- ہم کو بچپن میں یہ پھل دیکھنے اور چکھنے کا بڑا اشتیاق رہا- سن 80 کی دھائ میں ہماری نانی امی انڈیا سا پاکستان آئیں تو ہم نے ان سے فرمائش کرکے چند پھل بیل پتھر کے منگوائے- اللہ جھوٹ نہ بلوائے جو وہ انڈیا سے بیل پتھر لائیں وہ تو پپیتے کے سائز کے تھے- ان کے گودے کا ذائقہ ہم کو تیز ھیک کی وجہ سے قطعی پسند نہیں آیا- پھر کوئ نوے کی دھائ میں ہم نے کراچی یوپی موڑ پر واقع ایک گھر میں اس کا درخت دیکھا جس میں بڑے مالٹے کے سائز کے سبز رنگ کے پھل لگے تھے- پتہ چلا کہ یہ بیل پتھر ہے- اس کے بعد کبھی کبھار یہ کراچی کے ہفتہ بازاروں میں بھی نظر آنے لگا- کراچی میں گرومندر پر جمشید روڈ والی سائڈ پر ایک بہت ہی پرانی پھلوں کی دکان ہے جہاں آپ کو ہر قسم کے ملکی پھلوں کے علاوہ غیر ملکی پھل بھی ملتے ہیں اور بھارتی و بنگلہ دیشی پھل بھی- وہاں یہ بیل پتھر بھی ملتا ہے لیکن پاکستان میں اس کا سائز ایک بڑے مالٹے یا گریپ فروٹ جتنا ہوتا ہے-

‎بیل گری برصغیر کے بہت سے خطوں میں مشہور ہے۔ اس کی لکڑی گو مضبوط ہوتی ‎ ہے مگر اس پر کیڑے مکوڑے زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کی تازہ لکڑی کو چیرنے سے بہت تیز خوشبو نکلتی ہے۔ بیل کا پھل جسے بیل گری کہتے ہیں۔ بہت بڑا ہوتا ہے‘ خوب پکے ہوئے بیل کا مغز نہایت سرخ‘ خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔ اطباء اسے کثرت سے ادویات میں استعمال کرتےہیں اس کا مربہ بھی بہت عمدہ بنتا ہے۔یہ خاصیت میں گرمے سے مشابہ ہوتا ہے اس کاباہر کا خول بے حد سخت جبکہ اس کا گودا بے حد نرم اور کھانے میں لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے مغز کے چھلکے سکھالیتے ہیں اسے خشک بیل گری کہتے ہیں۔

‎بیل گری ایک ایسا غیر معمولی پھل ہے جس کےاستعمال سے ان گنت فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں،اردو میں اسے بیل پتھر بھی کہتے ہیں جب کہ انگریزی میں Beal Fruit اور Wood Apple ‎پنجابی میں بل ، سندھی میں کاٹھوری ، بنگلہ اور سنسکرت میں اسے بلوا کہتے ہیں۔

‎یہ درخت پچیس سے تیس فٹ اونچاہوتاہے شاخوں پر موٹے کانٹے چھال موٹی اور سفیدی مائل سی پتے تین تین اکٹھ ہوتے ہیں۔موسم خزاں میں پتے جھڑ کر پھاگن چیت میں نئے پتے نکل آتے ہیں۔نئے پتوں کے ساتھ ہی سبزی مائل سفید پھول جس کی چار انچ پنکھڑیاں ہوتی ہیں۔لمبائی ایک انچ اور ان میں تھوڑی خوشبو ہوتی ہے۔پھل جنگلی خودرودرختوں پرلیموں کے برابر سے لےکرگیند کے برابر ہوتے ہیں۔اور جو باغوں میں لگائے جاتے ہیں۔ان پر درمیانی گیند سے لے کر ایک کلو تک پھل لگتے ہیں جو پہلے سبز اور بعد میں سرخی مائل زرد ہو جاتے ہیں۔جن کے اوپر چھلکا سخت ہوتاہے۔اورپکنے پر اندر کا گودہ لیس دار شیریں اورخوش ذائقہ ہوتا ہے اس کے اندر سے چھوٹے سفید رنگ کے تخم بھر ے ہوتے ہیں۔

‎مقام پیدائش۔
‎پاکستان ہندوستان برما سری لنکا نیپال یوبی وسط و جنوبی ہند میں بکثرت ہوتا ہے۔
‎مزاج۔سرددوم اور خشک درجہ سوم۔
‎افعال۔
‎حابس الدم ،قابض ،مقوی معدہ مقوی دل وجگرمولد ریاح اس کے درخت کی جڑ کی چھال دافع بخار اور سانپ کے زہر کا تریاق بھی ہے۔
‎استعمال۔
‎بیل گری کا پھل پکنے پر میٹھا اورسرخی مائل زرد ہوجاتا ہے جس کے اندر میٹھا گودا ہوتا ہے۔اس کو لوغ مختلف اشکال میں بطور میوہ استعمال کرتے ہیں۔کوئی شربت بناکر پیتا ہے۔تو کوئی پھل کےطور پر اس کو گودا استعمال کرتا ہے۔
‎دہی اور چینی اور بیل گری گا گودا ملا کر صبح کو استعمال ہوتاہے۔بچوں کے اسہال و پیچش میں بہت فائدہ دیتا ہے۔اس کی چھال کو خفیف بخاروں میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔

‎یہ دشمول کا ایک جزو ہے طب جدید میں اس کا ایکسٹرکٹ دواًء مستعمل تھا لیکن وہ پیچش کا شافی علاج نہیں ۔اس لئے برٹش فارکوپیا سے اس کو خارج کردیاگیا ہے۔

‎اسکی چھال کا جوشاندہ سانپ کے زہر کو دورکرتاہے۔اور بخارسرمیں مفیدہے۔بیل گری کے پتوں کا رس نزلہ زکام اور انفلوئنزہ میں پلانا مفید ہے اور جڑ کا جوشاندہ مقوی قلب ہے پتوں کا رس پانچ تولہ نکال کر صبح نہارمنہ پلانا ذیابیطس کیلئے بہت مفید ہے ۔

‎بیل کا پھل جو ٹکڑے کرکے خشک کرلیاجاتا ہے جو کہ بیل گیری کے نام سے مشہور ہے۔

‎بیل گری کا استعمال برص، بواسیر،اسہال یا ڈائیریا، ہیضہ ، السر ، سوزش،دل کی بیماریوں،نظام ہضم کی بحالی ،سانس لینے میں دشواری کے علاج سمیت دیگر بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔ اس پھل سے انیما، کان اور آنکھوں کی خرابی کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔

‎بیل گری انسولین سے بھرپور ہے ،جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے،یہ شوگر کے مریضوں کیلئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔اس پھل کا خشک پاؤڈر دائمی اسہال کےعلاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

‎قدیم زمانے میں ،اس کے خشک پاؤڈر کو پتلی لکڑی کے ساتھ مخلوط کرکے اس سے فریکچر کا علاج کرنے کے لئے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر لگا دیا جاتا تھا ۔

‎بیل گری عمل تکسید کو روکنے کا عامل ہے جو گیسٹرک السرکو روکتا ہے خاص طور پر معدے میں غیر معمولی تیزابیت جو السر کا اصل سبب بنتا ہے اس کو بننے سے روکتا ہے ۔

‎ماہرین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ بیل گری سے حاصل اینٹی مائیکروبیل جو اینٹی وائرل ،اوراینٹی فنگل کی خاصیت رکھتا ہے جسم میں مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد گار بنتا ہے اور متعدد وبائی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

‎جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث کمزوری،تھکاوٹ،ہاتھ ،پائوں میں زخم بننا،خون میں سرخ خلیوں کی کمی،مسوڑھوں کی بیماریوں اور اسکن سے خون کا اخراج ان تمام خرابیوں کو جس بیماری کا نام دیا جاتا ہے اسے Scurvy کہتے ہیں بیل گری میں ایسے وٹامن کی وافر مقدار موجود ہے جو ان تمام خرابیوں کو دور کرتا ہے۔

‎بیل گری سے حاصل روغن کے استعمال سے سانس لینے کی دشواریوں اور خرابیوں جیسے دمہ کے علاج کے لئے استعمال کیا جا تا ہے،شدید نزلہ زکام میں جب ناک اور کان بند ہوجائیں اس کے روغن کو سر پر لگانے سے فائدہ لیا جاتا ہے,اس کا استعمال انفیکشن کا جلد علاج ہے۔

‎بیل گری کا استعمال سوزش میں بھی انتہائی مفید ہے،جسم میں کسی جگہ سوزش کی شکایت کی صورت میں اسے متاثرہ جگہ پر لگانے سے سوزش دور ہو سکتی ہے۔

‎بیل گری کے پھل کا جوس اور اس کو گھی کی نسبتاً کم مقدار کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بطور غذا میں شامل رکھنا دل کی بیماریوں کو روکتا ہے، یہ ایک پرانا روایتی طریقہ ہے جس کے استعمال سے دل پر حملہ آور بیماریوں جس میں دل کا دورہ بھی شامل ہے اس سے بچنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

‎کہا جاتا ہے کہ بیل گری کا استعمال قبض کشااور اس کی بہترین قدرتی دوا ہے،اس کے گودے میں چھوٹی کالی مرچ اور نمک کو شامل کرکے کھانے سے آنتوں میں بننے والے زہریلے مادے کو ختم کردیتا ہے.بیل گری کا شربت بھی قبض کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔

‎بیل گری کا استعمال خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو قابو رکھنے میں بہت مفید ہے ،اس کا باقاعدہ استعمال خون میں کولیسٹرول کی درست مقدار کو برقرار رکھنے کا مکمل علاج ہے ۔

‎صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ معدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔ خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ معدےو جگر پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد کو بیل گری ضرور کھانی چاہیے کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک کو بحال کرتا ہے۔ پیچش یا اسہال کی صورت میں بیل گری کا گودا اپنے نرم و کثیف اثرات کے باعث فائدہ مند ہے۔ پکے ہوئے گودے کے کھانے سے ورم حلق میں فائدہ ہوتا ہے۔ جن افراد کو دست آنے کی شکایت ہو ان کو بیل گری کا شربت تیس گرام پلانے سے یا بیل گری کا پاؤڈر ایک ایک گرام روز کھانے سے آرام آجاتا ہے۔ اس کےپتوں کا رس کھانسی‘ زکام‘ انفلوئنزا اور ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ بیل گری کی جڑ کی چھال سے ایک خاص جوشاندہ تیار کیا جاتا ہےجس کے پینے سے دل کی دھڑکن کی تیزی میں اور نوبتی بخار میں افاقہ ہوتا ہے۔ بیل گری کے تازہ پتوں کو کشید کرنے سے ایک زردی مائل تیل حاصل ہوتا ہے یہ طبی ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بیل گری کا پکا ہوا گودا جگر و معدےکوقوت دیتا ہے۔

‎یرقان کیلئے: یرقان کےمرض میں بیل گری کا پاؤڈر ایک گرام کالی مرچ ملا کر پانی کے ہمراہ چند روز کھلانے سے مرض کی زیادتی ختم ہوجاتی ہے۔

‎اسہال کیلئے: بچوں یا بڑوں کو اگر پیچش یا دست کی تکلیف ہو تو یہ نسخہ استعمال کریں۔ یہ پھل چونکہ قابض ہوتا ہے اسی لیے بچوں کو دو سے چار رتی تک بیل گری کا پاؤڈر ایک دو رتی کتھے میں ملا کر پانی کے ساتھ کھلاتے ہیں۔ اس سے دستوں میں افاقہ ہوتا ہے اور آنتوں کی بے قاعدگی بھی درست ہوتی ہے۔ بڑوں کو یہ مقدار دو گنا کرکےدی جاسکتی ہے۔

‎بخار کیلئے: گرمی یا سردی کے باعث جن افراد کو بخار ہوجائے وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ بیل کے پتوں کا رس ہموزن شہد یا پانی میں ملا کرمریض کو پلائیں۔ اس سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔

‎شربت بیل گری: اس کا شربت بنانے کی ترکیب بے حد آسان ہےآپ خود گھر میں اسے تیار کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے سوگرام بیل گری لیں‘ اسے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر آگ پر چڑھادیں۔ اسے خوب پکنے دیں جب پانی کی مقدار تقریباً اڑھائی گرام رہ جائے تو اسے اتار کر ململ کے کپڑے سے چھان لیں پھر اس پانی میں ساٹھ گرام چینی ملا کر دوبارہ آگ پر رکھ دیں۔ جب گاڑھا سا قوام تیار ہوجائے تو اتار لیں۔ یہ شربت بیل گری تیار ہے۔

‎بندش پیشاب کیلئے: پیشاب کی بندش‘ پیشاب کے رک رک کر آنے‘ دوبارہ پیشاب کرنے کے بعد حاجت ہونے اس نسخہ کا استعمال بے حد مؤثر پایا گیا ہے۔ بیل کے تازہ پختہ پکے ہوئے پھلوں کا گودا لیں۔ اسے کسی برتن میں ڈال کر سردائی کی طرح خوب گھوٹیں۔ جب پتلا اوریکجان ہوجائے تواس میں دودھ ڈال کر ایک مرتبہ پھر گھوٹیں۔ اس کے بعد اسے چھان کر محفوظ کرلیں وقت ضرورت اسے مریض کو بارہ گرام سے چھتیس گرام کی مقدارمیں تین وقت پلائیں۔
‎بیل گری کی چائے: صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کامعدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔

بیل گری کا حصول

اوپر جو تحریر بیان کی گئ ہے جس کے راوی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ و سیشن جج جناب ثنااللہ خان نیازی صاحب ہیں کا نسخہ جوڑوں کے درد کے لئے ضرور آزمانا چاہئے لیکن اس کو پڑھنے والے اکثر لوگ نہ تو اس پھل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں اور نہ ہی یہ درخت پاکستان میں عام ہے- تو پھر یہ نسخہ کیسے بنایا جائے- تو اتنا بتادوں کہ جج صاحب کے نسخے میں بیل کا خشک شدہ گودا استعمال کیا گیا ہے جس کا حصول پاکستان میں کچھ مشکل نہیں- یہ خشک شدہ گودا عام پنساریوں کے پاس بیل گری کے نام سے دستیاب ہوتا ہے- حسب ضرورت لیجئے اور استعمال کیجئے-
آپ کو بیل کا ایک خاص فائدہ یہ بھی بتادوں کہ اس کے تازہ گودے کا ملک شیک ایچ پائلوری کا بھی خاتمہ کردیتا ہے- اگر تازہ بیل کا گودا دستیاب نہ ہو تو پھر ‎ خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سب سے پہلے آپ چار سے چھ ٹکڑے خشک بیل گری کے اور چار سے چھ ٹیبل سپون شکر لے لیں۔ چار سو ملی لیٹر پانی کو چائے کے برتن میں ابالیں۔ چند منٹ بعد اس میں بیل گری کے ٹکڑے ڈال دیں۔ پندرہ منٹ تک اسے پکنے دیں۔ اس کے بعد اس میں شکر شامل کردیں۔ اگر آپ اسے ٹھنڈے مشروب کے طور پر پیناچاہتے ہیں تو فریج میں ٹھنڈا کرکےاس میں برف کا چورا شامل کردیں۔

کوشش کیجئے کہ اس پھل کے بیج کی مدد سے زیادہ سے زیادہ یہ درخت پاکستان میں عام کریں کیونکہ یہ درخت باآسانی ہر جگہ ہوجاتا ہے- لیکن اس معاملے میں ہم پاکستانی بلا کے سست اور کاھل ہیں- 

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مختلف طبی ویب سائٹس اور بلاگز سے مدد لی گئ ہے-

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget